رہا یہ امر کہ حضور
کے بعد جب حضرت عیسی
تشریف لائیں گے۔ تو ان کا تشریف لانا کیا منافی ختم نبوت نہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ عیسیٰ
جب تشریف لائیں گے تو وہ حضور ﷺکی ہیں شریعت پر عامل ہوں گے۔ وہ بحیثیت نبی تشریف نہ لائیں گے کہ ان کی نبوت کا زمانہ گزر چکا۔ اور جب وہ بحیثیت نبی تشریف نہ لائیں گے تو پھر ان کا تشریف لانا کسی صورت میں منافی ختم نبوت نہیں ۔ تمام مفسرین کرام یہی لکھ رہے ہیں کہ عیسی
کا تشریف لانا جب بحیثیت نبی نہیں تو منافی ختم نبوت ہر گز نہیں چنانچہ علامہ اسمعیل حقی
فرماتے ہیں:
وَلَا يَقْدِحُ فِي كَوْنِهِ خَاتَمَ النَّبِيِّنِ نَزُولُ عِيسَى بَعْدَهُ لِأَنَّ مَعْنَى كَوْنَهُ خَاتَمَ النَّبِيِّنِ إِنَّهُ لَا يُنَبَّاءُ أَحَدٌ بَعْدَهُ كَمَا قَالَ لِعَلِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ( أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ) وَعِيسَى مِمَّنْ تَنَبَّاءَ قَبْلَهُ وَحِينَ يَنْزِلُ إِنَّمَا يَنْزِلُ عَلَى شَرِيعَةِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلَامِ مُصَلِّيًا إِلَى قِبْلَتِهِ كَانَهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ فَلَا يَكُونُ إِلَيْهِ وَحْى وَلَا نَصْبَ الْأَحْكَامِ بَلْ يَكُونُ خَلِيفَةً رَسُولِ اللَّهِ فَإِنْ قُلْتَ قَدْرُونَ أَنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامِ إِذَا نَزَلُ فِي اخرِ الزَّمَانِ يُكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الخِنْزِيرِ وَيَزِيدُ فِي الْحَلَالِ وَيَرْفَعِ الْجِزْيَةَ عَنِ الْكَفَرَةِ فَلَا يُقْبَلُ إِلَّا الْإِسْلَامُ قُلتُ هَذِهِ مِنْ أَحْكَامِ الشَّرِيعَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ لَكِنْ ظُهُورُ هَا مُوَقَّتْ بِزَمَانِ عِيسَى1
ترجمہ: اور عیسیٰ
کا تشریف لا ناقل ختم نبوت نہیں اس لئے کہ خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ حضور ﷺکے بعد کسی کو نبوت دی نہ جائے گی۔ جیسے کہ حضور
نے حضرت علی
کو فرمایا کہ تجھے مجھ سے ایسی نسبت ہے جیسے ہارون کو موسیٰ سے (
) مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں اور عیسی
کو تو نبوت پہلے سے دی جا چکی اور جب وہ تشریف لائیں گے تو حضور ﷺ کی شریعت پر تشریف لائیں گے اور حضور ہی کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں گے ۔ گویا کہ وہ حضور ﷺکے ایک امتی ہوں گے۔ پس نہ ان کی طرف وحی ہوگی نہ احکام صادر فرمائیں گے بلکہ وہ حضور ﷺ کے خلیفہ ہوں گے۔ اور اگر تم یہ کہو کہ حدیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ
بعد نزول صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ حلال میں زیادتی کریں گے۔ جزیہ کافروں سے اٹھالیں گے اور ان سے سوا اسلام کے اور کچھ قبول نہ کریں گے۔ تو میں کہوں گا کہ یہ سب کچھ شریعت محمدیہ ﷺکے ہی احکام ہیں لیکن ان کا ظہور عیسی
کے زمانہ میں ہوگا۔ انتھی
علامہ عبد اللہ بن احمد نسفی
فرماتے ہیں:
وَعِيسَى مِمَّنْ نَّبِيِّ قَبْلَهُ وَحِيْنَ يَنْزِلُ عَامِلًا عَلَى شَرِيعَةٍ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَّهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ2
ترجمه: فرمایا: عیسی
تو حضور
سے پہلے عہدہ نبوت پر مامور ہو چکے اب جب وہ نازل ہوں گے تو حضور ﷺ قیوم کی شریعت کے عامل ہوں گے گویا کہ وہ حضورﷺکے ایک امتی ہیں ۔
علامہ بیضاوی
فرماتے ہیں:
وَلَا يَقْدَحُ نَزُولُ عِيسَى بَعْدَهُ لِأَنَّهُ إِذَا أَنْزَلَ كَانَ عَلَى دِينِهِ مَعَ أَنَّ الْمُرَادَانَهُ آخِرُ مَنْ نَّبِيَّ3
ترجمہ: فرمایا ختم نبوت میں نزول عیسی
مخل نہیں اس لیے کہ جب وہ نازل ہوں گے تو حضور
کے دین پر ہوں گے۔ باوجود یکہ ہماری مراد یہ ہے کہ حضور
آخر ہیں ان کے جو نبی ہو چکے۔