logoختم نبوت

نبوت و رسالت۔۔۔از۔۔۔علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ

بسم الله الرحمن الرحيم
نحمده ونصلى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمُ

نبوت ورسالت کے متعلق عرض ہے کہ پہلے ہم نبوت و رسالت کا مفہوم اور نبی و رسول کے مقام کو ذہن میں آشنا کرلیں ۔

نبوت ورسالت میں فرق:

اصطلاح سے قطع نظر کر کے ہر نبی رسول ہے ، اصطلاح کی قید اس لیے نئی لگائی ہے کہ اصطلاح میں رسول اس کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شریعت لے کر آتے ، پس اصطلاح سے قطع نظر کر کے ہر نبی ، رسول یعنی پیغامبر ہوتا ہے ، کوئی نبی ایسا نہیں جو خدا کا پیغام نہ لائے ، ہر نبی خدا کا پیغام لانیوالا اور رسول ہوتا ہے لیکن ہر رسول کا نبی ہونا ضروری نہیں، اس لئے کہ نبی انسانوں کے لیے خاص ہے ، نبی انسانوں کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا اور رسول عام ہے ، جیسا کہ رسول ملائکہ میں بھی ہیں اور جنوں میں بھی ہیں ، جیسے حضرت جبرئیل ، حضرت میکائیل sym-3 ، رسول تو ہیں لیکن نبی نہیں ہیں جو انسانوں میں سے نہ ہو اور اس کو رسالت دی جائے، وہ رسولی تو ہے مگر اس کو نبی نہیں کہتے ۔

شاید کوئی سمجھے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہو ، وہ رسول ہوتا ہے اور بنی ہوتا ہے ، تو یہ غلط ہے کیونکہ وحی تو ایک تیز اشارے کو کہتے ہیں اور اللہ نے اس قسم کے اشارات انسانوں کے علاوہ دیگر مخلوقات کی طرف بھی فرمائے۔

اور انسانوں میں انبیاء کے علاوہ دیگر لوگوں کے بارے میں بھی اشارات فرمائے ،

چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

إِذا حَيْنَا إِلَى أُمِّكَ مَا يُوحَى 1
جب ہم نے غیبی اشارہ سے آپ کی والدہ کو وہ بات سمجھائی جس کی وحی

آپ کو کی جا رہی ہے ۔2

اب یہاں دیکھئے قرآن مجید سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضرت سید نا موسیٰ sym-9 کی والدہ کی طرف وحی ہوئی ، لیکن عورت نبی نہیں ہو سکتی ، نبوت تو صرف مرد انسانوں کے لئے ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم sym-2 کے بارے میں فرمایا :

فَار سَلَنَا إِلَيْهَارُهُ حَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيَّاهُ قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتُ تَقِيَّاهُ قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ دبِّكِ لا هَبَ لَكِ غُلْمَا ذَكِيَّا 3
تو ہم نے ان کی طرف اپنے فرشتے (جبرئیل ) کو بھیجا تو اس نے اس (مریم) کے سامنے تندرست آدمی کی صورت اختیار کی ، مریم بولیں میں تجھ سے رحمن کی پناہ لیتی ہوں ( میرے قریب نہ آ ) اگر تو متقی ہے ( جبرئیل ، نے کہا (اے مریم ، اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تمہیں پاک بیٹا دوں " ہے۔4

اب دیکھیے کہ وہ رسول یعنی جبرئیل sym-9 ایک بشر کامل کی شکل میں متشکل ہو گئے جب حضرت مریم sym-2نے اُن کو شکل بشر میں دیکھا تو سمجھا کہ واقعی یہ کوئی بشر ہے ، وہ مقدسہ بندی تھیں، وہ اپناہ مانگی اور کہا کہ اگر تم متقی ہو تو مجھ سے فوراً دور ہو جاؤ ، اُس نے کہا ، اس کے ہوا میں کچھ بھی نہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے قاصد ہوں اور آپ کو رب کے حکم سے ایک پاک بیٹا دینے آیا ہوں ۔

یہاں جبرئیل sym-9 نے جب یہ بات فرمائی تو مسلم کے صیغے کے۔ ساتھ بیان کی کہ میں تم کو ایک بیٹا دینے آیا ہوں، حالاں کہ بیٹا دینا تواللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ معنی حقیقی یعنی ہے کہ معطی حقیقی یعنی حقیقت میں عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور جب اللہ کا بندہ کسی کو کچھ عطا کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے دیتا ہے ، اس لئے جبرئیلsym-9نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بیٹا دینے آیا ہوں۔

اس کے علاوہ دیگر ملائکہ کرام کوبھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض بندوں کی طرف بھیجا اور اُن کو شرفِ مکالمہ سے نوازا اور فرشتوں نے اُن کے ساتھ باتیں کیں۔

شہد کی مکھی کو وحی:

اللہ تعالیٰ نے سورۃ النمل میں فرمایا :

وَ أَوحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا يُعْرِشُونَ5
اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں ڈالا کہ پہاڑوں میں بھی گھر بنا اور درختوں میں اور اُن چھروں میں جنہیں لوگ اونچا بناتے ہیں ۔6

اب دیکھئے یہاں قرآن حکیم تبا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی ، لیکن یہاں نبوت کا تصور بھی نہیں ، بہر حال یہ سمجھنا کہ محض جس کی طرف وحی ہو جائے وہ نبی یا رسول ہے ، غلط ہے ، پس نہ فقط وحی سے اور نہ فقط جبرئیل کے آنے سے نبوت ملتی ہے ، نبوت تو ایک اور چیز ہے ، یہ تو اللہ تعالیٰ کا انعام ہے جوان سب چیزوں سے الگ ہے ۔

اب پہلے میں نبوت اور رسالت کے وہ معنی جو انسانوں کے حق میں ہیں بیان کر دوں ، کیونکہ اس وقت ملائکہ کی رسالت سے گفتگو نہیں بلکہ انسانوں کی نبوت اور رسالت کا بیان ہے۔

نبوت کی تعریف:

نبوت کی تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی مقدس و مظہر اور پاک بندے پر ایسی وحی نازل فرمائے کہ اس کلام ، وحی یا خطاب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم اس کے ذمہ عائد ہو جائے یا اس پر کسی چیز کو واجب کر دیا جائے اور وہ چیز پہلے اس پر واجب یا فرڈی نہ تھی ، اب واجب اور ضروری ہوگئی ، پس جس مقدس بندے کو اللہ تعالیٰ فرشتے کے واسطے سے یا واسطے کے بغیر اپنا کوئی ایسا پیغام دے یا کوئی ایسا خطاب کرے یا کوئی ایسی وحی فرمائے کہ جس دمی ، خطاب یا تکلم کی وجہ سے اللہ کے اس بندہ پر وہ چیز جو پہلے اس پر واجب نہ تھی ، اب فرض ، واجب اور لازم ہو گئی ، پس یہ کلام ، یہ وحی اور اللہ تعالیٰ کے اس بندے کا اس لازمی امر کے لیے مامور ہونا نبوت ہے ، اور یہ بات سوائے نبی کے کسی اور کے لیے ثابت نہیں ہو سکتی ۔

ایک ضمنی مسئلہ:

فقط اللہ تعالیٰ کا مخاطبہ نبوت نہیں ہے ، ملائکہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تخاطب اپنے بندوں کے ساتھ ہوتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالی نے اولیاء اللہ کے بارے میں ارشاد فرمایا :-

لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ 7

یعنی ان کیلئے خوش خبری ہے دنیا میں اور آخرت میں بھی ، اس بشارت کی تفسیر، حدیث میں یوں بیان کی گئی ہے کہ حضور نبی کریمﷺنے فرمایا ،

مومن اور بالخصوص مومن صالح اور اللہ تعالیٰ کا مقرب محبوب ، جب اس کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو موت کو پسند نہیں کرتا ، موت کو پسند نہ کرنا، انسان کی جبلت میں ہے۔ اسی حدیث قدسی نہیں ہے میں بیان کیا گیا ہے کہ میں اپنے بندے کے کان ہو جاتا ہوں ، آنکھیں ، ہاتھ اور پاؤں ہو جاتا ہوں ، یہ طویل حدیث ہے ، اس کے آخر میں ہے ۔

وَمَا تَرَدَّدَتْ عَنْ شَيْ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَ دُدَى عَن نَّفْسِ الْمُؤمِن يَكْرُهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ وَفِي بَعْضُ النَّسُخِ وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ رواه البخاري8
اور میں توقف نہیں کہ تا کسی شے میں ، جسے میں کرنے والا ہوں ، مثل میرے توقف کے مومن کی جان قبض کرنے سے کہ وہ (حکم طبیعت ) موت کو ناخوش رکھتا ہے اور میں اس کے غمگین ہونے کو نا پسند رکھتا ہوں اور بعض نسخوں میں ہے کہ حال یہ ہے کہ بندے کو موت سے چارہ نہیں ، اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ۔

یعنی میں کسی کام میں جو کہ میں کرنا چاہتا ہوں ، دیر نہیں کرتا اور کبھی آتی تا خیر نہیں فرماتا ، جتنی دیر اس مومن کی موت کو واقع کرنے میں کرتا ہوں، اس لیے کرد موت کو پسند نہیں کرتا اور میں اُس کے موت کے پسند نہ کرنے کو ناپسند کرتا ہوں اور مجھے اس بندے کی ملاقات بڑی محبوب ہوتی ہے، پھر انجام کیا ہوتا ہے ؟ یہ بات اگر کسی کو ذہن میں آجائے تو میرا مدعا بھی حل ہو جائے ۔

مومن کو مرتے وقت بشار تیں:

جب اللہ کا بندہ موت سے کراہت کرتا ہے تو اللہ اس وقت اپنی حکمت بالغہ سے کام لیتا ہے اور جانتا ہے کہ میرا بندہ موت کو طبعا پسند نہیں کرتا، تو اُس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فرشتے کو بھیجتا ہے اور وہ فرشتے اللہ کے اس بندے کے سامنے اللہ تعالی کی طرف سے بشارتیں لے کر آتے ہیں، پس جو اعزاز دا کرام ، راحتیں اور لذتیں اللہ تعالیٰ کے یہاں اپنے بندے کے لیے مقدر نہیں ، فرشتے جب یہ بشارتیں لے کر اس کے لیے نازل ہوتے ہیں تو ان بشارتوں کو دیکھتے ہی اس بندے کی طبعی کراہت ختم ہو جاتی ہے ، اور اس میں اشتیاق پیدا ہو جاتا ہے اور مسرور ہو کر مسکر اتا ہے ۔

نشان مرد مومن با تو گوئم
چون مرگ آید تبسم بر لب است

(علامہ محمد اقبال )

پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور صالحین پر فرشتے بشار میں لاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ فرشتوں کے واسطے تخاطب فرماتا ہے ، مگر اس کے باوجود وہ بندے اللہ تعالیٰ کے نبی نہیں ہوتے ، نبوت کا مقام اس سے بہت بلند ہے اور صرف ایسا تخاطب نبوت نہیں ہوتی ، پس جو اللہ تعالی کا مامور ہو اللہ تعالیٰ اسے اپنی وحی اور پیغام کے ذریعے با واسطہ یا بلا واسطہ تخاطب فرمائے اور مامور فرمائے تو وہ نبی ہے ورنہ وہی تو شہد کی مکھتی کی طرف بھی کی گئی ہے اور حضرت موسیٰ sym-9کی والدہ کی طرف بھی ہوئی ۔

اگر یہ بات ذہن نشین کر لی جائے تو بہت سی گمراہیوں سے نجات حاصل ہو سکتی ہے اور نبوت کا جو معنی اور مفہوم میں عرض کیا ہے اگر اس کو ذہن نشین رکھا اگلی بات اچھی طرح سمجھ سکیں گے ۔

یہ بات تو سب مسلمان جانتے ہیں کہ نبوت حضرت آدم sym-9 سے شروع ہوئی اور حضور اکرمﷺ پرختم ہو گئی ، یہ کوئی عالم ارواح کی بات نہیں ، یہاں کی بات ہے اور یہ مسئلہ ضروریات دین سے ہے اس پر ایمان لانا شرط ہے ، کیونکہ جو حضور کریم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا وہ مرتد اور کافر ہے ، پس حضور اکرم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ ﷺ کے بعد قیامت تک تو کیا اب تک کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا ۔

اب وہ لوگ جنہوں نے ختم نبوت کے متعلق ایسی باتیں شروع کر دیں کہ جن میں نہ کوئی عقلی بات ہے اور نہ دلائل ، ان کی یہ باتیں دلائل اور سمعیات وغیرہ سب سے ! عاری ہیں ، غلط تو جہیں اس انداز سے کی گئی ہیں کہ حیت ہوتی ہے کہ اس زمانہ میں کسی طرح باطل کو حق کا لباس پہنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، حضور اکرمﷺنے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں ، پس آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا لیکن فرقہ مرتدہ مرزائیہ کہتا ہے کہ تشریعی نبوت ختم ہوئی ہے اور جو نبوت تشریحی نہیں ہے وہ خم نہیں ہوئی وہ چلے گی، لاحول ولا قوة الا باللہ العظیم

تشریعی نبوت:

آج تک تشریعی نبوت کا کوئی واضح مفہوم یہ لوگ نہیں بتا سکے ، جو اس تشریعی نبوت کی آڑ لے کر ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں ، ہم نے کہا کہ نبوت تشریعی کا مفہوم تو بتاؤ کہ وہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ جس نبوت میں احکام نازل کئے جائیں وہ نبوت تشریعی ہے اور جس میں احکام نہ ہوں وہ غیر تشریعی ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکام کی آمد ختم ہو گئی ، پس جس نبوت میں احکام نہ ہوں ، وہ نبوة چلے گی۔ ہم نے پوچھا کہ احکام کی تشریح کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ حکم“ کے معنی یہ ہیں کہ کسی چیز کو کسی پر ضروری اور لازمی قرار دیا ۔

ہم نے کہا کہ پھر تو غیر تشریعی ہرگز کوئی نبوت نہیں، نبوت تو ہوتی ہی وہ ہے جو تشریعی ہو اور جس میں کوئی حکم نہ ہو ، وہ تو نبوت ہی نہیں ، معلوم ہوا کہ نبوت کی دوئمیں کرنا غلط ہے کیونکہ جب نبوت کے معنی ہی یہی ہیں کہ جہاں حکم ہو ، وہاں نبوت ہے اور جہاں حکم نہیں وہاں نبوت نہیں ، اب جس نبوت نبوت غیر نے تشریحی کا تم ڈھنڈورا پیٹتے ہو وہ تو کوئی نبوت ہی نہیں ، اس کو نبوت کہنا غلط ہے ۔

سنئے ! میں چاہتا ہوں کہ اس انداز سے کہوں کہ کسی کا ذہن الجھنے نہ پائے ، میں نے اب تک جو کچھ کہا ہے اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی حکم جب کسی بندے کو فرشتے کے واسطے سے یا واسطے کے بغیر وے یہی نبوت ہے۔

اب ایک تو ہے نبوت اور ایک ہے فیضانِ نبوت“ نبوت تو حضوراکرم ﷺ پر ختم ہوگئی اور فیضان نبوت جاری رہیگا۔

کیونکہ اگر فیضان نبوت کا دروازہ بھی بند ہو جائے تو پھر نبی کا فیض کسی تک نہیں پہنچ سکتا ۔ پس وہ فیضان نبوت جو باقی ہے اس و حضورنبی کریم ﷺنے مبشرات سے تعبیر فرمایا ہے بلکہ حضورنبی کریم ﷺنے اسے اجزائے نبوت سے تعبیر فرمایا ، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اجمہ ائے نبوت کہا وہ تو نبوت سے متعلق ہیں ، پھر تو نبوت باقی ہوئی۔

تو سینے با حضور اکرمﷺ نے فرمایا :”لم يبق من النبوت الا مبشرة“9 یعنی نہیں باقی رہی نبوت سے کوئی چیز مگر مبشرہ ہم اسے جزو نبوت مجازا کہتے ہیں اور دراصل یہ مبشرہ ہے ، اگر یہی نہ ہو تو دنیا میں کوئی فیوض و برکات نہ پھیلیں ۔

اگر سچی خوابوں کا نام محض نبوت رکھ دیا جائے تو پھر وہ کونسا مسلمان ہے جس کو کبھی سیتی خواب نہ آئے ، اس طرح تو ہر مسلمان نبی ہو جائے گا ، کیونکہ ہر مسلمان کو کبھی نہ کبھی تو سچی خواب آہی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آدمیوں کو سوتے ہوئے بھی مبشرات دیے دیتا ہے اور فرشوں کے ذریعے جاگتے ہوئے بھی دے دیتا ہے، پتہ چلا کہ مبشرات کے کے معنی نبوت نہیں یہ مبشرات تو فیضانِ نبوت ہے اور یہ جاری ہے۔

نبوت کا ظل بھی فیضانِ نبوت ہے ، حضور علیہ السلام کی اتباع حضور کا ظل ہے اور اس نقل کو نبوت سے تعبیر کرنا بظاہر نبوت پر علم ہے بلکہ اپنے آپ پر ظلم ہے کہ کفر میں پڑنا ہے ۔

دراصل یہ لوگ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں کیونکہ مرزا قادیانی نے تو تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اسی کو حقیقی نبوت کہتے ہیں ، مرزا قادیانی نے اسی حقیقی نبوت کا دعوی کیا، کیونکہ اس نے بار بار کہا میں خدا کا مامور ہوں اور یہاں تک کہ اس نے اپنے نہ ماننے والو کو خارج از اسلام سمجھا، پتا چلا کہ اس نے ماموریت قطعیہ کا دعویٰ کیا اور اس کا یہ دعوئی جھوٹا ہے۔

مفہوم رسالت:

نبوت اور رسالت، مفہوم اور معنی کے لحاظ سے رسل بشر کے حق میں یکساں ہیں ، نبوت کے ساتھ ساتھ رسالت کے مفہوم کو بھی عرض کرتا ہوں کہ رسالت ایک تعلق اور ربط کا نام ہے اگر وہ ربط نہ ہو تو رسالت کا کوئی مفہوم نہیں وہ ربط ایک علمی رابطہ عملی تعلق اور باطنی رابطہ ہے ، جسے ہم نبوت سے تعبیر کرتے ہیں ، اگر نبی یارسول کا کوئی معنوی رابطہ مرسل الیہ کے ساتھ نہ ہو تو اس رسول کی رسالت کے کوئی معنی نہ بنیں گے اور اس رسول کا ہونا مرسل الیہ کے لیے بالکل بے معنی ہوگا ۔

رسول کے معنی یہ ہیں کہ جس کی طرف وہ رسول بن کر آیا ، اُس سے ایک اندرونی نسبت ہے ، جس سے نبی کا فیض پہنچ رہا ہے ، اب اگر وہ قبول کرے تو خوش نصیب ہے اور جو نہ کر۔ رے وہ یا وہ بد بخت ہے، سورج تو سب پر پھیلا ہوا۔ پر پھیلا ہوا ہے ، ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ ہم پر بھی روشن ہے اور ایک نابینا ہے اس پر بھی سوچ کی روشنی ہے لیکن وہ نہ دیکھ سکیگا ۔ اب سورج کی شعاعوں نے تو نا بینا سے رابطہ قائم کر لیا، لیکن اس کی آنکھوں میں نور نہیں، وہ نور کے بغیر ٹور سے کس طرح رابطہ قائم کر سکتا ہے اور وہ سورج کی روشنی سے کسی طرح فائدہ اُٹھا سکتا ہے ؟

اب سمجھ لو کہ رسالت کا آفتاب طلوع ہوا تو اس کا پر تو سیدنا صدیق اکبر sym-5 پر بھی پڑ رہا تھا اور ابو جہل پر بھی پڑ رہا تھا ، ابو جہل چونکہ خود نور سے محروم تھا، اس لیے آفتاب رسالت سے کوئی رابطہ نہ پیدا کر سکا اور کچھ حاصل نہ کر سکا ۔

اب اگر کوئی یہ کہے کہ آفتاب زمین کے لیے ہے مگر آفتاب کی کوئی شعاع زمین کے فلاں حصے پر نہیں پڑتی، تو یہ غلط ہے، کیونکہ آفتاب جب چمکتا ہے ، تو اس کی شعاعیں ہر چیز پر پڑتی ہیں ، یہ علیحدہ بات ہے کہ کسی چیز میں آفتاب کی شعاعوں سے مستفید ہونے کی صلاحیت ہی نہ ہو ۔

اسی طرح حضور نبی کریمﷺ جو کہ آفتاب نبوت ہیں ، آپﷺ کا عالموں کا رسول اور نور ہونا تب صحیح ہو گا ، جب کہ آپ ﷺ کے نور رسالت کی شعاعیں ہر عالم کی ہر چیز پر پڑ رہی ہوں اور آپ یقین جانیے کہ حضور ﷺ کے نور رسالت کا پر تو ہر عالم کے ہر ذرے پر پڑ رہا ہے اور ہر عالم کا ہر ہر ذرہ میرے آقا ﷺ کے کے تحت تحت اسے رسالت ہے ، تو آپ کا تعلق عالم کے ذرہ ذرہ سے ہے ۔ جب میرے آقاﷺتمام جہانوں کے رسول ہیں تو آپ ﷺ کا ہر چیز کے ساتھ علمی اور عملی رابطہ قائم ہے۔رسالت میں ارتباط ہے اور یہی رابطہ قائم ہونا حضور اکرم ﷺکے حاضر و ناظر اور تمام کائنات کے عالم ہونے کا مفہوم ہے ۔ اگر آپ ﷺکا تعلق عالم کے ہر ذرہ سے نہیں اور رابطہ نہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ آپﷺ عالمین کے کیسے رسول ہیں ؟ ارے حضور ﷺ جس کی طرف رسول بن کر کے اچھے علیہ وسلم کی بن کر آئیں وہ تو رسول پہچانے ، عالم کی ہر چیز تو رسول کو پہچان لے۔10 اور حضور ﷺکو پتہ نہ ہو۔ (معاذ اللہ)

ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک گوہ لائی گئی ، آپ نے نے پوچھا میں کون ہوں ؟ اُس نے کہا : . وانت رسول رب العالمین و خاتم النبین11 ہمارے گوہ تو حضور ﷺ کو پہچان گئ اور حضور ﷺکو علم ہوں امت کو تو علم ہوا اور رسول کو علم نہ ہو ۔نعوذ باللہ

پس جب اٹھارہ ہزار عالم کے آپ ﷺرسول ہیں تو اٹھارہ ہزار عالم کا کوئی ذرہ ایسا نہیں جو مصطفی اﷺ کے دامن علم میں نہ ہو ۔

میں اپنے کلام کو سمیٹ کر اس کا خلاصہ بیان کرتا ہوں کہ نبی کی نبوت اور رسالت ایک علمی اور عملی تعلق ہے ، اگر رسول اپنے مرسل الیہ کے ساتھ علمی اور عملی تعلق نہ رکھتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہے کہ وہ رسول نہیں ہیں ، حضور نبی کریمﷺ چونکہ تمام عالموں کے رسول ہیں لہذا کائنات کا کوئی ذرہ نہیں کہ جس کو حضور ﷺکی علمی اور عملی نسبت سے تعلق نہ ہو۔

علمی رابطہ سے مراد یہ ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حضور کریم ﷺ کے دامن اقدس میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کو پہچانتا ہے۔ اور عملی رابطہ و نسبت سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے وجود و بقا میں حضور اکرم ﷺکا متحان ہے ۔

اگر حضور نبی کریم ﷺکے نور مبارک (جو واسطہ تخلیق ہے) سے اس کا رابطہ کٹ جائے تو اس ذرہ کا وجود نیست ہو جائے۔

پس اگر زبان سے تو نبی اور رسول کہے جاؤ لیکن نبی اور رسول کے جو معنی ہیں اُن کو ذہن ہی میں نہ آنے دو اور اس سے بے خبر رہو ، یہ تو بالکل غلط ہے ۔

ایک سوال:

ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ ہم نماز میں کہتے ہیں : ” اهْدِنَا الصراط المستقیم“، اے اللہ ! ہم کو سیدھی راہ دکھا سیدھی راہ دکھانے سے مراد ہدایت کرتا ہے ۔ اور سیدھی راہ دکھانے والا اللہ تعالیٰ ہے تو پھر انبیاء sym-3 کے ہادی ہونے کا کیا مقصد ہے، کیا بنی ہدایت نہیں دے سکتا ؟

اس شبہہ کے متعلق عرض ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہی سیدھی راہ دکھاتا ہے لیکن انبیاء sym-3 کے ذریعے ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”لكل قوم ھاد“12 یعنی ہر قوم کے لیے ہادی ہوتا ہے ، یہاں بادی سے مراد نبی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

انك لتهدى الى صراط مستقيم ! 13
یعنی میرے حبیب بلاشبہ سیدھے راستے کی طرف تو تو ہی ہدایت کرتا ہے ۔

اب آپ کہیں گے کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کا کیا مطلب ، کہ وہ ”انک لا تھدی من احببت ولكن الله يهدى من يشاء“14 یعنی اے حبیب تو جسے چاہے ہدایت نہیں دیتا ، اللہ جسے چاہے ہدایت ہے۔ ارے بھائی یہ بتاؤ کہ کیا اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر بھی کوئی کچھ کر سکتا ہے ؟ یہ تو ہزاروں مرتبہ ہم نے بتایا کہ نبی کوئی کام اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اذن کے بغیر نہیں کرتا، نبی جب کسی کو ہدایت کر دیگا تو اللہ کی مشیت کے تحت ہو کہ کریگا اور اللہ تعالی ہدایت کرے گا تو کسی کی مشیت کے ماتحت ہوئے بغیر ہدایت فرمائے گا۔

پس آیت کا مقصد تو یہ ہے کہ میں کسی کی مشیت کے بغیر کسی کو ہدایت دے سکتا ہوں ، لیکن اے بنی تو میری مشیت کے ساتھ ہدایت کرے گا اور اگر میری حقیقت نہ ہو تو تو ہدایت نہیں کر سکتا ۔

اب اگر کوئی اس کا انکار کرتا ہے تو وہ اُس آیت کا انکار کر رہا ہے جس میں فرمایا: ”انك لتهدى إلى صراط مستقيم“ يعنی تحقیق بلا شبہ میرے حبیب لوگوں کو سیدھے راستے کی ہدایت تو ہی کرتا ہے ، ارے اللہ تعالیٰ تو اتنی تحقیق کے ساتھ فرما رہا ہے اور اللہ کی تحقیق پر جسے یقین اور اعتبار نہ ہو تو اُسے میری بات پر کیا یقین ہوگا۔

لہذا اس آیت کا مطلب صاف اور واضح ہے کہ میرے پیارے حبیب میری ہدایت کسی کی مشیت کے تحت نہیں اور تیری ہدایت میری مشیت کے تحت ہے۔ اب ایک بات اہل علم کے لیے کہے دیتا ہوں کہ ہدایت کا لفظ جب قرآن و حدیث میں استعمال ہو تو اہل سنت کے ننہ دیک اس کے حقیقی اور شرعی معنی خلق الاهتداء ، یعنی ہدایت کو خلق کرنے کے ہیں اور فرقہ معتزلہ کے نزدیک اس کے معنی ہیں ”بیان الطريق الصواب“ ، یعنی ٹھیک راستہ بتا دینا، تو اس لحاظ سے معتزلہ ”لكل قوم ھاد “کا مطلب لیتے ہیں کہ ہر قوم کے لیے سیدھا راستہ بتا نیوا۔

ہم اہل سنت کہتے ہیں کہ یہ معنی بھی ٹھیک ہیں، محکمہ یہی معنی کئے جائیں تو آیت ” انك لا تهدى من حببت ولكن الله يهدى من يشاء“ کے معنی ہوں گے کہ اے نبی تو جس کو محبوب رکھتے اُس کے سامنے صحیح راستہ بیان نہیں کرتا ، ہاں اللہ جس کے لیے چاہے صحیح راستہ بیان کر دے ۔ تو یہ آیت معتزلہ کے اُن معنی ”(لكل قوم ھاد)“ یعنی ہر قوم کے لیے سیدھا راستہ بنانیوالا کو رد کرتی ہے، کیونکہ انبیاء علیہم السلام کا کام تو صحیح راستہ بتانا ہی ہے، جس کی یہ جس کی یہاں نفی ہو رہی ہے تو ثابت ہوا کہ اہل سنت کے معنی درست ہیں۔

”خلق الاهتداء“ اہل سنت کا عقیدہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے بنی تو ہدایت کی صفت خلق نہیں کرتا ، اللہ جس کے لیے چاہے خلق کر دے“ پس معلوم ہوا کہ خلق کرنا حضور نبی کریم ﷺ کی صفت نہیں ، یعنی ہدایت کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور اُس کو چلانا حضور ﷺکا کام ہے ، جو کام حضور ﷺکا نہیں ، اُس کے ذکرنے سے نہ تو حضور ﷺ کے علم میں کمی آئی آئیگی ، نہ اختیارات میں اور نہ مرتبہ میں ، حضور ﷺکا کام تو اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر لوگوں کو چلاتا ہے ۔

اب اگر کوئی اعتراض کرے کہ فلاں شخص کو حضورﷺ نے ہدایت نہ دی ، تو یہ اعتراض اللہ تعالیٰ پر کرے کہ اسے اللہ تو نے ان کو تار است کیوں نہیں دی ۔

ارے بھائی جب اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے لیے ہدایت خلق ہی نہیں فرمائی ، تو حضورﷺپر کیسے اعتراض آئے گا کہ آپ نے ان کو ہدایت نیئے دی۔ حضور ﷺ کا ہر کام اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہے اور اللہ تعا کا کوئی کام کسی کی مشیت کے ماتحت نہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ”وما تشاورون الا ان يشاء الله “15 یعنی اور تم نہیں چاہ سکتے جب تک اللہ نہ چاہے۔

آیت ”انك لا تهدى من احببت“ کے معنی یہ نہیں کہ حضور ﷺ ہدایت نہیں دے سکتے ورنہ آیت ”هو الذي ارسل رسوله بالھدی“16 ، یعنی " وہ وہی ہے بھیجا جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ ، کے کیا معنی ہوں گے ؟

”انك لا تهدى من احببت “ کے معنی یہ ہیں کہ اے میرے حبیب ﷺ ، خالق کائنات میں ہوں ، یہ ، ہر چیز کا پیدا کر نیوالا میں ہوں ، عدم سے وجود میں لانیوالا میں کہا ایجاد میری صفت ہے ، موجد میں ہوں ، اس لئے ”خلق الاهتداء “ یعنی ہدایت کو پیدا کرنا میری شان ہے ، جس کے لیے میں نے اهتداء کو پیدا کر دیا ، اُس کے لیے ابتداء کو جاری کر نیوالا تو ہے ۔ ” انك لا تھدی“ کا معنی یہ نہیں ہیں کہ آپ ہدایت نہیں دے سکتے ، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ”انك لا تخلق الاهتداء “ یعنی بے شک آپ ہدایت خلق نہیں کرتے ”خلق الاهتداء “ حضور علیہ الصلوة و السلام کا کام نہیں ہے ۔

اس میں حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ جن کے لیے میں نے اپنے علم ازلی کے مطابق ہدایت پیدا نہیں کی اُن کو میں ہدایت نہیں دوں گا، کیونکہ میرے علم کے خلاف کوئی ظہور ممکن نہیں، بتائیے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے علم کے خلاف ہو، کیا وہ ہو سکتی ہے ؟ ہر گز نہیں ہو سکتی، تو جن لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو پیدا نہیں فرمایا ، ان میں ہدایت کی استعداد نہ تھی ۔ تو اب بتائیے کہ لوگوں کو ہدایت نہ ملنے کا الزام حضور ﷺپر کیسے آسکتا ہے ۔

( وما علينا الا البلاغ المبين )


  • 1 سورة طہ ، آیت :۳۸
  • 2 البیان ترجمه قرآن از علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی امر و ہوی قدس سره
  • 3 سورۃ مریم ، آیت: ۱۷ تا ۱۹
  • 4 البیان ترجمه قرآن
  • 5 سورۃ النحل، آیت: ۶۸ پاره ۱۴
  • 6 البیان ترجمه قرآن
  • 7 پ11سورہ یونس
  • 8 صحیح بخاری، مطبوعہ مجتبائی دہلی جلد ۲ ص ۹۶۳
  • 9 ( بخاری کتاب التعبير )
  • 10 ( ما من شئ العلم انی رسول الله الا كفرة الجن والانس و طبرانی عن لعلی بن مرہ (صح) جامع صغیر ص: ۱۴۹ )
  • 11 (امام عبد الرحمن ابن جوزی (المتوفى 597ھ) الوفا باحوال المصطفى ، (اردو ) مطبوعہ لاہور،ص: 386 حافظ نعیم احمد بن عبدالله اصبہانی( المتوفی 430ھ) ، دلائل النبوة (عربی) مطوعہ مکہ مکرمہ ،ص:322 علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی شافعی (المتوفى1350ھ ) حجتہ اللہ علی العالمین ( عربی ) مطبوعہ فیصل آباد ص: 465)
  • 12 قرآن کریم ، سورۃ الرعد، آیت
  • 13 قرآن کریم سورۃ شوری آیت :۵۲
  • 14 ( قرآن کریم ، سورة القصص آیت: ۵۶)
  • 15 قرآن کریم ، سورۃ الدہر آیت ۳۰
  • 16 قرآن کریم پاره ۲۶ سورة فتح

Netsol OnlinePowered by