logoختم نبوت

ختم نبوت احادیث کی روشنی میں۔۔۔از۔۔۔علامہ عبد المصطفی ازہری صاحب رحمۃ اللہ علیہ

نحمده ونصلى على رسوله الكريم خاتم الانبياء والمرسلين واله و صحبه وبارک وسلم

اللہ کے نبی آخر الزماں سید دو عالم جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی ہونے پر امت کا اجماع ہے اور نصوص قرآنیہ اور ا - دیٹ کریمیہ اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ حدیثیں اتنی ہیں کہ ان سب کو ایک جگہ جمع کرنا بہت مشکل ہے میں صرف صحاح کی حدیثیں یہاں بیان کروں گا۔ اور ان حدیثوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو اس عظیم فتنے سے اور اس کے شرور سے بچائے گا یہ حدیثیں مختلف پہلو سے اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جناب سید نا محمدﷺکو آخری نبی بتایا اور بنایا ۔

لفظ ختم نبوت سے چند حدیثیں وارد ہیں :۔

hadith-verse

آپ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اور اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام ذنوب کو معاف کر دیا ہے ۔

یعنی ہم سب انبیاء کے پاس ہو کہ آگئے ہیں، کہیں ہماری شنوائی نہیں ہوئی ۔ اور آپ آخری نبی ہیں اگر یہاں بھی دستگیری نہ ہو تو پھر کہاں ہوگی ۔

(۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ مجھے اور انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئی ہیں ۔

(۱) مجھے جوامع کلم دیئے گئے ۔

(۲) میری مدد رعب سے کی گئی۔

(۳) میرے لئے غنیمت حلال کی گئی ۔

(۳) ساری زمین میرے لئے مسجد بنادی گئی ۔

(۵) ساری مخلوق کی طرف مجھے رسول بنایا گیا ۔

(۳) عرباض بن ساریہ sym-5سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں اللہ کے نزدیک خاتم النبین لکھا ہوا ہوں اور بیشک آدم ابھی اپنی مٹی میں زمین پر پڑے تھے۔3

(۳) جابر sym-5 سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں قائد مر سیلین ہوں اور فخر نہیں میں خاتم النبین ہوں اور فخر نہیں۔ 4

(۵)حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ .

آپ کے دونوں شانوں کے درمیان خاتم نبوت تھی وهو خاتم النبین ، اور خود آپ خاتم النبیین تھے۔5

ختم نبوت کے الفاظ کے ساتھ ایسی حدیشی بھی دارد میں جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے انبیاء کرام کو ایک عمارت سے تشبیہ دی اور خود کو اینٹ سے تشبیہ دی اور عمارت کی تکمیل اپنی ذات سے بتائی ۔

(1) حضرت جابر بن عبد اللہ sym-5سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری مثال در تمام انبیاء کی مثال اس شخص کی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے کامل بنایا اور حسین بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ تو لوگ اس میں داخل ہوتے اور تعجب کرتے اور کہتے کہ .

لولا موضع اللبنة6

مسلم شریف میں اس کے بعد یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔

فا نَا مَوضِعُ اللَّبِنَةِ جِئْتَ فَخَتَمَتُ الانبياء7
میں اینٹ کی جگہ ہوں ، میں آیا اور میں نے انبیاء کو ختم کیا

(۲) حضرت ابو ہریرہ sym-5سے مروی ہے کہ میری اور ان انبیاء کی مثال جو مجھ سے قبل تھے اس شخص کی ہے جس نے گھر بناتے اور اچھے اور خوبصورت اور کامل گھر بنائے مگر ایک لوشے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ آکر اس گھر کا پھیرا لگاتے اور ان کو یہ عمارت بہت پسند آتی اور کہتے کہ یہ اینٹ کیوں نہ رکھی کہ تمہاری بنیاد پوری ہو جاتی محمد ﷺنے فرمایا کہ میں وہی اینٹ ہوں8

بخاری شریف کے الفاظ یہ ہیں ۔ ۔

فانا اللبنة وانا خاتم النبيين
میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں ۔

اور یہی الفاظ مسلم میں بروایت یحییٰ بن ایوب ، قتیبه ، وابن مجر بھی واقع ہوتے ہیں ۔

ختم نبوت کے لئے اور حضور کے آخری نبی ہونے کے لئے لئے اور آپ کے بعد اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے بہت سے صحابہ سے لفظ لا نبی بعدی آیا ہے لا کا لفظ عربی زبان میں جنس کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ یعنی آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی بنی نہیں ۔ نہ علی نہ روزی نہ بالذات نہ بالتبع نہ بالاصل نہ بالفرع ، تعرض نبوت کے انقطاع محض اور بالکل ختم کرنے پر یہ لفظ دلالت کرتا ہے۔ یہ وہ ہی لفظ جو ۔ لا الہ الا اللہ میں ہے اور جس نے الوہیت اور معبودیت کی تمام انواع و اقسام و اضاف کو ختم کر دیا جس طرح الله کے سوا کسی کیلئے کسی قسم کی الوہیت مانا شرک ہے اسی طرح ختمی مرتبت کے بعد کسی کے لئے کسی قسم کی نبوت ماشا کفر و ضلالت اور ارتدا و محض ہے ، اب وہ قدرتیں ملاحظہ فرمائیں.

(1) ابو حازم کہتے ہیں کہ میں ابو ہریرہ sym-5 کے پاس پانچ سال رہا ۔ میں نے آپ سے سنا فرماتے ہیں۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہ بنی اسرائیل کی سیاست کا کام انبیاء کرتے جب کوئی نبی وفات پاتا تھا تو دوسرا بنی اس کا خلیفہ ہوتا ۔انہ لا نبی بعدی اور میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور خلفا ہونگے اور کثرت سے ہونگے ۔ الخ -9

(۲) حضرت سعد بن ابی وقاص sym-5 سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علیsym-5کو مدینہ ہی میں چھوڑ دیا تھا ۔ حضرت علی sym-5نے عرض کی حضور آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ جاتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ :

کیا تم راضی نہیں ہو کہ تم مجھ سے بمنزلہ بارون کے ہو موسیٰ سے مگر یہ کہ لا نبی بعدی۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے) مسلم شریف اور ترمذی شریف کی ایک روایت میں یوں بھی آیا ہے کہ

لا نبوة بعدِي 10
میرے بعد کوئی نبوت نہیں ۔

بخاری شریف میں کیوں آیا ہے ،

لیس نبی بعدی11

(۳) حضرت جابر sym-5 سے مروی ہے کہ حضور ﷺنے حضرت علی sym-5 سے فرمایا کہ تم مجھے سے بمنزلہ ہارون کے ہو موسیٰ سے

إِلَّا أَنَّهُ لا نبى بعدى2

(۳) حضرت انس بن مالک sym-5 سے مروی ہے کہ:

ان الرسالة والنبوة انقَطَعتُ 12
رسالت اور نبوت ختم ہو گئی لہذا اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی ۔

ختم نبوت کے سلسلے میں نبی ﷺنے یہ بھی واضح کر دیا کہ لوگ میرے بعد دعوائے نبوت در سالت کریں گے لیکن وہ سب جھوٹے ہوں گے۔

حضرت ابوہریر sym-5سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔

حدیث نمبر 1:

لا تقوم الساعة حتى يبعث د جالون كذابون قريبا من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله13

حدیث نمبر 2:

حضرت جابر بن سمرہ sym-5 کی حدیث میں تیس کے لفظ کی بھی تید نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔

ان بين بدى الساعة كذابين فاحذروهم14
قیامت کے قبل بہت سے جھوٹے ہوں گے انسے بچنا

حدیث نمبر 3:

حضرت ثوبان کی حدیث میں انھیں کذا بین کے بعد فرمایا ۔

كلهم يزعم الله نبي وانا خاتم النبيين لا نبي بعدی
یہ سب جھوٹ بکیں گے کہ وہ بنی ہیں۔ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی بنی نہیں ہیں۔

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ تیس کی تعداد پوری ہو گئی لہذا ہمارے حضرت اس میں داخل نہیں لیکن اگر یہ تعداد ہمیں معنی پر جو حضور نے مراد لئے تھے پوری ہو گئی تو اب جو بھی دعوائے نبوت کرے اسے جھوٹا نہیں کہا جا سکتا حالانکہ کوئی عامل بھی ایسی بات نہیں کر سکتا ۔ مقصد یہ تھا کہ بڑے بڑے دجال تیس کے قریب ہونگے۔ جن کے فتنوں سے لوگوں پر بہت برا اثر پڑیگا رہا ہر مدعی نبوت اور کذاب کے بارے میں اس حدیث ثلاثوں میں ذکر نہیں ان کا ذکر حدیث مسمرہ میں ہے کہ بہت سے کذاب ہونگے سب سے بچتے۔ رہنا ختم نبوت کے معنی آخری نبی کے ہیں اس معنی کی تصریح خود حدیث شریف میں ہے۔

(۱) حضرت ابو ہریرہ sym-5فرماتے ہیں کہ ایک نماز رسول اللہﷺکی مسجد میں دوسری مسجدوں سے ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے مگر مسجد پر حرام اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے ، دوسری روا ہے ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں آخران بسیار ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے یعنی نداب کوئی نیا نبی آئے نہ اب کوئی نئی مسجد نبوی بنیگی ۔

ختم نبوت کے معنی نبوت کے چلے جانے کے ہیں اس لئے حدیثوں میں اس لفظ کی بھی تصریح ہے۔

(1) حضرت ابو ہریرہ sym-5نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا ہے؟

لم يبق من النبوة الا المبشرات قالوا وما مبشرات قال الرويا الصالحة 15
نہیں باقی نبوت سے مگر بشارتیں تو لوگوں نے کہا بشرات کیا ہیں آپ نے فرمایا اچھے خواب۔
اور اس کے بارے میں دوسری حدیث میں فرمایا گیا ۔}}
انس بن مالك الرويا الجنة من الرجل الصالح جزء من سنة واربعين جزء من النبوة 16

(۲) (ابوهريره ) ورؤيا المومن جزء من ستة واربعين جزء من النبوة وكان من النبوة فانه لا يكذب17

مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حقت کہ اور جو نبوت سے ہے وہ جھوٹ نہیں ہو سکتا ۔

(۳) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پردہ کھولا اور لوگ ابو بکر sym-5 کے پیچھے صف باندھے ہوتے تھے پھر فرمایا

أيها الناس انه لم يبق من مبشرات النبوة الا الرويا الصالحة براها المسلم وترى له 18
لوگو نبوت کی بشارتوں سے صرف پہنے خواب رہ گئے ہیں جسے مسلمان دیکھے یا مسلمان کے لئے دیکھا جائے ۔

حضرت ابن عمر نے رسول اللہﷺ سے روایت کیا ۔

جزء من سبعين جزء من النبوة19 نبوت کا سترواں جزء ہے ۔

(۵) حضرت عبادہ بن صامتsym-5سے مردی ہے کہ :

رويا من المؤمن جزء من ستية واربعين جزاً من النبوة20
مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں جزء ہے ۔

اور ا مام ترمذی نے فرمایا کہ اس باب میں ابو ہریرہ ، ابی اور انس او بر ابو سعید اور عبد اللہ بن عمرو اور عون بن مالک اور ابن عمر سے حدیثیں مروی ہیں ۔

یہ تمام حدیثیں ختم نبوت پر دلالت کرتی ہیں لیکن تعجب ان لوگوں پر ہے جو ان حدیثوں سے ہی نبوت کے جاری ہونے پر استدلال کرتے ہیں کجھتے ہیں کہ چونکہ خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ یا سترواں حصہ ہے اس لئے نبوت جاری ہے۔ اسلئے کہ اس کا ایک حصہ جاری ہے استخر مندی کتنی بے عقل کی بات ہے۔ یہ بالکل اس حق کی بات ہے جو اپنی ماں کے پاس آکر کہنے لگا اماں جان! مجھے ہے اپنی کے پاس راستے میں ایک گھوڑ ا مل گیا، ماں نے کہا بیٹا وہ کیسے بولا اماں جان مجھے راستے میں ایک محل مل گئی تو اب گھوڑا مل گیا ہے صرف تین نحل اور ایک گھوڑے کی شکر ہے جس طرح ایک نعل گھوڑا نہیں اسی طرح ایک جز و ثبوت نہیں نبوت نام ہے ۴۶ اجزاء کے مکمل ہونے کا جس طرح اگر کسی شخص کے پاس صرف دروازہ یا رینٹ یا چند بوریاں سیمنٹ کی یا کچھ لوہا ہو تو وہ مکان والا ہونے کا دعوی نہیں کر سکتا ۔ ایسے ہی پنے خواب تو ہر مسلمان کو نظر آسکتے ہیں تو کیا ہر مسلمان ہے ہے ؟ اور اگر اسکا کوئی دعوی بھی کر دے تو پھر ا سکے اپنے گرد گھنٹال کے علاوہ کروڑوں انبیاء زمین پر چلتے پھرتے نظر آئیں گے (استغفر الله )

بنی ﷺ کے آخری نبی ہونے کیلئے حدیثوں میں دو لفظوں سے بیان کیا گیا ہے ، ایک لفظ عتاب ہے جس کے معنی سب کے پیچھے آنے والا سب سے آخر میں آنے والا اور یہی معنی ختم نبوت کے ہیں۔ حضرت پیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں آخر میں فرايا وانا العاقب21 اور میں سب سے پیچھے آنے والا ہوں ۔

مخالف حضرات اجراء نبوت کے لئے چند ایسی قدریں پیش کرتے ہیں جو نہ تو رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے اور نہ انکی تصحیح ہوتی ہے اور وہ حدیش خود قرآن و حدیث کے خلاف ہیں ۔ اور کوئی حدیث ضعیف یا توں صحابی اگر صحیح بھی ہو اور وہ حضور را قدس ﷺکے خلاف ہو تو ضرور لائق استدلال نہیں ہو سکتا اور خوردہ صحابہ بھی اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں لیتے تھے کہ حضور کے بعد واقعی کوئی نیا بنی آسکتا ہے۔ بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ پرانے نبی کے آنے پر نص کریں اور یہ بتائیں کے وہ لوگ اگر حضور کے زمانے میں تشریف لائیں تو ان کے تشریف لانے سے ختم نبوت کا دروازہ نہیں کھل سکتا ملا حضرت ام المومنین کا یہ کہنا کہ:

قولو خاتم النبيين ولا تقولو الانبي بعده 22

او لا تو یہ روایت صحیح نہیں اور اگر یہ روایت حادیث صحیح کے خلاف ہے اور اس کا مطلب صرف وہ ہے جو اس حدیث کے متصل تفسیر در منثور جلد (۵) ص 204میں ہے۔

قال رجل عند المغيرة بن شعبة صلى الله على محمد خاتم النبيين لانبي بعده فقال الخيرة حبك اذا قلت خاتم الانبياء فانا كنا محدث ان عیسی علیه السلام خارج فان هو قد خرج فقد كان قبله وبعدها :
ایک شخص نے مغیرہ بن شعبہ کے پاس کہا کہ اللہ صلاۃ بھیجے محمد پر جو خاتم النبین ہیں جن کے بعد کوئی نبی نہیں تو مغیرہ نے کہا کہ خاتم الانبیار کہدینا کافی ہے اسلئے کہ ہم بیان کیے جاتے تھے کہ عیسی نکلتے والے ہیں اگر وہ نکلے تو حضور کے قبل اور حضور کے بعد ہوئے۔

مقصد یہ ہے کہ حضرت عیسی کا تشریف لا نا ختم نبوت کے منافی نہیں اس لئے کہ وہ پہلے بھی رسول رہ چکے ہیں ہاں اگر کوئی نیا نبی آتا تو یہ ختم نبوت کے مناتی ہوتا ۔ یہ گویا حضرت مغیرہ کا خیال تھا ۔ اور اگر لفظ خاتم النبین کہدیا جائے تو لانبی بعدہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ خیال خود احادیث صحیحہ کے خلاف ہے جن کو ہم نے پہلے حضور حضوراقد اقدس میلے اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور جو قول بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے خلاف ہے وہ باطل اور غلط ہے، خواہ کہنے والا کوئی ہو اور کسی مرتبطہ اس لئے حضور کے قول کے مقابل ہر قول غلط ہو گا۔ اور پھر بھی ان حضرات کا یہ مطلب نہ تھا کہ آپ کے بعد نبوت جار بار جاری ہے۔ بلکہ سابق انبیاء کے آنے کی اطلاع انہوں نے دی اور بس اس کے آگے جو کچھ مرزائی اضافہ کرتے ہیں اس کا اس حمدیت میں ثبوت نہیں اور اگر بالفرض یہ تفیسر ان کی صحیح بھی ہو تو ان احادیث صحیحہ کے بالکل خلاف ہے جو پہلے گذر چکی ۔ لانبی بعدی - لانبی بعدی پس بعدی نبی دور کیوں چاہیے اس حدیث کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں وخا تم النبیین ختم به النبيين قبلہ 23 اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کو ختم کر دیا ۔ لہذا فلا یکون نبی بعده .

ایک حدیث جو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرادی ہے ۔}}
لمامات ابراهيم ابن النبي صلى الله عليه وسلم صلى الله تعالى عليه وسلم وقال انله مرضعا في الجنة ولو عاش لكان صديقا نبیا24
جب ابر اہیم ابن نبیﷺ کا وصال ہوا تو حضور نے انکی نماز جنازہ پڑھائے اور فرمایا کہ ان کی دودھ پلانے والی جنت میں ہے اور اگر وہ زندہ رہتے تو نبی صدیق ہوتے ۔

اور ان کا زندہ رہنا سکتے محال تھا کہ اگر وہ زندہ رہتے تو کذب باری لازم آتا اور خدائے تعالیٰ کا جھوٹا ہونا محال بالذات ہے اور ایک محال کسی دوسر محال کو مستلزم ہو سکتا ہے ۔ جیسے ۔ لو کان زید حماراً اگر زید گدھا ہوتا تو كان ناهقا. سینکنے والا ہوتا ۔ زید گا کہ معا ہونا محال ہے، لہذا اس کا بینکنے والا ہونا محال ہے اسی طرح قرآن مجید میں فرمایا گیا لو كان للرحمن ولد فانا اول العابد ین اگر خدا کا بیٹا ہوتا تو میں اس کا پوجنے والا ہوتا

اور یہ بات ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹا ہونا محال لہذا اسکی عبادت نبی ﷺکریں یہ بھی نا ممکن اسی لئے دوسری حدیث میں اس بات کو بالکل واضحکر دیا گیا ہے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی فرماتے ہیں ۔

تو قضى ان يكون بعد محمد صلى الله عليه وسلم نبي لما ش ابنه ولكن لانبی بعدہ25
اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہوتا کہ محمد ﷺکے بعد کوئی ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے لیکن آپکے بعد کوئی نیا بنی نہیں ۔

اب آپ ان دونوں حدیثوں ک ملالیں تو پتہ چلے گا کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی آہی نہیں سکتا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ ہی نہیں فرمایا اور جب یہ فیصلہ ہو چکا تو اب کسی نئے بنی کے آنے کا تصور محال ہے یہ عقیدہ ختم نبوت اور انقطاع وہی ایسا ہے کہ حضرت ابو بکر و عمرا صحابہ اور تابعین کسی نے بھی اس معاملہ میں قطعی فیصلہ کیا بلکہ حضرت صدیق اکبر نے ان کذابین سے جنگ کی اور اسلام کا نقطہ نظر واضح فرما دیا ۔ حضرت ام امین نے ابو بکر و عمر کے سامنے جب یہ بیان کیا کہ ۔

ان الوحي قد انقطع من السماء26
}}
وحی آسمان سے آتی منقطع ہو چکی ۔
تو دونوں حضرات نے اسکی تصدیق کی اور اگر یہ فرمایا خود حضرت عمر sym-5 فرماتے ہیں ۔}}
ان الوحي قد انقطع .
اب وحی منقطع ہوگئی ۔

تفسیر طبری میں ہے:

ولكنه رسول الله وخاتم النبيين الذي ختم النبوة قطيع عليها قلا تفتح لا حد بعده الى قيام الساعة 27
لیکن آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین میں آپ نے نبوت ختم کر کے اس پر مہر نگاری لہذا آپ کے بعد قیامت تک کسی کے لئے نبوت کھولی نہیں جائے گی ۔


  • 1 بخاری شریف، 2/685 ، ترمذی شریف ص :351
  • 2 (مسلم ج اول ص199 ، ترمذی شریف ص 243 بابما جاء في الغنيمة )
  • 2 (ترمذی شریف ،ص:535)
  • 3 (مشکوہ شریف ص:513)
  • 4 (دارمی ج - اول ص 31، مطبوعہ مصر ،مشکواۃ ص:514)
  • 5 ( شمائل ،ص:567)
  • 6 (بخاری شریف،ص:501)
  • 7 (مسلم شریف ،1/248)
  • 8 (مسلم شریف 2/248 ، بخاری شریف ،ص:501)
  • 9 (بخاری شریف جلد اول ،ص:491 مسلم شریف جلد دوم،ص:126)
  • 10 (مسلم 2/278 ترمذی شریف534)
  • 11 (بخاری شریف ج - دوم ص 633)
  • 12 ( ترمذی شریف،ص:231)
  • 13 ( بخاری جلد اول ،ص:509،1054: مسلم ،ص:397، ترمذی ،ص:333)
  • 14 (مسلم،ص:120،396،جلد دوم)
  • 15 (بخاری شریف ،2/1035)
  • 16 ( بخاری شریف 1034،1036،مسلم شریف ،2/242)
  • 17 (بخاری شریف ،1039 ،مسلم 2/241،242 ترمذی،ص:330)
  • 18 (مسلم شریف جلد اول ،ص؛191)
  • 19 (مسلم شریف،2/242)
  • 20 (ترمذی شریف ص:331)
  • 21 (بخاری شریف ج اول ،ص؛501،شمائل ترمذی،ص؛597)
  • 22 (در منثور 5/204)
  • 23 ص:250تفسیر ابن عباس بر حاشیه تفسیر در منثور
  • 24 (ابن ماجہ ،ص:108امداد الفتاوی جلد 5 صفحہ 386)
  • 25 (بخاری شریف ،2/914،ابن ماجہ ،ص:108)
  • 26 مسلم ، ج دوم،ص:291
  • 27 طبری ،11/220

Netsol OnlinePowered by