وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُو الصَّالِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلِيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا1
ترجمہ: وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور کام کئے اچھے ۔ البتہ ضر در خلیفہ کرے گا ان کو زمین میں جیسا کہ خلیفہ کیا تھا ان لوگوں کو جو پہلے ان سے تھے اور البتہ قائم کرے گا واسطے ان کے دین ان کا ۔ جو پسند کیا گیا ہے واسطے ان کے اور البتہ بدل دے گا ان کو پیچھے خوف کے امن ۔
كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اس اُمت کے خلفاء پہلی امتوں میں گزرے ہوئے خلفاء کے مثیل اور ان کے مشابہ ہوں گے ۔ چونکہ پہلے گزرے ہوئے خلیفے دو قسم کے ہوئے ہیں بعض نبی اور بعض غیر نبی لہذا اس خلافت موعودہ منصوصہ میں بھی دونوں قسم کے خلفاء ہونے ضروری ہیں۔ غیر نبی خلفاء تو خلفائے راشدین اور مجدد دین اُمت ہیں۔ مگر عیسی موعود کو حدیث میں نبی اور رسول بھی قرار دیا گیا ہے۔ اور أَلَا إِنَّهُ خَلِیفَتِى فِي أُمَّتِی کہہ کر اُمت میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ بھی قرار دیا گیا ہے۔(ملاحظہ ہو المعجم الاوسط للطبراني جز نمبر 5 من اسمه عیسی حدیث نمبر 4898)2
ہاں صحیح ہے کہ اللہ عز وجل ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے اور جنہوں نے عمل صالح کئے ۔ وعدہ فرماتا ہے۔ کہ وہ مشرکین کے قبضہ سے نکال کر عرب و عجم کی زمین کا انہیں وارث بنائے گا۔ جیسے کہ اس نے بنی اسرائیل کو ملک شام کا بادشاہ بنایا اور وہاں کے جابر بادشاہوں کو ہلاک کیا تھا۔ علامہ ابن جریر جز ۱۸ ص ۱۰۹) پر اور اکثر مفسرین نے یہی لکھا ہے۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبر
اور حضرت عمر
اور حضرت عثمان
کے زمانہ مبارکہ میں مسلمانوں کو وہ فتوحات عظیمہ عطا ہوئیں کہ جنہیں ہر تاریخ دان جانتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ خلافت سے مراد یہاں سلطنت ہے نبوت نہیں ۔ ورنہ صدیق اکبر
بھی اور اصحاب ثلثہ
اور ہر مسلمان بادشاہ کو جو خلیفہ المسلمین کہا جاتا ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ نبی المسلمین ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ یہاں خلافت سے مراد سلطنت ہے۔ چنانچہ آگے خود اللہ کایہ فرمانا کہ ويعبد لنهم من بعد محوفهم امنا اى معنى کی تائید کرتا ہے اور اگر اس سے مراد نبوت ہی ہے تو افسوس کہ رب العزت جل شانہ تو یہ فرمائے کہ انہیں کسی امر کا خوف نہ ہوگا۔ اللہ تعالی ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ مگر مرزا صاحب ڈر کے مارے حج کو بھی تشریف نہ لے گئے اور جب کبھی کسی شہر میں تشریف لے گئے۔ تو بجائے عون اللہ کے پولیس کے محتاج ہوئے۔ اور پولیس کے زبر دست پہرہ میں تشریف لے جاتے رہے۔
حضرت علامہ اسمعیل حقی
فرماتے ہیں کہ اسْتَخْلَفَ اللهُ اَولِيَاءَ : في الأَرْضِ3 یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیا کرام کو زمین خلیفہ بنایا ہے گویا علامہ موصوف بھی اس خلافت سے مراد نبوت نہیں لیتے اور کیسے لیں۔ جب کہ ان کے نزدیک حضور
کے بعد مدعی نبوت کا فر و مرتد ہے۔
امام فخر الدین رازی
نے تو اس آیت کے ماتحت اس امر کا صاف فیصلہ فرما دیا ہے کہ حضور
کے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ اس لئے اس خلافت سے مراد نبوت ہرگز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں:
دَلَّتِ الْآيَةُ عَلَى إِمَامَةِ الْأَئِمَّةِ الْأَرْبَعَةِ فَذَلِكَ لِأَنَّهُ تَعَالَى وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُو الصَّلِحَتِ مِنَ الْحَاضِرِينَ فِي زَمَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ الخر وَ مَعْلُومٌ أَنَّ الْمُرَادَ بِهَذَا الْوَعْدِ بَعْدَ الرَّسُولِ هُؤُلاء لَانَّ اسْتِخْلَافَ غَيْرِهِ لَا يَكُونُ إِلَّا بَعْدَهُ وَمَعْلُومٌ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ لِأَنَّهُ خَاتِمُ الْأَنْبِيَاءِ فَإِذْنِ الْمُرَادُ بِهَذَا الاسْتِخْلافِ طَرِيقَة الْإِمَامَةِ
ترجمہ: فرمایا کہ یہ آیت ائمہ اربعہ کی امامت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالی نے جو یہ وعدہ فرمایا کہ وہ انہیں خلیفہ بنائے گا جیسے پہلے لوگوں کو بنایا تھا۔ یہ وعدہ البتہ ان ایمان داروں اور عمل صالح کرنے والوں سے ہے۔ جو زمانہ مبارکہ محمد رسول اللہ ﷺمیں حاضر تھے۔ اور یہ معلوم ہے کہ اس وعدہ سے مراد یہ لوگ حضور
سے بعد ہے۔ اس لئے که حضورﷺ کے سوا کسی دوسرے کا خلیفہ کرنا حضور
کے بعد ہو سکتا ہے۔ (یعنی حضور
کے دنیا میں تشریف رکھتے ہوئے کوئی دوسرا خلیفہ بنے کا ہرگز مستحق نہیں کہ آپ خود خلیفہ اعظم ہیں) اور یہ امر تو معلوم ہو چکا کہ حضور
کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ اس لئے کہ آپ ﷺ تم نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ پس اب اس استخلاف سے مراد طریقہ امامت ہے۔
ناظرین ! دیکھئے ! کہ امام فخر الدین رازی
نے صاف فیصلہ فرما دیا ہے کہ حضور
کے بعد کوئی نبی نہیں۔ آپ نبیوں کے ختم کر دینے والے ہیں اور اس آیت میں خلافت سے مراد نبوت ہر گز نہیں ۔ ہاں اس آیت سے :امامت ائمہ اربعہ کا ثبوت ملتا ہے۔ مرزائیو! اتنا تو بتاؤ کہ تم نے اس خلافت سے مراد نبوت جولی ہے تو کیوں لی ہے؟ کیا ہر جگہ خلافت بمعنی نبوت آتی ہے۔ اگر ہاں تو کیا خلیفہ المسیح الثانی بھی نبی ہیں۔ اگر نہیں تو بس فیصلہ ہوا کہ یہاں بوجہ حضور
کے خاتم الانبیاء ہونے کی خلافت سے مراد نبوت نہیں اور ذرا اتنا تو سوچو کہ مرزا صاحب کے سوا کوئی بھی پہلے معاذ اللہ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والا نہ گذرا۔ جو حسب وعدہ الہیہ نبی آج تیرہ سو برس کے بعد مرزا صاحب ایک ایسے شخص تشریف لائے۔ جو ایماندار اور عمل بنتا۔ صالح کرنے والے تھے۔ جو وہ نبی بن گئے۔
اس امر کا فیصلہ خود حضور
فرما گئے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ہاں خلفاء آتے رہیں گے۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے۔ کہ حضورﷺ نے فرمایا۔
كَانَتْ بَنُوا إِسْرَائِيلَ تَسُوْسُهُمُ الْأَنْبِيَاءِ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَانَبِيُّ بَعْدِى وَسَيَكُونُ الْخُلْفَاءُ فَتَكْفُرُ4
فرمایا کہ بنی اسرائیل کی انبیاء سیاست فرماتے تھے۔ جب ایک نبی تشریف لے جاتے تو اس کے بعد دوسرا آجاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اور خلیفے بہت ہوں گے۔
اس حدیث سے صاف معلوم ہو رہا ہے۔ کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ سے مراد نبوت نہیں۔ اس لئے کہ حضور
کے بعد کوئی کسی قسم کا نی نہیں۔