logoختم نبوت

حیات عیسی بن مریم علیہ السلام اور علم غیب رسول مکرم ﷺ۔۔۔از۔۔۔علامہ فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ

بسم الله الرحمن الرحيم
نحمده و نصلى على رسوله الكريم

اس رسالہ میں سید نا عیسیٰ sym-9 کی مفصل سوانح مقصود نہیں آپ کے صرف وہ واقعات عرض کرتے ہیں جو آخر زمانہ میں آپ کا آسمان سے نزول ہوگا اور دجال کو قتل کرینگے اور بس ضمنا بعض حالات کا ذکر بھی ہے اور تمام تذکرہ احادیث مبارکہ سے ہے اور چند باتیں الاشاعۃ الاشراط الساعة کے ترجمہ احوال الآخرۃ از فقیر اویسی اویسی غفرلہ ملحق ہیں ۔ اس سے غرض عیسائیوں کا رد ہے جبکہ وہ اپنے نبی sym-9 کو سولی پر لٹکائے جانے اور چند روز لعنتی رہے (معاذ اللہ ) عیسائیوں کے گناہوں کا کفارہ بنے پھر طبعی موت مرے بخلاف اہل اسلام کے کہ الحمد للہ ہم کہتے ہیں انہیں با عزت آسمان پر اُٹھایا گیا اور اب وہ تا آخر آسمان پر رونق افروز ہیں۔ دجال کو قتل کرنے کے لئے نزول فرمائیں گے اس کے بعد اُمتی کی حیثیت سے دنیا میں رہیں گے اور آپ کا نکاح ہوگا بچے پیدا ہوں گے زندگی مبارک کے آخری لمحات میں عمرہ کر کے مدینہ طیبہ آئیں گے یہیں پر ان کا وصال ہوگا اور حضور ﷺ کے ساتھ گنبد خضری میں مدفون ہوں گے۔

ہاں مرزائیوں کا رد خصوصیت سے ہے وہ کہتے ہیں عیسیsym-9 فوت ہو گئے ان کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔ ان کا تفصیلی رد فقیر کے رسالہ احوال الفصیح فی قبر المسیح اس میں پڑھیے اور اس رسالہ میں بھی ان کے رد کے لئے کافی مواد ہے۔ وہابیوں دیو بندیوں نجدیوں کا بھی رد بھی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول الله ﷺکو علم غیب ماننا شرک اور کفر ہے یہ رسالہ تفصیل بتائے گا کہ الحمد لله رسول اللہ ﷺ کو عطائے الہی جملہ علوم غیبیہ حاصل ہیں منجملہ ان کے کہ عیسیٰ sym-9کے نزول از آسمان اور قتل دجال وغیرہ وغیرہ کی۔

لطيفہ:

فقیر کو نجدی کارندے اپنے بڑے افسر کے پاس لے گئے تا کہ اس پر اعتراضات کر کے مجرم بنایا جائے ۔ نجدی ترجمان کا پہلا سوال یہی تھا کہ تم لوگ (بریلوی) رسول اللہ ﷺکے علم غیب کے منکر کو کافر کہتے ہو۔ میں نے جوابا کہا کہ امام مہدی sym-5 دنیا میں آئیں گے ان کے دجال سے مقابلے ہوں گے انہیں عیسیٰsym-9 آسمان سے اتر کر قتل کریں گے اب آپ بتائیے ان اُمور کا منکر کا فر ہے یا نہیں۔ اس نے کہا کافر ہے میں نے ایسے منکر کو کہتے ہیں اس کے بعد داستان طویل ہے۔ بہر حال یہ رسالہ عیسیsym-9کے متعلق بہترین علمی سرمایہ ہے خدا تعالیٰ اسے فقیر اور ناشر کے لئے زاد راہ آخرت اور اہل اسلام کے لئے مشعل ہدایت بنائے ۔ آمین

احادیث مبارکہ:

ان احادیث میں تفصیل ہے کہ حضرت عیسیٰ sym-9 آسمان سے کیسے زمین پر تشریف لائیں گے اور دجال کو کب اور کہاں قتل کریں گے اس کے بعد آپ کے کیا مشاغل ہوں گے۔

صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ sym-5 سے ہے کہ حضور ﷺ فر ماتے ہیں:

كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم و امامكم منكم
کیسا حال ہو گا تمہارا جب تم میں ابن مریم نزول کریں گے اور تمہارا امام تمہیں سے ہوگا۔

اس وقت کی تمہاری اور تمہارا فخر بیان سے باہر ہے کہ روح اللہ تم میں اتریں تم میں رہیں تمہارے معین و مددگار بنیں اور تمہارے امام مہدی کے پیچھے نماز پڑ ہیں۔

صحیحین و جامع ترندی و سنن ابن ماجہ میں حضرت ابو ہریرہ sym-5 سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجرية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى يكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة فاقروا ان شئتم وان من اهل الكتاب الاليومنن به قبل موته
قسم ہے اس کی جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے بیشک ضرور نزدیک آتا ہے کہ ابن مریم تم میں حاکم عادل ہو کر اتریں پس صلیب کو توڑ دیں اور خنزیر کو قتل کریں اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے (یعنی کافر سے سوا اسلام کے کچھ قبول نہ فرمائیں گے ) اور مال کی کثرت ہوگی یہاں تک کہ کوئی لینے والا نہ ملے گا یہاں تک کہ ایک سجدہ تمام دنیا اور اس کی سب چیزوں سے بہتر ہوگا۔

حدیث مذکورہ بیان کر کے حضرت ابو ہریرہ sym-5 فرماتے ہیں تم چاہو تو اس کی تصدیق قرآن مجید میں دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَ إِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه 1
کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی (عیسی علیہ السلام کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے۔

فائده:

اس میں رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کا ثبوت واضح ہے۔ صحیح مسلم میں انہیں سے ہے رسول اللہﷺیہ فرماتے ہیں قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ رومی ، انصاری ، اعماق با وابق میں اتریں ( ملک شام کے دو موضعین ہیں ) ان کی طرف مدینہ طیبہ سے ایک لشکر جائے گا جو اس دن بہترین اہل زمین سے ہوں گے جب دونوں لشکر مقابل ہوں گے رومی کہیں گے ہمیں ہمارے ہم قوموں سے لڑ لینے دو جو ہم میں سے قید ہو کر تمہاری طرف گئے اور مسلمان ہو گئے ہیں مسلمان کہیں گے نہیں واللہ ہم اپنے بھائیوں کو تمہارے مقابلے میں تنہا نہ چھوڑیں گے پھر ان سے لڑائی ہوگی ۔لشکر اسلام سے ایک تہائی بھاگ جائیں گے اللہ تعالیٰ انہیں تو بہ نصیب نہ کرے گا اور ایک تہائی مارے جائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے بہترین شہداء ہوں اور ایک تہائی کو فتح ملے گی یہ بھی فتنے میں نہ پڑیں گے پھر یہ مسلمان قسطنطنیہ کو اس سلطنت سے پہلے نصاری کے قبضے میں آچکی ہوگی ، فتح کریں گیوہ قیمتیں تقسیم ہی کرتے ہوں گے اپنی تلواریں درختان زیتون پر لٹکا دی ہوں گی اچانک شیطان پکارے گا کہ تمہارے گھروں میں دجال آگیا مسلمان پلٹیں گے اور یہ خبر جھوٹی ہو گی جب شام میں آئیں گے تو دجال نکل آئے گا۔

فبينما هم يعلون للقتال ليوون الصفوف اذقيمت الصلواة فينزل عيسى بن مريم فاما مهم فلمار آه عدو الله الدجال فلينا ذب كما ينذب الملح في الماء فلو تركه لانذاب حتى تهلك ولكن يقتله الله بيده فير يهم دمه في حربته
اسی اثنا میں کہ مسلمان دجال سے قتال کی تیاریاں کرتے صفیں سنوارتے ہوں گے کہ نماز کی تکبیر ہوگی عیسی علیہ السلام نزول فرمائیں گیان کی امامت کریں گے وہ خدا کا دشمن دجال جب انہیں دیکھے گا ایسے گلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گل جاتا ہے اگر عیسی علیہ السلام اسے نہ ماریں جب بھی گل گل کر ہلاک ہو جائے مگر اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ سے اسے قتل کرے گا مسیح مسلمانوں کو اس کا خون اپنے تیرے میں دکھا ئیں گے۔

صحیح مسلم و سنن ابی داؤد و ترندی و سنن نسائی و سنن ابن ماجہ میں حضرت حذیفہ اسید شفاری sym-5سے ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

انها لن تقوم حتى ترو اقبلها عشر ايات فذكر الدخان والدجال والداية و طلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى بن مريم وياجوج وماجوج (الحديث)
بیشک قیامت نہ آئیگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو بعد ازاں ایک جملہ ایک دھواں اور دجال اور دابتہ الارض اور آفتاب کا مغرب سے طلوع کرنا اور عیسیٰ بن مریم کا اُترنا اور یا جوج و ماجوج کا نکلنا۔

مسند امام احمد وصحیح مسلم میں حضرت اُم المومنین صدیقہ sym-6سے ہے رسول اللہ ﷺ نے دجال کے ذکر میں فرمایا:

ياتي بالشام مدينة بفلسطين بباب لد فينزل عيسى عليه الصلواة والسلام فيقتله ويمكث عيسى في الارض اربعين سنة اماماً عدلاً وحكماً مقسطا
وہ ملک شام میں شہر فلسطین دروازہ شہر لد کو جائے گا۔ عیسیٰsym-9 اتر کر اسے قتل کریں گے عیسیsym-9 زمین میں چالیس برس رہیں گے امام عادل حاکم مصنف ہو کر ۔

مند و صیح مسلم میں حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری sym-8سے ہے رسول اللہﷺ یہ فرماتے ہیں:

لانزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة فينزل عيسى بن مريم فيقول اميرهم تعالى صل لنا فيقول لان بعضكم على بعض امير تكرمة الله هذا لامة
ہمیشہ میری اُمت کا ایک گروہ حق پر قتال کرتا قیامت تک غالب رہے گا پس عیسی بن مریم اتریں گے امیر المومنین ان سے کہے گا آئے نماز پڑھائیے وہ فرمائیں نہ تم میں بعض بعض پر سردار ہیں بسبب اس اُمت کی بزرگی کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔

فائده:

اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ عیسی sym-9 من حيث النبوة نہیں بلکہ من حيث الامة للمصطفى تشريف لائیں گے۔

مسند احمد و صحیح و جامع ترندی و سنن ابن ماجہ مطولا اور سنن ابی داؤد میں مختصر احضرت نواس بن سمنان sym-5سے ہے رسول اللہﷺ نے دجال العین کا ذکر فرمایا کہ وہ شام و عراق کے درمیان سے نکلے گا چالیس دن رہے گا پہلا دن ایک سال کا ہوگا اور دوسرا ایک مہینے کا تیسرا ایک ہفتے کا باقی دن جیسے ہوتے ہیں۔ اس قدر جلد ایک شہر سے دوسرے شہر میں پہنچے گا جیسے بادل ہوا اڑائے لئے جاتی ہو جو ا سے مانیں گے ان کے بادل کو حکم دیگا برسنے لگے گا زمین کو حکم دے گا کھیتی جم اُٹھے گی جو نہ مانیں گے ان کے پاس سے چلا جائے گا ان پر قحط ہو جائے گا یہی دست رہ جائیں گے۔ ویرانے پر کھڑا ہو کر کہے گا اپنے خزانے نکال خزانے نکل کر شہید کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے ہولیں گے پھر ایک جوان گھٹے ہوئے جسم کو بلا کر تلوار سے دو ٹکڑے کرے گا دونوں ٹکڑے ایک نشانہ تیر کے فاصلے سے رکھ کر مقتول کو آواز دے گا وہ زندہ ہو کر چلا آئے گا ر جال لعین اس پر بہت خوش ہو گا ہنسے گا۔

فبينما هو كذالك اذا بعث الله المسيح عيسى بن مريم عليه الصلوة والسلام فينزل عند المنارة. البيضاء شرقی دمشق بین مهر وذتين واضعا كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ راسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤ فلا يحل الكافر يجد ريح نفسه الامات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرفة قبطبه حتى يدركه بباب لد فيقتله
دجال لعین اسی حال میں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مسیح عیسی بن مریم sym-9کو بھیجے گا وہ دمشق کی شرقی جانب منارہ سپید کے پاس نزول فرمائیں گے دو کپڑے درس و زعفران سے رنگے ہوئے پہنے دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے جب اپنا سر جھکا ئیں بالوں سے پانی ٹپکنے لگے گا اور جب سراٹھا ئیں گے ان سے موتی جھڑنے لگیں گے کسی کافر کو حلال نہیں کہ ان کی سانس کی خوشبو اور مر نہ جائے اور ان کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک ان کی نگاہ پہنچے گی ۔ وہ دجال لعین کو تلاش کر کے بیت المقدس کے قریب جو شہر لد ہے اس کے دروازے کے پاس اسے قتل فرمائیں گے۔

اس کے بعد حضور ﷺ نے ان کے زمانے میں یا جوج و ماجوج کا نکلنا پھر اس کا ہلاک ہونا بیان فرمایا پھر ان کے زمانے برکت کی افراط یہاں تک کہ انار اتنے بڑے پیدا ہوں گے کہ ایک انار سے ایک جماعت کا پیٹ بھرے گا چھلکے کے سایہ میں ایک جماعت آجائے گی۔ ایک اونٹنی کا دودھ آدمیوں کے گروہوں کے لئے کافی ہوگا ایک گائے کے دودھ سے ایک قبیلے ایک بکری کے دودھ سے ایک قبیلے کی شاخ کا پیٹ بھر جائے گا۔

فائده:

نبی پاک ﷺ کے حالات کو ایسے بتا رہے ہیں گویا وہ حالات ابھی آپ کے سامنے ہو رہے ہیں اور یہی حقیقت ہے کہ حضور ﷺکے لئے زمانہ ماضی و مستقبل اور حال یکساں ہے۔

دیکھئے عیسی sym-9 اور دجال کے واقعات سینکڑوں سال کیسے واضح طور پر بیان فرمادیئے یقیناً صادق و مصدوق ﷺکے ارشادات سب حق ہیں ظاہری اسباب پر سر منڈانے والے اپنے وقت تک کے خلاف اسباب بات سن کر بدکتے ہیں پھر اسباب ہی بتا دیتے ہیں کہ ان کا بد کنا محض جہل و حماقت تھا ۔ اللہ عزوجل کی قدرت پر اعتقاد نہ تھا اسی قبیل سے ہے وہ حدیث کہ آدمی سے اس کا کوڑا بات کرے گا بازار کو جائے گا کوڑا امکان میں انکا جائے گا اس کے پیچھے جو باتیں ہوئیں کوڑا اسے بتادے گا یہ احمقوں کے نزدیک کتنا خلاف عقل تھا۔ اب فوٹو گرافر اور دیگر نو ایجادات سے تمام امور کی تصدیق ہو رہی ہے۔

اس بارے میں فقیر کی تصنیف ” نو ایجادات اور علم غیب پڑھیے:

رسول اللہ ﷺنے فرمایا

عيسى بن مريم فيبطله فيهلكه (الحديث)
دجال میری اُمت سے نکلے گا ایک چلہ ٹھہرے گا پھر اللہ تعالی عیسی بن مریم کو بھیجے گا وہ اسے ڈھونڈ کر قتل کریں گے۔

فائده:

عیسی sym-9کی ذات مراد ہے نہ کہ مثیل جیسے مرزا نے سمجھا۔

سنن ابوداؤد میں حضرت ابو ہریرہ sym-5 سے ہے رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:

لیس بینی و بینه نبی یعنی عيسى عليه السلام وانه نازل فاذا رايتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض بين ممصرتين كان رأسه يقطرون لم يصبه بال فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله في زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك المسيح الدجال فيمكث في الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون
میرے اور عیسی کے درمیان میں کوئی نبی نہیں اور بیشک وہ اترنے والے ہیں جب تم انہیں دیکھنا پہچان لینا وہ میانہ قد ہیں رنگ سرخ و سپید دو کپڑے ہلکے زرد رنگ کے پہنے ہوئے گویا ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہے اگر چہ انہیں تری نہ پہنچی ہو وہ اسلام پر کافروں سے جہاد فرمائیں گے، صلیب توڑیں گے، خنز بر قتل کریں گے، جزیہ اُٹھا دیں گے، ان کے زمانہ میں اللہ تعالی اسلام کے سوا سب مذہبوں کو فنا کر دے گا ، وہ مسیح دجال کو ہلاک کریں گے، دنیا میں چالیس برس رہ کروفات پائیں گے مسلمان ان کے جنازے کی نماز پڑھیں گے۔

فائده:

گنبد خضری میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ مدفون ہوں گے۔

ترندی میں حضرت مجميع بن جاریہ انصاری sym-5سے ہے رسول اللہﷺفر ماتے ہیں:

فيقتل ابن مريم الدجال ببابه لد عيسى بن مريم عليهما السلام
دجال کو دروازہ شہر لد پر قتل فرمائیں گے۔

امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے اور اس باب میں حدیثیں وارد ہیں:

حضرت عمران بن حصين ونافع بن عقبه وابو برزه وحذيفه و عثمان بن ابی العاس وجابر ابو امامه و ابن مسعود عبدالله بن عمر و ثمره بن جندب ونواس بن سمنان وعمرو بن عوف وحذيفه ابن اليمان رضي الله عنهم اجمعين

سنن ابن ماجه صحیح ابن حزیمہ و مستدرک حاکم و سیح مختارہ میں ہے حضرت ابوامامہ باہلی sym-5 سے حدیث طویل جلیل ہے کہ رسول اللہﷺنے بالتفصیل عجائب احوال اعود دجال اعاذنا الله تعالى منه بیان فرمائے پھر فرمایا اہل عرب اس زمانے میں سب کے سب بیت المقدس میں ہونگے اور ان کا امام ایک مرد صالح ہو گا یعنی حضرت امام مہدی فبينما امامهم قد تقدم يصلى بهم الصبح الصبح اذ نزل عليهم عيسى بن مريم الصبح اس اثناء میں کہ ان کا امام نماز صبح پڑھانے کو بڑھے گانا گاہ عیسی بن مریم علیہما السلام وقت صبح نزول فرمائیں گے۔ مسلمانوں کا امام اُلٹے قدم پھرے گا کہ عیسی sym-9امامت کریں عیسیٰ sym-9اپنا ہاتھ اس کی پشت پر رکھ کر کہیں گے آگے بڑھو نماز پڑھاؤ کہ تکبیر تمہارے ہی لئے ہوئی تھی ان کا امام نماز پڑھائے گا۔ حضرت عیسی sym-9 سلام پھیر کر دروازہ کھلوائیں گے اس طرف دجال ہو گا جس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہتھیار بند ہوں گے جب دجال کی نظر حضرت عیسی sym-9 پر پڑے گی پانی میں نمک کی طرح گلنے لگے گا بھاگے گا ۔ حضرت عیسی sym-9 فرمائیں گے میرے پاس تجھ پر وار ہے جس سے تو بچ کر نہیں جا سکتا پھر شہر لد کے شرقی دروازے پر اسے قتل فرمائیں گے اس کے بعد قتل وغیرہ کے احوال ارشاد ہوئے۔

سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود sym-5سے ہے شب اسرئی رسول اللہ ﷺابراہیم و موسی و عیسی sym-3 سے ملے باہم قیامت کا چرچا ہوا۔ انبیاء کرام نے پہلے حضرت ابراہیم sym-9سے اس کا حال پوچھا انہیں خبر نہ تھی حضرت موسیٰ sym-9سے پوچھا انہیں بھی معلوم نہ تھا اُنہوں نے حضرت عیسی sym-9 سے پوچھا حضرت عیسی sym-9 نے فرمایا قیامت جس وقت آکر گرے گی اسے تو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہاں اس کے گرنے سے پہلے کے باب میں مجھے رب العزت نے ایک اطلاع دی ہے پھر خروج دجال کا ذکر کر کے فرمایا:

فانزل فاقتله
میں اتر کر اسے قتل کروں گا

پھر یا جوج و ماجوج نکلیں گے میری دعا سے ہلاک ہونگے ۔

فعهد الى منى كا ذالك كانت الساعة من الناس كالحامل التي اهلها متى تفجو هم بولادة
یعنی مجھے رب العزت نے اطلاع دی ہے کہ جب یہ سب ہولے گا تو اُس وقت قیامت کا حال لوگوں پر ایسا ہو گا جیسے کوئی عورت پورے دنوں پیٹ سے ہو کر گھر والے نہیں جانتے کہ کسی وقت اس کے بچہ ہو پڑے۔

امام احمد مستند اور طبرانی معجم کبیر اور ویانی مسند اور ضیا صحیح مختارہ میں حضرت سمرہ بن جندب sym-5سے مروی رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر بیان کر کے فرمایا:

صلى الله ثم يجنى عيسى بن مريم من قبل المغرب مصدقا بمحمد الله وعلى ملته فيقتل الدجال ثم انما هو قيام الساعة

اس کے بعد عیسی بن مریم علیہا السلام جانب مغرب سے آئیں گے محمدﷺنے بعد ذکر دجال فرمایا:

يلبث فيكم ماشاء الله ثم ينزل عيسى بن مريم مصدقاً بمحمد الله على ملته اماما مهديا و حكماعدلا فيقتل الدجال
وہ تم میں رہے گا جب تک اللہ چاہے پھر عیسی بن مریم علیہا السلام اُتریں گے محمدصلی للہ ہم کی تصدیق کرتے حضور کی ملت پر امام راہ پائے ہوئے اور حاکم عدل کرنے والے وہ دجال کو قتل کریں گے۔

مسند احمد و صیح ابن حزیمہ و مسند ابی یعلی و مستدرک حاکم و مختارہ مقدی میں حضرت جابر بن عبد اللہ sym-8 سے ہے رسول اللہ ﷺ نے حدیث طویل ذکر دجال میں فرمایا مسلمان ملک شامل میں ایک پہار کی طرف بھاگ جائیں گے وہ وہاں جا کر ان کا حصار کرے گا اور سخت مشقت و بلائیں ڈالے گا۔

ثم ينزل عيسى فينادى من السحر فيقول يا ايها الناس ما يمنعكم ان تخرجوا الى الكذات الخبيث فيقولون هذا رجل حى فينطلقون فاذاهم بعيسى عليه الصلواة والسلام
اس کے بعد عیسی sym-9 اُتریں گے پچھلی رات مسلمانوں کو پکاریں گے لوگو! اس کذاب خبیث کے مقابلے کو کیوں نہیں نکلتے مسلمان کہیں گے یہ کوئی مرد زندہ ہے ( یعنی گمان میں یہ ہوگا کہ جتنے مسلمان یہاں محصور ہیں ان کے سوا کوئی باقی نہ بچا حضرت عیسی sym-9 کی آواز سن کر کہیں گے یہ مرد زندہ ہے ) جواب دیں گے دیکھیں تو وہ حضرت عیسی sym-9 اس کے بعد نماز صبح میں امام مسلمین کی امامت پھر دجال العین کے قتل کا ذکر فرمایا۔}}

نعیم بن حماد کتاب الفتن میں حضرت حذیفہ بن الیمان sym-8سے راوی

قلت یا رسول الله الله الدجال قبل او عيسى بن مريم قال الدجال ثم عيسى بن مريم (الحديث) میں نے عرض کی یا رسول ﷺہم پہلے دجال نکلے گا یا عیسی بن مریم فرمایا عیسیٰ بن مریم

طبرانی کبیر میں اوس بن اوس sym-8سے راوی ہے رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:

ينزل عيسى بن مريم عند المنارة البيضاء شرقي دمشق عیسی بن مریم دمشق کی شرقی جانب منارہ سپید میں نزول فرمائیں گے۔

مستدرک حاکم میں حضرت ابو ہریرہ sym-8سے راوی رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:

ليهبطن عيسى بن مريم حكماً و اماماً مقسطا فجافجا حاجا او معتمر اولياتين تبرى حتى يسلم على با الهی ولاردون عليه
خدا کی قسم ضرور عیسی بن مریم حاکم و امام عادل ہو کر اتریں گے اور ضرور شارع عام کے راستے حج یا عمرے کو جائیں گے اور ضرور میرے سلام کے لئے میرے مزار اقدس پر حاضر ہوں گے اور ضرور میں ان کے سلام کا جواب دوں گا۔
صلى الله عليك وعليه على جميع اخوانكما من الأنبياء والمرسلين والك وبارك وسلم ان اويسيه

صحیح ابن حزیمہ و مستدرک حاکم میں حضرت انس sym-5سے ہے رسول اللہﷺ فرماتے ہیں سيدوك رجلان من امتى عيسى بن مريم و يشهد ان قتال الدجال عنقریب میری اُمت سے دو مرد عیسی بن مریم کا زمانہ پائیں گے اور دجال سے قتال میں حاضر ہوں گے۔

فائده:

ظاہر اُمت سے مراد موجود زمانہ رسالت ہے علیہ افضل الصلوة والتحية ورنہ امت حضور سے تو لاکھوں زمانہ کلمۃ اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو پائیں گے اور قتال العین دجال میں حاضر ہوں گے اس تقدیر سے وہ دونوں مرد سیدنا الیاس وسید نا خضر علیہما السلام ہیں کہ اب تک زندہ ہیں اور اس وقت تک زندہ رہیں گے۔

امام حکیم ترندی نوادر الاصول اور حاکم مستدرک میں حضرت جبیر بن نفیر sym-8سے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

لن يجزى الله تعالى امة انا اولها وعيسى بن مريم آخرها
الله عز وجل ہرگز رسوا نہ فرمائے گا اس اُمت کو جس کا اول میں ہوں اور آخر عیسی بن مریم علیہما السلام

ابوداؤ دو طیاسی حضرت ابو ہریرہ sym-5 سے راوی ہیں رسول اللہﷺنے فرمایا:

لم يسلط على الدجال الاعيسى بن مريم
دجال کے قتل پر کسی کو قدرت نہ دی گئی سوا عیسی بن مریم علیہما السلام )

مسند احمد و سنن نسائی و صحیح مختارہ میں حضرت ثوبان sym-5سے ہے رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:

عصابتان من امتى احرز هما الله تعالى من النار والهند وعصابة تكون مع عيسى بن مريم
میری اُمت کے دو گروہوں کو اللہ تعالیٰ نے نار سے محفوظ رکھا ہے ایک گروہ وہ جو کفار ہند پر جہاد کرے گا اور دوسرا وہ جو عیسی بن مریم علیہا السلام کے ساتھ ہوگا۔

ابو نعیم حلیہ اور ابو سعید نقاش فوائد العراقین میں حضرت ابوہریرہ sym-5 سے راوی ہیں کہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:

طوبى نعيش بعد المسيح يوذن للسماء فى القطر ويؤذن للارض في النبات حتى بذرت حبك على الصف النبت وحتى يمر الرجل على الاسد فلا يضره ويطا على الحية فلا تضره ولا تشاح ولا تحاسد ولا تباغض
خوشی اور شادمانی ہے اس عیش کے لئے بعد نزول عیسیٰ sym-9 ہوگا آسمان کو اذن ہوگا کہ بر سے اور زمین کو حکم ہوگا کہ اگائے یہاں تک کہ اگر تو اپنا دانہ پتھر کی چٹان پر ڈال تو وہ بھی جم اُٹھے گا اور یہاں تک کہ آدمی شیر پر گزرے گا اور وہ اسے نقصان نہ پہنچائے گا اور سانپ پر پاؤں رکھے دے گا اور وہ اسے نقصان نہ دیگا نہ آپس میں مال کا لالچ رہے گا نہ حسد نہ کینہ (التيسير شرح الجامع الصغير طوبى لعيش بعد المسيح اى بعد نزول عيسى عليه الصلوة والسلام )
الى الارض في آخر الزمان
انہیں مبارک ہو جو نزول عیسیٰ sym-9 آخر زمانہ میں موجود ہوں گے۔

مسند الفردوس میں انہیں سے ہے رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں:

ينزل عيسى بن مريم على ثمانية مائة رجل واربع مائة امرأة اخيراء من على الأرض - (الحديث)
عیسی بن مریم ایسے آٹھ سو مردوں اور چار سو عورتوں پر آسمان سے نزول فرمائیں گے جو تمام روئے زمین میں سب سے بہتر ہوں گے۔

حمید امام رازی و ابن عساکر بطریق عبد الرحمن بن ایوب بن نافع بن كيسان عن ابیہ عن جدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

ينزل عيسى بن مريم عند باب دمشق عند المنارة البيضاء لمت ساعات من النهار ثوبين ممشوقين كانما ينحدر من راسه اللؤلؤ
عیسی بن مریم علیہما السلام دروازہ دمشق کے نزدیک سپید منارے کے پاس چھ گھڑی دن چڑھے دور نگین کپڑے پہنے اتریں گے گویا ان کے بالوں سے موتی جھڑتے ہیں۔

☆ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ sym-5سے ہے کہ رسول اللہﷺ فر ماتے ہیں:

اني لا رجو ان قال بی عمران القى عیسیٰ بن مریم فان عجل بی موت فمن لقيه منكم فليقراه منى السلام
میں اُمید کرتا ہوں کہ اگر میری عمر دراز ہوئی تو عیسی بن مریم سے ملوں گا اور اگر دنیا سے تشریف لے جانا جلد ہو جائے تو تم میں جو انہیں پائے ان کو میر اسلام پہنچائے۔

حمد ابن الجوزی کتاب الوفا میں حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص sym-5 سے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

ينزل عيسى بن مريم لى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم من قبر واحد بین ابی بکر و عمر
عیسی بن مریم علیہما السلام زمین پر اتریں گے یہاں شادی کریں گے ان کے اولاد ہوگی پینتالیس برس رہیں گے اس کے بعد ان کی وفات ہوگی میرے ساتھ مقبرہ پاک میں دفن ہوں گے۔ روز قیامت میں اور وہ ایک ہی مقبرے میں اس طرحاُٹھیں گے کہ ابوبکر و عمر ہم دونوں کے دائیں بائیں ہوں گے۔

بغوی شرح السنہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث طویل ابن صیاد وی (جس پر دجال ہونے کا شبہ کیا جاتا تھا) امیر المؤمنین عمر sym-5نے عرض کی یا رسول اللہ صلی علیہ نہ مجھے اجازت دیجئے کہ اسے قتل کر دوں فرمایا:

ان يكن هو فلست صاحبه انما صاحبه عيسى بن مريم والايكن هو فليس لك ان تقتل رجلا من اهل العهد
اگر یہ دجال ہے تو اس کے قاتل تم نہیں دجال کے قاتل عیسی بن مریم ہوں گے اور اگر یہ وہ نہیں تو تمہیں حق نہیں پہنچتا کسی دمی کو قتل کرو۔

حمد ابن جریر حضرت حذیفہ بن الیمان sym-8سے راوی ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

اول الايات الدجال ونزول عيسى وياجوج وماجوج يسيرون الى خراب الدنيا حتى يأتوبيت المقدس وعيسى والمسلمون بجبل طور سينين فيوحى الله الى عيسى ان احرز عبادی بالطور ومايلي ايلة ثم ان عيسى يرفع يديه الى السماء ويومن المسلمون فيبعث الله عليهم دابه بقال لها. النغف تدخل في مناخرهم فيصبحون موتى هذا مختصر
قیامت کی بڑی نشانیوں میں پہلی نشانی دجال کا نکلنا اور عیسی بن مریم کا اترنا اور یا جوج ماجوج کا پھیلنا وہ گروہ کے کے گروہ ہیں ہر گروہ میں چار لاکھ ۔ ان میں کوئی نہیں مرتا جب تک خاص اپنے نطفے سے ہزار شخص نہ دیکھ لے بنی آدم سے وہ دنیا ویران کرنے چلیں گے دجلہ و فرات و بحیرہ طبریہ کو پی جائیں گے یہاں تک کہ بیت المقدس تک پہنچیں گے اور عیسیٰ sym-9 واہل اسلام اس دن کوہ طور سینا میں ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسی sym-9 کو وحی بھیجے گا کہ میرے بندوں کو طور اور ایلہ کے قریب محفوظ جگہ میں رکھ پھر عیسی sym-9 ہاتھ اُٹھا کر دعا کریں گے اور مسلمان آمین کہیں گے ۔ اللہ تعالی یا جوج و ماجوج پر ایک کیڑا بھیجے گا نغف وہ ان کے نتھنوں میں گھس جائے گا صبح سب مرے پڑے ہوں گے۔

حاکم و ابن عسا کر تاریخ اور ابو نعیم کتاب اخبار المھدی میں حضرت عبداللہ بن عباس sym-8سے راوی ہیں

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:}}
كيف تهلك امة انا في اولها وعيسى بن مريم فى اخرها والمهدى من اهل بيتي في وسطها
کیونکر ہلاک ہو وہ اُمت جس کی ابتدا میں میں ہوں اور انتہا میں عیسی بن مریم اور بیچ میں میرے اہل بیت سے مہدی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

منا الذي يصلى عيسى بن خلفه
میرے اہل بیت میں سے وہ شخص ہے جس کے پیچھے عیسی بن مریم علیہا السلام نماز پڑہیں گے۔

حمد ابو نعیم حلیہ اولیاء میں حضرت ابو ہریرہ sym-5 سے راوی ہیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابن عباس sym-5 سے فرمایا:

عم النبي ( ان الله ابتداء الاسلام وسيختمه بغلام من ولدك وهو الذي يتقدم عيسى بن مريم اے نبی کے چا بیشک اللہ تعالی نے اسلام کی ابتدا مجھ سے کی اور قریب ہے کہ اسے تیری اولاد سے ایک لڑکے پر کرے گا وہی جس کے پیچھے عیسی بن مریم نماز پڑھیں گے۔

فائده:

حضرت امام مہدی کی نسبت متعدد احادیث سے ثابت کرده و بنی فاطمہ سے ہیں اور متعدد احادیث میں ان کا علاقہ نسب حضرت عباس عم مکرم سید عالم ﷺسے بھی بتایا گیا اور اس میں کچھ بعد نہیں وہ نسبا سید حسنی ہوں گے اور مادری رشتوں میں حضرت عباس sym-5 سے بھی اتصال رکھیں گے جیسے حضرت امام جعفر صادق sym-5 نے رافضیوں کے رد میں فرمایا کہ کوئی شخص اپنے باپ کو بھی بُرا کہتا ہے ابو بکر صدیق sym-5دو بار میرے باپ ہوئے یعنی دو طرح سے میرا نسب مادری حضرت صدیق اکبر sym-5تک پہنچتا ہے۔

اسحق بن بشر و ابن عساکر حدیث طویل ذکر د جال میں حضرت عبداللہ بن عباس sym-8سے راوی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

فعند ذالك ينزل اخي عيسى بن مريم السماء على جبل افيق اماما هاديا وحكما عادلا عليه براس له موبوع الخلق اصلت سبطا لشعر بيده حربة يقتل الدجال تضع الحرب اوزارها وكان السلم فيلقى الرجل الأسد فلايهجه و يا خذ الحية فلا تضره وتنسبت الأرض كنباتها على عهد آدم ويو من به اهل الارض ويكون الناس اهل ملة واحدة
یعنی جب دجال نکلے گا اور سب سے پہلے ستر ہزار یہودی طیلسان پوش اس کے ساتھ ہو لیں گے اور لوگ اس کے سبب بلائے عظیم میں ہوں گے مسلمان سمٹ کر بیت المقدس میں جمع ہوں گے اُس وقت میرے بھائی عیسی بن مریم علیہما السلام آسمان سے کوہ افیق پر اتریں گے امام راہ نما ، حاکم ، عادل ہو کر ایک اونچی ٹوپی پہنے میانہ قد ، کشادہ پیشانی ، موئے سر سیدھے ہاتھ میں نیزہ جس سے دجال کو قتل کریں گے اس وقت لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دیگی اور سب جہان میں امن وامان کے ہو جائے گا۔ آدمی شیر سے ملے تو وہ جوش میں نہ آئے گا اور سانپ کو پکڑلے تو وہ نقصان نہ پہنچائے گا، کھتیاں اس رنگ پر اگیں گی جیسے زمانہ آدم علیہ السلام میں اُگا کرتی تھیں تمام اہل زمین ان پر ایمان لائیں گے اور سارے جہان میں صرف ایک دین اسلام ہوگا۔

حمد ابن البخار ان ہی سے راوی ہیں رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:

اذا سكن بنوك السواد ولبسوا السواد وكان شيعتهم اهل خراسان لم يزل هذا الامر فيهم حتى يدفعوه الى عيسى بن مريم
جب تمہاری اولا د دیہات میں بسے اور سیاہ لباس پہنیاور ان کے گروہ اہل خراسان ہوں جب سے خلافت ہمیشہ ان میں رہے گی یہاں تک کہ وہ اسے عیسی بن مریم کے سپرد کر دیں گے۔

ابن عساکر اُم المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ میں حضورﷺکے پہلو میں دفن کی جاؤں فرمایا:

اني لي بذالك الموضع ما فيه الأموضع قبری و قبر ابی بکر و عمر و عیسی بن مریم بھلا اس کی اجازت میں کیونکر دوں وہاں تو صرف میری قبر کی جگہ ہے اور ابو بکر و عمر و عیسی بن مریم علیہ السلام کی۔}}

ابو نعیم کتاب الفتن میں حضرت عبداللہ بن عمر sym-5 سے راوی ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

المحاصرون ببيت المقدس اذ ذاك مائة الف امرأة واثنان وعشرون الفاً مقاتلون اذ غشيتهم ضبابةمن عمام اذ تنكشف عنهم مع الصبح فاذا عيسى بين ظهرانيهم

اس وقت بیت المقدس میں ایک لاکھ عورتیں اور بائیس ہزار مرد جنگی محصور ہوں گے ناگاہ ایک ابر گھٹا ان پر چھائے گی صبحہوتے ہی کھلے گی تو دیکھیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام ان میں تشریف فرما ہیں۔

☆ مسند ابی یعلی میں حضرت ابو ہریرہ sym-5 سے ہے رسول اللہ ﷺ اللہ فرماتے ہیں:

والذين نفسی بیده لینزلن عيسى بن مريم ثم لئن قام على قبرى فقال يا محمد لاجيبنه
قسم اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بیشک عیسی بن مریم اتریں گے پھر اگر میری قبر پر کھڑے ہو کر مجھے پکاریں تو ضرور انہیں جواب دوں گا۔

ابو نعیم حلیہ میں عروہ بن رویم سے مرسلا راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حد خير هذه الامة اولها وآخرها اولها فيهم رسول اللهﷺ وآخرها فيهم عيسى بن مريم (الحديث) اس اُمت کے بہتر اول و آخر کے لوگ ہیں اول کے لوگوں میں رسول اللہ سی ای کی رونق افروز ہیں اور آخر کے لوگوں میں عیسی بن مریم علیہا السلام تشریف فرما ہونگے ۔

جامع ترندی میں حضرت عبداللہ بن سلام sym-5 سے ہے:

على الله مكتوب في التورة صفة محمد وعيسى يدفن معه
رب العزت نے تو رات مقدس میں حضور ﷺ کی صفت میں ارشاد فرمایا ہے کہ عیسی ان کے پاس دفن کئے جائیں گے۔
عليه الصلوة و السلام في المرقاة اى ومكتوب فيها ايضاً ان عيسى يدفن معه قال الطيبي هذا هو المكتوب في التورة

ابن عساکر حضرت ابو ہریرہ sym-5سے راوی ہیں کہ دور

يهبط عيسى بن مريم فيصلى الصلولة ويجمع الجمع ويريد فى الحلال کانی به تجده روا حله ببطن الروحاء حاجا او معمرا
عیسی بن مریم اتریں گے نماز پڑھیں گے، جمعہ قائم کریں گے، مال حلال کی افراط کردیں گے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ ان کی سواریاں انہیں تیز لئے جاتی ہیں بطن وادی روحا میں حج یا عمرے کے لئے۔
حضرت ترجمان القرآن sym-5 سے راوی:}}
لا تقوم الساعة حتى ينزل عيسى بن مريم على ذورة دافيق بيده حربة يقتل الدجال
اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ عیسی بن مریم علیہا السلام دافیق کی چوٹی پر نزول فرمائیں گے ہاتھ میں نزول لئے جس سے دجال کو قتل کریں گے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی:

ان المسيح بن مريم خارج قبل يوم القيامة وليستغن به الناس عمن سواه
بیشک مسیح بن مریم علیہما السلام قیامت سے پہلے ظہور فرمائیں گے آدمیوں کو ان کے سبب اور سب سے بے نیازی چاہیے۔ یہ امر بمعنی اخبار ہے زمانہ عیسیٰ علیہ السلام میں نہ کوئی قاضی ہوگا نہ کوئی مفتی اور بادشاہ انہیں کی طرف سب باتوں میں رجوع ہوگا۔

وہی حضرت عبد اللہ بن عمر sym-5سے ایک طویل ذکر مغیبات آئندہ میں راوی کہ چنین و چناں ہوگا پھر مسلمان قسطنطنیہ درومیہ کو فتح کریں گے پھر دجال نکلے گا اس کے زمانہ میں قحط شدید ہو گا۔

فبينما هم كذالك اذا سمعوا صوتاً من السماء البشر وافقداتاكم الغوث فيقولون نزل عيسى بن مريم فيستبشرون و ليستبشر بهم ويقولون سل روح الله فيقولون ان الله اكرم هذاه الامة فلا ينبغي لاحد ان يومهم الا منهم فيصلي امیر المومنين بالناس ويصلى عيسى خلفه
لوگ اس ضیق و پریشانی میں ہوں گے ناگاہ آسمان سے ایک آواز سنیں گے خوش ہو کر فریاد رس تمہارے پاس آیا مسلمان کہیں گے کہ عیسی بن مریم اُترے خوشیاں کریں گے اور عیسیٰ علیہ السلام انہیں دیکھ کر خوش ہوں گے مسلمان عرض کریں گے یا روح اللہ نماز پڑھائیے فرمائیں گے اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو عزت دی ہے اس کا امام انہی میں سے چاہیے ۔ امیر المؤمنین مہدی نماز پڑھائیں گے دجال کذاب جب عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا اور ان کی آواز پہچانے گا ایسا گلنے لگے گا جیسے آگ میں رانگ یا دھوپ میں چربی اگر روح اللہ نے ٹھہر نہ فرمایا ہوتا گل کر فنا ہو جاتا پس عیسیٰ علیہ السلام اس کی چھاتی میں نیزہ مار کر واصل جہنم کریں گے پھر اس کے لشکر یہود و منافقین ہوں گے اب لڑائی موقوف اور امن و چین کے دن آئیں گے یہاں تک کہ بھیڑیئے کے پہلو میں بکری بیٹھے گی اور وہ آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھے گا ، بچے سانپ سے کھیلیں گے وہ نہ کاٹے گا ساری دنیا عدل سے بھر جائے گی۔

پھر خروج یا جوج و ماجوج اور ان کے فنا وغیرہ کا حال بیان کر کے فرمایا:

وليقبض عيسى بن مريم ووليه المسلمون وعساوه و خنطوه و كفنه وصلوا عليه وخفر واله و دفنه (الحديث)

ان سب وقائع کے بعد عیسی بن مریم علیہما السلام وفات پائیں گے مسلمان ان کی تجہیز کریں گے ، نہلائیں گے ، خوشبو لگائے گئے، کفن دیں گے ، نماز پڑھیں گے، قبر کھود کر دفن کریں گے۔

مسلم شریف میں ہے کہ اسی دوران کہ دجال یونہی ہوگا (یعنی اپنے مذکورہ بالا کاموں میں ہو گا کہ اللہ تعالٰی سیدنا عیسیٰ sym-9کو مبعوث فرمائے گا وہ دمشق کی جامع مسجد ( بنوامیہ) کے سفید مشرقی مینارہ پر اتریں گے جو درمیان مہر اور ذتین واقع ہے ذتین ذال معجمہ کے ساتھ یعنی وہ دونوں ہلدی یا زعفران یا دورس (زرد) سے رنگے ہوئے ہوں گے اپنے دونوں ہاتھ فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوں گے جب وہ سر جھکا ئیں گے ان کے بالوں سے پانی کے قطرات گریں گے سر اٹھائیں گے تو ہر بال سے پانی کے قطرے سفید موتی جھڑیں گے (الجمان ای بضم الجيم وتخفيف المیم چاندی کے دانے جو بڑے موتیوں کی شکل پر بنائے جاتے ہیں) حضرت عیسی sym-9 کی خوشبو جس کا فر تک پہنچے گی وہ مر جائے گا آپ کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک آپ کی نگاہ پہنچے گی حضرت عیسی علیہ السلام اتر کر دجال کی تلاش میں نکلیں گے یہاں تک کہ اسے مقام لر میں پائیں گے تو اسے قتل کر دیں گے۔}}

فائده

hadith-verse

تمہارا غوث (فریادرس ) آگیا۔

تبصره أويسى غفرله

انبیاء علیہم السلام و اولیاء عظام کو غوث ( فریادرس ) ماننا تا قیامت اہل اسلام کا طریقہ ہے اور آج کل یہی طریقہ اہل سنت کو نصیب ہے۔ ثابت ہوا دور حاضر میں اہل سنت کے سوا تمام مذاہب باطل ہیں کیونکہ سید نا عیسیٰ sym-5و امام مہدی sym-5 کے دور میں تمام بد مذاہب مٹ جائیں گے ان کے ساتھ صرف اہل حق ہوں گے اور ان کے عقائد و معمولات یہی ہوں گے جو آج اہلِ سنت بریلوی حضرات کو نصیب ہیں۔ الحمد للہ علی ذلک )

سيدنا عيسى sym-9 كا بعد نزول شغل کیا ہوگا؟

لوگ کہیں گے یہ آواز دینے والا شکم سیر ہے ( قوی اور مضبوط ہے ) اس کی آمد سے زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہوگئی ہے سید نا عیسی sym-9آسمان سے اترتے ہیں کہیں گے مسلمانو! اپنے رب تعالیٰ کی حمد و تسبیح کرو کیونکہ یہی حمد و تسبیحان کی روزی رزق رہی (جیسے پہلے گزرا ہے ) سیدنا عیسی sym-9کی آمد سے دجال کے ماننے والے فرار اختیار کریں گے اللہ تعالیٰ ان پر زمین تنگ کر دے گا تو مقام لر تک آدھے گھنٹے میں پہنچتے ہی حضرت عیسی sym-9 ان کے ساتھ مل جائیں گے جب دجال حضرت عیسی sym-9 کو دیکھے گا تو اپنے بعض ساتھیوں سے کہے گا

اقم الصلوة
نماز کے لئے اقامت کہہ

یہ حضرت عیسی sym-9 کے خوف سے کہے گا آپ کو کہے گا اے اللہ تعالیٰ کے نبی ! نماز کی اقامت کہی جا چکی ہے آپ فرمائیں گے اے دشمن خدا کیا تیرا گمان ہے کہ تو رب العالمین ہے ؟ جب تیرا یہ گمان ہے تو پھر تو کس کی نماز پڑھتا ہے یہ کہہ کر اسے چابک مار کر قتل کر دیں گے۔

تطبيق الروايات:

مذکورہ بالا بیان میں روایات مختلف طریقوں سے مروی ہوتی ہیں ان کے درمیان تطبیق یوں ہوگی کہ حضرت عیسی sym-9سب سے پہلے جامع مسجد دمشق کے سفید منارہ پر اتریں گے اور یہ منارہ اب بھی موجود ہے۔ فقیر اویسی کی طرحجو بھی دمشق گئے ہیں سب نے اس منارہ مشرقی کی زیارت کی ہے جس سال ہم گئے اس مسجد کی طرف سے دروازہ مقفل تھا وجہ یہ بتائی گئی کہ جھوٹا اُوپر چڑھ کر دعویٰ نہ کر دے کہ وہ حضرت عیسی sym-9 ہے۔ (اویسی غفرلہ )

سید نا عیسی sym-9آسمان سے دن کو اتریں گے اُس وقت دن کے چھ گھنٹے گزر چکے ہوں گے جیسا کہ فتوحات مکیہ کا بیان گزر چکا ہے آپ اُترتے ہی ظہر کی نماز پڑھائیں گے اس سے احتمال ہوتا ہے کہ آپ ظہر کے بعد اُتریں گے یہودو نصاری کو زد و کوب کی مشغولی کی وجہ سے عصر کی نماز کا وقت ہو جائے گا آپ جامع مسجد اموی (دمشق) میں عصر کی نماز پڑھائیں گے پھر بیت المقدس کے مسلمانوں کے لئے غوث ( فریاد رس ) بن کر تشریف لے جائیں گے۔ عبارت کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔

ثم ياتي الى بيت المقدس غوث للمسلمين
پھر بیت المقدس کے مسلمانوں کے لئے غوث (فریادرس ) بن کر تشریف لے جائیں گے۔ 2

بيت المقدس میں صبح کی نماز کے وقت پہنچیں گے اس وقت امام مہدی sym-5 کی امامت کے لئے صبح کی نماز میں اقامت کہی جا چکی ہوگی تمام یا بعض لوگ تکبیر کہہ کر نماز میں مشغول ہوں گے حضرت عیسی sym-9 کو دیکھ کر جنہوں نے ابھی تکبیر تحریمہ نہیں کہی ہو گی آپ کا استقبال کریں گے ۔ آپ نماز کے لئے آئیں گے تو امام مہدی sym-5 نماز میں مشغول ہوں گے آپ کا سن کر امام مہدی sym-5 مصلی سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ فرمائیں گے۔ حضرت عیسی sym-9کو نماز پڑھانے کا وہ لوگ عرض کریں گے جنہوں نے ابھی تکبیر تحریمہ نہیں کہی ہوگی کہ آپ امامت کرائیں آپ کہیں گے تمہارا ہی امام نماز پڑھائے گا۔

فائده:

یہ سارا معاملہ یوں ہو گا کہ امام مہدی sym-5 عملاً حضرت عیسی sym-9 کو امامت کا عرض کریں گے اور جنہوں نے تکبیر تحریمہ نہیں کہی ہوگی وہ آپ کو قولاً عرض کریں گے یہ تاویل اس لئے عرض کی ہے تا کہ عملاً وقولاً دونوں طرح سے حدیث کی تطبیق ہو جب صبح کی نماز ہو جائے گی تو آپ دجال والوں کا پیچھا کریں تو زمین ان پر تنگ ہو جائے گی آپ ان کے پیچھے چلتے چلتے مقام لد تک پہنچ جائیں گے اُس وقت ظہر کی نماز کا وقت ہو جائے گا۔ دجال حیلہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہے گا نماز کی اقامت کہو جب وہ ملعون دیکھے گا کہ اس سے بھی چھٹکارا نہیں ہوگا تو حضرت عیسیٰ sym-9کے خوف سے نمک کی طرح پگھلے گا۔ حضرت عیسی sym-9 اسے پکڑ کر قتل کر دیں گے یا یہ کہ بے وقت نماز کے لئے ساتھیوں کو کہے گا یہی زیادہ مناسب ہے اس کی گمراہی اور اللہ تعالیٰ سے جہالت کی یہی بہتر دلیل ہے اس کے قریب وہ حدیث ہے جو ابن المنادی نے حضرت علی المرتضی sym-5 سے روایت کی ہے کہ دجال کو اللہ تعالیٰ شام میں عقبة دافیق پر دن کے تین گھنٹے گزرنے کے بعد حضرت عیسی sym-9 کے ہاتھوں قتل کرائے گا۔

فائده:

لفظ غوث اہل سنت کی تائید ہے کہ ہم انبیاء کرام و اولیاء عظام کو بعطائے الہی غوث مانتے ہیں دوسرے بد مذہب اس اطلاق کو شرک کہتے ہیں۔ (اویسی غفرلہ )

تحقیقی قول:

یہاں ایک تحقیق اور ہے وہ یہ کہ دجال کے چھوٹے دنوں میں یہی آخری دن ہو گا اور ان دنوں میں نماز اندازہ اور تخمینہ سے ادا کی جائے گی اس معنی پر دجال کا نماز کے لئے کہنا اسی اندازہ پر ہوگا جو کہ مسلمانوں کے لئے وہ عصر کی نماز کا وقت ہو گا علاوہ ازیں اس میں بھی اشکال نہیں کہ حضرت عیسیٰ sym-9 آسمان سے جامع مسجد دمشق میں دن کے چھ گھنٹے گزرنے پر اتریں گے اور آپ عصر کی نماز پڑھائیں گے کیونکہ اس تطبیق سے واضح ہو گیا کہ یہ تمام امور دجال کی وجہ سے تخمینہ کے طور طے ہوں گے یہی تحقیقی جواب ہے اور اللہ تعالی ہی حق کی ہدایت دیتا ہے اور وہی سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔

حضرت عيسى sym-9 امتى مصطفى :

حضورﷺ نے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ sym-9میری اُمت میں حاکم ، عادل اور امام انصاف والے ہوں گے۔

اس کا کامل و مکمل واقعہ آگے آئے گا انشاء اللہ ۔ فقیر اویسی کا اس بارے میں رسالہ اعلام ارباب العقول بشغل عیسی[symbol بعد النزول] عرف نزول کے بعد عیسی sym-9کے مشاغل مطبوعہ صدیقی پبلشر ز گلستان جو ہر کراچی قابل مطالعہ ہے۔(اویسی غفرلہ )

سیدہ عائشہ صدیقہsym-6سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ سیدنا عیسیsym-9نزول فرما کر دجال کو قتل کریں گے اور وہ زمین پر امام عادل اور حاکم انصاف کرنے والے ہو کر چالیس برس گزاریں گے۔(رواه احمد ابو یعلی و ابن عساکر )

حضرت ابو ہریرہ sym-5 سے مروی ہے کہ فرمایا سید نا عیسیٰ بن مریم علیہما السلام زمین پر چالیس سال بسر فرمائیں گے اگر وہ پتھریلی زمین کو فرمائیں کہ وہ شہد بہائے تو وہ شہد بہائے گی۔ (رواہ احمد فی الزہد )

فائده:

ایک روایت میں ہے پینتالیس سال زندگی بسر فرمائیں گے قاعدہ حدیث ہے کہ قلیل کثیر کے منافی نہیں ہوتا جن روایات میں چالیس کا ذکر ہے ان میں کسر متروک ہے چالیس کے عدد میں کسر نہیں ہے اور پینتالیس میں کسر ہے اسی کسر کی وجہ سے اس کو مندرجہ بالا روایات میں پینتالیس کو ترک کر دیا گیا۔

سوال:

ایک روایت میں سات سال کا ذکر ہے اوپر کی روایات میں چالیس سال ہے۔

جواب:

بعض نے کہا ہے کہ جب سیدنا عیسی sym-9 آسمان پر اُٹھائے گئے اس وقت آپ کی عمر تینتیس سال تھی اور نزول کے بعد سات سال گزاریں گے اس طرح چالیس ہوئے پہلے عرض کیا گیا کہ قلیل کثیر کے منافی نہیں ہوتا اب تطبیق کی ضرورت بھی نہیں۔

حضرت ابو ہریرہ sym-5سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا حضرت عیسی sym-9 زمین پر نزول فرما کر خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو مٹائیں گے، ان کے لئے نماز با جماعت کا اہتمام ہوگا، عوام کو اتنا مال دیں گے کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا ، خراج معاف کریں گے، روحاء وادی پر نزول ہو کر حج یا عمرہ کریں گے یا دونوں ( حج وعمرہ اکٹھا کریں گے۔ (رواہ احمد وابن جریر و ابن عساکر )

حضرت عیسی sym-9 نے روحاء سے حج یا عمرے کے لئے احرام باندھیں گے یا دونوں ( حج وعمرہ اکٹھا ادا کریں گے)۔ (رواہ مسلم)

فائده:

الج بمعنى الطريق (راستہ) الرحاء مدینہ پاک کے درمیان ایک جگہ اور وادی صفراء مکہ معظمہ کے راستہ پر ہے۔

حضرت ابن مریم علیہما السلامحاکم ، عادل اور امام انصاف بن کر اُتریں گے اور راستہ میں ٹھہریں گے حج یا عمرہ کے ارادہ پر اور میرے مزار پر آئیں گے۔ الصلوٰۃ والسلام عرض کریں گے میں ان کے سلام کا جواب دوں گا۔ ( رواه الحاکم و صحه و ابن عساکر )

تبصره أويسى غفرله

اس روایت میں حضور ﷺ کے علم غیب کا ثبوت ہے۔

براه راست مزار کی حاضری کا ذکر ابن تیمیہ اور نجدیوں ، وہابیوں کے منہ پر طمانچہ ہے کہ براہ راست مزار کی زیارت کے سفر کا عزم جب کہ یہ صاحبان کہتے ہیں کہ براہ راست مزار کا سفر حرام ہے مسجد نبوی کی نیت ہو پھر طفیلی مزار پاک کی زیارت ہو اس حدیث شریف میں حضور ﷺنے مسجد شریف کا ذکر تک نہیں فرمایا۔

نبی پاک ﷺ کی حیات حقیقی واضح ہے کہ حضرت عیسی sym-9 کو سلام کا جواب عنایت فرمائیں گے۔

فائده:

حضرت ابو ہریرہ sym-5 نے فرمایا کہ اے بھائیو! اگر تم حضرت عیسی sym-9 کو دیکھو تو کہنا آپ کو ابو ہریرہ sym-5سلام عرض کرتے ہیں۔

حضرت انس sym-5سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا جو تم سے حضرت عیسی sym-9 سے ملے تو انہیں میری جانب سے سلام کہہ دے۔ (رواہ حاکم )

سيدنا عيسى sym-9کا نکاح:

حدیث میں وارد ہے کہ سیدنا عیسیٰ sym-9نزول کے بعد نکاح کریں گے اور ان کے بچے پیدا ہوں گے پھر وہ مدینہ پاک میں وفات پائیں گے۔

فائده:

شاید آپ (سید نا عیسی sym-9) کی وفات حج اور زیارت نبی پاک ﷺ کے بعد ہو گی ورنہ اس سے قبل تو وہ بیت المقدس میں ہوں گے۔

احادیث مبارکہ:

حضرت عبداللہ بن سلام sym-5فرماتے ہیں کہ تو رات میں حضور ﷺکی صفات لکھی ہوئی ہیں اور یہ بھی مکتوب ہے کہ سید نا عیسیٰ sym-9 حضورﷺ کے ساتھ مدفون ہوں گے۔ (رواہ الترمذی و حسنہ و ابن عساکر )

سیدنا عیسیٰ sym-9 رسول اکرمﷺ اور آپ کے ساتھیوں حضرت ابو بکر و حضرت عمر sym-8کے ساتھ مدفون ہوں گے روضہ اقدس میں چوتھی قبر حضرت عیسی sym-9 کی ہے۔ (رواہ البخاری فی تاریخ وطبرانی و ابن عساکر ) بقاعی نے سرالروح میں لکھا ہے کہ ابن المراغی نے تاریخ المدینہ میں اور منتظم میں ابن الجوزی نے لکھا ہے که حضرت ابن عمر sym-5سے مرفوعاً مروی ہے کہ عیسیٰ sym-9 زمین پر اتریں گے نکاح و بیاہ کریں گے آپ کے بچے پیدا ہوں گے پینتالیس سال زمین پر گزاریں گے پھر وفات پائیں گے اور میرے ساتھ مدفون ہوگے۔ قیامت میں میں اور عیسیٰ sym-9مزار سے اکٹھے اُٹھیں گے درمیان ابو بکر و عمر (رضی اللہ تعالی عنہم )

اس روایت کو القرطبی نے تذکرہ کے آخر میں اسے ابو حفص المیانشی کی طرف منسوب کیا ہے اور الاشاعة لاشراط الساعةمَا قَتَلُوهُ کا ترجمہ قیامت کی نشانیاں از اویسی غفرلہ میں بہترین تحقیق و تفصیل ہے۔

فقط والسلام

وصلى الله تعالى على حبيبه الكريم وعلى آله واصحابه اجمعين

مدینے کا بھکاری

الفقير القادري ابو الصالح محمد فیض احمد اویسی رضوی غفر له

۶ ذوالحجه ۱۴۲۵


  • 1 پاره ۷ ، سورۃ النساء، آیت ۱۵۹
  • 2 الاشاعة لا شراط الساعة ، صفحه ۲۸۴، مطبوعہ دار المنهاج جدہ سعودیہ

Netsol OnlinePowered by