قرآن مجید میں آتا ہے:
أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ1
میں دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہوں ۔ جبکہ وہ پکار سے یعنی دعاسنی جاتی ہے اور مانگنے والے کو خائب و خاسر نہیں رکھا جاتا۔ اس کلیہ کے بعد دیکھئے کہ قرآن مجید کی پہلی ہی سورت میں ہمیں دعا سکھائی گئی ہے کہ اهدنا الصراط المستقیم یعنی ہم کو سیدھے راستے کی ہدایت دے۔ پھر مستقیم راستہ کی تعریف فرمائی گئی صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے نعمتیں کیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ تنعیم سے کون لوگ مراد ہیں اور وہ کون سی نعمت ہے جس سے ان کو اللہ تعالی نے سرفراز فرمایا۔ اس کا جواب بھی ہمیں ا کتاب اللہ میں ملتا ہے۔ جہاں پر اللہ جل شانہ فرماتے ہیں : وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ وَإِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مَلُوْ كَا2 اور جب کہا حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو کہ اے قوم یاد کرو اللہ کی اس نعمت کو جو تم پر ہوئی۔ جب کہ تم میں سے اس نے نبی بنائے اور تم کو بادشاہ بھی بنایا۔ اس آیت میں اللہ جل شانہ، نے یہ بیان فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل پر قومی طور سب سے بڑی جو نعمتیں ہوئیں وہ نبوت اور بادشاہت تھیں۔
پس اس کا ماحصل یہ ہوا کہ خدا تعالٰی نے ایک دعا مسلمانوں کو سکھائی کہ منعمین کے انعام مانگو اور منعمین کے انعام خود گنوائے ۔ اور فرمایا کہ نبوت سب سے بڑا انعام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا انعام قومی طور پر مانگنا خدا کا منشا ہے۔ لیکن اگر حضرت سرور کائنات فخر دو عالم ﷺکے بعد دروازہ نبوت بند ہوتا۔ تو کبھی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ دعا نہ سکھاتا۔ کیونکہ جو چیز دینی ہی نہیں اس کے متعلق یہ حکم دینا کہ مانگو۔ حکیم کی شان اور قدوس کی ذات کے خلاف ہے۔ 3
کیوں مسلمانوں کا ایمان چھینے کے درپے ہو۔ تمہارے یہ فضول استدلال تار عنکبوت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے ۔ خدار اذرا انصاف سے بولنا کہ تم نے جو ما حصل نکالا ہے۔ کہ پس اس بیان کا ماحصل یہ ہوا کہ خدا تعالٰی نے ایک دعا مسلمانوں کو سکھائی کہ تضمین کے انعام مانگو۔ یہ کہاں سے نکالا ہے۔ یہ رب العزت جل شانہ نے کسی جگہ فرمایا ہے کہ منعمین کے انعام مانگو۔ افسوس کہ تم خود صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا یہ ترجمہ کر چکے ہو کہ یعنی راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے نعمتیں کیں اور آگے چل کر یہ کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے ایک دعا مسلمانوں کو سکھائی ۔ کہ متعلمین کے انعام مانگو۔ سچ ہے۔
دروغ گورا حافظہ نباشد!
ذرا عقل سے کام لو۔ اللہ عز و جل تو مسلمانوں کو یہ دعا سکھا رہا ہے۔ کہ تضمین کا راستہ مانگو۔ یعنی جس راہ پر اللہ کے منعم لوگ چلے - اے اللہ ہمیں بھی اسی راہ پر چلا ئیو ! ذرا پھر سے نظر ثانی کر لو کہ اللہ تعالی ، یوں ارشاد فرماتا ہے۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ راہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام کئے ۔ یوں نہیں فرماتا۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہ تمہارے معنی دوست ہوسکیں۔
اللہ تعالیٰ کا کلام سچا۔ اس کا ہر ایک وعدہ سچا۔ اس نے یہ فرمایا ہے۔ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ میں دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہوں اور ہمیں یہ دعا بھی سکھلا دی۔ کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہ اسے مولا ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت دے۔ ان لوگوں کے راہ کی ہدایت دے جن پر تو نے انعام کئے ۔ سو اللہ عزوجل نے اپنے فضل و کرم کے ساتھ ہمیں اس راہ پر رکھا۔ جس پر اس کے منعم لوگ ہیں۔ حضور
سے لے کر آج تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم تابعین کرام تبع تابعین علیہم الرحمۃبڑے بڑے مجتہد اور عالم غوث و قطب اور ابدال غرضیکہ امت محمدیہ علی صاحبا الصلوات والسلام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضور اقدسﷺخاتم الانبیاء اور آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں اسی راہ پر رکھا کہ جس پر ساری امت کو چلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اور جس راہ میں آمد و رفت، بکثرت ہو۔ وہی راہ مستقیم ہے۔ کہ ہر کوئی سیدھے راستے کا طالب ہے۔
ہاں جن کے قلوب میں ابتدا ہی سے کبھی رکھ دی گئی ہے۔ وہ راہ مستقیم کے طالب ہرگز نہیں اور جب وہ دل سے راہ مستقیم کے طالب نہیں ہیں۔ تو زبانی ان کا کہہ دینا کہ اهدنا الصراط المستقیم کافی نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے۔ جب وہ جانتے ہیں کہ راہ مستقیم وہی ہے۔ جس پر امت محمدیہ علی نبیہا السلام چل رہی ہے۔ تو پھر اس راہ سے ہٹ کر کسی سنسان اور بر باد راہ پر چلنا کہ جس پر نہ کوئی صحابی گزرا ہو۔ نہ تابعی نہ کوئی مجتہد نہ امام نہ کوئی محدث گذرا ہو۔ نہ فقیہہ ۔ نہ کوئی عالم گزرا ہو۔ نہ کوئی بزرگ ۔ اپنی جان سے عداوت اور اپنی جہالت ہے۔
اور اگر تمہارے معنی بھی لئے جائیں کہ ایک دعا مسلمانوں کو سکھائی کہ متضمین کے انعام مانگو۔ تو بھی تمہارے دعوئی کو مطلق تقویت نہیں پہنچتی ۔ اس لئے کہ اللہ عز وجل کے انعام بہت سے ہیں۔ صرف ایک نبوت ہی انعام نہیں ۔ تم نے خود جو آیت پڑھی ہے کہ إِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْجَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مَلُوكًا4 اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک انعام نبوت ہے اور ایک سلطنت ہے۔ ایسے ہی اور بھی بہت سے انعام ہیں۔ ایک انعام وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے صدیقین پر کیا ہے۔ ایک وہ ہے جو اس نے شہدا پر کیا ہے۔ ایک ایسا ہے جو صالحین پر ہوا ہے۔ الغرض انعام بہت سے ہیں۔ اگر تم حق سبحانہ تعالٰی کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہر گز نہیں گن سکتے۔ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضور
سے پہلی امتوں پر بھی انعام کرتا رہا۔ مگر نہ ایسا انعام کہ جیسا اس نے اس امت مرحومہ پر کیا۔ اس امت پر منعم حقیقی جل شانہ کے ایسا عظیم الشان انعام فرمایا کہ جس انعام کا اللہ عز وجل خود ذکر فرماتا ہے۔
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ5 البتہ تحقیق اللہ عز وجل نے بہت بڑا احسان کیا مومنوں پر۔ جب کہ ان میں سے اس نے ایک رسول مبعوث فرمایا ۔
تو جبکہ اس عظیم الشان انعام کی یہ امت مالک ہو پھر اسے کسی اور انعام نبوت کی کب حاجت رہ سکتی ہے کہ وہ اللہ سے مانگے ۔ اسی لئے اللہ عز و جل نے حضور انورﷺ کو خاتم النبیین فرما کر اس انعام کی حاجت باقی نہ رکھتے ہوئے اس انعام کو بند فرمادیا کہ اگر وہ بند نہ فرماتا۔ تو یہ انعام بے موقعہ صرف ہوتا ۔ اور یہ حکیم کی شان اور قدوس کی ذات کے خلاف ہے اور جب کہ اللہ عز وجل اپنے بچے کلام میں فرما چکا ہے کہ حضور
خاتم النبیین ہیں۔ پھر صراط الذين انعمت عليهم ( سورة فاتحہ آیت نمبر 1 ) سے انعام نبوت بھی مراد لے لینا گویا کلام حق میں تناقص ثابت کرنا ہے۔ لہذا یہاں ہم انعام نبوت تو مراد لے نہیں سکتے ۔ اور نہ ہی اللہ کا یہ منشاء ہے۔ ہاں اس کے ماسوا جتنے بھی انعام ہیں۔ وہ مراد ہو سکتے ہیں کہ ان کے مان لینے سے کلام حق میں تعارض نہیں پڑتا۔ اب معنی صاف ہے کہ اللہ جو فرما رہا ہے۔ مانگو وہ انعام نبوت کے ماسوا جو انعام ہیں۔ ان کے مانگنے کو فرما رہا ہے نہ کہ انعام نبوت کو فرماتا ہے۔ کہ مانگو۔ یہ تمہارا اعتراض کہ جو چیز دینی ہی نہیں ، اس کے متعلق یہ حکم دینا کہ مانگو، حکیم کی شان اور قدوس کی ذات کے خلاف ہے ۔“ جب صحیح ہو سکتا تھا جب کہ انعام بہت سے نہ ہوتے۔ بلکہ انعام نبوت ہی ایک انعام ہوتا ۔ اور جبکہ انعام الہی بے شمار ہیں پھر ان میں سے ایک مخصص قطعی کے ساتھ مخصوص کر لینا موجب اعتراض ہرگز نہیں اور یہ ساری تقریر اسی صورت میں ہے۔ جب کہ تمہارے معنی مان لئے جائیں کہ اللہ نے مسلمانوں کو دعا سکھائی کہ منعمین کے انعام مانگو ورنہ ہم تو اس معنی کو بالکل غلط ہی سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ اللہ کا منشاء تو یہ ہے کہ منعمین کا راستہ مانگو نہ کہ معلمین کے انعام مانگو )