نحمده و نصلی علی رسوله الكريم وعلى آله وصحبه
بسم الله الرحمن الرحيم
انسان جب اپنے نفس سے باہر جھانکتا ہے تو اسے افق کے کناروں سے پرے غیب کا ٹھاٹیں مارتا ہوا ایک قلزم نا پیدا کنار دکھائی دیتا ہے بلکہ وہ اپنے نفس کے اندر بھی جھانکتا ہے تو اُسے آغاز و انجام ایک پہیلی کی طرح نظر آتا ہے جسکی آخری حقیقت اسکی ظاہر بین عقل سے پوشیدہ ہے نہ صرف انسان کا عقل علم، لاعلمی سے شروع ہو کر لا علمی پر ختم ہو جاتا ہے بلکہ انسانی عزائم اور اداروں کی ابتدا اور انتہا بھی بے خبری سے شروع ہو کر بے خبری پر ختم ہو جاتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا! عرفت ربی بفسخ العزائم ۔ انسانی عزائم اور ارادوں کے ٹوٹ جانے سے مجھے پتہ چل گیا ہے کہ اس کا ئنات پر اصل حکمرانی انسان سے بالاتر ایک ہستی اور طاقت کی ہے۔1
پھر بھی جب انسان نے بہت زور لگایا تو اندازہ ہوا کہ انسان کے علم کا آغاز ایسے حالات و کوائف کے تحت ہوتا ہے جن کی تحقیق و تفتیش وہ ایک حد سے آگے نہیں کر سکتا اور انسان کا علم ایک ایسی حد پر جا کر ختم ہو جاتا ہے جس سے آگے کے مسائل فقط انسانی جستجو سے حل نہیں ہو سکتے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ آغاز و انتہاء کی ان دولا علمیوں کے درمیان انسانی علم کی جو مختصر سی زندگی ہے اسکے دوران میں بھی علم کی بقاء انسانی معاشرے کی بقا کی محتاج ہے۔ جب علم سے علم مکرا جاتا ہے جب پیچیدہ معاشرتی مسائل کا حل معلومات سے فراہم نہیں ہوتا تو اس وقت انسان کو کائنات کی فطری ہدایات کی جانب سے رہنمائی کی حاجت ہوتی ہے جسکا پیغام صرف نبی دے سکتے ہیں۔ جہاں علم انسانی کی حد ختم ہو جاتی ہے وہاں سے نبوت کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ منصب نبوت کے حاملین ہر دور میں انسانی پندار کو شکست دیتے رہے مگر انسان بھٹکتا رہا۔ یہاں تک کہ رب کائنات نے ” خاتم النبین “ کی بعثت فرما کر سلسلہ نبوت و ہدایت کی تکمیل کر دی۔
محمد کریم ﷺ کی ذات اقدس میں کائنات کے لیے ایک ایسا اُسوہ کاملہ وجود میں آگیا جسکی کامل رہنمائی سے زندگی کے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لحاظ سے حضور ﷺ کی قائدانہ صلاحیتیں اُس مقام پر ہیں کہ انسانیت اپنی تکمیل کے لیے ہر وقت انہیں ذروہ کمال پر دیکھے گی۔ بلکہ مقام نبوت کی وسعتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انسانی ترقی کیلیے دامن کھلا رکھیں گی۔
هر کجا بینی جهان رنگ و بو
آنکه از خاکش بروید آرزو
یا زیور مصطفی او را بہاست
یا هنوز اندر تلاش مصطفی است
خلق و تقدیر و هدایت ابتدا است
رحمت للعالمینی انتہا است
آج امکانی لحاظ سے خاتم النبیین ﷺ کی امت پر علم کے تمام دروازے اسطرح سے کھلے ہیں کہ شرائع سابقہ میں جن مسائل کا کوئی حل موجود نہیں وہ آج علمائے امت محمدی کے ذریعے حل کئے جاسکتے ہیں۔ اس لیے کہ خاتم النبیین کی تشریف آوری سے دین کی تکمیل ہو چکی ہے اور تمام مسائل ختم نبوت کی گرہ ہیں اسیر ہیں۔
تاج ختم نبوت کی وجہ سے معراج والے نبی نے عقل پر ماورائے عقل کے تمام راستے کھول دیئے لیکن ان راستوں کے کھل جانے کے ساتھ یہ شرط عائد رہی کہ تمام راستے ایک دروازے سے ہو کر گزریں گے۔۔۔ جسکا نام ۔۔۔ توحید ہے ۔۔۔ اگر کسی شخص نے اپنی مختلف معلومات کو ایک۔۔۔ توحید پر مر کز نہ کیا تو اسکی شخصیت کے پرزے ہو کر اُسکے اعمال رائیگاں ہو جائیں گے۔۔۔۔ جہاں علم کے لیے تمام راستے کھول کر ان کو توحید کے دروازے سے گزر یا لازمی قرار پایا۔۔۔۔ وہاں اس دروازے کی کلید۔ اقرار رسالت خاتم انہیں یا قرار پائی۔۔ ختم نبوت کے ساتھ اليوم اکملت لکم کے اعلان نے وحی کی راہ آئندہ کے لیے مسدود کر کے علم اور تحقیق کی ایسی شاہراہیں کھول دیں جن پر چل کر ہر ظاہر اور غیب موجود اور مقصود حاضر اور آخرت کے سنگم کو پل صراط کی طرح عبور کرنا ہر طالب کے لیے طریقہ ممکن ۔۔۔ سلوک کی مانند ممکن ہو گیا۔}}خاتم النبیین ﷺ کی صفت ختم نبوت روز روشن کی طرح واضح کر رہی ہے کہ نبوت کا وہ مضمون جو نور محمدی کی تخلیق سے شروع ہوا اور مختلف عنوانات سے آگے بڑھتا رہا وہ ذات محمدی پر آکر ختم ہو گیا اور اب نبوت پر مہر لگ گئی۔۔۔ مہر لگائے جانے کے بعد مضمون نبوت ختم ہو گیا ۔۔۔ اعلان بھی ہو گیا ۔۔ تمثیل سے بھی سمجھا دیا ۔۔۔ اور شانہ اقدس پر مہر نبوت بھی لگا دی گئی۔ حضرت علی
فرماتے ہیں!
آپ کے دونوں شانوں کے درمیان خاتم نبوت تھی وھو خاتم النبین اور خود آپ خاتم النبیین تھے۔2
قرآن کریم میں اللہ رب العزت جل جلالہ سید الانبیاء ﷺ کی تعریف میں ارشاد فرماتا ہے!
ولكن رسول الله و خاتم النبین3 آپ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں میں آخری ہیں۔
اس آیت کریمہ میں رسول اکرم ﷺ کو وہ اعزاز عطا فرمایا گیا جوکسی نبی اور رسول کو نہیں ملا تھا۔ اور یہ اعزاز ختم نبوت ہے۔ اس اعزاز ختم نبوت میں فلسفہ یہ ہے کہ رسول اکرم کے ہر کمال کو اس وصف ختم نبوت کے پس منظر میں دیکھا جائے تو آپ کا ہر وصف اپنے کمال پر نظر آئے گا اور اگر معاذ اللہ اس وصف کو الگ کر دیا جائے تو آپ کے اوصاف کی کمالی حیثیت ختم ہو کرہ جائے گی۔ اور یہ نظر فائر دیکھا جائے تو آپ کے اسم ذاتی محمد سے بھی یہ نکتہ حل ہو جاتا ہے۔۔۔ یہ بات نہایت واضحہے کہ اس کا ئنات میں سے سب سے پہلے محمد نام آپ کا ہی رکھا گیا۔۔۔ آپ سے پہلے کسی کا نام محمد نہ تھا۔۔۔ اور آیت مذکورہ کا آغاز بھی ما كان محمد سے ہوا ہے۔۔۔ ذرا نام پاک محمد کے معنی پر غور کر لیجئے ۔۔۔ نام مبارک محمد کا عام اور سادہ ترجمہ ہی کیا جاتا ہے کہ وہ ذات جسکی تعریف کی گئی۔۔۔ ترجمہ کی صحت میں کوئی شبہ نہیں۔۔۔ لیکن اس جامعیت کبری۔۔۔ برزخ کامل کے فضائل و کمالات اس سے کہیں بلند و بالا ہیں۔۔۔۔ خدا کے تمام نبی اسکے نزدیک موجب توصیف ہیں۔۔۔ دنیا کے حکماء۔۔۔ علماء۔۔۔ اور فاتحین۔۔۔ عام انسانوں کی نظر میں لائق مدح و ستائش ہیں اسلیے اس ترجمے کی صحت کو پورے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اور زیادہ وسعت دی جائے۔۔۔ صاحب المفردات راغب اصفہانی محمد“ کے معنی لکھتے ہیں:
الذي اجمعت فيه الخصال المحمودة4جس ذات میں تمام خصائل محمودہ جمع ہوں۔
یعنی مختصر لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسم محمد کے معنی مجموعہ خوبی کے ہیں لہذا اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ نام مبارک محمد حضور کے نہ صرف نبی بلکہ خاتم النمین ہونے کی دلیل بھی ہے۔۔۔ اسلیے کہ مجموعہ خوبی اور مخلوق کامل کے آگے کوئی نقطہ ہی نہیں ہے۔۔۔۔ اسی حالت پر کمال کلی کی انتہاء اور معارف کا انتقام ہے۔۔۔ مستشرقین یورپ میں سے جن لوگوں نے رسول عربی ﷺ کی حیات و سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا ہے۔۔ تنقیص کی ہزار کوششوں کے باوجود اعتراف کمال پر مجبور ہوئے ۔۔۔ اس لفظ خاتم کو دو طرح پڑھا گیا ہے ( تاء کے زبر کے ساتھ خاتم اور تاء کے زیر کے ساتھ خاتم ) 5لیکن دونوں کے معنی ایک ہیں۔6 یعنی آخری نبی۔۔۔ تو اس ایک آیت مبارکہ سے ہی خوب واضح ہے کہ حضور آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد نبوت کا باب بند ہو چکا ہے۔ اب کوئی نہی کسی طرح کا پیدا نہ ہوگا۔۔۔ اس آیت کی تائید میں علماء نے کم از کم سولہ آیات قرآنیہ جمع فرمائی ہیں۔ جن کی تفصیل کی اس مختصر مضمون میں گنجائش نہیں ہے۔۔۔ تاہم ایک اس مفہوم کی آیت ملاحظہ فرمائیں:
اليوم اكملت لم دينكم واتممت علیکم نعمتی7 آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو مکمل کر دیا۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے دو چیزوں کے مکمل فرما دینے کا اعلان فرمایا ہے۔ پہلی چیز ”دین“ ہے دوسری چیز نعمت ہے۔۔ نعمت سے مراد ذات رسول اکرم ﷺ ہے، یا نبوت ہے، یادگی ہے8
گویا اب اسلام کے بعد کوئی نیادین الہی قیامت تک نہ ہوگا اور حضور کے بعد کوئی شخص نبی نہیں بنایا جائیگا۔۔۔ نبوت بھی ایک نعمت ہے۔۔۔ اور یہ نعمت بنی اسرائیل پر باقساط نازل ہوتی رہی مگر ہم پر اللہ تعالی نے اس نعمت کو بھی مکمل فرما دیا اور اپنی نعمت کاملہ محمد رسول اللہ ﷺ کی صورت میں ہم کو عطا فرما دیا۔۔۔ اب اگر اسکے بعد بھی ہم اپنی طرف سے نبی بنانے لگے تو یہ قبر خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔۔۔ گویا ہم نعمت خداوندی سے محرومی کا شکار نہیں بلکہ نعمت کاملہ سے مستفید ہونے کے باعث مسرور و شاداں ہیں ۔ قل بفضل الله و برحمته فبذلك فليفرحوا9 اللہ کے فضل اور اسکی رحمت ملنے پر خوشیاں مناؤ۔
قرآن کریم کی اس نص قطعی کے علاوہ دیگر بہت سی آیات میں جن کا خلاصہ یہی ہے۔۔۔ کہ حضور اکرم ہے چونکہ ساری مخلوق کے رسول ہیں اور سب کو کافی ہیں اور تمام اوصاف کے جامع ہیں اسلیے یہ وصف ختم نبوت بھی آپ کو ہی عطا فر مایا گیا۔ پوری اُمت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے۔
احادیث مبارکہ سے بھی فلسفہ ختم نبوت خوب واضح ہوتا ہے اور اس عنوان پر بے شمار احادیث موجود ہیں۔۔۔ جن کو ایک تحریر میں جمع کرنا نہایت مشکل ہے اگر ہم حدیث کی چھ صحیح مشہور کتب سے ہی حدیثیں بیان کریں تو ایک رجسٹر تیار ہو جائے ۔ حدیث شفاعت میں ایک حدیث بخاری وتر مذی میں حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کل بروز حشر جب تمام لوگ انبیائے کرام کے پاس سے ٹھوکریں کھاتے پریشان حال آپ کے پاس آئیں گے تو کہیں گے : انت رسول الله و خاتم الانبیاء 10ملے آپ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں۔ یعنی ہم سب انبیاء کے پاس ہو کر آگئے ہیں کہیں ہماری نہ سنی گئی اور آپ آخری نبی ہیں۔۔۔ اگر یہاں بھی دستگیری نہ ہو تو پھر کہاں ہوگی ؟۔ گویا اہل محشر کا یہ عقیدہ ہے کہ ختم نبوت کے عظیم الشان منصب کی وجہ سے حضور شفاعت فرمانے کے زیادہ مستحق ولائق ہیں۔
خود حضور ﷺ نے مرتبہ ختم نبوت کو وجہ فضیلت قرار دیا چنانچہ مسلم اور ترمذی کی روایت ہے آپ نے فرمایا! مجھے اور انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئیں اس میں فرمایا ختم بھی النبیون 11 اے۔۔۔ مجھ سے انبیاء کو ختم کیا گیا۔
عرباض بن ساریہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا !
میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا ہوں 12 اور بے شک آدم ابھی اپنی مٹی میں تھے۔ حضرت جابر کی روایت ہے: میں قائد مرسلین ہوں اور فخر نہیں، میں خاتم النمین ہوں اور فخر نہیں۔ 13
حضور اکرم ﷺ کے جسم مقدس پر مہر نبوت کا نبوی نشان موجود تھا اور یہ وصف کسی نبی میں موجود نہ تھا۔ حضرت علی کی روایت ابھی پیچھے گزری۔ 14
ختم نبوت کے الفاظ کے ساتھ ایسی حدیثیں بھی وارد ہیں جن میں اللہ کے رسول ﷺ نے انبیائے کرام کو ایک عمارت سے تشبیہ دی اور خود کو ایک اینٹ سے تشبیہ دی اور عمارت نبوت کی تکمیل اپنی ذات سے بتائی مسلم شریف میں پوری تشبیہ کے بعد یوں فرمایا! فانا موضع اللبنت، جئت فختمت الانبیاء ۔ اس کامل اور حسین عمارت میں جس اینٹ کی جگہ خالی تھی میں اس اینٹ کی جگہ ہوں اور میں نے انبیاء کو ختم کیا۔ 15
اس معنی اور مفہوم کے لیے بہت سے صحابہ کرام کے لفظ لا نبی بعدی16 (میرے بعد کوئی نبی نہیں آیا ہے اس میں لفظ لا وہی ہے جو کلمہ لا الہ الا اللہ میں ہے۔ یعنی جس طرح اللہ کے سوا کسی کیلیے کسی قسم کی الوہیت ماننا شرک ہے اسی طرحختمی مرتبت کے بعد کسی کیلئے کسی قسم کی نبوت ماننا کفر ، ضلالت اور ارتداد محض ہے لا نبی بعدی کے معنی یہی ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے۔17
ایک روایت یوں ہے کہ لا نبوۃ بعدی18 (میرے بعد کوئی نبوت نہیں ختم نبوت کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ نے یہ بھی واضح فرمادیا کہ لوگ میرے بعد دھوٹی نبوت ورسالت کریں گے لیکن وہ سب جھوٹے ہوں گے۔ فاحذروهم ان سے بچتا۔19
اسی مفہوم کے لیے حدیث میں ایک لفظ ”عاقب بھی آیا ہے۔ جسکے معنی ہیں سب سے آخر میں آنے والا آپ نے فرمایا وانا العاقب 20 اور میں سب سے پیچھے آنے والا ہوں۔
ختم نبوت کے معنی ، نبوت کے چلے جانے کے بھی ہیں۔ احادیث میں اس لفظ کی بھی تصریح ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنالم يبق من النبوة الا المبشرات قالوا وما المبشرات ؟ قال الروياء الصالحة21
نہیں باقی نبوت سے مگر بشار تھیں لوگوں نے عرض کی مبشرات کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا ! اچھے خواب ۔
حضرت ابن عباس کی روایت یوں ہے! لوگو نبوت کی بشارتوں سے صرف بچے خواب رہ گئے ہیں جسے مسلمان دیکھے یا مسلمان کیلئے دیکھا جائے۔ 22
ایک روایت میں یوں ہے!
روياء من المو من جزاء من ستة واربعين جزاء من النبوة1
مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ان کے علاوہ وہ تمام آیات جن میں حضور اکرم ﷺ کی رسالت کا عام ہونا اور قیامت تک نافذ رہنا معلوم ہوتا ہے، بڑی صراحت سے حضور ﷺ کے خاتم انہین ہونے پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ آپ کی رسالت کا عام ہونا اور اسکا قیامت اور بعد قیامت بھی شفیع محشر بن کر جاری رہنا آپ کی ایک خصوصیت ہے۔
کہ ان کی شان محبوبی دکھائی جانے والی ہے
فقط اتنا سبب ہے انعقاد بزم محشر کا
خوب واضح کیا ہے اور عقیدہ خاتمیت کے صدقے اُمت کو مقام خویش سے کیسا آگاہ کیا ہے۔ اقبال نے آخری نبی ہونے کی خصوصیت کو آخری اُمت کے ساتھ اسطرح پیوست کیا ہے:
پس خدا بر ما شریعت ختم کرد
ر رسول ما رسالت مختم کرد
خدا نے ہم پر شریعت ختم کی
اور ہمارے رسول پر رسالت ختم کی
رونق از ما محفل امام را
او رسل را ختم کرو ما اقوام را
ہمارے دم قدم سے جہان میں رونق ہے
آپ نے رسولوں کو ختم کیا اور ہم نے قوموں کو
خدمت ساقی گری با ما گزاشت
داد مارا آخریں جائے کہ داشت
اور جو آخری جام تھا وہ ہمیں دیدیا
ساقی گری کی خدمت اس نے ہمارے سپرد کی
لا نبي بعدی از احسان خداست
پرده ناموس دین مصطفی استاور اس سے دین مصطفے کی عزت کا بھرم قائم ہے۔ ع}}میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا (حدیث) خدا کے احسانات میں سے ایک ہے}}
آبروئے ماز نام مصطفی است
قوم را سرمایه قوت از و
اس سے قوم کو قوت کی دولت ملی
حفظ سر وحدت ملت از و
اور ملت کی وحدت اور یگانگت کا راز بھی بھی ہے
حکیم الامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے ان اشعار میں جو سکتے بیان کیے ہیں وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔ ہمارے نبی آخر الزماں کا خاتم النهمین ہونا خود ہمارے لیے باعث فخر و فرحت ہے۔
حضرت خواجہ بختیار کا کی علیہ الرحمہ بھی ختم نبوت کے فلسفہ کو اسطرح بیان کرتے ہیں۔
گرچہ بصورت آمدی بعد از ہمہ پیغمبراں اما بمعنی بوده سر خیل جملہ انبیاء ڈاکٹر اقبال اس مفہوم کو دوسری جگہ یوں بیان کرتے ہیں:
وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاه عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یہیں وہی طلا
اقبال کہتے ہیں کہ وہ محمد مصطفے و جو هو الاول والآخر 24کا ظہور اور جلوہ ہمیں ان کی اولیت تو تخلیق نور محمدی سے خوب ظاہر ہے۔ جبکہ ختم نبوت ان کے آخر ہونے کا مظہر ہے۔
سکندر لکھنوی مرحوم فلسفہ ختم نبوت پر یوں گویا ہیں۔
وہی ہیں افضل واشرف وہی ہیں ختم رسل
شرف ان ہی کو ملا منصب امامت کا
ہر اک کمال ہوا ختم ذات والا پر
رسول بن کے بڑھایا شرف رسالت کا
ان ہی کے قلب پر نازل ہوا قرآن مبین
ہوا انھیں پہ مکمل یہ دین فطرت کا
ہوئی ہے ختم نبوت حبیب خالق پر
چلے گا کام ولایت سے اب رسالت کا
کیا ہے خاتم پیغمبراں اُنہیں رب نے
انہی پر ختم ہوا سلسلہ رسالت کا
دہ شخص کا ذب و مرتد ہے از روئے قرآں
اب ان کے بعد جو دھوٹی کرے نبوت کا
ختم نبوت کا ایک فلسفہ یہ ہے کہ چونکہ اب باب نبوت بند فرما دیا گیا اور کوئی نبی نہیں آئیں گے تو اب ولایت کا دروازہ کھول دیا گیا اگر باب نبوت بند نہ ہوتا توضح باب ولایت کیونکر ہوتا ؟ ۔ ضرورت رحمت خداوندی تھی اور تقاضائے رحمت للعالمینی تھا کہ عام امتیوں میں سے بعض کو خصوصیات سے نوازا جاتا تو باب کرم اسطرح کھلا کہ ولایت کا دروازہ کھول دیا گیا اور تقسیم ولایت شروع کر دی گئی تمام اصحاب نہیں رضوان اللہ علیم مقام ولایت سے سرفراز فرمائے گئے اور تقسیم ولایت کا کام حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے سپرد فرما کر مولائے کائنات شیر خدا کو بادشاہ ولایت بنا دیا گیا اور پھر اس دروازے سے ایسے ایسے پھول مہکے جن سے آج بھی گلشن کا ئنات مہک رہا ہے اور اس چمنستان کرم کے پھول ہر گوشہ کو مہکار ہے ہیں۔
کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی
زھرا ہوں کلی جس میں حسین اور حسن پھول 25
قرآن وحدیث کے علاوہ ختم نبوت کا عقیدہ نبی مکر احمد مجتبی محمد مصطقے لے کے لیے قدیم ۔۔۔ ہندو۔۔۔ وید۔۔۔ پران اور سنتوں کی بانیوں میں بھی ملتا ہے چنانچہ اٹھارہ پرانوں میں سے ایک پر ان ہے جس میں وید و یاس جی نے اس گفتگو کو جو کاک بھٹنڈ جی نے گڑرچی سے یہ زبان سنسکرت کی تھی نقل کیا ہے اور تلسی داس جی نے ہندی میں اسکا ترجمہ کیا ہے۔ اسکے بارھویں اسکند چھٹے کائڈ میں ہے کہ !تشریح جسکی قدرت سے عجائب و غرائب کا ظہور ہوگا اور وہی اللہ کے ولی قائم ہو جائیں گے اشارہ اسطرف ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے اور سب کے لیے ہوں گے یعنی خاتم النمین رحمۃ اللعالمین ہوں گے۔ بھوشن اتران میں یوں ہے! مگل جگ میں سرب اما پیدا ہوں گے اس میں یہ ہے کہ محمد (ﷺ) نام ہو گا۔ اخیر زمانے میں تشریف لائیں گے۔ خاتم النبیین ہوں گے۔ یہ حساب ابجد انما اور محمد کے اعداد ۹۲ ہیں۔
کلکی پر ان نامی کتاب میں یوں ہے صفحہ ۱۲ پر کہ اکلکی اوتار کے تین بھائی ہوں گے۔1۔ کوئی ہ2۔ سمت 3۔ پراک۔
کوئی بمعنی بہت بڑی عقل والے یعنی عقیل اور سمت بمعنی بہت بڑے علم والے یعنی جعفر اور پر اک ہمعنی بہت بڑے مرتبے والے یعنی علی ۔ مطلب یہ ہوا کہ نبی آخر الزماں خاتم النعمین اے کے تین بھائی بنام عقیل، و جعفر طیار علی مرتضی ہوں گے۔ 26 غرضیکہ ختم نبوت کی برکات وثمرات بے شمار ہیں جن میں سے چنداد پر مذکور ہوئیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔