نحمده ونصلى على رسوله الكريم
بسم الله الرحمن الرحيم
حامد : بھائی سعید احمد میں آپ کو ایک مشورہ دینے آیا ہوں اور چونکہ آپ میرے دوست ہیں۔ اس لئے میں بزور آپ سے کہوں گا کہ اس پر عمل کریں۔
سعید: فرمائیے! اگر آپ کا مشورہ صیح اور واجب العمل ہوگا مجھے اس پر عمل کرنے میں کبھی عذر نہ ہوگا۔
حامد: میں آپ کی باتیں سن کر اس نتیجہ پر تو پہنچ چکا ہوں کہ مرزائی جماعت خواہ لاہوری ہو یا قادیانی، مذہب اہل سنت سے علیحدہ جماعت ہے اور اس کو مسلمانان اسلام سے کوئی سروکار نہیں۔ لیکن تہذیب بھی ایک چیز ہوتی ہے۔ میں نے آپ کے منہ سے کئی بار سنا کہ آپ نے مرزا قادیانی آنجہانی کو کرشن اوتار کہا۔ یہ اچھا نہیں۔ ان کی اتنی اہانت نہ کیجئے۔ بلکہ بین ثبوت ان کے کرشن نہ ہونے کا یہ ہے کہ میں نے قادیان میں گائے کا گوشت ہوتے دیکھا۔ اس وہ کرشن ہوتے تو مثل کرشن جی کے گنور کھٹا کرتے اور بن میں گائے چراتے ۔ بلکہ مجھے تو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے حکومت سے درخواست کر کے گائے کے ذبح کی قادیان میں اجازت لی تھی ۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ مخالفت مذہبی کی وجہ سے انہیں برا کہتے کہتے یہاں تک اتر آئیں کہ کرشن اوتار کہنے لگیں۔
سعید بھائی جان! ہنود کے اوتاروں میں رام اور کرشن ہی و و موحد ایسے گزرے ہیں جن کے متعلق ہم بھی برا لفظ ان کی شان میں نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے کہ بعض صوفیاء کرام نے اپنے مشاہدات سے انہیں حضورﷺ کے عشق میں فنا دیکھا ہے۔ اس اعتبار سے اس میں اہانت مرزا قادیانی لازم نہیں آتی۔ قطع نظر اس کے جب مرزا قادیانی خود ہی اپنے کرشن ہونے کا دعوی کر گئے ہوں تو پھر آپ کیا کہیں گے اور وہ دھوئی بھی خدا کے الہام سے کیا گیا ہو تو پھر؟
حامد: آپ بھی زور میں آکر چاہے جو کچھ کہہ ڈالتے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مسیح موعود بھی بنے اور اس کے ساتھ کرشن تار بھی ہونے کا مدعی ہو اور پھر وہ دھوئی بھی الہامی ہو۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا یہ بھی کسی جگہ لکھا ہے۔
سعید: جی ہاں! (لیکچر سیالکوٹ می ۳۳ ، خزائن ج ۲۰ ص ۲۳۸) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:
”خدا نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے۔ ایسا ہی ہندوؤں کے لئے بطور اوتار کے ہوں اور میں عرصہ ہیں سال سے کچھ زیادہ برسوں سے اس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ ان گناہوں کے دور کرنے کے لئے جن سے زمین پر ہوگئی ہے۔ جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں۔ ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کی رو سے میں وہی ہوں۔ یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجے فعہ مجھے بتلایا ہے کہ تو ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے ۔“
علاوه بر ایں آپ تو اس کو مرزا قادیانی کی اہانت مانتے ہیں اور ان کے پیرو بھاشا زبان میں اشتہار دے دے کر ہندو جاتی کو مطلع کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہندوؤں کے سیوک ابوالبشیر مرزا مسجد احمد به بیرون ولی دروازہ لاہور کا یہ اشتہار ملاحظہ ہوں جس کا عنوان ( (ہندو ہندو جنتا اور اس کا کر تو یہ ) ہے۔ اس کے اخیر میں وہ بتاتے ہیں۔ (۵) اے ہندو جاتی تو کرشن بھگوان کی محبت کا دعوئی بھی کرتی ہے اور پھر تو اس کے کھن کو بھول گئی ہے۔ کیا اس نے تجھے نہیں بتلایا تھا کہ جب کبھی دھرم کی ہانی ہوتی ہے اور ادھرمی زور ظلم کرتے ہیں تو اس وقت میں اپنی آتما کو پرگٹ کرتا ہوں۔ نیکوں کی رکھنا اور دھرم کی ستھاپن کے لئے سمہ سمہ پر شریر دھارن کرتا رہتا ہوں۔ (گیتا ادھیائے شلوک (۷/۸) پس میں بھگوان کرشن کے بھگتوں کے لئے ڈھنڈورہ دیتا ہوں کہ کرشن بھگوان نے اپنی پر تکیا انو ساراسی بھارت ورش کی بیاس ندی کے نٹ پر اپنی آتما کو پرگٹ کر دیا ہے۔ پس ہندو جنا کا کراتو یہ ہے کہ کرشن قادیانی کے جھنڈے تلے اکثرت ہو جائیں۔ جو کوئی شردھا سے اسے شرون کر اپنا کر تو یہ پائن کرے گا ، پایوں سے اوشیہ مکت ہو جائے گا۔ آپ کا سیوک ابوالبشیر مرزا۔
حامد : لاحول ولا قوۃ الا باللہ! میں نے تو آج یہ ٹھانی تھی کہ اگر آپ نے میرا مشورہ نہ مانا تو میں سمجھ لوں گا کہ آپ ضدی اور متعصب ہیں۔ مگر آپ کے پاس تو ہر چیز کا ثبوت ان کی خود تحریرات سے موجود ہے۔ اچھا یہ تو بتائیں کوئی ابو عمر عبدالعزیز ہیں۔ انہوں نے حقیقت مرزا ایک پمفلٹ نکالا ہے۔ اس میں وہ مرزا جی کے بیانات سے ان کی عمر میں گڑ بڑ بتا رہے ہیں کیا یہ صحیح ہے۔
سعید : بالکل صحیح ہے۔ لیجئے میں آپ کو یہ تفصیل ان کی اصل عبارتوں سے بتائے دیتا ہوں ۔ (تریاق القلوب ص 11خزائن ج ۱۵ ص ۱۵۲) میں ہے۔ مجھے مخاطب کر کے فرمایا:
”ثماینن حولا أو قريبا من ذالك او تزيد عليه سنينا وترى نسلا بعيدا “ یعنی میری عمر اسی برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دور کی نسل کو دیکھ لے گا اور یہ الهام تقریباً پینتیس برس سے ہو چکا ہے اور لاکھوں انسانوں میں شائع کیا گیا اور (ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم ص ۹۷، خزائن ج ۲۱ ص ۲۵۸) میں لکھتے ہیں:
”میں خود اقرار کرتا ہوں کہ اس کو پیش گوئی مت سمجھو۔ اس کو بقول اپنے تمسخری سمجھ لو۔ اب میری عمر متر برس کے قریب ہے اور تیس برس کی مدت گذر گئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگئی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم ۔ پھر اسی ضمیمہ کے اسی صفحہ پر چھ سات سطر بعد لکھتے ہیں اور جو الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چوہتر اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں ۔“
اور پھر اسی (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۹۰) پر لکھتے ہیں:
”میری عمر اس وقت تخمینا ۶۷ سال کی ہے۔ عبارات منقولہ بالا سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ الہام میں عمر ۴ کے برس سے ۸۶ کے اندر اندر مرزا قادیانی بتارہے ہیں۔“
حامد: اچھا اب ذرا یہ بتائیں کہ مرزا قادیانی دنیا میں کب آئے۔
سعید (کتاب البریہ مس ۷۷ ۱، خزائن ج ۱۳ ص ۱۷۷) میں اور ( ریویو آف ریلیجز بابت جون ۱۹۰۶ء کے ص ۲۱۹) پر اور (اخبار بدر ۳۰ را گست ۱۹۰۴ ص ۵) پر اور (الحکم ۲۱ و ۲۸ مئی ۱۹۱۱ ص ۴۲ کالم نمبر 1) پر اور (حیات النبی ج اص (۳۹) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”میری پیدائش سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ۔“
حامد سکھوں کا آخری وقت کس سن میں ہوا ؟
سعید: ۱۸۳۹ ء یا ۱۸۴۰ سکھوں کا آخری وقت تھا۔
حامد: تو اس حساب سے مرزا قادیانی کی کل عمر ۲۰ سال ہوئی ۔
سعید: آپ کیوں حساب لگاتے ہیں۔ مرزا قادیانی ہی سے پوچھتے وہی بتا رہے ہیں۔
تحفہ گولڑویہ ص ۱۹۴۲۹۳، خزائن ج ۷ ص ۲۵۲) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”حضرت آدمسے انحضرت ﷺ کی وفات مبارک تک کل مدت ۴۷۳۹ سال ہے۔“
اور پھر (تحفہ گولڑ دی میں ۱۹ حاشیہ ) پر لکھتے ہیں:
”اس حساب کی رو سے میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے ۔“
اور ( اخبار الحکم جنوری ۱۹۰۸ میں ۱۶) پر ہے:
”الف ششم ۱۲۷۰ھ میں ختم ہوا تھا۔“
حامد : تو اس حساب سے مرزا قادیانی کا سن ظہور یعنی پیدائش کا سال ۱۲۵۹ ھ بنتا ہے۔
سعید: جی ہانی!(ر یو یو بابت ماه مکی ۱۹۲۳ ، ص ۱۰۴ ج ۲۱ ش ۵ ص ۱۳۹) پر بھی قریب قریب یہی سنہ لکھا ہے۔ وهو هذا ! ۱۲۶۰ھ سن پیدائش حضرت مسیح موعود
اب مختلف بیانات عمر مرز آقا دیانی کے متعلق ملاحظہ ہوں :
1۔ر یویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ۱۹۱۸ء ص ۳۴۴، ج ۱۷ ش ۹) پر ہے کہ:
”مرزا قادیانی کی عمر ۸۳ سال ہوئی ہے۔“
2۔( ریویو کے نمبر ۹ ص 341 ش ، ج17ص ۳۴۱ ستمبر ۱۹۰۸ء) پر ہے کہ:
”مرزا قادیانی کی عمر ۸۰ سال ہوئی ہے۔“
3۔( ریویو ماہ نومبر 1916 ص 439) پر ہے کہ:
”مرزا قادیانی کی عمر ۷۸ سال ہوتی ہے۔“
4۔(ریویو ماه اپریل 1924، ج ۲۳ش ۴ ص ۲۳ اپریل ۱۹۲۴ء) پر ہے کہ:
”مرزا قادیانی کی عمر ہے برس ہوئی ہے۔“
5۔تشحیذ الاذہان ج7 ش ا ص ۲۸۸ ماه جون و جولائی ۱۹۰۸ء) پر ہے کہ :
”مرزا قادیانی کی عمر کے سال ہوئی ہے۔“
6۔کتاب( نور الدین ص171 سطر ۱۹) میں مرزا قادیانی کی بابت لکھا ہے کہ:
”آپ نے ۶۹ سال کی عمر پائی۔“
ur-quote
8۔( عسل مصلے ج ۲ ص ۵۲۲) پر ہے کہ :
”مرزا قادیانی کی عمر ۵۹ سال کی ہوئی۔“
اور اصل تحقیق یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی تحریر کے مطابق ۱۲۶۰ھ میں پیدا ہوئے اور۱۳۲۶ھ میں بغیر حج کئے مرے۔ تو اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر بموجب الہام مذکورہ نہ چوہتر برس کی ہوتی ہے نہ ۸۶ برس کی ۔ بلکہ ۶۸ برس تک پہنچ کر ختم ہوگئی۔
حامد: کیا کہیں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ہوتا ہے۔ سعید : جی ہاں لکھا ہے۔ براہین احمدیہ کے (ضمیمہ مص الا بخزائن ج ۲ ص ۲۷۵) پر ہے:
”اور جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ اور متناقض اقوال تو میں آپ کو پہلے نمبروں میں خود مرزا قادیانی کی تحریر سے دکھا چکا ہوں۔“
حامد: ازالہ اوہام مرزائیوں کی کوئی کتاب ہے۔
سعید: ہاں ہے۔
حامد: اس کے حصہ دوم میں ص ۶۰۲ کا ایک مفصل مضمون مرزا قادیانی کا ایک مرزائی نے مجھے دکھایا جس کے پڑھنے سے مجھے یہ اطمینان ہو گیا کہ وہ صحیح ہے۔
سعید : وہ کیا مضمون تھا۔ مجھے بھی تو سنائیے۔ لیجئے یہ ازالہ اوہام ہے اور وہ ہے جو مرزا قادیانی کی ابتدائی زمانہ ۱۳۰۸ھ میں ریاض ہند امرتسر کے ذریعہ کل سات سو چھوٹی تقطیع پر طبع ہوا تھا۔
حامد : ہاں اسی تقطیع کا میں نے دیکھا تھا اس کا ص ۲۰۲ نکالئے۔
سعید یہ لیجئے۔
حامد: (ازالہ اوہام میں ۲۰۱، خزائن ج۳ ص ۴۲۵) سے بحث شروع کی ہے:
”افسوس کہ بعض علماء جب دیکھتے ہیں کہ توفی کے معنی حقیقت میں وفات دینے کے ہیں تو پھر یہ دوسری تاویل پیش کرتے ہیں کہ آیت فلما توفیتی میں جس توفی کا ذکر ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے بعد واقع ہوگئی۔ لیکن تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرا بھی شرم نہیں کرتے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت فلما تو قیمتی سے پہلے یہ آیت ہے۔ ” واذ قال الله يعيسى انت قلت للناس“ اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اول از موجود ہے۔ جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس نے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصبہ تھا نہ زمانہ استقبال کا اور پھر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسیکی طرف ہے۔ یعنی فلما توفیتنی ہے وہ بھی بصیغۂ ماضی ہے۔ اس مضمون سے صاف ظاہر ہے کہ ہمارے علماء جو اس کو دلیل میں پیش کرتے ہیں غلط ہے۔“
سعید : بھائی جان بے علمی بری بلا ہے۔ اوّل تو مرزا قادیانی کو قرآن ہی نہیں آتا۔ یا یوں کہے کہ عیسیٰ
کا جہاں ذکر آتا ہے مرزا قادیانی غصہ میں از خود رفتہ ایسے ہو جاتے ہیں کہ ہوش ہی نہیں رہتا۔ قرآن کریم میں یہ آیت یوں نہیں ہے۔ جیسے مرزا قادیانی نے نقل کی ہے۔ بلکہ یوں ہے۔ ” واذ قال الله يعيسي بن مریم“ علاوہ اس کے چونکہ مرزا قادیانی پہلے تا گئے ہیں کہ جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ اس کلام میں بھی مرزا قادیانی کے تناقض ہو۔ چنانچہ ملاحظہ کیجئے (ضمیمہ براہین احمدیہ ص ۶ ، خزائن ج ۲۱ ص ۱۵۹) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”جس شخص نے کافیہ یا ہدایۃ الحج بھی پڑھی ہوگی ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنی پر بھی آجاتی ہے۔ بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو۔ مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تا اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظریں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ونفخ في الصور فاذاهم من الاحداث الى ربهم ينسلون“ اور جیسا کہ فرماتا ہے: ”و اذ قال الله يعيسى بن مریم انت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله “ (اسی طرح چند اور امثله قرآنی پیش کرتے کرتے ص7 تک آکر آگے کہتے ہیں )“
اب معترض صاحب فرمائیں کہ کیا یہ قرآنی آیات ماضی کے صیغے ہیں یا مضارع کے۔ اگر ماضی کے صیغے ہیں تو ان کے معنی اس جگہ مضارع کے ہیں یا ماضی کے جھوٹ بولنے کی سزا تو اس قدر کافی ہے کہ آپ کا حملہ صرف میرے پر نہیں۔ بلکہ یہ تو قرآن شریف پر بھی حملہ ہو گیا ۔ گویا وہ صرف نحو جو آپ کو معلوم ہے خدا کو معلوم نہیں۔ اسی وجہ سے خدا نے جابجا غلطیاں کھائیں اور مضارع کی جگہ ماضی کو لکھ دیا۔ اب آپ فرمائیے کہ مرزا قادیانی جو ازالہ اوہام میں لکھ آئے ہیں۔ اسی صرف نحو سے لکھ آئے یا نہیں جس صرف ونحو کو معاذ اللہ خدا بھی نہ جانتا تھا اور مرزا قادیانی نے اپنی تحریر سے خود اقرار کیا یا نہیں کہ میں قرآن پر حملہ کر کے اپنا جھوٹا دعوئی ثابت کرنا چاہتا ہوں۔
حامد بھائی جان! اب مجھے اور کسی تحقیق کی ضرورت نہیں۔ اللہ آپ کے علم و معلومات میں ترقی دے۔ خوب شافی جواب دیتے ہو۔
سعید نہیں اور لیجئے ! ازالہ اوہام میں تو کہہ آئے ہیں کہ یہ واقعہ یعنی حضرت عیسیٰ
سے انت قلت کا سوال ہو چکا۔ مگر نصرة الحق دیباچہ ہے۔ (اس میں ص ۲۴۰، خزائن ج ۲۱ ص ۵۱) پر خوب اپنے کو کا ذب ماتا ہے۔ لکھتے ہیں:
”اور قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ ہرگز نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ آیت فلما توفیقی سے یہ دونوں مطلب ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس تمام آیت کے اول آخر کی آیتوں کے ساتھ یہ معنی ہیں کہ خدا قیامت کے دن حضرت عیسیکو کہے گا کہ کیا تو نے ہی لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اپنا معبود ٹھہرانا تو وہ جواب دیں گے کہ جب تک میں اپنی قوم میں تھا میں ان کے حالات سے مطلع تھا اور گواہ تھا۔ پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان کے حالات سے واقف تھا۔ یعنی بعد وفات مجھے ان کے حالات سے کچھ بھی خبر نہیں ۔“
تو اب سمجھ لیجئے کہ ازالہ اوہام میں جب مطلب یوں معنی کرتے۔ نہ بنا تو کہہ دیا کہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا اور یہاں نصرت الحق میں جب صحیح معنی کرنے میں مطلب بنا تو یہ کہ دیا کہ خدا قیامت کے دن حضرت عیسی علیہ السلام کو کہے گا اور ازالہ اوہام میں قال اور ان کے ماضی ہونے پر اتنا زور دیا کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اول از موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے اور پھر براہین احمدیہ میں جب دیکھا کہ مجھ پر مخصم کی چوٹ پڑتی ہے تو کہ دیا کہ جس شخص نے کافی یا ہدایتہ الخو بھی پڑھی ہو گی وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنی پر بھی آجاتی ہے۔ جیسا کہ اول میں ساری عبارت آپ کو بتا چکا ہوں ۔
فرمائیے یہ کیسا کلام الہی کی ترجمانی اور تفسیر میں تناقض ہے جو بقول مرزا قادیانی جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی جھوٹے آدمی ہوئے یا نہیں۔ اس کی وجہ بھی آپ سمجھ سکے کہ اس طرح متضاد مضامین مرزا قادیانی کیوں لکھ جاتے ہیں۔
حامد: مراق کی وجہ سے دماغ میں ضعف اور نسیان میں ترقی ہوئی ہوگی۔
سعید: خیر یہ وجہ تو ایسی ہے کہ اسے تو قریب قریب سب ہی جانتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ آپ با قاعدہ تعلیم یافتہ بھی نہیں ہیں۔
حامد: یہ بات قابل تسلیم نہیں ہو سکتی۔ اگر با قاعدہ تعلیم یافتہ نہ تھے تو یوں ہی اتنی ساری کتابیں عربی اردو میں لکھ ڈالیں۔
سعید اس کا بھی مرزا قادیانی خود اقرار کر رہے ہیں۔ چنانچہ نصرۃ الحق جو حقیقت دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کا ہے۔ اس کے (ص۵۳، خزائن ج ۲ ص ۶۷) پر لکھتے ہیں:
”اور نہ میں کسی عالم فاضل سے با قاعدہ تعلیم یافتہ او سند یافتہ تھا۔ تا مجھے اپنے سرمایہ لی پر ہی بھروسہ ہوتا ۔“
حامد : یہ بھی ایک عجیب معاملہ ہے کہ با قاعدہ تعلیم یافتہ بھی نہ ہونا اپنے کو مان رہے ہیں اور پھر خدا کے کلام کی توجیہات و تاویلات کے میدان میں بھی کام فرما ہیں۔
سعید : یہی تو وجہ ہے کہ آپ کو خیریت سے قرآن کریم کے معنی میں ہر جگہ اپنے مراق البنا پڑتا ہے۔ چنانچہ یا آدم اسکن انت وزوجك الجنة “ کے ماتحت ملاحظہ کیجئے ۔ کیا ۔ ایک بحث فرمائی ہے کہ سننے والا ایک دفعہ تو پیٹ بھر کے ہننے پر مجبور ہوگا۔
حامد کیا اس کے معنی بھی بدلے ہیں ۔
سعید ملاحظہ کیجئے (تریاق القلوب ص ۱۵۶ ۱۵۷، خزائن ج ۱۵ ص ۲۷۹) پر کتنی عاقلانه تقریر کی ہے۔ لکھتے ہیں :
”اب یاد رہے کہ بندہ حضرت احدیت کی پیدائش جسمانی اس پیش گوئی کے مطابق بھی ہوئی۔ یعنی میں تو ام ( جوڑ لا ) پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور یہ الہام که : ” يادم اسكن انت وزوجك الجنة “ جو آج سے بیس برس پہلے (براہین احمدیہ میں ۴۹۶) میں درج ہے۔ اس میں جو جنت کا لفظ ہے اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی اس کا نام جنت تھا اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہوگئی تھی۔ (لکھتے لکھتے آگے کہتے ہیں ) منجملہ ان کے یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوج کے طور پر تھی۔ یعنی ایک مرد اور ایک عورت ساتھ ساتھ پیدا ہوئی تھی۔ جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“
حامد نہیں کر ! مرزا قادیانی کو کیا ہو گیا۔ جہاں دیکھو وہ بات کہتے ہیں۔ جس کو ایک فہیم ہذیان سے زیادہ سمجھ ہی نہ سکے۔
سعید: بی آپ کو اختیار ہے۔ کچھ سمجھے ہم تو مرزا قادیانی سے مضامین آپ کو سنا دیتے ہیں۔ حامد: اس کو دروغ بانی اور کذب بیانی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔
سعید: یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے عقیدہ میں جھوٹ بولنے والا مرتد ہے۔
حامد : یہ بھی کہیں لکھا ہے۔
سعید: جی ہاں ! تحفہ گولڑیہ کے حاشیہ میں ہے۔ (ص ۱۳ ، خزائن ج ۷ ص ۵۲) پر ملاحظہ ہو:
”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“
حامد: مرتد کا تو نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
سعید: جی ہاں۔
حامد: تو اس حساب سے جو ذرا جھوٹ بولے فوراً مرتد ہوگا اور اس کی بیوی نکاح سے خارج۔ سعید : جی ہاں ! مرزا قادیانی کے اصول کے لحاظ سے تو ایسا ہی ہے۔
حامد خیر صاحب یہ قصہ تو چھوڑ ہے۔ اب ذرا مجھے ”يعيسى اني متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا“ كى مفصل بحث سنادیجئے۔ یہ مرزائیوں کی مایہ " ناز بحث ہے اور ازالہ اوہام سے ایک مرزائی نے مجھے یہ بحث سنائی تھی۔ جس سے میں کچھ شک میں پڑ گیا۔ (ازالہ اوہام ص ۹۲۲، خزائن ج ۳ ص ۲۰۶ حاشیه متعلقہ من ۸۹۲ ) میں اس طرح لکھا ہے:
یہ آیت پوری پوری یہ ہے ۔ ”یعیسیٰ انی متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامه “ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ترتیب وار اپنے تئیں فاعل ٹھہرا کر چار فعل اپنے یکے بعد دیگرے بیان کئے ہیں۔ جیسا کہ فرماتا ہے کہ اے عیسی میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفاروں کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں اور ظاہر ہے کہ یہ ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں۔ کیونکہ اس میں شک نہیں کہ جو شخص خدائے تعالی کی طرف بلایا جائے اور ”ارجعی الی ربک “ کی خبر اس کو پہنچ جائے۔ پہلے اس کا وفات پانا ضروری ہے۔ پھر بموجب آیہ کریمہ ”ارجعی الی ربك“ اور حدیث صحیح کے اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے اور وفات کے بعد مؤمن کی روح کا خدا تعالی کی طرف رفع لازمی ہے۔ جس پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ ناطق ہیں۔
(پھر ص ۹۲۴ تک لکھتے لکھتے کہتے ہیں ) :
سو یہ چار فقرے آیت موصوفہ بالا میں ترتیب طبعی سے واقعہ ہیں اور یہی قرآن کریم کی شان بلاغت سے مناسب حال ہے۔ کیونکہ امور قابل بیان کا ترتیب طبیعی سے بیان کرنا التزام تمام قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔ سورہ فاتحہ میں ہی دیکھو کہ کیونکر رب العالمین کا ذکر کیا۔ پھر رحمن پھر رحیم پھر مالک یوم الدین (آگے کہتے ہیں) غرض موافق عام طریق کامل البلاغت قرآن کریم کی آیت موصوفہ میں ہر چہار نقرہ ترتیب طبیعی سے بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن حال کے متعصب ملا جن کو یہودیوں کے طرز پر ” یحرفون الكلم من مواضعه “ کی عادت ہے اور جو سیح ابن مریم کی حیات ثابت کرنے کے لئے بے طرح ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور کلام الہی کی تعریف و تبدیل پر کمر باندھ لی ہے وہ نہایت تکلف سے خدا تعالیٰ کے ان چار ترتیب وار نقروں میں سے دو نظروں کی ترتیب طبعی سے منکر ہو بیٹھے یعنی کہتے ہیں کہ اگر چہ فقره ”مطهرك من الذين كفروا“ اور فقره ”و جاعل الذين اتبعوا“ بترتیب طبعی واقع ہیں۔ لیکن فقرہ”انی متوفيك “ اور فقره”ورافعك الى “ ترتیب طبیعی پر واقع نہیں۔ بلکہ در اصل فقره ”انی متوفيك“ مؤخر اور فقره ”رافعك الى“ مقدم ہے ۔ افسوس اس کا کیا جواب ہے؟
سعید : اس کے متعلق اول تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ مرزا قادیانی اندھا دھند جو دعویٰ کر گئے کہ امور قابل بیان کا ترتیب طبعی سے بیان کرنا التزام تمام قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔ یہ محض دعوئی ہی دعوی ہے یا اس کی دلیل بھی ہے۔ بزرگوار کی قرآن دانی کا تو یہ حال ہے که آیات قرآنیہ تک صحیح نہیں لکھ سکتے اور دعوئی انتاز بر دست کر گئے اور سورہ فاتحہ کی مثال دے کر سب کی آنکھوں میں دھول ڈال کر نکل گئے ۔ جان عزیز اول تو یہ اصول ہی سرے سے غلط ہے کہ تمام قرآن کریم میں ترتیب طبیعی کا لحاظ لازی رکھا گیا ہے اور اگر اسکو صحیح مانتے ہو تو قرآن کریممعاذ اللہ غلط ٹھہرتا ہے۔ مثال کے لئے چند آیات پیش کرتا ہوں۔ بتائیے اس میں ترتیب طبعی کہاں ہے۔
اول ... نماز میں ترتیب طبیعی یہ ہے کہ اول رکوع ہو پھر سجود اگر قرآن کریم میں ”يمريم اقنتي لربك واسجدى واركعي مع الراكعين “ جس کے صاف معنی ہیں۔ اے مریم اپنے رب کے حضور ادب سے کھڑی ہو اور اس کے لئے سجدہ کر اور رکوع والوں کے ساتھ رکوع کر۔
دوم...... ”وأوحينا الى ابراهيم واسماعيل واسحق ويعقوب والاسباط وعيسى وايوب ويونس وهارون وسليمان و آتينا داؤد زبورا “ کیا مرزا قادیانی اور ان کے متبعین یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اس آیت میں وحی اور نبی میں ترتیب طبیعی اوران کے ہے۔ یعنی پہلے حضرت ابراہیم پر وحی ہوئی اور وہ نبی ہوئے ۔ پھر اسماعیل
پر پھر اسحق
پر پھر یعقوب
پر پھر ان کی اولاد پر ۔ پھر عیسی
پر پھر ایوب
پر پھر یونس
پر پھر ہارون
پر، پھر سلیمان
پر، پھر داؤد
۔ اس آیت میں داؤد
صاحب زبور سب کے بعد ہیں۔ حالانکہ توریت وانجیل سے پہلے زبور داؤد
کوئی۔
سوم... ”كذبت قبلهم قوم نوح وعاد وفرعون ذو الاوتاد وثمود وقوم لوط واصحاب الایکه “ اس میں ترتیب طبیعی نہیں۔ اس لئے کہ پہلے قوم نوح ہوئی۔ اس کے بعد عاد و ثمود۔ اس کے بعد اصحاب ایکہ ۔ پھر قوم لوط پھر فرعون ذوالا و تاد اور ترتیب قرآنی سے نوح پھر عاد پھر فرعون ۔ پھر حمود ۔ پھر قوم لوط ۔ پھر اصحاب ایکہ ہیں۔ بتائیے ترتیب طبعی کہاں رہی۔
چهارم .....” ولقد خلقنا السموت والارض وما بينهما في ستة ایسام “ اس میں بھی ترتیب نہیں۔ اس لئے کہ زمین کی تخلیق آسمان سے پہلے ہوئی ہے۔ جیسا دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہے ۔ خلق الارض في يومين ثم استوى الى السماء وهي دخان فقال لها بحمده آیات مذکورہ کی مثالوں سے ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ قرآن کریم میں جہاں امور قابل بیان ہوں وہاں ترتیب طبیعی کا التزام تمام قرآن میں ہے۔ غلط اور محض لغو ہے۔ علاوہ اس کے بہت سی مثالیں قرآن کریم میں ہیں۔ مگر مختصر میں اختصار کا بھی لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ بدیں وجہ اسی پر اکتفاء کی گئی۔ اب مرزا قادیانی کی شیریں کلامی ملاحظہ ہو کہ غصہ میں آکر نہ صرف موجودہ علماء کو کوس گئے۔ بلکہ حضرت ابن عباس سید المفسرین اور صاحب اتقان اور ضحاک تابعی علامہ فتح القدير، صاحب جلالین، صاحب مجمع البحار، صاحب تنویر، صاحب در منشور ، صاحب مدارک، صاحب تغییر کبیر علامہ فخر الدین رازی صاحب خازن، صاحب مشکوہ سب کو اپنے مطلب کے خلاف دیکھ کر صاف کہہ گئے کہ حال کے متعصب ملا جن کو یہودیوں کی طرز پر یحرفون الکلم عن مواضعہ “ کی عادت ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے مرزا قادیانی کے مرض مراق نے انہیں یہ راہ نمائی کی کہ جو میں کہوں وہ صحیح ، باقی جو میرے مخالف ہو وہ یہودی اور قرآن میں تحریف کرنے والا۔ عام اس سے کہ وہ صحابی جلیل القدر ہو یا تابعی یا مسلمہ علماء۔
خامد : آپ تو یہ کہے جا رہے ہیں۔ مگر ذرا بتائیے تو جن لوگوں کے آپ نے نام لئے ہیں انہوں نے کہیں کہا بھی ہے۔
سعید: نام بنام ترتیب وار سب کی تحقیق آپ کو سناتا ہوں۔ ملاحظہ کیجئے۔ بہتر یہ ہے کہ اول آپ سید المفسرین ابن عباس کا عقیدہ سن لیں۔ پھر تمام مفسرین مذکورہ و محدثین کے اقوال عرض کروں گا ۔ علامہ محمد بن سعد محدث اپنے طبقات کبری میں حضرت ابن عباس کا عقیدہ نقل فرماتے ہیں:
اخبرنا هشام بن محمد بن السائب عن أبيه عن أبي صالحعن ابن عباس قال كان بين موسى بن عمران وعيسى بن مريم الف سنة وتسعة مائة سنة فلم تكن بينهما فترة وان عيسى[symbol حين رفع كان ابن اثنين ثلاثين سنة وستة اشهر وكانت نبوة ثلاثون شهراً وان الله رفعه بجسده وانه حى لأن وسيرجع الى الدنيا فيكون فيها ملكا ثم يموت كما يموت الناس ،]یعنی ہشام بن محمد بن سائب اپنے باپ صالح سے راوی ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عباس سے سنا کہ حضرت موسیٰ بن عمران اور عیسیٰ بن مریم کے درمیان ایک ہزار نو سو برس اور چھ ماہ کا کوئی خالی زمانہ نبوت سے نہیں رہا اور بے شک حضرت عیسی
اٹھائے گئے اور اس وقت ان کی عمر ۳۲ برس کی تھی اور ان کی نبوت کا زمانہ میں مہینہ کا تھا اور اللہ تعالی نے حضرت عیسی
کو معہ جسم و روح کے اٹھا لیا اور بے شک وہ عنقریب واپس آنے والے ہیں دنیا میں اور بادشاہ ہوں گے پھر عام طریق سے انتقال فرما ئیں گے۔ (کبری ج ۱ ص ۲۶، مطبوعہ مطیع لندن، جرمنی ) اس حدیث سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے۔
اول .... یہ کہ حضرت عیسی
کا رفع مع الجسد والروح ہوا۔ نہ بموجب دھوئی
مرزا قادیانی محض رفع روح
دوم.... حضرت عیسی
کا رفع مع الجسد والروح ۳۲ سال کی عمر میں ہوا۔ اس سے حکایت کشمیر جو مرزا قادیانی کی ایجاد کردہ ہے باطل ہوتی ہے۔
حامد: کیا کشمیر کے متعلق مرزا قادیانی نے کچھ لکھا ہے۔
سعید: جی ہاں! (ضمیمہ براہین احمدیہ ص ۱۰۰، خزائن ج ۲ ص ۲۶۲ حاشیہ ) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”ہم ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت عیسیکا زندہ آسمان پر جانا محض گپ ہے۔ بلکہ وہ صلیب سے بیچ کر پوشیدہ طور پر ایران اور افغانستان کا سیر کرتے ہوئے کشمیر میں پہنچے اور ایک لمبی عمر وہاں بسر کی۔ آخر فوت ہو کر سرینگر محلہ خانیار میں مدفون ہوئے اور اب تک آپ کی سو ہیں قبر ہے-يزار ويتبرك به !
حامد: کیا کہیں مرزا قادیانی نے ملک شام میں بھی حضرت عیسی
کی قبر مانی ہے؟ سعید : جی ہاں امانی تھی مگر اس سے چونکہ کچھ مطلب براری میں نقص آتا تھا۔ لہذا پھر انکار کر دیا۔ چنانچہ (ست بچن ص ۱۶۴ حاشیه، خزائن ج . ا ص ۳۰۷) پر لکھتے ہیں:
ہاں ہم نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی قبر بلاد شام میں ہے۔ مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کے لئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبرو ہی ہے۔ جو کشمیر میں ہے اور ملک شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا۔ جس سے وہ نکل آئے ۔“
حامد: سچ ہے بقول مرزا قادیانی جھوٹے آدمی کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص ۱۱، خزائن ج ۲ ص ۲۷۵) اور بالکل حق ہے کہ ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔ تحفہ گولڑ و یہ ص ۱۳، خزائن ج ۷ ص ۵۶ حاشیه )
سعید: آپ نے بیچ میں غیر متعلق سوال کر کے ہماری بحث کو نا تمام کر دیا۔ اچھا خیر سنئے۔ حضرت ابن عباس کے فرمان سے دو دعوے تو ہم ثابت کر چکے۔
سوم.... یہ کہ حضرت عیسی
ابن تک زندہ ہیں۔ اس لئے کہ وانه حی“ بتا رہا ہے کہ حضرت عیسی
مرے نہیں۔ بلکہ زندہ اٹھائے گئے۔ جس سے مرزا قادیانی کا دعوئی وفات مسیح باطل ٹھہرتا ہے۔ اس لئے کہ حضرت ابن عباس خود فرما چکے ہیں کہ مسیح بجسد عنصری مع الروح اٹھائے گئے ہیں۔
چہارم ... یہ کہ وہی عیسی
جو آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ فسيرجع الى الدنیا بہت جلدی اصالتا واپس تشریف لائیں گے اور مثیل مسیح کا دعوی باطل و بحث لا طائل ہے۔
پنجم یہ کہ حضرت مسیح موعود اصالتا تشریف لاکر حاکم عادل بن کر مجوزہ قانون سرور عالم ”ويضع الجزية ويقتل الخنزير ويكسر الصليب “ کو جاری کریں گے۔
ششم ... یہ کہ حضرت عیسی
تا نزول آسمان پر زندہ ہیں۔ اس لئے حضرت ابن عباس مفرما چکے ہیں ۔ثم يموت كما يموت الناس
حامد: حضرت ابن عباس کے متعلق محدثین کی کیا تحقیق ہے۔
سعید : آپ جلیل القدر صحابی ہونے کے علاوہ حضور ﷺ کے چازاد بھائی ہیں اور حضوت نے آپ کے لئے قرآن فہمی کی دعاء بھی کی ہے۔
حامد: مگر بعض مفسرین حضرت ابن عباس سے ہی متوفیک پر ممتیک ترجمہ لکھتے ہیں:
یہ کہاں تک صحیح ہے؟
سعید : ہاں لکھ رہے ہیں وہ بھی صحیح ہے۔ اس لئے کہ ممیتک فاعل ہے۔ جس کا معنی ہیں۔ مارنے والا ہوں میں تجھ کو اس کا صاف مطلب ہے کہ اسم فاعل سے جب اظہار کیا گیا تو اول اللہ تعالی آئندہ کے واقعہ کی خبر دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے عیسی ہم تمہیں اول مع روح وجسد اٹھانے والے ہیں۔ پھر مارنے والے ہیں۔ پھر قیامت تک تمہیں تمہارے منکروں پر غالب کرنے والے ہیں۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی نے تقدیم و تاخیر کا انکار کر کے نہ صرف مفسرین کو یہودی بنایا۔ بلکہ حضور ﷺ کے چچازاد بھائی حضرت ابن عباس پر بھی خفا ہو گئے کہ کم از کم یہی سوچتے کہ میں نے وفات مسیح کو اپنی صداقت کا معیار بنا رکھا ہے۔ اگر تمہارا قول میں مان لوں گا تو جھوٹا نہ ہو جاؤں گا۔ اس لئے تم کو بھی یہودی اور محرف علماء کی فہرست میں شمار کرتا ہوں۔
حامد: کیا کہیں یہ بھی مرزا قادیانی لکھ گئے ہیں کہ وفات مسیح ان کا معیار صداقت ہے۔
سعید: جی ہاں ! (تحفہ گولڑویہ میں ۱۲۶ حاشیہ، خزائن ج ۷ ص ۲۶۴) پر لکھتے ہیں:
یاد رہے کہ ہمارے اور ہمارے مخالفین کے صدق و کذب آزمانے کے لئے حضرت عیسیکی وفات وحیات ہے۔ اگر حضرت عیسی در حقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل بیچ ہیں اور اگر وہ در حقیقت قرآن کی رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔
حامد : یہ معیار مرزا قادیانی نے کسی حدیث کے ماتحت لیا۔ کیا کسی حدیث میں یہ ہے کہ جب عیسی مرجائیں گے تو دوسرا میچ ابن چراغ بی بی یا سیح ابن فلاں قادیان یا پنجاب میں پیدا ہوگا ۔ جس کے اوپر کے دھڑ میں مراق اور نیچے کے دھڑ میں کثرت بول کی دو بیماریاں ہوں گی۔
سعید نہیں کرا شاید کسی حدیث میں مرزا قادیانی نے دیکھا ہوگا۔ سوال آپ کا معقول ہے۔ مرزا قادیانی کو حیات وحمات پر اسی وقت بحث کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ جب ایسی کوئی حدیث یا آیت قرآنی انہیں مل جائے۔ ورنہ یہی جواب کافی ہے کہ اگر عیسی علیہ السلام مر گئے تو بتاؤ تمہیں کیا۔ اچھا مر گئے ان کے مرجانے کے ثبوت کے بعد تمہارا مسیح موعود یا مثیل مسیحہونا کیسے ثابت ہے اور لطف یہ ہے کہ حضرت عیسی
کے لئے رفع روح مع الجسد کا عقلاً نقل انکار اور نہایت شد ومد سے اصرار ہے۔ مگر موسیٰ علیہ السلام کو اسی صورت میں زندہ ماننا اپنا مذہب بتایا جاتا ہے۔
حامد : اچھا یہ کہاں لکھا ہے۔
سعید: نور الحق ص ۵۰، خزائن ج ۸ ص (۲۸) پر لکھتے ہیں:
”ان عیسیٰ الا نبی الله كالانبيا آخرین وان هو الاخادم شريعت النبي المعصوم الذي حرم الله عليه المراضع حتى اقبل على ثدى امه وكلمه الله على طور سينين وجعله من المحبوبين هذا هو موسى فتى الله الذي اشار إليه في كتابه الى حياته وفرض علينا ان نؤمن بأنه حي في السماء ولم يمت وليس من الميتين “ اس کا ترجمہ بین السطور میں خود مرزا قادیانی کرتے ہیں۔ عیسیٰ صرف اور نبیوں کی طرح ایک نبی خدا کا ہے اور وہ اس نبی معصوم کی شریعت کا ایک خادم ہے۔ جس پر تمام دودھ پلانے والی حرام کی گئی تھیں۔ یہاں تک کہ اپنی ماں کی چھاتیوں تک پہنچایا گیا اور اس کا خدا کوہ سینا میں اس سے ہم کلام ہوا اور اس کو پیارا بنایا یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے۔ جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں۔
اور (نور الحق ص ۵۰) پر فائدہ میں لکھتے ہیں :
کلم الله موسى على جبل وكلم شيطان عيسى على جبل فانظر الفرق بينهما انكنت من الناظرين (ترجمه خود ہی لکھتے ہیں ) خدا ایک پہاڑ پر موسیٰ سے ہم کلام ہوا اور ایک پہاڑ پر شیطان عیسی سے ہم کلام ہوا۔ سواس دونوں قسم کے مکالمہ میں غور کر اگر غور کرنے کا مادہ ہے۔“
حامد: میں نے غور کر لیا اور سمجھ لیا۔
سعید: وہ کیا؟
حامد: یعنی عیسی
مرزا قادیانی کے عقیدہ میں وہ ہیں جن سے شیطان ہم کلام ہوا اور مرزا قادیانی خودان کے مثیل ہو کر مسیح موعود ہے تو وہاں صرف پہاڑ پر شیطان ایک بار ہم کلام ہوا ہوگا۔ مگر مثیل کی تو رفاقت اسے ایسی ضروری ہوگی کہ ہر وقت ہم کلام ہی ہوتا رہتا ہوگا۔ جب ہی تو آپ کے الہامات میں سے کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔ (البشری ج ص ۱۲۱) ایک الہام ہے۔
سعید: وہی ایک الہام کیا ہے۔ بحث دور جا پڑتی ہے۔ خیر لیجئے ! حسب موقعہ ہم آپ کو مرزا قادیانی کے خاص الہامات بھی سناتے چلیں۔ جو اس سے پہلے آپ نے نہ سنے ہوں گے۔
حامد: الہامات کا شان نزول ضرور سنائیے۔
سعید: مضمون بڑھ جائے گا۔ مگر خیر لیجئے ۔ (نزول مسیح ص ۱۳۴، خزائن ج ۱۸ ص ۵۱۲ ) شان نزول ، براہین احمد یہ چھپ رہی تھی اور روپیہ نہیں تھا۔ چھاپنے والے کا تقاضا تھا تب دعاء کی گئی اور یہ الہام ہوا ۔ دس دن کے بعد موج دکھاتا ہوں۔ ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا۔ الہام نمبر ۱۶ون ول یو گوٹو امرتسر پھر (ص ۱۳۵، خزائن ج ۱۸ ص ۵۱۷۰۵۱۳) پر الہام ہے:
” آئی ایم کوردار پھر (ص ۱۳۸ نمبر ۱۹) آئی شیل ہیلپ یو۔ آئی کین وینٹ آئی ول ڈو۔ وی کین ویٹ، وی دل ڈو۔“
حامد: سبحان اللہ ! سبحان اللہ! کیوں نہ ہو۔ آکر جس سے پہاڑ پر شیطان ہم کلام ہوا تھا اس کے تو آپ مثیل ہیں۔ اچھا صاحب اب وہ بحث سنادیجئے اور رخصت دیجئے۔
سعید: (تفسیر در منشور ج ۲ ص ۳۶) پر ایک حدیث ہے وہ ملاحظہ کیجئے :
اخرج ابن عساكر اسحق بن بشير عن ابن عباس في قوله تعالى ”يعيسى اني متوفيك ورافعك الى قال رافعك الى ثم متوفيك في آخر الزمان “ یعنی اے عیسی پہلے ہم تمہیں اپنی طرف اٹھا ئیں گے اور پھر زمانہ آخر میں فوت کریں گے۔
تفسیر معالم التنزیل جلد اول میں حضرت ضحاک تا بعی سے ہے۔”قال الضحاك وجماعة ان في هذه الآية تقديما و تاخيرا “ یعنی اس آیت میں تقدیم تاخیر ہے۔
حاشیہ تفسیر جلالین میں ہے: ”وفی البخاری قال ابن عباس اني متوفيك مميتك بعد انزالك من السماء في آخر الزمان“ یعنی اے عیسی ہم تمہیں مارنے والے ہیں۔ بعد نزول کے آسمان سے زمانہ آخر میں۔
مجمع البحار جلد سوم میں ہے: ”متوفيك ورافعك الى على التقديم اولتاخیر یعنی متوفیک و رافعک“ مقدم مؤخر ہے۔
تفسیر مدارک جلد اول میں ہے: ای ممتيك في وقتك بعد النزول من السماء ، یعنی تمہیں ہم مارنے والے ہیں۔ آسمان سے نزول کے بعد۔
تفسیر کبیر میں علامہ فخر الدین رازی فرماتے ہیں : ”لا تقتضى بالترتيب فلم يبق الا ان يقول فيها تقديم وتأخير والمعنى انى رافعك الى ومطهرك من الذين كفروا ومتوفيك بعد انزال اياك في الدنيا ،“ یعنی ترتیب الفاظ کی آیت مقتضی نہیں ۔ بلکہ تقدیم و تاخیر لازمی ہے اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ میں تجھ کو اے عیسیٰ اٹھانے والا ہوں اپنی طرف اور پاک کرنے والا ہوں کفار سے اور پھر تجھ کو دنیا میں اتار کر فوت کرنے والا ہوں ۔
تفسیر خازن جلد اول میں ہے۔ ”ان في الآية تقديما وتأخير اتقد یره اني رافعك الى ومطهرك من الذين كفروا ومتوفيك بعد انزالك الى الارض “ جس کے معنی سابقہ معنی کے مطابق ہیں۔ علاوہ اس کے بہت سے دلائل ہیں۔
اس مختصر میں اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔ انشاء اللہ آئندہ ملاقات میں اس کے متعلق اور ایک مختصر بحث آپ کو سناؤں گا۔
حامد : آپ نے اس سے قبل وعدہ کیا تھا کہ باپ بیٹوں کا اختلاف دکھا ئیں گے۔ وہ تو رہ گیا اور ملاقات کا وقت پورا ہو گیا۔
سعید: آپ نے آتے ہی گفتگو ہی ایسی چھیڑ دی۔ اچھا خیر ۔
سوال طلب امر یہ ہے کہ سچا موحد سوائے مرزا قادیانی کوئی نہیں رہا۔ یا وہ بھی اس کلیہ میں داخل ہیں کہ سچا موحد کوئی نظر نہیں آتا۔
سعید: بات تو معاف ہے جو توحید مرزا قادیانی پھیلانا چاہتے تھے اس کا موجد سوائے ان کے اس وقت تک کوئی نہ ہوگا۔ اب تو ان کے متوسلین میں بہت سے ہیں۔
حامد: میں ذرا وضاحت سے سمجھنا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی کی توحید کیا کوئی مخصوص تو حید تھی۔ سعید: جی ہاں ! ان کی توحید میں آپ کو بتاتا ہوں۔ جو ان کے الہامات سے صاف ظاہر ہورہی ہے۔ اس نقشہ سے ملاحظہ کر لیجئے۔




حامد :وہن رہن کرشن ثانی اور مرزا قادیانی ما شاء اللہ خوب توحید کی کہانی لکھائی۔ سنا ہے کہ آپ شیریں زبان بھی بہت زیادہ تھے۔
سعید: جی ہاں ! شیریں زبانی میں تو آپ بے مثل تھے۔ چنانچہ ملاحظہ کیجئے :
(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۰۴، خزائن ج ۵ ص ۲۰۴) پر آخر کتاب میں فرماتے ہیں:
اب اگر وہ گروہ اس کھلے کھلے فیصلہ کو منظور نہ کریں اور بھاگ جائیں اور خطا کا اقرار بھی نہ کریں تو یقیناً سمجھو کہ ان کے لئے خدا تعالیٰ کی عدالت سے مندرجہ ذیل انعام ہے۔
1لعنت 2لعنت3لعنت4لعنت5لعنت6لعنت7لعنت8لعنت9لعنت10 لعنت
تلك عشرة كاملهوهو هذا
۳۰ مارچ ۱۸۹۲ء
المشتهر مرزاغلام احمد قادیانی
اور (نور الحق ص ۱۲۲۲۱۱۸، خزائن ج ۸ ص ۱۶۲۰۱۵۸) کے آخیر تک ایک ہزار لعنت گناتے ہیں۔ ( نجم الہدی ص:118 تا 122، خزائن ج ۱۳ ص ۵۳) پرفرماتے ہیں:
”میرے مخالف جنگلوں کے سوئر ہیں اور ان کی عورتیں کیتیوں سے زیادہ ذلیل ہیں۔“
آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷ ، خزائن ج ۵ ص ۵۴۷) پر فرماتے ہیں:
”سب مسلمانوں نے مجھے مان لیا۔ مگر بد کار اور زانیہ عورتوں کی اولاد تے نہیں مانا۔“
(انوار الاسلام ص۳۰، خزائن ج ۹، ص۳۱) پر فرماتے ہیں:
”جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔ حرامزادہ کی بھی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔“
مولویان. انجام آتھم ص ۲۱، خزائن ج ۱۱ ص ۲۱) پر علماء حقہ کو کہتے ہیں:
”اے بدذات فرقہ“
( انجام آتھم ص ۲۸۲، خزائن ج ۱ ص ۲۸۲) پر مولوی سعد اللہ نو مسلم کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:
” من صادق نیستم اگر تو اسے نسل بدکاران بذلت نمیری“
اور خلف الرشید مرزا بشیر محمود قادیانی فرماتے ہیں۔ (برکات خلافت میں ۷۵) حضرت مسیح موعود کازبردست حکم ہے کہ:
”کوئی احمدی غیر احمدی کولٹر کی نہ دے۔“ وغیرہ وغیرہ۔
حامد: باپ بیٹوں کا اختلاف والا قصہ تو رہ ہی گیا۔
سعید : یہ انشاء اللہ پھر دوسری ملاقات میں عرض کروں گا۔ والسلام !
فقیر ! قادری ابوالحسنات خطیب مسجد وزیر خان لاہور۔