logoختم نبوت

امام احمد رضا اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت۔۔۔از۔۔۔صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری

سید ہر دوسرا احمد مجتبی نبی المصطفیٰ رسول مرتضی، محمد رسول اللہ ﷺکے نبی آخر الزماں ہونے پر امت کا اجماع ہے اور نصوص قرآنیہ و احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ خصوصاً آیہ کریمہ ولکن رسول الله وخاتم النبيين1 نص قطعی کے اعتبار سے سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طرح ختم نبوت“ کے الفاظ کے ساتھ بہت سی احادیث مبارکہ کتب حدیث میں ملتی ہیں۔ ختم بی النبيُّونمجھ سے انبیاء کو ختم کر دیا گیا۔2

ختم نبوت کے ساتھ ساتھ مسلم و بخاری میں ایسی حدیثیں بھی وارد ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے انبیاء کرام کو ایک عمارت سے تشبیہ دی اور خود کو ا۔

اری اینٹ سے تشبیہ دی جس سے عمارت نبوت کی تکمیل ہوئی 3

اسی طرح حدیث شریف میں ” انہ لا نبی بعدی“4 ، ”لیس نبی بعدی “5 اور ”لا نبوۃ بعدی“6کے بھی الفاظ آئے ہیں یعنی بیشک میرے بعد کوئی نبی یا نبوت نہیں۔}}

قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ امت کا اجماعی اور اتفاقی مسئلہ رہا ہے کہ سرور عالم ﷺ کے بعد مدعی نبوت کا دعویٰ کرنا تو الگ رہا، آپ ﷺ کے بعد نبوت کی تمنا کر نا بھی کفر ہے۔ (حوالہ اعلام بقواطع الاسلام ، امام حلیمی )

تاریخ شاہد ہے کہ ہر دور میں اسلام اور اہل اسلام کے خلاف یہود و نصاری اور دیگر کفار مشرکین سازشیں کرتے رہے ہیں تاکہ عقائد اسلام کو مسخ کیا جا سکے اور سید عالم کی محبت مسلمانوں کے دلوں سے نکال کر ان کی قوت اور سلطنت کو پارہ پارہ کیا جا سکے۔

علماء اہل سنت نے ، جنہوں نے ہر دور میں اعلاء کلمۃ الحق کا فریضہ انجام دیا ہے ،

تاریخ کے ہر موڑ پر اسلام کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کی سر کوئی کی ہے۔ اسی طرح انہوں نے ختم نبوت کے منکرین کا سخت رد کر کے ان کے سر اٹھانے سے پہلے ہی انہیں کچل دیا۔

دور جدید میں فتنہ قادیانیت یا مرزائیت مسلمانان عالم کے خلاف ایک بہت ہی گھناؤنی سازش ہے جو جسد ملت اسلامیہ کے لئے ایک کینسر سے کم نہیں۔ ہمیشہ کی طرح اس فتنہ کی سر کوئی کیلئے بھی علماء و مشائخ اہل سنت کا کردار شروع سے ہی بہت عالیشان رہا ہے۔ ترجمان اہل سنت اگست ، ستمبر ۱۹۷۲ء میں رد قادیانیت پر ۶ ار علماء کی ۱۹ ر کتب کا تعارف ہے ۔ جبکہ سید صابر حسین شاہ صاحب نے اپنی تصنیف ” قائد اعظم کا مسلک“ میں اس موضوع پر ۳۲ / علماء اور ۴۶ ر کتب و رسائل کا ذکر کیا ہے اس طرح اگر مکر رات کو حذف کر دیا جائے تو مصنفین علماء کی تعداد ۴۳ / اور کتب و رسائل کی تقریبا ۲۰ / بنتی ہیں۔ اگر دور جدید کے علماء پاک و ھند و جنگلہ دیش کے حوالے سے مزید تحقیق اور جستجو کی جائے تو راقم کے خیال میں علماء و کتب کی تعداد ۱۰۰ر سے بھی تجاوز کر جائے گی ۔ لیکن رد قادیانیت کے حوالے سے دو شخصیات کی تصانیف نے سب سے زیادہ شہرت پائی :

(1) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمة

(2) حضرت پیر طریقت سید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی علیہ الرحمة

ہم اس وقت رد قادیانیت کے ضمن میں امام احمد رضا کی قلمی کاوشوں اور تحریک ختم نبوت پر اس کے اثرات کا جائزہ لیں گے ۔ امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمة(المتوفى ۱۳۴۰ ۱۹۲۱ء) چودھویں صدی ہجری کے ایک جید عالم دین اور اپنے عہد کے معروف رجع فتاوی ہیں جن کے پاس بلاد عرب و عجم ، افریقہ ، امریکہ اور یورپ سے بیک وقت پانچ پانچ سو استفتاء مسائل دینیہ وجدیدہ کی دریافت کیلئے آتے تھے۔ 7وہ اپنی جرات ایمانی اور حق کے اظہار او اعلام کے اعتبار سے ”لا يخافون لومة لائم “ کے صحیح مصداق تھے۔ انہوں نے منصب و مقام نبوت و رسالت اور مہمات مسائل دینیہ کے بیان میں ایک ہزار کے قریب چھوٹے بڑے رسائل تصنیف کئے جو مختلف علوم و فنون پر ان کی حیرت انگیز دسترس کا منہ بولتا ثبوت ہیں 8۔ ان کے عہد کے جید علماء ہند ، سندھ اور علماء در مین شریفین نے ان کے فضل و کمال اور تبحر علمی کو نہ صرف سراہا ہے بلکہ آپ کی دقت نظر کی اور علمی فتوحات پر آپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ”امام العصر “، ” نابغۂ روزگار “،” مجدد وقت “، ” اللہ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت “قرار دیا ہے۔ 9

بر صغیر پاک و ہند میں امام احمد رضا فاضل بریلوی کا وہ پہلا خانوادہ ہے جہاں منکرین ن ہونے سے ختم نبوت اور قادیانیت کا ۔ ر قادیانیت کا سب سے پہلے رد کیا گیا۔ سید عالم ﷺ کے خاتم النبیین ہو۔ انکار کا فتنہ ہندوستان میں پہلی بار اس وقت منظر عام پر آیا جب مولوی احسن ناناتوی (م) ۱۲ ۱۳ / ۱۸۹۲ء) نے قیام بریلی کے دوران (۱۸۵۱ء تا ۱۸۶۰ء) حدیث اثر امان عباس کی بنیاد پر اپنے اس عقیدہ کا واضح اعلان کیا کہ رسول ﷺ کے علاوہ بھی ہر طبقہ زمین میں ایک ایک ” خاتم النبیین “ موجود ہے ۔ 10

امام احمد رضا کے والد ماجد علامہ مولانا نقی علی خان علیہ الرحمة (م ۱۲۹۷ھ ۱۸۸۰ء) نے مولوی احسن ناناتوی کی سخت گرفت کی اور اس عقیدہ کو مسلمانوں کے متفقہ عقیدہ ختم نبوت کے منافی قرار دیتے ہوئے ایسا عقیدہ رکھنے والے کو گمراہ اور خارج از اہل سنت قرار دیا۔ ان کی حمایت میں علماء بریلی ، بدایوں اور رامپور نے بھی فتوے دیئے جس میں مولوی احسن ناناتوی صاحب کے مسلم الثبوت عالم مفتی ارشاد حسین مجددی فاروقی بھی شامل تھے جبکہ مولوی احسن ناناتوی کی حمایت میں ان کے عزیز مولوی قاسم ناناتوی صاحب نے ایک کتابتحذیر الناس تحریر کی11 اور وہ اپنے عزیز کی حمایت میں اس قدر بڑھ گئے کہ انہوں نے یہاں تک لکھ دیا کہ :

سو عوام کے خیال میں رسول اللہ صلعم کا خاتم ہو نا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں۔12

(نوٹ : یہ بہت بڑی محرومی بلکہ گستاخی ہے کہ سید عالم ﷺ کا اسم گرامی لکھتے وقت ” صلعم “ یا ”ص“ ” ع “ جسے معمل الفاظ لکھے جائیں ، اسلئے کہ آیہ کریمہ ” ان الله ومليكته يصلون على النبى الخ“ میں حکم وجوب ہے وہ قلم و زبان دونوں کے لئے ہے )

دوسری جگہ مزید تحریر کیا :

اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی علی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی۔ خاتمیت محمد ی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائے کہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اس زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے13۔

میں وہ دل آزار تشریح ہے جس نے انیسویں صدی کے آخری دھائی میں ملت اسلامیان ہند میں دو دھڑے پیدا کر دئے اور ایک نئے فرقہ ” دیوبندی وھابی کو جنم دیا آگے چل کر ” تحذیر الناس “ کی اسی عبارت نے مرزا غلام قادیانی کذاب کی جھوٹی نبوت کے دعوی کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کی جس کو آج تک قادیانی بطور دلیل پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ حتی که ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو جب پاکستان کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کیلئے دلائل دیئے جارے تھے تو قادیانیوں کے نمائندہ مرزا ناصر نے اپنے مسلمان ہونے کے دفاع میں مولوی قاسم ناناتوی کی ان عبارات کو بطور دلیل پیش کیا جس کا جواب جناب مفتی محمود سمیت اسمبلی میں موجود کسی دیوبندی سے نہ بن پڑا البتہ مولانا شاہ احمد نورانی اور علامہ عبد المصطفى الازھری صاحب نے گر جدار آواز میں کہا کہ ہم اس عبارت کے لکھنے والے اور اس کے قائل دونوں کو ایسا ہی کافر سمجھتے ہیں جیسا قادیانیوں کو اور اس سلسلے میں امام احمد رضا کا مرتبہ اور حرمین شریفین کا تصدیق شدہ فتوی حسام الحرمین اسمبلی میں پیش کیا جا چکا ہے۔

مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ مفتی محمود صاحب کی جماعت ، جمیعت علماء اسلام ہی کے دو معزز اراکین مولوی غلام غوث ہزاوری دیو بندی اور مولوی عبدالحلیم دیوبندی نے قادیانیت کے خلاف پیش کردہ قرارداد پر قومی اسمبلی میں موجود ہونے کے باوجود دستخط نہیں کئے لیکن نہ مفتی محمود صاحب نے ، نہ ان کی جماعت نے اور نہ ہی کسی اور دیوبندی عالم نے ان کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی کی یا بیان دیا یا اخبارات میں مضمون لکھا۔14 در اصل مرزا غلام قادیانی کی تردید و تکفیر کے ساتھ ساتھ اس عبارت کی تائید و حمایت وہی شخص کر سکتا ہے جو عین نصف النہار کے وقت آفتاب کے وجود کے انکار کی جرات کر سکتا ہو یا پھر اس کی ذہنی کیفیت صحیح نہ ہو۔

بر صغیر پاک و ہند کے علمائے مرشدین میں حضرت امام احمد رضا وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ۱۳۲۴ھ / ۱۹۰۵ء حریمین شریفین کے تقریباً ۳۵ مشاہیر فقہا اور علماء سے مرزا غلام قادیانی اور قادیانیت کی بنیاد فراھم کرنے والے مولوی قاسم ناناتوی اور ان کے دیگر ہم عقیدہ علماء کے بارگاہ الہی اور بارگاہ رسالت پناہی میں گستاخانہ عبارات کے خلاف شخصی طور پر اسلام سے اخراج اور کافر قرار دیئے جانے کا واضح فتوئی حاصل کیا جسے عرب و عجم میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ فتوی ”حسام الحرمين على منحر الكفر والمين کے نام سے متعدد بار شائع ہو چکا ہے۔ آگے چل کر حرمین طیبین کا میں فتوئی عالمی سطح پر قادیانیوں اور قادیانی نوازوں کے غیر مسلم قرار دیے جانے کی تمہید بنا۔

امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ نے مرزا قادیانی کو صرف کافر ہی نہیں قرار دیا بلکہ اس کو مرتد منافق بھی کہا ہے اور اپنے فتوؤں میں اس کو اس کے اصلی نام کے بجائے غلام قادیانی کے نام سے یاد کیا ہے۔ " مرتد منافق “ وہ شخص ہے جو کلمہ اسلام پڑھتا ہے ، اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ، اس کے باجود اللہ تعالی یار سول اللہ ﷺ یا کسی نبی یا رسول کی تو مہین کرتا ہے یا ضروریات دین سے کسی شے کا منکر ہے12۔ اس کے احکام کافر سے بھی سخت تر ہیں16۔ امام صاحب نے مرزا غلام قادیانی اور منکرین ختم نبوت کے رد و ابطال میں متعدد فتادی کے علاوہ جو مستقل رسائل تصنیف کئے ہیں ان کے نام یہ ہیں۔

(1) ”جزاء الله عدوه بابائه ختم النبوة“ یہ رسالہ ۱۳۱۶ھ میں تصنیف ہوا۔ اس میں عقیدہ ختم نبوت پر ایک سو بیس حدیثیں اور منکرین کی تکفیر پر جلیل القدر ائمہ کرام کی تمیں تصریحات پیش کی گئی ہیں۔

(۲) ”السوء والعقاب على المسيح الكذاب“یہ رسالہ ۱۳۲۰ھ میں اس سوال کے جواب میں تحریر ہوا کہ آیا ایک مسلمان اگر مرزائی ہو جائے تو کیا اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی ؟ امام احمد رضا نے دس وجہ سے مرزا غلام قادیانی کا کفر ثابت. کر کے احادیث کے نصوص اور دلائل شرعیہ سے ثابت کیا کہ سنی مسلمہ عورت کا نکاح باطل ہو گیا وہ اپنے کافر مرتد شوہر سے فورا علیحدہ ہو جائے۔

(۳) ”قهر الذيان على مرتد بقادیان“: یہ رسالہ ۱۳۲۳ھ میں تصنیف ہوا۔ اس میں جھوٹے مسیح قادیان کے شیطانی الہاموں ، اس کی کتابوں کے کفریہ اقوال اور سیدنا عیسی علیہ الصلوٰة والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ سید نا مریم رضی اللہ تعالٰی عنہا کی پاکی و طہارت اور ان کی عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

(۴) ”المبین ختم النبيين“: یہ رسالہ ۱۳۲۶ھ میں اس سوال کے جواب میں تصنیف ہوا کہ ”خاتم النبین “ میں لفظ ” النبیین “پر جو الف لام ہے وہ استغراق کا ہے یا عہد خارجی کا۔ امام احمد رضا نے دلائل کثیرہ واضحہ سے ثابت کیا کہ اس پر الف لام استغراق کا ہے اور اس کا منکر کا فر ہے۔

(۵) ”الجرار الدیانی علی المرتد القادیانی“: یہ رساله ۱۳۰ محرم الحرام ۳۲۰اہ کے ایک استفتاء کے جواب میں لکھا گیا اور اسی سال ۲۵ صفر المظفر ۱۳۴۰ھ کو آپ کا وصال ہوا۔

سائل نے ایک آیت کریمہ اور ایک حدیث پیش کی جس سے قادیانی ، حضرت عیسی علیہ الصلوٰة کی وفات پر استدلال کرتے ہیں، امام احمد رضا نے آیت کریمہ کے سات فائدے بتائے اور سات وجوہ سے ان کے دلائل کو رد کیا اور حدیث شریف کو دلیل بنانے کے دو جواب دیگر قادیانیوں کے اس عقیدہ کار د بلیغ کیا۔

(1) ”المتعقد المنتقد“ : مولانا شاہ فضل رسول قادری بدایونی کی قدس سرہ العزیز عربی کتاب ”المعتمد المستند “ پر قلم بر داشته عربی حاشیہ ہے جس میں اپنے دور کے نو پید فرقوں کا ذکر کرتے ہوئے قادیانیوں کا بھی ذکر کیا ہے اور انہیں دجال و کذاب کہا ہے۔

امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان کی مسند افتاء سے ہندوستان میں جو سب سے پهار ساله قادیانیت کی رد میں شائع ہوا وہ ان کے صاحبزادہ اکبر حجت الاسلام مولانا مفتی حامد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ نے ۱۳۱۵ھ / ۱۸۹۶ء ”الصارم الربانی علی اسراف القادیانی “ کے نام سے تحریر کیا تھا ، جس میں مسئلہ حیات مسیح sym-9 کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور نغلام قادیانی کذاب کے مثیل مسیح ہونے کا زبر دست رد کیا گیا ہے۔ امام احمد رضا نے خود اس رسالے کو سر رہا ہے۔ 17

مذکورہ بالا سطور سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ منکرین ختم نبوت اور قادیانیوں کے رد و ابطال میں امام احمد رضا کس قدر سر گرم ، مستعد ، متحرک اور فعال تھے۔ وہ اس فتنہ کے ظہور پذیر ہوتے ہی اس کی سرکوبی کے درپے تھے ، جب کہ ان ہی دنون ان کے بعض ہم عصر جدید مخالفین علماء مر ز انغلام قادیانی کی جعلی اسلام پرستی اور جذبہ تبلیغ اسلام سے نہ صرف متاثر نظر آرہے تھے بلکہ بعض تو اس سے اپنی عقیدت و محبت کا کھلم کھلا اظہا بھی کر رہے تھے اس سلسلے میں مشہور مصنف اور ندوۃ العلماء (لکھنو ، هند ) کے مہتمم مولوی ابو الحسن علی ندوی صاحب کا بیان ایک تاریخی اہمیت رکھتا ہے ۔ ندوی صاحب نے اپنے مرشد شیخ عبد القادری رائے پوری صاحب کی سوانح حیات میں مرزا غلام قادیانی کے ساتھ ان کے تعلق خاطر کا اہم واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ مرزا غلام قادیانی کی کتابیں پڑھا کرتے تھے ، انہوں نے کہیں پڑھا کہ خدا نے اس کو مستعجاب الدعواہ قرار دیا ہے وہ اس الہام سے بہت متاثر ہوئے چنانچہ وہ اس ۔ کے بعد مرزا قادیانی کو اپنی ھدایت اور شرح صدر کی دعا کیئے برابر خط لکھا کرتے تھے اور وہاں سے جواب بھی آتا تھا۔ ایک مرتبہ مولانا احمد رضا خاں صاحب نے قادیانی کار د لکھنے کیلئے کتابیں منگوائیں تو شیخ عبد القادر رائے پوری نے بھی وہ مطالعہ کیں جس سے ان کے قلب پر اتنا اثر ہوا کہ وہ اسے سچا سمجھنے لگے۔ (ملخصاً) 18

اس واقعہ پر علامہ ارشد القادری صاحب نے رد قادیانیت کے سلسلے میں اپنی ایک تحریر میں بڑا جامع تبصرہ کیا ہے جو قارئین کرام کے استفادہ کے لئے پیش کیا جاتا ہے ۔19

مولانا ابو الحسن علی ندوی کی اس تحریر سے جہاں واضح طور پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام احمد رضا اپنی ایمانی بصیرت کی روشنی میں مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ صرف کذاب اور مفتری سمجھتے تھے بلکہ دشمن اسلام سمجھ کر اس سے لڑنے کے لئے ہتھیار جمع کر رہے تھے وہیں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ مولانا ابو الحسن علی ندوی کے پیرو مر شد مولانا عبد القادر رائے پوری مرزا غلام احمد قادیانی سے نہ صرف ایک عقیدت مند کی حد تک متاثر تھے بلکہ اپنے دعوائے نبوت میں اسے بہت حد تک سچا بھی سمجھتے تھے۔ اب اس کی وجہ بصیرت کا فقدان ہو یا اندرونی طور پر مفاہمت کا کوئی رشتہ ہوا سے اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ امام احمد رضا کا دینی شعور کفر کو کفر اور باطل کو باطل سمجھنے میں نہ کبھی غلط فہمی کا شکار ہوا اور نہ فیصلہ کرنے میں کوئی خارجی جذبہ ان کی راہ میں حائل ہو سکا اور یہ صرف توفیق خداوندی اور عنایت رسالت پناہی ہے “

راقم اس تبصرہ پر مزید اضافہ یہ کرتا ہے کہ ندوی صاحب نے بات یہیں ختم کر دی اور یہ نہیں بتایا کہ ان کے پیرو مرشد کی ہدایت کا سبب بھی اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا کے وہ فتاوی اور تصانیف تھیں جو انہوں نے قادیانیت اور منکرین ختم نبوت کے رد میں تحریر فرمائیں۔ اسی طرح عبد المجید سالک نے ”یاران کہن“ میں لکھا ہے کہ ابو الکلام آزا (دیوبندی) مرزا قادیانی کی غیرت اسلامی اور حمیت دینی“ کے قدر دان تھے یہی وجہ ہے کہ غلام قادیانی کے مرنے پر انہوں نے اخبار ”وکیل“(امرت سر ) میں بحیثیت مدیر ، اس کی ” خدمات اسلامی“ پر ایک شاندار شذرہ لکھا اور وہ لاہور سے بٹالہ تک اس کے جنازے کے ساتھ بھی گئے20۔ اس تعزیتی شندرہ کے اہم اقتباسات کو قادیانیوں نے ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کے پورے ایوان کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کی دلیل میں مولوی قاسم ناناتوی کی مذکورہ بالا عبارات کے ساتھ بڑے فخر کے ساتھ پیش کیا تھا۔ ایک حیرت انگیز انکشاف یہ بھی ہوا کہ دیوبندی حکیم مولوی اشر فعلی تھانوی صاحب نے مرزا غلام قادیانی کی چار تصانیف آریہ دھرم “ ( ۱۸۹۵ء) اسلام کی فلاسفی“( ۱۸۹۶ء) کشتی نوح (۱۹۰۲ء) اور نسیم دعوت (۱۹۰۵ء) کے مجموعے کو ”المصالح العقلیہ للاحکام النقیلہ “ کے عنوان سے ۱۳۳۴ ۱۹۱۶ء میں خود اپنے نام سے شائع کیا ، اسی کتاب کو قیام پاکستان کے بعد محمد رضی عثمانی دیوبندی صاحب نے احکام اسلام عقل کی نظر میں “ کے نام اور اپنے دیباچہ کے ساتھ دار الاشاعت کراچی سے شائع کیا 21(3)شاہ حسین گردیزی ،مولانا،تجلیات مہر انور (مطبوعہ کراچی ،)ص:556،557۔

اگر مولوی اشر فعلی تھانوی مرزا قادیانی کو کافر یا جھوٹا سمجھتے تو اسلام کی حقانیت کی دلیل کے طور پر اس کی تحریر اپنے نام سے ہر گز شائع نہ کرتے۔ ادھر جس وقت مولوی تھانوی صاحب غلام قادیانی کی چربہ کتب اپنے نام سے شائع کرانے کا اہتمام فرمارہے تھے ، امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ اور ان کے صاحبزادے حجتہ الاسلام مولانا حامد رضا خان علیہ الرحمۃ مند افتاء بریلی سے مرزا غلام قادیانی کے خلاف کفر اور ارتداد کا فتوی صادر فرما کر مسلمانان ہند کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کا سامان بہم پہنچار ہے تھے۔ اس کے علاوہ امام احمد رضا کی تقریبا ۶ رکتب اور ان کا مرتب کردہ فتاوی حرمین شریفین حسام الحرمين على منحر الكفر والمين“ اور حجه الاسلام کی کتاب "الصارم الربانی علی اسراف القادیانی ( اس اه) یکے بعد دیگر نے شائع ہو رہی تھیں۔

الغرض کہ اس فتنہ کے رد میں امام احمد رضا کی مساعی جمیلہ اس قدر قابل ستائش اور قابل توجہ ہیں کہ ہر موافق و مخالف نے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ پروفیسر خالد شبیر احمد فیصل آبادی دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی تأليف " تاریخ محاسبہ قادیانیت میں رد مرزائیت پر امام احمد رضا کا فتوئی بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے اور امام صاحب کی فقہی دانش و بصیرت کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کے تاثرات کے چند جملے ملاحظہ ہوں :

ذیل کا فتوئی بھی آپ کی علمی استطاعت ، فقهی دانش و بصیرت کا ایک تاریخی شاہکار ہے جس میں آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کو خود ان کے دعاوی کی روشنی میں نہایت مدلل طریقے سے ثابت کیا ہے ، یہ فتوی مسلمانوں کا وہ علمی خزینہ ہے جس پر مسلمان جتنا بھی ناز کریں کم ہے “ 22

لیکن بد نصیبی سے آج کل کچھ ایسے بھی نام نہاد محقق اور مصنف پائے جاتے ہیں جو تاریخ رد قادیانیت لکھتے وقت امام احمد رضا کے کارناموں اور شاہکار تصانیف کو یکسر فراموش کر جاتے ہیں۔ حال ہی میں روزنامہ جنگ ۷ / ستمبر ۲۰۰۰ء کے امتناع قادیانیت ایڈیشن" میں مفتی محمد جمیل خان صاحب کا بزعم خویش ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا جس میں متعدد تاریخی غلط بیانیوں اور کلمانِ حق کے علاوہ سب سے بڑی بد دیانتی یہ کی گئی ہے بر صغیر پاک وہنر میں منکرین ختم نبوت اور قادیانیوں کا سب سے پہلے رد کرنے والی اور سب سے زیادہ فتاوی اور رسائل تحریر کرنے والی شخصیت یعنی امام احمد رضا کا ذکر ہی نہیں کیا گیا حتی کہ فتاوی حرمین شریفین کا ذکر تو کیا گیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فتوی کس نے اور کب حاصل کیا تھا اور کسی نام نے شائع ہوا۔ شاید انہوں یہ اس لئے کیا کہ اس کی ساری کریڈٹ امام احمد رضا کو جاتی تھی اور یہ کہ اس فتوی کی زد میں کچھ ایسے جید علماء دیوبند کے نام بھی آتے تھے جنہوں نے سید عالم کے مرتبہ خاتمیت سے نہ صرف علی الاعلان انکار کیا تھا بلکہ دیگر اعتبار سے بھی شان نبوت میں گستاخی کے مرتکب ہوئے تھے۔ علمی اور تحقیقی تحریروں میں بد دیانتی اور مسلکی تعصب کی شاید اس سے بدتر مثال نہ ملے۔ دوسری طرف انہوں نے مشہور کانگریس نواز لیڈر مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری احراری کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے نہایت حیرت انگیز تبصرہ یہ کیا ہے کہ "وہ (بخاری صاحب) مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے تحریک آزادی کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر کے جہاد میں مصروف تھے “۔

مفتی جمیل خاں صاحب شاید مسلمانان پاکستان کا حافظہ کمزور سمجھتے ہیں ، آج بھی مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری کا نگریسی احراری کی تقاریر تحریک پاکستان کے دور کے بر صغیر کے تمام مشهور اخبارات و رسائل میں محفوظ ہیں جس میں ان کا پاکستان کے بارے میں یہ قول موجود ہے :

ابھی ھندوستان میں کوئی مائی کا لال ایسا پیدا نہیں ہو جو پاکستان کی ”پ“ بھی بنا سکے اور قائد اعظم کے متعلق اپنے ایک کانگریسی احراری لیڈر مولوی مظہر علی اظہر کا یہ شعر ہمیشہ ان کی زبان پر ہوتا تھا۔

اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا
قائد اعظم ہے کہ کافر اعظم

اگر مفتی جمیل خاں دیوبندی کا فتوی میں ہے کہ پاکستان کی اسلامی مملکت کے قیام کی مخالفت اور ہندوؤں کی بالادستی قائم کرنے والی جماعت کا نگر میں اور اس کے متعصب ہندو لیڈروں ، گاندھی اور نہر و و غیرہ کی شد و مد سے حمایت جہاد اسلام ہے تو پھر سب سے بڑے مجاهد اسلام تو گاندھی اور نہرو ہوئے اس لئے کہ یہ لوگ مقتدا تھے اور بے چارے عطاء اللہ بخاری کا نگریسی تو محض ان کے مقتدی ٹھہرے۔ مفتی صاحب کو ان کے حق میں بھی میں فتوی دینا چاہیے۔ یہ ہم نہیں کہتے ہیں بلکہ اس دور کے مشہور صحافی مولانا ظفر علی خاں اس گاندھوی امیر شریعت کیلئے فرماتے ہیں۔ 23

بادا تھے مسلمان تو بیٹے تھے مجوسی پوتے جو ہیں ادراروه کہلائے فلوی لجائے جہاں چند و وہی ہے وطن ان کا ھندی ہیں نہ مصری ہیں ، نہ چینی ہیں نہ روسی نہرو جو ہے دولہا تو ولین مجلس احرار بخاری کو مبارک عروسی ہو۔

افسوس کہ مفتی جمیل خان صاحب نے اپنے مذکورہ مضمون میں ان دو دیو بندی مولویوں ، غلام غوث ہزاروی ، اور مولوی عبدا لحکیم کی خدمت میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا بلکہ انہوں نے اس واقعہ کا ذکر تک نہیں کیا کہ ان حضرات نے اسمبلی میں موجود ہونے کے باوجود قادیانیوں کو کافر قرار دینے والی قرار داد پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اگر میں معاملہ خدا نخواستہ اہل سنت سے متعلق ہوتا تو مفتی جمیل صاحب کے فتراک سے نہ جانے تکفیر کے فتووں کے کتنے تیر چل جاتے۔

ہم اخبار ”جنگ“ کے ارباب بست و کشاد خصوصا میر شکیل الرحمٰن صاحب کی توجہ ادھر مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ آج محمد اللہ آپ کے اخبار کو جو مقبولیت حاصل ہے وہ محض اس وجہ سے ہے کہ عوام اہل سنت جو اس ملک کی سب سے بڑی اکثریت ہے وہ آپ کے اخبار کی خریدار ہے۔ میر خلیل الرحمن صاحب کے دنیا سے گزر جانے کے بعد کچھ برسوں سے ایسا لگتا ہے ایک مخصوص فرقہ (دیوبندی) کی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے ، ” آپ کے مسائل اور ان کا حل “ میں دیو بندیوں کی اجارہ داری ، میگزین سیکشن میں دیوبندی مولوی کا عمل دخل ، جتنے خصوصی ایڈیشن نکلتے ہیں ان میں بڑے بڑے مضامین صرف دیوبندیوں کے ہی چھپتے ہیں از رہ ترحم سنیوں کے بھی چھوٹے موٹے مضامین کو جگہ دیدی جاتی ہے۔ گذشتہ سال سے یہ را قم خود ختم نبوت کے حوالے سے ”امام احمد رضا اور اہل سنت کے دیگر علماء کے مضامین آپ کے کاؤنٹر بھیجوا رہا ہے لیکن آپ کے میگزین سیکشن کے انچارج مفتی جمیل احمد خان صاحب جو ایک متعصب دیوبندی ہیں ، وہ اس کو شائع نہیں ہونے دیتے ۔ اسی طرح امام احمد رضا کی نعتیں ہم نے متعدد بار بھیجیں لیکن مفتی صاحب اسے غالباً ضائع کر دیتے ہیں۔ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کے اراکین مختلف مواقع پر خصوصی ایڈیشن کیلئے مضامین بھیجتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر شائع نہیں ہوتے کبھی کبھی ایک آدھ مضمون کاٹ چھانٹ کر شائع کر دیا جاتا ہے۔ امام احمد رضا کے وصال کے موقع پر ہر سال ادارہ کی طرف سے جو علمی معیاری مضامین دیئے جاتے ہیں ان میں سے ایک آدھ شائع کر دیا جاتا ہے باقی اکثر غیر معرف لوگوں کے غیر معیاری مضامین شائع کر دیئے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ فقیر دوبار جناب محمود شام تصاحب بھی ملا ہے ہم ان کے ممنون ہیں کہ انہوں نے وقتی طور سے ہمارے کچھ معاملات حل کر دیتے تھے، لیکن آپ کے اخبار کے ساتھ یہ ایک مستقل مسئلہ ہے لہذا راقم چاہتا ہے کہ یہ معالمه مستقل بنیادوں پر حل ہو ۔ میر شکیل الرحمن صاحب آپ سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے بطور پالیسی طے کر لیا ہے کہ آپ کا اخبار صرف دیو، ندیوں اور وہابیوں کو نوازے گا ؟

را قم کو امید ہے کہ آپ کا جواب نفی میں ہو گا۔ لہذا فقیر کی گزارش ہے کہ آپ ان متعصب دیوبندی حضرات کی جنہیں آپ نے اپنے یہاں ملازم رکھا ہے مناسب نگرانی کریں اور غیر جانبداری کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہو کر اہل سنت کے علماء و مشائخ دانشور اور اہل قلم حضرات کے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کریں کہ جنگ صرف ایک مخصوص متعصب فرقہ کا اخبار ہو کر رہ گیا ہے ، اہل سنت کے علماء کو بھی ” آپ کے مسائل اور ان کا حل میں دعوت تحریر دیں میگزین سیکشن اگر کسی سنی کے سپرد نہیں کر سکتے تو کم از کم کسی غیر جانبدار اور غیر متعصب علمی اور تحقیقی نکتہ نگاہ رکھنے والی شخصیت کو اس کا سر براہ : نائیں ور نہ جس طرح سے آپ کا اخبار چند سالوں سے پاکستان اور قائد اعظم کے دشمنوں کی پذیرائی کر رہا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کچھ دنوں کے بعد ”جنگ“ کے ذریعہ ایک نئی تاریخ رقم ہو گی اور ہمارے نو نہالوں کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو جائے گی کہ گاندھی اور جواہر لال نہر و ہمارے سب سے بڑے قومی ہیرو ہیں اس لئے کہ مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری احراری ، ابو الکلام آزاد و غیرہ مجاهد اسلام تھے ، گاندھی اور نہروان کے لیڈر تھے تو نتیجہ یہ ان سے بھی بڑے محسن ملت اور مجاھد اسلام ہوئے (نعوذ باللہ )۔

امام احمد رضا sym-4 کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادگان، خلفاء ، مریدین اور متوسلین علماء نے غیر منقسم ھند میں قادیانیوں کے خلاف قلمی جہاد جاری رکھا ، سیکڑوں فتاوی جاری ہوئے اور بیسوں رسائل لکھے گئے لیکن تاج برطانیہ کے سائے میں پر ورش پانے والے ان ” مسلم نما مناقین کو قانونی طور پر مرتد و کافر قرار دینے کا اختیار علمائے اہل سنت کے پاس نہ تھا۔ تحریک پاکستان کے دوران اسلامی مملکت کے قیام کیلئے آل انڈیا سنی کا نفرنس کے پلیٹ فارم سے علماء مشائخ اور عوام اہل سنت نے مسلم لیگ اور قائد اعظم کی بھر پور حمایت کی جب کہ پوری دیوبندی قوم سوائے چند ایک کے گاندھی " کی " آندھی“ میں بہہ گئے اور کانگریس کی گود میں جانی تھی۔ لیکن تحریک پاکستان کی اس اہم جدو جہد میں بھی علماء اہل سنت کی نظروں سے قادیانیت کا فتنہ اوجھل نہیں رہا۔ خاص طور سے علامہ عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمۃ نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے بھی یہ کوشش جاری رکھی جس کا اعتراف متعصب غیر مقلد کانگریسی اسکالر ڈاکٹر ابو سلیمان شاہ جہانپوری نے اپنے ایک مضمون میں کیا ہے جس میں انہوں نے تحریر کیا ہے کہ مولا نا بدایونی مرحوم نے ۱۹۴۴ء میں مسلم لیگ کے اجلاس لاہور میں ایک قرار داد پیش کی تھی کہ قادیانیوں کو ان کے اسلام سے اخراج اور مسلمانوں کے تمام فرقوں کے اس پر متفق ہونے کی بناء پر مسلم سے نکالا جائے 24

قیام پاکستان کے بعد ۱۴ / مارچ ۱۹۴۹ء کو قانون ساز اسمبلی میں قرار دار مقاصد پاس ہونے کے بعد قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی باقاعدہ تحریک شروع ہوئی جنوری ۱۹۵۱ء میں کراچی میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے متفقہ طو پر ۲۲ نکات پر مشتمل اسلامی دستور کیلئے بنیادی اصول تیار کئے جس میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی sym-4 (م ۱۹۴۸ء) کے مرتبہ اسلامی دستور کی اہم شقوں کو بھی ۲۲ نکاتی قرار داد مقاصد میں شامل کیا گیا۔ ان نکات کی تیاری میں مولانا عبدالحامد بدایونی sym-4نے بہت فعال کردار ادا کیا۔ ۵۲ - ۱۹۵۳ء میں تحریک ختم نبوت نے ایک منظم مذہبی اور سیاسی قوت اختیار کر لی ، علماء اہل سنت نے ہر اول دستہ کا کام کیا۔ اس تحریک میں اگر چہ احراری، دیوبندی ، اہل حدیث اور شیعہ علماء بھی شریک ہوئے لیکن اس میں اکثریت علماء اہل سنت کی تھی۔ پیر صاحب گولڑہ شریف جناب غلام محی الدین صاحب بنفس نفیس جلسوں میں رونق افروز ہوئے پھر مجلس عمل تحریک ختم نبوت بنی جس کی قیادت خلیفہ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت، مجاهد ملت حضرت علامہ مولانا ابو الحسنات رحمۃ اللہ علیہ کر رہے تھے۔ کراچی میں مولانا عبد الحامد بدایونیsym-4نے اہم کردار ادا کیا۔ اس تحریک کے دوران ہزاروں آدمی پنجاب میں شہید ہوئے جن میں اکثریت عوام اہل سنت کی تھی۔ پنجاب کراچی اور سندھ سے جو سینکڑوں علماء و مشائخ گرفتار ہوئے اور قید و بند کی سزا پائی ان میں بھی اکثریت علماء و مشائخ اہل سنت کی تھی۔ اس تحریک کے عروج کے دوران بعض دیوبندی اور احراری علماء نے پس و پیش سے کام لیا مثلا کراچی میں مولوی احتشام الحق تھانوی اور لاہور میں مولوی داؤد غزنوی اور مودودی صاحب نے لیت و لعل سے کام لیا خصوصاً مودودی صاحب یہ چاہتے تھے کہ جب اہل سنت کے اکابر علماء گرفتار ہو جائیں تو وہ تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لیں غالبا اس طرح وہ اپنی اور اپنی جماعت کی سیاسی ساکھ بحال کرنا چاہتے تھے جس کو تقسیم سے قبل ان کی اور ان کی جماعت کی قائد اعظم اور مسلم لیگ کی مخالفت کی بناء پر نقصان پہنچا تھا۔ 25لیکن آخر کار وہ بھی میدان میں آنے پر مجبور ہو گئے جن تین حضرات کو مارشل لاء کے تحت پھاڑی کی سزا سنائی گئی ان میں دو کا تعلق اہل سنت کی قیادت سے تھا، سب سے پہلے مولانا عبد الستار خان نیازی صاحب کو پھانسی کی سزا کا حکم ہوا پھر مولانا خلیل احمد صاحب ابن علامہ مولانا ابو الحسنات صاحب (رحمہم اللہ تعالیٰ ) کو بعدہ جناب مودودی صاحب کو بھی پھانسی کی سزا کا حکم دیا گیا۔ ہر طرح کی لالچ اور دباؤ کے باوجود ان علماء اہل سنت نے ناموس رسالت اور عظمت مصطفی ﷺ پر قربان ہو جانا گوارا کیا لیکن معافی نہیں مانگی ان کے عزم و استقامت اور عوام اہل سنت کے بے انتہا جوش و جذبہ کو دیکھتے ہوئے حکومت وقت نے مولانا عبدالستار نیازی صاحب مودودی صاحب اور مولانا خلیل احمد صاحب کی سزاؤں کو بالترتیب ۱۴، ۱۴ سال، اور کے رسال میں بدل دیا۔ بعد میں ڈیڑھ ، دو دو سال قید میں رہنے کے بعد یہ حضرات رہا کر دیئے گئے۔

جو علماء اسیر تھے وہ بھی تقریبا کم و بیش اتنی ہی دنوں کے بعد رہا کر دیئے گئے ۔

ایسا عظیم کارنامہ انجام دیا کہ جو صبح قیامت تک سنہری حرفوں سے لکھا جاتا رہے گا۔ اس اہم واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے دنیائے سنیت کے عظیم مصنف اور مبلغ علامہ ارشد القادری صاحب ، تحریر کرتے ہیں :

دنیا کے سارے اسلامی ملکوں میں یہ قابل فخر اعزاز صرف پاکستان کو حاصل : والہ اس کی پارلیمنٹ نے انکار نبوت کی بنیاد پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر قانونی اور سیاسی طور پر دائرہ اسلام سے خارج کر دیا۔ پارلیمنٹ کے اس فیصلے میں امام احمد رضا کے ان فتوی کو کلیدی حیثیت حاصل رہی اور اس کو قانونی شکل دینے میں امام احمد رضا کے متوسلین علماء کی جدو جہد کا خصوصی حصہ رہا ہے۔ اسے بھی عقیدہ ختم نبوت کی حقانیت کئے کہ بغیر کسی جدو جہد کے سارے عالم اسلام نے جمہوریہ پاکستان کے اس دینی فیصلہ اور اس تاریخی قرار داد کے سامنے سر جھکا دیا۔

اللہ تعالیٰ کی ہزاروں رحمتیں اور برکتیں ہوں ان تمام علماء حق پر اجنہوں نے سنت صدیقی پر عمل پیرا ہو کر منکرین ختم نبوت کے خلاف ڈٹ کر قلمی جہاد کیا، تحریک ختم نبوت کے ان تمام شہدا پر جنہوں نے مقام مصطفی مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ان تمام رہبر ان ملت اور عالمان با صفا پر جنہوں نے عظمت مصطفیﷺکے علم کو بلند رکھنے کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور ان حق پرست شیدائیان اسلام پر بھی جنہوں نے محبت رسول ﷺ کی خاطر تختہ دار کے محضر نامے پر بخوشی اپنے دستخط ثبت کئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایوان مشاورت کے ان تمام اہل ایمان پر بھی کہ جنہوں نے خلیفہ الرسول بلا فصل امیر المومین سید نا ابو بکر الصدیق sym-5 دار ضاہ عنا کے فرمان مبارک کو آج کے مسلحہ کذاب اور اس کی قوم پر نافذ کر کے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول علی کی خوشنودی حاصل کی اور اپنی لئے تا قیام قیامت صدقۂ جاریہ کا اہتمام کر لیا ۔

خدار حمت کند این عاشقان پاک طینت را !

آمین بجاه سيد المرسلين والعاقبة للمتقين وصلى الله تعالى على خير خلقه سيدنا مولانا محمد ن الامين وعلى اله وصحبه واولياء ملته اجمعين وبارك وسلم إلى يوم الدين


  • 1 القرآن
  • 2 مسلم ،ج:1،ص:199،ترمذی،ص:243باب ما جاء فی الغنیمۃ
  • 3 مسلم ،ج:1،ص:248،بخاری ،ج:1،ص:501
  • 4 بخاری ،ج:1،ص:491
  • 5 بخاری ،ج:1،ص:633
  • 6 مسلم ،ج:2،ص:278،ترمذی،ص:534
  • 7 محمد مسعود احمد ،پروفیسر ڈاکٹر ،حیات مولانا احمد رضا خان بریلوی ،مطبوعہ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا ،کراچی ،1998
  • 8 محمد مسعود احمد ،پروفیسر ڈاکٹر ،حیات مولانا احمد رضا خان بریلوی ،مطبوعہ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا ،کراچی ،1998
  • 9 تقریظات حسام الحرمین (2)الدولۃ المکیۃ
  • 10 محمد شہاب الدین رضوی ،مولانا نقی علی خاں بریلوی ،ص:60
  • 11 محمد شہاب الدین رضوی ،مولانا نقی علی خاں بریلوی ،ص:67
  • 12 قاسم ناناتوی ،مولوی ،تحذیر الناس ،ص:3
  • 12 احمد رضا بریلوی ،امام،احکام شریعت ،(مدینہ پبلیشنگ ،کراچی )،حصہ اول،ص:112
  • 13 قاسم ناناتوی ،مولوی ،تحذیر الناس ،ص:12
  • 14 ماہنامہ کنز الایمان لاہور ستمبر 1997ء (ختم نبوت نمبر )ص:21،بحوالہ قائداعظم کا مسلک ،ص:293،تصنیف سید صابر حسین شاہ بخاری
  • 16 احمد رضا بریلوی ،امام،احکام شریعت ،(مدینہ پبلیشنگ ،کراچی )،حصہ اول،ص:122،128،139،177
  • 17 احمد رضا خاں ،امام،السوء العقاب علی المسیح الکذاب ،(مشمولہ مجموعہ رسائل ، (رد مرزائیت ومسئلہ نور وسایہ ،)ص:26
  • 18 ابو الحسن ندوی ،علامہ ،سوانح ،حضرت علامہ عبد القادر رائے پوری ،ص:55،56،بحوالہ معارف رضا (سالنامہ )1419ھ،1998ء ،کراچی ص:27
  • 19 ارشد القادری ،علامہ ،امام احمد رضا اور رد قادیانیت ،معارف رضا (سالنامہ )1419ھ،1998ء ،ص:27
  • 20 عبد المجید سالک ،یاران کہن ،(مطبوعہ لاہور1955ء)ص:42
  • 21 تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو :(1)عبد اللہ ایمن ،کمالات اشرفیہ(مطبوعہ لاہور )(2) محمد افضل شاھد ،تھانوی قادیانی دھلیز پر (مشمولہ مطبوعہ القول السدیر ،جنوری ،فروری ،1993ء،مئی 1996ء)
  • 22 خالد بشیر احمد ،پروفیسر ،تاریخ محاسبہ قادیانیت(فیصل آباد )ص:460
  • 23 چمنستان ،ص:55،56 ،97،148
  • 24 ماہنامہ الحق (اکوڑہ خٹک )اگست 1997ءص:48
  • 25 ماھنامہ ترجمان اہل سنت (کراچی)اگست 1972ء(ج:2،شمارہ :2/3)ص:78/85،انٹرویو مولانا سید خلیل احمد قادری البرکاتی اور مولانا عبد الستار خاں نیازی

Netsol OnlinePowered by