logoختم نبوت

قادیانیوں سے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت۔۔۔از۔۔۔علامہ منظور احمد شاہ ہاشمی رحمۃ اللہ علیہ

۱۹۷۴ء میں تحریک ختم نبوت کے موقعہ پر علماء نے بائیکاٹ کا فتوی دیا ۔ مرزائی اور اُن کے حواری چیخ اٹھے کہ یہ اقدام اسلامی نکتہ نگاہ سے صحیح نہیں ہے، اسی ضرورت کے پیش نظر چند سطور پیش خدمت ہیں کہ پتہ چل جائے کہ یہ اقدام بائیکاٹ اسلام اور شریعت کے اُصولوں کے قطعی منائی نہیں ہے۔

حدود و قصاص قائم کرنا تو حکومت کا کام ہے لیکن اگر معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو اس کی اصلاح کیلئے جرائم پیشہ لوگوں کا بائیکاٹ کرنا ، ان سے الگ تھلگ رہنا، بیاہ شادی غمی کی تقریبات میں انہیں شامل نہ کرتا اصلاح کا پُر امن طریقہ ہے۔ چنانچہ شرح مشکوۃ میں ہے ”وهذه كان داب الصحابة و من بعدهم من المؤمنين فأنهم كانو يقاطعون من حاد الله ورسوله“1 یعنی صحابہ کرام اور بعد والے بزرگوں کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نام کے مخالفوں اور دشمنوں سے بائیکاٹ کرتے رہتے۔

1۔ کفار مشرکین ، بد کردار اور مرتدین ظالم لوگوں سے الگ تھلگ رہنا اور لوگوں کو الگ رہنے کی ترغیب دینا قرآن حکیم کے اس ارشاد کے عین مطابق ہے۔”فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين “2( واضح ہو جانے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھیں ) نیز ہم روزانہ نماز وتر میں پڑھی جانے والی دعائے قنوت کے اس حصہ ”ونخلع ونترك من يفجرك “3میں ظالموں سے بائیکاٹ کا عہد کرتے ہیں اور عہد کی ایفاء کا عملی نمونہ پیش کرنا مومن کا اولین فرض ہے ، اس کا نام بائیکاٹ ہے۔

2 ۔جنگ تبوک کے موقعہ پر حضرت کعب بن مالک sym-5 اور آپ کے دو اور ساتھی محض اجتہادی غلطی کی بناء پر جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے تو حضور انور کی ہم نے واپسی پر اُن کا سماجی بائیکاٹ فرمایا جو اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ زمین اپنی وسعت کے با وجود ان پر تنگ ہو گئی ۔

اس واقعہ کو قرآن حکیم نے سورہ تو بہ میں بیان فرمایا جب وجودان پرتا بعض اوقات اپنوں کا بائیکاٹ جائز و درست ہے تو مرتدین کا کیوں جائز نہیں ، جن کا وجود اسلام کو ہرگز ہرگز پسند نہیں۔ 4

3۔ ترک موالات:

یعنی کفار و مشرکین کو راز دار بنانے ، ان سے دوستی رکھنے کو قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر منع فرمایا ہے، ارشاد ہوتا ہے”لا تجد قوما یؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله“5ایسا نہیں ہو سکتا کہ مومنین خدا اور سول کے دشمنوں سے محبت بڑھائیں، مراسم رکھیں گویا اس میں مشرکین و مرتدین سے بائیکاٹ کا حکم دیا گیا ہے۔

4۔ہمارا کفار و مرتدین سے بائیکاٹ کرنا تو ایک ہلکا سا احتجاج ہے، جس میں صرف اپنوں کو غیروں سے الگ رہنے کی ترغیب ہے، کفار کے آپس میں میل ملاپ پر ہرگز کوئی پابندی نہیں ہے۔ اسلام تو کفار و مرتدین کے پکڑنے محاصرہ کرنے اور مکمل ناکہ بندی کے جواز کا ہی قائل نہیں بلکہ ایسا کرنے کا حکم دیتا ہے۔”وخذوهم واحصروهم واتعدولهم كل مرصد“5 اس میں حکم ہے دشمن کو پکڑو، محاصرہ کرو اور ناکہ بندی کرو اور قرآن حکیم کے ہر حکم پر عمل مومن کا فرض ہے اس سے کیسے انکار ہو سکتا ہے کہ اس وقت اسلام اور ارتداد کی جنگ ہے اور حملہ کرنے میں پہل مرتدین کی طرف سے ہے۔

5۔مسلمانوں نے بنی نضیر کا جب محاصرہ کیا تو قیمتی باغ جو محاصرہ میں رکاوٹ تھے کاٹ دیئے گئے تھے ، دشمنان اسلام نے اعتراض کیا کہ یہ فساد فی الارض ہے تو خدائے قدوس نے فرمایا :”ما قطعتم من ۔۔۔ اور تركتموها قائمة على اصولها فيأذن الله“6 اے صحابہ ! جو کچھ تم نے کیا درختوں کو کا ٹا یا رہنے دیا سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔

اس حکم ربانی سے دو باتیں معلوم ہوئیں پہلی یہ کہ دشمن اسلام کا بائیکاٹ محاصرہ جائز ہے، دوسری یہ کہ جنگی ضروریات کے لئے جو تخریبی کاروائی ناگزیر ہو وہ فساد نہیں بلکہ عین تعمیر ہے۔ اس استدلال کی تائید قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تفسیر مظہریمیں اسی آیہ کے تحت کی ہے۔

6۔حضرت سید عالمﷺنے غزوہ حنین کے بعد طائف میں مالک بن عوف نصری کے بنگلہ کا محاصرہ فرمایا ۔ 7

7۔وطیح و سلالم کے قلعوں کا مسلسل 14 دن محاصرہ رہا۔

8۔ غزوہ خیبر کے موقعہ پر قلعہ قموص کا محاصرہ فرمایا گیا۔

9۔حض قلعہ کا محاصرہ ۳ دن جاری رہا تو ایک یہودی کے مخبری کرنے پر کہ اہل قلعہ کے پاس سامان وافر ہے، اگر پانی کی پائپ لائن توڑ دی جائے تو قلعہ فتح ہو سکتا ہے، چنانچہ رحمت عالم، سراپا شفقت و محبت ، پیکر اخوت و مروت ﷺ کے حکم سے پائپ لائن توڑ دی گئی اور فتح ہوگئی ۔ 8 کوئی بھی شخص جسے اسلام اور ایمان سے ذرا بھی تعلق ہے حضورﷺکے اس اقدام کو غلط قرار نہیں دے سکتا۔

10۔ جو لوگ حضورﷺ کے اخلاق حسنہ کے واقعات کو پیش کر کے بائیکاٹ و محاصرہ کی مخالفت کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے جہاں حضور sym-9 کی ذات کا تعلق ہے۔ وہاں پتھر بھی برداشت ہیں، کوڑا ڈالنے والی یہودیہ کی بیمار پرسی بھی ہے، طائف کو گالیوں کے جواب میں دُعائیں ہیں، کانٹے بچھانے والوں کیلئے خاموشی ہے، برد باری ہے حوصلہ ہے، درگز رہے۔ اہل مکہ کو معافی بھی ہے مگر جہاں اسلامی اصولوں سے ٹکراؤ ہے، دین سے تصادم ہے تو بائیکاٹ بھی ہے، محاصرہ بھی ، علیحدگی بھی ہے۔

مقاطعہ بھی ، محاذ بھی ہے اور تلوار بھی ۔ میدان بدر واحد میں رحمتہ اللعالمینﷺ کا بر جہنہ تلوار لے کر نکلنا اس دعوی کی کافی دلیل ہے، اصول اسلام سے انحراف پر ہاتھ کا ثنا بھی ہے اور سنگساری بھی، جلا وطنی بھی ہے اور ڈرے بھی۔ یہ ”اشداء على الكفار رحماء بينهم“9 کی عملی تفسیر ہے۔

قہاری و جباری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلماں

(اقبال مرحوم )

اس عنوان پر مزید تلاش ہو تو امام اہل سنت اعلیٰ حضرت بریلوی sym-5کی کتاب احکام شریعت حصہ دوم مسئلہ نمبر ۸۲،۸۱،۷۴ ملاحظہ فرمائیں ۔


  • 1 نور الدين ، مرقاة شرح مشكاة ، باب الحوض والشفاعة ، ص 3550/8
  • 2 الانصار ، 6-68
  • 3 عبد الرزاق ، المصنف ، بأب القنوت ، الرقم 4968، ص 110/3
  • 4 المجادلة، 22:58
  • 5 التوبہ ، 118:9
  • 5 التوبہ،05:09
  • 6 الحشر، 05:59
  • 7 سيرة المصطفى، ص: 9 ج: 3
  • 8 زاد المعاد ص 136 ، ج 2
  • 9 الفتح ،48:29

Netsol OnlinePowered by