بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
زمانہ طالب علمی میں شیخ الحدیث استاذی المعظم حضرت مولانا سید ابوالبرکات سید احمد صاحب دامت برکاتہم ناظم حزب الاحناف لاہور کے زیر اہتمام ہر جمعرات کو طلبائے دارالعلوم کا آپس میں مشقیہ مناظرہ ہوا کرتا تھا۔ استاذی المعظم کسی طالب علم کے ذمہ کوئی سا موضوع لگا کر اسے ارشاد فرماتے کہ فلاں طالب علم سے تمہیں اس موضوع پر مناظرہ کرنا ہو گا چنانچہ وہ طالب علم اس موضوع کے مطابق دلائل یاد کرنے لگتا اور اس کے مد مقابل دوسرے طالبعلم کو ان دلائل کے جواب کے لئے تیار ہونا پڑتا ۔ اس طرح طالب علموں کو اس فن میں مہارت حاصل کرنے کا موقعہ مل جاتا تھا۔
ایک مناظرے میں مولا نا محمد غوث صاحب ملتانی کو اجرائے نبوت پر مرزائیوں کے دلائل پیش کرنے کا حکم ہوا اور مجھے ان کے مد مقابل اسلامی عقیدہ ختم نبوت پر دلائل پیش کرنے اور مرزائیوں کے دلائل کے جوابات دینے کا ارشاد ہوا۔ چنانچہ میں نے اس مناظرے کے لئے کتب خانہ دار العلوم کا مطالعہ کر کے ختم نبوت کے لئے جو دلائل اور مرزائیوں کے دلائل کے جو جوابات لکھے۔ استادی محترم نے مناظرہ میں سن کر وہ بہت. پسند فرمائے اور انہیں کتابی شکل میں شائع کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ یہ رسالہ اسی ارشاد کی تعمیل میں شائع کیا گیا۔ جو آج نئے اہتمام کے ساتھ کتب خانہ ماہ طیبہ شائع کر رہا ہے۔
(مولانا ) ابوالنور محمد بشیر ( کوٹلوی)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الَّذِي خَتَمَ النَّبُوَّةَ بِسَيِّدِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، وَصَرَّحَ فِي كِتَابِهِ الْمُبِينِ بِأَنَّهُ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتَمُ النَّبِيِّنَ وَقَالَ فِي حَقِّهِ وَصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسُ وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعُلَمِينَ وَالصَّلُوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ مُحَمَّدٍ الَّذِي كَانَ نَبِيًّا وَادَمَ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطَّيِّنَ وَالَّذِي قَالَ أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّنَ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الَّذِينَ صَدَّقُوا بِكَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ النَّبِينَ وَعَلَى الْآئِمَةِ الْمُجْتَهِدِينَ خَصُوصًا عَلَى إِمَا مِنَا الْأَعْظَمِ الإِمَامِ أَبِي حَنِيفَةَ إِمَامٍ الْمُحَدِّثِينَ الَّذِي قَالَ مَنَ طَلَبَ عَلَامَةً مِنْ مُّدَّعِي ہو یہ النَّبُوَّةِ بَعْدَ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ فَهُوَ مِنَ الْكَافِرِينَ
امَّا بَعْدُ
فقیر عبدالنبی الخیر محمد بشیر غفر له المولى
القدير بجاہ النبی البشير والنذیر برادران اسلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے۔ کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اپنی نبوت کا ذبہ میں بڑے مشہور ہیں اور ان کے بہت سے دعاوی ہیں۔ مگر سب کے سب ہی باطل اور حق سے کوسوں دور ہیں۔ منجملہ ان کے دعاوی کا ذبہ کے ایک ان کا یہ بھی دعوے تھا کہ میں نبی و مرسل ہوں اور سب نبیوں سے افضل ہوں ۔ شیطان نے جو انسان کا قدیمی دشمن ہے۔ اس موقعہ کو غنیمت جان کر لوگوں کو بہکانا شروع کیا۔ اور مرزائیت کے جال میں پھنسانا شروع کیا۔ پس بعض جو بیوقوف اور نادان تھے اور جو محبت شیطان تھے۔ اس جال میں پھنس گئے اور اسلام سے بے تعلق ہوئے۔ پھر اس فتنہ مرزائیت سے جو ضرر اسلام کو پہنچا۔ شائد ہی کسی اور فتنہ سے پہنچا ہو اور اس کے بانی نے جو جو کچھ انبیاء
کی شان میں لکھا۔ شائد ہی کسی اور کافر نے لکھا ہو۔ علمائے اسلام نے اس فتنہ کی کافی و وانی تردید کی اور بہتوں کو اس پنجہ شیطان سے نجات دی۔ میرا بھی خیال ہوا کہ میں بھی اس موضوع پر کچھ لکھوں اور بتاؤں کہ آقائے نامدار احمد مختار ﷺ کے بعد تشریعی نہ غیر تشریعی کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ حضور
کے بعد جو نبوت کا مدعی ہو وہ کا فرو کذاب و دجال ہے۔ واللهُ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْهِ التَّكَلَانُ
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت آدم
سے لے کر حضرت خاتم المرسلین محمد رسول اللہﷺ تک جتنے انبیاء مبعوث فرمائے ۔ سب اس دین کی تکمیل کیلئے تشریف لائے جس دین کی بنیاد حضرت آدم
کے وجود سے رکھی گئی تھی۔ اور جس کی تکمیل زمانہ مبارکہ حضرت خاتم المرسلین محمد رسول اللہ ﷺمیں ہوئی ۔ یہ شرف حضور پر نور خاتم النبین ﷺ کو ہی حاصل ہے کہ دین کی تکمیل حضور ہی کے وجود باوجود سے ہوئی ۔ اللہ تعالٰی نے صاف فرمادیا ۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی1 اس شرف سے کسی اور نبی کو مشرف نہیں فرمایا گیا۔
بخاری شریف کتاب الاعتصام بالکتاب والسنتہ میں ہے۔
حدثنا الحميدي عن طارق بن شهاب قال قال رجل من اليهود لعمر يا أمير المومنين لوان علينا نزلت هذه الآية اليوم أكملت لكم دينكم لا تخذنا ذلك اليوم عيد فقال عمر إِني لَا عَلَم الى يَوْمٍ نَزَلَتْ هذه الآية نزلت يَومَ عَرفَةَ فِي يَوم جمعة
ترجمہ:طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے حضرت عمر
سے کہا۔ اے امیر المومنین اگر یہ آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دینکم ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن عید منایا کرتے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کسی دن نازل ہوئی یہ آیت بروز جمعہ عرفہ کے دن نازل ہوئی ۔
اس حدیث سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ موسیٰ
کے زمانہ میں تکمیل دین نہیں ہوئی تھی۔ مرزا صاحب قادیانی خود حقیقۃ الوحی ص ۱۵۱ میں لکھتے ہیں:
مگر حضرت عیسی
صرف توریت کے وارث تھے۔ جس کی تعلیم ناقص اور مختص القوم ہے۔ اسی وجہ سے انجیل میں ان کو وہ باتیں تاکید کے ساتھ بیان کرنی پڑیں۔ جو تو رایت میں مخفی اور مستور تھیں ۔ لیکن قرآن شریف سے ہم کوئی زیادہ امر بیان نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ اس کی تعلیم اتم اور اکمل ہے۔ وہ تو رائت کی طرح کسی انجیل کا محتاج 2
مرزا صاحب کی عبارت سے بھی معلوم ہوا کہ اس دین کی تکمیل حضور
کے وجود با وجود سے ہوئی ۔ چونکہ انبیاء سابقہ اسی دین کی تکمیل کی خاطر تشریف لاتے رہے اور وہ دین حضور خاتم النبین علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود با وجود سے مکمل کر دیا گیا لہذا اب ہمیں کسی نبی کی حاجت نہ رہی ۔ علامہ ابن کثیر
تفسیر ابن کثیر صفحہ ۳۷۹ جلد ۳ میں اس آیت کے ماتحت ارشاد فرماتے ہیں:
هذه أكبر نِعمَ الله على هَذِهِ الْأُمَّةِ حَيْثُ أَكَمَلَ تَعَالَى لَهُمْ دِينَهُمْ فَلَا يَحْتَاجُونَ إِلَى دِينِ غَيْرِهِ وَلَا الى نبي غير نَبَيهِمْ صَلَواتُ اللهِ وَسَلامه عليه وَلِهَذَا جَعَلَهُ خَاتِم الانبياء وَبَعَثَهُ إِلَى الإِنس والجن
ترجمہ: فرماتے ہیں:اللہ کی اس امت پر یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ اس نے ان کے لئے ان کے دین کو مکمل فرما دیا۔ پس اب یہ اس دین کے سوا کسی اور دین کے محتاج نہیں اور نہ ہی اپنے نبی ( محمد رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وسلامہ علیہ ) کے سوا کسی دوسرے نبی کے محتاج ہیں۔ اسی لئے اللہ نے حضور
کو نبیوں کا ختم کرنے والا بنایا اور آپ کو جن وانس کی طرف مبعوث فرمایا۔
چونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے دین کو مکمل فرما چکا اور ہمیں کسی نبی کی حاجت نہ تھی۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمادیا کہ: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنِ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْ عَلِيما3ترجمہ: محمد (
) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کر دینے والے ہیں ۔
مرزائی کہتے ہیں کہ خاتم کا معنیٰ ختم کرنے والا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا معنی مہر ہے یعنی حضور
نبیوں کی مہر ہیں۔ مگر بے چارے نہیں جانتے کہ اس کا معنی مہر کرنے سے بھی ان کا مدعا حاصل نہیں ہوتا اور نہیں جانتے کہ اس میں دو قرآتیں ہیں۔ حسن اور عاصم کے نزدیک خاتم النبین بفتح التاء ہے۔ اور سب اسے خاتم النبین بکسر التاء پڑھتے ہیں اور جب ہم اسے خاتم النبین بکسر التاء پڑھیں گے۔ تو معنی صاف ہے کہ ختم کرنے والا ہے نبیوں کا اور اگر ہم اسے خاتم النبین بفتح التاء پڑھیں گے تو بھی ہمارا مد عا حاصل یعنے اس کا معنی آخر النبیین ہوگا یعنی سب سے پچھلے نبی اور دوسرا معنی اس کا نبیوں کی مہر بھی ہوگا ۔ مگر مرزائیوں کے ہاتھ کچھ نہیں لگے گا۔ بلکہ بطریق اولی ختم نبوت ثابت ہوگی تمام مفسرین کرام علیہم الرحمۃ یہی فرمارہے ہیں کہ خاتم النبیین میں دو قرآتیں ہیں۔ بفتح التاء اور بکسر التاء اور دونوں صورتوں میں مطلب یہی ہے کہ حضور
پر نبوت ختم ہو چکی ۔ آپ آخری اور خاتم الانبیاء ہیں۔ احادیث رسول اللہ ﷺ بھی اس معنی کی تائید کر رہی ہیں۔ مرزا صاحب خود اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا 4
مرزائیو! ذرا غور کرو کہ تمہارے مرزا صاحب تو خاتم کا معنی ختم کرنے والا لکھ رہے ہیں۔ مگر تم چیلوں کا یہ حال ہے کہ ان کے ترجمہ کو غلط قرار دے کر خاتم کا معنی مہر کرتے ہو۔ مگر مرزائیو! تم چاہے اس کا معنی مہر ہی کرو۔ تمہارا مدعا ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا ۔ سنو! قرآن مجید میں آتا ہے: خَتَمَ اللهُ عَلَی قُلُوبِهِمْ4اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی۔ یعنی نہ ان کے دلوں سے کفر نکل سکتا ہے اور نہ ایمان جاگزیں ہو سکتا ہے۔
منتہی الارب میں ایک مثال دے کر سمجھاتے ہیں۔ ختم علی قلبه مہر نہاد بر دل دے تا فہم نکند چیزی راو نے برآید چیزے ازاں ۔ یعنی مہر رکھی اس کے دل پرتا کہ نہ کسی چیز کو سمجھے اور نہ کوئی چیز اس سے باہر آسکے۔ تو معلوم ہوا کہ حضور
نبیوں کی مہر ہیں نہ اس گروہ انبیا میں کوئی دوسرا شامل ہو سکتا ہے اور نہ اس سے کوئی نکل سکتا ہے۔ علامہ اسمعیل حقی
تفسیر روح البیان مطبوعہ مصر جلد ہفتم ص ۱۸۷ میں اس آیت کے ماتحت فرماتے ہیں:
( وخاتم النبين ) قراء عاصم بفتح التاءِ وَهُوَ الةُ الخَتِم بِمَعْنِي مَا يُخْتَمُ بِهِ كَا الطَّابِع الطَّا بمعنى مَا يُطْبَعُ بِهِ وَالْمَعْنَى وَكَانَ آخَرَهُمُ الَّذِي خُتِمُوا بِهِ وَبِالْفَارِسِيَّةِ (مهر پیغمبراں یعنی بد و مهر کرده شد در نبوت و پیغمبران را بد و ختم کرده اند ) وقراء الباقون بكسر التاء اى كان خَاتِمَهُمُ اى فاعل الختم فرماتے ہیں کہ عاصم نے خاتم کو بفتح التاء پڑھا ہے اور خاتم بفتح التاء مہر لگانے کے آلے کا نام ہے۔ یعنی وہ چیز جس سے مہر لگائی جاتی ہے ،مثل طابع کی یعنی وہ چیز جس سے چھاپا جاتا ہے۔ اور معنی اس آیت کا یہ ہوا کہ حضور
آخری نبی ہیں۔ جن کے وجود باوجود سے نبیوں پر مہر لگا دی گئی۔ اور فارسی میں اس کا ترجمہ یوں ہے کہ حضور
پیغمبروں کی مہر ہیں یعنی آپ کے وجود با وجود سے نبوت میں مہر لگا دی گئی ہے اور پیغمبروں کے مہر لگانے والے یعنے فاعل ختم انتہی ۔
علامہ ابن جریر
اپنی تفسیر ابن جریر ص ۱۱ جز ۲۲ میں اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
وَلَكِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتِمُ النبيِّن الذي خَتَمَ النبوَّةَ فَطُبِعَ عَلَيْهَا فَلَا تُفْتَحُ لأَحَدٍ بَعْدَهُ إِلى قِيَامِ السَّاعَةِ فرماتے ہیں:لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبین یعنی وہ ذات بابرکات جس نے نبوت کو ختم کر دیا۔ پس نبوت پر مہر لگا دی گئی۔ پس نہیں کھولی جائے گی حضور
کے بعد قیامت تک کسی کے لئے ۔انتھی
تفسیر جلالین ص ۳۵۳ میں لکھا ہے : وفی قرأَ : بِفَتِحِ التَّاءِ كَالَةَ الْخَتْم اى به خُتِمُوا یعنی ایک قراۃ میں خاتم بفتح التا ہے۔ جیسے مہر لگانے کا آلہ ۔ یعنی حضور
کے وجود با وجود سے انبیا مہر لگا دیئے گئے ۔
حضور
آخری نبی ہیں۔ جنہوں نے نبیوں کو ختم کر دیا یا خاتم با لفتح عاصم کی قرآت پر یہ کہ آپ کے وجود باوجود سے نبیوں پر مہر لگادی گئی ۔ علامہ کا شقی تفسیر حسینی ص ۱۵۵ میں اس آیت کے تحت میں فرماتے ہیں۔ (وخاتم النبين ) و مهر پیغمبراں یعنی بد و مهر کرده شده در نبوت و پیغمبری بر دختم کرده اند. فرمایا۔ پیغمبروں کی مہر ہیں۔ یعنی آپ کے وجود با وجود سے نبوت میں مہر لگا دی گئی ہے اور پیغمبری آپ پر ختم کر دی گئی ہے۔
ملاجیون
تفسیرات احمد یہ مطبوعہ کریمی پریس بمبئی ص ۶۲۳ میں فرماتے ہیں:
پر اس لئے بولا گیا ہے کہ آپ کے وجود باوجود سے نبوت کے دروازوں پر مہر لگا دی گئی۔ اور قیامت تک کے لئے بند کر دیئے گئے ۔ انتھی}}دیکھئے مفسرین کرام رحمۃ اللہ علیہم کی ان عبارتوں سے معلوم ہو رہا ہے کہ خاتم کا معنی مہر کرنے سے بھی مرزائیوں کا مدعا حاصل نہیں ہوتا۔ بلکہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے آکر دروازہ نبوت بند فرمادیا۔ اور اس پر مہر لگادی۔ تا کہ اب یہ دروازہ قیامت تک بندر ہے اور کوئی اسے کھول نہ سکے ۔
اب میں آپ کو یہ بتاؤں کہ مفسرین کرام نے خاتم کا معنی ” آخر بھی لکھا ہے۔ یعنی حضور
آخر النبین ہیں۔ مرزائی تو مہر کو ہی لئے پھرتے ہیں۔ مگر بے چارے نہیں جانتے کہ مفسرین کرام نے خاتم النبین بالفتح التاءکا معنی آخر النبیین بھی لکھا ہے۔
علی ابن الحسین علیہ فرماتے ہیں:
وَاخْتَلَفَتِ الْقُرَاء فِي قرأة قوله وَخَاتَمَ النبيين فقراء ذلِكَ قُرَّاء الامصار سوى الحَسَنِ وَعَاصِمِ بكسر التاء من خَاتِمِ النبيين بمعنى خَتم النبيين ( الى ان قال ) و قراء ذلك فيما يذكر الحسن و عاصم خاتم النبيين بفتح التاء بمعنى انه اخر النبيين(تفسیر ابن جریر جز ۲۲ ص :۱۱) فرماتے ہیں :}}اس کی قرات میں قاریوں نے اختلاف کیا ہے۔ قراء مصار نے سوا عاصم اور حسن کے بکسر التاء پڑھا ہے۔ یعنی حضور
نے نہیوں کو ختم کر دیا ہے۔ اور حسن اور عاصم نے خاتم عاصم نے خاتم النبین کو فتح التاء پڑھا ہے یعنی آپ آخری ہیں۔
علامہ جلال الدین سیوطی
اس آیت کی تفسیر میں نظر یت کی تفسیر میں نقل فرماتے ہیں:عَنْ قَتَادَة رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النبيين قَالَ آخَرُ نَبِي وَعَنِ الْحَسِنَ فِي قولِهِ وَخَاتَمَ النبيين قال خَتَمَ اللهُ النبيين بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ آخَرُ مَنْ بُعِثَ5 ترجمہ: حضرت قتادہ نے ولکن رسول اللہ وخاتم النبیینکی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ نے محمدﷺکے وجود با وجود سے نبیوں کو ختم کر دیا اور آپ آخری نبی تھے۔
علامہ کا شقی
فرماتے ہیں۔ و خاتم بمعنی آخر نیز هست یعنی او هست آخر الانبیاء بنور ظهور چنانچہ اول ایشان بود ظهور نور ( تفسیر حسینی ص ۱۵۵) فرمایا:
خاتم کا معنی ” آخر بھی ہے۔ یعنی حضور
ظہور میں سب نبیوں سے پچھلے ہیں اور خلقت میں سب سے اول ہیں ۔
شیخ زاده شرح بیضاوی جز ص ۶۶ مطبوعه مطبع عثمانیہ میں ہے: وَمَنْ قرأ بفتحها أَرَادَ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلوة وَالسَّلامُ اخر النبيين لا بني بعده حَيْثُ خُتِمُوا بِهِ وَتُمَّ بِهِ بُنْيَانُ النبوة ترجمہ: جس نے خاتم کو نفتح التاء پڑھا ہے ۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ حضور
آخر النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ بایں حیثیت کہ حضور
کے وجود باوجود سے بندوں پر مہر لگا دی گئی، اور محل نبوت پورا کر دیا گیا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ اس آیت کریمہ میں ایک اور قرآت ہے اس قرآت میں تو مرزائیوں کو چون و چرا کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا۔ اکثر مفسرین کرام علیہم الرحمۃنے اپنی تفاسیر میں ، اس قرآت کو نقل فرمایا ہے :
چنانچہ علامہ ابن جریر
فرماتے ہیں۔ ذکر أَنَّ ذَلِكَ فِي قرأة عبد الله ولكن نبيا ختم النبین6 یعنی یہ آیت حضرت عبداللہ کی قرآت میں ( بجائے ولکن رسول اللہ وخاتم النبيين) کے ولكن نبيا ختم النبیینہے۔ علامہ مصفی
نے بھی مدارک التنزیل میں اسے نقل فرمایا ہے۔
مرزائیو! اب یہاں تو مہر وغیرہ کا جھگڑا ہی نہ رہا یہاں تو ختم ماضی کے صیغہ سے ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ لیکن وہ نبی ہیں جنہوں نے ختم کر دیا نبیوں کو۔
بتاؤ اب یہاں کیا کرو گے کیا یہاں بھی اپنے من گھڑت اعتراضات جڑو گے؟
اب میں آپ کو بتاؤں کہ آیت مذکورہ میں دو جملے ہیں۔ ایک مَا كَانَ مُحَمَّدٌ آبا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْدوسرا وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ خَاتَمَ النَّبی پہلے جملہ میں اللہ تعالٰی نے نفی ابوہ فرمائی ہے کہ حضور ﷺاور کسی مرد کے باپ نہیں اور دوسرے جملہ میں خدا تعالٰی نے حضور
کا رسول اللہ اور خاتم النبین ہونا بیان فرمایا ہے ۔ اب اگر اسے سطحی نظر سے دیکھا جائے تو دونوں جملوں کا آپس میں کسی قسم کا ربط و تعلق معلوم نہیں ہوتا اور سمجھ میں نہیں آتا ۔ کہ حضور
کے کسی مرد کا باپ نہ ہونا بیان کر کے پھر آپ کا رسول اور خاتم النبین ہونا کس لئے بتایا گیا ہے۔ اور اگر اسے گہری نظروں سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان دو جملوں میں کمال درجہ کا ربط و تعلق پایا جاتا ہے۔ اور وہ یوں کہ آیت مذکورہ کا پہلا جملہ سن کر تین شبہات پیدا ہوتے تھے۔ حق سبحانہ تعالیٰ نے دوسرے جملہ سے ان شبہات کا قلع قمع فرمایا ہے۔
پہلا شبہ یہ پیدا ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جب فرما دیا کہ حضورﷺ کسی مرد کے باپ نہیں تو اب حضور
کی وہ شفقت امت پر ثابت نہ ہوئی جو باپ کو بیٹے کے ساتھ ہوتی ہے۔ حالانکہ لوازمات نبوت سے ایک شفقت علی الامت بھی ہے۔
دوسرا شبہ یہ پیدا ہوتا تھا کہ اس میں تائید ہے۔ عاص بن وائل کے اس بکو اس کی جو اس نے حضور
کی شان میں کیا تھا کہ (نعوذ باللہ ) آپ ابتر ہیں۔
تیسرا شبہ یہ پیدا ہوتا تھا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے انبیاء کرام
تو مردوں کے باپ تھے۔ مگر حضور اقدسﷺکسی مرد کا باپ نہیں بنایا گیا۔ حالانکہ آپ سید الانبیاء ہیں۔
اللہ عز وجل آیت کے دوسرے جملہ سے ان تین شبہات کا ازالہ فرماتا ہے۔
پہلا شبہ تو یوں دور ہوا کہ ہر رسول اپنی امت کے لئے روحانی باپ ہوا کرتا ہے۔ اس آیت کے پہلے جملہ میں ابوہ جسمانیہ کی نفی فرمائی گئی ہے اور دوسرے جملہ میں ولکن رسول اللہ سے ابوة روحانیہ کا اثبات ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد ﷺکسی مرد کے جسمانی باپ نہیں ۔ لیکن اپنی امت کے لئے روحانی باپ ہیں اور روحانی باپ جسمانی باپ سے افضل اور زیادہ شفیق ہوتا ہے۔ اس لئے کہ روح ایک لطیف شے ہے اور جسم کثیف ہے اور لطافت کثافت سے یقینا افضل ہے۔ لہذا جو شے متعلق بالروح ہے وہ افضل ہے اس شے سے جو متعلق بالجسم ہے۔ یہی وجہ ہے قیامت کے روز بیٹا باپ سے، باپ بیٹے سے بھاگے گا۔ وہاں ابوہ جسمانیہ ہرگز کام نہ آئے گی۔ تو ابوة روحانیہ آقائے نامدار احمد مختار شفیع المذنبین خاتم النبین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کام آئے گی ۔ ہر کوئی نفسی نفسی پکار رہا ہوگا اور حضورﷺامتی امتی فرمارہے ہوں گے!
پھر اللہ عز وجل نے ولکن رسول اللہ کے بعد و خاتم النبیین فرما کر حضورﷺ کا اپنی امت پر اس سے بھی زیادہ شفیق ہونا ظاہر فرما دیا اور وہ یوں ہے کہ جس نبی کے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا ہو۔ وہ اپنی امت پر اتنا شفیق نہیں ہوتا جتنا وہ نبی اپنی امت پر شفیق ہوتا ہے۔ جس کے بعد کوئی بنی نہ آسکے اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ میرے بعد دوسرا نبی آنے والا ہے اگر مجھ سے کچھ پند و نصائح سے بیان کرنا رہ بھی جائے گا تو اسے میرے بعد آنے والا نبی بیان کر دے گا ۔ مگر وہ نبی جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ اسے یہ خیال ہو گا کہ اس امت کا سوا میرے اور ہے ہی کون۔ اس لئے وہ اپنی امت پر ہر طرح سے زیادہ شفیق ہوگا۔
دیکھئے امام فخر الدین رازی
تفسیر کبیر جلد ۶ ص ۷۸۶ پر اس آیت کے تحت میں فرماتے ہیں:
ثم انه تعالى لما نفى كونه أبا عقبه بما يدل على ثبوت ما هو في حكم الأبوة من بعض الوجود فقال ( ولكن رسول الله ) فان رسول الله كَالَاتِ لِلْامَّةِ فِي الشَّفْقَةِ مِنْ جَانِبِهِ وَفِي التَّعْظِيم من طرفهم بل اقوى فأن النبي اولى بالمومنين من انفسهم والاب ليس كذالك ترجمہ: فرماتے ہیں پھر اللہ نے جب حضور ﷺ کے باپ ہونے کی نفی فرمائی تو اس کے بعد اس چیز کا ذکر فرمایا۔ جو اس شے پر دلالت کرے جو بعض وجوہ سے ابوہ کے حکم میں ہے۔ پس فرمایا ( ولکن رسول الله) اور تحقیق اللہ کا رس در تحقیق اللہ کا رسول اپنی طرف سے شفقت میں اور لوگوں کی جانب سے تعظیم میں امت کے لئے باپ کی مانند ہے بلکہ باپ سے بھی زیادہ کہ نبی مومنوں کو اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے اور باپ ایسا نہیں ۔
پھر فرمایا:
محمد بَيْنَ مَا يُفيد زيادة الشفقة مِنْ جَانِبِه وَالتَّعْظِيمِ مِنْ جِهَتِهِم بقوله ( وخاتم النبيين) وَذَلِكَ لِأَنَّ النَّبِي الَّذِي يَكُونُ بَعْدَه نبى ان تَرَكَ شَيْئًا مِن نَصِيحَية وَالبَيَانِ يَسْتَدْرَكُهُ مَنْ ياتي بَعْدَهُ وَامَا مَن لا نبي بعده يَكُونَ اَشْفَقٌ عَلَى امته وَأَهْدَى لَهُمْ وَأَجْدُ اِذْهُوَ كَوَالِدٍ بِوَلَدِهِ الَّذى لَيْسَ لَهُ غَيْرُه مِنْ أَحَدٍ وقوله ( وكان الله بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ) یعنی عِلْمِهِ بِكُلِّ شَيْءٍ دَخَلَ فِي عِلْمِهِ، أَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فرماتے ہیں۔ پھر اللہ نے اپنے قول (و خاتم النبین ) سے اس چیز کا بیان فرمایا۔ جو حضور
کے زیادہ شفیق ہونے اور لوگوں کا زیادہ عظیم کرنے کا فائدہ دے اور وہ اس لئے کہ جس نبی کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ وہ اپنی امت پر بڑا شفیق اور اپنی امت کے لئے بہت ہدایت اور عطا کرنے والا ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اس بیٹے کے باپ کی طرح ہے۔ جس بیٹے کا سوا اس باپ کے اور کوئی نہ ہو اور اللہ کا قول ( وكان الله بكل شئ علیها) یعنی اس کا علم ہر شے سے وابستہ ہے اور اس کے علم میں داخل ہے یہ کہ حضورﷺکے بعد کوئی نبی نہیں۔
دوسرا شبہ بھی پہلے شبہ کے ساتھ ہی ساتھ دور ہو گیا۔ اور وہ یوں کہ پہلے جملہ میں ابوق جسمانی کی نفی ہے اور دوسرے جملہ میں ( ولکن رسول اللہ ) سے حضورﷺکا اپنی ساری امت کا روحانی باپ ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ لہذا ساری امت آپ کی روحانی اولاد ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے (وخاتم النبیین) فرما کر حضور ﷺ کی روحانی اولاد کی اکثریت بیان فرمادی۔ اور وہ ایسے کہ حضور ﷺ کے بعد جب کوئی دوسرا نبی نہیں تو قیامت تک کے لئے آپ ہی نبی ہوئے ۔
لہذا قیامت تک جو بھی پیدا ہو گا ۔ وہ آپ ہی کا امتی ہو گا۔ اسی لئے حضور
نے فرمایا۔ انا اكثر الانبياء تبعا يوم القيمة ( مشکوۃ ) بایں طور حضور
کی روحانی اولاد کی اکثریت ثابت ہوئی اور کفار کی اس بکواس کی کہ (نعوذ باللہ ) آپ ابتر ہیں۔ تردید ہو گئی۔
تیسرا شبہ یوں رفع ہوا کہ پہلے جملہ میں ابوہ جسمانیہ کی نفی فرمائی گئی اور دوسرے جملہ میں بتایا گیا ہے کہ آپ خاتم النبین ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ ا یک کسی مرد کے باپ اس لئے نہیں کہ وہ خاتم النبیین ہیں۔ برخلاف انبیاء سابقہ کے کہ ان میں سے کوئی خاتم النبيين نہ تھا۔ اگر آپ کو کسی مرد کا باپ بنایا جاتا اور وہ نبی نہ ہوتا تو کہا جاتا کہ نبی کا بیٹا نبی نہ ہوا۔ اور نبی بھی وہ نبی جو سید الانبیاء ہیں۔ حالانکہ پہلے نبیوں کے بیٹے نبی ہوتے آئے ۔ اگر وہ نبی ہوتا تو آپ کے خاتم النبیین ہونے میں فرق آتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی مرد کا باپ بنایا ہی نہیں اور اسی لئے حضورﷺکے صاحبزادوں کو بچپن میں ہی عالم فانی سے بلا لیا۔ اور انہیں مبلغ رجال تک پہنچنے ہی نہ دیا۔ تفسیر جلالین ص ۳۵۳ پر اس آیت کے تحت لکھا ہے:
فلا يكون له ابن رجل بعده يكون نبيا کہ آپ کا کوئی ایسا بیٹا جو مبلغ رجال تک پہنچ چکا ہو نہ ہوا۔ جو آپ ﷺ کے بعد نبی ہو۔
حضرت ابن عباس
جو عالم قرآن ہیں اور جن کے حق میں اللہ کے رسول نے اللہ سے دعا فرمائی۔ جسے خود حضرت ابن عباس ﷺروایت فرماتے ہے کہ ضَمَّني النبي صلى الله عليه وسلم اليه وقال اللهم عليه الكِتاب ( بخاری ) کہ حضور
نے مجھے اپنے ساتھ لگا کر دعا فرمائی کہ اے اللہ اسے قرآن سکھلا دے۔
یہی ابن عباس فرماتے ہیں:
يُرِيدُ لَوْ لَمْ اَخْتَمْ بِهِ النبيِّينَ لَجَعَلْتُ لَهُ ابْنَاء يَكُونُ بَعْدَهُ نَبِيًّا وَعَنْهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَكَمَ أَنَّ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ لَمْ يُعطهُ وَلَدًا ذَكرً ا يصِيرُ رَجَلًا.7
ترجمہ: فرماتے ہیں کہ اللہ اس آیت میں یہ ارادہ فرماتا ہے کہ اگر میں حضورﷺ کے وجود باوجود سے سلسلہ نبوت ختم نہ کرتا۔ تو آپ کو بیٹا دیتا۔ جو آپ کے بعد نبی ہوتا اور جب اللہ نے یہ فرمادیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ اس لئے آپ کو ایسا بیٹاہی نہیں دیا جو مبلغ رجال تک پہنچ جاتا۔
علامہ اسمعیل حقی
روح البیان جلد ۷ ص ۷۹ میں بحوالہ مفردات فرماتے ہیں:
فَلَوْ كَانَ لَهُ اِبْن بَالِغ لَكَانَ نَبِيًّا وَلَمْ يَكُنْ هُوَ عَلَيْهِ السَّلَامِ خَاتَمَ النبيين كَمَا يُروى أَنَّهُ قَالَ فِي ابْنِهِ إِبْرَاهِيم ( لو عَاشِ لَكَانَ نَبِيًّا )[footوَذَلِكَ لان أولاد الرسُل كَانُوا يَرثُونَ النبوة قَبْلَه من آباءِ هِمْ وَكَانَ ذَلِكَ مِنْ امْتَنَانِ اللهِ عَلَيْهِمْ فَكَانَتْ عُلَمَاءُ أُمَّتِهِ وَرَثَتَهُ
مِنْ جِهَةِ الْوَلَايَةِ وَالْقَطَعِ ارْتَ النَّبُوَّةِ بِخَتُمِيتِهِ] ترجمہ: فرمایا۔ اگر حضورﷺ کا بیٹا جو حد بلوغ تک پہنچ چکا ہوتا۔ تو وہ نبی ہوتا تو پھر حضور ﷺ خاتم النبین نہ ٹھہرتے۔ جیسے کہ حضور علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم
کے حق میں فرمایا۔ اگر وہ زندہ رہتے تو نبی ہوتے اور یہ اس لئے فرمایا کہ حضور
سے پہلے رسولوں کی اولاد کو اپنے باپ سے نبوت وراثت میں ملتی تھی اور یہ ان پر اللہ کا احسان تھا۔ اور اب حضور
کے خاتم النبین ہونے کی وجہ سے وراثت نبوت تو منقطع ہو چکی ہاں حضور ﷺکی امت کے علماء وارث ولایت ہیں ۔
اب میں ناظرین کی خدمت میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔ جن میں آقائے نامدار احمد مختار علیہ الصلوٰۃ والسلامفرمارہے ہیں کہ نبوت مجھ پر ختم ہو چکی۔ اب میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہ
اب میں ناظرین کی خدمت میں چند احادیث پیش کرتا ہوں۔ جن میں آقائے نامدار احمد مختار علیہ الصلوٰۃ والسلامفرمارہے ہیں کہ نبوت مجھ پر ختم ہو چکی۔ اب میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہ
مسلم شریف کتاب الفضائل میں ہے۔ جبیر بن مطعم بنی امیہ
راوی کہ حضور
نے فرمایا:
إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ أَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ وَانَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحَشَرَ النَّاسُ عَلَى قَدْ مِنْ وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبی9
فرمایا: میرے لئے متعدد نام ہیں۔ میں محمد ہوں ۔ میں احمد ہوں۔ میں ماحی ہوں کہ اللہ مجھ سے کفر مٹاتا ہے۔ میں حاشر ہوں کہ بروز قیامت لوگوں کا حشر میرے قدموں پر ہوگا۔ اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے۔ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔انتھی
حضور ﷺنے خود عا تحب کی تفسیر فرمادی کہ عاقب وہ ہے۔ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ علامہ نووی
اسی حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
اما العَاقِبُ فَفَسَّرَهُ فِي الحَدِيثِ بِأَنَّهُ لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ ايَ جَاءَ عَقْبَهُمْ ترجمہ: یعنی عاقب کی حضور
نے حدیث میں خود تفسیر فرمادی کہ عاقب اسے کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ یعنی حضور
سب سے پیچھے تشریف لائے ۔
شیخ سلیمان جمل شافعی
محشی جلالین عاقب کا معنی کرتے ہیں ( العاقب) وَمَعْنَاهُ الآتِي بَعْدَ الأنبياء فَلَا نَبِي بَعدَهُ10 یعنی عاقب وہ ہے۔ جو سب نبیوں کے بعد آوے۔ پس حضور
کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ اس لئے کہ عاقب بمعنی آخر ہے۔
یہ حدیث مشکوۃ شریف میں بھی ہے۔ اس کی شرح لمعات میں لکھا ہے کہ عاقب آخر الانبیاء کے معنی میں ہے۔ منبتی الارب والے بھی عاقب کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَمِنْهُ قَولُ النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا الْعَاقِبُ يَعْنِي آخِرُ الْأَنبِيَاء
اسی سے ہے حضور
کا ارشاد کہ میں عاقب ہوں ۔ یعنی سب نبیوں سے پچھلا ہوں۔“ شیخ عبد الحق محدث دہلوی
مدارج النبوت ج اص ۱۴۷ پر فرماتے ہیں:
عاقب پس آئندہ یعنی خاتم الانبیاءاشعتہ اللمعات میں بھی اس کا معنی یہی لکھا ہے۔ دیکھئے (ص ۳۵۷)
مسلم شریف کتاب الفضائل میں ہے۔ ابومو سے اشعری
روایت کرتے ہیں کہ حضور
نے فرمایا۔
أَنَا مُحَمَّدٌ وَاحْمَدُ وَالْمُقَفِّى وَالحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ فرمایا: میں محمد ہوں ۔ احمد ہوں ۔ آخری نبی ہوں حاشر ہوں ۔ تو بہ کا نبی اور رحمت کا بنی ہوں ۔ 11
علامہ نووی
اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
أَمَّا المَقَفِي فَقَالَ شَرٌ هُوَ بِمَعْنِي الْعَاقِب یعنی معنی عاقب کے معنی ہیں۔ شیخ عبدالرؤف مناوی
شرح کبیر میں مقفی کا معنی لکھتے ہیں:
( المقفى ) بِشِدَّةِ الْفَاءِ وَكَسْرِهَا لَأَنَّهُ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ عَقْبَ الأَنْبِيَاءِ وَفِي قَفَاهم ( نقله النبہانی [symbol فی جواہر البحار] ج اص:۵۲) فرمایا کہ حضور
مقفی ہیں۔ اس لئے کہ آپ سب نبیوں کے بعد اور پیچھے تشریف لائے ۔“ علامہ ملا علی قاری
بھی مفتی کا معنی آخر الانبیاء لکھتے ہیں ( دیکھو مرقاۃ ص ۳۷۶ جلد ۵)
اشعۃ اللمعات ص ۵۰۴ ، جلد ۴ پر بھی مقفی کا معنی آخر انبیا ء خاتم ایشاں لکھا ہے۔
علامہ قسطلانی بھی متقی کا معنی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :وَكَانَ خَاتِمَهُمْ وَاخِرَهُمْ12یعنی حضور
نبیوں کو ختم کرنے والے اور آخر انبیاء ہیں۔
مسلم شریف اور مشکوۃ میں حضرت ابو ہریرہ
راوی ۔ حضور
نے فرمایا :
فُصِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بست أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمِ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَةً وَخُتِمَ فِي النَّبِيُّونَ13
فرمایا مجھے نبیوں پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے۔ میں کلمات جامعہ دیا گیا ہوں ۔ رعب کے ساتھ منصور ہوں۔ مال غنیمت میرے لئے حلال کیا گیا۔ تمام روئے زمین میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی کر دی گئی۔ اور میں تمام جہان کے لئے رسول بنایا گیا اور میرے وجود با وجود سے نبیوں کو ختم کر دیا گیا۔
حضرت ملاعلی قاری
مرقاۃ میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں۔ ای وجود ہم فلا يحدث بعدی بنی۔ یعنی سب لکھتے ہیں ۔ ای وجود ہم فلا يحدث بعدی بنی ۔ یعنی سب نبیوں کے وجود کو ختم کر دیا گیا۔ اب بعد میں کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔
ترندی و بخاری اور مسلم نیز مشکوۃ شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔
مَثَلِي وَمَثَلُ الانبياء كَمَثَل قَصْرٍ مُحْسِنَ بُنْيَانَهُ تُركَ مِنْهُ مَوْضِع لبنة فَطَافَ بِهِ النَّظَارُ يَتَعَجَّبُونَ مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهِ إِلَّا مَوضِعَ تِلْكَ اللَّبْنَةِ فَكُنتُ أنَا سَدَدْتُ مَوْضع اللبنةِ خُتِمَ بي البيان وَخُتِمَ فِي الرِّسل وَفِي رِوَايَةٍ فَأَنَا اللَّبْنَةُ وَانَا خَاتِمُ النبيين14
یعنی میری مثال اور نبیوں کی مثال اس محل کی سی ہے۔ جس کی تعمیر بہت اچھی کی گئی ہو۔ اور ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو۔ دیکھنے والے اس کے ارد گرد پھرتے ہیں اور خوبی تعمیر سے متعجب ہوتے ہیں۔ مگر اس ایک اینٹ کی خالی جگہ سے۔ پس میں نے آکر وہ خالی جگہ بند کر دی۔ یہ کل مجھ سے پورا کیا گیا اور رسولوں کو مجھ سے ختم کیا گیا۔ میں عمارت نبوت کی وہ پچھلی اینٹ ہوں اور میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں ۔
بخاری شریف اور مسلم شریف میں ابو ہریرہ
سے حدیث شفاعت میں مروی ہے کہ عیسی
لوگوں کو کہیں گے کہ آج محمد ﷺکی طرف جاؤ۔ حضو ر
فرماتے ہیں۔ پھر لوگ میرے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے یا مُحَمَّد أَنْتَ رَسُولِ اللَّهِ وَخَاتِمُ الانبیاء 15(اے محمد ﷺآپ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں )
بخاری شریف اور مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ
سے مروی ہے کہ حضور
نے فرمایا :
كَانَتْ بَنُوا إِسْرَائِيلَ تَمُوْسُهُمُ الْأَنْبِيَاءِ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَأَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي 16
فرمایا بنی اسرائیل کے انبیاء کے انبیاء سیاست فرماتے تھے۔ جب ایک نبی تشریف لے جاتے تو دوسرا ان کے بعد آجاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
مشکوۃ شریف میں حضرت جابر سے مروی ہے۔ حضور
نے فرمایا:
أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخَرَ وَأَنَا خَاتِمُ النبيين وَلَا فَخَرَوَانَا أَوَّلُ شَافِعِ وَمُشَفَع وَلَا فَخَرَ17
میں پیشوا ہوں رسولوں کا اور اس میں کوئی فخر نہیں۔ میں ختم کرنے والا ہوں نبیوں کا اور اس میں کوئی فخر نہیں۔ میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں۔ اور پہلا شفاعت مانا گیا۔ اور اس میں کوئی فخر نہیں۔ انتھی ۔ اسے دارمی نے بھی روایت کیا ہے۔
عرباض ابن ساریہ
حضور ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا:
إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ مَكْتُوبٌ خَاتِمُ النبيين وَأَنَّ آدَمَ لَمُنْجِيلْ فِي طِينَتِهِ ترجمہ: بیشک میں اللہ کے ہاں اسوقت بھی نبیوں کا ختم کرنے والا لکھا ہوا تھا۔ جس وقت کہ آدم ابھی اپنی مٹی ہی میں تھے۔ 18
حضور
سے راوی کہ آپ نے فرمایا :}}وَأَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْامَم
اور میں سب نبیوں کا پچھلا نبی اور تم سب امتوں سے پچھلی امت ہو۔“اسے ابن ماجہ نے اپنے سخن میں باب فتنہ الد جان میں ص ۳۰۷ پر روایت کیا۔}}
عَنْ سَعْدِ ابْنِ أَبِي وَقَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِي أَنْتَ مِنِّي بِنْزَلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي “19
سعد ابن ابی وقاصفرماتے ہیں: کہ حضور
نے فرمایا (حضرت علی کو تجھے مجھ سے ایسی نسبت ہے جیسے ہارون کو موسی سے ۔ (
) مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
اس حدیث میں ذرا سے تامل کے ساتھ واضح ہو جاتا ہے کہ حضور
نے نبی غیر تشریعی کے بھی ختم ہو جانے کی اطلاع دے دی۔ اور وہ یوں کہ آپ نے حضرت علی
کو حضرت ہارون
کے ساتھ تشبیہہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور ہارون
نبی تشریعی نہ تھے بلکہ غیر تشریعی تھے۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت علی
کے نبی غیر تشریعی ہونے کی بھی حضور
نے نفی فرماتے ہوئے فرمایا کہ لا نبی بعدی ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ نہ تشریعی ، اور نہ ایسا جیسے ہارون
تھے یعنی غیر تشریعی ۔
مرزائیوں کا یہ کہنا کہلا نبی بعدیمیں لا نفی کمال کے لئے ہے۔ یعنی حضور
کے بعد کوئی کامل نبی نہیں۔ سراسر ایک لغو خیال ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ تم لوگ جو لا نبی بعدی میں خبر لا کامل نکالتے ہو ۔ کسی دلیل سے نکالتے ہو کیالا کی خبر ہمیشہ کامل ہی آیا کرتی ہے؟ اگر کہو کہ ہاں تو دلیل؟ اگر نہیں تو حماقت کا اقرار کرو۔ ہم مانتے ہیں کہ لا کی خبر کامل آسکتی ہے۔ مگر نہ یہ کہ ہر جگہ بلکہ موقعہ بموقعہ۔ جہاں بغیر اس کے نکالے ہوئے کلام صحیح نہ ہو سکے ۔ مثلاً حضور
کا ارشاد ہے : لا صَلوةِ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فَاقْرَاء وَامَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآن20 اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ تمہیں قرآن سے جو کچھ آسان ہو پڑھو اور حضور ﷺ یہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز نہیں جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے۔ قرآن کا تو یہ منشا ہے کہ جو جگہ آسان نظر آئے اسے پڑھ لو۔ چاہے سورہ فاتحہ ہو یا کوئی اور سورت مگر حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ ہی پڑھو اب یہاں قرآن وحدیث میں تطبیق دینے کے لئے ہم لا صلوة إِلَّا بِفَاتِحَةِ الكتاب۔ میں خبر لا کاملہ نکالیں گے۔
الاصلوة الا بفاتحة الكتاب جو سورة فاتحہ نہ پڑھے۔ اس کی نماز کامل(دیکھئے میں ۲۸ پر)نہیں۔ البتہ ہو جائے گی۔ یوں قرآن وحدیث میں تطبیق ہو جائے گی۔ مگر یہاں خبر لا کاملہ جو نکالی گئی۔
صرف اس لئے کہ قرآن میں اور اس حدیث میں تطبیق ہو جائے اور قرآن وحدیث دونوں پر عمل کر لیا جائے اور جہاں کسی قسم کی ضرورت نہ ہو۔ وہاں خبر لا کامل نکالنا جہالت کا بین ثبوت ہے۔ اس لئے کہ خبر لاجب محذوف ہو تو اس کی خبر امور عامہ سے ہوا کرتی ہے۔ ذرا نحو کی مشہور کتاب شرح جامی کھولو۔ اور بحث لائی جنس نکالو اور پڑھو کہ اس میں لکھا ہے:وَيُحْذَفُ خبر لا هذه حذفًا كَثِيرًا إِذَا كَانَ الخَبْرُ عَامًا كَا الْمَوجُودِ وَ الْحَاصِل21 یعنی لائٹی جنس کی خبر بہت حذف کی جاتی ہے۔ جب کہ وہ خبر امور عامہ میں سے ہو جیسے موجود و حاصل ۔
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جہاں بھی کہیں لا نفی جنس کی خبر محذوف ہو۔ وہ امور عامہ میں سے ہوگی ۔ جیسے موجود حاصل ثابت و کائن ہاں اگر قرینہ ہو اس امر کا کہ یہاں خبر لا امور عامہ میں سے نہیں ہو سکتی۔ تو وہاں ہم ان امور کے سوا کوئی دوسری خبر نکال سکتے ہیں۔ جیسے کہ لا صلوة کاملہ گذر چکا۔ کہ وہاں قرینه آيت فاقراء وا ما تيسر من القرآن ہے۔ اور جہاں کوئی قرینہ نہ ہو وہاں لا کی خبر امور عامہ سے ہوگی جیسے کہ شرح جامی والے نے بھی لکھا ہے کہ کلمہ طیبہ لا الهَ اِلَّا اللہ میں بھی یہی لا ہے۔ یہاں اس کی خبر موجود ہے یعنی لا الله موجود إِلَّا الله ( مرزائیو! کیا تم یہاں بھی لا کی خبر کامل ہی نکالو گے کہ لا الهَ كَامِلٌ إِلَّا الله اگر یونہی ہے تو معلوم ہوا کہ تمہارے بہت سے خدا ہیں۔ ایک تو کامل ہے۔ اور سب ناقص ہیں ۔ مگر اس کامل خدا کے سوا اوروں کو بھی اپنا معبود جانتے ہو۔ اس لئے کہ یہاں نفی 22 کمال ہے۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی کامل معبود نہیں ہاں ناقص ہیں، اور وجود کی نفی سے نفی شے ہو جاتی ہے۔ جیسے کہ کہا جائے لَا رَجُل في الدار ، اور خبر اس کی موجود نکالی جائے ۔ یعنی لَا رَجُلَ مَوْجُودٌ في الدار کوئی مرد حویلی میں موجود نہیں تو یہاں نفی اگر چہ وجود کی ہے۔ مگر اس کی نفی سے نفی رجل یقینا ہورہی ہے۔ شرح جامی ص ۸۶ حاشیہ ص ۶ پر لکھا ہے:
لارجل بتقدير لا رجل موجود لنفى نفس الرجل لا لنفى صفته والوجود ان كان صفته لكن اذا نفى عن الشيى يقال نفى الشي ولا يقال نفى صفته الشي اذانفي الشي ليس الا نفى وجوده ففي الصفة صار بمعنى نفى غير الوجود فكما يكون لنفي صفة الجنس يكون لنفى الجنس الخ
یعنی لا رجل بتقدير لا رجلموجود میں نفی ذات رجل کی ہے نہ یہ کہ اس کی صفت کی اور وجود اگر چہ اس کی صفت ہے لیکن جب کسی شے سے وجود کی نفی کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس شے کی نفی کی گئی۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ صفت شئے کی نفی کی گئی۔ اس لئے کہ نفی شے تھی وجود شے ہی ہوا کرتی ہے اور تھی صفت شے میں نفی غیر الوجود ہوتی ہے۔ پس لا جیسے نفی صفت جنس کے لئے ہے ایسے ہی نفی ذات جنس کیلئے ہے۔ انتھی
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جہاں خبر لا موجود ہوگی۔ وہاں اس شے کی ذات کی نفی ہوگی۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ لافی صفت کے لئے ہی نہیں آتا ۔ بلکہ یہ ینی ذات جنس کے لئے بھی آتا ہے۔ مرزائیوں کا نفی کمال کو لئے پھرنا جہالت کی نشانی ہے۔
اس کے بعد اب ہم حضور
کے ارشاد لا نبی بعدی میں غور کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہاں خبر لا محذوف ہے اور شرح جامی کی عبارت بتا چکی ہے کہ جہاں لاکی خبر محذوف ہو۔ وہاں اس کی خبر امور عامہ میں سے ہوتی ہے۔ لہذا ہم لا نبی بعدی میں خبر موجود نکالیں گے ۔ کہ لانبی موجود بعدی اور شرح جامی کے حاشیہ سے یہ پتہ چلا۔ کہ نفی وجود مستلزم نفی شے ہے۔ تو اب حدیث کا مطلب صاف ہے۔ کہ حضور
کے اس فرمان کا یہ معنی ہے کہ میرے بعد کسی نبی کا وجود ہی نہیں ۔ نبوت قیامت تک کے لئے مسدود ہے۔ کوئی نبی میرے بعد پیدا نہ ہوگا۔ ہاں مرزائیوں کے پاس اگر کوئی ایسا قرینہ موجود ہے۔ جو یہاں موجود خبر نکالنے سے روکے اور کامل نکالنے کا مقتضی ہو ۔ اگر کوئی ایسی آیت ہو۔ جو اس حدیث سے ٹکرائے اور اس مجبوری سے تطبیق کے لئے خبر لا کامل نکالنی پڑ جائے تو پیش کریں کہ اللہ تو فرماتا ہے کہ حضور
کے بعد نبی آتے رہیں گے اور حضور
کا فرمان اس آیت سے ٹکراتا ہے لہذا تطبیق کے لئے لا نبی بعدی میں خبر کامل نکالنی پڑے گی۔ مگر مرزائیو! تم ایسی آیت اور ایسا قرینہ کیسے دکھا : نہ کیسے دکھا سکتے ہو؟ جب کہ قرآن خود فرما رہا ہو۔ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین یعنے دنیا کو علی الاعلان سنارہا ہو کہ محمد مصطفی ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہے اور جبکہ حضور
خود فرمارہے ہوں ۔ كَانَتْ بَنُوا إِسْرَائِيلَ تَسُوْسُهُمُ الْأَنْبِيَاءَ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي (مسلم شریف کتاب الامارة عن ابی ہریرہ )
ترجمہ: بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء فرماتے تھے جب ایک نبی تشریف لے جاتے ۔ تو دوسرا ان کے بعد آجاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اور ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی طرف جو انبیاء حضرت موسیٰ
کے دین پر اور ان کی شریعت کے متبع آتے رہے۔ وہ غیر تشریعی تھے اور حضور
نے انہیں کا ذکر فرما کر فرمایا۔ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ آپ کا فرمان ز بر دست موید ہے اس امر کا کہ لانبی کی خبر موجود ہو اور جبکہ حضور
نے صاف فرما دیا ہو إِنَّ الرَّسَالَةَ وَالنَّبُوَّةِ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبي23 ترجمہ: بیشک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی ہے ۔ انتھی
ذرا غور تو کرو کہ حضور
رسالت اور نبوت دونوں کا نام لے کر ارشاد فرمارہے ہیں کہ میرے بعد نہ کوئی رسول (یعنی نبی تشریعی ) ہے اور نہ کوئی نبی (یعنی نبی غیر تشریعی ) ہے تو کیا یہاں بھی ولا نبی میں خبر لا کامل نکالو گے۔ جبکہ حضور
نے فلا رسول بھی پہلے فرمادیا ہے۔ فتدبروا
(حاشیہ)بقيہ نوٹ ص ۲۷ ان الاصلوا الابفاتحة الکتاب میں لفظ صلوۃ صیغہ انی میں آنے کے باعث عام ہے اور عام محمل تخصیص ہوتا ہے۔ لہذا قر آن مجید کی آیت ہے اذا قری القرآن فاستمعوا لاب سے صلوٰۃ مقتدی مخصوص ہے اور حدیث مذکور امام و منفر دو مسبوق وغیرہ کے لئے ہے ۱۳ بشیر
(حاشیہ)ہاں مرزائیوا جیسے لا نبی بعدی میں کامل خبر نکال کر مرزا جی کو نبی بنالیا ہے۔ ایسے ہی لا اله الا اللہ میں اعلان کر دو کہ خبر لا کامل ہے۔ یعنی معبود کامل اللہ کے سوا کوئی نہیں البتہ معبود ناقص ہے۔ لہذا ہمارے مرزا صاحب ہمارے معبود اور خدا ہیں ۔ یعنی ظلی خدا اور بروزی خدا اور تم تو اعلان کرتے ہی رہو گے ۔ مرزا جی اپنی خدائی کا اعلان کر بھی چکے بلکہ اللہ کے وہ تو فرزندار جمند بھی نعوذ باللہبن چکے ۔ کیا تمہیں مرزا کے ان دعاوی کی طرف خیال نہیں۔ (بشیر )
ایک تحریف فرقہ مرزائیہ کی یہ ہے کہ ولكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن میں نبیین کو تشریعی نبیوں پر محمول کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ نبین سے مراد خاص نبی ہیں۔ نبی وہ نبی مراد ہیں جو تشریعی ہیں۔ مگر یہ کہنا بھی ان کا بے دلیل اور منگھڑت قول ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ مرزا جی کی خود ساختہ نبوت پر یہ لوگ جتنے دلائل پیش کرتے ہیں۔ وہ سب کے سب اس قسم کے ہوتے ہیں ۔ کہ جن کی اصل نہ قرآن میں ملے نہ احادیث شریفہ اور نہ کسی تفسیر اور کتب سلف میں ملے ۔ سب کے سب ان کے خود ایجاد کردہ اور تار عنکبوت سے زیادہ وقعت نہ رکھنے والے ہوتے ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ خاتم النبین میں محض مرزا جی کی نبوت ثابت کرنے کے لئے یہ تحریف کی جاتی ہے کہ مبین سے خاص انبیاء یعنی نبی تشریعی مراد ہیں۔ اب ان بھلے مانسوں سے کوئی پوچھے کہ اجی تم جو نبین کو مخصوص کر رہے ہو کیا تمہارے پاس کوئی مخصص ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے کہیں دوسری آیت میں یہ فرمایا ہے۔ یا کسی حدیث میں آیا ہے۔ یا کسی مفسر نے یہ بتایا ہے یا کسی سلف کی کتاب میں بایا جاتا ہے یا ویسے ہی اڑایا ہے۔
حضرات ناظرین! یہ آپ کو ہرگز ہرگز اس مردود قول کی اصل کسی کتاب سے نہ دکھا سکیں گے۔ اللہ عزوجل کا اگر یہی مقصود ہوتا کہ حضور
ان انبیاء کے خاتم ہیں جو تشریعی نبی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ یوں فرماتا۔ولكن رسول الله وخاتم المرسلين اس لئے کہ رسول خاص ہے اور نبی عام رسول صرف تشریعی نبی کو کہتے ہیں اور نبی کا اطلاق تشریعی نبی اور غیر تشریعی نبی دونوں پر آتا ہے ۔ اور جب حضور
کا ان نبیوں کا خاتم ہونا بیان کرنا مقصود تھا۔ جو تشریعی ہیں تو پھر خاتم المرسلین ہی کہنا موزوں تھا۔
دیگر ولکن رسول اللہ ﷺمیں اللہ کا لفظ رسول فرمانا اور بعد اس کے رسول سے عدول فرما کر د خاتم النبین میں لفظ نبی کالانا۔ اس امر کی بین دلیل ہے۔ کہ اللہ نے اس آیت میں ہمیں یہی بتایا ہے کہ آپ ہر قسم کے نبی کے خاتم ہیں۔ چنانچہ حضور
ایک حدیث میں ارشاد فرماتے ہیں:
أنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخَرَوَانَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخَرَ ( كما مر )24 ترجمہ: میں پیشوا ہوں رسولوں کا اور اس میں کوئی فخر نہیں۔ اور میں ختم کرنے والا ہوں نبیوں کا اور اس میں کوئی فخر نہیں ۔
اس حدیث میں بھی نظر عمیق سے پتہ چلتا ہے کہ حضور
نے فرمادیا کہ میں ہر قسم کے نبی کا خاتم ہوں ۔ اس لئے کہ حضور ﷺ نے پہلے جملہ میں فرمایا۔ انا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ یہاں تو حضور
نے مرسلین فرمایا جو خاص ہے نبین سے اور دوسرے جملہ میں فرمایا۔ انا خاتم النبیین اور یہاں آپ نے نبیین فرمایا جو عام ہے مرسلین سے اور یہ ترتیب حضور
نے کیوں اختیار فرمائی ؟ اس کا جواب حضرت ملا علی قاری
سے سنیئے ! آپ مرقاۃ شرح مشکوۃ میں اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں۔
عَدَلَ عَنِ الْمُرْسَلِينَ إِلَى النَّبِيِّينَ لَا نَّهُمْ أَعَمُّ فَتَكُونُ نِسْبَةُ الْخَاتِيَّة أَتَمَّ25 ترجمہ: حضور
نے مرسلین سے عدول فرما کر مبین فرمایا۔ اس لئے کہ نبین عام ہے۔ پس خاتمیت کی نسبت ہر قسم کے نبی کی طرف ہو گئی۔
چونکہ حضور اقدس ﷺ کو معلوم تھا۔ کہ میرے بعد دجال آنے والے ہیں۔ جو طرح طرح کی تاویلیں کر کے نبی بننا چاہیں گے لہذا حضور
نے بجائے مرسلین کے جو پہلے جملہ میں فرمایا دوسرے جملہ میں نہین فرمایا۔ تا کہ نبین کے عموم سے ہر قسم کی نبوت کا اختتام ظاہر ہو جائے۔ حضرت علامہ اسمعیل حقی
نے تو اس امر کو بالکل واضح فرما دیا بغیر کسی پہلے نبی کے اتباع کے احکام شرعیہ لائے ۔ جیسے موسیٰ
اور عیسیٰ
اور حضور
اور غیر تشریعی نبی وہ ہے جو اپنے کا جو اپنے پہلے نبی کی شریعت کا متبع ہو۔ جیسے انبیاء بنی اسرائیل۔
علامہ عبد العزیز دیرینی
طہارة القلوب بر حاشیہ نزہتہ المجالس پر فرماتے ہیں:
وَخُتِمَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ بِسَيِّدِ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ مُحَمَّدٍ خَاتِمَ النَّبِيِّينَ ترجمہ: اور ختم کر دیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبیوں کو ( جو غیر تشریعی ہیں ) اور رسولوں کو ( جو تشریعی ہیں ) سید الاولین والآخرین محمد خاتم النبیین کے وجود با وجود کے ساتھ ۔“ حضرات ان عبارات سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ ہرقسم کے نبی کے خاتم ہیں۔ علامہ اسمعیل حقی
اور خصوص کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث لا نبی بعدی میں خبر لا کامل نہیں ہے۔ بلکہ موجود ہے اور لانبی کا معنی یہ نہیں کہ میرے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ میرے بعد نہ تشریعی نبی ہے اور نہ غیر تشریعی. فند بروا
اور علامہ عبد العزیز دیرینی
کی عبارت سے یہ معلوم ہوا کہ خاتم النبیین کا وہ معنی نہیں جو مرزائی کرتے ہیں کہ نبین سے مراد نبی تشریعی ہیں۔ بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ حضور
ہر قسم کے نبیوں کے خاتم ہیں۔ آپ کے بعد نہ کوئی تشریعی نبی ہے اور نہ کوئی غیر تشریعی - فند بروا
علامہ ابن کثیر
کا فتویٰ
علامہ ابن کثیر
اپنی تفسیر ابن کثیر جلد ۸ ص ۸۹ میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:
هَذِهِ الْآيَةُ نَصُّ فِي أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ وَإِذَا كَانَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَلَا رَسُولَ بِالطَّرِيقَ الْأَولَى وَالْأَحْرَى لِأَنَّ مَقَامَ الرِّسَالَةِ أَخَصُّ مِنْ مَقَامِ النُّبُوَّةِ فَإِنَّ كُلَّ رَسُول نَبِيٌّ وَلَا يَنْعَكِسُ وَبِذَالِكَ وَرَدَتِ الْأَحَادِيثُ الْمُتَوَاتِرَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَدِيثٍ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَمِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى بِالْعِبَادِ ارسَالُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ثُمَّ مِنْ تَشْرِيفِهِ لَهُ خَتْمُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ بِهِ وَالْمَالُ الدِّينِ الْحَنِيفِ لَهُ وَقَدْ أَخْبَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّنَّةِ الْمُتَوَاتِرَةِ عَنْ إِنَّهُ لَانَبِيَّ بَعْدَهُ لَيَعْلَمُوا أَنَّ كُلَّ مَن ادَّعَى هَذَا الْمَقَامَ بَعْدَهُ فَهُوَ كَذَّابٌ آفَاكَ دَجَّالٌ ضَالٌ مُّضِلٌ
اس عبارت کو علامہ اسمعیل حقی
نے بھی نقل فرمایا ہے) دیکھو ( روح البیان ج ۷ ص ۱۸۷)
ترجمہ: یہ آیت نص ہے۔ اس بارے میں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور جب آپ کے بعد نبی نہیں تو رسول بطریق اولئ واخری نہیں اس لئے کہ مقام رسالت مقام نبوت سے خاص ہے۔ ہر رسول نبی ہے اور ہر نبی رسول نہیں اور جماعت صحابہ ضیا سے احادیث متواترہ اس بارے میں وارد ہوئی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بندوں پر حضور
کا ان کی طرف بھیجنا ہے۔ پھر اللہ کا مشرف فرمانا ہے۔ حضور ﷺکو آپ کے وجود با وجود سے انبیاء اور مرسلین کو ختم کر دینے سے اور دین حنیف کو آپ کے لئے پورا کر دینے ہے۔ اور تحقیق اللہ نے قرآن میں اور حضور ﷺ نے احادیث متواترہ میں خبر دے دی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تا کہ لوگ جان لیں کہ ہر وہ خص شخص جو جو حضور
کے بعد نبوت کا دعوے کرے وہ کذاب ہے۔ بہت مفتری ہے۔ دجال ہے۔ گمراہ ہے۔ گمراہ کرنے والا ہے۔
اس عبارت سے ہمیں چند فوائد حاصل ہوتے ہیں:
تو يہ كہ ولكن رسول الله وخاتم النبین میں نہین ہے بقول فرقہ مرزائیہ مخصوص نبی یعنے تشریعی نبی مراد نہیں۔ بلکہ تشریعی نبی اور غیر تشریعی بوجہ عمومیت لفظ نبی دونوں مراد ہیں۔ اور یہ فائدہ علامہ موصوف کے اس جملہ سے حاصل ہوا کہ إِذَا كَانَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَلَا رَسُولَ بِالطَّرِيقِ الأُولَى وَالا اخرى کہ جب آپ کے بعد نبی نہیں تو رسول بطریق اولی داخری نہیں ۔ اس لئے کہ مقام رسالت مقام نبوت سے خاص ہے الخ تو معلوم ہوا کہ علامہ موصوف
یہ بتارہے ہیں کہ نبین سے مراد بالعموم نبی مراد ہیں۔ نہ یہ کہ مخصوص نبی یعنی تشریعی ۔ اس لئے کہ وہ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَلَا رَسُولَ سے نبی اور رسول دونوں کی نفی کر رہے ہیں۔
یہ کہ لانبی بعدی میں خبر لا کامل نہیں اور یہ فائدہ بھی اسی عبارت سے حاصل ہوا کہ علامہ مذکور نے فرمایا إِذَا كَانَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَلَا رَسُولَ بالطَّرِيق الأولى اب إِذَا كَانَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُمیں اگر خبر لا کامل نکالی جائے تو ان کا فَلَا رَسُولَ بِالطَّرِيقِ الأولى والأخری کہنا لغو۔ اور آگے ان کا یہ دلیل فرمانا کہ لان مقام الرساله اخص من مقام النبوةبیکار ثابت ہوگا۔
علامہ مذکور
کا یہ ارشاد ثُمَّ مِنْ تَشْرِيفِهِ لَهُ خَتُمُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ بہ اس امر کی وضاحت کر رہا ہے کہ حضور
کے وجود با وجود سے نبی تشریعی اور غیر تشریعی دونوں ختم کر دیئے گئے ۔ اس لئے کہ علامہ مذکور نے لفظ انبیا پر ہی اکتفا نہیں کیا کہ فرقہ مرزائیہ کو یہاں بھی اپنا داؤ چلانے کا موقعہ مل جائے ۔ کہ انبیاء سے مراد نبی تشریعی ہیں بلکہ علامہ مذکور نے انبیاء کے بعد لفظ مرسلین فرما کر جتلا دیا کہ انبیاء سے میری مراد نبی غیر تشریعی ہیں۔ تشریعی نہیں تشریعی نبی مرسلین سے مراد ہیں۔
ہمیں یہ حاصل ہوا کہ حضور
کے بعد مدعی نبوت چاہے وہ کسی قسم کی نبوت کا دعوی کرے کا فر ہے۔ گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ مفتری اور دجال ہے۔ اور یہ علامہ مذکور کی اس عبارت سے معلوم ہوا۔ لِيَعْلَمُوا أَنَّ كُلَّ مَنِ ادَّعَى هُذَ الْمَقَامَ بَعْدَهُ فَهُوَ كَذَّابٌ أَفَاكَ دَجَّالٌ صَا لٌ مُضِلَّ یعنی تا کہ لوگ جان میں حضور
کے بعد جو کوئی نبوت کا دعوی کرے وہ کذاب ہے۔ بہت مفتری ہے اور دجال ہے۔ گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔
چونکہ علامہ موصوف پہلے یہ فرما آتے ہیں کہافاکان لا نبي بعده فلا رسول الخر اور ثم من تشريفه ( ختم الانبياء والمرسلین ) اور ان سے ہر قسم کی نبوت کا اختتام ظاہر ہو رہا ہے جیسے کہ فائدہ اول اور ثالث میں گذرا۔ لہذا ان کا یہ فتوے ہر قسم کے مدعی نبوت پر صادر ہوگا۔ چاہے کوئی تشریعی نبی ہے، چاہے غیر تشریعی اور ظلی بروزی، وہ بہر صورت کا فرود جال ہے۔
روح البیان ص ۱۸۸ ج 7سے میں بحر الکلام کے حوالے سے )
علامہ اسمعیل حقی حضور
کے بعد مدعی نبوت کو کافر لکھتے ہیں:
قَالَ أَهْلُ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ لَانَبِيَّ بَعْدَ نَبِيِّنَا لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنِ وَقَوْلَهُ عَلَيْهِ السَّلَامِ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَمَنْ قَالَ بَعْدَ نَبِيِّنَا نَبِي يَكْفُرُ لِأَنَّهُ أَنْكَرَ النَّصَّ وَكَذَالِكَ لَوشَكَ فِيهِ لِأَنَّ الْحُجَّةَ تَبَيَّنَ الْحَقِّ مِنَ الْبَاطِلِ وَمَنِ ادَّعَى النَّبُوَّةَ بَعْدَمَوْتِ مُحَمَّدٍ وَلَا يَكُونُ دَعْوَاهُ إِلَّا بَاطِلًا.
ترجمہ: اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اس لئے کہ اللہ نے فرما دیا ولكن رسول الله وَخَاتِم النبیین اور حضور ﷺنے فرمادیا ۔ لانبی بعدی اور جس نے ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبی مانا وہ کافر ہو جائے گا۔ اس لئے کہ اس نے نص کا انکار کیا۔ ایسے ہی اگر کسی نے اس میں شک کیا وہ بھی کافر ہے۔ اس لئے کہ دلیل نے حق کو باطل سے ظاہر واضح کر دیا ہے اور جس نے حضور اقدس ﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کیا اس کا دعوی باطل ہوگا۔
یہ صاف دلیل ہے اس امر کی کے حضورﷺ ہر قسم کے نبی کے خاتم ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس مرزائیوں پر کہ محض حضرت قادیانی کی خود ساختہ نبوت کے لئے وہ ایک واضح امر کو چھپا کر مخلوق اللہ کو گمراہ کرتے ہیں اور اپنی طرف سے طرح طرح کی بے اصل تاویلیں کر کر کے نامہ اعمال سیاہ کرتے ہیں۔
کا ارشاد ختم نبوت پر اجماع منعقد ہےعلامه سید مرتضی زبیدی
امام غزالی
کے اس قول کی شرح میں (وَنَعْتَقِدُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى خَاتِمًا لِلنَّبِيِّينَ) فرماتے ہیں:
وَهُذَا مِمَّا أَجْمَعَ عَلَيْهِ أَهْلُ السُّنَّةِ وَثَبَتَ بِالكِتَابَ وَالسُّنَّةِ فَالكِتابُ قَوْلَهُ وَلكن رسول الله وخاتم النبيين والسنة فَمَارُوتَ وَ إِنِّي لَخَاتَمَ النَّبَيِّنِ وَادَمُ مُنْجَدَلْ بَيْنَ الْمَاءِ والطين ( الى ان قال ) وَيُرْوَى أَيْضًا لَا نَبِيَّ بَعْدِي فَقَدْ جَاءَ حَدِيثُ الْخَتْم مِنْ طُرُق كَثِيرَةٍ بِالْفَاظِ مُخْتَلِفَةٍ. وَالْإِجْمَاعُ فَقَدِ اتَّفَقَتِ الْامَّةُ عَلَى ذَلِكَ وَعَلَى تَكْفِيرِ مَن أَدْعَى النَّبُوَّةَ بَعْدَهُ26
ترجمہ: حضور ﷺ کا نبیوں کا ختم کر دینے والا ہونا اہل سنت کے اجماع سے ثابت ہے اور قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ قرآن میں تو اللہ تعالی کا فرمانا ولكن رسول الله وخاتم النبيين اور حدیث یوں مروی ہے کہ اِنِّی لَخَاتَمُ النبيين وَآدَمُ مُنْجَدَلْ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِينِ بنے تحقیق میں خاتم النبیین تھا۔ دراں حالیکہ آدم
پانی اور مٹی میں تھے۔ اور یہ یہ بھی آیا ہے کہ لابنی بعدیاور تحقیق ختم نبوت کی حدیثیں بہت اور : طرح سے الفاظ مختلفہ کے ساتھ آئی ہیں اور اجماع ۔ پس امت نے ختم نبوت پر اتفاق کیا ہے اور حضور ﷺکے بعد نبوت کے دعوی کرنے والے کو سب بالا تفاق کافر کہتے ہیں۔ انتہی
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ سب کا ختم نبوت پر اجماع ہے۔ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ یہی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں اور جو حضور ﷺکے بعد نبوت کا دعوی کرے وہ یقینا کافر ہے۔
کا فتویحضرت ملا علی قاری
شرح فقہ اکبرص ۱۵۰ میں حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والے کو کافر لکھتے ہیں۔
فرمایا: وَدَعْوَى النَّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفْرٌ بِالْأَجْمَاعِ یعنی ہمارے نبی ﷺکے بعد نبوت کا دعوی کرنا بالا جماع کفر ہے۔
یعفور ایک خر تھا ۔ جو حضور ﷺ کی خدمت کرنے اور آپ کا غلام بننے کی تمنا رکھتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے اس کی یہ تمنا پوری کی ۔ ابن حبان اور ابن عساکر میں حضرت معاذ بن جبل
سے مروی ہے کہ خیبر کے فتح ہونے کے بعد آپ نے اس اس کو دیکھا اور اس سے فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے۔ عرض کی یزید بیٹا شہاب کا ۔ اللہ تعالی نے میرے دادا کی نسل سے ساٹھ خر پیدا کئے ۔ ان سب پر نبی سوار ہوتے آئے ۔ وَكُنْتُ أَتَوَقَعُكَ أَنْ تَرْكَبَنِي لَمْ يَبْقَ مِنْ نَسْلِ جَدِى غَيْرِى وَلَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ غَيْرَكَ، مجھے یہ توقع تھی کہ حضور مجھ پر سواری فرمائیں گے کہ میرے دادا کی نسل سے سوا میرے کوئی نہیں رہا۔ اور انبیا ء میں ہو آپ کے کوئی نہیں رہا۔ الخ ہوا
(حاشیہ)لے کر یا حمار گدھے کو کہتے ہیں۔
یہ حدیث طویل ہے۔ چنانچہ حضورﷺنے اس کا نام یعفور رکھا اور جسے بلانا چاہتے تھے اسے بھیج دیتے ۔ وہ چوکھٹ پر سر مار مار کر صاحب خانہ کو اشارے سے بتا دیتا کہ حضور
یا د فرماتے ہیں۔ اور حضور
کے انتقال کے بعد صدمہ فرقت سے ایک کو نہیں میں گر کر مر گیا۔ 27
اب ناظرین خود فیصلہ کرلیں کہ ایک حیوان ناحق تو یہ کہے کہ حضور ﷺ کے سوا اب کوئی نبی نہیں مگر ایک وہ ہیں جو انسانیت کا دعوی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد بھی آسکتا ہے اور مرزا صاحب نبی ہیں۔ اولئك كالانعام بل هم اضل
کا تشریف لانا محل ختم نبوت نہیں:رہا یہ امر کہ حضور
کے بعد جب حضرت عیسی
تشریف لائیں گے۔ تو ان کا تشریف لانا کیا منافی ختم نبوت نہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ عیسیٰ
جب تشریف لائیں گے تو وہ حضور ﷺکی ہیں شریعت پر عامل ہوں گے۔ وہ بحیثیت نبی تشریف نہ لائیں گے کہ ان کی نبوت کا زمانہ گزر چکا۔ اور جب وہ بحیثیت نبی تشریف نہ لائیں گے تو پھر ان کا تشریف لانا کسی صورت میں منافی ختم نبوت نہیں ۔ تمام مفسرین کرام یہی لکھ رہے ہیں کہ عیسی
کا تشریف لانا جب بحیثیت نبی نہیں تو منافی ختم نبوت ہر گز نہیں چنانچہ علامہ اسمعیل حقی
فرماتے ہیں:
وَلَا يَقْدِحُ فِي كَوْنِهِ خَاتَمَ النَّبِيِّنِ نَزُولُ عِيسَى بَعْدَهُ لِأَنَّ مَعْنَى كَوْنَهُ خَاتَمَ النَّبِيِّنِ إِنَّهُ لَا يُنَبَّاءُ أَحَدٌ بَعْدَهُ كَمَا قَالَ لِعَلِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ( أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ) وَعِيسَى مِمَّنْ تَنَبَّاءَ قَبْلَهُ وَحِينَ يَنْزِلُ إِنَّمَا يَنْزِلُ عَلَى شَرِيعَةِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلَامِ مُصَلِّيًا إِلَى قِبْلَتِهِ كَانَهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ فَلَا يَكُونُ إِلَيْهِ وَحْى وَلَا نَصْبَ الْأَحْكَامِ بَلْ يَكُونُ خَلِيفَةً رَسُولِ اللَّهِ فَإِنْ قُلْتَ قَدْرُونَ أَنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامِ إِذَا نَزَلُ فِي اخرِ الزَّمَانِ يُكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الخِنْزِيرِ وَيَزِيدُ فِي الْحَلَالِ وَيَرْفَعِ الْجِزْيَةَ عَنِ الْكَفَرَةِ فَلَا يُقْبَلُ إِلَّا الْإِسْلَامُ قُلتُ هَذِهِ مِنْ أَحْكَامِ الشَّرِيعَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ لَكِنْ ظُهُورُ هَا مُوَقَّتْ بِزَمَانِ عِيسَى27
ترجمہ: اور عیسیٰ
کا تشریف لا ناقل ختم نبوت نہیں اس لئے کہ خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ حضور ﷺکے بعد کسی کو نبوت دی نہ جائے گی۔ جیسے کہ حضور
نے حضرت علی
کو فرمایا کہ تجھے مجھ سے ایسی نسبت ہے جیسے ہارون کو موسیٰ سے (
) مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں اور عیسی
کو تو نبوت پہلے سے دی جا چکی اور جب وہ تشریف لائیں گے تو حضور ﷺ کی شریعت پر تشریف لائیں گے اور حضور ہی کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں گے ۔ گویا کہ وہ حضور ﷺکے ایک امتی ہوں گے۔ پس نہ ان کی طرف وحی ہوگی نہ احکام صادر فرمائیں گے بلکہ وہ حضور ﷺ کے خلیفہ ہوں گے۔ اور اگر تم یہ کہو کہ حدیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ
بعد نزول صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ حلال میں زیادتی کریں گے۔ جزیہ کافروں سے اٹھالیں گے اور ان سے سوا اسلام کے اور کچھ قبول نہ کریں گے۔ تو میں کہوں گا کہ یہ سب کچھ شریعت محمدیہ ﷺکے ہی احکام ہیں لیکن ان کا ظہور عیسی
کے زمانہ میں ہوگا۔ انتھی
علامہ عبد اللہ بن احمد نسفی
فرماتے ہیں:
وَعِيسَى مِمَّنْ نَّبِيِّ قَبْلَهُ وَحِيْنَ يَنْزِلُ عَامِلًا عَلَى شَرِيعَةٍ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَّهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ28
ترجمه: فرمایا: عیسی
تو حضور
سے پہلے عہدہ نبوت پر مامور ہو چکے اب جب وہ نازل ہوں گے تو حضور ﷺ قیوم کی شریعت کے عامل ہوں گے گویا کہ وہ حضورﷺکے ایک امتی ہیں ۔
علامہ بیضاوی
فرماتے ہیں:
وَلَا يَقْدَحُ نَزُولُ عِيسَى بَعْدَهُ لِأَنَّهُ إِذَا أَنْزَلَ كَانَ عَلَى دِينِهِ مَعَ أَنَّ الْمُرَادَانَهُ آخِرُ مَنْ نَّبِيَّ29
ترجمہ: فرمایا ختم نبوت میں نزول عیسی
مخل نہیں اس لیے کہ جب وہ نازل ہوں گے تو حضور
کے دین پر ہوں گے۔ باوجود یکہ ہماری مراد یہ ہے کہ حضور
آخر ہیں ان کے جو نبی ہو چکے۔
يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقْضَوْنَ عَلَيْكُمْ اياتي الخر30
ترجمہ: (اے بنی آدم جب کبھی آویں تمہارے پاس میرے رسول تم میں سے بیان کرتے ہوئے تم پر میری آستیں ) اور اب اس غرض ( لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات بتلانا ) پورا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔“31
غالباً آپ یا تینکر سے استدلال کرتے ہیں کہ یہ صیغہ مستقبل ہے لہذا حضور
کے بعد بھی رسول آتے رہیں گے۔ مگر افسوس کہ آپ نے کسی تفسیر کو بھی اٹھا کر نہیں دیکھا ۔ آپ ذرا علامہ جلال الدین سیوطی
اور علامہ ابن جریر
سے اس کا مطلب دریافت کیجئے ۔ آپ کو وہ اس کا مطلب یہ بتائیں گے کہ عن ابی سیار السلم قال إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ آدَمَ وَذُرِّيَّتَهُ فِي كَفْهِ فَقَالَ يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي الخ یعنے ابی سیار سلمی سے ہے کہ اللہ تعالٰی نے آدم
اور ان کی اولا د کو اپنی ہتھیلی میں لے کر کہا۔ کہ يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمُ الخر32
اس سے معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا فرمان حضرت آدم
کے وقت کا ہے۔ اور یہ امر ظاہر ہے کہ حضرت آدم
سے لے کر حضور اقدس ﷺتک کئی رسول تشریف لائے۔ مگر اس آیت سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حضور
کے بعد بھی نبی آتے رہیں گے۔ اس آیت سے اگر یہ مطلب لیا جائے تو وَلَكِن رَّسُولُ اللَّهِ وَخَاتَمَ النبینسے تعارض لازم آئے گا۔ اور لازم باطل ہے۔ اس لئے کہ حالت تعارض میں کلام حق کا من عند اللہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ لہذا ملزوم بھی باطل ۔
ہم آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ تم لوگوں کا دعوی تو یہ ہے کہ حضور
کے بعد نبی آسکتا ہے مگر دلیل میں پیش کرتے ہو وہ آیت جس میں لفظ رسل آتا ہے۔ حالانکہ رسول نبی سے خاص ہے ( جیسے کہ پہلے گزر چکا) یہ عجیب منطق ہے کہ دعوے کسی اور امر کا اور دلیل کسی دوسری شے کی ۔ پس یا تو یہ کہو کہ حضور
کے بعد رسول بھی آسکتے ہیں۔ ورنہ جو تمہارا جواب دہی ہمارا جواب !
لو آپ اپنے دام میں آ گیا صیاد پھنس گیا
ہاں ذرا علامہ علاؤ الدین علی بن محمد کا بھی ارشاد سن لیجئے ۔ وہ فرماتے ہیں۔ اِنَّمَا قَالَ رُسُلٌ بَلَفْظِ الْجَمْعِ وَإِنْ كَانَ المُرَادُ بِهِ وَاحِدًا وَهُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَإِنَّهُ خَاتِمُ الْأَنْبِيَاءِ وَهُوَ مُرْسَلٌ إِلَى كَافَةِ الْخَلْقِ فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ الْجَمْعِ على سَبِيلِ التَّعْظِيمِ فَعَلَى هَذَا يَكُونُ الْخِطَابُ فِي قَوْلِهِ يَا بَنِي آدَمَ لِأَهْلِ مَكَةَ وَمَنْ يَلْحِقُ بِهِمْ وَقِيلَ أَرَادَجَمِيعَ الرُّسُلِ وَعَلَى هَذَا فَالْخِطَابُ فِي قَوْلِهِ يَا بَنِي آدَمَ عَامٌ فِي كُلِّ بَنِي آدَمَ33
ترجمہ: فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسل جمع کے صیغہ سے فرمایا۔ اگر چہ مراد اس سے واحد ہے۔ اور وہ حضور اقدسﷺیتیم ہیں۔ اس لئے کہ آپ نبیوں کے ختم کرنے والے اور سارے جہان کیلئے رسول ہیں۔ اور اللہ کا اصل رسل جمع کے صیغہ سے فرمانا یہ تعظیما ہے۔ پس اس صورت میں خطاب یا بنی آدم کے والوں اور جوان سے لاحق ہیں۔ ان کے لئے ہے اور کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسل سے تمام رسول مراد لئے ہیں۔ اس صورت میں خطاب ہر بنی آدم کے لئے ہے۔ انتہی
اس عبارت سے یہ معلوم ہوا کہ رسل حضور
کو کہا گیا ہے۔ مگر اس کی جمعیت حضور
کے خاتم الانبیاء ہونے کی وجہ سے نہیں لے سکتے ۔ لہذا اسے تعظیم پر محمول کریں گے۔ بتائیے جناب کیا یہ واضح دلیل نہیں اس امر کی کہ حضور
کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ علامہ خارزن
کا رسل کو تعظیم پر محمول کرنا اسی لئے ہے کہ آپ کے ۔ بعد کوئی نبی نہیں۔ جیسے کہ خود انہوں نے بتا دیا کہ لِأَنَّهُ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ
اور دوسرے قول کے مطابق جب تمام رسول مراد لئے جائیں۔ تو ظاہر ہے کہ آدم
سے لے کر حضور
تک کئی رسول تشریف لائے ۔ آپ لوگوں کو چاہئے کہ کوئی ایسی آیت پیش کریں۔ جس میں صاف اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہو۔ کہ محمد رسول اللہﷺ کے بعد نبی آتے رہیں گے ۔ فَاِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَا اتَّقُو النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ34
ہاں یہ بھی بتائیے کہ اگر اس آیت سے اجرائے نبوت کا ثبوت مل رہا ہے۔ تو مرزا صاحب ہی حضور
کے بعد نبی ہوئے ۔ ان سے پہلے اتنی دراز مدت میں کوئی بھی نبی نہ آیا۔ رسل جب جمع کا صیغہ ہے تو چاہئے تھا کہ کم از کم تین نبی تو آجاتے ۔ تا کہ جمعیت مستحق ہو جاتی ۔ اور آپ کا یہ فرمانا کہ اس وقت لوگوں کو آیات اللہ سنانے کی سخت ضرورت ہے۔ مان لیا۔ مگر اس کی تکمیل علماء کرام جو کر رہے ہیں۔ ورنہ بتائیے کہ اس وقت کون نبی ہے؟ کیا اس وقت آیات سنانے کی ضرورت نہیں؟ فتد بروا
نبوت رحمت ہے اور پھر رحمت محسنوں کے قریب ہے۔ اِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ35بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرة الخ36
ترجمہ: ہاں جس نے سونپ دیا اپنا منہ اللہ کو اور وہ محسن ہے۔ پس اس کے لئے اجر ہے اور پھر فرماتا ہے کہ وكَذَالِكَ نَجْزِئُ الْمُحْسِنِينَ37 اب ضرور ہے کہ حسن نبی بنیں ۔38
واہ سبحان اللہکیا کہنا۔ اس قسم کے نرالے استدلال آپ لوگوں کو ہی کرتے دیکھا۔ ہم اگر یوں کہیں کہ نبوت تشریعیہ یعنی رسالت رحمت ہے۔ اور پھر رحمت محسنوں کے قریب ہے۔ ان رحمة الله قريب من المحسنين الخراب ضرور ہے کہ حسن نبی تشریعی بنیں تو جو تمہارا جواب وہی ہمارا جواب !
معلوم ہوتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے منہ پھیر بیٹھے ہیں۔ آپ نے مرزا صاحب ہی کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ اور اگر آپ نے اپنے اس واحد قہار پروردگار سے منہ نہیں پھیرا ہے تو کیا آپ بھی نبی ہیں ؟ اگر نہیں تو بقول تمہارے ( نعوذ بالله ) اللہ کا فرمانا إِنَّ رَحْمَةَ اللهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ اور كَذَالِكَ نَجْزِئُ الْمُحْسِنِينَ جھوٹا ہوا۔ اگر ہیں تو فرمائیے کہ آج تک دعوی کیا ہی نہیں یا ہم تک اطلاع نہیں پہنچی۔ اگر واقعی آپ بھی نبی بن چکے ہیں تو خوب رہے گی۔ یعنی قادیانی کا ساتھی ملتانی کے بنی۔
خوب گذرے گی جوئل بیٹھیں گے دیوانے دو!
جناب فخر الدین صاحب آپ کو شاید اس استدلال پر بڑا فخر ہو مگر سچ پوچھو تو یہ نرالے ڈھنگ کا استدلال پاکٹ میں ہی رکھنے کے قابل ہے۔ شائع کرنے میں تو ایک ادنے فہم کا مالک بھی اس طرز کے استدلال کو علامت جہالت ٹھہرائے گا۔ ارے آج مرزا صاحب ہی ایک ایسا شخص پیدا ہوا۔ جس نے اللہ تعالیٰ کو اپنا منہ سونپ دیا۔ خدارا انصاف سے کہو۔ حضرت خلیفہ اکبر صدیق
نے کیا اپنا مال و جان اللہ کی راہ میں قربان کر کے اللہ کو اپنا منہ نہ سونپ دیا تھا۔ حضرت عمر بی ٹخنہ نے اور حضرت عثمان و مولا علی بھی اللہ نے کیا ( نعوذ بالله ) بقول تمہارے اللہ عزوجل سے منہ پھیر لیا تھا۔ جو ان جلیل القدر ہستیوں میں سے کوئی احمدیہ پاکٹ بک کا شائع کرنے والا فخر الدین ملتان کا تھا۔بھی نبی نہ ہوا۔ مرزا صاحب سے پہلے بڑے بڑے قطب الاقطاب اولیا ء اللہ مثلاً حضرت پیران پیر قدس سرہ العزیز ، حضرت خواجہ نقشبند و غیر هما گذرے۔ ان میں سے تو کوئی نبوت کا مدعی نہ ہوا۔ مگر آج مرزا صاحب ہی ایک ایسے شخص پیدا ہوئے ۔ جنہوں نے اپنا منہ اللہ کو سونیا اور وہ نبی بن گئے ۔ مگر ان سے پہلے کوئی بھی ایسا نہ گذرا ۔ کہ جس نے اپنا منہ اللہ کو سونپ دیا ہو (افسوس)
ارے اس سے تو ہمارے دعوی کو تقویت پہنچی کو تقویت پہنچتی ہے کہ حضور ﷺیا اور رحمت ہیں وما أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ39 اور پھر رحمت محسنوں کے قریب ہے۔ ان رحمة الله قريب من المحسنين40 لہذا حضور
جب محسنوں کے ہر وقت قریب ہیں پھر انہیں سوائے اپنے پیارے نبی کے کسی دوسرے نبی کی کیا ضرورت ۔ ہاں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے منہ پھیر لیا ہے۔ جنہیں اللہ کا مطلق خوف نہیں رہا۔ وہ چونکہ محسن نہیں اور محسن کے قریب رحمت نہیں۔ اس لئے وہ بنالیں اپنا ایک علیحدہ نہیں۔ اور وہی اسے نبی کہتے پھریں۔ مسلمان ہرگز نہیں کہیں کیونکہ ان کا پیارا نبی ان کے پاس موجود ہے۔
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمُ41 ہدایت سے مراد نبوت بھی ہے۔ 42
تو پھر آپ کو کیا نفع پہنچا؟ یہ ثابت کرو کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمِمیں بھی ہدایت سے نبوت مراد ہے ۔ آپ سے یہ کون پوچھتا ہے کہ ہدایت کے کتنے معنی ہیں جو آپ نے یہ کہنے کی تکلیف گوارا فرمائی کہ ہدایت سے نبوت بھی مراد ہے۔ اگر ہے بھی تو یہ نہیں کہ ہر جگہ ہی ہو۔ ورنہ اهدنا الصراط المستقيم جب ہر ایک مصلی نماز میں پڑھتا ہے تو ہر ایک نبی کیوں نہیں ۔ اور کیا مرزا صاحب سے پہلے صحابہ کرام
و غیر ہم یہ نہ ں۔ اللہ و نماز میں نہ پڑھا کرتے تھے۔ جو وہ نبی نہ ہوئے ۔
نبوت وہی ہے ۔ کسی نہیں
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا43
آپ غالباً اس آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ عذاب جب ہی آتا ہے۔ جب کہ رسول آچکا ہو۔ لہذا مرزا صاحب کے زمانہ میں طاعون کا پھیلنا دلیل ہے اس امر کی مرزا صاحب نبی ہیں۔ افسوس کہ آپ نے نبی کا آنا موجب عذاب سمجھ لیا۔ کہ نبی اپنے ساتھ ساتھ عذاب لے کر آتا ہے ۔ استغفر الله ۔ یہ عقیدہ آپ ہی کو مبارک ہو۔ کیا ہمارے آقا و مولا حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ جب تشریف لائے تو دنیا پر عذاب آیا تھا یا حضور
کو اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ یعنی اے محبوب اللہ ان پر عذاب نہ کرے گا۔ دراں حالیکہ تو ان میں رونق افروز ہے۔ ذرا غور کرو اور ایسے ایسے کلمات کہنے سے رکو۔ اگر عذاب کا آنا اس امر کی دلیل ہے کہ نبی آیا ہے۔ تو ذرا کان لگا کر سنیئے - کہ بخاری شریف باب الفرار من الطاعون میں یہ حدیث آتی ہے کہ عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عَامِرٍ أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا جَاءَ سَرَغَ بَلَغَهُ إِنَّ الْوَبَاءَ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْبَرْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن عَوْفٍ أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِأَرْضِ فَلَا تَقَدِّمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعُ بِأَرْضِ وَانْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرَجُوا فَرَارًا مِنْهُ فَرَجَعَ عُمَرَ مِنْ سَر ع (بخاری )
فرمائیے! کہ شام میں جو طاعون پڑی تو اس وقت شام میں کون سا نبی تھا۔ اور اگر نہیں تھا۔ تو تمہارا کہنا کہ عذاب کا آنا علامت بعثت نبی ہے۔ غلط ہوا یا نہ۔ یقیناً غلط ثابت ہوا۔ ایسے ہی انگلستان میں طاعون پڑی ۔
حضرت سید الشہداء حسین کو جو حد درجہ کے لاڈلے تھے حضورﷺ کے ) نظر حقارت سے دیکھ کر صد حسین است در گریبانم ! 44کہا جاتا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے بیٹا ثابت کرا کے انت منی بمنزلہ ولدی لکھا جاتا تھا۔ کہیں نعوذ باللہاللہ کے لئے نطفہ ثابت کیا جاتا تھا ۔ کبھی خود خدا اور کبھی رسول اور کبھی کہا جاتا تھا کہ میں مسیح زماں اور مہدی موعود ہوں وغیرہ۔ چونکہ حضور ﷺ کی بعثت عامہ ہے ۔ وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ45 اور آپ کی مقدس تعلیم دنیا کے کونے کونے چپہ چپہ پر پہنچ چکی ہے۔ لہذا جہاں بھی اس کا جھٹلا نا عام ہوگا۔ وہاں عذاب آئے گا ۔
مرزا صاحب کے زمانہ میں تعلیم محمدیﷺ تسلیم کی تکذیب عام تھی۔ لہٰذا طاعون پڑی۔ یہی مطلب آیت مذکورہ کا ہے کہ ہم مذاب نہیں دیتے یہاں تک کہ ہم رسول مبعوث کر لیں ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہﷺ کو وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ کا سہرا سر باندھ کر رسول مبعوث فرمایا ۔ اب آپ کے تشریف لے آنے کے بعد بھی اگر اللہ کی نافرمانیاں ہوتی رہیں اور لوگ اپنے نبی کو چھوڑ کر اپنا علیحدہ نبی بنانے لگیں تو ضرور عذاب آئے گا۔
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنْذِ رُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا46
أَي يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِلثَّقَلَيْنِ جَمِيعًا أَلَمُ يَاتُكُمْ فِي الدُّنْيَا47
ترجمہ: یعنی اللہ تعالی قیامت کو جنوں اور انسانوں سب کو فرمائے گا۔ کہ کیا دنیا میں تمہارے پاس میرے رسول نہ آئے الخ
تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کو یوں فرمائے گا۔ خصوصاً مرزائیوں سے ضرور سوال ہوگا کہ کیا میں نے وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ48 فرما کر محمد رسول الله ﷺ میر اسلام کو تم سب کی طرف رسول بنا کر نہ بھیجا تھا جو تم نے ایک اپنا الگ نبی بنا لیا اور محمد رسول اللہﷺسے نسبت توڑ کر مرزا صاحب کے بن گئے ۔فما تجیبون
وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا48
یہ بھی قیامت کو کہا جائے گا۔ اس کا مضمون اور پانچویں دلیل کی آیت کا ایک مضمون ہے۔ اس اسے بھی اجرائے نبوت کا ثبوت ہر گز نہیں مل سکتا۔
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُو الصَّالِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلِيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا49
ترجمہ: وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور کام کئے اچھے ۔ البتہ ضر در خلیفہ کرے گا ان کو زمین میں جیسا کہ خلیفہ کیا تھا ان لوگوں کو جو پہلے ان سے تھے اور البتہ قائم کرے گا واسطے ان کے دین ان کا ۔ جو پسند کیا گیا ہے واسطے ان کے اور البتہ بدل دے گا ان کو پیچھے خوف کے امن ۔ 49
ہاں صحیح ہے کہ اللہ عز وجل ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے اور جنہوں نے عمل صالح کئے ۔ وعدہ فرماتا ہے۔ کہ وہ مشرکین کے قبضہ سے نکال کر عرب و عجم کی زمین کا انہیں وارث بنائے گا۔ جیسے کہ اس نے بنی اسرائیل کو ملک شام کا بادشاہ بنایا اور وہاں کے جابر بادشاہوں کو ہلاک کیا تھا۔ علامہ ابن جریر جز ۱۸ ص ۱۰۹) پر اور اکثر مفسرین نے یہی لکھا ہے۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبر
اور حضرت عمر
اور حضرت عثمان
کے زمانہ مبارکہ میں مسلمانوں کو وہ فتوحات عظیمہ عطا ہوئیں کہ جنہیں ہر تاریخ دان جانتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ خلافت سے مراد یہاں سلطنت ہے نبوت نہیں ۔ ورنہ صدیق اکبر
بھی اور اصحاب ثلثہ
اور ہر مسلمان بادشاہ کو جو خلیفہ المسلمین کہا جاتا ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ نبی المسلمین ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ یہاں خلافت سے مراد سلطنت ہے۔ چنانچہ آگے خود اللہ کایہ فرمانا کہ ويعبد لنهم من بعد محوفهم امنا اى معنى کی تائید کرتا ہے اور اگر اس سے مراد نبوت ہی ہے تو افسوس کہ رب العزت جل شانہ تو یہ فرمائے کہ انہیں کسی امر کا خوف نہ ہوگا۔ اللہ تعالی ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ مگر مرزا صاحب ڈر کے مارے حج کو بھی تشریف نہ لے گئے اور جب کبھی کسی شہر میں تشریف لے گئے۔ تو بجائے عون اللہ کے پولیس کے محتاج ہوئے۔ اور پولیس کے زبر دست پہرہ میں تشریف لے جاتے رہے۔
حضرت علامہ اسمعیل حقی
فرماتے ہیں کہ اسْتَخْلَفَ اللهُ اَولِيَاءَ : في الأَرْضِ55 یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیا کرام کو زمین خلیفہ بنایا ہے گویا علامہ موصوف بھی اس خلافت سے مراد نبوت نہیں لیتے اور کیسے لیں۔ جب کہ ان کے نزدیک حضور
کے بعد مدعی نبوت کا فر و مرتد ہے۔ ( کمامر )
امام فخر الدین رازی
نے تو اس آیت کے ماتحت اس امر کا صاف فیصلہ فرما دیا ہے کہ حضور
کے بعد چونکہ کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ اس لئے اس خلافت سے مراد نبوت ہرگز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں
دَلَّتِ الْآيَةُ عَلَى إِمَامَةِ الْأَئِمَّةِ الْأَرْبَعَةِ فَذَلِكَ لِأَنَّهُ تَعَالَى وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُو الصَّلِحَتِ مِنَ الْحَاضِرِينَ فِي زَمَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ الخر وَ مَعْلُومٌ أَنَّ الْمُرَادَ بِهَذَا الْوَعْدِ بَعْدَ الرَّسُولِ هُؤُلاء لَانَّ اسْتِخْلَافَ غَيْرِهِ لَا يَكُونُ إِلَّا بَعْدَهُ وَمَعْلُومٌ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ لِأَنَّهُ خَاتِمُ الْأَنْبِيَاءِ فَإِذْنِ الْمُرَادُ بِهَذَا الاسْتِخْلافِ طَرِيقَة الْإِمَامَةِ
ترجمه: فرمایا کہ یہ آیت ائمہ اربعہ کی امامت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالی نے جو یہ وعدہ فرمایا کہ وہ انہیں خلیفہ بنائے گا جیسے پہلے لوگوں کو بنایا تھا۔ یہ وعدہ البتہ ان ایمان داروں اور عمل صالح کرنے والوں سے ہے۔ جو زمانہ مبارکہ محمد رسول اللہ ﷺمیں حاضر تھے۔ اور یہ معلوم ہے کہ اس وعدہ سے مراد یہ لوگ حضور
سے بعد ہے۔ اس لئے که حضورﷺ کے سوا کسی دوسرے کا خلیفہ کرنا حضور
کے بعد ہو سکتا ہے۔ (یعنی حضور
کے دنیا میں تشریف رکھتے ہوئے کوئی دوسرا خلیفہ بنے کا ہرگز مستحق نہیں کہ آپ خود خلیفہ اعظم ہیں) اور یہ امر تو معلوم ہو چکا کہ حضور
کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ اس لئے کہ آپ ﷺ تم نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ پس اب اس استخلاف سے مراد طریقہ امامت ہے۔
ناظرین ! دیکھئے ! کہ امام فخر الدین رازی
نے صاف فیصلہ فرما دیا ہے کہ حضور
کے بعد کوئی نبی نہیں۔ آپ نبیوں کے ختم کر دینے والے ہیں اور اس آیت میں خلافت سے مراد نبوت ہر گز نہیں ۔ ہاں اس آیت سے :امامت ائمہ اربعہ کا ثبوت ملتا ہے۔ مرزائیو! اتنا تو بتاؤ کہ تم نے اس خلافت سے مراد نبوت جولی ہے تو کیوں لی ہے؟ کیا ہر جگہ خلافت بمعنی نبوت آتی ہے۔ اگر ہاں تو کیا خلیفہ المسیح الثانی بھی نبی ہیں۔ اگر نہیں تو بس فیصلہ ہوا کہ یہاں بوجہ حضور
کے خاتم الانبیاء ہونے کی خلافت سے مراد نبوت نہیں اور ذرا اتنا تو سوچو کہ مرزا صاحب کے سوا کوئی بھی پہلے معاذ اللہ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والا نہ گذرا۔ جو حسب وعدہ الہیہ نبی آج تیرہ سو برس کے بعد مرزا صاحب ایک ایسے شخص تشریف لائے۔ جو ایماندار اور عمل بنتا۔ صالح کرنے والے تھے۔ جو وہ نبی بن گئے۔
اس امر کا فیصلہ خود حضور
فرما گئے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ہاں خلفاء آتے رہیں گے۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے۔ کہ حضورﷺ نے فرمایا۔
كَانَتْ بَنُوا إِسْرَائِيلَ تَسُوْسُهُمُ الْأَنْبِيَاءِ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَانَبِيُّ بَعْدِى وَسَيَكُونُ الْخُلْفَاءُ فَتَكْفُرُ56
فرمایا کہ بنی اسرائیل کی انبیاء سیاست فرماتے تھے۔ جب ایک نبی تشریف لے جاتے تو اس کے بعد دوسرا آجاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اور خلیفے بہت ہوں گے۔“
اس حدیث سے صاف معلوم ہو رہا ہے۔ کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ سے مراد نبوت نہیں۔ اس لئے کہ حضور
کے بعد کوئی کسی قسم کا نی نہیں۔
نبی اور روحانی سراج منیر (سورج) تھے۔ (احزاب ع ۲) پس جس طرحجسمانی سورج کے لئے ایک چاند ہوتا ہے۔ اسی طرح نبی کریمﷺ کے لئے بھی ایک چاند ہونا ضروری ہے۔ ورنہ وہ سورج کیسا۔ جس کے لئے چاند نہ ہو۔ 57
والله اعلم کسی مصلحت سے آپ نے یہاں صرف آیت کے ترجمہ پر اکتفا کیا۔ لو میں پڑھ دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ حضور اقدسﷺکو فرماتا ہے۔ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَّنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا58 اس آیت میں اللہ عز وجل حضور انور ﷺکو سراج منیر فرماتا ہے۔ مگر افسوس کہ تم لوگ مرزا جی کی خود ساختہ نبوت کی خاطر قرآن مجید کے معنی بالکل ہی غلط کرنے لگے ۔ خدارا ذرا انصاف سے کہنا کہ کیا یہاں سراج کا معنی سورج ہے یا چراغ ۔ یہ کس نے لکھا ہے۔ کہ سراج سورج کو کہتے ہیں۔ آپ قیامت تک نہیں دکھا سکیں گے کہ سراجا منیرا سے مراد سورج ہے۔ ذرا لغت کا ہی مطالعہ کر لیا ہوتا. منتهی الارب فی لغات العرب کی جلد ثانی ص ۳۲۲ پر دیکھ لیتے کہ وہاں کیا لکھا ہے۔ سراج بالکسر چراغ ۔ یعنی سراج چراغ کو کہتے ہیں علامہ اسمعیل حقی
فرماتے ہیں۔ بالفارسیۃ ( یعنی چراغ روشن و درخشاں ) یعنی سرا جا منیرا کا معنی یہ ہے۔ چراغ روشن اور چمکتا ہوا۔59
اور مفسرین کرام نے اس کی وجہ یہی لکھی ہے کہ حضور ﷺ کو چراغ کہا گیا اور سورج نہیں کہا گیا اور حالانکہ سورج چراغ سے زیادہ روشن اور چکنے والا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور
کو اللہ تعالیٰ نے چراغ روشن اس لئے فرمایا کہ جیسے ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہو سکتے ہیں۔ ایسے ہی حضور
کے وجود با وجود سے صحابہ کرام
نے اپنے قلوب کو نور ہدایت سے منور فرمایا۔ اور حضور
نے فرمایا۔ اَصْحَابی كَالنُّجُومِ فَبِأَتِهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اِهْتَدَيْتُمْ میرے صحابی مثل ستاروں کی ہیں۔ پس ان میں سے تم کسی کی بھی اقتدا کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اسی طرح سلسلہ بسلسلہ مخلوق خدا اس ایک سراج منیر سے اپنے دل نور ہدایت سے منور کرتی چلی آئی۔ برخلاف سورج کے کہ سورج سے کوئی چراغ روشن کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ چنانچہ امام فخر الدین رازی
نے بھی اپنی تفسیر ص ۷۸۹ جلد ۶ پر یہی لکھا ہے اور بھی بہت سی وجوہ لکھی ہیں۔ مگر اس وقت ہمیں بتانا یہ ہے کہ سراج کا معنی چراغ ہے نہ کہ سورج۔ تو اب تمہار ا سراج کا معنی سورج کرنا اور پھر مرزا جی کی نبوت ثابت کرنا بنا الفاسد علی الفاسد ہے۔
سبحان اللہ کیا ہی عجیب استدلال ہے۔ ذرا اتنا تو بتلائیے کہ تیرہ سو برس سے یہ سورج کیا بغیر چاند کے ہی چلا آیا۔ یعنی مرزا صاحب سے قبل اتنی و راز مدت میں تو یہ سورج بغیر چاند کے رہا اور تیرہ سو برس کے بعد مرزا صاحب کے زمانہ میں آکر اس کے لئے چاند بنا افسوس که مرزا صاحب کی محبت میں عقل بھی روانہ ہوئی ۔ آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ محمد رسول الله ﷺ ایک ایسے سورج ہیں۔ کہ یہ سورج تو ان کا ایک ادنے ساپر تو اور کرشمہ ہے اس سورج کے لئے تو ایک چاند ہے اور شمس مدینہ ملی ایام کے لئے ہزاروں چاند حضور ﷺ سے پہلے گزر چکے (یعنی انبیاء
) چونکہ سورج کے طلوع ہونے پر چاند بے نور ہو جاتا ہے۔ اسی واسطے محمد رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے آنے سے پہلی تمام شریعتیں منسوخ ہو گئیں۔ اور حضور
کی شریعت قیامت تک کے لئے قائم کر دی گئی اور چونکہ سورج جب تک موجود رہے چاند نہیں نکلتا۔ اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺجیسے سورج کے ہوتے ہوئے کوئی نبی نہیں آسکتا اور جیسے سورج کی روشنی میں کسی دوسری روشنی کی حاجت نہیں رہتی ۔ ایسے ہی حضور پر نور محمد رسول اللہ صلی الم کی شریعت ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور چاند کی حاجت نہیں۔ سورج کے ہوتے ہوئے چراغ روشن نہ کرے گا۔ مگر جس کو مراق ہوا اور جو بے وقوف و پاگل ہو۔
نُور القمر مستفاد من نور الشمس چاند کی روشنی سورج کی روشنی سے حاصل کردہ ہے۔ مگر چاند سورج سے روشنی لے کر سورج نہیں کہلا سکتا۔ تو جب بقول تمہارے مرزا شمس مدینہ ملی یم کے لئے (نعوذ باللہ ) غفرلہچاند ہیں تو وہ حضور انور علیم سے فیض صاحب حاصل کر کے، نبی کیسے بن گئے۔
قرآن مجید میں آتا ہے:
أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَان61
میں دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہوں ۔ جبکہ وہ پکار سے یعنی دعاسنی جاتی ہے اور مانگنے والے کو خائب و خاسر نہیں رکھا جاتا۔ اس کلیہ کے بعد دیکھئے کہ قرآن مجید کی پہلی ہی سورت میں ہمیں دعا سکھائی گئی ہے کہ اهدنا الصراط المستقیم یعنی ہم کو سیدھے راستے کی ہدایت دے۔ پھر مستقیم راستہ کی تعریف فرمائی گئی. صراط الذین انعمت عليهم یعنی راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے نعمتیں کیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ تضمین سے کون لوگ مراد ہیں اور وہ کون سی نعمت ہے جس سے ان کو اللہ تعالی نے سرفراز فرمایا۔ اس کا جواب بھی ہمیں ا کتاب اللہ میں ملتا ہے۔ جہاں پر اللہ جل شانہ فرماتے ہیں ۔ وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ وَإِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مَلُوْ كَا62 اور جب کہا حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو کہ اے قوم یاد کرو اللہ کی اس نعمت کو جو تم پر ہوئی۔ جب کہ تم میں سے اس نے نبی بنائے اور تم کو بادشاہ بھی بنایا۔ اس آیت میں اللہ جلشانہ، نے یہ بیان فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل پر قومی طور سب سے بڑی جو نعمتیں ہوئیں وہ نبوت اور بادشاہت تھیں۔
پس اس کا ماحصل یہ ہوا کہ خدا تعالٰی نے ایک دعا مسلمانوں کو سکھائی کہ متعلمین کے انعام مانگو اور معلمین کے انعام خود گنوائے ۔ اور فرمایا کہ نبوت سب سے بڑا انعام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا انعام قومی طور پر مانگنا خدا کا منشا ہے۔ لیکن اگر حضرت سرور کائنات فخر دو عالم ﷺکے بعد دروازہ نبوت بند ہوتا۔ تو کبھی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ دعا نہ سکھاتا۔ کیونکہ جو چیز دینی ہی نہیں اس کے متعلق یہ حکم دینا کہ مانگو۔ حکیم کی شان اور قدوس کی ذات کے خلاف ہے۔ 63
کیوں مسلمانوں کا ایمان چھینے کے درپے ہو۔ تمہارے یہ فضول استدلال تار عنکبوت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے ۔ خدار اذرا انصاف سے بولنا کہ تم نے جو ما حصل نکالا ہے۔ کہ پس اس بیان کا ماحصل یہ ہوا کہ خدا تعالٰی نے ایک دعا مسلمانوں کو سکھائی کہ تضمین کے انعام مانگو۔ یہ کہاں سے نکالا ہے۔ یہ رب العزت جل شانہ نے کسی جگہ فرمایا ہے کہ منعمین کے انعام مانگو۔ افسوس کہ تم خود صراط الذین انعمت کا یہ ترجمہ کر چکے ہو کہ یعنی راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے نعمتیں کیں اور آگے چل کر یہ کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے ایک دعا مسلمانوں کو سکھائی ۔ کہ متعلمین کے انعام مانگو۔ سچ ہے۔
دروغ گورا حافظہ نباشد!
ذرا عقل سے کام لو۔ اللہ عز و جل تو مسلمانوں کو یہ دعا سکھا رہا ہے۔ کہ تضمین کا راستہ مانگو۔ یعنی جس راہ پر اللہ کے منعم لوگ چلے - اے اللہ ہمیں بھی اسی راہ پر چلا ئیو ! ذرا پھر سے نظر ثانی کر لو کہ اللہ تعالی ، یوں ارشاد فرماتا ہے۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ”راہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام کئے ۔ یوں نہیں فرماتا۔ انعام الذین انعمت علیھم کہ تمہارے معنی دوست ہوسکیں۔
اللہ تعالیٰ کا کلام سچا۔ اس کا ہر ایک وعدہ سچا۔ اس نے یہ فرمایا ہے۔ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ میں دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہوں اور ہمیں یہ دعا بھی سکھلا دی۔ کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہ اسے مولا ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت دے۔ ان لوگوں کے راہ کی ہدایت دے جن پر تو نے انعام کئے ۔ سو اللہ عزوجل نے اپنے فضل و کرم کے ساتھ ہمیں اس راہ پر رکھا۔ جس پر اس کے منعم لوگ ہیں۔ حضور
سے لے کر آج تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم تابعین کرام تبع تابعین علیہم الرحمۃبڑے بڑے مجتہد اور عالم غوث و قطب اور ابدال غرضیکہ امت محمدیہ علی صاحبا الصلوات والسلام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضور اقدسﷺخاتم الانبیاء اور آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں اسی راہ پر رکھا کہ جس پر ساری امت کو چلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اور جس راہ میں آمد و رفت، بکثرت ہو۔ وہی راہ مستقیم ہے۔ کہ ہر کوئی سیدھے راستے کا طالب ہے۔
ہاں جن کے قلوب میں ابتدا ہی سے کبھی رکھ دی گئی ہے۔ وہ راہ مستقیم کے طالب ہرگز نہیں اور جب وہ دل سے راہ مستقیم کے طالب نہیں ہیں۔ تو زبانی ان کا کہہ دینا کہ اهدنا الصراط المستقیم کافی نہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے۔ جب وہ جانتے ہیں کہ راہ مستقیم وہی ہے۔ جس پر امت محمدیہ علی نبیہا السلام چل رہی ہے۔ تو پھر اس راہ سے ہٹ کر کسی سنسان اور بر باد راہ پر چلنا کہ جس پر نہ کوئی صحابی گزرا ہو۔ نہ تابعی نہ کوئی مجتہد نہ امام نہ کوئی محدث گذرا ہو۔ نہ فقیہہ ۔ نہ کوئی عالم گزرا ہو۔ نہ کوئی بزرگ ۔ اپنی جان سے عداوت اور اپنی جہالت ہے۔
اور اگر تمہارے معنی بھی لئے جائیں کہ ایک دعا مسلمانوں کو سکھائی کہ متضمین کے انعام مانگو۔ تو بھی تمہارے دعوئی کو مطلق تقویت نہیں پہنچتی ۔ اس لئے کہ اللہ عز وجل کے انعام بہت سے ہیں۔ صرف ایک نبوت ہی انعام نہیں ۔ تم نے خود جو آیت پڑھی ہے کہ إِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْجَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مَلُوكًا64 اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک انعام نبوت ہے اور ایک سلطنت ہے۔ ایسے ہی اور بھی بہت سے انعام ہیں۔ ایک انعام وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے صدیقین پر کیا ہے۔ ایک وہ ہے جو اس نے شہدا پر کیا ہے۔ ایک ایسا ہے جو صالحین پر ہوا ہے۔ الغرض انعام بہت سے ہیں۔ اگر تم حق سبحانہ تعالٰی کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہر گز نہیں گن سکتے۔ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضور
سے پہلی امتوں پر بھی انعام کرتا رہا۔ مگر نہ ایسا انعام کہ جیسا اس نے اس امت مرحومہ پر کیا۔ اس امت پر منعم حقیقی جل شانہ کے ایسا عظیم الشان انعام فرمایا کہ جس انعام کا اللہ عز وجل خود ذکر فرماتا ہے۔
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنْفُسِهِمْ65 البتہ تحقیق اللہ عز وجل نے بہت بڑا احسان کیا مومنوں پر۔ جب کہ ان میں سے اس نے ایک رسول مبعوث فرمایا ۔
تو جبکہ اس عظیم الشان انعام کی یہ امت مالک ہو پھر اسے کسی اور انعام نبوت کی کب حاجت رہ سکتی ہے کہ وہ اللہ سے مانگے ۔ اسی لئے اللہ عز و جل نے حضور انورﷺ کو خاتم النبیین فرما کر اس انعام کی حاجت باقی نہ رکھتے ہوئے اس انعام کو بند فرمادیا کہ اگر وہ بند نہ فرماتا۔ تو یہ انعام بے موقعہ صرف ہوتا ۔ اور یہ حکیم کی شان اور قدوس کی ذات کے خلاف ہے اور جب کہ اللہ عز وجل اپنے بچے کلام میں فرما چکا ہے کہ حضور
خاتم النبیین ہیں۔ پھر صراط الذين انعمت عليهم ( سورة فاتحہ آیت نمبر 1 ) سے انعام نبوت بھی مراد لے لینا گویا کلام حق میں تناقص ثابت کرنا ہے۔ لہذا یہاں ہم انعام نبوت تو مراد لے نہیں سکتے ۔ اور نہ ہی اللہ کا یہ منشاء ہے۔ ہاں اس کے ماسوا جتنے بھی انعام ہیں۔ وہ مراد ہو سکتے ہیں کہ ان کے مان لینے سے کلام حق میں تعارض نہیں پڑتا۔ اب معنی صاف ہے کہ اللہ جو فرما رہا ہے۔ مانگو وہ انعام نبوت کے ماسوا جو انعام ہیں۔ ان کے مانگنے کو فرما رہا ہے نہ کہ انعام نبوت کو فرماتا ہے۔ کہ مانگو۔ یہ تمہارا اعتراض کہ جو چیز دینی ہی نہیں ، اس کے متعلق یہ حکم دینا کہ مانگو، حکیم کی شان اور قدوس کی ذات کے خلاف ہے ۔“ جب صحیح ہو سکتا تھا جب کہ انعام بہت سے نہ ہوتے۔ بلکہ انعام نبوت ہی ایک انعام ہوتا ۔ اور جبکہ انعام الہی بے شمار ہیں پھر ان میں سے ایک مخصص قطعی کے ساتھ مخصوص کر لینا موجب اعتراض ہرگز نہیں اور یہ ساری تقریر اسی صورت میں ہے۔ جب کہ تمہارے معنی مان لئے جائیں کہ اللہ نے مسلمانوں کو دعا سکھائی کہ منعمین کے انعام مانگو ورنہ ہم تو اس معنی کو بالکل غلط ہی سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ اللہ کا منشاء تو یہ ہے کہ منعمین کا راستہ مانگو نہ کہ معلمین کے انعام مانگو )
مَنْ يُطِعَ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ66 جو اللہ اور حضرت رسول کریم ﷺ کی اطاعت کرنے والے ہوں گے ۔ وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے ۔ جن پر اللہ تعالی نے نعمتیں کیں۔ اور وہ چار قسم کے لوگ نبی ۔ صدیق شہید صالح ہیں۔ یہ آیت دروازہ نبوت کے مسدود نہ ہونے پر نص صریح ہے۔ 67
جناب والا معیت سے عینیت کس طرح ثابت کر لی۔ اس آیت میں تو حق سبحانہ ان لوگوں سے جو اللہ اور اللہ کے رسول کے مطیع ہیں۔ یہ وعدہ فرما رہا ہے کہ ان کا حشران لوگوں کے ساتھ ہوگا ۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے نعمتیں کی ہیں۔ تم جو ترجمہ کرتے ہو وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے۔ بالکل غلط ہے۔ اس لئے کہ ” مع مقاربت کے لئے آتا ہے۔ جیسے کہ انَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِين68 اور محمد رسول الله والذين معه الخ 69 ظاہر ہے کہ یہاں مع" بمعنی ”ساتھ“ ہے اور اگر تمہارے معنی لیا جائے تو لازم آئے گا کہ اللہ تعالی عین صابر ہوں۔ اور صحابہ نیا اینم عین محمد لی کم ہوں تو کیا یہ صحیح ہے۔ اگر نہیں تو پھر آیت مذکورہ میں کس لئے اس کا معنی میں سے کیا جاتا ہے؟
علامہ جلال الدین سیوطی
اس آیت کے ماتحت حدیث نقل فرماتے ہیں:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله عنها ، قَالَتْ جَاءَ رَجَلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَا حَبُّ إِلَى مِنْ نَفْسِي وَإِنَّكَ لَا حَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي وَإِنِّي لَأَكُونَ فِي الْبَيْتِ فَاذْكُرُكَ لَمَا أَصْبَرُ حَتَّى آتِي فَانْظُرُوا إِذَا ذَكَرْتُ مَوْتِي وَمَوْتَكَ عَرِفْتُ إِنَّكَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّةَ رُفِعْتَ مَعَ النَّبِيِّينَ وَإِنِّي إِذَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ خَشِيتُ أَنْ لَّا أَرَاكَ فَلَمَ يَزِدْ عَلَيْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَزَّلَ
حضرت عائشہ
سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ (ﷺ) آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں اور میری اولاد سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔ اور تحقیق میں گھر میں ہوتا ہوں اور آپ کو یاد کرتا ہوں ۔ تو بے قرار ہو جاتا ہوں۔ جب تک کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر جناب کی زیارت نہ کرلوں مجھے صبر نہیں آتا اور جب میں اپنی موت اور حضور ﷺکا وصال یاد کرتا ہوں تو جان جاتا ہوں کہ آپ جب جنت میں تشریف لے چلیں گے تو آپ نبیوں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ اور میں جنت میں جاؤں گا تو ڈرتا ہوں کہ میں آپ کو نہ دیکھ سکوں گا۔ پس یہ آیت فوراً نازل ہوئی ۔ کہ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ عَلَيْهِمُ الخ“70
یہ آیت مذکورہ کا شان نزول ہے۔ اب ذرا غور و تدبر کے ساتھ واضح ہو جاتا ہے کہ آیت میں ” مع“ کا معنی ”ساتھ“ ہے۔ اس لئے کہ جو شخص حضور اقدس سلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ان کی یہ عرض تھی ۔ کہ حضور آپ تو جنت میں مقام انبیاء میں ہوں گے اور میں کہیں اور ہوں گا۔ مجھے اس امر کا ڈر ہے کہ میں شاید آپ کو وہاں دیکھ نہ سکوں گا۔ تو اللہ عز و جل نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو اللہ اور اللہ کے رسول کے مطیع ہیں۔ وہ قیامت کو انہیں لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ جن پر اللہ تعالی نے انعام واکرام کئے ۔ گویا اللہ عز وجل اس شخص کو تسلی دے رہا ہے کہ جب تمہیں ہمارے محبوب سے اتنا پیار ہے کہ ان سے کہیں بھی جدا نہیں رہنا چاہتے تو ہم بھی تجھے قیامت کو اپنے محبوب کے ساتھ ہی رھیں گے۔ نہ یہ کہ تجھے نبی ہی بنا دیں گے ورنہ بتاؤ کہ کیا اللہ تعالی نے اس شخص کو نبی بنا دیا تھا۔ اگر تمہارا معنی صحیح ہو و اس شخص کو بالطریق الاولئے نبی بنا چاہئے تھا۔ مگر نہ وہ نبی بنا۔ نہ اس نے معاذ اللہ دعوی کیا۔ لہذا معلوم ہوا کہ تمہارے معنی غلط ہیں۔ صحیح یہی ہیں کہ وہ لوگ متضمین کے ساتھ ہوں گے۔ یہی مطلب حضور
کے فرمان کا ہے۔ کہ المرء مع من احب آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا۔ نہ یہ کہ آدمی خود اپنا بعینہ محبوب بن جاتا ہے۔ علامہ اسمعیل حقی فرماتے ہیں۔ هذَا تَرْغِيْبٌ لِلْمُؤْمِنِينَ فِي الطَّاعَةِ حَيْثُ وُعِدُوا مُرَافَقَةَ أَقْرَب عباد الی اللہیعنی یہ مومنین کے لئے ترغیب ہے۔ طاعت میں ۔ بایں حیثیت کہ اللہ کے مقرب لوگوں کی رفاقت سے وعدہ کئے گئے ہیں 71
معلوم ہوا کہ مع بمعنی ”ساتھ“ کے ہی ایسے ہی حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں اس شخص کا عرض کرتے ہوئے یہ کہنا کہ إِنَّكَ إِذَا دَخَلْتَ الْجَنَّةَ رُفِعْتَ مَعَ النبیین اس امر پر صریح دال ہے کہ مع کا معنی ساتھ ہے۔ یعنی آپ جب جنت میں داخل ہوں گے تو آپ نبیوں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ اور اگر تمہارے معنی لئے جائیں۔ تو یہ معنی ہوا کہ آپ جب جنت میں تشریف لے چلیں گے۔ تو آپ نبی بنائے جائیں گے تو لازم آیا کہ حضور ﷺ كُنتُ نَبِيًّا وَادَمُ بَيْنَ الطَّيِّنَ وَالْمَاءِفرمانے والے قیامت کے روز نبی بنیں گے اور اب نہیں ( معاذ اللہ ) یہ عقیدہ تمہیں کو مبارک ہو۔
کیا مرزا صاحب سے قبل کوئی بھی مطیع نہ گزرا۔ ذرا ہوش میں آؤ تمہیں خود بھی تو اطاعت اللہ اور اطاعت رسول کا دعوئی ہوگا۔ تو بتاؤ کہ تم نبی ہو یا کون ہو۔ ارے اگر تمہارے معنی ہی صیح ہوتے تو سب سے احق اور مقدم حضرت خلیفہ اول صدیق اکبر ہی تھے۔ وہ نبی ہوتے۔ ایسے ہی صحابہ کرام دنیا یہ سب کے سب، مطیع اللہ والرسولتھے ۔ بڑے بڑے غوث قطب گذرے۔ مگر مرزا صاحب کے سوا تم نے سب کو نعوذ باللہ مطیع الله والرسول نہ سمجھا۔ (افسوس صد افسوس)
خدار اذرا انصاف سے کہو کہ تم نے آیت پوری نقل کی ہے یا کچھ حصہ اس کا چھوڑ دیا ہے۔ افسوس کہ قصداً جان بوجھ کر مرزا صاحب کی خاطر یہ دھوکے بازیاں کی جاتی ہیں۔ ناظرین! اس آیت کے آگے اللہ عزوجل نے یوں فرمایا ہے کہ حسن اولیک رفیقا یعنی جنہوں نے اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کی۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ جن پر اللہ تعالی نے انعام کئے۔ نبیوں میں سے اور صدیقین میں سے اور شہداء صالحین میں سے اور وہ لوگ (یعنی جن پر اللہ تعالی نے انعام کئے ) بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔ اب ناظرین خود فیصلہ کر لیں کہ رفیق ساتھی کو ہی کہتے ہیں یا نہیں۔
مرزائیو! كيا لا تقربو الصلوة والی حکایت تم لوگوں کو وراثت میں ملی ہے۔
قولہ مع کے لفظ کے معنی من کے بھی آتے ہیں کہ ویسا ہی ہو جانا۔ (نبوت کی حقیقت میں ہے) اقول ۔ ہاں آتے ہیں تو آئیں ۔ تم یہ ثابت کرو کہ اس آیت میں بھی اس کے معنی من کے ہیں۔ مزا تو جب تھا کہ اگر ” بھی" کا لفظ ہضم کر کے یوں کہتے کہ مع کے لفظ کے معنی من کے آتے ہیں مگر خیر تم لوگوں سے کچھ بعید بھی نہیں۔ کل کو یوں ہی لکھ دو گے۔ آپ کا شکریہ کہ آپ لفظ ” بھی تو لے آئے اور یہ تو بتا دیا کہ اس کے معنی ہر جگہ حسن کے نہیں آتے سمجھ لو کہ ”مع“ کے حقیقی معنی ”ساتھ“ کے ہیں اور حقیقت جب متعذر یا متروک و مجہور ہو تو مجاز کی طرف جانا پڑتا ہے ورنہ حقیقت مقدم ہے ۔ ”مع “ جہاں بھی بمعنی ”من“ آئے گا۔ وہ معنی مجازی ہو گا۔ مگر اس آیت میں جب کہ کوئی کسی قسم کا تعذر نہیں بلکہ ایک آیت میں مع“ کاحقیقی معنی ہی لینے کی تاکید کر رہی ہو تو پھر خواہ مخواہ معنی مجازی کی طرف جانا خلاف اصول اور علامت جہالت ہے۔
کیا آپ کے بعد نبی نہ ہونا اچھی بات ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر کیوں ایسے معنی نبی کریمﷺکے متعلق کئے جاتے ہیں حالانکہ یہ امت خیر امت ہے۔ لیکن بنی اسرائیل میں بے شمار نبی آتے رہے یہ اچھی خیر امت ہے کہ اس میں ایک نبی بھی آنہیں سکتا۔ 72
گویا آپ ختم نبوت کا فیصلہ مخلوق کے اچھا یا برا کہنے پر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلطی ہے۔ اجی اللہ تعالیٰ جب فرما چکا۔ کہ حضورﷺ خاتم النبین ہیں۔ خود آقائے مدینہ ل الام ارشاد فرما چکے کہ میں آخری نبی ہوں۔ پھر اللہ اور اللہ کے رسول کے فیصلہ کر دینے کے بعد آپ مخلوق کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ افسوس ، یا درکھو کہ تمہیں مخلوق سے پوچھنے کا ہرگز ہرگز حق حاصل نہیں ۔ اللہ تعالی کے افعال خالی از حکمت نہیں ہوتے وہ جو چاہے .
سو کرے۔ ہمیں دخل اندازی کا حق حاصل نہیں ۔ تمہیں اگر اس میں شک ہے تو اللہ سے پوچھا ہوتا کہ اے اللہ ! جب حضور
کے بعد نبی نہ ہونا اچھی بات نہیں تو پھر تم نے کیوں فرمایا: وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کے بعد نبی نہ ہونا ہی اچھی بات ہے۔ کیونکہ کسی شئے کا حسن و فتح شارع سے معلوم ہو سکتا ہے۔ اور شارع
ایسے مدعیان نبوت کو جو آپ کے بعد دعوی کریں۔ دجال فرماتے ہیں۔ پھر اچھی بات کیسے ہوئی۔}}حضور
کے بعد نبی نہ ہونا باعث علوشمان محمدی اور باعث اعزاز امت محمد یہ علیٰ صاحبہا السلام ہے۔ مثلاً ایک مدرس اعلیٰ منفرد ابغیر کسی اعانت غیر کے اپنے ہائی سکول کے جمیع طلباء کو سبق دے دیتا ہے اور ایک دوسرے مڈل سکول کا مدرس اعلیٰ بغیر کسی دوسرے مدرس کی مدد کے تمام طلبا کو سبق نہیں دے سکتا ۔ بلکہ اس نے چھوٹے چھوٹے مدرس رکھ چھوڑے ہیں۔ تو پہلا مدرس جو بغیر کسی معین کے اپنے ہائی سکول کے تمام اسباق پورے کر دیتا ہے۔ اعلیٰ واعلم ہے۔ اس دوسرے مڈل سکول کے مدرس سے جو بغیر کسی معین کے سارے اسباق تک نہیں نبھا سکتا ۔ امام فخر الدین رازی
نے اس طریق سے حضور
کی فضیلت علی سائر الانبیاء ثابت کی ہے کہ اور انبیاء تو خاص خاص قوموں کی طرف مبعوث ہوتے رہے اور حضور
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ کا سہرا سر باندھ کر مبعوث ہوئے۔ لہذا وہ شخص جو سارے جہان کے لئے ہادی و معلم بن کر تشریف لایا ہو۔ افضل ہے۔ اس سے جو ایک خاص قوم کی طرف مبعوث ہو۔ اس لئے ظاہر ہے کہ ایک شخص کے دو دشمن ہیں اور وہ ان سے مقابلہ کر کے جیت جاتا ہے۔ اور ایک شخص کا ایک سارا شہر دشمن ہے۔ اور وہ اس سارے شہر سے مقابلہ کرکے : جیت جاتا ہے۔ تو یہ اس کی بکمال درجہ بہادری اور فضیلت . ی اور فضیلت ہے۔ اس پہلے شخص سے جو ص سے جو دو دشمنوں سے مقابلہ کر کے جیت چکا ہے۔ حضور اقدسﷺکہ جب دنیا میں رونق افروز ہوتے ہیں تو جہان میں خصوصا ملک عرب میں جو جو کچھ ہوتا تھا۔ سب پر واضح ہے ایسے ظالم اور وحشی لوگوں میں آپ تشریف لاکر بحکم خداوند کریم سارے عالم کو مخاطب فرماتے ہیں ۔ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا اعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ73اب ظاہر ہے کہ ایک شخص ایک شہر میں جا کر اہل بلدۃ کے مخالف آواز اٹھا کر اور انہیں بغیر کسی خوف کے برا کہہ کر تنہا ان سے مقابلہ کرتا ہے اور پھر فتح یاب ہو کر اس شہر پر قبضہ کر کے حکومت کرنے لگ جاتا ہے۔ تو یہ اس کی کمال درجہ کی بہادری اور فضیلت ہے۔
اگر اس امت کا خیر امت ہونا اس امر کا مقتضی ہے کہ اس امت میں نبی آویں۔ تو پھر چاہئے تھا کہ بنی اسرائیل کی طرح اس امت میں بھی بے شمار بلکہ اس سے بھی زائد نبی آتے یہ اچھی خیر امت ہے کہ اس میں ایک ہی نبی آوے۔ خود تم مان چکے ہو۔ کہ بنی اسرائیل میں بے شمار نبی آتے رہے تو افسوس ہے کہ بنی اسرائیل میں تو بے شمار نبی مانو اور اس امت میں جے خیر امت بھی کہتے ہو ۔ ایک ہی نبی ثابت کرتے ہو۔ حضرت موسیٰ
کے زمانہ مبارکہ میں ہی حضرت یوشع
اور حضرت شعیب
بلکہ موسیٰ
کے ساتھ ساتھ ہی ان کے برادر حضرت ہارون
نبی موجود تھے۔ تو پھر اس امت میں جو خیر امت ہے۔ کیا وجہ کہ حضور اقدس ﷺکے زمانہ مبارکہ میں پھر آج تک اور کوئی نبی نہ ہوا۔
نبوت نعمت ہے۔ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذَجَعَلَ فِيكُمْ انبياءغفرلہ21( سورة آل عمران آیت نمبر ۲۰) تو گویا نعوذ باللہ آپ رحمة للعالمین نہیں بلکہ لوگوں کے لئے منحوس ہیں کہ انعام کو بند کر دیا۔ 74
یہ اعتراض کفار عرب نے کیا تھا۔ علامہ اسمعیل حقی
روح البیان کیا ۱۸۸ ج ے میں فرماتے ہیں ۔ لمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ ( وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ) اسْتَغْرَبَ الْكُفَّا كَرَنَ بَابِ النَّبوة مسدودا! کہ جب اللہ تعالی نے آیت خاتم النبین نازل فرمائی تو کفار نے حضور اقدسﷺ کے وجود باوجود سے دروازہ نبوت کا بند ہو جانا ایک نادر اور عجیب امر سمجھا۔ یعنی انہوں نے بھی یہی کہنا شروع کیا۔ کہ حضور
سے پہلے تو انبیاء آتے رہے مگر کیا وجہ کہ حضور
نے آکر دروازہ نبوت بند کر دیا سچ ہے۔
یہ انعام اللہ عز وجل نے کبھی بغیر ضرورت کے کسی پر نہیں کیا اور جب کہ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ عزوجل سے وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ75 اور وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ76 کا انعام لے کر رونق افروز ہوئے ہیں تو پھر عالم کو کیا ضرورت کہ کسی اور نبی کا مقتضی ہو۔ حضور ﷺ کا اس امت پر یہ انعام کہ اسے لقب خیر امت سے ملقب فرمایا جانا اور پھر آقائے نامدار احمد مختار علی السلام کی خاطر اس امت سے کئی تکالیف کا اٹھا لینا۔ اور تھوڑے عمل پر زیادہ اجر کا ملنا۔ سب امتوں سے پہلے جنت میں جانا۔ اور اللہ تعالیٰ کا اسے نظر کرم و رحم سے دیکھنا ہی ایسے ایسے اس امت پر انعام ہیں کہ جن کا شکریہ ہم سے ہرگز ادا نہیں ہو سکتا۔ پھر تم یہ گستاخانہ لفظ منہ سے نکالتے ہو کہ آپ کو خاتم النبین ماننے سے آپ نعوذ باللہ منحوس ثابت ہوتے ہیں۔ ارے حضور
کا تشریف لانا ایک ایسا زبردست اور عظیم الشان انعام ہے کہ جس پر ہر ایک مسلمان کو فخر ہے اور انعام یہ نہیں کہ صرف سکے والوں کے لئے ہے یا صرف مدینہ والوں کے لئے نہیں بلکہ یہ انعام انہی دونوں جہان کے لئے ہے۔ جن وانبس ملائکہ حور و غلمان کے لئے ہے۔ اور سب ہی کو فخر ہے اس امر کا کہ اللہ عز و جل نے آقائے نامدار مدنی تاجدار احمد مختار ملی غیر ارام و وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ77 کا سر سہرا باندھ کر اور تمام پیغمبروں کا سردار و خاتم النبیین بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا ہے کیا یہ انعام الہی کم ہے۔ جو ہم اب پھر انعام نبوت کے خواہاں ہوں اور ہمیں اپنے نبی کے سوا کسی اور نبی کی حاجت ہو اور جب تم نے حضور
کے سوا ایک اور نبی بنالیا تو گویا نعوذ باللہ آپ رحمۃ للعالمین نہیں ۔ اس لئے کہ تم اگر حضور
کو دو جہان کی رحمت اور رسول مانتے تو کسی دوسرے کا دامن ہرگز نہ پکڑتے۔
کیا رسالت یعنی نبوت تشریعیہ نعمت نہیں؟ اگر ہے تو حضور
کے قبل تو رسول آتے رہے۔ مگر حضور
کے بعد تم بھی نہیں مانتے۔فما هو جوابكم فهوجوابنا ..!
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمُ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا78 ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا۔ جیسے کہ ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا۔ یہاں حضور
کو موسیٰ
کیسا تھ تشبیہ دی گئی ہے اب یہ تشبیبہ جب پوری ہوگی اگر حضور ﷺکے بعد بھی انبیا آئیں ۔ جیسے موسیٰ
کے بعد بموجب آیت۔
قَفَيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ79 آیئے ورنہ تشبیہ صیح نہیں۔
واہ سبحان اللہ ! کیا ہی عجیب استدلال ہے۔ کیوں جناب کیا مشبہ اور مشبہ بہ میں من كل الوجوہ تشبیہہ ہوا کرتی ہے۔ اگر ایک پہلو ان کو شیر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا جائے کہ کا الاسد وہ شیر جیسا ہے تو کیا بعینہ درندہ بن جائے گا اسے کیا دم بھی لگ جائے گی نہیں ہرگز نہیں اسے تو صرف قوت میں تشبیہ دی گئی ہے۔ ایسے ہی حضور
کو موسیٰ
کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے صرف رسالت میں تشبیہہ دی ہے۔ ورنہ موسی علی اسلام تو هو صرف فرعون کی طرف مبعوث ہوئے ۔ بر خلاف محمد رسول اللہ ﷺکے کہ آپ سارے عالم کی طرف مبعوث ہیں۔ موسی
کے زمانہ میں ہی اور نبی موجود تھے۔ جیسے کہ ہارون اور یوشع ، اور شعیب
بر خلاف محمد رسول اللہ ﷺعلم کے کہ تم بھی مانتے ہو کہ آپ کے زمانہ مبارکہ میں کوئی نبی نہ تھا اور پھر موٹے
کے انتقال کے بعد متواتر نبی آتے رہے۔ برخلاف حضور
کے کہ تم بھی مانتے ہو کہ مرزا صاحب سے قبل اتنی دراز مدت میں کوئی نبی نہ آیا۔ موسیٰ
دنیا میں رونق افروز ہوتے ہی دریا میں ڈالے گئے ۔ بر خلاف ہمارے نبیﷺاس کے کہ موسیٰ
کے حق میں اللہ نے وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ فرمایا۔ ہمارے آقا کے حق میں اللہ تعالیٰ نے وَلكِن رَسُول الله وَخَاتَمَ النبيين فرمایا۔
الغرض اگر حضرت موسیٰ
سے حضور
کو من کل الوجوہ تشبیہ ہوتی۔ تو ان باتوں میں بھی موافقت ضروری تھی۔
کیوں جناب آپ نے یہ فضول استدلال کرتے ہوئے حقیقۃ الوحی ص ۱۰۱ ( روحانی خزائن جلد نمبر ۲ سفر نمبر ۱۰) پر نظر نہ کر لیں کہ مرزا صاحب اس آیت کو اپنے آپ پر چسپاں کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بھی نازل کی ہے۔ ذرا حقیقۃ الوحی کا صفحہ ایک سو ایک دیکھ کر پھر مجھے بتاؤ۔ کہ کیا مرزا صاحب بھی موسیٰ
کی طرح مستقل رسول ہیں اور کیا وہ موسیٰ
کی تمام خصوصیات سے بھی مماثل ہیں۔ چاہیئے تو اب یونہی کہ مرزا صاحب کے بعد بھی بعینہ اسی طرح بے شمار نبی آتے رہیں۔ جیسے کہ حضرت موسیٰ
کے بعد آتے رہے۔ اب جو تمہارا جواب وہی ہمارا جواب ۔
اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَئِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ80
اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ ہی چتا ہے فرشتوں میں سے رسول اور انسانوں میں سے ۔ اور اس کا ترجمہ یوں کرنا کہ چلتا رہے گا گویا قرآن میں تناقض ثابت کرنا ہے۔ اور حالت تناقض میں قرآن کا من عند اللہ ثابت نہ ہوگا ۔ لہذا یہ ترجمہ کرنا کہ چلتا رہے گا بلکہ اس آیت میں تو اس امر کا بیان ہے کہ رسول دو قسم پر ہیں۔ انسان اور ملک (فرشتہ ) اور اس امر کا رد ہے کہ رسول .... انسان نہیں ہو سکتا۔
علامہ سفلی
فرماتے ہیں:
( ومن المليكة رُسُلًا ) كَجِبْرَئِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَائِيلَ وغيرهم ( ومن الناس ) رُسُلًا كَابْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَمُحَمَّدٍ وغيرهم عليهم السلام - هذا رَدُّنِنَا انكروه مِن أَنْ يَكُونَ الرَّسُولُ مِنَ الْبَشَرِ وَ بَيَانٌ أَنَّ رَسُلُ اللَّهِ عَلَى ضَرْبَيْنِ مَلَكٌ وَ بَشَرٌ81
یعنے فرشتوں میں سے اللہ تعالیٰ نے جبرئیل اور میکائیل اور اسرائیل و غیر ہم رسول چنے اور انسانوں میں سے حضرت ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ اور حضور
بنے۔ یہ رد ہے ان کا جو کہتے ہیں رسول انسانوں سے نہیں ہو سکتا۔ اور بیان ہے اس امر کا کہ رسول دو قسم پر ہیں۔ ملک اور انسان ۔
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں اللہ کا منشا یہ نہیں کہ وہ حضور
کے بعد بھی رسول چلتا رہے گا۔ علامہ ابن جریر
فرماتے ہیں۔
وَمِنَ النَّاسِ كَا نَبِيَائِهِ الَّذِينَ أَرْسَلَهُمْ إِلَى عِبَادِهِ مِنْ بَنی آدم82
اللہ ہی چلتا ہے رسول ملائکہ سے اور انسانوں سے جیسے کہ وہ نبی جنہیں اس نے اپنے بندوں کی طرف بھیجا۔
تو معلوم ہوا کہ اس کا ترجمہ یہ نہیں کہ چلتا رہے گا۔ بلکہ یہاں وہ انبیاء مراد ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف بھیج چکا۔ علامہ جلال الدین سیوطی
ایک صحیح حدیث سید المفسرین حضرت ابن عباس الی اللہ سے نقل فرماتے ہیں۔ فرمایا :
اخرج الحاكم وصححه عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله اصطفى موسى بالكلام وابراهيم بالخلة
یعنی حضور
نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے موسیٰ
کو کلام کے ساتھ اور حضرت ابراہیم
کو خلہ کے ساتھ چن لیا۔ 83
معلوم ہوا کہ حضور
خود فرما گئے کہ ایسا نہ سمجھ لینا کہ میرے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے رسول چننے کا وعدہ فرمایا ہے۔ بلکہ اس آیت میں تو اللہ عز وجل نے ان نبیوں کے متعلق ذکر فرمایا ہے۔ جنہیں وہ مبعوث فرماچ کا مثلاً موسیٰ
کو کہ انہیں اللہ تعالٰی نے کلام کے ساتھ چن لیا اور ابراہیم کہ انہیں اللہ عز وجل نے خلت کے ساتھ چن لیا۔
قُولُوا إِنَّهُ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءَ وَلَا تَقُولُو لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ کہو خاتم الانبیاء ہیں مگر یہ نہ کہو کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔84
یہ قول صاحب عملہ مجمع البحار نے بے سند نقل کیا ہے لہذا یہ احادیث اصحاح کے مقابلہ میں نہیں آسکتا۔ ارے جب خود حضور اقدس ﷺ سے متعدد مقامات پر ثابت ہو چکا کہ آپ خود فرماتے ہیں ۔ لانَبِی بَعْدِی ۔ اگر لانبی کہنا خطا ہوتا تو حضور اقدس ملی می دانم کیوں فرماتے ۔ معلوم ہوا کہ یہ قول بے سند قابل حجت نہیں۔
اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ قول حضرت عائشہ
کا ہے۔ تو ہم کہیں گے کہ ذرا خدا سے ڈر کر تکملہ مجمع البحار میں اسی قول کے آگے متصلا جو جملہ ہے۔ اسے بھی لوگوں کو پڑھ کر سنا دو کہ صاحب مجمع البحار اس قول کے آگے خود تصریح فرمارہے ہیں۔ هذا نا ظرالی نزول عیسی ۔ یعنی حضرت عائشہ یا قولوا انه خاتم الانبياء ولا تقولو الانبي بعده غفرلہ حضرت عیسٰی
کے نزول کو مد نظر رکھ کر فرمایا ہے یعنی چونکہ حضرت عائشہ
حضورﷺ سے معلوم کر چکی تھیں کہ حضور کے بعد عیسی
آسمان سے اتریں گے اسلئے حضرت عائشہ
نے فرمایا کہ حضورﷺ کو خاتم النبیین تو کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے کہ حضرت عیسی
نے جو ابھی آتا ہے۔ بتائیے صاحب اس قول سے تو مارے ہی عقیدہ باطلہ وفات مسیح کی تردید ثابت ہو رہی ہے۔ اجرائے نبوت کو تو ذرا بھی تمہارے اس سے تقویت نہیں پہنچ رہی۔
افسوس کہ آپ نے پوری عبارت نقل نہیں کی۔ اور کیسے کرتے ہے کہ محض دھوکا دنیا مقصود ہے۔ حملہ مجمع البحار کی پوری عبارت یوں ہے:
وَفِي حَدِيثٍ عِيسَى أَنَّهُ يَقْتُلُ الْخِنُرِيهَ وَيَكْسُرُ الصَّلِيبَ وَيَزِيدُ فِي الْحَلَالِ أَي يَزِيدُ فِي حَلَالِ نَفْسِهِ بِأَنْ يَتَزَوَّجَ وَيُولَدْ لَهُ وَكَانَ لَمْ يَتَزَوَّجُ قَبْلَ رَفِعْهِ إِلَى السَّمَاءِ فَزَادَ بَعْدَ الْهَبُوطِ فِي الْحَلَالِ عَيْنَهُ يُؤْمِنُ كُلُّ اَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مُتَقَنَ بِأَنَّهُ بَشَرَ وَقَالَ عَائِشَةُ قُولُوا إِنَّهُ خَاتِمُ الْأَنْبِيَاء وَلَا تَقُولُوا لَانَبِيَّ بَعْدَهُ وَهُذَا نَاظِرْ إِلَى نَزُولِ عِيسَى
ترجمہ: اور حدیث عیسی
میں یہ آتا ہے کہ وہ خنزیر کو قتل کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ اپنے نفس کے حلال میں زیادتی کریں گے بیاں طور کہ وہ نکاح کریں گے اور اولاد ہوگی اور آسمان پر تشریف لے جانے کے قبل وہ کنوارے تھے۔ پس آسمان سے اترنے کے بعد حلال میں زیادتی کریں گے پس اس وقت اہل کتاب سے ہر ایک ان پر ایمان لائے گا۔ اور انہیں انسان ہی یقیں کرے گا۔ اور حضرت عائشہ
فرماتی ہیں کہ حضور
کو خاتم الانبیا تو کہو یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں یہ قول ناظر ہے نزول عیسی
علیہ السلام کی طرف انتھی کیوں جناب لا تقربوا الصلوۃ والا واقعہ ہوا یا نہ ہوا۔ ہم پوچھتے ؟ ہیں کہ اگر مجمع البحار کی عبارت تمہارے ہاں حجت ہے تو ساری عبارت پر ایمان لاؤ اور مانو کہ عیسی
ابھی زندہ ہیں۔ آسمان سے اتریں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ اور اگر نہیں تو پھر کس منہ سے مجمع البحار کی عبارت کا اتنا سا حصہ پیش کر دیا۔ یا تو ساری عبارت پر ایمان لاؤ۔ یا ساری کو چھوڑو اور اس واحد تمہار سے ڈرو۔
لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمَ لَكَانَ صِدِيقًا نَبِيًّا (ابن ماجه ) اگر ابراہیم زندہ ہوتے تو ضرور وہ سچے نبی ہوتے ۔85
افسوس! اگر تمہارا مقصود مخلوق خدا کو گمراہ کرنا نہ ہوتا اور اگر تمہارے دل میں خوف خدا جاگزین ہوتا۔ تو اس حدیث کو ہرگز ہرگز پیش نہ کرتے۔ کیونکہ یہ حدیث بڑی ضعیف ہے۔ بڑے بڑے محدث اسے باطل غیر صحیح نا قابل اعتبار بتارہے ہیں۔ سنو! تم نے اس حدیث کو بے سند نقل کیا ہے۔ ہم اس کی سند لکھ کر بتاتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے اور اس میں ایک راوی ایسا ہے۔ جس پر محدثین نے سخت جرح کی ہے۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد كنا داود بن شبيب الباهلي ثنا ابراهيم بن عثمان ثنا احكم بن عتيبه عن مقسم عن ابن عباس الخ86
یہ اس حدیث کی سند ہے۔ اس میں ابراہیم بن عثمان جو راوی ہے۔ وہ سخت مجروحاور متروک الحدیث ہے۔ کاش کہ تم ابن ماجہ کے حاشیہ پر ہی نظر ڈال لیتے کہ شیخ عبدالغنی دہلوی مدنی محششی ابن ماجہ فرماتے ہیں۔
وَقَدْ تَكَلَّمُ بَعْضُ النَّاسِ فِي صِحَةِ هَذَا الْحَدِيثِ كَمَا ذَكَرَهُ السَّيِّدِ
یعنی اس حدیث کی سند میں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان آتا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ اور مرقاۃ کے اسی صفحہ پر ہے۔ نیز مواہب لدنیہ کے ص ۲۰۰ ج ا پر ہے۔
وَقَالَ النووى في تهذيبه وَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنْ بَعْضٍ الْمُتَقَدِّمِينَ حَدِيثُ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ نَبِيًّا فَبَاطِلٌ یعنی علامہ نووی اپنی تہذیب میں فرماتے ہیں کہ بعض متقدمین سے جو حدیث روایت کی گئی ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ یہ باطل ہے۔
اور پھر مرقاۃ کے اسی صفحہ پر اور ابن ماجہ میں اسی حدیث کے حاشیہ پر اور مدارج النبوۃ کے ص ۲۶۷ ج ۲ پر اور مواہب لدنیہ کے ص ۲۰۰ پر ہے کہ قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ لَا أَدْرِي مَا هَذَا یعنی ابن عبدالبر نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہیہ روایت کیا ہے۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی
فرماتے ہیں:
و در روضه الاحباب این را این چنین نقل کرده و گفته که آنچه از سلف منقول است که ابراہیم پر پیغمبر
در حالت صفروفات یافت و اگر ہے زیست پیغمبر می شود بصحت نرسیده و اعتبار سے ندارد (مدارج النبوۃ ص ۲۶۷ ج ۳)
یعنی روضۃ الاحباب میں ہے کہ وہ روایت جو سلف سے منقول ہے کہ حضور
کے صاحبزادے ابراہیم بچپن میں ہی رحلت فرما گئے۔ اور اگر زندہ رہتے تو نبی ہوتے ۔ صحت کو نہیں پہنچی اور قابل اعتبار نہیں۔
کیوں صاحب ! اگر آپ کو ذرا بھی خوف خدا ہوتا تو کیا آپ ایسی حدیث پیش کر کے مخلوق خدا کو گمراہ کرنے کی جرات کرتے ۔ جس حدیث پر کہ محدثین سو طرح کی جرحکر چکے ہوں۔ اور جس کے راوی کو ضعیف غیر قومی اور منکر الحدیث متروک الحدیث غیر ثقہ ساقط وغیرہ لکھ چکے ہوں۔ افسوس صد ہزار افسوس کہ مرزا صاحب کی محبت میں آپ لوگ حق کی بالکل پروانہیں کرتے ۔
وَقَالَ أَبُو حَاتِم ضَعِيفُ الْحَدِيثِ سَكَتُوا عَنْهُ وَتَرَكُوا حَدِيثَهُ اور ابو حاتم نے کہا کہ وہ ضعیف الحدیث ہے محد ثین نے اس سے سکوت کیا اور اس کی حدیث کو چھوڑ دیا۔
وَقَالَ الْجَوَ زَانِي سَاقِط اور جو زانی نے کہا کہ وہ ساقط ہے۔ وَقَالَ صَالِح جرزه ضعيف لا يكتب حديثه اور صالح جرزہ نے کہا کہ وہ ضعیف ہے۔ اس کی حدیث نہ لکھی جائے روى عن الحكم احادیث مناكير اس نے حکم اسے منکر حدیثیں روایت کی ہیں: وقال ابو علی النیسا پوری ليس بالقوی اور ابو علی نیشا پوری نے کہا کہ وہ قوی نہیں۔
وَقَالَ مُعَاذُ ابْنُ مُعَاذَ الْعَبْرِي كَتَبْتُ إِلَى شَعْبَةَ وَهُوَ بِبَغْدَادَ أَسَالُهُ عَنْ أَبِي شِيْبَةَ الْقَاضِي أَروى عَنْهُ فَكَتَبَ إِلَى لَا تَرُوعَنْهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَنْمُومٌ
اور معاذ بن معاذ نے کہا کہ میں بغداد میں شعبہ کی طرف لکھ کر یہ پوچھا کہ میں ابو شیبه ابراهیم بن عثمان سے روایت کروں تو انہوں نے مجھے لکھا کہ اس سے روایت مت کرو کہ وہ ایک برا شخص ہے۔
وَقَالَ ابْنُ سَعْدِ كَانَ ضَعِيفًا فِي الْحَدِيثِ اور ابن سعد اسے حدیث میں ضعیف کہتے ہیں ۔ وَقَالَ الدَّارُ تُطنِی ضَعِعیف اور دار قطنی نے کہا کہ وہ ضعیف ہے۔87
علامہ علی قاری
فرماتے ہیں:
وَفِي سَنَدِهِ أَبُو شَيْبَهِ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ عُثْمَانَ الْوَاسِطِي وَهُوَ ضَعِيفٌ88
حدیث زیر بحث بھی اس نے حکم سے ہی روایت کی ہے
جَمَالُ الدِّينُ الْمُحَدِّثُ یعنی تحقیق بعض محدثین نے اس حدیث کی صحت میں کلام کی ہے۔ جیسے کہ ذکر کیا اس کا سید جمال الدین محدث نے
اور پھر فرمایا:
رَوَى ابْنُ مَاجَةَ بِسَنَدٍ فِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ عُثْمَان الْعَبَسِي قَاضِي وَاسِطٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ
یعنی - اس حدیث کو ابن ماجہ نے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ جس میں ابراہیم بن عثمان آتا ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی
فرماتے ہیں:
و در سند ایں حدیث ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان واسطی است دور ضعیف است89
یعنی اس حدیث کی سند میں ابراہیم بن عثمان آتا ہے اور وہ ضعیف ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی
تہذیب التہذیب میں ابراہیم بن عثمان کے متعلق فرماتے ہیں:
قَالَ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَأَبُو دَاوُدَ ضَعِيفٌ بِثِقَةٍ
احمد اور یحییٰ اور ابو داؤد نے کہا کہ وہ ضعیف ہے۔
وَقَالَ يَحْيَى أَيْضًا لَيْسَ بِثِقَةٍ
کی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ثقہ نہیں ۔
وَقَالَ الْبُخَارِي سَكَتُوا عَنْهُ
اور بخاری نے کہا ہے کہ محد ثین نے اس سے سکوت کہا ہے۔
وَقَالَ التَّرْمَذِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ
اور ترندی نے کہا کہ وہ منکر الحدیث ہے۔
وَقَالَ النِّسَائِي وَالدُّوَلَابِي مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ
اور نسائی اور دولابی نے اسے متروک الحدیث کہا ہے۔
افسوس کہ اپنے مطلب کی کہی۔ اس حدیث سے پہلے ساتھ ہی جو حدیث ابن ماجہ میں آتی ہے۔ ذرا اسے بھی لکھ دیا ہوتا تاکہ اس حدیث کا مطلب صاف ہو جاتا۔ مگر لکھتے کیوں ۔ جب کہ تمہارا مقصود ہی لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔ سنو ۔ اس حدیث کے ساتھ ہی۔ یہ حدیث آتی ہے۔ حضرت اسمعیل بن خالد نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی
سے فرمایا:
رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَکیا آپ نے حضور
کے صاحبزادے ابراہیم کو دیکھا انہوں نے فرمایا کہ مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ لَعَاشَ ابْنُهُ وَلَكِنْ لَا نَبِي بَعْدَهُ90
کہ وہ پچپن میں رحلت فرما گئے ۔ اگر یہ مقدر ہوتا کہ حضور
کے بعد بھی نبی ہو۔ تو البتہ وہ زندہ رہتے لیکن حضور
کے بعد کوئی نبی نہیں، یہ حدیث بخاری شریف میں بھی ہے (دیکھو ۲۱۳ پ ۲۵ باب من تسمی با سماء الانبیاء) اور یہ حدیث صحیح ہے۔ چنانچہ شیخ عبد الغنی محدث دہلوی محشی ابن ماجہ فرماتے ہیں:
الَّذِي أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي بَابِ تُسْمَى بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ صَحِيحٌ لَاشَكٍّ فِي صِحَتِهِ وَقَدْ أَخْرَجَ الْمُؤَلِّفُ أَيْضًا بِهَذَا الطَّرِيقِ مِنْ حَدِيثُ مُحَمَّدِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ نَمُيَرًا الخ91
ترجمہ: یعنی جس حدیث کا بخاری نے باب میں من تسمی با سماء الانبیاء میں اخراج کیا ہے وہ صحیح ہے اس کی صحت میں کوئی شک نہیں اور اس حدیث کا محمد بن عبد اللہ نمیر سے اسی طریق سے ابن ماجہ نے بھی اخراج کیا ہے۔
علامہ قسطلائی نے مواہب لدنیہ ص ۲۰۰ ج ا پر ایک حدیث نقل کی ہے کہ:
قَدْرُوِيَ مِنْ حَدِيثِ انْسِ ابْنِ مَالِكَ أَنَّهُ قَالَ لَوْ بَقِيَ يعنى إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ نَبِيًّا وَلَكِن لَّمْ يَبْقَ لأَنَّ نَبِيْكُمْ اخر الانبیاء یعنی انس بن مالک فرماتے ہیں کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے۔ لیکن وہ زندہ نہ رہے۔ اس لئے کہ تمہارے نبی آخر الانبیاء ہیں۔ حضرت ابن ابی اوفی
کی حدیث میں آتا ہے۔
لَوْ كَانَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ لَمَا مَاتَ ابْنُما گر حضور
کے بعد نبی ہوتا۔ تو آپ کے صاحبزادے رحلت نہ فرماتے ۔ 92
اب تمہاری حدیث لو عاش ابراهيم لكان نبیا کا مطلب صاف ہے کہ اگر حضور
کے بعد نبی آنا ممکن ہوتا تو ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہوتے۔ مگر حضور
چونکہ آخر الانبیا اور خاتم النبیین ہیں۔ لہذا ابراہیم زندہ نہ رہے اور ان کا زندہ رہنا بھی محال تھا۔
حضرت ابن عباس
کا فرمان گزر چکا ہے کہ وہ فرماتے ہیں:
يُرِيدُ لَوْ لَمْ اخْتِمُ بِهِ النَّبِيِّينَ لَجَعَلْتُ لَهُ ابْنَا يَكُونُ بَعْدَهُ نَبِيًّا ( خازن) یعنی اللہ تعالیٰ آیت وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن میں یہ ارادہ فرماتا ہے کہ اگر میں حضور
کے وجود باوجود سے نبیوں کو ختم نہ کرتا۔ تو آپ کو بیٹا دیتا۔ جوآپ کے بعد نبی ہوتا ۔
اور فرمایا:
إِنَّ اللهَ لَمَّا حَكَمَ أَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ لَمْ يُعْطِهِ وَلَدًا ذِكْرًا يُصِيرُ رَجُلًا (خازن ) یعنی جب اللہ نے فرمایا کہ حضور
کے بعد کوئی نبی نہیں۔ تو آپ کو ایسا بیٹا ہی نہیں دیا جو مبلغ رجال تک پہنچ جاتا۔
واخر دعونا ان الحمد لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مُحَمَّدٍ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحُبِهِ أَجْمَعِينَ