logoختم نبوت

تحفظ عقیدہ ختم نبوت اور تکفیر و تردید قادیانیت میں علماء و مشائخ اہلسنت کا کردار۔۔۔از۔۔۔مولانا محمد کاشف اقبال مدنی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کیلئے اپنے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا یہ سلسلہ حضرت آدم sym-9سے شروع ہوا تو ہمارے آقا و مولی ﷺ پر ختم ہوا۔ نبی کریم ما ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا جو شخص آپ ﷺ کے بعد کسی نئے شخص کو نبی مانے یا نبی پیدا ہونے کا عقیدہ رکھے وہ پوری امت مسلمہ کے اجماع کے مطابق کا فرو مرتد ہے۔

انگریزی دور اقتدار میں مرزا غلام احمد قادیانی جو کہ حقیقتا وہابی غیر مقلد تھا نے اپنی سرکار انگریز کے ایماء پر بے شمار دعوے کئے کبھی مجدد ہونے کا دعوی کیا تو کبھی مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا بالآخر اس نے نبوت کا جھوٹا دعوی کر دیا۔

اولین فتوی کفر :

علماء و مشائخ اہلسنت نے بروقت اس کے کفریہ عقائد کی نقاب کشائی کرتے ہوئے مرزا قادیانی کی تکفیر و تردید کی مرزا قادیانی کے ردو ابطال میں علماء و مشائخ اہلسنت کے مساعی جمیلہ کا دائرہ بڑا وسیع ہے ان علماء و مشائخ اہلسنت کی یہ علمی و عملی سرگرمیاں بصیرت افروز بھی ہیں اور ہمت افزا بھی ۔ یہ علماء و مشائخ اہلسنت ہی تھے جنہوں نے ہر موڑ پر مرزا قادیانی کا بھر پور تعاقب کیا ہے بلکہ سب سے پہلے مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ دینے والے عظیم سنی عالم و مفتی غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمۃ تھے۔ مگر بد قسمتی سے علماء و مشائخ اہلسنت کے اس عظیم کردار اور ان کی خدمات جلیلہ کو طاق نسیاں کے پردوں میں چھپا دیا گیا خود ہمارے اہلسنت اپنے اکابر کے ان تاریخی کارناموں سے نابلد ہیں جبکہ مخالفین اہلسنت یہ سارا کریڈٹ اپنے اکابر کو دینا چاہتے ہیں اور در حقیقت یہی لوگ مرزا قادیانی کے معاون و مددگار تھے قادیانیت نوازی کی گندگی سے اکابر مخالفین کا دامن ضرور آلودہ ہے۔

سب سے پہلے تو اختصار کے ساتھ ہم عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ و تردید و تکفیر قادیانیت میں علماء و مشائخ اہلسنت کا کردار بیان کرینگے پھر مخالفین اہلسنت بریلوی کے اکابر کی قادیانیت نوازی پر دلائل پیش کریں گے۔

مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمۃ :

مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمۃ نے مرزا قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ کی اشاعت سے ہی اپنی مومنانہ فراست سے بھانپ لیا تھا کہ یہ مرزا قادیانی دین اسلام کے خلاف بہت بڑا فتنہ ہے اس لئے اس فتنے کی سرکوبی کیلئے حضرت مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمۃ اول روز سے ہی میدان عمل میں آگئے ۔ رد قادیانیت کا اولین سہرا آپ ہی کے سر ہے۔ آپ نے اپنی تقریر و تحریر میں مرزا قادیانی کی تکفیر و تردید کی بلکہ مرزا قادیانی کی تکفیر پر حرمین شریفین کے علماء اہلسنت سے فتاوی بھی منگوائے جس کا ذکر خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں کیا ہے مولانا قصوری نے مرزا قادیانی کی تکفیر ورد و ابطال میں کتاب تحقیقات دستگا 1883 میں مولانا جس میں علماء ہند بالخصوص علماء لا ہور و امرتسر کی تصدیقات بھی ہیں ۔

مولا نا قصوری نے 1885 میں رجم الشياطين برد اغلوطات البراهين کتاب عربی زبان میں لکھی اور علماء حرمین شریفین سے تصدیقات حاصل کیں اس پر مولانا رحمت اللہ کیرانوی sym-4 کی تصدیق بھی موجود ہے۔ اس کتاب کے ذریعے علماء حرمین شریفین فتنہ قادیانیت سے واقف ہوئے ۔ مولانا قصوری علیہ الرحمۃنے مرزا قادیانی کے رد و ابطال میں تیسری کتاب فتح رحمانی لکھی۔ جنوری 1897 میں مرزا قادیانی سے مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمۃکا مباہلہ مسجد ملا مجید واقع موچی دروازہ لاہور طے ہوا مولانا غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمۃ تو تشریف لائے مگر مرزا قادیانی میدان سے مفرور رہا یہ ساری تفصیل كتاب عقيدة ختم النبوت جلد 1 صفحه 138-137 پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ:

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ نے مرزا قادیانی کی تکفیر و تردید میں کا رہائے نمایاں سر انجام دیئے اور مرزا کے کافر و مرتد ہونے کا فتویٰ دیا ہے جسے برصغیر پاک و ہند میں اس بات میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے آپ نے مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کی تکفیر وتر دید میں تقریبادس معرکۃ الآراء کتب تصنیف فرمائی ہیں ان میں سے چند کے نام یہ ہیں۔

(۱) المقالة المسفرة عن احكام البدعة المكفرة 1884

(۲) السوء العقاب عن المسيح الكذاب 1902

(۳) المستند المعتمد بنانجاة الابد 1902

(٤) قهر الديان على مرتد بقاديان 1905

(٥) جزاء الله عدوه بابا ئہ ختم النبوة

(٦) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين 1904

(۷) رساله باب العقائد والكلام 1897

(۸) المبين ختم النبيين 1908

(۹) الجراز الدياني على المرتد القادياني

اسکے علاوہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ کی کتب فتاوی رضویہ وغیرہ میں قادیانیوں کی تکفیر و تردید میں بے شمار فتاوی موجود ہیں امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ نے اپنی ساری زندگی عظمت مصطفی ﷺ کے گستاخوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا آپ کے خلف اکبر حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ نے مرزا قادیانی کی تکفیر و تردید میں معرکۃ الآراء کتاب الصارم الرباني على اسراف القادياني لکھی۔

مولانا اصغر علی روحی علیہ الرحمۃ :

مرزا قادیانی جعلی نبوت کی تائید میں اپنی کتاب اعجاز احمدی کو بطور تحدی پیش کرتا تھا ۔

معروف سنی عالم مولانا اصغر علی روحی علیہ الرحمۃ نے مرزا قادیانی کی کتاب اعجاز احمدی کی غلط عربی عبارات پر عالمانہ گرفت فرمائی ۔ مرزا کو مجبورا اپنی عربی کی غلطیوں کو ماننا پڑا۔

شاہ سراج الحق چشتی علیہ الرحمۃ :

مرشد برحق حضرت محمد حسین مراد آبادیعلیہ الرحمۃ نے اپنے ممتاز خلیفہ شاہ سراج الحق چشتی علیہ الرحمۃ کو کرنال سے لاکر گورداسپور مامور فرمایا تا کہ مرزا قادیانی کے قریب رہ کر اس کا ناطقہ بند کیا جائے ۔

مولانا نواب الدین رمداسی علیہ الرحمۃ :

شاہ سراج الحق علیہ الرحمۃ کے خلیفہ مولانا نواب الدین رمداسی علیہ الرحمۃ نے اگست 1903 میں مرزا قادیانی کا بازو پکڑ کر اسے لا جواب بھی کیا اور فرمایا کہ اگر اب خدا کسی کو نبی بنا تا تو تیرے جیسے بچو کو نہ بناتا بلکہ میرے جیسے وجیہہ ( با رعب خوبصورت ) کو بنا تا مگر نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور انہوں نے اپنے شیخ طریقت کے عرس کی تاریخیں دسمبر کے مہینے میں مقرر کروائیں اس لئے کہ مرزا قادیانی کا سالانہ جلسہ انگریزوں کی خوشنودی کیلئے کرسمس کے موقع پر دسمبر میں ہوتا تھا اس کا رد عرس میں کیا جائے۔

خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ :

حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ نے بھی مرزا قادیانی کی بھر پور طریقے سے تکفیر و تر دید میں نمایاں کام کیا۔

خواجہ ضیاء الدین سیالوی علیہ الرحمۃ :

حضرت خواجہ ضیاء الدین سیالوی علیہ الرحمۃ نے بھی قادیانیت کے رد و ابطال میں اپنی مساعی جمیلہ سے عامۃ الناس کو فتنہ قادیانیت سے باخبر کیا۔

مولانا غلام قادر بھیروی علیہ الرحمۃ :

واعظ اسلام مولانا غلام قادر بھیروی علیہ الرحمۃ نے اس موقع پر مرزا قادیانی کو اور اس کے مریدین کو بھی کافر و مرتد قرار دیا اور قادیانیوں کے ساتھ مسلمان مرد و عورت کا نکاح حرام قرار دیا اور اپنی مسجد جس میں وہ خطیب تھے کی پیشانی پر پتھر نصب فرمایا جس میں یہ عبارت کندہ تھی با اتفاق انجمن حنفیہ و حکم شرع شریف قرار پایا ہے کہ وہابی رافضی نیچری مرزائی مسجد ھذا میں نہ آئے اور خلاف مذہب حنفی کوئی بات نہ کرے۔

قاضی فضل احمد لدھیانوی علیہ الرحمۃ :

مولانا قاضی فضل احمد لدھیانوی نے مرزا قادیانی کی تکفیر و تردید میں کئی کتب لکھیں جس میں کلمہ فضل ربانی معروف ہے۔

با بو پیر بخش لاہوری علیہ الرحمۃ :

مولانا با بو پیر بخش لاہوری نے مرزا قادیانی کی تکفیر و تر دید میں متعدد کتب لکھیں یہ کتب كتاب عقيدة ختم نبوت جلد 14 تا 16 میں شائع ہو چکی ہیں اور بابو پیر بخش قادیانیت کی تردید میں ایک ماہوار رسالہ تائید اور اسلام بھی شائع کرتے تھے جو ایک عرصہ تک جاری رہا۔

مولانا غلام رسول امرتسری علیہ الرحمۃ :

مولانا غلام رسول امرتسری علیہ الرحمۃ نے رد قادیا نیت میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں ان کی عربی میں کتاب الالهام الصحيح معروف ہے۔

مولانا غلام مصطفی امرتسری علیہ الرحمۃ :

مولانا غلام مصطفی امرتسری علیہ الرحمۃ نے بھی رد قادیانیت میں تقریر وتحریر کے ذریعے اپنی مساعی جمیلہ کو پیش کیا ان کی کتاب آفتاب صداقت مشہور ہے۔

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمۃ :

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمۃ نے مرزا قادیانی کی تردید میں 1900 کے اوائل میں کتاب شمس الهدایہ لکھی علماء اسلام نے خوب دادو تحسین دی مگر قادیانیت میں تہلکہ پڑ گیا۔ حکیم نور الدین بھیروی خلیفہ اول قادیانی نے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمۃ کو ایک خط مبنی بر سوالات روانہ کیا پیر صاحب نے اس کو دندان شکن جواب دیا اور اس کے ساتھ حقیقت معجزہ کے متعلق ایک سوال بھی کیا جس کے جواب سے پوری قادیانیت آج تک عاجز ہے مرزا قادیانی نے 24 جولائی 1900 کو علماء کو تفسیر نویسی کے سلسلہ میں ایک چیلنج پر بنی اشتہار شائع کیا جس میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمۃ کا نام بھی مخاطبین میں شائع کیا۔

25 جولائی 1900 کو پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمۃ نے مرزا کا چیلنج قبول کر لیا اور 25 اگست 1900 لاہور میں مناظرہ طے کیا حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمۃ جب علماء اہلسنت کی معیت میں وقت مقررہ پر مقام مقررہ بادشاہی مسجد میں تشریف لائے مگر مرزا قادیانی نے مفرور ہونے میں عافیت تصور کی متعدد بار تقاضوں کے باوجود مرزا قادیانی نہ خود آیا نہ اس کا کوئی نمائندہ آیا اس وجہ سے قادیانیوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اس کا روائی کا تذکرہ وہابی شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری نے اخباراہلحدیث امرتسر 21 مئی 1937 میں بھی کیا ہے اس موقع پر پیر جماعت علی شاہ صاحب علی پوری، مولانا محمد حسن فیضی و غیر ہم بے شمار علماء اہلسنت موجود تھے اس موقع پر 85 علماء اور 128 ا کا بر ملت کی طرف سے اہلسنت کی فتح اور مرزا قادیانی کے فرار کی کاروائی بصورت اشتہار شائع کروائی گئی حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمۃ نے مرزا قادیانی کی تردید میںسیف چشتیائی بھی لکھی ہے۔

امیر ملت پیر جماعت علی شاہ صاحب علیہ الرحمۃ :

1904 میں مرزا قادیانی سیالکوٹ آیا اور وہاں تبلیغ شروع کی تو امیر ملت پیر جماعت علی شاہ صاحب علیہ الرحمۃ فورا با وجود علالت سیالکوٹ پہنچے اور ایک ماہ وہاں قیام کیا مرزا قادیانی کی تکفیر و تردید میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں ۔ 22 مئی 1908 کو پیر جماعت علی شاہ صاحب علیہ الرحمۃ نے بادشاہی مسجد لاہور میں خطبہ جمعہ میں مرزا قادیانی کو مباہلہ کا چیلنج کیا مرزا لاہور میں موجود تھا مگر مرزا کو سامنے آنے کی جرات نہ ہو سکی۔ پھر 25-26 مئی کی درمیانی شب میں پیر جماعت علی شاہ صاحب علیہ الرحمۃ نے مرزا قادیانی کی موت کی پیش گوئی کر دی تو 26 مئی 1908 دو پہر میں ہی مرزا مر گیا اور واصل جہنم ہو گیا۔

علماء اہلسنت کی مناظرانہ خدمات:

علماء اہلسنت نے متعدد مقامات پر مناظروں میں بھی قادیانیوں کا ردو ابطال کیا اور مناظروں میں قادیانیوں کو ذلت و رسوائی ہی اٹھانا پڑی۔

15-14 جولائی 1908 میں ضلع شاہ پور میں حکیم نور الدین قادیانی کے ساتھ مفتی غلام مرتضی صاحب علیہ الرحمۃ نے مناظرہ کر کے لاجواب کر دیا۔

18- 19 اکتوبر 1944 ہر یا ضلع گجرات میں جلال الدین شمس قادیانی کے ساتھ مفتی غلام مرتضی میانی علیہ الرحمۃ نے مناظرہ کر کے اس کو مبہوت کر دیا۔

حضرت محدث اعظم پاکستان مولا نا محمد سردار احمد صاحب علیہ الرحمۃ نے جگ سکانوں ضلع بدایوں اور دیال گڑھ ضلع گورداسپور میں قادیانیوں سے مناظروں میں ان کو مبہوت اور لا جواب کیا۔

مولانا عبد الرشید جھنگوی علیہ الرحمۃ متعلم مظہر اسلام بریلی شریف نے حیات مسیح کے عنوان پر بریلی شریف کے ایک قادیانی مناظر سے مناظرہ میں اسے خوب ذلیل و رسوا کیا۔

مناظر اعظم مولانا محمد عمر اچھروی علیہ الرحمۃ کنری ضلع شکار پور سندھ میں 1946 میں قادیانیوں سے مناظرہ کیا جس میں ساری قادیانیت کے گرو موجود تھے اس میں بھی اہلسنت کو فتحہوئی اور قادیانیوں کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔ سانگلہ ہل کے قریبی گاؤں گھوئیکی لدھڑ چک نمبر 116 میں بھی قادیانیوں کے ساتھ مناظر اسلام مولانا محمد عمر اچھروی علیہ الرحمۃنے شیر اسلام مولانا مفتی محمد عنائت اللہ سانگلوی علیہ الرحمۃ کی صدارت میں مناظرہ کیا جس میں قادیانیوں کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔

اختصار مانع ہے وگر نہ اس تفصیل کیلئے کئی دفتر درکار ہیں۔

تردید قادیانیت کیلئے راقم کی کتاب قادیانیت کے بطلان کا انکشاف ضخیم کتاب ہے۔

مولانا کرم الدین دبیر علیہ الرحمۃ وغیرہ کئی سنی علماء نے مرزا قادیانی کو انگریزی کورٹوں میں بھی مقدمات کے ذریعے خوب ذلیل و رسوا کیا مرزا قادیانی بصورت مجرم وہاں پیش ہوتا رہا۔ بعض مقدمات علماء اہلسنت پر قادیانیوں نے بھی کئے مگر خدا تعالی نے ان کو وہاں بھی ذلیل و رسوا کیا۔

مولانا محمد حسن فیضی علیہ الرحمۃ نے 13 فروری 1899 کو مسجد حکیم حسام الدین سیالکوٹ میں اپنا بے نقطہ قصیدہ عربیہ مرزا قادیانی کو پڑھنے کے لئے دیا مگر اس کے پڑھنے سے بھی عاجز رہا پھر حضرت فیضی صاحب علیہ الرحمۃ نے مرزا کو مناظرہ کی کئی بار دعوت دی مگر چیلنج قبول کرنے سے عاجز رہا۔

قارئین کرام بے شمار علماء و مشائخ اہلسنت نے مرزا قادیانی کی زندگی میں اور قیام پاکستان سے قبل تک بھی مرزا قادیانی کی تکفیر و تردید میں بے شمار کتب و رسائل شائع کئے ، مناظرے و مباہلے کے چیلنج کئے ان علماء و مشائخ میں سے چند کے نام یہ ہیں

امام احمد رضا خان بریلوی ، مولانا غلام دستگیر قصوری، مولانا غلام قادر بھیروی ، مولانا اصغر علی روحی ، مولانا غلام اللہ قصوری ، مولانا محمد عبداللہ گجراتی ، مولانا سید دیدار علی شاہ ، مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی، مولانا حشمت علی لکھنوی ، مولانا محمد حامد رضا بریلوی، خواجہ غلام فرید چاچڑاں شریف، پیر معظم الدین مروله والا، پیر مہر علی شاہ گولڑوی ، خواجہ ضیاء الدین سیالوی ، قاضی سلطان محمود اعوان شریف، پیر خلیل الرحمن ہانسوی، مولانا عبدالسمیع رامپوری ، مولانا احمد علی بٹالوی ،مولانا فقیر محمد جہلمی ، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مفتی عبداللہ ٹونکی ، شاہ عبدالعلیم میرٹھی، محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد ، شیر اسلام مفتی محمد عنائت اللہ سانگلہ ہل ، مولانا عبدالرحیم واعظ لاہور ، قاضی فضل الدین، مولانا انوار اللہ چشتی ، مولانا حیدر اللہ خان حیدر آبادی ، قاضی غلام گیلانی چشتی، مفتی غلام مرتضی میانی، مفتی عبد الحفیظ حقانی ، مولانا محمد عالم سی امرتسری ، خدائے ملت سید حبیب، پروفیسر محمد الیاس برنی، مولانا مفتی نظام الدین ملتانی ( رضوان اللہ علیہم اجمعین ) وغیر ہم بے شمار علماء و مشائخ اہلسنت نے اس میں حصہ لیا۔

تحریک ختم نبوت 1953

1953 میں تحریک ختم نبوت شروع ہوئی تو اس تحریک کی سربراہی مولانا ابوالحسنات شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کے ہاتھوں میں رہی اور بے شمار علماء و مشائخ اہلسنت نے قادیانیوں کی تکفیر و تردید کی اس تحریک میں حصہ لیا ان میں سے چند کے نام یہ ہیں۔ مولاناسید ابوالحسنات شاہ صاحب، مولانا سید محمد خلیل قادری، مولانا محمد عبدالستار خان نیازی ، مولانا سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب ، مولانا سید ابوالبرکات شاہ صاحب ، مولانا حسن جان، مفتی صاحب داد خان ، مولانا شاہ احمد نورانی ، خواجہ محی الدین گولڑوی، صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب ، مفتی محمد حسین نعیمی، مفتی اعجاز ولی خان ، مولانا غلام مہر علی گولڑوی، مفتی محمد عنائت اللہ سانگلہ ہل ، مولانا عبدالحامد بدایونی ، محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد، مولانا عبدالغفور ہزاروی، مولانا غلام محمد ترنم ، خواجہ قمر الدین سیالوی ، مولانا سید محمود احمد رضوی، پیر غلام محمد سر ہندی ، مولانا محمد بخش مسلم، مولانا سید محمود شاہ گجراتی، مفتی احمد یار خان نعیمی ، مناظر اسلام محمد عمر اچھروی ، مولانا غلام علی اوکاڑوی، مولانا ابوالنور محمد بشیر کوٹلوی، پیر ظہور احمد شاہ جلال پوری ، مولانا غلام جان ہزاروی ، مولانا مہرالدین، مفتی عزیز احمد بدایونی ( رضوان اللہ علیہم اجمعین ) وغیر ہم ۔

تحریک ختم نبوت 1974:

مولاناسید محمود احد رضوی، مولانا غلام علی اوکاڑوی، شیخ الحدیث مولانا غلام رسول رضوی ، مولا نا مفتی عنائت اللہ سانگلہ ہل ، مولانا سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب ، مولانا محمد ضیاء اللہ قادری ، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبد المصطفی از هری، خواجہ قمر الدین سیالوی ، مولانا سید محمد علی رضوی ، مولا نا مفتی ظفر علی نعمانی ، قاضی فضل رسول حیدر رضوی، مولانا محمد اشرف سیالوی، مولانا محمد شریف رضوی بھکر، مولانا محمد عبدالرشید جھنگوی ، مفتی فیض احمد اویسی (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) وغیر ہم بے شمار علماء و مشائخ اہلسنت نے اس تحریک میں زور و شور سے حصہ لیا۔ اسمبلی میں قادیانیوں کی تکفیر و تردید کی قرارداد پیش کرنے کا سہرا مولانا شاہ احمد نورانی کے سر ہے بالآخر قادیانیوں کو متفقہ طور پر قومی اسمبلی میں حکومت کی طرف سے کافر و مرتد ، دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا گیا۔ یہ سب علماء و مشائخ اہلسنت کی کاوشوں کی برکت ہے الغرض مرزا قادیانی کی تکفیر و تردید میں علماء و مشائخ اہلسنت کی کتب و رسائل کا احاطہ ناممکن ہے ہم نے اختصار کے ساتھ علماء و مشائخ اہلسنت کی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور رد قادیا نیت میں علمی و قلمی کاوشوں کو پیش کر دیا ہے۔

یہ واقعہ بھی قابل حفظ ہے کہ 1974 کی تحریک ختم نبوت کے آکری موڑ پر اسمبلی میں جب تمام بحث ہو چکی تو قادیانیوں کے لاہوری گروپ نے مولانا شاہ احمد نورانی کو پیش کش کی کہ آپ ہمارا نام اپنی قرارداد سے نکال دیں تو ہم آپ کو پچاس لاکھ روپے پیش کرتے ہیں مولانا شاہ احمد نورانی نے کہا تمہارا پچاس لاکھ میری جوتی کی نوک پر اس قرارداد میں قادیانیوں دونوں ربوی اور لاہوری کا فر و مرتد ہیں ہی اٹل فیصلہ ہے۔

دیوبندی اکابر کی قادیانیت نوازی

دیو بندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی کے بقول مرزا قادیانی کے کفر سے واقف ہو کر بھی اس کو کافر نہ ماننے والے دیانتا کا فر نہیں اگر چہ شرعا ہیں ۔1

اشرف علی تھانوی کو مرزا کے کفر قطعی کی تحقیق نہیں ۔ 2 یہ فتوی 1325ھ کا ہے۔

رشید احمد گنگوہی دیوبندی نے مرزا قادیانی کو مرد صالح قرار دیا ۔ 3رشید احمد گنگوہی شروع میں مرزا قادیانی کی طرف سے نرم تھے بلکہ مرزا کی طرف سے تاویلیں کرتے تھے۔ 4 رشید احمد گنگوہی مرزا قادیانی کی تکفیر کا قائل نہ تھا۔ 5

دیو بندی مفتی کفایت اللہ کے نزدیک نسلی مرزائی اہل کتاب ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال ہے۔ 6دیو بندی مولوی عبد القادر رائے پوری خود مرزا قادیانی کو مستجاب الدعوات سمجھ کر اس سے دعا ئیں کرواتا تھا۔ 7دیوبندی مولوی عبد القادر رائے پوری نے قادیانی امام کے پیچھے نماز بھی پڑھی۔ 8 دیو بندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی کے خلیفہ عبد الماجد دریا آبادی قادیانیوں کو کافر نہیں مانتا تھا بلکہ تاویلیں کرتا تھا۔9 ابوالکلام آزاد جو کہ وہابی دیو بندی ٹولے کا امام الہند ہے نے قادیانی امام کے پیچھے نماز پڑھی۔ 10

اشرف علی تھانوی کے بقول یہ کہنا کے قادیانیوں کا بھی کوئی دین ہے نہ خدا کو مانیں نہ رسول کو یہ زیادتی ہے۔ 11

دیو بندی عبید اللہ سندھی کے نزدیک حیات مسیح sym-9کا عقیدہ یہودی اور صابی من گھڑت کہانی ہے۔ 13

مرزا قادیانی کو یہ راستہ ہموار کر کے دینے والے تو خود دیوبندی مولوی قاسم نانوتوی نے اپنی کتاب میں نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین مانے کو عوام جاہلوں کا خیال بتلا یا ملخصا اور لکھا کہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی علا بھی کوئی نبی پیدا ہو تو خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ 14

وہابی اکابر کی قادیانیت نوازی:

وہابیہ کے مجتہد مولوی محمد حسین بٹالوی نے اوائل تو مرزا قادیانی کی وکالت میں صفحات کے صفحات سیاہ کیے بلکہ یہاں تک لکھا کہ مرزا کی کتاب براہین احمد یہ جیسی کتاب تو چودہ صدیوں میں نہ لکھی گئی ۔ 15

1890 میں مرزا اور بٹالوی کا روپے کے حساب میں تنازع ہوا ان میں پھوٹ پڑ گئی تو اس نے 1891 میں مرزا قادیانی کی تکفیر کا فتویٰ حاصل کیا اور دیگر علماء سے تصدیقات حاصل کیں پھر 1899 میں گورداسپور کی کورٹ میں لکھ کر دیا کہ میں آج کے بعد مرزا قادیانی کو کافر کا ذب اور دجال نہ لکھوں گا ۔ 16 پھر بٹالوی مذکور نے 1913 میں گوجرانوالہ کی کورٹ میں بیان دیا کہ ہم مرزائیوں کو مطلقاً کافر نہیں سمجھتے (یعنی قادیانیوں کو سب کو کا فرنہیں کہتے ) 17بلکہ مرزا قادیانی نے پیر مہر علی گولڑوی sym-4کو جو مناظرے کا چیلنج قبول کرنے کا اعلان کیا تھا اس میں تین وہابی اکابر کو مرزا نے ثالث مقرر کیا ان میں محمد حسین بٹالوی، عبدالجبار غزنوی شامل ہیں۔ 18 مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد محمد حسین بٹالوی نے اپنے بیٹوں کو قادیان میں قادیانی کالج میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے بھیجا۔ 19

مرزا قادیانی خود بھی وہابی اس کا سر میر ناصر نواب بھی وہابی ، رشتہ محمد حسین بٹالوی نے کرایا اور نکاح شیخ الکل نذیر حسین دہلوی نے پڑھایا ۔ 20 و ہابی شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری نے قادیانیوں کے جلسے مشترکہ میں شرکت کی اور اپنی تقریر کا اختتام مرزا قادیانی کے اشعار پر کیا۔ 21وہابی شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری کے نزدیک قادیانی عورت سے نکاح بھی جائز ہے۔ 22امرتسری مذکور نے انگریزی کورٹ میں قادیانیوں کے مسلمان ہونے کا اقرار کیا۔ 23

وہابی شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری کے نزدیک قادیانی کے پیچھے نماز جائز ہے۔ 24

وہابی اکابر کی قادیانیت نوازی کے بے شمار حوالہ جات محفوظ ہیں ہم نے خوف طوالت کی وجہ سے اسی پر اکتفا کیا ہے۔

شیعہ کا عقیدہ امامت:

تیسرا ٹولہ شیعہ بھی در پردہ عقیدہ ختم نبوت کا منکر ہے اس لئے کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ الله درجہ امامت نبوت کے درجے سے بلند ہے۔ (گویا نبی کریم ﷺ کے بعد شیعہ اپنے آئمہ کو نبوت سے بڑا درجہ دیتے ہیں ) 25


  • 1 (ملخصا افاضات الیومیہ جلد 9 صفحہ 29)
  • 2 (امداد الفتاوی جلد 5 صفحہ 386)
  • 3 (فتاوی قادریه صفحه 3-4) (تاریخ ختم نبوت صفحه 133)
  • 4 (مجالس حکیم الامت صفحه 279)
  • 5 (مکاتیب رشیدیه صفحه 118-9)
  • 6 (کفایت المفتی جلد 1 صفحه 213)
  • 7 (سوانح عبد القادر رائے پوری صفحه 55-56)
  • 8 (سوانح عبد القادر رائے پوری صفحه 62)
  • 9 (حکیم الامت صفحه 259) (صدق جديد لكهنو یکم مارچ 12 اپریل، 12 جولائی 1963) (نقوش رفتگان صفحہ 80)
  • 10 آزاد کی کهانی صفحه 313)
  • 11 (سچی باتیں صفحہ 213)
  • 12 (یاران کهن 42-41 صفحه)
  • 13 (الهام الرحمن صفحہ 240 )
  • 14 (تحذير الناس صفحه 28)
  • 15 (اشاعة السنة جلد 7 صفحہ 169)
  • 16 تریاق قلوب صفحہ297 تا 299) (اشاعة السنة جلد 19 ش 4 صفحه 105-104)
  • 17 ( اشاعة السنة جلد 23 ش 6 صفحه 192)
  • 18 (مجموعہ اشتهارات جلد 1 صفحہ 441)
  • 19 (اخبار اهل حدیث امرتسر 25 فروری 1910)
  • 20 (سیرت المهدى جلد 1 صفحہ 51)
  • 21 (فتاویٰ ثنائيه جلد 1 صفحہ84-86)
  • 22 (اخبار اهل حدیث امر تسر 2 نومبر 1934)
  • 23 (اخبار اهلحديث امرتسر 19 جنوری 30 مارچ 1917)(فیصلہ مکہ صفحہ34)
  • 24 (اخبار اھلحدیث امرتسر 31 مئی 1914 و 4 اپریل 1915)
  • 25 ( حیات القلوب جلد 3 صفحہ10)

Netsol OnlinePowered by