بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
وعلى آله واصحابه اجمعين
أما بعد!
حضرت عیسی
کے متعلق اہل اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ حضرت سیدہ بی بی مریم علیھا السلام کے بطن مبارک سے محض اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت سے بغیر باپ پیدا ہوئے پھر بنی اسرائیل کی طرف نبی بن کر مبعوث ہوئے۔ یہود نے ان سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا اور ان کو نبی ماننے سے انکار کر دیا۔ آخر کار جب ایک موقع پر یہود نے ان کے قتل کی مذموم کوشش کی تو بحکم خداوندی فرشتے ان کو اٹھا کر زندہ سلامت آسمان پر لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو طویل عمر عطا فرمادی۔ قرب قیامت میں جب دجال کا ظہور ہو گا اور وہ دنیا میں فتنہ و فساد پھیلائے گا تو حضرت عیسی
دوبارہ قیامت کی ایک بڑی علامت کے طور پر نازل ہونگے اور دجال کو قتل کریں گے۔ دنیا میں آپ کا نزول ایک عادل کی حیثیت سے ہوگا اور اس امت میں آپ حضور ﷺکے خلیفہ ہوں گے اور قرآن وحدیث ( اسلامی شریعت) پر خود بھی عمل کریں گے اور لوگوں کو بھی اس پر چلا ئیں گے۔ ان کے زمانہ میں ( جو اس امت کا آخری دور ہو گا ) اسلام کے سوا دنیا کے تمام مذاہب مٹ جائیں گے اور دنیا میں کوئی کا فرنہیں رہے گا، اس لئے جہاد کا حکم موقوف ہو جائے گا، نہ خراج وصول کیا جائے گا اور نہ جزیہ، مال وزر اتنا عام ہوگا کہ کوئی دوسرے سے قبول نہیں کرے گا۔ نزول کے بعد حضرت عیسٰی
نکاح بھی فرمائیں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی پھر حضرت عیسی
کی وفات ہو جائے گی اور مسلمان آپ کی نمازہ جنازہ پڑھ کر حضور اقدس ﷺ کے روضہ اقدس میں دفن کر دیں گے۔ یہ تمام امور احادیث صحیحہ متواترہ میں پوری وضاحت کیساتھ بیان کئے گئے ہیں جن کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے۔
اہل اسلام کے عقیدہ کا خلاصہ یہ ہوا کہ حضرت عیسی
اللہ کے بندے اور سچے رسول تھے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی الہامی کتاب توریت ان پر نازل فرمائی۔ یہود نے ان کے قتل کی نا پاک کوشش کی تو اللہ تعالی نے ان کو بجسد عصری آسمان پر زندہ اٹھالیا اب وہاں بقید حیات موجود ہیں اور قیامت کے قریب دنیا میں تشریف لائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے پھر طبعی موت وفات پا کر حضرت نبی پاکﷺ کے روضہ مبارک میں مدفون ہونگے۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں:قرآن کریم قرآن کریم نے بہت واضح طریقہ سے حضرت عیسی
کے زندہ اُٹھائے جانے کو بیان کیا ہے:
یعنی کفار بنی اسرائیل نے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ مگر کیا کہ دھوکے کے ساتھ آپ کے قتل کا انتظام کیا اور اپنے ایک شخص کو اس کام پر مقرر کر دیا۔
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَبَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِن شُبِهِ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ بِقِينًا - بَل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهَ عَزِيزًا حَكِيمًا2اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسی بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا اور ہے یہ کہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کے لئے اُس کی شبیہ کا ایک بنا دیا گیا اور وہ جو اس کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شہبہ میں پڑے ہوئے ہیں انہیں اس کی کچھ بھی خبر نہیں مگر یہی گمان کی پیروی اور بے شک انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
صحیح احادیث مبارکہ میں بھی حضرت عیسی
کے زندہ اُٹھائے جانے اور قرب قیامت میں دوبارہ تشریف لانے کو بارہا بیان کیا گیا ہے۔
وعن الحسن البصرى قال قال رسول اللهﷺ لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة2
حضرت حسن بصریسے روایت ہے کہ رسول اللہ نے یہود کو فرمایا بے شک عیسی علیہ السلام نہیں مرے اور بے شک وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹ کر آنے والے ہیں۔
الستم تعلمون ان ربنا حي لا يموت وان عيسى ياتي عليه الفناء3
کیا تم نہیں جانتے یہ کہ ہمارا پروردگار زندہ ہے، نہیں مرے گا اور پیشک عیسیپر فتا آنے والی ہے یا آئے گی۔
حضرت جابرراوی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عیسی ابن مریم نازل ہونگے تو مسلمانوں کا امیران سے کہے گا آگے تشریف لائے اور نماز پڑھائے تو وہ عرض کریں گے نہیں تم لوگ خود ایک دوسرے کے امیر ہو اور اللہ کی جانب سے یہ اس امت کا اکرام ہے۔ (مسلم)
حضرت نواس بن سمعان کہتے ہیں کہ دجال کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے) اسی دوران اللہ تعالی مسیح ابن مریم کو بھیجیں گے وہ زرد رنگ کے دو کپڑوں میں ملبوس دو فرشتوں کے بازوں کو تھامے ہوئے دمشق کے مشرقی حصہ میں سفید منارہ کے پاس اتریں گے جب وہ سر جھکائیں گے تو موتی کی طرح قطرے ڈھلکتے دکھائی پڑیں گے لد کے دروازے پر دجال کو پکڑ کر قتل کریں گے۔ (مسلم)
حضرت جابر بن عبداللہ(دجال کا قصہ بیان کرتے ہوئے) فرماتے ہیں کہ اس وقت اچانک حضرت عیسیٰ مسلمانوں کے پاس پہنچیں گے نماز کھڑی ہو رہی ہو گی ان سے کہا جائے گا کہ اے روح اللہ آگے بڑھئے ۔ وہ کہیں گے تمہارا امام ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا۔ نماز سے فارغ ہو کر لوگ دجال کے مقابلے کے لئے : نکلیں گے دجال حضرت عیسی
کو دیکھ کر ایسا گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھل . جاتا ہے۔ پھر حضرت عیسی آگے بڑھ کر اس کو قتل کر دیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ شجر و حجر آواز لگا ئیں گے کہ اے روح اللہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہے ، چنانچہ وہ دجال کے چیلوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ (مسند احمد )
اس کی تفصیل احادیث مبارکہ میں ہے کہ إذ بعث الله المسيح ابن مريم، فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق آسمان سے جامع مسجد دمشق کے شرقی مینارہ پر نزول فرمائیں گے۔(صحیح مسلم ، کتاب الفتن ، باب ذکر الدجال )
صبح کا وقت ہوگا، نماز فجر کے لیے اقامت ہو چکی ہوگی ، حضرت امام مہدی کو کہ اس جماعت میں موجود ہوں گے امامت کا حکم دیں گے، حضرت امام مہدینماز پڑھائیں گے۔
قال رسول الله ﷺولا يجد ريح نفسه يعنى أحداً إلا مات، وريح نفسه منتهى بصره، قال : فيطلبه حتى يدر كه بباب لد فيقتله . (سنن الترندى، كتاب الفتن ، باب ما جاء في فتنة الدجال )نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ لعین دجال حضرت عیسی
کی سانس کی خوشبو . سے پکھلنا شروع ہوگا، جیسے پانی میں نمک گھلتا ہے اور اُن کی سائنس کی خوشبو حد بھر تک پہنچے گی، وہ بھاگے گا، یہ تعاقب فرمائیں گے اور اُس کی پیٹھ میں نیزہ ماریں گے، اُس سے وہ جہنم واصل ہوگا۔}}فرمايا:ويفيض المال حتى لا يقبله أحد(صحیح البخاری، كتاب أحاديث الأنبياء، باب نزول عیسی ابن مریم علیهما السلام)
یعنی حضرت عیسیکے زمانہ میں مال کی کثرت ہوگی، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو مال دے گا تو وہ قبول نہ کریگا ۔
، نیز اس زمانہ میں عداوت و بغض و حسد آپس میں بالکل نہ ہوگا۔
وعن أبي هريرة رضى الله عنه أن النبي ﷺ قال : وتقع الآمنة على أهل الأرض حتى ترعى الأسود مع الإبل و النمور مع البقر والذهاب مع الغنم ويلعب الصبيان مع الحيات لأنضرهم، فيمكث أربعين سنة ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون المتدرک للحاکم، باب ابو عیسی)
حضرت ابو ہریرہسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا حضرت عیسی
کا جب دنیا پر نزول ہو گا تو بچے سانپ سے کھیلیں گے اور شیر اور بکری ایک ساتھ چریں گے یہ چالیس برس تک اقامت فرمائیں گے۔ نکاح کریں گے، اولا د بھی ہوگی ، بعد وفات روضہ انور میں دفن ہونگے ۔
حضرت ابو ہریرہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ وقت ضرور آئے گا جب تم میں اے امت محمد یہ ابن مریم حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہو کر صلیب کو توڑیں گے یعنی صلیب پرستی ختم کریں گے خنزیر کو قتل کر کے جنگ کا خاتمہ کریں گے اور مال و دولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور لوگ ایسے دین دار ہو جائیں گے کہ ان کے نزدیک ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہوگا۔
(تفصیل کیلئے دیکھئے فقیر کی تصنیف قیامت کی نشانیاں اویسی غفرلہ )
اکابرین امت کی نظر میں:جس عقیدے پر خدا تعالی کا عہد ہو، جس عقیدے کے تمام انبیاء کرام
قائل ہوں اور جس عقیدہ کو نبی کریم ملی ہم نے متواتر احادیث میں ارشاد فرمایا ہو، ظاہر ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا عقیدہ اس کے خلاف نہیں ہو سکتا، یہاں چند حضرت صحابه کرام رضی اللہ عنہم کا مذہب نقل کیا جاتا ہے۔
:نبی کریم ﷺ کی رحلت کا سانحہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لئے جس قدر مبر آزما تھا، اس کا اندازہ ہم لوگ نہیں کر سکتے ۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم میں بعض کھڑے کے کھڑے رہ گئے وہ بیٹھ نہیں سکے بعض جو بیٹھے تھے ان میں اٹھنے کی سکت نہیں تھی۔ بعض کی گویائی جواب دے گئی بعض از خود رفتہ ہو گئے ادھر منافقوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ اگر آپ مالی یہ اللہ کے سچے رسول ہوتے تو آپ منی ایم کی وفات کیوں ہوتی، آپ میں الیوم کی وفات کی خبر سن کر اسی ربودگی و بے قراری کی حالت میں حضرت عمر
نے اعلان فرمایا:
من قال ان محمدامات فقتلته بسيفى هذا وانما رفع الى السماء . كما رفع عيسى بن مريم(الملل واخل لابن حزم ج)
جو شخص یہ کہے گا کہ مہم مل کر فوت ہو گئے ہیں اسے اپنی تہوار سے قتل کر دوں گا۔ آپ ملی تو اسی طرح آسمان پر اٹھائے گئے ہیں جس طرح کہ حضرت عیسیاٹھا لیے گئے۔
اس موقع پر حضرت سیدنا عمر فاروق
نے وصال نبوی کو تشبیہ دی حضرت عیسی
کے آسمان پر اٹھائے جانے کیسا تھ اور تشبیہ اسی چیز کیساتھ دی جایا کرتی ہے جو مشہور و مسلم ہو چونکہ یہ واقعہ قرآن کریم میں مذکور ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے نزدیک بالا اتفاق معروف و مسلم تھا۔ اس لئے حضرت عمر
نے ان کو مشبہ مشبہ بہ کے طور پر پیش کیا۔
امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت ہے:
يقفله الله تعالى بالشام على عقبه يقال لها: عقبة افيق لثلاث ساعات يمضين من النهار على يدى عيسى بن مريم
اللہ تعالی عیسی بن مریمکے ہاتھ سے دجال کو قتل کرے گا، ملک شام میں تین گھڑی دن چڑھے، ایک گھائی پر، جس کو افیق کی گھائی کہا جاتا ۔ ہے۔ (کنز العمال ج ۴۱)
امام ترمذی
نے امام ترمذی رحمہ اللہ نے باب ما جاء فی قتل عیسی بن مریم الدجال میں حضرت مجمع بن جاریہ کی یہ حدیث نقل کی ہے :
سَمِعْتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يقتل ابن مريم الدجال بباب لد
میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ حضرت عیسی بن مریمدجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔ اس موضوع کی حدیث مزید پندرہ صحابہ سے بھی مروی ہے۔
حضرات تابعین کا حیات و نزول عیسی
کے بارے میں عقیدہ:
جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد ہم حضرات تابعین کے دور کو لیتے ہیں ؟
حضرات صحابہ کرام اور بعد کی امت کے درمیان واسطہ ہیں اور جنہوں نے علوم نبوت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ارشادات امت تک منتقل کئے ہیں۔ حضرات تابعین ہے میں ایک شخص کا بھی نام نہیں ملتا جو حضرت عیسی
کے رفع و نزول کا منکر ہو۔ اس کے برعکس ان حضرات تابعین کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے جن سے حضرت عیسیٰ
کے رفع آسمانی، ان کی حیات اور قرب قیامت میں ان کے دوبارہ تشریف لانے کا عقیدہ منقول ہے۔ یہاں چندا کابر تابعین کا حوالہ دینا کافی ہوگا۔
امام حسن بصری (م 119)جن کی شہرہ آفاق شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ تفسیر در منثورج ص میں ان کا یہ ارشاد نقل کیا ہے :
ان الله رفع اليه عيسى وهو باعثه قبل يوم القيامة مقاما يؤمن به البر والفاجر4
بے شک اللہ تعالیٰ نے عیسیٰکو اپنی طرف آسمان پر اٹھا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ بھیجیں گے۔ تب ان پر تمام نیک و بد ایمان لائیں گے۔
کے بارے میں عقیدہ:حضرات تابعین ﷺ کے بعد اُمت اسلامیہ کے سب سے بڑے مقتدا ائمہ اربعه، امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمھم اللہ ہیں۔ چنانچہ بعد کی پوری امت ان کی جلالت قدر پر متفق ہے۔ یہ حضرات بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع و نزول کا عقیدہ رکھتے تھے۔ ان حضرات کا صرف ایک ایک قول ذکر کرتے ہیں۔
:الامام الاعظم ابو حنيقه نعمان بن ثابت الكوفي رحمه الله (م۱۵۰ه) فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:
وخروج الدجال ويأجوج وماجوج وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسىمن السماء وسائر علامات يوم القيامة على ما وردت به الأخبار الصحيحة حق كائن والله يهدي من يشاء الى صراط مستقیم (شرح فقہ اکبر ملا علی قاری میں مطبوعہ مجتبائی ) .
دجال اور یا جوج و ماجوج کا نکلنا اور آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہوتا اور عیسیکا آسمان سے نازل ہونا اور دیگر علامات قیامت جیسا کہ احادیث صحیحہ ان میں وارد ہوئی ہیں سب حق ہیں ، ضرور ہونگی۔
امام دار الحجرة مالک بن انس الا صبحی العتیبیہ میں فرماتے ہیں:
قال مالك بين الناس قيام يستمعون لاقامة الصلوة فتغشاهم غمامة فاذا عيسى قد نزل5
دریں اثنا کہ لوگ کھڑے نماز کی اقامت سن رہے ہوں گے اتنے میں ان کو ایک بدلی ڈھانک لے گی ، کیا دیکھتے ہیں کہ عیسینازل ہو چکے ہیں۔
:امام احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی (م۱۴۲ھ) کی کتاب مجلد چھ ضخیم جلدوں میں اُمت کے سامنے موجود ہے، جس میں بہت سی جگہ نزول عیسی
کا عقیدہ درج ہے۔ حوالہ کے لئے مندرجہ ذیل صفحات کی مراجعت کی جائے۔
جلد اول : جلد دوم : ، ، ، جلد سوم : ۔ جلد چہارم ، جلد پنجم : ۔ جلد ششم
قادیانی قرآنی آیت یعيسى إني مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا 6
اے عیسی میں تمہیں وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کافروں سے تمہیں پاک کرنیوالا ہوں۔
جواب۔ یہاں اللہ کی طرف اٹھانے سے مراد آسمان کی طرف اٹھاتا ہے کیونکہ اگر چه زمین و آسمان ہر چیز خدا تعالیٰ ہی کی ہے لیکن آسمان خصوصیت سے تجلی گاہ الہی ہے کہ نہ وہاں کسی کی ظاہری بادشاہت ہے نہ کفر و شرک و گناہ لہذا آسمان پر جانا گویا خدا کے پاس جاتا ہے۔ اس لئے فرمایا گیا : آمنتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاءِ ( الملك) يا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا : انی ذاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِين ) میں اپنے رب کی طرف جارہا ہوں وہ مجھے ہدایت کر دیگا (پ، الفت ) حالانکہ آپ شام کے ملک میں جارہے تھے مگر چونکہ شام آپ کا عبادت گاہ تھا۔ اس لئے وہاں جانا رب کے پاس جانا قرار دیا گیا ۔ اس لئے مسجدوں کو اللہ کا گھر کہا جاتا ہے خدا وہاں رہتا نہیں مگر چونکہ وہاں کسی کا کام نہیں ہوتا اور نہ مسجد کسی انسان کی ملک ہے۔ لہذا وہ خدا کا گھر ہے۔
اعتراض: اس آیت میں فرمایا گیا: ایسی مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ میں تمہیں وفات دوں گا اور اٹھاؤں گا۔ یہاں وفات کا ذکر پہلے ہے اور اٹھانے کا ذکر بعد میں معلوم . ہوا کہ عیسی
کو موت کے بعد اٹھایا گیا نہ کہ موت سے پہلے۔ (قادیانی)}}جواب: اگر یہاں وفات کے معنی موت مان لئے جائیں تو بھی واؤ کیلئے ترتیب لازم نہیں بہت جگہ ترتیب کے خلاف ہوتا ہے۔ لہذا یہاں معنی یہ ہوئے کہ میں پہلے تمہیں اٹھاؤں گا پھر موت دوں گا جیسا کہ ان آیتوں میں ہے۔
(1) وَاسْجُدِي وَارْكَعِي7
انے مریم تم سجدہ کرو اور رکوع کرو۔
(2) خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمُ8
اللہ نے پیدا کیا تم کو اور ان کو جو تم سے پہلے تھے۔
(3) نموتُ وَ نَحْيَا9
ہم مریں گے اور جئیں گے
(4) خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَوَاتِ الْعُلَى 10
اللہ نے پیدا کیا زمین کو اور اونچے آسمانوں کو۔
(5) خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ .11
اس اللہ نے پیدا کیا موت اور زندگی کو ۔
(6) وَ لَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ12
اور بے شک وحی کی گئی تمہاری طرف اور ان پیغمبروں کی طرف جو تم سے پہلے 65 تھے۔
ان تمام آیات میں واؤ ترتیب کے خلاف ہے۔ ایسے ہی اس آیت میں ہے اور اگر واؤ یہاں ترتیب بتائے تب متوفيك میں جو وفات یا توئی مذکور ہے۔ اس سے موت مراد نہیں سلانا یا پورا لینا مراد ہے قرآن شریف میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے تو معنی یہ ہوئے کہ اے عیسی میں تمہیں سلا کر اپنی طرف اٹھاؤں گا یا میں تمہیں پورا پورا جسم مع روح اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ رب تعالی فرماتا ہے : و ابراهيم الَّذِي وَفی یہاں ولی کے معنی ہیں پورا کیا۔ فرماتا ہے : يَتَوَفَّكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ13 یہاں وفات کے معنی سلانا ہیں یعنی رب تعالٰی تم کو کوراتی رات میں سلا دیتا ہے، وہی معنی یہاں مراد ہیں۔
اسلامی عقیدے کے مطابق نبی کریمﷺسے قبل کم وبیش سوالا کھ انبیاء کرام علیہم السلام دنیا میں بھیجے گئے ہیں۔ اسلام میں ان تمام پر ایمان اور انکی تعظیم و تکریم ضروری ہے اور کسی بھی نبی کی شان میں اونی تو ہین بھی انسان کو کفر کی اتھاہ گہرائیوں میں پنچ دیتی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے تمام انبیاء کرام میھم السلام کی توہین کی اور بالخصوص حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں وہ زبان استعمال کی کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ آپ بھی دل تھام کر مندرجہ ذیل حوالہ جات حوالہ پڑھئے:
خدا نے اس وقت میں مسیح موعود بھیجا جواس پہلے بیچ ( عیسیٰ علیہ السلام) سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ 14
حضرت عیسی علیہ السلام سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولا د ٹھہرایا۔ 5 یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا اس کا سبب تو یہ تھا کہ
حضرت عیسی علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ 15 عیسی علیہ السلام کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسی عورتیں تھیں۔16
حضرت عیسی علیہ السلام جلیل القدر صاحب شریعت پیغمبر ہیں۔ جیسے آپ کی نبوت کی زندگی معجزات سے پُر ہے ایسے ہی آپ کی ولادت بھی معجزہ ہے۔ کیونکہ آپ بن باپ پیدا ہوئے جس کا تفصیلی ذکر سورۃ مریم میں ہے۔ جبکہ مرزا قادیانی نے نا صرف آپ کی ولادت بن باپ کا انکار کیا ہے بلکہ آپ کی ولادت کا بڑے گستاخانہ طریقہ سے استہزاء کیا ہے اور ایسے ہی آپ کی والدہ ماجدہ جناب مریم صدیقہ مطہرہ علیھا السلام کی پاکدامنی کا انکار کرتے ہوئے یہودیوں کے بھی کان کترے ہیں۔ ۔
قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت مریم علیھا السلام کے یوسف نجار نامی شخص . سے تعلقات تھے۔ جس کے نتیجے میں حضرت مریم علیہا السلام کو عیسی علیہ السلام کا حمل ہوا۔ پھر بدنامی سے بچنے کے لیے حضرت مریم کا یوسف نجار سے نکاح کروادیا گیا۔ مرزا قادیانی، حضرت مریم کا یوسف نجار کے ساتھ قبل نکاح پھرنے کے متعلق لکھتا ہے کہ حضرت مریم کا اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ قبل نکاح کے پھر نا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔ 17}}جب چھ سات ماہ کا حمل نمایاں ہو گیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ بعد مریم کا بیٹا ہوا وہی عیسی یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا ۔ 18
مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگوں کے نہایت اصرار پر بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔19
اور قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت مریم اور یوسف نجار کے نکاح سے مزید اولاد بھی پیدا ہوئی ہے مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ :
یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں، یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں ۔ 20
وہ مسیح ہر طرح عاجز ہی عاجز تھا۔ مخرج معلوم کی راہ سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے، تولد پا کر مدت تک بھوک، پیاس، درد اور بیماری کا دکھ اُٹھاتا رہا۔21
جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزار ہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی، بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قوی سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ 22
مسیح علیہ السلام کا معجزہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزہ کی طرح صرف عقلی -تھا۔ 23
مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے، جو بیچ کی ولادت سے قبل بھی مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار تمام محدام، مفلوج ہے مفلوج، مبرو وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔ 24
دوسری جگہ لکھتا ہے :
اسی تالاب نے فیصلہ دیا کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھوں میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ 25
استغفر اللهمرزا قادیانی نے نبی اور رسول ہونے کا دعوی کیا ہے۔ ہمارا قادیانیوں /مرزائیوں کو خیر خواہانہ مشورہ ہے کہ غیر جانبدار ہو کر غور کریں کہ مرزا قادیانی کو نبی ماننے والے اور اس کو جھوٹا ماننے والے کیا دونوں مسلمان ہو سکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ہرگز نہیں کیونکہ مسلمان ہونے کے لئے تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے۔ کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے۔ لہذا ثابت یہ ہوا کہ دونوں میں صرف ایک مسلمان ہے دوسرا نہیں۔ لہذا اب مسلمان ہونے کا مدار فیصلہ اس بات پر ہوا کہ آیا مرزا قادیانی نبی ہے یا نہیں؟ کیونکہ قادیانیوں میں اور ہم میں صرف یہی ایک جھگڑا ہے۔
ہماری قادیانیوں کو دعوت خیر ہے کہ اگر وہ خود مرزا قادیانی کی کتابوں روحانی خزائن، ملفوظات اور مجموعہ اشتہارات کو غور سے اور غیر جانبدار ہو کر پڑھیں اور ان کا مواز نه رسول پاک ملای الیوم کی حیات طیبہ اور احادیث نبویہ سے کریں گے تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ مرزا قادیانی کی باتیں تضادات ، کفر، جھوٹ، مکاری، دغا بازمی اور دجل و فریب سے بھری ہوئی ہیں۔ مرزا قادیانی کے کردار اور شخصیت کو پرکھیں۔ اس کی اپنی کتب اور اس کے صاحبزادگان کی کتب اور اس کے اصحاب کی کتب کے مطالعہ سے ب کے مطالعہ سے کتب اور اس کے اصحاب کی کتب کے مطالعہ ہے۔ آپ کو بہت کچھ نظر آئے گا لیکن وہ کتا بیں نہیں جو جماعت احمد یہ آپ کو پڑھانا چاہتی ہے بلکہ وہ کتابیں پڑھیں جو جماعت احمدیہ غلطی سے شائع کر چکی ہے اور اب اس کو چھپائے پھر رہے ہیں مثلاً سیرت المہدی ، کلمتہ الفصل وغیرہ۔ ہمارا دعوی ہے کہ ان کتابوں کو غیر جانبداری سے پڑھ کر آج تک ایک بھی شخص قادیانی نہیں ہواہاں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ ان کتابوں کو پڑھ کر قادیانیوں کی آنکھیں کھل گئیں اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔}}قادیانی بتائیں کہ آپ کو آخر کس چیز کی مجبوری ہے کہ ایک جھوٹے شخص کے پیچھے لگ کر اپنوں سے کٹ گئے ہو۔ اللہ رب العزت کو راضی کرنے کی بجائے جماعت احمد یہ کے عہدیداروں اور ایک خاندان کی رضا اور خواہش کو ماننے پر مجبور ہو۔ اس خاندان نے خدا کے نام پر تمہارا ایمان، خاندان، اولاد، عزت و آبرو، وقت، مال جائیداد غرضیکہ ہر چیز پر قبضہ کر کے تمہیں مزارعوں کی حیثیت دی ہے۔ تم سے زکوۃ کی بجائے ہر ہر قسم قسم کے ذاتی ، جماعتی ، سماجی اور نفسیاتی حربے استعمال کر کے بیسیوں چندے وصول کئے جاتے ہیں اور یہ خاندان خود چندوں سے مستثنیٰ ہے۔ اپنے ایمان سے کہو جتنی بیعتوں کے دعوے ہر سال کئے جاتے ہیں اس کا ہزارواں حصہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا ؟ جھوٹی قسموں، جھوٹی پیشنگوئیوں اور مال وزر کی خواہش والے انگریز کے اس خود کاشته خاندان سے اپنی جان چھڑاؤ اور اپنی اور اپنے خاندان کی عاقبت خراب ہونے -سے بچاؤ
ہماری قادیانیوں سے اپیل ہے کہ یہ دنیا چند روزہ ہے لیکن اصل اور ہمیشہ کی زندگی آخرت کی ہے۔ اس کی فکر کرتے ہوئے مرزا قادیانی کے عقائد سے بریت کا اعلان کرتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں اور حضرت محمد ﷺکی اصلی غلامی میں آجائیں۔ اللہ تعالیٰ آپکو مصنوعی عزت کے بدلے اصل عزت سے نوازے گا کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔ آپ کے خوف کو امن اور آزادی میں بدل دے گا اور روز آپ اندازه دین قیامت حضرت محمدﷺ کے جھنڈے تلے آپ کا حشر ہوگا ۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنے پیارے محبوب کریم ملی ایم کی شفاعت نصیب فرمائے اور ہم سب اہل ایمان کو عقائد حقہ پر زندگی ی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے ..... آمین ،بحرمت سید الانبياء والمرسلين صلى الله عليه و آله واصحابه اجمعين فقط مدینے کا بھکاری الفقير القادري الى الصالح محمد فیض احمد اویسی رضوی غفرلہ