logoختم نبوت

قادیانی مسیح کی نادانی اس کے خلیفہ کی زبانی۔۔۔از۔۔۔علامہ سید ابو الحسنات محمد احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ

بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لوليه والصلوة والسلام على نبيه وحبيبه

سائل: کیا مرزا قادیانی کسی وقت نبی کے معنی بھی نہیں سمجھتے تھے۔

مجیب: مرزا قادیانی کے فرزند رشید خلیفہ مسیح کی تحریر تو یہی بتاتی ہے کہ فی الواقع ایک زمانہ مرزا قادیانی کا اس نادانی اور لاعلمی میں گذرا۔

سائل: یہ کہاں لکھا ہے؟

مجیب: (حقیقت النبوت ص ۱۲۴ء میں مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ مرزا قادیانی) نے لکھا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود چونکہ ابتداء نلاه کی تعریف یہ خیال کرتے تھے کہ نبی وہ ہے جونئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبی ہو۔ اس لئے باوجود اس کے کہ وہ شرائط جو نبی کے لئے واقع میں ضروری ہیں۔ آپ میں پائی جاتی تھیں۔ آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے اور گوان ساری باتوں کا دعوی کرتے رہے۔ جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے۔ بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے۔ اس لئے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں دھوئی کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبی کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتیں اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔ لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو کیفیت اپنے دھوئی کی آپ شروع دعوئی سے بیان کرتے چلے آئے ہیں وہ کیفیت نبوت ہے۔ نہ کہ کیفیت محد ثیت ۔ تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا اور جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا تھا اس کو ڈانٹا کہ جب ہم نبی ہیں تم نے کیوں ہماری نبوت سے انکار کیا۔

سائل: بیٹے کے نزدیک باپ کی پہلی غلطی تھی کہ وہ نبی کی تعریف غلط سمجھا ہوا تھا۔ یعنی وہ سمجھتا تھا کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبی ہو۔ تو میں نہیں سمجھ سکا کہ مرزا قادیانی نے پھر پہلے ہی اپنے کو نبی کیوں نہ مانا۔ اس لئے کہ وہ بعض حکم قرآنی تو منسوخ کر چکے تھے۔ مثلاً جہاد کہ اس کو صاف ہی اڑانا منظور کر چکے تھے۔ جب کہ یا ، یا ، کے ساتھ تین شرط نبی ہونے کی ظاہر کی گئیں۔ تو تینوں میں سے ایک بھی ان میں اگر موجود تھی تو پھر نہ مانتا انتہا درجہ کی خوش فہمی اور نادانی تھی۔ اگر نئی شریعت نہ لا سکے تو نہ ہی اور بلا واسطہ نبی نہ ہوئے تو نہ سہی ۔ بعض حکم تو منسوخ کر چکے تھے۔ یعنی جہاد، دوسرے خلیفہ نبی کو یہ منصب شریعت مرزائیت میں ہی شاید حاصل ہے کہ وہ ایک نبی کی شان میں یہ گستاخی کرے کہ ان کی شان میں کہے کہ اور اور نہیں جانتے تھے۔ بھلا نہی تو نہ جانتا ہو اور خلیفہ جسے ایمان بھی نبی سے ملا ہو وہ جاننے والا ہے اور میں یہ بھی نہ سمجھ سکا کہ جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا تھا۔ اس کو مرزا قادیانی نے ڈانٹا بھی مگر وہ بدستور مجد د کہتا رہا اور مزید خلافت کا حصہ دار بھی بنا رہا۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ نبی کی ادنی مخالفت مستلزم ارتداد ہے۔ پھر مرتد امیر جماعت کیسے بن سکتا ہے اور اس کے متبعین مرزائی کیونکر کہلا سکتے ہیں۔ مرتد کے تمنبع تو مرتد ہی ہوں گے۔

مجیب :یہ تینوں سوال ایسے ہیں کہ ان کا جواب خلیفہ صاحب دیں یا امیر جماعت لاہوری مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے دیں۔ ہم تو اس معاملہ میں لاجواب اور متحیر ہیں۔

سائل: خیر مسئولہ امور کا جواب تو میں مرزا قادیانی کے صاحبزادے اور امیر جماعت احمدیہ سے طلب کرتا ہوں۔ لیکن کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ کبھی مرزا قادیانی نے اپنا عقیدہ بھی بدلا ہے۔

مجیب: جی ہاں ! مرزا قادیانی کے بیٹے محمود احمد قادیانی ہی اس (حقیقت النبوۃ ص ۱۲۱) پر لکھ رہے ہیں۔ اور ”چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا ہے۔ جس میں آپ (مرزا قادیانی)۔ نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ۔ دے زور سے کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ 1940ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے اور ۱۹۰۰ ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔“

اور اسی (حقیقت النبوة ص (۱۳۳) پر محمود قادیانی لکھتے ہیں۔” اس عقیدہ کے بدلنے کا پہلا ثبوت اشتہار ایک غلطی کا ازالہ سے معلوم ہوتا ہے۔ جو پہلا تحریری ثبوت ہے۔“

سائل: یہ مضمون خلیفہ قادیان نے کس کے جواب میں لکھا ہے؟

مجيب: معلوم ایسا ہوتا ہے کہ مسٹر محمد علی صاحب ایم ۔ اے امیر جماعت لاہور کو لکھا نا ایم ۔ اے امیر لاہور کو ہے۔ اس لئے کہ محمد علی صاحب ایم۔ اے کی جماعت کا اخبار (پیغام صلح ج ۲۲ ش ۲۶ ص ۶ ، مورحہ ۲۷ اپریل ۱۹۳۴ء) میں اپنے خلیفہ اور ابن مرزا کی اس طرح عزت افزائی کر رہا ہے۔” افسوس ہے کہ جناب میاں صاحب (یعنی محمود احمد خلیفہ قادیان) کے اس اعلان کے مطابق حضرت مسیح موعود یعنی مرزا قادیانی) کی یہ کم علمی اور نادانی ایسی نادانی کے ذیل میں آتی ہے۔ جسے تو بہ تو نقل کفر کفر نه باشد نعوذ باللہ جہل مرکب کہتے ہیں کہ باوجود اس بات کے کہ آپ نبی کی تعریف تو نہ جانتے تھے۔ مگر حالت یہ تھی کہ جہاں کسی نے آپ کی (یعنی مرزا قادیانی کی) طرف دعاوی نبوت منسوب کیا اور آپ لگے مدعی نبوت پر لعنتیں کرتے ۔ جو شخص ایک بات کو نہیں جانتا اور اس کے علم پر اس قدر اصرار کرے کہ لعنتوں اور مباہلوں پر اتر آئے۔ اس سے بڑھ کر دنیا میں جہل مرکب کا وارث کون ہو سکتا ہے۔ خود نبی ہیں اور خیر سے پتہ نہیں کہ میں نبی ہوں اور باوجود اس لا علمی اور جہل کے آپ مدعی نبوت پر یا دوسرے لفظوں میں میں خود خود اپنے اپنے آپ آپ پر پر لعنتیں تھا بھیجتے ہیں۔ ذرا تامل نہیں کرتے یہ بھونڈی اور قابل شرم تصویر جو جناب میاں صاحب (یعنی خلیفہ جی) نے حضرت سیچ موعود کی کھینچی ہے۔ کیا اس قابل ہے کہ کسی عقلمند آدمی کے سامنے پیش کی جاسکے۔“

سائل: کیا نفیس مضمون پیغام صلح کا ہے۔ اللہ انہیں صحیح العقیدہ مسلمان کرے۔ انہوں نے جو حق بات تھی وہ کہہ دی۔ هداه الله !

مجیب: اس سے بڑھ کر امیر جماعت احمد یہ لاہوری جناب محمد علی صاحب ایم ۔ اے نے انصاف کی بات لکھی ہے جو مرزائیت کی تصویر زریں ہے۔ ملاحظہ ہو ( المہرۃ فی الاسلام ص ۱۹۳، مصنفہ محمد علی صاحب امیر جماعت لاہوری ) اب اس عبارت پر غور کرو کہ میاں ( محمود احمد ) صاحب اس دعوی کرنے والے کو کس قسم کا آدمی بتاتے ہیں۔ بارہ برس سے ایک دعوی کر رہا ہے۔ ایک عقیدہ پیش کر رہا ہے۔ شب و روز اسی کے دلائل دے رہا ہے۔ اس عقیدہ کی بناء پر مخالفوں کو مباہلہ کے لئے بلا رہا ہے۔ حالانکہ میاں صاحب کے نزدیک صحیح وہ تھا جو مخالف کہتے تھے۔ بارہ سال کے بعد پھر کچھ اور سوچتا ہے اور دو سال اسی فکر میں لگا رہتا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرے یا نہ کرے حتی کہ ایک مرید اپنے خطبہ میں اسے رسول ثابت کر دیتا ہے اور اس سے اس کو ذرا قوت ملتی ہے کہ اب مرید مجھے رسول بنانے لگے۔ اب خطرہ کی کیا بات باقی رہ گئی ۔ شک تو نعوذ باللہ من ذالک یہی تھا کہ رسالت کا دعوی کر دوں تو شاید مرید نہ بھاگ جائیں۔ اب جب یہ خود ہی ایسے بیوقوف بن رہے ہیں یں تو تو چلوا چلو اب رسالت کا دعوی کر دو۔ تب دعوئی رسالت ہوتا ہے۔ گویا میاں صاحب - کے نزد یک پیران نمی پرند مریداں کی پر انند کے علاوہ وہ چالبازی کا بھی کمال ہے۔ فانا الله وانا اليه راجعون ! اب میاں صاحب (یعنی محمود احمد ) ہی انصاف کریں کہ یہ کیسا ہی ہے۔ نبوت سے پہلے تو اخلاق کی ضرورت ہے۔ دوسرے مجدد دین کی وہ ہتک کی گئی کہ مرزا قادیانی کے مقابل ان کو عوام الناس کی طرح ٹھہرایا گیا اور مرزا قادیانی کی اپنی یہ عزت ہو رہی ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک انہیں چالباز ٹھہرایا جارہا ہے ۔ فانا الله وانا اليه راجعون ! اسلام کا باقی کیا رہ گیا۔ آخر آپ مرزا قادیانی کا کیا کیرکٹر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ نہی تو آپ جب بنائیں گے دیکھا جائے گا۔ پہلے ایک متعین کیرکٹر کا انسان تو رہنے دیجئے۔“

سائل: سبحان اللہ ! واہ میاں محمد علی ایمان کی آپ نے آج ہی کہی ہے۔ اللہ آپ کو صراط مستقیم پر اور کر دے تو بڑے کام کے آدمی ہو۔ هداكم الله !

ہاں قبلہ ذرا یہ تو اور بتادیں کہ محمد علی صاحب نے جو لکھا ہے کہ: حتی کہ ایک مرید اپنے خطبہ میں اسے رسول ثابت کر دیتا ہے۔ اس سے کسی عبارت کی طرف اشارہ ہے؟

مجیب: یہ عبارت میں آپ کو دکھانا بھول گیا ۔ اب ملاحظہ فرمالیں۔ اسی (حقیقت النبوة ص ۱۲۴، مصنفہ مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان) پر تحریر ہے۔ مولوی عبد الکریم صاحب کے خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۰۰ ء سے اس خیال کا اظہار شروع ہو گیا تھا۔ گو پورے زور اور پوری صفائی سے نہ تھا۔ چنانچہ اسی سال میں مولوی صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت مسیح موعود کو مرسل ہے الہی ثابت کیا اور لا نفرق بين احد منهم والی آیت کو آپ پر چی والی آیت کو آپ پر چسپاں کیا اور حضرت مسیح موعود نے اس خطبہ کو پسند فرمایا۔

سائل: ماشاء اللہ محمد علی صاحب تو گویا خلیفہ جی کے مضمون کو باقتضاء انصاف شرح کی صورت میں لکھ رہے ہیں۔ میں سمجھا تھا کہ محمد علی صاحب غصہ میں آ کر لکھ گئے ہیں۔

مجیب: در حقیقت محمد علی صاحب نے یہ مبادی نبوت دکھائے ہیں۔ جن سے مرزا قادیانی نے نبوت تک ترقی کی ہے۔ اوّل ڈرتے ڈرتے محدث ہلہم، مہدی امت محمد ، کرشن، برہمن اوتار بنتے بنتے مجدد دین بنے اور جب مریدین میں اس کی برداشت ہو گئی۔ علی الفور نبی بن گئے۔ محمد علی صاحب کا یہ مضمون مجھے بھی بہت پسند آیا ہے۔ خوب نقشہ کھینچا ہے۔ کیوں نہ ہو۔ آخر کہنہ مشق نشی اور بہترین مضمون نگار سخن سنج بزرگوار ہیں۔

سائل: جو جماعت قادیانی پارٹی سے وابستہ ہے۔ ان میں سے بھی کسی نے مرزا قادیانی کی نبوت کے متعلق محمود صاحب خلیفہ کی عبارت آرائی کے علاوہ کچھ اور بھی خامہ فرسائی کی ہے؟

مجیب: کیوں نہیں۔ بلکہ ایسی دلچسپ دلائل کی رپوٹ پیش کی ہے کہ ہر بے عقل عقل مرزا قادیانی کو نہیں مانے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ملاحظہ ہو۔ ہو۔

ایک بزرگوار قاسم علی صاحب ہیں۔ وہ از باق باطل ایک کتاب لکھتے ہیں۔ اس کے ص ۳۰ پر فرماتے ہیں۔ ”حضرت اقدس (یعنی مرزا قادیانی) کی دو حیثیتیں الگ الگ ہیں۔ ایک امتی کی ۔ دوسری نبی کی ۔ امتی کی حیثیت ابتدائی ہے اور نبی کی شان انتہائی ۔ حضرت صاحب نے امتی بن کر جو زمانہ گزارا ہے۔ غلام احمد اور مریم بن کر گزارا ہے۔ اس سے ترقی پا کر آپ غلام احمد سے احمد اور مریم سے ابن مریم بنتے ہیں۔ جس زمانہ میں آپ غلام احمد تھے۔ اس وقت احمد نہ تھے اور جب آپ مریم تھے ابن مریم نہ تھے۔ ایسا ہی جب آپ احمد بن گئے تو غلام احمد ن ر ہے اور جب آپ ابن مریم بن گئے تو اب مریم نہ رہے۔ یہ ایک دقیق نکتہ ہے۔ جو خدا نے مجھے سمجھایا ہے۔“

سائل: سبحان اللہ ! سبحان الله !! اتنا ادق نکتہ ہے کہ اب بھی اس پر بھاری نقطہ ہے کہ پڑھنے والے، سننے والا ، سنانے والا اب تک نہ سمجھ سکا۔

مجيب: سنانے والا تو میں خود ہوں۔ اگر چہ نکتہ عجیبہ ہے۔ لیکن انکشاف حقیقت مرزائیت کے لئے بہترین مضمون ہے اور میں اسے خوب سمجھ گیا ہوں۔

سائل: کرم فرما کر مجھے بھی سمجھاد پیجئے؟

مجیب: صاف بات ہے۔ ایک ہوتا ہوتا ہے۔ ایک بنتا، ہونا مشکل چیز ہے۔ اس لئے کہ وہ مبدء فیاض کے فیضان پر موقوف ہے اور بنا بالکل آسان ۔ دیکھئے فقیر ہونا مشکل ہے۔ مگر بننا آسان ہے۔

سائل: بننا کیسے آسان ہے؟

مجیب: ایک پیسہ کا خبر نی رنگ لا کر کیڑے رنگ کر چار پیسے کی نہی ہاتھ میں لے لو۔ فقیر بن گئے اور ہونے کے لئے تزکیہ روحانی شرط ہے اور تزکیہ کے لئے مجاہدہ و ریاضت شرط ہے اور مجاہدہ وریاضت کے لئے توفیق الہی لازم ہے۔ پھر ان سب باتوں کے بعد فیاض حقیقی کا فیضان مقدم ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بقول قاسم علی نبی بھی نہ ہوئے اور مریم بھی نہ ہوئے۔ اسی طرحامتی بھی نہیں ہوئے اور ابن مریم اور غلام احمد بھی نہ ہوئے ۔ بلکہ آپ کی طبیعت جس طرف مائل ہوئی ویسے بن گئے۔

اول امتی بن کر غلام احمد اور مریم بنے رہے۔ پھر احمد اور ابن مریم بنے اور یہ ظاہر ہے کہ چند عہدے ایک وقت میں مرزا قادیانی ظاہر کرنا خلاف مصلحت سمجھتے ہوں گے۔ بنا بریں جب غلام احمد بنے تو احمد نہ بن سکے اور جب مریم بنے تو ابن مریم کیسے بن جاتے۔ پھر جب مریم بن گئے تو ابن مریم بن کر کیا اپنی ہنسی اڑ آتے۔ کہ کل ماں بنے ہوئے تھے آج بیٹے اس ماں کے ہو گئے ۔ گویا ایک طرح کا آواگون مرزا قادیانی نے اپنے اوپر صحیح کر کے دکھایا۔ فرمائے نکتہ سے پر نقطہ ہٹا اور وضاحت سے سمجھ میں آیا یا نہیں۔

سائل: جی ہاں۔ کچھ کچھ سمجھا ہوں اور سمجھ لوں گا۔

مجیب: آگے ملاحظہ ہو قاسم علی صاحب مرزا قادیانی کو نبی نہ ماننے والوں پر تعجب کرتے ہیں اور ایک زبردست دلیل نبوت پیش فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔ و هو هذا !

(از ہاق الباطل ص ۳۳، مصنفہ قاسم علی قادیانی) پر لکھتے ہیں۔ پس امتی کے درجہ سے ترقی پا کر نہی بن جانے پر بھی آپ کو نبی نہ کہنا یا مریم سے ابن مریم ہو جانے پر بھی عیسی نہ کہنا یا غلام احمد سے احمد بن جانے پر بھی احمد نہ کہنا ایسا ہے۔ جیسے کسی پٹواری کوڈ پٹی کلکٹر ہو جانے پر پٹواری یا لغوی ڈپٹی کلکٹر کہنا جو در اصل اب اس ب اس کی تو ہین اور گستاخی ہے۔

سائل: اس میں دلائل نبوت کیا ہیں۔ میری سمجھ میں تو یہ چیستان بالکل نہ آئی۔

مجیب: معلوم ہوتا ہے۔ قاسم علی صاحب پٹواری سے ڈپٹی کلکٹر ہو گئے ہوں گے۔

اس پر قیاس کر کے مناصب و عہدہ کا تقاسمہ فرمایا ہے اور معقول تقاسمہ ہے۔ بد قسمتی سے شاید انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کے نبی خود نبوت کا انکار کرتے ہوئے ولكن رسول الله وخاتم النبيين اور لا نبی بعدی کی حدیث کو تسلیم کر چکے ہیں ۔

سائل: کیا صاف لفظوں میں مرزا قادیانی خاتم النبيين کے معنی ہمارے اعتقاد کے موافق مان کرد لا نبی بعدی والی حدیث کو سچ مان گئے؟

مجيب: ملاحظہ کر لیجئے اور سمجھ لیجئے۔ (انجام آتھم ص ۲۷ حاشیہ ، خزائن ج۱ ص ۲۷، مصنفہ مرزاغلام احمد قادیانی) پر لکھتے ہیں:

”کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت و نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولكن رسول الله وخاتم النبيين " کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کے بعد رسول وہی ہوں۔“

اور (ترجمہ حمامۃ البشریٰ ص ۹۶، خزائن ج ۷ ص ۲۹۷) پر مرزا قادیانی مدعی نبوت کو کافر مانتے ہیں۔

” مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعوی کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں کی جماعت سے جاملوں ۔“

اور آئینہ کمالات اسلام می ۲۱، خزائن ج ۵ ص ۲۱) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

” میں ایمان لاتا ہوں اس ں اس پر کہ ہمارے نبی محمد خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب قرآن کریم ہدایت کا وسیلہ ہے اور میں ایمان لاتا ہوں۔ اس بات پر کہ ہمارے رسول آدم کے فرزندوں کے سردار اور رسلوں کے سردار ہیں اور اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا۔“

اور (ایام الصلح ص ۱۳۶ ، خزائن ج ۱۴ ص ۳۹۳) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

حدیث لا نبی بعدی میں نفی عام ہے۔ پس یہ کسی قدر جرات اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیال رکیکہ کی پیروی کر کے منصوص صریحہ قرآن کو عمد ا چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے۔ کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی ۔“

علاوہ آرا ء کے بہت سے مضامین ہیں جو خوف طوالت نہیں بتاتا۔ ورنہ تختیم کتاب ہو جائے۔

سائل: پھر کیا میاں محمود کو ان کتابوں کے مطالعہ سے سابقہ نہیں پڑا۔ جو وہ ایک غلطی کا ازالہ اشتہار کا حوالہ دے کر نبوت ثابت کر رہے ہیں۔

مجیب: میں اول بتا آیا ہوں کہ مرزا قادیانی کی تدریجی ترقی کا مخالفانہ رنگ میں محمد علی صاحب ایم ۔ اے امیر جماعت احمد یہ نے واضح اور روشن نقشہ کھینچ دیا ہے۔ چنانچہ یہاں نبوت کا انکار کرتے کرتے کسی میں شان نبوت بھی ماننا کفر بتادی ہے۔ جیسا کہ ایام صلح کی گذشتہ عبارت کے اخیر میں فرمایا ہے ۔ کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلا شبہ نبوت کی وحی ہوگی ۔“

مگر اب اس درجہ سے ترقی کر کے (ازالہ اوہام ص ۴۲۱، خزائن ج۳ ص۳۲۰، مصنفہ مرزا قادیانی) میں فرماتے ہیں:

”نبوت کا دعوی نہیں بلکہ محدثیت کا دعوی ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا اور اس میں کیا شک ہے کہ محد ثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔“

پھر اسی (ازالہ اوہام ص ۲۳۲، خزائن ج۳ ص ۳۲۱) پر فرماتے ہیں:

محد ثیت کو اگر ایک مجازی نبوت قرار دیا جائے یا ایک شعبہ تو یہ نبوت کا ٹھہرایا جائے تو کیا اس سے نبوت کا دعوی لازم آگیا ۔

پھر ( توضیح المرام ص ۱۸، خزائن ج۳ ص ۲۰) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

”ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالی کی طرف سے اس امت کے لئے محدث بن کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔“

سائل: یہ اعلان شاید مولوی عبدالکریم کے خطبہ کے بعد کا ہوگا۔ کیونکہ ان کے رسول ثابت کرنے سے بقول مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے امیر جماعت احمد یہ مذکورہ اوّل مرزا قادیانی کو جرات ہو گئی ۔ جیسا کہ محمد علی صاحب نے لکھا۔ حتی کہ ایک مرید اپنے ایک خطبہ میں اسے رسول ثابت کر دیتا ہے اور اس سے اس کو ذرا قوت ملتی ہے کہ اب مرید مجھے رسول بنانے لگے۔ اب خطرہ کی کیا بات باقی رہ گئی۔ شک تو نعوذ باللہ من ذالک یہی تھا کہ رسالت کا دعوئی کردوں تو شاید مرید نہ بھاگ جائیں۔ اب جب یہ خود ہی ایسے بیوقوف بن رہے ہیں تو چلو اب رسالت کا دعویٰ کردو۔ (مکمل عبارت پہلے نقل ہو چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ کریں)

مجیب: جی ہاں میرا خیال بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد عام طور پر کچھ شور مچ گیا تو مرزا قادیانی اس کے بعد معذرت بھی فرما چکے ہیں اور اپنی سادگی کا اعلان کر چکے ہیں۔

سائل: عجیب بات ہے وہ کہاں لکھا ہے؟

مجیب: ملاحظہ ہو مرزا قادیانی کا اقرار نامہ مؤرخہ ۳ فروری ۱۸۹۲ ء اس اقرار نامه پر آٹھ گواہیاں مثبت ہیں اور ڈاکٹر عبدالحکیم کے مناظرہ میں جو لاہور میں ہوا تھا لایا گیا اور ( تبلیغ رسالت جلد دوم ص ۹۵، مجموعہ اشتہارات ج اول ص ۳۱۳) سے ہم نقل کر رہے ہیں۔ تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام و توضیح المرام وازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محد ثیت نبوت نا قصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا وکلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعوی نہیں ہے۔ (گویا دوسری قسم کی نبوت پر تو خفیہ خفیہ اب بھی اصرار ہے۔ مؤلف ) بلکہ جیسا کہ میں کتاب (ازالہ اوہام ص ۱۳۷) میں لکھ چکا ہوں۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید دموٹی محمد مصطفی خاتم الانبیاء ہیں سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔ جس حالت میں ابتداء سے میری نیت میں جس کو اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبوت سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ صرف مخذمیت مراد ہے۔ جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے مکلم مراد لئے ہیں تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ (گویا ہوں تو ضرور کسی قسم کی نبی مگر برائے خاطر محدث ہی سہی۔ مؤلف ) سو دو سرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرمالیں ۔

سائل: ہاں خوب یاد آیا۔ ایک وقت تو وہ تھا کہ مرزا قادیانی اپنے کو مسیح موعود بتاتے تھے۔ اب نبی کیسے بننے لگے؟

مجیب: مسیح موعود میں اور نبی میں کیا فرق ہے۔ حضرت عیسی sym-9 مسیح موعود ہیں اور وہ یقینا نبی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی مسیح موعود بھی یونہی نہیں بنے۔

سائل: اس کا ثبوت تو آپ شاید کسی کتاب سے نہ دے سکیں گے۔ یہ تو محض آپ کا خیال ہی ہے۔

مجيب :انشاء اللہ دوں گا اور صاف واضح صورت میں دوں گا۔ بلکہ یہ بھی انہیں عبارات سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح موعود کے آنے سے مرزا قادیانی کو اول اول انکار بھی نہ تھا۔ بعد میں جب جمعیت مظبوط ہوگئی تو انکار کیا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ۱۹۹، خزائن ج ۳ ص ۱۹۷) پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

”میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعوی کیا ہے اور میرا یہ دعوی نہیں ہے کہ صرف مثیل مسیح ہونا میرے پر ختم ہو گیا ۔ ہے۔ بلکہ میرے نزدیک آئندہ زمانوں میں میرے جیسے دس ہزار بھی مثیل آجائیں۔ “(اس لئے کہ جب میں نہ رہا تو پھر کوئی آئے۔ وہ اپنی آپ نیڑے گا۔ بقول شخصے بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھا لیا۔ اس کی بلا سے بوم ہے یا ہمار ہے۔ مؤلف ، ہاں اس زمانے کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کا انتظار بے سود ہے۔

پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسح بھی آ جائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ (اس لئے کہ میرا دعوئی تو خانہ ساز ہے۔ حدیث کے الفاظ میری صداقت پر تائید نہیں کرتے ۔ بلکہ تکذیب کرتے ہیں۔ مگر جس طرح بھی ہو سکے مجھے بھی مان لو اور میں تمہاری خاطر سے اسے مان لیتا ہوں۔ بقولیکہ من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو ۔ (مؤلف) کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ بلکہ درویشی اور غریب لباس میں (اگر رجوعات معقول ہو گئی تو پھر دیکھ لینا کس شان کا مسیح موعود بنتا ہوں للمؤلف)

سائل: کیا مثیل مسیح بنتے بنتے پھر خود ہی مسیح موعود بھی بن گئے ہیں؟

مجیب: جی ہاں ! صاف لفظوں میں اعلان کیا گیا ہے۔ چنانچہ (کشتی نوح ص ۲۸، خزائن ج ۹ ۱ ص ۵۲) پر فرماتے ہیں:

”اور یہی عیسی ہے۔ جس کا انتظار تھا اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسی سے میں ہی مراد ہوں۔ میری نسبت کہا گیا ہے کہ ہم اس کو نشان بنا دیں گے اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسی بن مریم ہے جو آنے والا تھا۔ جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نا نہیں ہے۔“

سائل: شاید اب جماعت میں عقیدہ کا نشہ پورا مستولی ہو گیا ہوگا۔ جب ہی تو بلا خوف و ہر اس صاف لفظوں میں اعلان کیا گیا۔

مجیب: جی ہاں ! یہی شان تدریجی کہلاتی ہے۔

سائل: لیکن کبھی تو مریم تھے ۔ آج مریم کے بیٹے کیسے ہوگئے؟

مجیب: اس کا جواب خود مرزا قادیانی نے نہایت معقول دیا ہے۔ جس کو پڑھ کر ہر نا معقول اطمینان سے مرزا قادیانی کو عیسی مان سکتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ (کشتی نوح ص ۲۶، خزائن ج۱۹ ص ۵۰) میں فرماتے ہیں:

”سو چونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائے گی۔ اس لئے گو اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے۔ دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو نما پاتا رہا۔ پھر مریم کی طرح عیسٰی کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں۔ بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے۔ مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا اور خدا نے براہین احمدیہ کے وقت اس سرخفی کی مجھے خبر نہ دی۔“

سائل: یہ تمام عبارات استعاری رنگ وغیرہ کے پردہ سے مول ہی ہیں۔ خلیفہ محمود احمد صاحب جو نبوت صاف مان رہے ہیں۔ وہ کسی اعلان کی بناء پر؟

سائل: ایک غلطی کا ازالہ جو اشتہار ہے۔ اس میں کیا ہے جس کی بناء پر خلیفہ مرزا محمود بڑے زور سے مرزا قادیانی کو نبی مان رہے ہیں۔

مجیب: اس حقیقت الوحی کے اجمالی مضمون کی تفصیل ہے۔ چنانچہ ( تبلیغ رسالت ج دهم، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۴۳۵) میں اشتہار (ایک غلطی کا ازالہ ) بھی نقل ہے:

” اس لئے کہ تبلیغ رسالت مجموعہ اشتہارات مرزا قادیانی ہے۔ اس کے اقتباس بخوف طوالت ملاحظہ کر لیں۔ فرماتے ہیں کہ ” مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افتراء کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔“

اس میں پھر فرماتے ہیں کہ:

” اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نہی رکھا گیا۔ اگر خدا تعالی سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو بتلاؤ اس کو کس نام سے پکارا جاتا۔ اگر اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔ مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے۔“

اور پھر ایک غلطی کا ازالہ اشتہار دیکھنا بھی بے کار ہے۔ (حقیقت الوحی ص ۳۹، ترور کن ج ۲۲ ص ۲۰۶) پر تو مرزا قادیانی نے اپنی نبوت پر ایسا صاف مضمون لکھا ہے کہ بقول ہے شخصے تمہ بھی باقی نہ چھوڑا ۔ فرماتے ہیں کہ:

”اب واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت سے ایک شخص پیدا ہوگا۔ جو عیسی بن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ یعنی اس کثرت سے مکالمہ مخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے ۔ جب کہ خدا تعالٰی نے فرمایا ہے۔ ”فلا يظهر على غيبه احد الا من ارتضی من رسول“ یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ نہیں بخشا۔ جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ بجز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرماتے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطاء نہیں کی گئی اور اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔“

دوسری جگہ ( حقیقت الوحی ص ۱۴۹، خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۳) پر لکھا ہے اور ظاہر کیا ہے کہ میرا سابقہ انکار در حقیقت میری نادانی تھی ۔ حقیقت الامر یہ ہے ۔وهو هذا!

”اسی طرح اوائل میں میرا عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدائے بزرگ کے مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں خدا کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ۔“

سائل: ایک پہلو سے تو تمام انبیاء کرام بھی امتی ہیں۔ اس لئے کہ آیہ کریمہ و اذا اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام حضور ﷺ پر ایمان لانے۔ آپ کی نصرت فرمانے کا عہد حضور الہی میں کر چکے ہیں۔

مجیب: جی ہاں ! اس آیت سے ایک حیثیت کا امتی ہونا تو تمام انبیاء کا ثابت ہے۔ سائل: آیہ کریمہ کی خلاصہ تفسیر معہ ترجمہ ذرا سنادیں۔

مجیب: بہت اچھا یہ آیت قرآن کریم کے تیسرے پارے میں سورہ آل عمران کی ہے۔ سورۃ کا آٹھواں رکوع ہے۔ واذا اخذ الله ، یعنی جب لیا اللہ نے میثاق النبيين عہد نبیوں کا ” لما آتيتكم من كتاب وحكمة “ جو کچھ دوں میں کتاب و حکمت سے ” ثم جاء کم رسول “ پھر آئے تمہارے پاس ایک رسول ” مصدق لما معكم “ تصدیق کرنے والا اس کی جو تمہارے ساتھ ہے لتؤمنن به والتنصر نه البتہ ایمان لانا اس کے ساتھ اور البتہ عدد دینا اس ” قال اقررتم واخذتم على ذالكم اصرى “ کہا کیا اقرار کیا تم نے اور لیا تم نے اس پرز بر دست میرا ذ مہ! ”قالوا اقررنا“ بولے ہم نے اقرار کیا ” قال فاشهدوا وانا معكم من الشهدين “ فرمایا تو اب شاہد ر ہو اور میں بھی تمہارے ساتھ شاہد ہوں۔

اس کی تفسیر معالم، مدارک وغیرہ میں جو ہے اس سب کا لب لباب تفسیر قادری میں موجود ہے۔ وہی نقل کرتا ہوں ۔ وهو هذا !

اور یاد کرو تم اسے محمد ہے جب کہ لیا خدا نے عہد و پیمان پیغمبروں کا اور امتیں عہد لینے میں انبیاء کی تابع ہیں اور یہ بڑا عہد ہے کہ حق تعالی نے سب پیغمبروں سے لیا کہ تم اور تمہاری امتیں حمد کا ایمان لائیں اور عہد کا مضمون اس طرح پر ہے کہ جو کچھ دوں میں تجھے کتاب اتاری ہوئی اور سمجھ سے۔ پھر آئے تمہارے پاس رسول میرا کہ محمد ہے۔ یادر رکھنے والا اور سچا کرنے والا۔ اس چیز کو کہ تمہارے پاس ہے۔ کتاب اور حکمت ہے۔ البتہ ایمان لاؤ تم ساتھ اس کے اور یاری اور مددگاری کرنا تم اس کی اپنی ذات ہے۔ اگر تمہارے زمانہ میں آئے۔ ورنہ اس کی صفتیں اور نعتیں بیان کر کے اپنی امتوں کو اس کی یاری و مددگاری کا حکم کر دینا۔ کہا اللہ نے انبیاء کو ان پر یہ عہد پیش کر کے۔ کیا اقرار کیاتم نے اور لیا تم نے او پر اس کے جو ہم نے کہا عہد ، میرا اس طور پر کہ اسے پورا کرو۔ کہا انبیاء علیہم السلام نے کہ اقرار کیا ہم نے اور عہد قبول کر لیا ہم نے کہا خدا نے کہ گواہ رہو۔ تم ایک دوسرے کے اقرار پر یا فرشتوں کو حکم فرمایا کہ گو اور ہو انبیاء کے اقرار پر اور میں کہ خدا ہوں تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔ اس اقرار پر ۔ پھر جو کوئی پھر جائے اور انکار کرے گا اس رسول مقبول کا۔ ایمان لانے اور اس کی مدد کرنے سے بعد اس عہد و پیمان کے۔ پس وہ انکار کرنے والے وہ قرآن اور ایمان سے باہر نکل جانے والے ہیں۔ یا عہد و پیمان سے نکل جانے والے ہیں ۔ اسی قسم کے مضامین سے تغامر ملو ہیں۔ بہر کیف آپ کا خیال صحیح ہے کہ مرزا قادیانی اگر نبوت کے ساتھ امتی بن رہے ہیں تو اور انبیاء بھی ایک طرح امت محمد کے ضرور ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کے دعوی کا خلاصہ یہی ہوا کہ مثل دیگر انبیاء کے وہ اپنے کو نبی اور امتی بناتے ہیں۔ معاذ اللہ !

سائل: ہاں قبلہ ذرا یہ اور بتادیں کہ عبدالحکیم خان کون بزرگوار ہیں جن کا حوالہ نبوت کے الفاظ بدلنے والے اقرار نامہ میں آیا تھا۔

مجیب: عبد الحکیم خان یہ ایک ڈاکٹر تھے اور مرزا قادیانی کے خاص راز دار امتی تھے۔ پھر چالبازی اور گھریلو نبوت سازی کی حقیقت معلوم کر کے منحرف ہو گئے اور سخت مخالفت کی در حقیقت مرزا قادیانی کو اپنی زندگی میں پانچ قسم کی جماعتوں سے سابقہ پڑا۔ پہلی ! جماعت تو وہ تھی جو ازل ہی تاڑ گئی اور مخالف رہی اور تردید میں سرگرم ہو گئی۔ دوسری جماعت وہ جو اول اول مرزا قادیانی کی سخت معتقد رہی۔ پھر دھوئی مسیحیت کے وقت منحرف ہوئی۔ تیسری جماعت جس نے دعوئی مسیح موعود قبول کر کے نبوت کے دعوٹی کو ٹالا اور ٹال رہی ہے۔ چوتھی ! جماعت وہ جو مرزا قادیانی کے دھوٹی نبوت کو تسلیم کر کے اسی پر اب تک اڑی ہوئی ہے۔ پانچویں جماعت وہ ہے جو نبوت مرز اصاحب کو مان کر خود بھی نبی ہونے کی مدعی ہے۔

سائل: یہ تیسری جماعت جو نبوت کے دعاوی ثال رہی ہے۔ یہ تو شاید تر ہوری جماعت ہوگی اور چوتھی مرزا محمود کی جماعت ہوگی۔

مجیب: ہاں آپ کا خیال صحیح ہے۔

سائل: اور پہلی جماعت میں کون لوگ ہیں؟

مجيب: اس میں علماء حقہ اہل سنت و جماعت اور غیر مقلدین کی جماعت کے پیشوا اور مولوی ثناء اللہ وغیرہ ہیں۔ چنانچہ مولوی شاء اللہ امرتسری ہے تو مرزا قادیانی کی خوب ہی چھنتی رہی۔ حتی کہ مرزا قادیانی نے ایک محط مولوی شاء اللہ کو لکھا اور وہ تمام کا تمام ہی پڑھ لیں۔ بڑے مرے کا خط ہے۔ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب - السلام على من التبع الهدى امت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پر چہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ اس شخص کا دھوئی مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں۔ اگر میں ایسا ہی کذاب و مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی عمر دراز نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی نا کام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہے۔ تاکہ وہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب د مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موجود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچھیں گے۔

پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک یماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں ۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی نہیں بلکہ محض دعاء کے طور پر میں۔ میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعاء کرتا ہوں کہ اے میرے مالک اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں کی بناء پر ہیں ے پیارے تیری نظر میں مفسد و کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے : میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مالک مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میری زندگی میں ان کو نا بوو کر دے۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ ہے۔ (اخیر میں اس محط کے لکھتے ہیں ) اب میں تیرے ہی تقدس و رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔ آمین ثم آمین ! ( مجموعه اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۶)

پھر اس خط کو اشتہار کی صورت میں شائع کر کے اس کے ہفتہ عشرہ بعد ۲۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کی ڈائری روزانہ کی جو اس میں شائع ہوتی تھی اس میں لکھا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری (مرزا قادیانی) کی طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔"

سائل: یہ محط گویا اپریل ۱۹۰۷ء کو شائع ہوا۔ پھر اس سے بعد مرزا قادیانی مرے یا مولوی ثناء اللہ امرتسری

مجیب: خدا کی شان مرزا قادیانی اس محط کے شائع کرنے کے ایک ہی سال بعد ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء کو دستوں کی مرض میں مبتلا ہو کر مر گئے۔ اس زمانہ میں حضرت والا قبلہ مدظلہ العالی انجمن نعمانیہ میں مدرس اول تھے اور میں طالب علمی میں تھا کہ مرزا قادیانی لاہور آئے۔ کیلے والی سڑک پر کسی مکان میں تھے۔ حضرت قبلہ عالم پیر سید جماعت علی شاہ صاحب قبلہ اس کے مقابلہ کو تشریف لائے تھے۔ مرزا قادیانی سامنے آنے سے پہلو بچارہے تھے۔ اسی حالت میں حضرت مدوح نے نہایت زور سے دعاء فرمائی کہ الہی اگر مرز اسچا ہے تو مجھے منگل تک ہلاک کرور نہ وہ منگل نہ پکڑے۔ تو ہر شے پر قادر ہے۔ چنانچہ منگل کی رات میں ہی مرزا قادیانی رزا قادیانی ۲۶ مئی کو مر گئے اور دستوں میں ہی مرے اور یہی بد دعاء مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ کے لئے کی تھی کہ طاعون یا ہیضہ میں مرے۔ وہ تو اب تک نہ مرے۔ مگر مرزا قادیانی مر گئے۔

سائل: دستوں میں مرنے کی کیا سند ہے؟

مجیب: سند ملاحظہ کر کے تو آپ شاید صاف کہہ دیں کہ مرزا قادیانی ہیضہ میں ہی مرے۔ ملاحظہ ہو۔ (ضمیمه اخبار الحلم قادیان غیر معمولی مورخه ۲۸ رشتی ۱۹۰۸ء) میں مرزا قادیانی کی وفات اس طرح درج ہے۔ بر اور ان اسلام جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے حضرت امامنا مولانا مسیح موعود، مہدی مہود مرزا قادیانی کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے تو بڑھ جاتی تھی۔ حضور کو یہ بیماری بسبب کھانا نہ ہضم ہونے کے تھی۔ ( مگر حضور کھائے بغیر رہتے نہ تھے۔ مؤلف ) اور چونکہ دل سخت کمزور تھا اور نبض ساقط ہو جایا کرتی تھی اور عموماً مشک وغیرہ کے استعمال سے واپس آجایا کرتی تھی۔ اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کو (یعنی مرزا قادیانی کو دو تین دفعہ پہلے یہ حالت ہوئی لیکن ۲۰ مئی کی شام کو جب کہ آپ سارا دن پیغام صلح کا مضمون لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپسی پر حضور کو پھر اس بیماری کا دورہ شروع ہو گیا اور وہی دوائی جو کہ پہلے مقوی معدہ استعمال فرماتے تھے۔ مجھے حکم بھیجا تو بنوا کر بھیج دی گئی۔ مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا اور قریباً گیارہ بجے اور ایک دست آنے پر طبیعت از حد کمزور ہو گئی اور مجھے اور حضرت خلیفہ نورالدین صاحب کو طلب فرمایا۔ مقوی او و یہ دی گئیں اور اس خیال ہے کہ دماغی کام کی وجہ سے یہ مرض شروع ہوئی ۔ نیند آنے سے آرام آجائے گا۔ ہم واپس اپنی جگہ پر چلے گئے۔ مگر تقریبا دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آگیا۔ جس سے نبض بالکل بند ہوگئی۔ مجھے اور خلیفہ اصبح مولوی نورالدین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو بلوایا اور برادرم ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو بھی گھر سے طلب کیا اور جب وہ تشریف لائے تو مرز الیعقوب بیگ صاحب کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ مجھے سخت اسہال مجھے سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے۔ آپ کوئی دوا تجویز کریں۔ علاج شروع کیا گیا۔ چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی۔ اس لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج باقاعدہ ہوتا رہا۔ گھر پھر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ ساڑھے دس بجے صبح۲۶ رشتی ۱۹۰۸ء کو حضرت اقدس کی روح اپنے محبوب حقیقی سے جائی۔ انا للہ وانا اليه راجعون دیکھی آپ نے دستوں کی سند ۔

سائل: جی ہاں ! اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی دعاء بہت ہی جلدی مستجاب ہوئی اور بچے کے سامنے جھوٹے کو اللہ نے ہلاک فرمایا۔ ہاں قبلہ باقی چار جماعتوں کی تصریح اور سنا دیں۔

مجیب بقیہ جماعتوں کی تصریح انشاء اللہ پھر، یار زندہ صحبت باقی۔

( فقیر : قادری ابو الحسنات خطیب مسجد وزیر خان، لاہور )

Netsol OnlinePowered by