يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقْضَوْنَ عَلَيْكُمْ اياتي الخ1
ترجمہ: (اے بنی آدم جب کبھی آویں تمہارے پاس میرے رسول تم میں سے بیان کرتے ہوئے تم پر میری آستیں ) اور اب اس غرض ( لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات بتلانا ) پورا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔2
غالباً آپ یا تینکم سے استدلال کرتے ہیں کہ یہ صیغہ مستقبل ہے لہذا حضور
کے بعد بھی رسول آتے رہیں گے۔ مگر افسوس کہ آپ نے کسی تفسیر کو بھی اٹھا کر نہیں دیکھا ۔ آپ ذرا علامہ جلال الدین سیوطی
اور علامہ ابن جریر
سے اس کا مطلب دریافت کیجئے ۔ آپ کو وہ اس کا مطلب یہ بتائیں گے کہ عن ابی سیار السلم قال إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ آدَمَ وَذُرِّيَّتَهُ فِي كَفْهِ فَقَالَ يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي الخ یعنے ابی سیار سلمی سے ہے کہ اللہ تعالٰی نے آدم
اور ان کی اولا د کو اپنی ہتھیلی میں لے کر کہا۔ کہ يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمُ الخر3
اس سے معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا فرمان حضرت آدم
کے وقت کا ہے۔ اور یہ امر ظاہر ہے کہ حضرت آدم
سے لے کر حضور اقدس ﷺتک کئی رسول تشریف لائے۔ مگر اس آیت سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حضور
کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے۔ اس آیت سے اگر یہ مطلب لیا جائے تو وَلَكِن رَّسُولُ اللَّهِ وَخَاتَمَ النبینسے تعارض لازم آئے گا۔ اور لازم باطل ہے۔ اس لئے کہ حالت تعارض میں کلام حق کا من عند اللہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ لہذا ملزوم بھی باطل ۔
ہم آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ تم لوگوں کا دعوی تو یہ ہے کہ حضور
کے بعد نبی آسکتا ہے مگر دلیل میں پیش کرتے ہو وہ آیت جس میں لفظ رسل آتا ہے۔ حالانکہ رسول نبی سے خاص ہے ( جیسے کہ پہلے گزر چکا) یہ عجیب منطق ہے کہ دعوے کسی اور امر کا اور دلیل کسی دوسری شے کی ۔ پس یا تو یہ کہو کہ حضور
کے بعد رسول بھی آسکتے ہیں۔ ورنہ جو تمہارا جواب دہی ہمارا جواب !
لو آپ اپنے دام میں آ گیا صیاد پھنس گیا
ہاں ذرا علامہ علاؤ الدین علی بن محمد کا بھی ارشاد سن لیجئے ۔ وہ فرماتے ہیں۔ اِنَّمَا قَالَ رُسُلٌ بَلَفْظِ الْجَمْعِ وَإِنْ كَانَ المُرَادُ بِهِ وَاحِدًا وَهُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَإِنَّهُ خَاتِمُ الْأَنْبِيَاءِ وَهُوَ مُرْسَلٌ إِلَى كَافَةِ الْخَلْقِ فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ الْجَمْعِ على سَبِيلِ التَّعْظِيمِ فَعَلَى هَذَا يَكُونُ الْخِطَابُ فِي قَوْلِهِ يَا بَنِي آدَمَ لِأَهْلِ مَكَةَ وَمَنْ يَلْحِقُ بِهِمْ وَقِيلَ أَرَادَجَمِيعَ الرُّسُلِ وَعَلَى هَذَا فَالْخِطَابُ فِي قَوْلِهِ يَا بَنِي آدَمَ عَامٌ فِي كُلِّ بَنِي آدَمَ4
ترجمہ: فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسل جمع کے صیغہ سے فرمایا۔ اگر چہ مراد اس سے واحد ہے۔ اور وہ حضور اقدسﷺیتیم ہیں۔ اس لئے کہ آپ نبیوں کے ختم کرنے والے اور سارے جہان کیلئے رسول ہیں۔ اور اللہ کا اصل رسل جمع کے صیغہ سے فرمانا یہ تعظیما ہے۔ پس اس صورت میں خطاب یا بنی آدم کے والوں اور جوان سے لاحق ہیں۔ ان کے لئے ہے اور کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسل سے تمام رسول مراد لئے ہیں۔ اس صورت میں خطاب ہر بنی آدم کے لئے ہے۔ انتھی
اس عبارت سے یہ معلوم ہوا کہ رسل حضور
کو کہا گیا ہے۔ مگر اس کی جمعیت حضور
کے خاتم الانبیاء ہونے کی وجہ سے نہیں لے سکتے ۔ لہذا اسے تعظیم پر محمول کریں گے۔ بتائیے جناب کیا یہ واضح دلیل نہیں اس امر کی کہ حضور
کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ علامہ خارزن
کا رسل کو تعظیم پر محمول کرنا اسی لئے ہے کہ آپ کے ۔ بعد کوئی نبی نہیں۔ جیسے کہ خود انہوں نے بتا دیا کہ لِأَنَّهُ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ
اور دوسرے قول کے مطابق جب تمام رسول مراد لئے جائیں۔ تو ظاہر ہے کہ آدم
سے لے کر حضور
تک کئی رسول تشریف لائے ۔ آپ لوگوں کو چاہئے کہ کوئی ایسی آیت پیش کریں۔ جس میں صاف اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہو۔ کہ محمد رسول اللہﷺ کے بعد نبی آتے رہیں گے ۔ فَاِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَا اتَّقُو النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ5
ہاں یہ بھی بتائیے کہ اگر اس آیت سے اجرائے نبوت کا ثبوت مل رہا ہے۔ تو مرزا صاحب ہی حضور
کے بعد نبی ہوئے ۔ ان سے پہلے اتنی دراز مدت میں کوئی بھی نبی نہ آیا۔ رسل جب جمع کا صیغہ ہے تو چاہئے تھا کہ کم از کم تین نبی تو آجاتے ۔ تا کہ جمعیت مستحق ہو جاتی ۔ اور آپ کا یہ فرمانا کہ اس وقت لوگوں کو آیات اللہ سنانے کی سخت ضرورت ہے۔ مان لیا۔ مگر اس کی تکمیل علماء کرام جو کر رہے ہیں۔ ورنہ بتائیے کہ اس وقت کون نبی ہے؟ کیا اس وقت آیات سنانے کی ضرورت نہیں؟ فتد بروا