logoختم نبوت

آیت قیامت کا غلط استدلال اور مرزا قادیانی کا نبی بننے کا دعویٰ

اعتراض:

يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنْذِ رُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا1 اس سے اجرائے نبوت کا ثبوت ملتا ہے؟

جواب:

اس آیت سے اجرائے نبوت کا بھلا کیسے ثبوت نکل سکتا ہے۔ یہ تو قیامت کو اللہ تعالیٰ جنوں اور انسانوں کو کہے گا کہ اے گروہ جنوں اور انسانوں کے کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہ آئے ۔ جو تم پر میری آیتیں پڑھتے ۔ اور اس دن کی ملاقات سے تمہیں ڈراتے تھے۔ تو بتلائیے کہ اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ اللہ یہ فرما رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺکے بعد بھی نبی آتے رہیں گے۔ علامہ اسمعیل حقیsym-4 لکھتے ہیں۔

أَي يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِلثَّقَلَيْنِ جَمِيعًا أَلَمُ يَاتُكُمْ فِي الدُّنْيَا2

ترجمہ: یعنی اللہ تعالی قیامت کو جنوں اور انسانوں سب کو فرمائے گا۔ کہ کیا دنیا میں تمہارے پاس میرے رسول نہ آئے الخ

تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کو یوں فرمائے گا۔ خصوصاً مرزائیوں سے ضرور سوال ہوگا کہ کیا میں نے وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ3 فرما کر محمد رسول الله ﷺ میر اسلام کو تم سب کی طرف رسول بنا کر نہ بھیجا تھا جو تم نے ایک اپنا الگ نبی بنا لیا اور محمد رسول اللہﷺسے نسبت توڑ کر مرزا صاحب کے بن گئے ۔فما تجیبون


  • 1 ( سورۃ انعام آیت نمبر :130) (احمدیہ پاکٹ بک ص :256)
  • 2 (روح البیان ص :105،ج:3)
  • 3 (سورة سبا آیت نمبر :28)

Netsol OnlinePowered by