بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وعلى وآله واصحابه اجمعين
اما بعد !... اللہ تعالیٰ جل نے اپنی مخلوق کی راہنمائی کے لئے انبیاء و مرسلین کو مبعوث فرمایا اور ان پر وحی نازل فرمائی تا کہ وہ پیغام الہی پر عمل پیرا ہو کر اپنی اپنی اُمت کے سامنے لائق تقلید نمونہ پیش کر سکیں۔ نبوت و رسالت کا یہ سلسلہ حضرت آدم
سے شروع ہوا اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ علیہ التحیۃ والثناء پر اختتام پذیر ہوا۔ خلاق کا ئنات نے اپنے محبوب ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر عالم کے لیے رحمت ہیں۔ اس کے علاوہ رب کریم نے حضور سید انام ﷺ پر دین مبین کی تکمیل فرمادی اور وحی جیسی نعمت کو تمام کر دیا اور اسلام جیسے دین کو(Dynamic) اور متحرک(Eternal) ابدی ،(Universal )عالمگیر رہتی دنیا تک کے لئے اپنا پسندیدہ دین قرار دے دیا۔ قرآن مجید میں حضور اکرم نور مجسم نبی معظم ، رسول مکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے کا اعلان اس آیت مبارکہ میں کیا گیا:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ، وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا 1
محمد (ﷺ یہی تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے ، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ (کنز الایمان )
یہ نص قطعی ہے ختم نبوت کے اس اعلان خداوندی کے بعد کسی شخص کا اپنے آپ کو ظلی، یا بزوری نبی صریح کفر ہے۔ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں مہبط وحی ﷺکے بہت سے ارشادات کتب احادیث میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ یہاں ایسی احادیث پر بنی اربعین ( چالیس احادیث ) پیش کی جارہی ہے تا کہ منکرین ختم نبوت پر حق واضح ہو سکے اور یہ عمل اس فقیر اویسی غفرلہ کے لئے نجات اخروی کا باعث ہو، کیونکہ محدثین کرام نے اربعین کی فضیلت میں روایات نقل فرمائی ہیں۔
حافظ ابی نعیم احمد بن عبد الله اصفہانی المتوفی ۴۳۰ ھ نے حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء میں حضرت عبداللہ بن مسعود
سے مروی یہ روایت درج کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من حفظ على أمتي أربعين حديثا ينفعهم الله عز وجل بها، قيل له أدخل من أي أبواب الجنة شئت2
جس شخص نے میری اُمت کو ایسی چالیس احادیث پہنچا ئیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نفع دیا تو اُس سے کہا جائے گا جس دروازے سے چا ہو جنت میں داخل ہو چاہو جاؤ۔
(۱) حضرت ابو ہریرہ
سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَه وَاجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسَ يَطُوفُونَ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ، هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ؟ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ3
میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا، اس کو بہت عمدہ اور خوبصورت بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ، پس لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں یہ اینٹ کیوں نہیں لگادی گئی۔ آپ نے فرمایا: وہ اینٹ میں ہوں اور میں انبیاء کرام کا خاتم ہوں۔ اس مفہوم کی ایک اور حدیث مبارکہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی روایت کی ہے۔
(ف) اس کی شرح فقیر نے اپنی تصنیف لا نبی بعدی عرض کر دی ہے مطالعہ کریں)
(۲) حضرت ابو ہریرہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ يبدأ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِيْنَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ. الْجَنَّةَ، يبدأ4
ہم سب آخر والے روز قیامت سب سے مقدم ہوں گے اور ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ حالانکہ ( پہلے والوں) کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان سب کے بعد ۔(۳) حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ میں پانچ سال تک حضرت ابو ہریرہ
کے ساتھ رہا۔ میں نے خود سنا کہ وہ یہ حدیث بیان فرماتے تھے کہ نبی مکرم رحمت عالم ﷺکا ارشاد گرامی ہے :}}كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِى، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءِ فَيَكْثُرُونَ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ: فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ5
بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کرام کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا، اُن کے متعلق آپ کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہر ایک کے بعد دوسرے کی بیعت پوری کرو اور ان کے حق اطاعت کو پورا کرو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی رعیت کے متعلق اُن سے سوال کرے گا۔(۴) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی کو لا کر اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:}}
بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ6
میں اور قیامت اس طرح ملے ہوئے بھیجے گئے ہیں جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔
(۵) امام مسلم نے تین اسناد سے یہ حدیث بیان کی ہے:
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمُ، وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ : قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِي وَمَا الْعَاقِبُ؟ قَالَ: الَّذِي لَيْسَ بَعْدَه نَبِيٌّ 7
میں نے رسول اللہ ﷺ سے سناء عقیل کی روایت میں ہے زہری نے بیان کیا عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔}}
(۶) حضرت جبیر بن مطعم
سے روایت ہے کہ رسول معظم، نبی مکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
إِنَّ لِي أَسْمَاءُ، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي يَمْعُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْعَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَى، وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَه أَحَدٌ 8
بے شک میرے کئی اسماء ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں اور ماحی ہوں یعنی اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں لوگوں کا حشر میرے قدموں میں ہوگا، اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ شخص ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔
(۷) حضرت محمد بن جبیر اپنے والد گرامی حضرت جبیر بن مطعم
سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
لِي خَمْسَةٌ أَسْمَاءِ أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُوا الله بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ9
میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد ہوں، اور میں احمد ہوں اور ماحی ہوں یعنی اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا۔ میں حاشر ہوں یعنی لوگ میرے بعد حشر کئے جائیں گے اور میں عاقب ہوں ۔ یعنی میرے بعد دنیا میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آئے گا۔
(۸) امام مسلم نے ثقہ راویوں کے توسط سے حضرت ابو موسیٰ الاشعری
سے یہ روایت نقل کی ہے :
كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُسَمِّى لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءَ، فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْمُقَنِّى، وَالْحَاشِرُ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ10
رسول اللہﷺنے ہمارے لئے اپنے کئی نام بیان کئے ، آپ نے فرمایا: میں محمد . ہوں اور احمد ہوں اور مقفی اور حاشر ہوں اور نبی التوبہ اور نبی الرحمہ ہوں۔
(۹) حضرت جبیر بن مطعم
سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا:
أَنَا مُحَمَّدٌ، وَاحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَقِبِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَه نَبِيٌّ 11
میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں میری وجہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو عاقب مٹادے گا، میں حاشر ہوں لوگوں کا میرے قدموں میں حشر کیا جائے گا، اور میں عاقد ہوں، اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔
(۱۰) حضرت ابوہریرہ
بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:
كَيْفَ أَنتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامَكُمْ مِنْكُمْ 12
اس وقت تمہاری کیا شان ہو گی جب حضرت عیسیکا نزول ہو گا اور امام تم میں سے کوئی شخص ہوگا۔
(11) حضرت ابو ہریرہ
سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
لَا تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتِلَ فِئَتَانِ فَيَكُونَ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ، وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزِعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ 13
قیامت اُس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو گروہ آپس میں نہ لڑیں، دونوں میں بڑی جنگ ہوگی اور دونوں کا دعوئی ایک ہوگا اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تھیں کے قریب جھوٹے دجال ظاہر نہ ہوئیں۔ ہر ایک یہ کہے گا میں اللہ کا رسول ہوں۔
(۱۲) حضرت ابو ہریرہ
سے روایت ہے کہ حضور خیر الا نام ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّبُوَّةَ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوا، وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ : الرُّونُيَا الصَّالِحَةُ 14
نبوت میں سے (میری وفات کے بعد ) کچھ باقی نہ رہے گا مگر خوش خبریاں رہ جائیں گی۔ لوگوں نے عرض کیا خوشخبریاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا اچھے خواب۔
(۱۳) حضرت ابو امامہ الباہلی
سے مروی ایک روایت میں ہے کہ حضور ختمی المرتبت ﷺ نے ایک خطبہ میں یہ الفاظ ارشاد فرمائے:
أَنَا آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ15
میں آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت ہو۔
(۱۴) حضرت عرباض بن ساریہ
سے روایت ہے کہ حضور خیر الا نام ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين 16
بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں اور انبیاء کرام کا خاتم ہوں۔
(۱۵) حضرت ابو ہریرہ
سے روایت ہے کہ حضور خاتم الانبیاء علیہ التحیۃ والثناء نے ارشاد فرمایا :
نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُقْضِيُّ لَهُمُ قَبْلَ الْخَلَائِقِ 17
ہم اُمت محمدیﷺ میں اہل دنیا میں سے سب سے آخر میں آتے ہیں اور روز قیامت کے وہ اولین ہیں جن کا تمام مخلوقات سے پہلے حساب کتاب ہوگا۔
(۱۶) حضرت ضحاک بن نوفل
راوی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:
لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةً بَعْدَ أُمَّتِي18
میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری اُمت کے بعد کوئی امت نہیں ہوگی۔
(۱۷) حضرت ابو ہریرہ
راوی ہیں کہ حضور ختمی المرتبت ﷺ نے ارشاد فرمایا:
كُنتَ أَوَّلَ النَّبِيِّينِ فِي الْخَلْقِ وَآخِرُهُمْ فِي البَعْثِ19
میں خلقت کے اعتبار سے انبیاء کرام میں پہلا ہوں اور بعثت کے اعتبار سے آخری ہوں۔
(۱۸) حضرت عبداللہ بن مسعود
سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺنے انہیں درود شریف کے یہ الفاظ سکھائے :
اللَّهُمَّ اجْعَلُ صَلَاتَكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَإِمَامَ الْمُتَّقِينَ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ، مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ إِمَامَ الْخَيْرِ، (وَقَائِدِ الْخَيْرِ، وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ 20
( اسکے بعد پورا درود ابراہیمی ہے ) الہی اپنا درود و رحمت اور برکات رسولوں کے سردار، متقیوں کے امام ابونبیوں کے خاتم محمد پر نازل فرما جو تیرے بندے اور رسول اور امام الخیر اور ( قائد ) اخیر اور رسول رحمت ہیں ۔ الہی آپ ﷺ کو اس مقام محمود پر فائز فرما جس پر اولین و آخرین رشک کرتے ہیں۔
(۱۹) حضرت عبداللہ ابن عباس
سے روایت ہے:
لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم صَلَّى رَسُولُ الله صلى الله عليه وآله وسلم وَقَالَ : إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا 21
جب اللہ کے پیارے نبیﷺکے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ نے فرمایا: اس کے لئے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ( کا انتظام ) ہے۔ اگر وہ زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا۔
(۲۰) امام ابن ماجہ سے مروی روایت میں حضرت ابراہیم
کے بارے میں ہے :
مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم نَبِيٌّ لَعَاشَ ابْنُهِ، وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ 22
حضرت ابراہیمکا انتقال ہوا جب وہ چھوٹے تھے۔ اگر فیصلہ ( تقدیر) یہ ہوتا کہ حضرت محمدﷺکے بعد کوئی نبی ہو تو ان کا صاحبزادہ زندہ رہتا۔ لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
(۲۱) حضرت عبداللہ ابن عباس
سے روایت ہے :
أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّونُيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَه 23
اے لوگو علامات نبوت میں سے صرف رویائے صالحہ (سچا خواب ) ہی باقی ہے جو مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے لئے کوئی دیکھتا ہے۔
(۲۲) حضرت سعد بن ابی وقاص
سے روایت ہے :
خَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَخَلَّفْنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ : أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَرُونَ مِنْ مُوسَى؟ غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي 24
نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک میں حضرت علی بن ابی طالبکو ساتھ نہیں لیا بلکہ گھر پر چھوڑ دیا تو انھوں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول میں یہ آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم میرے ساتھ ایسے ہو جاؤ جیسے ہارون ، موسیٰ کے ساتھ لیکن میرے بعد نبوت نہیں۔
(۲۳) ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور خاتم الانبیاء علیہ التحیۃ والثناء نے ارشاد فرمایا:
قَدْ كَانَ يَكُونُ فِي الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ، مَحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهُمْ، قَالَ: ابْنُ وَهْبٍ: تَفْسِيرُ مُحَدَّثُونَ مُلْهَمُونَ 25
تم سے پہلے پچھلی امتوں میں محدث تھے۔ اگر اس امت میں کوئی محدث ہو گا تو وہ عمر بن الخطاب ہیں۔ ابن وہب نے کہا محدث اس شخص کو کہتے ؟ نے کہا محدث اس شخص کو کہتے ہیں جس پر الہام کیا جاتا ہو۔
(۲۴) حضرت عقبہ بن عامر
سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا :
لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ 26
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔
(۲۵) حضرت ام كرز الكعبية
سے روایت ہے کہ انھوں نے حضور اکرمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
ذَهَبَتِ النَّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَات 27
نبوت ختم ہوگئی ، صرف مبشرات باقی رہ گئے ۔
(۲۶) حضرت ابو ہریرہ
راوی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
فَإِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ مَسْجِدِى آخِرُ الْمَسَاجِدِ28
بے شک میں آخر الانبیاء ہوں، اور میری مسجد آخر المساجد ہے۔
(۲۷) حضرت نعیم بن مسعود
راوی ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺ نے اپنے بعد نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کی اطلاع ان الفاظ میں دی:
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَابًا كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيُّ29
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تمیں کذاب ظاہر نہ ہو جائیں جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ نبی ہے۔
(ف) نبوت کے جھوٹے دعویداروں کے برے انجام کی تفصیل کے لیے فقیر اویسی غفرلہ کی تصنیف ”جھوٹے نبی کا مطالعہ کریں۔
(۲۸) حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور سید الانامﷺ نے اُن سے مخاطب ہو کر کہا:
يا أَبَا ذَرٍ أَوَّلُ الْأَنْبِيَاءِ آدَمُ وَآخِرُهُ مُحَمَّدٌ 30
اے ابوذر ! انبیاء کرام میں سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری حضرت محمد مصطفی صلی اللہ کی ہیں۔ {{p
أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وآله وسلم خَرَجَ إلى تبوك وَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا فَقَالَ : أَتُخَلِّفُنِي فِي الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ؟ قَالَ : أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهَ لَيْسَ نَبِي بَعْدِي31
رسول اللہ ﷺ ہم بھوک کی جانب روانہ ہوئے اور حضرت علیکو اپنی جگہ چھوڑا تو انھوں نے عرض کیا۔ کیا آپ بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کیا تو اس پر راضی نہیں کہ تجھے مجھ سے وہی مناسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حضرت ابو ہریرہ
سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
فُضْلَتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِةٍ أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمُ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِي الْمَغَانِمُ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ32
مجھے تمام انبیاء کرام پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی اوّل یہ کہ مجھے جوامع الکلم دیئے گئے اور دوسرے یہ کہ رُعب سے میری مدد کی گئی۔ تیسرے میرے لئے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا۔ چوتھے میرے لئے تمام زمین پاک اور نماز پڑھنے کی جگہ بنادی گئی۔ پانچویں میں تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ چھٹے یہ کہ مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔
(۳۱) حضرت ابو ہریرہ
بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا :
إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمْ أَنْبِيَانُهُم كُلَّمَا ذَهَبَ نَبِيٌّ خَلْفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَيْسَ كَائِنَا فِيكُمْ نَبِيٌّ بَعْدِي 33
بنی اسرائیل کا نظام حکومت ان کے انبیاء کرام چلاتے تھے جب بھی ایک نبی رخصت ہوتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا اور بے شک میرے بعد تم میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔
(۳۲) حضرت سعد
روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ارشاد فرمایا:
أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي 34
کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے۔ . مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
(۳۳) حضرت جابر بن سمرہ
کی روایت کردہ حدیث میں ہے :
وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَشْفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَه 35
اور میں نے نبی کریمﷺکے کندھے کے پاس کبوتر کے انڈے کے برابر مہر نبوت دیکھی جس کا رنگ جسم کے رنگ کے مشابہ تھا۔
(۳۴) حضرت ابو ہریرہ
روایت کرتے ہیں:
قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وآله وسلم بَيْنَا أَنَا نَائِمْ أُتِيتُ خَزَائِنَ الْأَرْضِ فَوُضِعَ فِي يَدَيَّ أَسْوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخُهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبًا فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابِينِ الَّذِينَ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءِ وَصَاحِبُ الْيَمَامَةِ 36
رسول اللہ ﷺنے فرمایا : میں سویا ہوا تھا، میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے جو مجھے بہت بھاری لگے اور میں ان سے متفکر ہوا، پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان کو پھونک مار کر اُڑا دوں۔ میں نے پھونک ماری تو وہ اڑ گئے۔ میں نے اس خواب کی یہ تعبیر لی کہ میں دو کذابوں کے درمیان ہوں۔ایک صاحب صنعاء ہے اور دوسر ا صاحب یمامہ۔
(۳۵) حضرت عبداللہ ابن عباس
سے مروی ایک حدیث مبارکہ کے آخر میں ہے :
فَأَوَّلَتُهُمَا كَذَابَين يَخْرُجَانِ مِنْ بَعْدِي فَكَانَ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِي صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَالآخَرُ مُسَلِمَةَ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ 37
میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ میرے بعد دو جھوٹے شخصوں کا ظہور ہوگا۔ ایک ان میں سے صنعاء کا رہنے والا جنسی ہے دوسر ا یمامہ کا رہنے والا مسیلمہ ہے۔
(۳۶) حضرت وہب بن منبہ حضرت ابن عباس
سے ایک طویل حدیث کے ذیل میں روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی الہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کی اُمت کہے گی :
وَأَنِّي عَلِمْتَ هَذَا يَا أَحْمَدُ وَأَنْتَ وَأُمَّتُكَ آخِرُ الْأُمَمِ 38
اے احمد ! آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ حالانکہ آپ صلی اللہ کی اور آپ کی اُمت اُمتوں میں آخری ہیں۔
(۳۷) حضرت سعد بن ابی وقاص
بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق فرمایا :
أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِي بَعْدِي 39
تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰاس روایت کی بابت راوی کے استفسار پر حضرت سعد نے فرمایا: میں نے اس حدیث کو خود سُنا ہے۔ انھوں نے اپنی دونوں انگلیاں کانوں پر رھیں اور کہا اگر میں نے خود نہ سُنا ہو تو میرے دونوں کان بہرے ہو جائیں۔}}کیلئے ہارون
تھے۔ سنو بلا شبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
(۳۸) حضرت علی المرتضی
کی روایت کردہ ایک طویل حدیث مبارکہ میں ہے :
بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ40
حضور اکرم ﷺکے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے اور آپ مالی ایلیم آخری بنی ہیں ۔
(۳۹) حضرت عامر اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص
سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل للہ ہم نے حضرت علی
سے فرمایا۔
أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي 41
تم میرے ساتھ ایسے ہو جیسے ہارون موسیٰ کے ساتھ تھے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔
(۴۰) علامہ علاء الدین علی المنتقی نے کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال میں حضور اکرم منی عید یکم کا یہ قول لکھا ہے :
لا نبي بعدى ولا أمة بعدكم فاعبدوا ربكم، أقيموا خمسكم وصوموا شهركم، وأطيعوا ولاة أمركم، أدخلوا جنة ربكم42
میرے بعد کوئی نبی نہیں اور نہ ہی تمہارے بعد کوئی اُمت، پس تم اپنے رب کی عبادت کرو اور پنج گانہ نماز قائم کرو اور اپنے پورے مہینے کے روزے رکھو اور اپنے اولوا الامر کی اطاعت کرو، (پس) اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔
(۴۱) علاء الدین علی المنتقی نے کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال میں یہ حدیث نقل کی ہے :
لا نبوة بعدى الا المبشرات الريا الصالحة.43
(۴۲) علامہ علاؤ الدین علی المنتقی بن حسام الدین الہندی رحمۃ اللہ علیہ نے کنز العمال في سفن الاقوال والا فعال میں حضور اکرم کی ایم کا ارشاد نقل کیا ہے:
يا ايها الناس ! انه لا نبى بعدى ولا امة بعدكم، الا ! فاعبدوا ربكم و صلوا خمسكم، وصوموا شهركم، وصلوا ارحامكم، وادوا زكاة اموالكم طيبة بها انفسكم، واطيعوا ولاة امركم، تدخلوا جنة ربكم44}}اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور نہ ہی تمہارے بعد کوئی اُمت ہے۔ سنو ! اپنے رب کی عبادت کرو اور پنجگانہ نماز پڑھو اور اپنے مہینے (رمضان) کے روزے رکھو اور اپنی رشتہ داریاں جوڑو اور اپنے اموال کی زکوۃ خوشدلی سے ادا کرو اور اپنے اولوالامر کی اطاعت کرو تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
(۴۳) حضرت سعد بن ابی وقاص
سے امام احمد بن حنبل نے یہ حدیث مبارکہ نقل کی ہے کہ جب غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺنے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تو انھوں نے عرض کیا:
يا رسول الله، اتخلفني في الخالفة، في النساء والصبيان؟ فقال : اما ترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى؟ قال: بلى يا رسول الله، قال : فادبر على مسرعا كاني انظر الى غبار قدميه يسطع، وقد قال حماد: فرجع على مسرعا45
یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے پیچھے رہ جانے والوں میں (یعنی) عورتوں اور بچوں میں جانشین بنا رہے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تو اس بات سے خوش نہیں کہ تجھے مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون(۴۴) امام بیہقی نے السنن الکبری میں، امام طحاوی نے مشکل الآثار میں ، علامہ جلال الدین سیوطی نے الدر المثور میں، علامہ علی المتقی الہندی نے کنز العمال میں، امام ہیشمی نے مجمع الزوائد میں حضور خاتم النین علی الم کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے:}}کی حضرت موسیٰ
سے تھی ؟ عرض کیا یا رسول اللہ کیوں نہیں؟ اُس (راوی) نے کہا: پس علی رضی اللہ تعالی عنہ تیزی سے مُڑے تو میں نے گویا ان کے قدموں کا غبار اڑتے دیکھا اور حماد نے کہا پس علی تیزی سے مڑے۔
لا نبي بعدى ولا أمة بعدك 46
میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں۔
فقیر نے خاتم النبیین رحمۃ للعلمینﷺ کی ختم نبوت پر ۴۴ احادیث مبارکہ لکھنے کی سعادت حاصل ہے۔ اللہ تعالی فقیر کی سعی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اپنے پیارے محبوب کریم روف و رحیم ملی ایم کی شفاعت نصیب فرمائے آمین ثم آمین
فقط مدینے کا بھکاری
الفقير القادري ابی الصالح محمد فیض احمد اویسی رضوی غفرلہ
جامعہ اویسیہ رضویہ سیرانی مسجد بہاولپور پنجاب پاکستان