ایک تحریف فرقہ مرزائیہ کی یہ ہے کہ ولكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن میں نبیین کو تشریعی نبیوں پر محمول کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ نبیین سے مراد خاص نبی ہیں۔ نبی وہ نبی مراد ہیں جو تشریعی ہیں۔ مگر یہ کہنا بھی ان کا بے دلیل اور منگھڑت قول ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ مرزا جی کی خود ساختہ نبوت پر یہ لوگ جتنے دلائل پیش کرتے ہیں۔ وہ سب کے سب اس قسم کے ہوتے ہیں ۔ کہ جن کی اصل نہ قرآن میں ملے نہ احادیث شریفہ اور نہ کسی تفسیر اور کتب سلف میں ملے ۔ سب کے سب ان کے خود ایجاد کردہ اور تار عنکبوت سے زیادہ وقعت نہ رکھنے والے ہوتے ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ خاتم النبین میں محض مرزا جی کی نبوت ثابت کرنے کے لئے یہ تحریف کی جاتی ہے کہ مبین سے خاص انبیاء یعنی نبی تشریعی مراد ہیں۔ اب ان بھلے مانسوں سے کوئی پوچھے کہ اجی تم جو نبین کو مخصوص کر رہے ہو کیا تمہارے پاس کوئی مخصص ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے کہیں دوسری آیت میں یہ فرمایا ہے۔ یا کسی حدیث میں آیا ہے۔ یا کسی مفسر نے یہ بتایا ہے یا کسی سلف کی کتاب میں بایا جاتا ہے یا ویسے ہی اڑایا ہے۔
حضرات ناظرین! یہ آپ کو ہرگز ہرگز اس مردود قول کی اصل کسی کتاب سے نہ دکھا سکیں گے۔ اللہ عزوجل کا اگر یہی مقصود ہوتا کہ حضور
ان انبیاء کے خاتم ہیں جو تشریعی نبی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ یوں فرماتا۔ولكن رسول الله وخاتم المرسلين اس لئے کہ رسول خاص ہے اور نبی عام رسول صرف تشریعی نبی کو کہتے ہیں اور نبی کا اطلاق تشریعی نبی اور غیر تشریعی نبی دونوں پر آتا ہے ۔ اور جب حضور
کا ان نبیوں کا خاتم ہونا بیان کرنا مقصود تھا۔ جو تشریعی ہیں تو پھر خاتم المرسلین ہی کہنا موزوں تھا۔
دیگر ولکن رسول اللہ ﷺمیں اللہ کا لفظ رسول فرمانا اور بعد اس کے رسول سے عدول فرما کر د خاتم النبین میں لفظ نبی کالانا۔ اس امر کی بین دلیل ہے۔ کہ اللہ نے اس آیت میں ہمیں یہی بتایا ہے کہ آپ ہر قسم کے نبی کے خاتم ہیں۔ چنانچہ حضور
ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں:
أنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخَرَوَانَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخَرَ1 ترجمہ: میں پیشوا ہوں رسولوں کا اور اس میں کوئی فخر نہیں۔ اور میں ختم کرنے والا ہوں نبیوں کا اور اس میں کوئی فخر نہیں ۔
اس حدیث میں بھی نظر عمیق سے پتہ چلتا ہے کہ حضور
نے فرمادیا کہ میں ہر قسم کے نبی کا خاتم ہوں ۔ اس لئے کہ حضور ﷺ نے پہلے جملہ میں فرمایا۔ انا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ یہاں تو حضور
نے مرسلین فرمایا جو خاص ہے نبین سے اور دوسرے جملہ میں فرمایا۔ انا خاتم النبیین اور یہاں آپ نے نبیین فرمایا جو عام ہے مرسلین سے اور یہ ترتیب حضور
نے کیوں اختیار فرمائی ؟ اس کا جواب حضرت ملا علی قاری
سے سنیئے ! آپ مرقاۃ شرح مشکوۃ میں اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں۔
عَدَلَ عَنِ الْمُرْسَلِينَ إِلَى النَّبِيِّينَ لَا نَّهُمْ أَعَمُّ فَتَكُونُ نِسْبَةُ الْخَاتِيَّة أَتَمَّ2 ترجمہ: حضور
نے مرسلین سے عدول فرما کر مبین فرمایا۔ اس لئے کہ نبین عام ہے۔ پس خاتمیت کی نسبت ہر قسم کے نبی کی طرف ہو گئی۔
چونکہ حضور اقدس ﷺ کو معلوم تھا۔ کہ میرے بعد دجال آنے والے ہیں۔ جو طرح طرح کی تاویلیں کر کے نبی بننا چاہیں گے لہذا حضور
نے بجائے مرسلین کے جو پہلے جملہ میں فرمایا دوسرے جملہ میں نہین فرمایا۔ تا کہ نبین کے عموم سے ہر قسم کی نبوت کا اختتام ظاہر ہو جائے۔ حضرت علامہ اسمعیل حقی
نے تو اس امر کو بالکل واضح فرما دیا بغیر کسی پہلے نبی کے اتباع کے احکام شرعیہ لائے ۔ جیسے موسیٰ
اور عیسیٰ
اور حضور
اور غیر تشریعی نبی وہ ہے جو اپنے کا جو اپنے پہلے نبی کی شریعت کا متبع ہو۔ جیسے انبیاء بنی اسرائیل۔
علامہ عبد العزیز دیرینی
طہارة القلوب بر حاشیہ نزہتہ المجالس پر فرماتے ہیں:
وَخُتِمَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ بِسَيِّدِ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ مُحَمَّدٍ خَاتِمَ النَّبِيِّينَ ترجمہ: اور ختم کر دیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبیوں کو ( جو غیر تشریعی ہیں ) اور رسولوں کو ( جو تشریعی ہیں ) سید الاولین والآخرین محمد خاتم النبیین کے وجود با وجود کے ساتھ ۔“ حضرات ان عبارات سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ ہرقسم کے نبی کے خاتم ہیں۔ علامہ اسمعیل حقی
اور خصوص کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث لا نبی بعدی میں خبر لا کامل نہیں ہے۔ بلکہ موجود ہے اور لانبی کا معنی یہ نہیں کہ میرے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ میرے بعد نہ تشریعی نبی ہے اور نہ غیر تشریعیفند بروا
اور علامہ عبد العزیز دیرینی
کی عبارت سے یہ معلوم ہوا کہ خاتم النبیین کا وہ معنی نہیں جو مرزائی کرتے ہیں کہ نبین سے مراد نبی تشریعی ہیں۔ بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ حضور
ہر قسم کے نبیوں کے خاتم ہیں۔ آپ کے بعد نہ کوئی تشریعی نبی ہے اور نہ کوئی غیر تشریعی۔ فند بروا
(ماخوذ ۔۔۔ ختم نبوت ۔۔۔از علامہ ابو النور محمد بشیر کوٹلی رحمۃ اللہ علیہ)