بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِين
اما بعد!
قرب قیامت میں حضرت امام مہدی
کی آمد کے متعلق اسلامی عقیدہ نہایت ہی واضح ہے ( جو فقیر آگے چل عرض کریگا ) مگر بعض فرقے ان کے متعلق اپنا اپنا رنگ پیش کر کے اہل اسلام کے مسلمہ عقیدے میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں بعض بد بخت تو مہدیت کا دعویٰ کر کے امت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر ان کا عبرتناک حشر دنیا نے دیکھا آگے بھی اگر کوئی سر پھرا مہدیت کا دعوی کریگا اس کا انجام بد سے بدتر ہوگا فقیر حضرت امام مہدی
کے متعلق اسلام کا نکتہ نظر عرض کرتا ہے اپنے اہل اسلام بھائیوں سے اپیل کرتا ہے کہ کسی بہکاوے میں نہ آئیں قرآن وحدیث کی روشنی میں اپنا عقیدہ درست رکھیں۔
بہت سے لوگ امام مہدی پر علیہ السلام کہتے لکھتے ہیں یہ غلط ہے شیعوں کا طریقہ ہے۔ علیہ السلام وغیرہ انبیاء عظام اور ملائکہ کرام کے علاوہ کسی کے لئے علیہ السلام لکھنا پڑھنا مکروہ ہے تفصیل دیکھئے فقیر کا رسالہ ” کراہت علیہ السلام لغیر الانبیاء والملائکة الكرام اویسی غفرلہ“
کے متعلق ہمارا عقیدہ:حضرت امام مہدی
خلیفہ اللہ ہیں ۔ آپ حضور نبی کریم ﷺکی آولاد میں سے حسنی سید ہوں گے۔ جب دنیا میں گھر پھیل جائے گا اور اسلام حرمین شریفین ( مکہ مکرمہ مدینہ منورہ) کی طرف سمٹ جائے گا ، اولیاء و ابدال وہاں کو ہجرت کر جائیں گے۔ ماہِ رمضان میں ابدال کعبہ شریف کے طواف میں مشغول ہوں گے وہاں اولیاء حضرت مہدی
کو پہچان کر ان سے بیعت کی درخواست کریں گے۔ آپ انکار فرمائیں گے۔ غیب سے ندا آئے گی :
هذَا خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِى فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوه
یہ اللہ تعالی کے خلیفہ مہدی ہیں ان کا حکم سنو اور اطاعت کرو۔
لوگ امام مہدی
کے دہاتھ مبارک پر بیعت کریں گے وہاں سے مسلمانوں کو ساتھ لے کر شام تشریف لے جائیں گے ۔ آپ کا زمانہ بڑی خیرو برکت کا ہوگا۔ زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔
امام مہدی والد کی طرف سے حسنی سید ہوں گے والدہ کی طرف سے حسینی ، آپ کے اصول میں کوئی والدہ حضرت عباس کی اولاد سے ہوں گی لہذا آپ حسنی بھی ہیں حسینی بھی اور عباسی بھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ (اشعۃ اللمعات)
حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلوی المتوفی ۱۲۳۳ ۱۸۱۷ء رسالہ حشریہ میں لکھتے ہیں کہ امام مہدی کا نام محمد اور والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ ہوگا۔
حشر یہ رسالہ بنام قیامت نامہ (فارسی ) میں مجتبائی دہلی سے چھپا اور اردو میں علامات قیامت کے نام سے کراچی ( باب المدینہ ) اصبح المطابع نور محمد کتب خانہ آرام باغ میں بار بار چھپ رہا ہے۔
قاضی عیاض
المتوفی ۵۴۴ تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کی کنیت ابو القاسم ہوگی ۔ بعض کے نزدیک آپ کی کنیت ابو عبداللہ ہو گی آپ کو جابر بمعنی ظالم لوگوں پر غلبہ پانے والا بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت علامہ ابن حجر مکی
المتوفی ۹۷۴ھ نے فرمایا کہ مہدی کا مطلب یہ ہے کہ آپ گمراه مخلوق کو ہدایت پر جمع کریں گے۔ 1
آپ کی کنیت ابو عبد اللہ ہوگی شفاء قاضی عیاض
المتوفی ۵۴۴ھ میں ہے کہ روایات کثیرہ صحیحہ مشہورہ میں ہے کہ آپ سیدہ فاطمہ زہرا
کی اولاد سے ہوں گے بعض روایات میں ہے کہ اولاد حضرت عباس
سے ہوں گے پھر اختلاف ہے کہ سیدہ فاطمہ
کی اولاد سے کسی شہزادہ کی اولاد سے ہوں گے بعض روایات میں امام حسن
کی اولاد سے بعض روایات میں امام حسین
کی اولاد سے ہوں گے۔
کی تحقیق انیق:آپ یقینی طور پر حضرت امام مہدی حضرت امام حسن
کی اولاد کے متعلق لکھ کر ایک نکتہ بھی تحریر فرماتے ہیں اور ساتھ دوسری روایات کو بیکار سمجھتے ہیں چنانچہ فرمایا علما محققین نے لکھا ہے کہ حضرت مہدی کا حضرت حسن
کی نسل سے ہونا کسی حکمت سے خالی نہیں ہے۔ علامہ ابن حجر مکی
المتوفی ۹۴۷ ھ اور دوسرے علماء امت لکھتے ہیں :
وكان سره ترك الحسن الخلافة لله عز وجل شفقة على الامة فجعل الله القائم بالخلافة الحق عند شدة الحاجة اليها من ولده ليملاء الأرض عدلاً ورواية من كونه من ولد الحسين واهية جداً1(صواعق المحرقہ صفحہ ۱۶۸، نبراس صفحہ ۵۲۴)
اس میں راز یہ ہے کہ حضرت حسن
نے خالص اللہ اپنی خلافت امیر معاویہ
کے سپرد کر دی تھی اور مسلمانوں کو خون ریزی سے بچالیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے ان کی نسل سے ایسا خلیفہ پیدا کیا جو تمام زمین کا بادشاہ ہوگا اور عدل سے ملک کو بھر دے گا۔ جس روایت میں ہے کہ حضرت مہدی حضرت امام حسین
کی نسل سے ہیں وہ بالکل ناقص روایت ہے۔
اسی طرح جن جن روایتوں میں حضرت حسن
کی نسل سے حضرت مہدی کے ہونے کا خلاف پایا جاتا ہے وہ بالکل لکھی اور جھوٹی روایتیں ہیں بعض علماء نے ان میں تطبیق سے کام لیا ہے۔
روایات مختلفہ مذکورہ کی تطبیق یوں ہے کہ باپ کی جانب سے حسنی اور ماں کی جانب سے حسینی جیسے سیدنا شیخ عبد القادر غوث اعظم
حسنی بھی ہیں اور حسینی بھی امام مہدی
نجیب الطرفین ہوں گے جیسے حضور غوث اعظم نجیب الطرفین ہیں۔ یونہی حضرت عباس
کی اولاد کا بھی یہی مطلب ہے کہ آپ کے اوپر کے نسب میں کسی جگہ کوئی خاتون حضرت عباس
کی اولاد میں سے ہوں گی اس اعتبار سے اولاد العباس روایات میں آیا ہے تو کوئی حرج نہیں حقیقت وہی ہے جو او پر مذکور ہوئی۔
علاوہ ازیں حضرت عباس
کی اولاد سے ایک اور مہدی موسوم ہے اس کے سیاہ جھنڈے خراسان سے آئیں گے جیسے امام مہدی
کے لئے جھنڈے آئیں گے اس کی تفصیل آئے گی۔
آپ کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوگی ( رواہ ابونعیم ) تذکرۃ القرطبی میں ہے آپ کا مولد بلاد مغرب ہے وہاں سے تشریف لائیں گے سمندر عبور کر کے ( آئندہ کا روائی جاری فرمائیں گے )
آپ کا یہ لقب اس لئے ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حق کی ہدایت بخشی دوسرا لقب جابر ہے اس لئے کہ آپ امت مصطفی ﷺکا جبر قلوب فرمائیں گے غلط اور ٹوٹے دلوں کو سنواریں گے یا اس لئے کہ جابر و ظالم لوگوں پر قہر و غضب فرمائیں گے اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے یعنی نیست و نابود فرمائیں گے۔
مسند عبدالرزاق میں مذکورہ بالا وجوہ کے علاوہ دو وجہیں اور لکھی ہیں:
انما سمى المهدى لانه يهدى لامر قد خفى يستخرج التابوت من ارض يقال لها انطاكيه
مہدی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ حضرت امام موعود کی راہنمائی ایک مخفی امر کی طرف کی جائے گی اور آپ سرزمین انطاکیہ سے تابوت سکینہ نکال لائیں گے۔
اسی کتاب میں اس کی ایک اور وجہ بھی بیان کی گئی ہے:
انما سمى المهدى لانه يهدى الى جبل من جبال الشام يستخرج منه اسفار توراة الحاج بها اليهود فيسلم على يده جماعة من اليهود
مہدی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ان کی راہنمائی شام کے ایک ایسے پہاڑ کی طرف کی جائے گی جس سے وہ اسفار تو رات نکال لائیں گے جو یہودیوں کے سامنے بطور دلیل پیش کئے جائیں گے جس سے یہودیوں کی ایک جماعت آپ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرے گی۔2
وہ گندمی رنگ والے، روشن پیشانی والے اور ناک ستون والے، اونچی بینی والے، ان کے دائیں رخسار پر سیاہ تل ہو گا چمکتا چہرہ گویا وہ ایک روشن ستارہ ہے، ان کا رنگ عربوں جیسا لیکن جسم اسرائیلی مردوں جیسا ہوگا، زبان میں ذرا نقل ہوگا جب بولنے میں تکلف ہوگا تو اپنی بائیں ران پر دایاں ہاتھ ماریں گے، چالیس سالہ ہوں گے جب دعوی کریں گے بعض روایات میں تیس سے چالیس سال کے درمیان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لئے خشوع کرنے والے جیسے گدھ خشوع سے دونوں پر بچھائی ہے ان پر دو بھاری قبائیں ہوں گی یعنی دو بھاری قبائیں پہنے ہوں گے خلق (ضمہ کے ساتھ ) میں نبی پاک سمای الیوم کے مشابہ ہوں گے نہ کہ خلق ( فتحہ کے ساتھ )
کیونکہ تخلیق میں حضور سرور عالم ﷺ جیسا کون ہو سکتا ہے۔ نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں
حضرت امام جلال الدین سیوطی
متوفی 911ھ نے احادیث سے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں :
كان وجهه كوكب درى في خده الايمن خال أسود عليه عيائتان قطوا نيتان كانه من رجال بنى الاسرائيل - (الحاوی للفتاوى)
گویا اس کا چہرہ ایک روشن ستارہ ہو گا اور دائیں رخسار پر گالا تل ہو گا اور وہ دو بھاری قبائیں پہنے ہوئے ہوگا اسے دیکھ کر یوں لگے گا کہ اسرائیلی مردوں میں سے کوئی ہے۔
امام سیوطی کی نقل کردہ ایک اور حدیث ۔ رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:
المهدى رجل من ولدى وجهه كالكوكب الدرى مہدی میری اولاد سے ہوگا اور اس کا چہرہ روشن ستارے کی مانند ( تاباں) ہوگا۔
امام سیوطی ہی ایک اور حدیث رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:
من ولدى لونه لون عربی و جسمه جسم اسرائیلی علی خده الايمن خال کانه کوکب دری
مہدی (موعود ) میری اولاد سے ہوگا اس کا رنگ عربوں جیسا اور جسم اسرائیلیوں جیسا ہوگا۔ دائیں رخسار پر ایک تل ہوگا اور اس کا چہرہ روشن ستارے کی مانند ( چمکے گا)۔
ایک اور نشانی بھی ہے جسے ابو نعیم نے روایت کیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:
يخرج المهدى وعلى راسه عمامة ومعه مناديا ينادى هذا المهدى خليفة الله فاتبعون ....... انتهی ۔3
امام مہدی کا جب ظہور ہوگا تو اس وقت ان کے سر پر عمامہ (دستار ) ہوگا اور ان کے ساتھ ایک منادی ندا کرنے والا ہو گا جو اعلان کرتا ہو گا کہ لوگو! یہی حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں لہذا ان کی پیروی کرو۔
بہت خوش قسمت ہیں وہ حضرات جو سروں پر عمامہ سجاتے ہیں یہ سنت مردہ ہو چکی ہے۔ دعوت اسلامی والوں نے زندہ کیا اور اسے زندہ کرنا سو شہیدوں کا ثواب ہے علاوہ ازیں عمامہ سر پر سجانے کے بے شمار فضائل و فوائد ہیں۔ تفصیل فقیر کے رسالہ فضائل عمامہ ، مطبوعہ میں مطالعہ کیجئے ۔ ( اویسی غفرلہ )
وہ علامات جن سے امام مہدی
آسانی سے پہچانے جائیں گے
(۱) امام مہدی
کے پاس رسول اللہﷺکی مریض مبارک اور تلوار، بے سلا مخملی سیاہی کی ملاوٹ کا جھنڈا، نہ بند جسے رسول اللہ ﷺکے وصال کے بعد ظہور امام مہدی
تک نہ کھولا گیا اور نہ پھیلایا گیا۔ اس جھنڈے پر لکھا ہوگا البیعہ للہ اللہ تعالیٰ کے لئے بیعت۔
(۲) آپ کے سر پر بادل ہوں گے جس میں سے منادی پکارے گا هذا المهدى خليفة الله فاتبعوه یہ مہدی اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہیں ان کی اتباع کرو۔ اور اس سے ایک ہاتھ ظاہر ہو کر امام مہدی
کی بیعت کا اشارہ کرتا ہوگا۔
(۳) خشک لکڑی خشک زمین میں بوئی جائے گی وہ سبز ٹہنی پتوں سمیت نمودار ہوگی۔
(۴) امام مہدی
سے ان علامت کا کوئی سوال کرے گا تو آپ ہوا میں اُڑنے والے پرندے کو اشارہ کریں گے تو وہ پرندہ اڑ کر آپ کے ہاتھ پر بیٹھے گا۔
(۵) ایک لشکر جو آپ کے ہاں حاضری کا ارادہ رکھتا ہو گا تو وہ مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ کے درمیان مقام بیداء میں دھنس جائے گا۔ (اس کی تفصیل آئے گی )
(۶) آسمان پر منادی ندا کرے گا کہ اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے جابر، ظالم لوگوں اور منافقوں اور ان کے لشکروں کو جڑ سے نکال پھینکا ہے اور تم پر اُمت مصطفی ﷺظلم سے بہترین بزرگ والی مقرر کیا ہے مکہ شریف جاؤ وہی مہدی ہیں ان کا نام محمد بن عبد اللہ ہے۔
(۷) زمین اپنے جگر کے ٹکڑے ٹکڑے سونے کے ستونوں کی طرح ظاہر کرے گی۔۔
(۸) عوام میں استغناء (بے نیازی) اور زمین کی برکات کی کثرت (جیسا کہ ہم نے امام مہدی کی سیرت میں بیان کیا ہے )
(۹) کعبہ معظمہ میں جو خزانہ مدفون ہے اسے امام مہدی
نکال کر فی سبیل اللہ تقسیم کریں گے۔ (رواہ ابونعیم عن علی کرم اللہ وجہ الکریم )
(۱۰) غار انطاکیہ سے بحیرہ طبریہ سے تابوت السکینہ نکال کر اُٹھایا جائے گا ۔اور بیت المقدس میں امام مہدی
کی خدمت میں پیش کیا جائے گا پس جب یہودیوں نے انہیں دیکھا تو اسلام لے آئے مگر ان میں سے تھوڑے (یعنی تھوڑے ایمان نہ لائے )
(11) بنی اسرائیل کی طرح آپ کے لئے دریا پھٹ جائے گا۔ (اس کی تفصیل آئے گی .... انشاء اللہ)
(۱۲) آپ کے لئے خراسان سے جھنڈے آئیں گے اور آپ بیعت کا پیام بھیجیں گے۔
(۱۳) حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام مہدی
کی آپس میں ملاقات ہوگی تو حضرت عیسی
آپ کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
(۱۴) آپ کے حلیہ میں لکھا گیا ہے کہ آپ سیرت میں رسول اللہﷺکے مشابہ ہوں گے اور آپ کی زبان میں ثقل ہوگا۔
وہ علامات جو آپ کے ظہور سے پہلے ظاہر ہوں گی:
(1) دریائے فرات پھٹے گا پہاڑ سے سونا کھلم کھلا نظر آئے گا۔
(۲) پہلی رمضان شریف میں چاند گرہن ہوگا اسی دن دو پہر کو سورج گرہن . ہوگا اور ایسا زمین و آسمان کی تخلیق سے اس وقت تک پہلے کبھی نہیں ہوا۔
(۳) ماہ رمضان میں دو بار چاند گرہن ہوگا اور یہ پہلے چاند گرہن کے منافی نہیں جیسا کہ واضح ہے۔
(۴) دمدار ستارہ چمکتا ہوا نمودار ہو گا۔
(۵) تین یا سات راتیں مشرق کی جانب تین یا سات راتیں بڑی آگ ظاہر ہوگی۔
(۶) آسمان پر تاریکی چھا جائے گی۔
(۷) آسمان میں سرخی ظاہر ہو کر تمام کناروں میں پھیل جائے گی لیکن یہ معروف سرخی جیسی نہیں ہوگی۔
(۸) ملک شام میں بستی حرستاز مین میں دھنس جائے گی۔
(۹) آسمان سے منادی امام مہدی
کا نام لے کر پکارے گا۔
(۱۰) شوال میں عصا به لشکروں کا اجتماع ، ذوقعدہ میں معمہ جنگوں کا شور وغل سخت گرم دن یہاں فتنے مراد ہیں ۔ ذوالحجہ میں حاجیوں سے لوٹ مار اور ان کا قتل کہ جمرة العقبہ کے قریب ان کا خون بہے گا۔
کی شخصیت احادیث کی روشنی میں:عن ابي سعيد الخدرى رضى الله عنه مرفوعا لا تقوم الساعة حتى تملا الارض ظلما وجورا وعدوانا ثم يخرج من اهل بيتي من يملاها قسطا وعدلا4
حضرت ابو سعید خدری
سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ زمین ظلم وجور سے بھر جائے ۔ بعد ازاں میرا اہل بیت سے ایک شخص ( مہدی
) پیدا ہو گا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
حضرت ابوسعید
راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے اس بلا کا ذکر فرمایا جو اس اُمت کو پہنچے گی حتی کہ آدمی جائے پناہ نہ پائے گا جہاں ظلم سے پناہ لے تو اللہ تعالیٰ میری اولاد اور میرے گھر والوں سے ایک شخص کو بھیجے گا کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی اس سے آسمان وزمین کے رہنے والے راضی ہوں گے ۔ آسمان اپنا کوئی قطرہ نہ چھوڑے گا مگر وہ برسا دے گا بہتا ہوا ہے اور زمین اپنی کوئی سبزی نہ چھوڑے گی مگر اگا دے گی سے حتی کہ زندہ لوگ مردوں کی تمنا کریں گے ؟ وہ اسی حالت میں سات سال یا آٹھ سال یا نو سال زندہ رہیں گے۔
یعنی امام مہدی
سے دنیا کے لوگ آسمانوں کے فرشتے خوش ہوں گے کیونکہ وہ سلطان عادل بھی ہوں گے ولی کامل بھی ، سلطان عادل سے زمین والے خوش رہتے ہیں اور ولی کامل سے آسمان والے راضی الہذا یہ فرمان عالی بالکل درست ہے۔
یعنی بوقت ضرورت بارش ہوگی اور پوری ہوگی نہ کم کہ پیداوار کم ہو، نہ زیادہ کہ کھیت تباہ ہو جاوے۔ اس فرمان عالی کا یہ مطلب ہے یعنی ضرورت والی بارش پوری آئے گی ، یہ مطلب نہیں کہ جتنا پانی سمندروں میں ہے سب ہی برس جاوے گا کہ پھر تو دنیا تباہ ہو جاوے۔
یعنی جس قدر پیداوار ہوسکتی ہیں وہ ہوگی اور جس قسم کی چیزیں زمین سے پیدا ہو سکتی ہیں وہ سب پیدا ہو جائیں گی ہر قسم کے دانہ پھل نہایت کثرت سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دے گا ، جب بادشاہ اچھا ہو تو اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت ہوتی ہے۔
یعنی زندہ لوگ آرزو کریں گے کہ ہمارے مردے آج زندہ ہوتے تو وہ بھی آج کی برکتیں رحمتیں دیکھتے اور ان سے فائدے اُٹھاتے ۔
عن عبدالله ابن مسعود رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتي يواطی اسمه اسمی
حضرت عبداللہ بن مسعود
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ میرے اہل بیت (اولاد) میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ ہو جائے جس کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا (یعنی محمد ) ( ترمذی شریف)
وكنيته ابو عبد الله و في الشفاء للقاضی عیاض رحمه الله ان كنيته ابو القاسم
امام مہدی کی کنیت ابو عبد اللہ ہو گی اور قاضی عیاض
کی کتاب شفاء میں ہے کہ ان کی کنیت ابوالقاسم ہوگی ۔5
ولقبه المهدى لان الله هداه للحق والجابر لانه يجبر قلوب امة محمد صلى الله عليه وسلم اولانه يجبر اى يفهر الجبارين ويقصمهم
ان کا لقب مہدی ہو گا اس لیے کہ اللہ تعالی ان کی طرف سے ان کی رہنمائی فرمائی جائے گی۔ اسی طرح ان کا لقب جابر بھی ہوگا کیونکہ وہ امت محمدیہ کی اسلام کے قلوب پر مرہم رکھیں گے یا اس لیے کہ وہ ظالموں پر غالب آ کر ان کی شان و شوکت کو ختم کر دیں ا گے۔ (الشاعة ص 193)
قیامت سے پہلے رسول اکرم الی الیوم کی اولاد میں سے ایک شخص عربوں پر حکومت کرے گا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكُ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِءُ اسْمُهُ اسْمِى6
حضرت عبد اللہ
کہتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: دنیا ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ عرب کا بادشاہ ایک ایسا آدمی بنے گا جو میرے اہل بیت میں سے ہوگا اور اس کا نام میرے نام جیسا ہو گا۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔
عَنْ أُمِّ سَلَمَة رضى الله عنها قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله علیه و آله وسلم يَقُولُ ( الْمَهْدِى مِنْ عِتْرَتِي مِنْ وَلُدِ فَاطِمَةِ رَوَاهُ أَبُو داود )7
حضرت ام سلمہ
کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : مہدی میرے خاندان اور فاطمہ کی اولاد میں سے ہوگا۔ اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
( امام مہدی کا نام محمد ہوگا اور ان کے والد کا نام بھی رسول اکرم ﷺکے والد جیسا عبداللہ ) ہوگا۔
(ف) عترت کے معنی ہیں اہل قرابت عزیز اس میں حضور ﷺ کی اولاد اور از واج پاک سب ہی داخل ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ سارے قریشی حضورﷺکی عترت ہیں۔ واللہ اعلم ! اولاد فاطمہ کہہ کر یہ فرمایا کہ یہاں عبرت سے مراد اولاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام مہدی سید ہوں گے، مرزا قادیانی مرزا ہو کر امام مہدی بنتا ہے تعجب ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه و آله وسلم قَالَ: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمًا قَالَ زَائِدَةً لَطَوَّلَ اللهِ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَثَ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِى يُوَاطِئُ اسْمُهُ اِسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمُ أَبِي رَوَاهُ أَبُو داودَ8
حضرت عبداللہ
سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ میرے خاندان یا میرے اہل بیت سے ایک شخص کو خلیفہ بنائے گا جس کا نام میرے نام پر ہو گا اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا۔ اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
(ف) ان کا نام محمد ابن عبد اللہ ہو گا۔ اس حدیث سے ان روافض کا رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ امام مہدی پیدا ہو چکے ہیں، ان کا نام محمد ابن حسن عسکری ہے یہ غلط ہے وہ پیدا ہوں گے اور محمد ابن عبداللہ نام ہو گا۔ مزید تفصیل فقیر آگے چل کر عرض کرتا ہے۔
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَكُونُ اخْتِلَافُ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِّنْ بَنِي هَاشِمٍ فَيَأْتِي مَكَة ، فَيَسْتَخْرِجُهُ النَّاسُ مِنْ بَيْتِهِ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ فَيُجَهَّزُ إِلَيْهِ جَيْسٌ مِنَ الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ ، فَيَأْتِيهِ عَصَائِبُ الْعِرَاقِ وَابْدَالُ الشَّامِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِي9
جبکہ مرقاۃ شرح مشکوۃ میں حضرت حکیم الامت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی اللہ نے ابو د اور شریف کے حوالہ اس حدیث کو درج فرمایا ۔ فقیر اس کی حدیث ترجمہ اور شرح پیش کرتا ہے ملاحظہ ہو۔
حضرت ام سلمہ
سے وہ نبی ﷺسے راوی فرمایا کہ ایک خلیفہ کے وفات وقت اختلاف ہوگا تو ایک شخص اہل مدینہ سے مکہ معظمہ کی طرف بھاگتے ہوئے نکلے گا ہے تو مکہ والوں میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اسے باہر لائیں گے حالانکہ وہ اسے نا پسند کرتا ہو گا سے یہ لوگ اس سے مقام ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان بیعت کریں گے ہے اور ان کی طرف شام سے ایک لشکر بھیجا جائے گا اسے مکہ و مدینہ کے درمیان ایک میدان میں دھنسا دیا جاوے گا جب لوگ یہ دیکھیں گے تو ان کے پاس شام کے ابدال اور عراق والوں کی جماعتیں آئیں گی تو اس سے بیعت کر لیں گے پھر قریش کا ایک شخص نکلے گا جس کے ماموں بنو کلب ہوں گے وہ ان کی طرف ایک لشکر بھیجے گا وہ ان پر غالب آئیں گے لے یہ بنی کلب کا لشکر ہوگا وہ لوگوں میں ان کے نبی کی سنت پر عمل کرے گال اور اسلام زمین میں اپنی گردن بچھا دے گا ؟ پھر وہ سات سال قیام کریں گے پھر وفات پا جائیں گے اور ان پر مسلمان نماز پڑھیں گے ۔ ( ابو داؤد )
اس خلیفہ کا نام معلوم نہیں ہو سکا مگر یہ آخری خلیفہ ہو گا جس کے بعد امام مہدی خلیفہ ہوں گے پارلیمنٹ کے ممبروں میں اختلاف ہو گا کہ کے خلیفہ چنیں۔
یعنی جس شہر میں اس خلیفہ کا انتقال ہو گا اور جہاں دوسرے خلیفہ کا چناؤ ہونے والا ہو گا وہاں ہی یہ صاحب رہتے ہوں گے، وہ اس خوف سے سب سے نکل جاویں گے کہ لوگ انہیں ہی خلیفہ نہ چن لیں سلطنت سے نفرت کرتے ہوئے نکلیں گے۔ جو حکومت سے متنفر ہو اس کا حاکم بننا مبارک ہوتا ہے اور جو حکومت کا طالب ہو اس کا حاکم بننا فساد کا باعث ہے۔ یہاں مدینہ منورہ سے مراد یا مدینہ منورہ ہے یا وہ شہر جہاں خلیفہ کا چناؤ ہو رہا ہو گا مگر خیال رہے کہ وہ خلیفہ مدینہ منورہ میں نہیں ہوگا جس کا انتقال ہوا ہوگا۔ خلافت عثمان کے بعد ہی مدینہ منورہ سے خلافت منتقل ہو چکی حضرت امیر معاویہ کی یہ پیشگوئی درست ہوئی کہ مدینہ میں خلیفہ کا قتل ہوا اب مدینہ سے خلافت منتقل ہو گئی۔ چنانچہ اب تک کوئی خلیفہ مدینہ منورہ میں نہیں رہا نہ آئندہ رہنے کی امید ہے۔ سے یعنی وہ مکہ مکرمہ میں کسی گھر میں تشریف فرما ہوں گے لوگوں سے چھپے ہوئے مگر لوگ یعنی مکہ والے ان کے دروازے پر پہنچ کر انہیں تقاضا کر کے باہر لائیں گے اور ان کے ہاتھ شریف یہ جیز بیعت کریں گے اور انہیں اپنا خلیفہ مان لیں گے۔
غالبا یہ بیعت کعبہ معظمہ کے حطیم شریف میں واقع ہوگی کہ حطیم شریف سنگ اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان آجاتی ہے۔ (مرقات)
یعنی اس شام کا بادشاہ کوئی کافر ہوگا ، جب اسے ان کی خلافت کا پتہ لگے گا تو وہ ان سے جنگ کرنے کے لیے ایک بڑا لشکر بھیجے گا، اس لشکر کا نام لشکر سفیانی ہو گا کہ یہ لوگ خالد ابن یزید ابن ابی سفیان کے اولاد سے ہوں گے یہ شخص یعنی خالد در از سر چیچک رو سفید آنکھ والا تھا، یہ لشکر ایک چٹیل میدان میں زمین میں غرق ہو جاوے گا۔ یہ میدان حرمین طیبین کے درمیان ہے، یہ وہ میدان نہیں جوز والخلیفہ کے سامنے مدینہ منورہ میں ہے۔ (مرقات) اس لشکر میں صرف ایک شخص بچے گا جو ان کی ہلاکت کی خبر لوگوں تک پہنچائے گا۔
یعنی حضرت امام مہدی
کی یہ کرامت جب لوگوں میں مشہور ہوگی تو شام کے ابدال اور عراق کی جماعتیں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے بیعت کریں گی۔ ابدال اولیاء اللہ کی ایک جماعت ہے جن کی تعداد ستر ہے ہے چالیس شام میں اور تمیں دوسرے مقامات میں رہتے ہیں، جب ان میں سے کوئی وفات پاتا ہے تو عام مسلمانوں میں سے کسی کو اس کی جگہ مقرر کر دیا جاتا ہے اس لیے انہیں ابدال کہتے ہیں۔ حضرت معاذ ابن جبل
فرماتے ہیں کہ جس میں رضا بالقضاء ، بری باتوں سے زبان روکنا، اللہ کے لیے غصہ کرنا پایا جاوے وہ ان شاء اللہ ابدال میں داخل ہوگا، امام غزالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں کہ جو شخص روزانہ تین بار یہ دعا پڑھ لیا کرے تو ان شاء اللہ ابدال میں سے ہوگا:
اللهم اغفر لامة محمد اللهم ارحم امة محمد اللهم تجاوز عن امة محمد
عراق سے بھی اولیاء اللہ کی جماعت آکر امام مہدی
سے بیعت کرے گی۔ (اشعہ )
یعنی یہ خبیث انسان اپنے ماموں نبی کلب کی مدد لے کر حضرت امام مہدی
کے مقابلہ میں لشکر بھیجے گا تو امام مہدی کے لشکر والے اس لشکر پر فتح پائیں گے۔ ان لوگوں کو شکست فاش ہوگی۔
یعنی امام مہدی رضی اللہ عنہ لوگوں میں سنت رسول اللہ ﷺ کو پھیلائیں گے، ان سے سنت پر عمل کرائیں گے دنیا میں بڑی برکات ہوں گی۔
جران جیم کے کسرہ رکے فتحہ سے اونٹ کی گردن، جب اونٹ اطمینان سے زمین پر بیٹھتا ہے تو اپنی گردن بچھا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے زمانہ میں جنگ جدال وغیرہ بند ہو جاویں گے، لوگوں کو امن نصیب ہوگا، اسلام کی بہت اشاعت ہوگی ، استقامت اسلام کو سمجھانے کے لیے یہ فرمایا گیا۔
یعنی امام مہدی
خلیفہ بننے کے بعد سات سال خلافت کریں گے پھر آپ کی وفات ہوگی یہ پتہ نہیں چلا کہ وفات کہاں ہوگی ۔
شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن عسکری
کے بیٹے محمد امام مہدی
ہیں جو پیدا ہو چکے ہیں اور غائب ہو گئے ہیں قریب قیامت ظاہر ہوں گے، یہ عقیدہ محض باطل ہے۔
اسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔
(ف) ابتداء میں امام موصوف کے ساتھیوں کی تعداد اور وسائل بہت کم ہوں گے اور وہ بظاہر )کسی فوج سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ خف کے ذریعے ان کی مدد فرمائیں گے۔
عَنْ حَفْصَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَة قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَنْعَةٍ وَلَا عَدَدْ وَلَا عُدَّة يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْسٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاء مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ)(کتاب الفتن و اشراط الساعة ترجمہ قیامت نشانیاں)
حضرت حفصہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ سی ایم نے فرمایا اس گھر یعنی کعبتہ اللہ میں کچھ لوگ پناہ لیں گے جن کے پاس دشمن کا حملہ روکنے کی طاقت نہیں ہو گی نہ ان کی تعداد زیادہ ہوگی نہ ان کے پاس اسلحہ ہو گا ایک لشکر (انہیں ختم کرنے کے لیے ) بھیجا جائے گا وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے ۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
بیداء کے مقام پر دھننے والے لشکر میں سے صرف ایک آدمی بچے گا جو واپس جا کر حکومت کو کامیاب بغاوت (یعنی انقلاب) کی خبر دے گا۔
عَنْ حَفْصَةِ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه و آله وسلم يَقُولُ : لَيَؤُ مَنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْسٌ يَغْزُونَه حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاء مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوْسَطِهِمْ وَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ ثُمَّ يُخْسَفُ بِهِمْ فَلَا يَبْقَى إِلَّا الشَّرِيدَ دو الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ(کتاب الفتن و اشراط الساعة ترجمہ قیامت نشانیاں )
حضرت حفصہ
نے نبی اکرم ﷺ فرماتے ہوئے سنا ہے ایک لشکر بیت اللہ پر حملہ کرنے کی نیت سے جب بیداء کے مقام پر پہنچے گا تو پہلے اس لشکر کا قلب درمیانی حصہ زمین میں دھنسے گا تو آگے کا حصہ پچھلے حصے کو ( مدد کے لیے ) پکارے گا، لیکن سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے سوائے ایک قاصد کے وہی ( واپس ) جا کر لوگوں کو خبر دے گا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ (تفصیل گذری ہے)
امام مہدی
کی خلافت اور دیگر امور خلافت صرف ایک رات میں طے ہو جائیں گے۔
عَنْ عَلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عليه و آله وسلم الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةِ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَة11
حضرت علی
کہتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا : مہدی ہمارے اہل بیت میں سے ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس کی (خلافت کا انتظام ایک ہی رات میں فرمادے گا۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
امام مہدی
کا دور خلافت سات تا نو سال تک ہوگا۔ امام موصوف کشادہ پیشانی اور اونچی ناک والے ہوں گے۔
امام مہدی
اپنے دور حکومت میں مکمل عدل و انصاف قائم کریں گے۔ حضرت ابو سعید خدری
راوی ہیں :
قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم الْمَهْدِيُّ مِنِّي ، أَجْلَى الْجَبْهَةِ ، أَقْنَى الْأَنْفِ ، يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتُ جَوْرًا وَظُلْمًا ، يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ )12
یعنی میری امت میری جماعت بلکہ میری اولاد سے ہیں یا مجھ سے بہت قرب رکھنے والے ہیں جیسے فرمایا گیا کہ حسین مجھ سے ہیں میں حسین سے یعنی میں ان سے قریب وہ مجھ سے قریب۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام مہدی
حضور ﷺ کے ہم شکل بھی ہوں گے حضور کی جیتی جاگتی تصویر کہ یہ دونوں صفتیں حضور انور کی ہیں چوڑی پیشانی، اونچی ناک شریف، کشادہ پیشانی اونچی بینی انتہائی حسن ہے پہلی اونچی لمبی ناک... سبحان اللہ !
نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں حضرت امام مہدی
سلطان ہوں گے اور جناب عیسی
وزیر اعظم یا وزیر دفاع کیونکہ امام مہدی کو بادشاہ فرمایا گیا۔ جن روایات میں ہے کہ آٹھ سال سلطنت کریں گے وہاں تقریبی آٹھ سال مراد ہیں یعنی سات سال چند ماه، نیز آٹھ یا نو سال کی روایات مشکوک ہیں سات سال کی روایت یقینی ہے۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ)
روایت ہے حضرت ابو اسحاق سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت علی
نے اور اپنے بیٹے حسن کو دیکھا کہ یہ میرا یہ بیٹا سید ہے جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے سید فرمایا۔ اس . کی پشت سے ایک شخص نکلے گا جو تمہارے نبی کے نام سے موسوم ہوگا ، عادت میں ان کے مشابہ ہوگا اور شکل میں مشابہہ نہ ہوگا، پھر پورا قصہ بیان فرمایا کہ وہ زمین کو انصاف سے بھر دے گا (ابو داؤد) اور قصہ کا ذکر نہ فرمایا۔
آپ ابو اسحاق سبیعی ہمدانی کوفی ہیں، تابعی ہیں، بہت صحابہ سے آپ کی ملاقات ہے، شہادت عثمان رضی اللہ عنہ سے دو سال پہلے پیدا ہوئے اور میں وفات پائی، بڑے متقی عالم بڑے محدث ہیں۔ (اکمال، مرقات)
یعنی حضرت حسن مسلمانوں کا سردار ہے۔ آج حضور کی اولاد کو جو سید کہتے ہیں اس کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے، رب تعالی نے کسی
کے متعلق فرمایا:}} سَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّلِحِينَ
امام مہدی
والد کی طرف سے حسنی سید ہوں گے والدہ کی طرف سے حسینی ، آپ کے اصول میں کوئی والدہ حضرت عباس کی اولاد سے ہوں گی لہذا آپ حسنی بھی ہیں حسینی بھی اور عباسی بھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں ۔ (اشعہ ) غالباً آپ حضور غوث الثقلین شیخ سید عبدالقادر جیلانی کی اولاد سے ہوں گے ، غوث پاک بھی حسنی حسینی سید ہیں۔ اس میں روافض کی تردید ہے کہ محمد ابن حسن عسکری امام مہدی ہیں جو غار میں چھپے ہوئے ہیں کیونکہ وہ حسینی سید ہیں حسنی نہیں۔ خیال رہے کہ لا مھدی الا عیسیٰ نہایت ہی ضعیف بلکہ موضوع حدیث ہے۔ حضرت عیسی
تو ابن مریم ہیں اور امام مہدی
ابن رسول اللہ ﷺہیں۔ (مرقات) اور اگر وہ حدیث صحیح بھی ہو تب بھی وہاں مہدی سے مراد ہدایت یافتہ معصوم ہے نہ کہ امام مہدی۔ (مرقات)
حضرت امام مہدی
کے زمانے میں دولت کی اس قدر فراوانی ہوگی کہ وہ عوام میں بلا حساب کتاب دولت تقسیم کریں گے:
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ارثِ حَدَّثَنَا أَبِي ابی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَنْ أَبِي أَبِي . نَضْرَةَ عَنْ عَنْ أَبِي أَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرِ بْنِ بْنِ عَبْدِ عَبْدِ اللَّهِ اللهِ ) قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ ( صحیح مسلم)(کتاب الفتن و اشراط الساعة ترجمہ قیامت نشانیاں)
حضرت ابوسعید خدری
روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا آخری زمانہ میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال بغیر گنتی کے تقسیم کرے گا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
یہ بادشاہ غالبا امام مہدی ہوں گے جو اور خوبیوں کے ساتھ نہایت ہی سنی ہوں گے۔ (مرقاۃ شرح مشکوة )
حضرت امام مہدی
( فجر کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوں گے کہ حضرت عیسی
آسمان سے نازل ہوں گے اور امام مہدی کی امامت میں نماز ادا . کریں گے:
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالُوا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ لَّنَا فَيَقُولُ لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أَمَرَاء تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ(صحیح مسلم ، کتاب الایمان، باب بیان نزول عیسی ابن مریم علیہ السلام )
حضرت جابر بن عبد اللہ
کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا وہ گروہ قیامت تک ( حق پر غالب رہے گا جب حضرت عیسیٰ ابن مریم
( آسمان سے ) نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر حضرت عیسیٰ
سے گزارش کرے گا تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھا ئیں عیسیٰ
جواب میں فرمائیں گے نہیں تم خود ہی آپس میں ایک دوسرے کے امام ہو یہ اس امت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ اعزاز ہے۔
کے ظہور سے پہلے اور بعد کے حالات:ظہور مہدی علیہ الرضوان اس وقت ہوگا جب دنیا ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی اور حضرت مہدی علیہ الرضوان دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ظہور سے قبل فتنے بہت بڑھ چکے ہوں گے آپ فتنوں کو ختم کریں گے اور آپ کے زمانہ میں آپس میں محبت والفت کا وہ رنگ ہو گا جو حضرات صحابہ کے دور میں تھا اور تمام مسلمان آپس میں بھائیوں کی طرح رہیں گے۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان کی خلافت پوری دنیا میں ہو گی اور وہ پوری دنیا کے حکمران ہوں گے جس کی مدت سات (۷) سال سے نو (۹) سال تک کے درمیان ہوگی۔ حضرت امام مہدی
کی شناخت کے لیے ایک علامت یہ بھی ہوگی کہ ان سے لڑنے کے لیے ایک لشکر روانہ ہو گا اور جب وہ لشکر مکہ اور مدینہ کے درمیان پہنچے گا تو اس پورے لشکر کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ مقام بیدا میں لشکر کے زمین میں دھنس جانے کی روایات امام مسلم
اور امام ابن ماجہ
دونوں نے تخریج کی ہیں حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو۔13
سفیانی اور اس کے لشکر کی تفصیل یہ ہے کہ وہ حضرت ابو سفیان
کی اولاد میں سے ایک اُموی شخص ہو گا جس سے اسلام اور مسلمانوں کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کے زمانے میں مسلمانوں کا بالعموم اور علما و فضلا کا بالخصوص قتل عام ہو گا لیکن یہ فتنہ زیادہ دیر تک نہیں رہے گا کیوں کہ حضرت امام مہدی
کا ظہور ہو چکا ہوگا جس کی علامت یہ ہوگی کہ سفیان بیت اللہ کو منہدم کرنے کی نیت سے روانہ ہوگا لیکن جب یہ اپنے لشکر سمیت بیدا نامی جگہ جو حرمین کے درمیان ہے پہنچے گا تو پورا لشکر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اس لشکر کا زمین میں دھنسنا فتنہ سفیانی کی نشانی ہوگی اور سفیانی کا خروج در اصل امام مہدی کے ظہور کی علامت ہوگا اور اس سلسلے میں بہت سی احادیث تو اتر معنوی کے ساتھ وارد ہوئی ہیں۔
اور اس پورے لشکر میں سے صرف ایک شخص زندہ بچے گا جو لوگوں کو آ کر لشکر کے زمین میں دھنس جانے کی خبر دے گا چنانچہ علما کرام لکھے ہیں۔ ان لوگوں میں سے صرف ایک مخبر زندہ بچے گا ۔ حوالہ بالا ۔ یہی نہیں کہ امام مہدی
کے ظہور سے قبل صرف سفیانی کا خروج ہو گا بل کہ بہت سے اور لوگ بھی خروج کریں گے چناں چہ کچھ لوگ مصر سے خروج کریں گے، کچھ مغربی جانب سے اور کچھ جزیرہ العرب سے گویا اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے کفر پوری قوت سے مسلمانوں کے ساتھ نبرد آزما ہوگا اور چہار اطراف سے مرکز عالم اور مرکز اسلام خانہ کعبہ پر حملے کی تیاریاں شروع ہو جائیں گی اور اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد امام مہدی کا ظہور ہو جائے گا۔ حضرت امام مہدی
کے زمانے میں اکثر یہودی مسلمان ہو جائیں گے جس کی وجہ یہ ہوگی که امام مہدی
کو تابوت سکینہ مل جائے گا جس کے ساتھ یہودیوں کے بڑے اعتقادات وابستہ نہیں اس لیے وہ اس تابوت کو حضرت امام مہدی
کے پاس دیکھ کر مسلمان ہو جائیں گے۔ (الا شاعہ ترجمہ قیامت کی نشانیاں)
مغرب کی طرف سے کئی جھنڈوں کا نمودار ہونا اور اس لشکر کا سردار قبیلہ کندہ کا ایک آدمی ہوگا چناں چہ نعیم بن حماد نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ترجمہ:
امام مہدی
کے ظہور کی علامت وہ چند جھنڈے ہیں جو مغرب کی طرف سے آئیں گے اور ان کا سردار قبیلہ کندہ کا ایک لنگڑا شخص ہو گا ۔14
( حضرت امام مہدی
کی تصدیق و تائید اور امت مسلمہ کی عزت و شرافت اور اس کی عنداللہ مقبولیت کی سب سے اہم دلیل وہ نماز ہو گی جو حضرت عیسی
حضرت امام مہدی
کی اقتدا میں ادا فرمائیں گے۔ 15
لیکن اس سے حضرت عیسی
کے منصب و نبوت پر کوئی حرف نہیں آئے گا اور یہ ایسے ہی ہوگا جیسے حضور نبی علیہ سلام نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف
کی اقتدا میں نماز ادا فرمائی۔
علامہ امام جلال الدین سیوطی
نے الحاوی للفتاوی میں حضرت حذیفہ
سے روایت کیا ہے کہ نبی
نے فرمایا:
اگر دنیا کی مدت ختم ہونے میں صرف ایک دن بچے گا تب بھی اللہ ایک آدمی بھیج کر رہے گا جو نام اور اخلاق میں میرے مشابہہ ہوگا اور اس کی کنیت ابو عبد اللہ ہو گی ۔16
اس سلسلے میں حضرت عبد اللہ بن مسعود
سے روایت ہے کہ نبی علیہ سلام نے فرمایا:
ترجمہ: مشرق کی طرف سے ایک قوم سیاہ جھنڈوں کے ساتھ آئے گی اور وہ لوگ مال کا مطالبہ کریں گے ، لوگ ان کو مال نہیں دیں گے تو وہ لڑیں گے اور ان پر غالب آ جائیں گے اب وہ لوگ ان کے مطالبہ کو پورا کرنا چاہیں گے تو وہ اس کو قبول نہیں کریں گے یہاں تک کہ وہ اس مال کو میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کے حوالے کر دیں گے جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے لوگوں نے پہلے اسے ظلم وستم سے بھرا ہو گا سو تم میں سے جو کوئی اس کو پائے تو اس کے پاس آ جائے اگر چہ برف پر چل کے آنا پڑے۔ (الا شاعہ ترجمہ قیامت کی نشانیاں)
ظہور مہدی پر دلالت کرنے والی علامات میں سے ایک علامت وقت کا انتہائی تیز رفتاری سے گزرنا بھی ہے جس کی وجہ بظاہر بے برکتی کا پیدا ہو جانا ہوگا۔ ترمذی شریف کی ایک روایت کا ترجمہ ہے۔ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک زمانہ قریب نہ جائے سال مہینہ کے برابر ، مہینہ ہفتہ کے برابر ، ہفتہ دن کے برابر ، دن ایک گھنٹہ کے برابر اور ایک گھنٹہ آگ کا شعلہ سلگنے کے برابر نہ ہو جائے ۔ اس حدیث کی شرح کرتے ہو وے ملا علی قاری
نے امام خطابی
کا یہ قول نقل فرمایا ہے۔ ایسا امام مہدی
یا حضرت عیسی
یا دونوں کے زمانے میں ہوگا ، میں کہتا ہوں کہ آخری قول ہی زیادہ ظاہر ہے کیوں کہ یہ معاملہ خروج دجال کے وقت پیش آئے گا اور دجال کا خروج ان دونوں بزرگوں کے زمانے میں ہوگا۔
کفار کے خلاف قتال اور دیگر فتنوں کے خاتمے . پر حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کی خلافت قائم ہوگی۔ آپ کی خلافت کے زمانے میں امت پر نعمتوں کی اس قدر فراوانی ہوگی اور ایسی خوشحالی حاصل ہوگی کہ امت کو پہلے کبھی ایسی خوشحالی حاصل نہ ہو سکی ہوگی ۔ خلافت مہدی علیہ الرضوان کی برکات کے حوالے سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا ، میری اُمت میں مہدی علیہ الرضوان ہوں گے جو کم از کم سات سال یا نو سال خلیفہ رہیں گے، ان کے زمانے میں میری امت ایسی نعمتوں اور فراوانیوں میں ہوگی کہ اس سے پہلے اس کی مثال بھی نہیں سنی ہوگی ، زمین اپنی تمام پیداوار اگل دے گی اور کچھ بھی نہ چھوڑے گی اور اس زمانے میں مال کھلیان میں اناج کے ڈھیر کی طرح پڑا ہو گا۔
ایک روایت میں ہے :
میری اُمت کے آخر میں مہدی پیدا ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس پر خوب بارش برسائیں گے اور زمین اپنی پیداوار باہر نکال دے گی اور وہ لوگوں کو مال یکساں طور پر دیں گے، ان کے زمانہ (خلافت) میں مویشیوں کی کثرت اور امت میں عظمت ہو۔ گی۔ 17
آپ ﷺ نے فرمایا :
حضرت امام مہدی علیہ الرضوان زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح اس سے پہلے وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی ۔18
امام محمد بن سیرین 
امام محمد بن سیرین بصری
(م11ھ) فرماتے ہیں:
ينزل ابن مريم عليه السلام عليه لامته و محصرتان بين الأذان والاقامة فيقولون له : تقدم، فيقول بل يصلى بكم امامكم انتم امراء بعضكم على بعض19
ترجمہ : حضرت عیسی
اذان و اقامت کے درمیان نازل ہوں گے، آلات جنگ اور دو زرد چادریں ان کے زیب تن ہونگی ، لوگ کہیں گے کہ آگے ہو کر نماز پڑھائیے آپ فرمائیں گے نہیں، بلکہ تمہارا امام ہی تمہیں نماز پڑھائے گا تم ایک دوسرے پر امیر ہو نیز امام محمد کا یہ بھی ارشاد نقل ہے :
أنه المهدى الذي يصلى وراه عیسی (حوالہ بالا )
ترجمہ : بچے مہدی وہ ہونگے جن کی اقتداء میں عیسی
نماز پڑھیں گے۔
:روایت ہے حضرت جعفر سے وہ اپنے والد سے راوی وہ اپنے دادا سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ لی لی ایم نے خوش ہو جاؤ خوشی سناؤ کہ میری اُمت کی مثال بارش کی ہے نہیں کہا جاتا کہ اس کی پچھلی اچھی ہے یا کہ اگلی ہے یا اس باغ کی سی ہے جس میں سے ایک سال ایک فوج نے کھایا پھر ایک سال دوسری فوج نے کھایا ہے شاید کہ آخری فوج چوڑائی میں زیادہ چوڑی ہو اور گہرائی میں زیادہ گہری اور حسن میں زیادہ اچھی ہو سے وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کا اول میں ہوں اور اس کے درمیان مہدی ہوں اور آخریج ہوں ہے لیکن اس کے درمیان ٹیڑھی فوج ہے نہ وہ مجھ سے ہیں نہ میں ان سے (رزین)
اس فرمان عالی میں جدہ کی ضمیر حضرت امام جعفر صادق
کی طرف ہے، امام جعفر صادق محمد باقر کے بیٹے ہیں اور امام باقر
کے والد ، امام زین العابدین
ان کے والد امام حسین ابن علی ابن ابی طالب
ہیں اس اسناد کو محد ثین سلسلة الذهب کہتے ہیں یعنی سونے کی زنجیر۔ (مرقات)
یعنی ساری اُمت خیر ہے ایک شاعر کہتا ہے شعر
تشابه يوماه علينا فاشكلا
فما نحن ندرى اي يوميه افضل
ايوم بداء العم ام يوم باسه
وما منهما الا اغز مجهل
یعنی باغ کے پھل جس بہار میں بھی کھا ؤ لذت وہی ہوگی، میرے اسلام و احکام کے پھل تا قیامت جب بھی کھا ؤ لذت و رحمت وہ ہی ہوگی، نیز ہر زمانہ میں علماء اولیاء ، مجاہدین شہداء ہوتے رہیں گے یہ قرآن اور ہماری ذات کریم یہ نعمتیں تا قیامت تقسیم کرتے رہیں گے اور دنیا ان سے فیوض پاتی رہے گی۔
یعنی ممکن ہے کہ ایک باغ سے اگلی فوج کے مقابلہ میں آخری فوج زیادہ کھائے اور اس باغ کے پھلوں سے مختلف قسم کے اس شربت عرق وغیرہ تیار کرے اور لوگوں کو مختلف طریقوں سے استعمال کرائے اسی طرح ہو سکتا ہے کہ میری اُمت کے آخری لوگ اس قرآن کی گہرائیوں میں زیادہ جائیں اس سے طرح طرح کے رس تیار کریں۔ دیکھ لو کہ علم حدیث، اسماء الرجال، فقہ، اصول فقہ تفسیر ، شریعت اور طریقت کے چار چار سلسلے بعد ہی میں علماء کرام نے اسی قرآن وحدیث سے تیاری کیے یہ ہے اس پیش گوئی کا ظہور ، اس زبان کا ہر لفظ لوہے کا خط ہوتا ہے اس کے باوجود افضلیت مطلقا صحابہ کرام ہی کو حاصل ہے۔
اگر چہ حضرت مسیح اور امام مہدی
ایک ہی زمانہ میں ہوں گے مگر چونکہ عیسی
کی وفات امام مہدی کے بعد ہو گی امام مہدی
پہلے وفات پائیں گی اس لیے امام مہدی
کو وسط اور حضرت مسیح کو آخر فرمایا۔
یعنی میرے اور حضرت عیسی
و امام مہدی
کے درمیان ٹیڑھی اور بے دین جماعتیں بھی ہوں گی جیسے مرزائی ، چکڑالوی ، وہابی بہائی وغیر ہم میں ان سے بیزار ہوں وہ میرے نہیں میں ان کا نہیں، جو حضور کا نہ ہو وہ رب کا بھی نہیں ہوتا ۔ شعر
ان کے در کا جو ہوا خلق خدا اس کی ہوئی ان کے در سے جو پھرا اللہ اس سے پھر گیا
( مرقاة شرح مشكوة )
اور اہلسنت کا موقف:امام مہدی
امت میں ایک امام کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اہل سنت کے ہاں معصوم ذات صرف انبیائے کرام کی ہے۔ امام مہد ی
عادل کا درجہ رکھتے ہیں۔
اہل سنت کے علماء کے مطابق امام مہدی
حضرت محمد ﷺ کی چوتھی بیٹی حضرت سیدہ خاتون جنت فاطمہ
اور حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ کی اس سے ہوں گے۔ ان کا نام محمد ہوگا اور کنیت ابو القاسم ہوگی۔ وہ ابھی پیدا نہیں ہوئے مگر میرا ہونے کے بعد وہ با قاعدہ حضرت عیسیٰ
کے ساتھ مل کر کفار و مشرکین سے جب کریں گے اور ایک اسلامی حکومت قائم کریں گے۔ ان کی پیدائش قیامت کے نزدیک ہوگی۔ اور ان کا ظہور مشرق سے ہوگا اور بعض روایات کے مطابق مکہ مکرمہ سے ہوا۔ ان کے ظہور کی نشانیاں بھی کثرت سے بیان کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل احادیث اہل سنت کی کتب میں موجود ہیں۔ جن پر شیعہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں۔
احادیث کی کتب میں تواتر کے علاوہ امام مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کئی مشہور علماء کرام نے مکمل کتب تحریر کی ہیں، جن کا تعلق اہل سنت کے مختلف مکتبہ فکر سے ہے۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں :
كتاب المهدی....... از امام ابو داؤد
علامات المهدى ....... از جلال الدین السیوطی
القول المختصر في علامات المهدى المنتظر از ابن حجر
البيان في اخبار صاحب الزمان از علامه ابو عبدالله ابن محمد يوسف الشافعي مهدی آل رسول از علی ابن سلطان محمد الهراوى الحنفى
عقائد اہل سنت کی کتابوں میں بہت سی روایات امام مہدی
کے بارے میں نقل کی گئی ہیں حتی کہ بعض اہل سنت کے مصنفین نے مستقل کتا ہیں امام مہدی
کے بارے میں لکھی ہیں جس سے وہ اعتراض بھی دور ہو جاتا ہے کہ جنہوں نے کہا کہ یہ عقیدہ صرف شیعوں کے ساتھ مخصوص ہے۔
1 ابراز الوهم المكنون من كلام ابن خلدون ، ابوالفیض سید احمد بن محمد بن صدیق عماری، شافعی، از هری، مغربی، (متوفی 1380) مطبعه ترقی دمشق 1347
2 ابراز الوهم من كلام ابن حزم، احمد بن صدیق عماری مؤلف قبل ، مطبوعة 1347 مطبعة ترقی دمشق۔
3 الاحتجاج بالاثر على من انكر المهدي المنتظر ، جامعہ مدینہ کے استاد شیخ محمود بن عبد اللہ تو یجری ، یہ کتاب شیخ ابن محمود قاضی قطری کی کتاب کے جواب میں تحریر ہوئی ہے۔ جلد اول 1394 وجلد دوئم 1396 ریاض۔ سعودی عرب۔1
4 الی مشیرہ الازہر ، شیخ عبدالله سیتی عراقی ۔ یہ کتاب سعد محمد حسن المهدوية في الاسلام کی جواب میں تحریر ہوئی ہے۔ مطبوعہ 1375 ہ دار الحدیث بغداد۔
5 تحديق النظر في أخبار الامام المنتظر ، ابن خلدون کے دعووں کے جواب میں شیخ محمد عبدالعزیز بن مانع نے لکھے اور 1385 ہجری کو شائع ہوئی ہے۔
7 الوهم المكنون في الرد علی ابن خلدون، ابوالعباس بن عبد المؤمن ، مغربی
کی ولادت ظہور:ولادت کے بارے میں اہل سنت اور اہل تشیع میں اختلاف ہے۔ اہل سنت کے مطابق امام مہدی کی ولادت ابھی نہیں ہوئی اور یہ پیدائش آخری زمانے میں قیامت امام مہدی می شود. سے کچھ پہلے ہوگی۔ جس کی تفصیل فقیر عرض کر چکا ہے۔
اعلی حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ والرضوان فرماتے ہیں:امام جلال الدین سیوطی
سے پہلے بعض علمائے کرام نے بملا حظہ احادیث حساب لگایا کہ یہ امت سن ایک ہزار ہجری سے آگے نہ بڑھے گی ۔ امام سیوطی (علیہ رحمۃ اللہ القوی) نے اس کے انکار میں رسالہ لکھا: الْكَشْف عَنْ تَجَاوُزِ هَذِهِ الْأُمَّةِ الأَلف اس میں ثابت کیا کہ یہ امت شاہ سے ضرور آگے بڑھے گی۔ امام جلال الدین سیوطی
کی وفات شریف 119ھ میں ہے، اور اپنے حساب سے یہ خیال فرمایا کہ ۱۳۰۰ھ میں خاتمہ ہو گا۔ بِحَمدِ اللهِ تعالی اسے بھی چھبیس برس گزر گئے اور ہنوز ( یعنی ابھی تک ) قیامت تو قیامت ، اشراط کبری (یعنی بڑی نشانیوں ) میں سے کچھ نہ آیا۔ امام مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں احادیث بکثرت اور متواتر ہیں مگر ان میں کسی وقت کا تعین نہیں اور بعض علوم کے ذریعہ سے مجھے ایسا خیال گذرتا ہے کہ شاید ۱۸۳۷ ھ میں کوئی سلطنت اسلامی باقی نہ رہے اور 190 ء میں حضرت امام مہدی
ظہور فرمائیں۔
اعلیٰ حضرت
نے اپنے ایک اور ملفوظ شریف میں ارشاد فرمایا کہ میں نے یہ دونوں وقت (۱۸۳۷ھ میں سلطنت اسلامی کا ختم ہونا اور ۱۹۰۰ ھ میں امام مہدی کا ظہور فرمانا) سید المکا شفین (یعنی اصحاب کشف کے سردار ) حضرت شیخ محی الدین این عربی
کے کلام سے اخذ کئے ہیں، اللہ اکبر ! کیساز بر دست واضحکشف تھا کہ سلطنت ترکی کا بانی اول عثمان پاشا حضرت کے مدتوں بعد پیدا ہوا مگر حضرت شیخ اکبر
نے اتنے زمانے پہلے عثمان پاشا سے لے کر قریب زمانہ آخر تک جتنے بادشاہ اسلامی اور ان کے وزراء ہوں گے رموز (یعنی اشاروں کنایوں) میں سب کا مختصر ذکر فرمایا ۔ ان کے زمانے کے عظیم وقائع (یعنی غیر معمولی واقعات) کی طرف بھی اشارے فرمادیئے۔ کسی بادشاہ سے اپنی اس تحریر میں یہ نرمی خطاب فرماتے ہیں اور کسی پر حالتِ غضب کا اظہار ہوتا ہے، اس میں ختم سلطنت اسلامی کی نسبت لفظ ایقظ فرمایا اور صاف تصریح فرمائی کہ لَا أَقُولُ أَيْقَظَ الْهِجْرِيَة بل ايقظ الْجَفْرِيَة( یعنی میں ایقظ مجریہ کے بارے میں نہیں کہتا بلکہ میری مراد ا یقظ جفریہ ہے۔ ت) میں نے اس ایقظ جفری کا جو حساب کیا تو ۱۸۳۷ ھ آتے ہیں اور انہیں کے دوسرے کلام سے ۱۸۰۰ ھ ظہور امام مہدی
کے اخذ کئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں رباعی
إِذَا دَارَ الزَّمَانُ عَلَى حُرُوفٍ
بِسْمِ اللَّهِ فَالْمَهْدِي قَامَا
وَيَخْرُجُ فِي الْحَطِيمِ عَقِيبَ صَوْم
أَلَا فَاقْرَاهِ، مِنْ عِنْدِي سَلَامًا
(یعنی : جب زمانہ بسم اللہ کے حروف پر گھومے گا تو امام مہدی
ظہور فرمائیں گے اور حطیم کعبہ میں شام کے وقت تشریف لائیں گے، سنو انہیں میر اسلام کہنا۔ خود اپنی قبر شریف کی نسبت بھی فرمادیا کہ اتنی مدت تک میری قبر لوگوں کی نظروں سے غائب رہے گی مگر
إِذَا دَخَلَ السِّينِ فِي الشَّينِ ظَهَرَ قَبْرُ مُحْيِ الدِّينِ
جب شین میں سین داخل ہو گا تو محی الدین کی قبر ظاہر ہوگی۔
سلطان سلیم جب شام میں داخل ہوئے تو ان کو بشارت دی کہ فلاں مقام پر ہماری قبر ہے۔ سلطان نے وہاں ایک قبہ بنوا دیا جو زیارت گاہ عام ہے۔ (پھر فرمایا ) چند جد اول ۲۸ - ۲۹ خانوں کی آپ نے تحریر فرمادی ہیں جن میں ایک ایک خانہ لکھا اور باقی خالی چھوڑ دیئے اب اس کا حساب لگاتے رہے کہ اس سے کیا مطلب ہے؟
( المفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول )
مجتہد ہونگے :سیدنا حضرت امام مہدی
جب ظہور فرمائیں گے تو چونکہ وہ خود مجتہد مطلق ہوں گے اس لیے وہ خود مسائل کا استنباط فرمائیں گے لیکن ان کا استنباط بھی فقہ حنفی پر منطبق ہوگا۔ 20
فرقہ شیعہ کے بعض نے کہا کہ حدیث یواطي أي يوافق اسمه اسمى واسم ابيه اسم ابی امام مہدی کا نام کے اور اس کے باپ کا نام میرے کے موافق ہوگا۔ میں تحریف ہوئی ہے صواب یہ ہے کہ حدیث یوں تھی کہ اسم ابيه اسم ابنی بالنون ( نون کے ساتھ ) یعنی ابوالحسن اس کے باپ کا نام میرے بیٹے حسن کے نام پر ہوگایا یہ کہ بابیہ سے مراد اس کا جد یعنی امام حسن مراد ہیں اور اسمہ سے اس کی کنیت مراد ہے کیونکہ امام حسن
کی کنیت عبداللہ ہے۔ اب مطلب یہ ہوا کہ اس کے دادا امام حسین
کی کنیت والد النبی ﷺ کے موافق ہو گی۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ مہدی سے محمد بن الحسن العسکری مراد ہے۔
یہ توڑ مروڑ صرف اسی لئے کی گئی تاکہ ان کا اعتقاد ثابت ہو مہدی موعود یہی محمد بن الحسن العسکری ہیں یہ سراسر غلط ہے حضرت امام ملاعلی القاری
المتوفی ۱۰۱۴ شرح مشکوۃ المصابیح میں لکھتے ہیں:
فيكون محمد بن عبد الله فيه رد على الشيعة يقولون المهدى الموعود هو القائم المنتظر وهو محمد بن الحسن العسكرى انتھی21
یعنی امام مہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ہو گا۔ اس حدیث سے شیعہ ٹولے کا رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ امام مہدی
پیدا ہو چکے ہیں جو دوبارہ آئیں گے جو ابھی تک موجود ہیں حالانکہ یہ غلط ہے چونکہ حضور ﷺنے امام مہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ارشاد فرمایا ہے اور وہ زمانہ مستقبل میں پیدا ہوں گے اور شیعہ جسے امام مہدی
بتاتے ہیں ان کا نام محمد بن حسن عسکری ہے ان کا انتقال ۲۶۵ھ میں ہو چکا ہے بحوالہ شواہد النبوة علامہ عبد الرحمن جامی نقشبندی الله المتوفی ۸۹۸ ھ النمر اس شرح شرحالعقائد للعلامہ عبد العزیز پر ہاروی
المتوفی ۱۲۳۹ھ مزید دلائل آئندہ صفحات پر ہدیہ قارئین ہوں گے (ان شاء اللہ ) معلوم ہوا کہ محمد بن حسن عسکری امام مہدی نہیں ہیں بلکہ امام مہدی محمد بن عبد اللہ ہوں گے جیسا کہ کتاب ہذا میں تحقیق ہو گی۔
شیعہ فرقہ کا عقیدہ باطل ہے بوجوہ ذیل:
(1) شیعوں کے من گھڑت افسانے۔
(۲) جس محمد بن الحسن کو شیعہ مہدی مانتے ہیں وہ تو فوت ہو چکے ان کا مال میراث ان کے چچا حضرت جعفر کو ملا جو حضرت امام حسن عسکری کے بھائی تھے۔
(۳) جب امام مہدی
بیعت لیں گے اس وقت ان کی عمر مبارکہ چالیس سال یا اس سے کچھ کم اگر بقول شیعہ محمد بن الحسن العسکری مراد ہیں تو احادیث میں ان کی عمر تا حال یا اظہار مہدویت صدیوں سال ہونی چاہیے مصنف اللہ کے زمانہ تک سات سو سال ہوتی۔
(۴) امام مہدی
کی ولادت مدینہ ( دمشق تحقیق آئے گی) میں ہوئی بخلاف محمد بن العسکری کے۔
(۵) حضرت علی المرتضی
سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد بن عبد اللہ مہدی بنا کر لائے گا۔
بلکہ اس کے علاوہ بہت سی صحیح احادیث وارد ہیں جن میں شیعہ مذہب کی صریح اور صاف تردید ہے اور وجوہ بھی ہیں ہم اختصار سے کام لیتے ہیں تا کہ کتاب کی ضخامت نہ بڑھے۔
شیخ عبدالوہاب شعرانی
المتوفی ۹۷۳ھ نے الیواقیت والجواہر میں لکھا ہے کہ جو شیعوں کا موقف ہے اور انہوں نے فتوحات المکیہ کا حوالہ دیا ہے ۔ حالانکہ فتوحات مکیہ شریف شیخ محمد الدین ابن العربی شیخ اکبر الله المتوفی ۱۳۸ میں حوالہ نہیں ہے بلکہ اس میں تو صاف لکھا ہے کہ مہدی موعود
امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ہوں گے اور امام عسکری
جس کے بیٹے کو شیعہ مہدی مانتے ہیں امام حسین
کی اولاد سے ہیں۔
الیواقیت والجواہر کی عبارت سوس ہے ( من گھڑت مضمون شامل کر دیا گیا ہے ) امام شعرانی
المتوفی ۹۷۳ ھ نے خود اپنی زندگی میں فرمایا تھا کہ کسی کو جائز نہیں کہ وہ میری اس کتاب الیواقیت والجواہر کو بیان کرے یہاں تک کہ علماء کرام کے سامنے پیش کرے اگر وہ اس کی اجازت دیں تو الحمد للہ ورنہ اس کے بیان کی اجازت نہیں ہے۔ یہ امام شعرانی قدس سرہ کی کرامت ہے کہ جس امر کا انہیں خطرہ تھا وہ سامنے آگیا کہ شیعوں نے اپنے عقیدہ کو ان کی کتاب الیواقیت والجواہر میں مدغم کر دیا۔ یونہی ان کی کتاب طبقات الکبری) میں شیعوں نے تحریف کی کہ امام حسین بن علی (امام زین العابدین
) کی اولا د واقعہ کربلا کے بعد بچی اور امام حسن
کی اولاد میں سے کوئی باقی نہیں بچ سکا سب فوت ہو گئے۔
شیعوں نے یہ کاروائی اسی لئے کی تا کہ مہدی موعود امام حسین
کی اولاد سے ثابت نہ ہو سکے۔ یہی عادت وہابیوں دیو بندیوں کی ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
المتوفی ۱۷۷ اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی
المتوفی ۱۲۳۹ھ کی تصانیف میں عبارت گھٹائیں اور بڑھائیں۔
تفصیل کے لئے دیکھئے فقیر کی تصنیف التحقيق الحلبی فی مسلک شاہ ولی(مطبوعہ )
کی صفائی:شیعوں نے امام شعرانی قدس سرہ کی طرف غلط عبارتیں منسوب کر کے اپنے غلط ہونے کا اعتراف کیا ہے اس لئے امام شعرانی قدس سرہ جیسے عارف باللہ کیسے انکار کر سکتے ہیں کہ امام حسن
کا نسب منقطع ہو گیا اور واقعہ کربلا کے بعد کوئی نہ بچ سکا۔ یہ ایک ایسا بہتان اور من گھڑت افسانہ ہے کہ جس کے اظہار کی ضرورت نہیں اور خاندان امام حسن
کی اتنی بڑی شہرت ہے کہ دنیا کا کوئی مسلمان اس سے بے خبر نہیں۔ خاندان امام حسن
میں بہت بڑے ائمہ، مشائخ ، اولیاء کرام ہیں کہ جن کا شمار نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے مثلاً ائمہ یمن و ملوک حجاز ، ملوک مغرب ائمہ طبرستان جیسے داعی کبیر غوث الاغواث قطب الاقطاب سید نا محی الدین الشيخ عبد القادر الجیلانی
المتوفی ۵۶۱ بھی باپ کی طرف امام حسن
کی اولاد میں سے ہیں ۔
شیعہ اہل سنت کی کچھ روایات سے اتفاق کرتے ہیں مگر یہ کہتے ہیں کہ امام مہدی
پیدا ہو چکے ہیں اور امام حسن عسکری
کے بیٹے ہیں یعنی حضرت محمد ﷺکی بیٹی حضرت فاطمہ
اور حضرت علی
کی نسل سے ہیں ۔ وہ اب غیبت . کبری میں ہیں اور زندہ ہیں یعنی ان کی عمر حضرت خضر
کی طرح بہت لمبی ہے۔ وہ قیامت کے نزدیک ظاہر ہونگے۔
پیدا ہو چکے:اہل تشیع کے عقائد کے مطابق وہ 15 شعبان 256 ہجری کو سامراء ( موجودہ عراق) میں پیدا ہوئے ہیں اور امام حسن عسکری
کے بیٹے ہیں اور والدہ کا نام نرجس یا ملیکہ تھا جو قیصر روم کی نسل سے تھیں۔ ان کی پیدائش سے پہلے حاکم وقت نے ان کے قتل کا حکم دیا تھا اس لیے ان کی پیدائش کا زیادہ چر چانہیں کیا گیا۔ حاکم وقت نے ان احادیث کو سن رکھا تھا کہ اہل بیت سے بارہ امام ہوں گے جن میں سے آخری امام مہدی
ہوں گے جو حکومت قائم کریں گے۔ تمام اسلامی فرقے متفق ہیں کہ ان کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم ہوگی ۔ (اہلسنت کا موقف میں نے عرض کر دیا ہے )
اہل تشیع کے عقیدہ کے مطابق امام مہدی
پیدا ہو چکے ہیں۔ وہ پانچ سال کی عمر میں غیبت میں چلے گئے مگر اپنے عمال یا نائبین کے ساتھ رابطہ رکھا۔ اس وقت کو غیبت صغری کہتے ہیں۔ غیبت صغری کے دوران وہ اپنے معاملات اپنے نائین کے ذریعے چلاتے رہے۔ ایسے چار نائبین کے نام تاریخ میں ملتے ہیں۔ غیبت صغری 260ھ سے 329 ھ تک چلتی رہی۔ بعد میں وہ مکمل غیبت میں چلے گئے جسے غیبت کبری کہتے ہیں اس دوران انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا اور ان کا ظہور حدیث کے مطابق آخر الزمان یا قیامت کے قریب ہوگا۔ تب تک نیک علماء لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
شیعہ لکھتے ہیں کہ معاذ اللہ در علل الشرائع روایت کرده است از حضرت امام محمد باقر
که چون قائم ما ظاهر شود عا ئشه را زنده کند تا بر اوحد بزند و انتقام فاطمه را از او بکشد
یعنی علل الشرائع میں حضرت امام محمد باقر
سے روایت ہے کہ جب امام مہدی
کا ظہور ہوگا تو وہ حضرت عائشہ کو زندہ کر کے ان پر حد جاری کریں گے اور ان سے فاطمہ کا انتقام لیں گے ۔ حق الیقین لملا باقر مجلسی، ص ۵۰۰-۵۱۹-۵۲۲-۳۴۷ مطبوعه کتاب فروشی اسلامیه تهران ایران ، ۱۳۵۷ھ،حیات القلوب " الملا باقر مجلسی، ج ۲ ص ۶۱۰ - ۶۱۱ . مطبوعہ کتاب فروشی اسلامیه تہران1
ایک جگہ لکھا (امام مہدی ہر دو ( ابو بکر و عمر) کو قبر سے باہر نکالیں گے وہ اپنی اسی صورت پر تر و تازہ بدن کے ساتھ باہر نکالے جائیں گے پھر فرمائیں گے کہ ان کا کفن اتا رو، ان کا کفن حلق سے اتارا جائے گا، ان کو اللہ کی قدرت سے زندہ کریں گے اور تمام مخلوق کو جمع ہونے کا حکم دیں گے پھر ابتداء عالم سے لے کر اخیر عالم تک جتنے ظلم اور کفر ہوئے ہیں ان سب کا گناہ ابوبکر و عمر پر لازم کر دیں گے، اور وہ اس کا اعتراف کریں گے کہ اگر وہ پہلے دن خلیفہ برحق کا حق غصب نہ کرتے تو یہ گناہ نہ ہوتے ، پھر ان کو درخت پر چڑھانے کا حکم دیں گے اور آگ کو حکم دیں گے کہ زمین سے باہر آئے اور ان کو درخت کے ساتھ جلا دے، اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ کو اڑا کر دریاؤں میں گرا دے۔22
اور مرزا قادیانی:سید منیر احمد بخاری، جرمنی ( سابق قادیانی) نے اپنے مضمون مرزا قادیانی امام وقت یا دجال وقت میں لکھا:
میں بچپن سے ہی اپنے قادیانی بزرگوں سے یہ سنتا رہا ہوں اور قادیانی اخباروں کتابوں میں پڑھتا رہا ہوں کہ چودھویں صدی میں امام مہدی
نے آنا تھا اور وہ امام مہدی مرزا قادیانی ہے۔ جنہیں ماننا بے حد ضروری ہے۔ جب ہم اپنے والدین کے ہمراہ احد یوں ( قادیانیوں ) کے سالانہ جلسہ پر ربوہ (موجودہ چناب نگر ) جاتے وہاں بوڑھے بوڑھے ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے کاغذ لیے یہ شعر پڑھتے تھے۔
ساڈا مہدی آیا اے
چودھویں صدی دے آخر تے آیا اے
ترجمہ : - ہمارا مہدی آیا ہے۔ وہ چودھویں صدی کے آخر میں آیا ہے۔
یہ چودھویں صدی کو آخری قرار دیتے تھے۔ پندرھویں صدی شروع ہوگئی تو لوگوں نے ان کے جھوٹے ہونے کا شور مچادیا۔ یہ حیرانی سے لوگوں کے منہ دیکھتے اور خاموش رہتے تھے کہ اس کا ان کے پاس جواب نہ تھا۔23
یہ چودھویں صدی والی بات چوں کہ ان کے جھوٹے نبی مرزا قادیانی نے خود ہی بنائی تھی لہذا یہ جھوٹی ثابت ہوئی۔ میں دنیا بھر کے قادیانیوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ مجھے حدیث دکھا ئیں جس میں یہ لکھا ہو کہ امام مہدی چودھویں صدی میں آئیں گے۔ کوئی قادیانی بھی قیامت تک ایسی حدیث نہیں دکھا سکتا۔ مرزا قادیانی آسمان سے خلیفہ اللہ المہدی کی آواز آنے کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کتاب بخاری میں موجود ہے۔24
یہ مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا ہے۔ کیا کوئی قادیانی یہ بخاری شریف میں دکھا کر اپنے نبی کی پیشانی سے جھوٹ کا یہ داغ دھو سکتا ہے؟ ہمت ہے تو سامنے آو ! وگرنہ اسے جھوٹا سمجھو ! مرزا قادیانی بار بار چودھویں صدی میں مجدد، مہدی اور مسیح موعود کے آنے کا ذکر کرتا ہے۔ (مثلاً ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 339) اب قادیانیوں کو پتہ چل گیا ہے کہ چودھویں صدی کی حدیث کوئی نہیں ہے اور ہم گزشتہ سو سال سے یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اب وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے چوھودیں صدی کا مرزا کی طرح ذکر نہیں کرتے، بلکہ آخری زمانہ کہتے ہیں لیکن اس صورت میں مرزا قادیانی کی تحریروں کا کیا بنے گا ؟ جب میں بد قسمتی سے قادیانی تھا تو دوسرے قادیانوں کی طرحصرف قادیانیوں کی لکھی ہوئی اور مرزا قادیانی کی لکھی ہوئی کتابیں ہی پڑھا کرتا تھا۔ کیوں کہ جماعت احمد یہ ہمیں کوئی اور کتاب پڑھنے کے لیے نہیں دیتی تھی۔ قادیانیوں کی اکثریت کو پتہ ہی نہیں کہ حدیث کی کتاب کیسی ہوتی ہے؟ وہ مرزا قادیانی کی لکھی ہوئی کتابوں کو ہی الہامی کتابیں اور حدیثیں سمجھتے ہیں۔ عام مسلمان اور مولوی حضرات انہیں مرزا قادیانی کے جھوٹوں پر گھیر لیتے ہیں تو یہ قادیانی پریشان ہو جاتے ہیں۔ ( مرزا امام وقت یاد حال وقت )
اور مرزا قادیانی تقابلی جائزہ:امام مہدی علیہ الرضوان کا نام حضور ﷺکے نام پر یعنی محمد ہوگا جب کہ مرزا قادیانی کا نام مرزاغلام احمد قادیانی ہے۔
آپ کے والد کا نام حضرت رسول پاک ﷺ کے والد کے نام پر (یعنی عبداللہ ) ہوگا جب کہ مرزا قادیانی کے باپ کا نام مرزا غلام مرتضی تھا۔
حضرت مہدی علیہ الرضوان حضرت سیدہ خاتون جنت فاطمہ
کی اولاد سے (یعنی سید ہوں گے جب کہ مرزا قادیانی مغل خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔
حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کی کنیت ابو عبد اللہ یا ابوالقاسم ہوگی ... جب کہ مرزا قادیانی کی کوئی کنیت نہ تھی۔
ظہور مہدی علیہ الرضوان اس وقت ہو گا جب دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی اور حضرت مہدی علیہ الرضوان دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
مرزائی بتائیں کہ کیا مرزا کے دعوی مہدویت کے وقت زمیں ظلم وجور سے بھر چکی تھی تو کیا تمھارے مہدی نے ظلم و جور ختم کر دیا اور پوری دنیا کو عدل و انصاف سے کر دیا ؟ بلکہ مرزا کے دور کے بعد ظلم و جور کو جو ترقی ملی ہے اس کی مثال گذشتہ صد یا ہمیں نہیں ملتی ۔
حضرت مہدی علیہ الرضوانکی خلافت پوری دنیا میں ہو گی اور وہ پوری دنیا کے حکمران ہوں گے جس کی مدت کے سال سے 9 سال تک کے درمیان ہو گی ۔ کیا مرزا قادیانی کو ایک دن بھی حکمرانی نصیب ہوئی ؟
حضرت مہدیعلیہ الرضوان کے ظہور سے قبل فتنے بہت بڑھ چکے ہوں گے آپ فتنوں کو ختم کریں گے اور آپ کے زمانہ میں آپس میں محبت والفت کا وہ رنگ ہو گا جو حضرات صحابہ کے دور میں تھا اور تمام مسلمان آپس میں بھائیوں کی طرح رہیں گے۔
مرزائیوں کے مہدی کے زمانے میں فتنے کتنے تھے اور مرزا قادیانی کے بعد فتنے زیادہ ہوئے یا فتنوں کا خاتمہ ہو گیا ؟ کیا مسلمان آپس میں بھائیوں کی طرح بن گئے ہیں یا بھائیوں کے درمیان بھی عداوتیں بڑھ گئیں؟
مرزا قادیانی کا نام، کنیت، ماں کا نام اور باپ کا نام وغیرہ حضرت مہدی سے بالکل مختلف ہے۔ اس کا حلیہ، حالات زندگی اور سیرت حضرت مہدی سے بالکل مختلف اور الٹ تھی۔ احادیث مبارکہ کی رو سے حضرت مہدی اولاد فاطمہ میں سے ہوں گے جبکہ مرزا قادیانی مغل بر لاس قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ حضرت مہدی کی والدہ محترمہ کا نام آمنہ جبکہ مرزا قادیانی کی ماں کا نام چراغ بی بی تھا جبکہ وہ علاقے میں گھسیٹی کے نام سے مشہور تھی۔ حضرت مہدی کے والد محترم کا نام عبد اللہ ہو گا جبکہ مرزا قادیانی کے باپ کا نام غلام مرتضی تھا جو قادیانی روایات کے مطابق انگریزوں کا ٹاؤٹ اور بے نمازی تھا۔
حضرت مہدی خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہوں گے تو مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کو پہچان لے گی اور آپ سے بیعت کرے گی۔ بیعت کے وقت آسمان سے یہ آواز آئے گی:
هذا خليفه الله المهدى فاستمعوا له واطيعوا
اس کے برعکس مرزا قادیانی نے ساری زندگی مکہ کا رخ نہ کیا۔ کبھی خواب میں بھی کعبہ شریف کی زیارت نصیب نہیں ہوئی بلکہ جب مرزا قادیانی نے 23 مارچ 1889ء میں ہوشیار پور میں اپنے چیلوں سے اپنے مہدی ہونے کی بیعت لی تو اس وقت آسمان سے یہ ندا آئی ہو گی ھذا خلیفہ الشیطان فلا تستمعوالہ ولا تطیعو پوری دنیا کے تمام مشائخ عظام و علمائے کرام اور عام مسلمانوں نے مرزا قادیانی کے اس جھوٹے دعوئی اور اس کے کفریہ عقائد و عزائم کی تکذیب کی اور متفقہ طور پر اسے مرتد ، زندیق اور واجب القتل قرار دیا۔ مکہ معظمہ کے ساتھ ساتھ تمام اسلامی ملکوں میں مرزا قادیانی کے دعوئی مہدویت کی تکذیب کی تشہیر کی گئی کہ امام مہدی ملک عرب کے والی حکومت ہوں گے۔ جبکہ مرزا قادیانی عرب کا بادشاہ تو کجا؟ قادیان کا نمبر دار بھی نہ تھا۔
ام المومنین حضرت ام سلمہ
کی روایت میں ہے کہ امام مہدی کی بیعت بین الركن والمقام ہوگی۔ یعنی خانہ کعبہ کے رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان ہوگی ۔ لوگ ان کی بیعت کرنا چاہیں گے اور وہ بیعت لینے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں گے۔ لیکن پھر لوگوں کے اصرار سے بیعت لیں گے اور جہاد قائم کریں گے۔
تفصیل فقیر گذشتہ اوراق میں عرض کر چکا ہے )
ادھر مرزا قادیانی کو دیکھیے کہ خود لوگوں کے پیچھے پڑا رہا کہ مجھے امام مانو اور میری . بیعت کرو جبکہ جہاد کے متعلق کہا کہ وہ اب موقوف ہے جو اس کا نام لے گا، وہ کافر ہے۔
اس حدیث کے رو سے جب امام مہدی علیہ الرضوان کی بیعت کا رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان واقع ہونا مسلم ہے تو معلوم ہوا کہ امام مہدی طواف کعبہ بھی کریں گے۔ لیکن دوسری طرف دیکھو تو مرزا قادیانی کو حج ہی نصیب نہیں ہوا۔ ساری عمر قادیان کے گول کمرے ہی میں بیعت لیتا رہا۔ خانہ کعبہ پہنچانہ وہاں جا کر بیعت لی۔
دیگر یہ کہ حضرت امام مہدی
بیعت جہاد کے لیے لیں گے۔ جیسا کہ ان کے بعد واقعات سے ثابت ہے۔ لیکن مرزا قادیانی محض پیری مریدی کے لیے بیعت لیتا رہا اور تحصیل زر کرتا رہا۔ جو حقیقت الوحی میں مذکور ہے اور اس طریق سے حاصل کردہ روپیہ زندگی میں ذات خاص اور اپنے اہل و عیال کے مصارف میں خرچ کرتا رہا اور بعد موت کے اپنے وارثوں کے لیے چھوڑ گیا۔
مرزا قادیانی نے لکھا کہ حضرت مہدی کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہو گی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب انجام آتھم صفحہ 325 تا 328 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 325 تا (328) میں اپنے 313 چیلوں کے نام لکھے جن میں 17 افراد ایسے تھے جو مدتوں پہلے فوت ہو چکے تھے۔ گویا اس وقت مرزا قادیانی کے ساتھ صرف 296 افراد تھے۔ اس مذکورہ فہرست کے سیریل نمبر 132،113،107،100،99،96،93،91 134، 293،286،283،169،148،147، 295 اور نمبر 310 پر درج افراد مدتوں کے فوت شدہ تھے جو مرزا قادیانی نے بغیر کسی وجہ کے اپنی لسٹ میں شامل کر لیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست کے سیریل نمبر 159 پر ڈاکٹر عبد الحکیم کا نام ہے جو پٹیالہ کی مشہور معروف شخصیت تھی اور تقریباً 25 سال تک مرزا قادیانی کے خاص الخاص اور جلیل القدر مریدین میں شمار ہوتے رہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص 808 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 ص 537) میں ڈاکٹر عبدالحکیم کا تعارف ان الفاظ میں کروایا ہے۔
حبی فی اللہ میاں عبد الحکیم خان جو ان صالح ہے۔ علامات رشد و سعادت اس کے چہرہ سے نمایاں ہیں۔ زیرک اور فہیم آدمی ہیں۔ انگریزی زبان میں عمدہ مہارت رکھتے ہیں۔ اُمید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کئی خدمات اسلام ان کے ہاتھ سے پوری کرے گا۔
بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب کی رہنمائی کی اور ان کو شمع ہدایت سے منور فرمایا۔ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ ان سے اسلام کی خدمات لی جائیں۔ اس لیے ترک مرزائیت کے بعد ڈاکٹر صاحب نے نہایت تحدی کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ مرزا قادیانی کا ذب ہے، عیار ہے اور مرزا قادیانی میری زندگی میں ہی عبرتناک موت سے مرے گا۔ چنانچہ ان کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور مرزا قادیانی، ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ہی 1908ء میں عبرتناک موت سے ہمکنار ہوا۔ مرزا قادیانی اور ڈاکٹر عبدالحکیم کے در میان سب سے بڑی وجہ جو اختلافات کا باعث بنی ، وہ یہ تھی کہ مرزاغلام احمد مسلمانوں کو کافر کیوں کہتا ہے؟ مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔۔
حضرت مسیح موعود نے عبد الحکیم خاں کو جماعت (مرزائیہ) سے اس واسطے خارج کیا کہ وہ غیر احمدیوں کو مسلمان کہتا تھا۔
كلمة الفصل صفحه 149 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے مذکورہ چیلے قادیان میں کبھی ایک وقت میں اکٹھے نہیں ہوئے ۔ 17 آدمی جو مردہ تھے، ان کو چھوڑ کر باقی 296 تو زندہ تھے، ان کے لیے قادیان میں جمع ہونا ممکن تھا۔ اگر وہ قادیان میں جمع نہیں ہوئے تو حدیث کی صداقت کیسے ہو سکتی ہے؟
اس کے علاوہ ایک اور دلیل سے مرزا قادیانی ہرگز مہدی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ خود لکھتا ہے:
سوسنت جماعت کا یہ مذہب ہے کہ امام محمد مہدی فوت ہو گئے ہیں اور آخری زمانہ میں انھیں کے نام پر ایک اور امام پیدا ہوگا۔ لیکن محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے۔1
(ازالہ اوہام صفحہ 458 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 ص 344 از مرزا قادیانی)}}ہمیں مرزا قادیانی کے الہامی حافظہ پر حیرت اور تعجب ہے کہ اس نے پہلے تو بڑے زور و شور اور وثوق سے اپنے مہدی ہونے کا دعوی کیا مگر بعد میں اس سے انکاری ہو گیا۔ مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا عبارت میں کسی تاویل یا استعارہ کی گنجائش نہیں۔
قادیانیوں کے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ مرزا قادیانی خود لکھتا ہے کہ مہدی کا آنا صحیح نہیں ہے اور پھر خود ہی اس کا مدعی بن بیٹھا۔ سچ ہے کہ جب کسی کے دماغ میں فتور آ جاتا ہے تو اسے اگلی پچھلی تمام باتیں بھول جاتی ہیں۔
اس سلسلہ میں مرزا قادیانی لکھتا ہے :
اس شخص کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔25
قارئین کرام! مرزا قادیانی اور حضرت مہدی
میں کوئی مماثلت یا مشابہت نہیں پائی جاتی البتہ مرزا قادیانی اور جھوٹے مہدی سوڈانی کے حالات وغیرہ میں کچھ مماثلت پائی جاتی ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔
1 - مرزا قادیانی 1839ء میں پیدا ہوا جبکہ مہدی سوڈانی بھی اسی سال پیدا ہوا۔
2 - مہدی سوڈانی نے 1889ء میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا جبکہ مرزا قادیانی نے بھی اسی سال مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔
3- مہدی سوڈانی کا نام محمد احمد تھا جبکہ مرزا قادیانی کا نام غلام احمد ہے۔ دونوں کے نام میں لفظ احمد مشترک ہے۔
4- مہدی کا ذب سوڈان میں پیدا ہوا جبکہ مرزا قادیانی قادیان میں۔
5- مہدی سوڈانی اپنے آپ کو عالم، فاضل اور مناظر سمجھتا تھا، جبکہ مرزا قادیانی بھی خود کو عالم ، فاضل اور مناظر کہلواتا تھا۔
-6- مہدی سوڈانی خوبصورت عورتوں کا شائق تھا جبکہ مرزا قادیانی کے بارے میں بھی ایسے ثبوت ملتے ہیں ۔
7- البتہ ایک بات میں مہدی سوڈانی، مرزا قادیانی سے بڑھ کر ہے کہ مہدی سوڈانی کے پاس 3 لاکھ جان شار فوج موجود تھی جبکہ مرزا قادیانی کے پاس صرف 313 جبکہ مردے نکال کر 296 خاص چیلے تھے۔ اور ایک بات میں مرزا قادیانی کے سکو رمہدی سوڈانی سے بہت زیادہ ہیں کہ مہدی سوڈانی نے صرف مہدویت کا دعوی کیا جبکہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود اور مہدی اور نہ جانے کیا کچھ ہونے کا دعویٰ کیا۔ مہدی سوڈانی صحت مند اور کڑیل جسم کا مالک تھا جبکہ مرزا قادیانی بیماریوں کا ہسپتال تھا۔
قادیانیت کے متعلق حقائق فقیر نے اپنی اس تحریر میں عرض کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو مذاہب باطلہ سے شر سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین
بحرمت سيد الأنبياء والمرسلين صلى الله عليه و آله واصحابه اجمعين
فقط مدینے کا بھکاری
الفقير القادري ابو الصالح محمد فیض احمد اویسی رضوی غفرله
جامعہ اویسیہ رضویہ سیرانی مسجد بہاولپور پنجاب پاکستان