logoختم نبوت

ختم نبوت ۔۔۔از۔۔۔ امام المحققین مولانا ایوب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال : غلام احمد قادیانی نبی ہے یا نہیں ؟

جواب : غلام احمد قادیانی نبی نہیں ہے ۔

ثبوت : غلام احمد قادیانی صاحب معجزہ نہیں ہے ۔ اور ہر نبی صاحب معجزہ ہے ۔

نتیجہ :غلام احمد قادیانی نبی نہیں ہے۔ اور تمہارا جی چاہے تو اس طرح کہ سکتے ہو کہ:

ثبوت: غلام احمد صاحب معجزہ نہیں ہے اور ہر وہ شخص جو صاحب معجزہ نہیں ہے نبی نہیں ہے۔

نتیجہ:لہذا غلام احمد قادیانی نبی نہیں ہے ۔

یہ اتنی واضح اور روشن دلیل ہے کہ سارا عالم مل کر بھی ایک حرف اس کے خلاف نہیں کہہ سکتا ۔ اس دلیل کی تفصیل یہ ہے ، پہلے نبوۃ کے معنی سمجھ لینے چاہئیں ۔

نبوت کے معنی :

نبوۃ کے معنیٰ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بشر اور کسی انسان سے کلام کرے ۔ اور اللہ تعالیٰ کا کلام یا تو صرف معانی ہوتے ہیں جو وہ بشر کے دل پر نازل کر دیتا ہے اور بشر ان معانی کو اپنے الفاظ میں لوگوں سے بیان کرتا ہے ، اس کلام کو وحی عام طور پر کہا جاتا ہے ۔

دوسری قسم اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالی کی آواز اور اللہ تعالیٰ کے الفاظ بشر سنتا ہے اور اللہ تعالے بشر کو دکھائی نہیں دیتا۔ بشریہ کلام سن کر لوگوں تک پہنچا دیتا ہے اس کلام کو وحی من وراء حجاب کہا جاتا ہے جس طرح حضرت موسی علی نبینا وعلیہ السلام طور پر سنا کرتے تھے ۔

تیسری قسم اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالے ایک فرشتہ کو بھیجتا نا ہے ہے اور وہ فرشتہ باذن الہی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق اس بشر کے دل میں اللہ تعالیٰ کے کلام کو ڈال دیتا ہے اور نازل کر دیتا ہے ۔

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ 1

بس یہی تین طریقے اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کے ہیں۔ خواہ بیداری میں کلام کرے ، خواہ سوتے میں کلام کرے ، ہر صورت میں یہ اللہ کا کلام ہوتا ہے اور اسی کلام کو مطلق وحی کہتے ہیں اور اسی وحی کو نبوۃ کہا جاتا ہے ۔

نبی اور غیر نبی کا فرق:

یعنی بنی اور غیر نبی کا فرق صرف وحی ہے جیسا کہ فرمایا

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰي اِلَیَّ 2

کہہ دے میں تمہارے ہی جیسا آدمی ہوں، فرق صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری طرف وحی کی جاتی ہے ۔

اس بیان ۔ سے صاف ظاہر ہو گیا کہ نبی صرف وہ شخص ہے اور نبی صرف وہ انسان ہے جس اللہ تعالیٰ کلام کرے ۔

معجزہ کا شرعی معنی:

اب یہاں دو باتیں ہونی چاہیں:

(01) ایک یہ کہ جس انسان سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے وہ انسان یہ یقین کرلے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے مجھ سے کلام کیا ہے کسی اور نے کلام نہیں کیا ۔ یعنی اس بشر کو یہ علم ہونا لازمی ہے کہ جس نے اس بشر سے کلام کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

(02) اس کے بعد جب وہ بشر مطمئن ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے اس سے کلام کیا ہے ، پھر وہ کلام لوگوں کو سنائے تو لوگوں کو مطمئن کر دے کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ ہی نے مجھ سے کیا ہے ۔

اور اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو حاکم کسی سے کلام کرتا ہے اور کلام سننے والا حاکم کا کلام سن کر اس محکمہ سے باہر آ کر باہر والوں کو وہ کلام سناتا ہے تو باہر والے اس سے کہتے ہیں کہ تجھ سے حاکم نے یہ کلام کس کے سامنے کیا ہے ؟ اس کو شہادت کے لئے لا، یا حاکم سے کہہ دے کہ وہ اپنے عملہ میں سے کسی کے ہاتھ ہمیں کہلوا دے کہ ہاں میں نے اس شخص سے کلام کیا ہے بس اسی شہادت کا نام معجزہ ہے ، آیت ہے ، نشانی ہے ، یعنی وہ عملہ اللہ تعالی کی کائنات ہے۔ کائنات میں سے کوئی کائن ایسا فعل کرتا ہے یا ایسا فعل اس کائن سے سرزد ہوتا ہے جو زبان حال سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالے نے اس بشر سے کلام کیا ہے ۔ یہ فعل کائنات کا کائنات کی عادت کے خلاف ہوتا ہے مثلاً لکڑی کا اثر رہا بن جانا ، اور مردہ کا زندہ ہو جانا ۔ مردہ کا زندہ کرنا بشر کی عادت کے خلاف ہے اور مردہ کا زندہ ہونا مردہ کی عادت کے خلاف ہے لیپس مردہ کے زندہ ہونے نے یہ شہادت دی کہ یہ فعل من جانب اللہ ہے اور مدعی نبوت سچا ہے اور اللہ کی طرف سے ہے۔ حاصل یہ ہے کہ خرق عادت یا معجزہ اسی کی طرف سے ظہور پذیر ہو سکتا ہے جس نے عادت مقرر کی ہے۔ لہذا وہی عادت کے خلاف کر سکتا ہے۔ اور عادت کا مقر رکرنا من جانب اللہ ہے لہذا خرق عادت اور معجزہ بھی من جانب اللہ ہے۔ اس لئے نبوت وحی اور اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا ثابت ہی نہیں ہو سکتا جب تک کہ نبوت کا مدعی صاحب معجزہ نہ ہو۔

اظہار ِمعجزہ شہرت کو مستلزم ہے :

اس بیان سے واضح ہو گیا کہ ہر بنی صاحب معجزہ ہے اور چوں کہ معمولی عجیب سی بات کا ظہور بھی موجب شہرت ہوتا ہے تو معجزہ کا ظہور بدرجہ اولیٰ باعث شہرت ہے یعنی جہاں معجزہ ہوگا وہاں اور چاروں طرف اس کی شہرت ہو جائے گی ، کیونکہ معجزہ ایسے خرق عادت کو کہتے ہیں جس سے انسانوں کی حسی، عقلی اور روحانی تینوں قوتیں عاجز ہو جائیں ۔ اگر غلام احمد قادیانی سے کوئی معجزہ صادر ہوتا تو اطراف عالم میں اس کا چرچا ہو جاتا ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سے کوئی معجزه صادر نہیں ہوا ۔ اب دلیل کے دونوں مقدمے واضح طور پر ثابت ہو گئے یعنی غلام احمد قادیانی صاحب معجزہ نہیں ہے اور ہر بنی صاحب معجزہ ہے لہذا غلام احمد قادیانی نبی نہیں ہے ۔ حاصل یہ ہے کہ نبوت اور وحی اور اللہ سے کلام کرنے کی نشانی معجزہ ہے۔ اور معجزہ وہ شے ہے کہ جس کے کرنے سے سارا عالم انسانی عاجز ہو جائے بلکہ جن و انس اور فرشتے بھی عاجز رہ جائیں۔

نبی سب سے طاقت ور ہوتا ہے:

اور عادی قوتیں تمام انسانوں میں مشترک ہیں ۔ حس و عقل اور روحانیت یہ تینوں ۔ یہ عادی خاصے ہیں ۔ نبی کی قوت ان تینوں سے بالا تر ہے اور اس مسئلہ کو ہم علم ان تینوں سے بالا تر ہے اور اس مسئلہ کو ہم علم کلام کی تقریروں میں مبسوط طریقے سے بیان کر چکے ہیں ۔ معجزہ نہ کرامت ہے نہ استدراج ہے ، نہ سحر ہے نہ کوئی اور عجوبہ عادی چیز، بلکہ خدا کا خاص فعل ہے جو عام افعال سے ممتاز ہے ۔

مثال:

مثلاً بھاری چیز اگر پانی میں ڈالی جائے تو وہ غرق ہو جاتی ہے ۔ آگ کا فعل گرم کرنا اور جلانا ہے ۔ یہ عام فعل ہیں ، یہ عادی فعل ہیں لیکن اگر آگ ٹھنڈک پیدا کر دے تو یہ خاص فعل ہے اور خرق عادت و ہے ۔ اس خرق عادت کا جواب اور معارضہ اور مقابلہ نہ ہو سکے تو اس قات اس کا نام معجزہ ہے ۔ یہ ہے نبوت کی نشانی ۔

نبوت کی تصدیق کا معیار:

مطلب یہ ہے کہ انسان مختار ہے یعنی انسان صدق و کذب دونوں پر قادر ہے ۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والے کی ۔ تصدیق صرف اسی شاہد سے ہو سکتی ہے جس میں کذب کا احتمال ہی نہ ہو اور وہ صرف اضطراری قوتیں ہیں ، ان میں کذب کا احتمال ہی نہیں ہے ، لہذا جب اضطراری تو تیں اپنی عادت اور طبیعت و خصلت کے خلاف فعل کرنے لگیں، مثلا مردہ جانور ، درخت اور پتھر کلام کرنے کی قدرت ہی نہیں رکھتے ۔ اگر وہ فرع ہے ۔ بھی کلام کرنے لگیں تو وہ صدق ہی صدق ہوگا، کیوں کہ کذب تو اختیار کی نہ اور یہ کلام کر نا خرق عادت ہوگا اور یہی معجزہ کہلائے گا اور مدعی نبوت کی اس کے دعوے کے مطابق تصدیق کر دے گا اور اگر دعوے کے مطابق تصویری نہ کرے بلکہ تحذیب کر دے تو یہ خرق عادت تو ضرور ہے مگر معجزہ نہیں ہے ۔

مثال:

مثلا پتھر نے یہ کلام کیا کہ یہ شخص جو مدعی نبوت ہے جھوٹا ہے ، تو خرق عادت تو ہو گیا مگر معجزہ نہ رہا۔ اس لئے کہ معجزہ کی تعریف میں دعوے کی مطابقت شرط ہے ۔

اس بیان سے ظاہر ہو گیا کہ نبی بے معجزہ کے نہیں ہو سکتا اور غلام احمد قادیانی کا کوئی معجزہ نہیں ہے لہذا وہ نبی نہیں ہے ، اور جس پر وحی نہ مواد ہوا در وہ وحی کا دعویٰ کرے اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہے ۔

غیر نبی کو الہام:

سوال : کیا غیر نبی پر الہام ہو سکتا ہے ؟

جواب : ہو سکتا ہے بلکہ ہوتا ہے۔

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا 3
ہر نفس کو گناہ اور تقویٰ کا الہام اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے۔

اور الہام ظنی چیز ہے ، اس لئے ہو سکتا ہے تقویٰ کا الہام ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فسق و بخور کا الہام ہو، اس لئے یہ حجت نہیں ہے ۔

الہام کا دار و مدار وحی کی موافقت پر:

سوال : کیوں کہ معلوم ہو کہ یہ الہام تقویٰ کا ہے یا فسق و گناہ کا ؟

جواب : اگر الہام وحی الہی کے مطابق ہے تو صحیح ہے ورنہ غلط ہے اگر الہام تقویٰ کا ہوا اور وہ وحی کے مطابق ہے تو وہ تقوے ہی کا الہام ہے اور اگر وحی نے الہام کی تائید نہ کی بلکہ وحی کے خلاف ہے تو وہ قطعاً نسق و منجور اور گناہ کا الہام ہے لہذا اعتقادیات میں الہام غیر معتبر ہے۔

وحی کا ختتام اور علماء کا منصبِ تبلیغ:

سوال : وحی ختم ہو چکی ہے یا باقی ہے ۔ ؟

جواب : وحی ختم ہو چکی ، یعنی وحی کا کسی بشر پر آنا بند ہو گیا ۔

دلیل اول: وحی رحمت ہے اور ہر ہر عالم رحمت سے پر ہو چکا ۔ اب وحی کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ 4
سوہم نے آپ کو تمام عالموں کے لئے رحمت کر کے بھیجا ہے ۔

اب کسی عالم کو رحمت کی مزید ضرورت باقی نہیں رہی ، لہذا اب نبی کا آنا اور اس پر وحی کا ہونا محال ہے۔

دلیل ِثانی:جاننا چا ہیئے کہ نبوت کا مدعی یا قدیم شریعت کی تبلیغ کرتا ہے یا جدید شریعت کی جو وہ خود لایا ہے ۔ سو جدید شریعت کی اب ضرورت نہیں ہے اور قدیم شریعت یعنی قرآن وحدیث کی تبلیغ خلفاء اور علماء برابر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس لئے مزید نبی کی ضرورت نہیں ہے ۔ تبلیغ کا کام علماء و صلحا نے سنبھال لیا۔ جس طرح انبیاء بنی اسرائیل قدیم انبیاء کی شریعت کی تبلیغ کرتے تھے اسی طرح اس امت کے علما، قرآن و حدیث کی قیامت تک تبلیغ کرتے رہیں گے اور شریعت کے مبلغ ہر زمانہ میں ہوتے رہیں گے ۔ لہذا اس بیان سے واضح ہو گیا که تمام عالموں کے لئے رحمت آچکی ۔ مزید رحمت کی اب بالکل ضرورت نہیں رہی ۔ اس لئے وحی کا دروازہ بند ہو گیا ۔ اب وحی کسی بشر پر نہیں آسکتی ۔

خاتمیت کے وقت امکانِ نبوت کا تصور محال و متناقض:

سوال : ختم نبوت کے دور میں نبوت کا امکان ہے یا نہیں ؟

جواب : نہیں ہے۔ ختم نبوت اور عدم ختم نبوت میں اجتماع النقیضین : ہے ۔ جس طرح جسم کے متحرک ہونے کے وقت جسم کا ساکن ہونا محال ہے۔ بالکل اسی طرح ختم نبوت کے وقت امکان نبوت حال ہے نیز اگر ختم کے اوقات میں امکان عدم والے یا رات کے اوقات می امکان ختم یعنی امکان نبوت ہوگا اور ہر ملک کے واقع ہونے کا فرض جانا در صلح ہے اس ملک کے اتے ہو کو فرض کیا واقع جائے گا تو ختم ختم نہیں رہے گا اور ختم کا ختم نہ ہونا قطعاً محال ہے۔ لہذا اس وقوع کا فرض کرنا محال اور دوران ختم نبوت میں نبوت محال ہے۔ میں کہتا ہوں قدرت باری تعالیٰ کا تقاضا فی نفسہ امکان کا ہے ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ کروڑوں سورج بنانے پر قدرت رکھتا ہے لیکن واقع ایک ہی ہے اور وحدت کے وقوع میں کثرت کا وقوع محال ہے۔ لہذا خاتم کے وقوع میں لا خاتم محال ہے۔

نظر ِاول: جس طرح طرح حرکت کے کے وقوع میں سکون ہے محال اور نا ممکن ہے ۔ ہاں بے شک جن اوقات میں حرکت واقع ہے اور حرکت ہو رہی ہے ان اوقات میں اللہ تعالی قادر ہے کہ حرکت واقع نہ کرے بلکہ سکون واقع کر دے ۔ یہ اور بات ہے ۔ اور یہ اور بات ہے کہ قدرت سے حرکت پیدا کر دے اور پھر اس حرکت میں قدرت سے سکون پیدا کر دے ۔ یہ محال ہے اس لئے کہ حرکت کے ساتھ قدرت متعلق ہو چکی لہذا حرکت کو تو ہونا ہی ہے ۔ اب اگر سکون کے ساتھ قدرت متعلق ہوگی تو اس کے یہ معنیٰ ہوں گے کہ حرکت کے ساتھ قدرت متعلق نہیں ہوئی۔

در گویا قدرت کا متعلق ہونا قدرت کا نہ متعلق ہونا ہو گیا اور عین تخلیط اور مغالطہ ہے لہذا حرکت میں سکون محال ہے ، بس اسی طرح ختم نبوت میں کہ لاختم نبوت لینی نبوت محال ہے یعنی امکان ہے ہی نہیں بلکہ محال ہے ہیں کہتا ہوں کہ بھید اس میں یہ ہے کہ طرفین کا فی نفسہ امکان نسبت کے امکان کو نہیں چاہتا۔

نظر ِثانی:کیا تم نہیں دیکھتے کہ دودھ فی نفسہ ممکن ہے اور سیاہی فی نفسہ ممکن ہے لیکن دودھ کا سیاہ ہونا اور سفید ہونا نا ممکن اور محال ہے باوجودیکہ اللہ تعالیٰ دونوں ممکنوں پر قدرت رکھتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے دودھ کی سفیدی مال کا اعلان کر دیا اور قدرت دودھ کی سفیدی کے ساتھ متعلق ہو چکی ، یعنی یہ قدر ہو کا دودھ کی سفیدی میں مشغول ہونا ہے ، دودھ میں سیاہی پیدا کرنے سے عاجز ہو ہونا نہیں ہے ۔ (سفیدی میں قدرت کا مشغول ہونا سیاہی میں نہ مشغول ہوتے آپ نہ منافی ہے نہ عجز ہے بالکل اسی طرح جب اللہ تعالے نے ختم نبوت کا اعلان کر دیا تو بلاشبہ ختم متحقق ہو گیا ۔ اب ختم میں عدم ختم محال ہے غور کرو۔ لہذا جس نے وقوع کے وقت لا وقوع کے امکان کا دعوی کیا اس نے غلطی کی اور حسن تو یہ نے لا وقوع کے ثابت و متحقق ہونے کا دعویٰ کیا اس نے کفر کے ساتھ جنون کو ایک بھی جمع کر لیا ۔

خاتم النبیین کا درست مفہوم:

سوال : خَاتَمَ النَّبیین کے معنی صرف ختم نبوت کے ہیں یا تو یا کچھ اور بھی ؟

جواب :۔ صرف ختم نبوت کے ہیں ۔

یہ آیت یہ بتا رہی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے نبوت ختم کر دی اور ان کے بعد ار کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ یعنی کوئی سچا مدعی نبوت پیدا ہی نہیں ہوگا ۔

ثبوت : نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا کہ میرے بعد کوئی کی نبی نہیں ہوگا ۔ یا یہ نہیں فرمایا ؟ اگر یہ کہتے ہو کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور یہی فرمایا اور یہی حق ہے تو مد علی ثابت ہو گیا یعنی حضور ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ حضور نے یہ نہیں فرمایا کر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا. تو بتا کہ تمام مسلمانوں نے تیرہ سو برس سے اس عقیدہ کیوں اپنا یا ؟ اور بلا اختلاف اپنا یا ریعنی آگے کو نبی ہو سکتا تھا تو پھر تمام مسلمانوں نے بلا اختلاف اس غلط عقیدہ کو کیوں اپنایا ؟ جس وقت یہ عقیدہ پیدا ہوا تھا اسی وقت اس سے اختلاف کیوں نہیں کیا گیا۔ حالاں کہ کوئی معمولی سی بھی نئی بات پیدا ہوتی ہے تو اختلاف ہوتا ہے ۔ اور گذشتہ دوروں میں ہوتا رہا ہے جیسا کہ اس وقت اختلاف ہوا ۔ اسی طرح جب بھی یہ مسئلہ قوم کے سامنے آتا تو اختلاف ہوتا ۔ یعنی حضور نے یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد نبی نہیں ہو گا تو پھر قوم نے یہ کیوں کہا کہ آپ کے بعد نبی نہیں ہو گا۔ اور جس وقت یہ آواز اٹھی تھی اس وقت اختلاف کیوں نہیں ہوا ؟ ساری قوم نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

ماحصل:

حاصل یہ ہے کہ اگر حضور کا یہ فرمان نہیں ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا نو پھر متفقہ طور پر اس غلط عقیدہ کو قوم نے کیوں اپنایا اور کیوں قبول کیا اور کیوں ایک غلط عقیدہ پر سب متفق ہو گئے تو اس وقت وہ سب کے سب شہر امت ہو گئے خیر امت نہیں رہے ، اور جب کہ سب کے سب کا ذب، غلط بیان ہو گئے ، تو ان کی نقل کی ہوئی کوئی بات بھی معتبر نہیں رہی اور قرآن انہی نے نقل کیا ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن کذا بین غلط عقیدہ دالوں کی نقل پر موقوف ہو کر غیر معتبر ہو گیا ۔ اور مارا مذہب ہی ختم ہو گیا اور اصلی نبی بھی ختم ہو گیا ۔ ظلی نبی کس گنتی میں رہا۔

اگر مرزا قادیانی سچا ہو تو امتِ مسلمہ تیرہ سو سال سے جھوٹی؟

حاصل اس بان کا یہ ہے کہ اگر غلام احمد قادیانی بیچا ہے تو تیرہ سو سالہ مسلمان قوم پوری کی پوری ہوئی ہو گئی ۔ اور جب پوری قوم جھوٹی ہو گئی یعنی پوری قوم اس بار پر متنفر ہوگئی کہ آگے کوئی نبی نہیں ہوگا تو پھر مذہب اسلام پورا کا پورا ختم ہو گیا ہوں کہ پوری قوم جب كذب اور جھوٹ پر متفق ہو جائے تو پھر اس قوم کی شہادت غیر معتبر ہے بلکہ جھوٹی ہے اور پر پوچھ اور پوری قوم نے اس قرآن کی شہادت دی ہے، لہذا یہ قرآن متفقہ طور پر کذابین کی نقل ٹھہرا۔ پھر نہ قرآن رہا نہ نبی رہا نہ اسلام رہا نہ اصلی نبی رہا ۔ فرعی اور ظلی نبی کی ضرورت ہی کیا باقی رہ گئی ۔ اور اگر ساری قوم صادق ہے اور سچی ہے اور یہی بات چی اور حق ہے کہ ساری قوم متفقہ طور پر ختم نبوت کی قائل ہے تو پھر منکر ختم نبوت اور قادیانی جھوٹا ہے اور یہ بیان قادیانیت کو جڑ سے کاٹ کر پھینک دیتا ہے۔

خلاصہ پھر سمجھے۔

اگر قادیانی سچا ہے تو پھر ساری کی ساری چودہ سو سالہ قوم جھوٹی ہے۔ اور جب ساری قوم جھوٹی ہو گئی تو مذہب اسلام اور نبی اور معجزات سب جھوٹے ہو گئے اور اس صورت میں کسی نکلی اور فرعی نبوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ اور اگر ساری قوم بچی ہے تو قادیانی جھوٹا ہے اور یہ بیان نہایت واضح ہے۔

خاتم کا لفظ اور معنی قطعی ہے:

پھر میں کہتا ہوں کہ خاتم بفتح التاء کے معنی اور خاتم بفتح التاء سے مراد وہی ہوگی جو ان لوگوں نے لی ہے، جنہوں نے خاتم بفتح التاء ہم تک پہنچایا ہے جن لوگوں پر اعتماد کر کے لفظ خاتم ہم نے تسلیم کیا ہے انہی پر اعتماد کر کے خاتم کے معنی اور خاتم سے مراد تسلیم کی جائے گی۔ اگر خاتم النبین کے لفظ کے نقل کرنے والے جھوٹے ہوں گے تو ان کی نقل سے کیوں کر خاتم النبین کا لفظ قبول کیا جائے گا ؟ تو جس اعتماد پر خاتم بفتح التاء کا لفظ قبول کیا گیا ہے اُسی اعتماد پر خاتم النبیین کے معنی اور مراد بھی تسلیم کی جائے گی ۔ اور اگر بے اعتمادی کی بنا پر مراد اور معنی نہیں تسلیم کئے جائیں گے تو اُسی بے اعتمادی کی بنا پر لفظ خاتم النبین بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اور اس وقت قرآن مجروح ہو جائے گا۔

حاصل:

حاصل یہ ہے کہ تم کو کس نے خاتم النبین کا لفظ بتایا اور کس کے کہنے سے لفظ خاتم النبین تم نے تسلیم کیا بس اسی کے کہنے سے خاتم النبیین کے معنی بھی یعنی خاتم بکسر التا تسلیم کئے جائیں گے، اگر معنی کے بیان کرنے والے جھوٹے ہیں تو لفظ کے بیان کرنے والے بدرجہ اولی جھوٹے ہیں کیوں کہ وہ الگ الگ نہیں ہیں ۔ اور یہ بیان قادیانیت کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیتا ہے۔

یصطفی اصطفی کے معنی میں:

سوال :-اللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَةِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاسِ5 اللہ فرشتوں میں سے اور آدمیوں میں سے رسول چنتا ہے یا چنتا رہے گا یا چنے گا ۔

یہاں مضارع کا صیغہ ہے جو حال استقبال دونوں کے لئے آتا ہے۔ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبوت کا انتخاب حال اور متقبل میں ہوتا رہے گا۔

جواب : یقینی کا صیغہ مضارع ہی کا ہے مگر اصطفیٰ کے معنی میں ہے جس طر ح ( سورۃ المائدہ)وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ6

اور جب اللہ تعالی کہے گا اے عیسیٰ کیا تو نے کہا تھا۔

یہاں قال کا صیغہ ماضی کا ہے مگر مستقبل کے معنی میں ہے، اسی طرح مستقبل کا صیغہ حال اور ماضی میں مستعمل ہوتا ہے ۔

حیات عیسی sym-9 :

سوال : حضرت عیسیsym-9 حیات ہیں یا نہیں ؟

جواب : حیات ہیں :

ثبوت :وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ 7

عیسیٰsym-9 کی موت سے قبل تمام اہل کتاب ایمان لے آئیں گے ۔

یہ آیت اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ عیسی sym-9 کی وفات کے بعد کوئی اہل کتاب یہودی وغیرہ باقی نہیں رہے گا۔ اس آیت سے استدلال کی تقریر یہ ہے کہ اہل کتاب اور یہودی حضرت عیسیٰ sym-9 کی وفات کے بعد باقی نہیں رہیں گے لیکن اس وقت یہودی باقی ہیں۔ نتیجہ صاف ہے کہ عیسیٰ sym-9 کی وفات باقی نتیجہ کہ علیہ کی وفات ابھی نہیں ہوئی ۔ اگر وفات ہو چکی ہوتی تو یہودی ایمان لا چکتے اور یہ نہایت بین اور واضح استدلال ہے ۔

قبل موتہ کی ضمیر کا مرجع:

سوال : کیا دلیل ہے کہ قبل موتہ کی ضمیر عیسی sym-9کی طرف پھرے؟یہ کیوں نہیں جائز ہے کہ قبل موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرے اور آیت کے یعنی ہوں کہ ہر اہل کتاب اپنی موت سے قبل عیسیsym-9 پر ایمان لائے گا۔

جواب : ضمیر اہل کتاب کی طرف نہیں پھرے گی اور نہیں پھر سکتی کیونکہ اکثر اہل کتاب اپنی موت سے قبل عیسیٰsym-9 پر ایمان نہیں لائے جیسا کہ ظاہر ہے اور اگر موت سے قبل کے معنی حالت نزع کے لئے جائیں تو اس وقت حاصل یہ ہو گا کہ ہر اہل کتاب بحالت نزع جب کہ عالم برزخ اس کو نظر آجائے اس وقت حضرت عیسیsym-9 پر ایمان لے آئے گا۔ تو یعنی اہل کتاب کے لئے مخصوص نہیں ہیں اس عالم سے جدا ہو کر ہر کا فر ہر مشرک جن اشیاء کا انکار کرتا تھا ان سب پر ایمان لے آئے گا، برزخ ہو یا بعث ہو۔ ہر مشرک و کافر علاوہ اہلِ کتاب کے بھی تمام امور پر ایمان لے آئے گا۔ اور صَدَقَ المر سَلُونَ کہے گا ، یعنی نبی بچے تھے ۔ اہل کتاب کے ساتھ دوسرے عالم ۔ میں ایمان لانے کی تخصیص بے وجہ ہے۔

یہاں یہود کو ڈانٹنا مقصود ہے۔ کیو کہتے تھے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ sym-9 کو قتل کر دیا۔ ان کو ڈانٹا گیا اور ان کے قول کی تکذیب کی گئی کہ ہر گز تم نے قتل نہیں کیا ۔ بلکہ عنقریب تم اس پر ایمان لاؤ گے اور جب تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا جب جائے کہیں ان کی وفات ہوگی ۔ اور وہ قیامت کے دن تم پر شاہد ہوں گے۔ اور قریب کی ضمیر بھی یعنی بہ کی حضرت عیسیٰ sym-9کی طرف ہے۔ اور بعد کی ضمیر بھی سکون کی حضرت عیسی sym-9 کی طرف ہے ۔ اس لئے درمیانی ضمیر بھی ان ہی کی طرف راجع ہوگی ۔ اور نیز ان اہل کتاب سے قبل جو اہل کتاب ایمان نہیں لائے تھے وہ بھی عالم ثانی میں ایمان لے آئیں گے تو موجودہ اہل کتاب کو جو اپنے آپ کو قاتل عیسیٰsym-9کہتے تھے اس سے کیونکر زجر اور ڈانٹ ہو سکتی ہے۔

آیت کے معنی بالکل صاف ہیں یعنی یہود نے جب یہ کہا کہ ہم نے عیسیٰ sym-9 کو قتل کر دیا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کیمَا قَتَلُوهُ8 سے تکذیب کی اور پھر ان کو ڈانٹا کہ تم اس خیال میں نہ رہنا کہ ہم نے ان کو قتل کر دیا۔بلکہ وہ زندہ ہیں ۔ اور عنقریب تم کو اُن پر ایمان لانا پڑے گا ۔ پھر جائے کہیں ان کی وفات ہوگی ۔

حیات عیسی sym-9 پر دوسری دلیل:

وَانَّهُ لَعِلْمُ السَّاعَةِ 9
اور بے شک حضرت عیسیsym-9 قیامت کی نشانی ہیں۔

یعنی جب حضرت عیسیٰ sym-9 زمین پر نازل ہوں تو سمجھ لو کہ قیامت قریب آگئی ۔ انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ sym-9کی طرف پھر رہی ہے اور عاٹھ کے معنی نشانی اور علامت کے ہیں یعنی حضرت عیسیٰsym-9قیامت کے قریب آئیں گے اور ان کا آنا پتہ دے گا کہ عنقریب قیامت آنے والی ہے۔

میں کہتا ہوں کہ حضرت عیسیsym-9کے قتل اور صلیب کی واضح طور پر قرآن نے تردید کردی ما قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ اور مَا قَتَلُوهُ يَقينا10 ان کو یقیناً قتل نہیں کیا ۔ اور یہود اس وقت سے اس آیت کے نزول تیک برابر اسی خیالی میں رہے کہ انہوں نے قتل کر دیا ۔ اگر ادعا ر قتل و صلیب کے بعد ان کی موت طبعی ہوتی تو ضرور بالضر در یہود کو پتہ چل جاتا اور وہ قتل و صلیب کے زعم میں مبتلا نہ ہوتے ۔ اس سے صاف واضح ہو گیا کہ اس قتل دصلیب کے بعد وہ اپنی طبعی موت سے بھی نہیں مرے۔

خلاصہ:

خلاصہ یہ ہے کہ یہود کو ان کی موت وحیات کا قادیانی سے بہت زیادہ فکر تھا امگر ان کو چھ سو برس تک پتہ نہیں چل سکا کہ وہ اپنی طبعی موت سے مر گئے۔ اگر وہ اپنی طبعی موت سے مرتے تو ضرور یہود کو پتہ چل جاتا اور یہود قتل د صلیب کے خیال میں نہ رہتے ، لہذا یہ کہا کہ وہ طبعی موت سے مر گئے۔ قتل دصلیب سے بھی کمزور قول ہے۔

رفع الی السماء:

سوال : حضرت عیسی کا آسمان پر جانا عقل میں نہیں آتا۔

جواب : کیا حضرت عیسیٰ کا بے باپ کے پیدا ہونا عقل میں آتا ہے ۔ لاشخص کی ابتدا خرق عادت ہوا اور تمام زندگی خرق عادت ہو، اس کا انجام کیوں نہ ۔ خرق عادت ہو۔ غور کرو۔}}

خلت کا درست معنی:

سوال : وَمَا مُحَمَّدٌ اللَّهِ رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ11 محمد ﷺ اور ان سے پہلے کے تمام رسول گزر گئے یعنی وفات پا گئے۔

جواب : یہ معنی جب صحیح ہوں گے کہ خلت کے معنی امانت کے ہوں اور رسل سے تمام رسول مراد ہوں اور کوئی رسول مستی نہ ہو ۔ حالانکہخلت کے معنی ماتت سے نہیں ہیں ۔ بلکہ مضت سے ہیں۔ یعنی ان کا دور اور زمانہ گزر گیا ۔ اور اگر خلتکے معنی ماتت کے ہوں گے۔ تو قد خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِم المثلث12کے معنی یہ ہوں گے کر تحقیق ان سے پہلے واقعات عقوبت مر گئے ۔ اورفِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ13 کے معنی گذشتہ ایام کی بجائے مردے ایام ہوں گے ۔ لہذا خلتکے معنیماتت سے نہیں ہیں اسطرح رسل سے مراد تمام رسول نہیں ہیں جس طرح وَمَا مُحَمَّدٌ اللَّهِ رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ14 ، ہم نے تجھے سے پہلے رسولوں کو بھیجا اور ان کو بی بیاں اور اولادیں دیں۔ حالانکہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بیوی اور اولاد نہیں دی کیونکہ ان کی تعریف میں فرمایا حصوراً یعنی عورتوں سے بچنے اور پر ہیز کرنے والا ۔

اقول:

میں کہتا ہوں کہ اگر یہ دعویٰ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے سچا ہے تو یہ دیکھ کہ وہ حیات ہیں اور زندہ ہیں قطعی جھوٹا ہو گیا بینی اگر قادیانی سچا ہے تو ساری قوم جھوٹی ہے اور اگر ساری قوم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک اگر سب جھوٹے ہیں تو یہ مذہب اسلام ہی ختم ہوا۔ اور ان سب جھوٹوں نے قران نقل کیا ہے تو قرآن کیا ہوا۔ اور اسی قرآن سے اصلی مسیح ثابت ہے۔ اس وہ اصلی مسیح بھی بھی ختم ختم ہوا ہوا۔ ۔ اس اب مسیح موعود غیر معتبر ہوا ۔ ید اسی قرآن سے اس کی کیا ضرورت باقی رہ گئی جب کہ اصلی مسیح ختم ہو گیا ۔ جو قرآن سے ثابت ہے، اور قرآن اللہ تمام جھوٹوں سے ثابت ہے ۔ اور اگر ساری قوم کچی ہے اور یہی حق ہے تو قطعاً قادیانی کے حیات کیسے چھوٹا ہو گیا۔ اور یہ بیان قادیانی اور انکار حیات مسیح کو ختم کر دیتا ہے ۔

متوفیک کا معنی:

سوال : اني متوفيک کے معنی انی ممیتک ہیں یعنی میں تجھے موت دینے والا ہوں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موت ہو چکی یا ہو گی ۔ اس کی علامت یہ ہے۔ کہ تثلیث موت کے بعد ہوتی ہے جیسا کہ كنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِم15، دلالت کر رہا ہے یعنی تو نے مجھے جب موت دی ۔ اس کے بعد مجھے پتہ نہیں، تو ان کا حافظہ اور نگہبان تھا۔ اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ تثلیث موت کے بعد ہوئی اور تثلیث اس وقت موجود ہے تو معلوم ہوا کہ موت ہو چکی۔

جواب:

اس کا جواب یہ ہے کہ اتنی مترنیت کے معنی یہ ہیں کہ لے عینی تو ان کے ڈرانے اور دھمکانے میں نہ آئیں، یہ مجھے موت دینے والے نہیں ہیں ، موت دینے والا صرف میں ہی ہوں جس کسی کو بھی موت آئے گی اس کا متوفی اور حمیت میں ہی ہوں. اور تیرا بھی متولی میں ہی ہوں ۔ یہ نہیں ہیں۔ تو ان سے نہ ڈر جب یہ یورش کریں گے تو میں تجھے صاف نکال کر لے جاؤں گا۔ ہر وقت تیرے ساتھ روح القدس موجود ہے جس وقت یہ حملہ کریں گے اس وقت روح القدس تجھے ان سے بچا کر میرے پاس لے آئیں گے۔ اس آیت سے حضرت عیسی کی موت کی خبر نہیں دی گئی ہے بلکہ یہ خبر دی گئی ہے کہ موت کا دینے والا صرف خدا ہے اور تو نیستی میں بھی موت کی خبر نہیں ہے۔ بلکہ حاصل یہ ہے کہ جب تک میں اُن میں رہا توحید کی تعلیم دیتا رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اُٹھا لیا تو پھر مجھے خبر نہیں۔ اُن رہا یہاں توٹی کے معنی رفع کے ہیں ۔}}

توفی سے مراد وفات نہیں:

سوال : توفی سے مراد رفع ہے موت نہیں ہے اس کی کیا دلیل ہے ؟

جواب :۔ اس کی دلیل اجماع ہے ۔ جن لوگوں نے متوفی اور توفیت کا لفظ یہاں تک پہنچایا ہے اُن ہی نے اس کے معنی اور میرا بھی پہنچاتے ہیں۔ جن کے کہنے سے متوفیک کا لفظ تسلیم ہوا ہے ۔ انہی کے کہنے سے متوفی اور توفیت کے معنی بھی تسلیم ہوتے ہیں۔ یعنی ساری قوم نے بالا جماع گونی کے معنی رفع یعنی اُٹھا لینے کے کئے ہیں۔ اب اگر ان کا رفع مراد لینا غلط ہوگا تو ان کا مُتَوَفیت کا لفظ بھی نقل کرنا غلط ہو گا۔ یعنی جن کے کہنے اور سے اور جن کی نقل پر متوفیٹ کا لفظ قبول کیا ہے ان ہی کی صداقت پر اعتماد کر کے متوفی کے معنی قبول کئے گئے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ لفظ کو قبول کیا جائے اور معنی نہ قبول کئے جائیں ۔

قرآن میں لغوی معنی کا اعتبار ضروری نہیں:

سوال :۔ لغت میں لفظ کے جو معنی ہیں کیا یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن میں وہ معنی مراد نہ ہوں یعنی قرآن میں لفظ کے لغوی معنی مراد نہ ہوں .

جواب : ہو سکتا ہے کہ لفظ کے لغوی معنی قرآن میں مراد نہ ہوں جیسے اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ16 اللہ تعالیٰ اُن سے مذاق کرتا ہے معنی کرتا ہے ٹھٹھا کرتا ہے۔ لغت میں ! استہزاء کے معنی ٹھٹھا کرنے کے ہیں لیکن ساری قوم کا اجتماع ہے کہ یہ معنی مراد نہیں ہیں۔ لغت میں اگر کسی فعل کا کوئی فاعل ہو تو اس فاعل پر اس فعل سے جو اسم فاعل مشتق ہے وہ بولا جا سکتا ہے لیکن مَكَرَ اللهُ اور اللهُ يَسْتَهْزِئُ اور يُعَذِّبُ اللہ میں جو افعال ہیں وہ بالا جماع ماکر اور مشتہری اور معذب ان فعلوں کے فاعل یعنی اللہ پر نہیں بولے جاسکتے ۔ نیز متشابہات کے لئے لغوی معانی ضرور ہیں لیکن اس کے لغوی معانی مراد نہیں ہیں۔ اسی طرحمتوفی کے معنی اگر چہ لغت میں محبت ہی کے کیوں نہ ہوں لیکن وہ بالا جماع مراد نہیں ہیں۔ جس طرح یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ17اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ18 میں لفظ کے قرینہ سے توفی کے معنی موت کے نہیں ہیں اسی طرحانی متوفیک میں اور توفیت میں اجماع کے قرینہ سے کوئی کے معنی موت کے نہیں ہیں غور کرو۔

اسباب علم:

میں کہتا ہوں کہ اسباب علم صرف تین ہیں جس ، عقل اور خبر صحیح جس تو اس وقت کارآمد نہیں ہے۔ کیونکہ تقریباً ساڑھے انہیں سو برس اس واقعہ کو گزر گئے اور عقل سے کسی کی پیدائش اور وت کا پتہ نہیں چل سکتا ۔ اب رہی شبہ صحیح ، سورہ یا خبر متواتر ہے یا خبر صادق را صدقی ہے ۔ تو خبر متواتر ہور کے ہاں صلیب کی ہے موت طبعی کی نہیں ہے اور خبر رسول اسلام حیات مسیحsym-9 کی ہے اور قرآن شریف سے بھی حیات ہی ثابت ہے تو اب بتاؤ کہ تم کو طبعی موت کا علم کیوں کر ہوا ، کیونکہ ذرائع علم و یقین سب مفقود ہیں ۔ اور یہ مقام عقیدہ کا مقام ہے اس میں ظن حجت نہیں ہے ۔

حیات عیسی علیہ السلامsym-9 پر تیسری دلیل:

میں کہتا ہوں، اگر وہ اپنی موت سے یعنی طبعی موت سے مرے تھے تو اس وقت کوئی موجود تھا یا موجود نہ تھا ۔ اگر کوئی موجود تھا تو وہ فوراً یہود کو مطلع کرتا کہ تم دھو کہ میں ہو تم نے ان کو صلیب نہیں دی اور وہ تو اپنی موت سے میرے سامنے مرے ہیں۔ اور اگر کوئی موجود نہ تھا اور یہود نے ان کے متعلق یہ شہرت دے دی تھی کہ ان کو سیلیب دے دی، تو پھر کسی طرح قائلان موت کو خبر ملی ۔ اگر یہ کہا جائے کہ موت کی خیر و آن ملی تو صورت اس قائل موت کے نبی سے لے کر سب کے سب حیات کے قائل ہیں۔ یہ کس طرح منصور: سکتا ہے کے لیے کے کہ نبی اور تمام صحابہ اور تمام تابعین سے لے کر آج تک کے کل مسلمانوں کو قرآن سے وفا مسیح کا مسئلہ نہ معلوم ہو سکا اور صرف اسی قائل موت یعنی قادیانی کو معلوم ہو گیا ۔ بولو کیا کہتے ہو، نبی ﷺکو مسیح sym-9کی حیات کا علم تھا ، یا دخات کا علم تھا یا دونوں میں سے کسی کا بھی علم نہ تھا۔ اگر کہو کہ نبی ﷺکو حیات مسیح sym-9کا علم تھا اور حیات مسیح ہی کی تبلیغ فرمائی ، تو یہ حق ہے، صحیح ہے، یہی ہمارا مدعا ہے ۔ اور اگر کہو کہ نبی ﷺ کو وفات کا علم تھا، تو اب بتاؤ کہﷺنے وفات مسیح کے علم کے ساتھ تبلیغ حیات مسیح کی کی یا وفات میچ کی کی۔ اگر کہو کہ حیات مسیح کی کی حالانکہ قرآن ان کو وفات مسیح کا علم تھا، تو یہ خاتم النین کی تکذیب ہے۔ اور اس صورت میں ذہب اسلام دین سب ختم ۔ اور اگر کہو کہ نبی ﷺ کو وفا رسی کا علم تھا اور وفات مسیح کی ہی تبلیغ فرمائی تھی ، تو اس صورت میں تمام قوم جو حیات مسیح sym-9کی قائل ہے، سب جھوٹی ہو گئی ۔ اور جھوٹوں کی نقل پر قرآن اور جملہ شرائع سب غیر معتبر ہو گئے، اور كنتم خير امة کی بجائے یہ لوگ شہر امت ہو گئے۔ اور اس حال میں بھی مذہب بالکلیہ خاتمہ ہو گیا۔ اور اگر کہو کہ نبی ﷺ کو نہ حیات مسیحsym-9 کا علم تھا نہ وفات کا علم تھا۔ تو پھر تم کو مسیحsym-9کی وفات کا علم کیسے ہو گیا ۔ اگر کہو کہ قرآن سے جاتا، تو نبی علیہ الصلوٰۃ و السلام نے تو قرآن سے جانا نہیں ، ساری اُمت نے قرآن سے جانا نہیں ، تم نے کیسے جان لیا۔ لہٰذا یہ با لکل لغو اور غلط بات ہے کہ حضرت عیسیٰsym-9 وفات پاگئے۔

شبہ کا ازالہ: فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی سے مراد رفع ہے، موت نہیں:

شبہ : یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ جب حضرت عیسی sym-9 نازل ہوں گے۔ اس کے بعد وفات پائیں گے تو اس وفات کے بعد تثلیث کا عقیدہ باقی نہیں رہے گا۔ اور تثلیث نہیں ہوگی۔ اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ تقریباً انہیں سو برس سے تثلیث کا عقیدہ موجود ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی كنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِم19، یعنی جب تو نے مجھے وفات دے دی تو اس کے بعد تو ان کا نگہبان رہا۔

اس قول سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ وفات کے بعد پیدا ہوا۔ اور تثلیث ۱۹ سو برس سے متحقق ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ مسیح sym-9کی وفات ہو چکی اور اس وفات کے بعد سے آج تک یہ تثلیث کا عقیدہ چلتا رہا ۔ اس شبہ کا کیا حل ہے ؟

اس شبہ کا حل یہ ہے کہ آیت فلما تو فیتنی حکایت ہے اس کونی سے جو رفع کے معنی میں ہے اس سے معنی یہ ہیں کہ جب تو نے مجھے رفع کیا اور زندہ آسمان پر اٹھا لیا پھر مجھے خبر نہیں انہوں نے کیا عقیدہ اختیار کیا۔ اس آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جب تو نے مجھے موت طبعی سے مار ڈالا اس کے بعد مجھے جب نہیں تو ہی ان کا محافظ اور نگہبان تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ فلما تو فیتنی کے معنی فلما رفعتنی کے ہیں، اور یہ پہلی ہی بحث ہے کہ توفی کے معنی رفع کے ہیں اور اور پر فصل یہ بحث گذر چکی ۔}}

خلاصہ:

خلاصہ یہ ہے کہ توفی سے مراد اگر موت ہوگی تو تمام وہ جماعت حسین نے تونی کا لفظ ہم تک پہنچایا ہے۔ وہ چھوٹی ہو جائے گی اور اس صورت میں لفظ متوفی اور توفیتنی کا قبول کرنا ہی باطل اور غلط ہو جائے گا۔ کیونکہ جنہوں نے یہ لفظ پہنچایا ہے۔ ان سب نے بالاتفاق اور بالا جماع اس لفظ سے مراد رفع بتایا ہے ۔ اب اگر ان کی بتائی ہوئی مراد اور معنی غلط ہیں اور وہ جھوٹے ہیں تو ان کا بتایا ہوا لفظ بھی نا قابل قبول ہے اور اس وقت قرآن پر طعن ہو گا۔ اور قرآن مجروح ہو جائے گا ۔ لہذا اگر تا زیانی نبی ہوگا اور حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہوں گے تو تمام مذہب اسلام اور قرآن اور نبی سب غلط اور باطل ہو جائیں گے ۔

قادیانیت کی صداقت کا لازمی نتیجہ: دینِ اسلام کا بطلان

خوب سمجھ لو کہ اگر قادیانی سچا ہے تو اس کے مقابل سارا مذہب اور تمام تیرہ سو سالہ مومنوں کی جمعیت جھوٹی ہو جائے گی۔ اور اس وقت جب کہ سارا مذہب اور اصلی نبی ناحق ہو گیا تو اس نقل نبی اور نقلی مذہب کی ضرورت ہی کیا باقی رہ گئی۔ وَلُوا تَبِعَ الْحَقِّ هُوَ آوَهُمْ لَفَسَدَاتِ السَّمَوتُ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِن20، اگر حق ان کے خواہش کے مطابق ہو جاتے تو اسوقت نظام عالم درہم برہم ہو جائیے عالم درہم برہم ہو جائیگا لہذا ہو جائے گا لہذا نبوت ختم ہوچکی اور عیسی علیہ اسلام حیات ہیں۔

ختم نبوت از قرآن:

اور نبوت کے ختم پر یہ آیت بھی دلالت کر رہی ہے۔ وَمَا أَن سَلُنكَ إِلا كَانَةً لِلنَّا سِ21، ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اور مقصود بعثت بشارت اور انذار ہی ہے۔ آپ جب تمام لوگوں کے لئے رسول بن کر آئے اور سب کے لئے بیراد نذیر ہو گئے تو اب جدید بشیر اور نذیر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی ۔ اور فرمایا قل يا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعا22، کہہ دے اے لوگو! میں تم سب کے لئے اللہ کا رسول ہوں ۔ تو اب کسی انسان کے لئے جدید رسول کی ضرورت نہ رہی۔

قرآن کی روشنی میں: نبوت جزئیہ کا عقیدہ باطل اور فریب ہے:

اب اگر تم یہ کہو کہ نبوت تامہ اور رسالت و تامہ محمد رسول اللہﷺ پر ختم ہوچکی لیکن نبوت جزئیہ اور رسالت جزئیہ جسے قادیانی نبوت علی سے تعبیر کرتا ہے یہ تو ختم نہیں ہوئی ۔}}

جواب:

اس کا جواب یہ ہے کہ نبوت صرف وہی ہے، نبی اور غیر نبی میں صرف وحی ہی فاروق ہے ۔ جیسا کہ فرما یا قل انما انا بشر مثلُكُمْ يُوحى إلى23کہنا میں تمہاری طرح بشر ہوں، فرق یہ ہے کہ میری طرف وحی آتی ہے ۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہو گیا کہ جس پر وحی آئے وہ نبی ہے اور جس پر وحی نہ آئے وہ نبی نہیں ہے۔ اور فرمایا : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ اشْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِ با أَرْتالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْ (الانعام)اس سے بڑا ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ، یا کہا کہ میرے اوپر وحی آتی ہے اور اس پر کوئی بھی وحی نہ آئی ہو۔

اس آیت سے صاف ظاہر ہو گیا کہ جس پر ایک بھی وحی نہ آتی ہو اور وہ وحی کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا اور ظالم ہے ۔ اور اگر ایک دفعہ بھی وحی آگئی تو وہ قطعی نبی تام ہے۔ لہٰذا دفعہ بھی وحی وہ نہی نام ہے۔

نبوت جزئیہ کے کوئی معنی ہی نہیں ہیں۔ اور اگر ایک دفعہ بھی وحی نہیں آئی اور پھر جھوٹا دعویٰ کیا تو دجال کذاب ہے، سو نبوت نکلی اور نبوت جزئی کا دعوئی دھوکا اور فریب ہے۔ نبوت تام اور کامل ہی ہے۔ نبوت ناقص اور جزئی بے معنی لفظ ہے۔

نبوت الہام سے لازم نہیں آتی:

اگر تمہارا خیال ہے کہ الہام نبوت جزئیہ ہے ۔ تو میں کہوں گا کہ الہام غیر معتبر چیز ہے اور اس کے لئے لفظ نبوت خواہ جزائی کی قید کے ساتھ کیوں نہ کہا جائے۔ خلاف شرع ہے ۔ الہام نکنی چیز ہے۔ ہو سکتا ہے کہ فجور کا الہام الہام ہو، ہو سکتا ہے کہ تقویٰ کا الہام ہوفا لَهَمَهَا نُجُورَهَا وَتَقُوا هانبوت جزئی و کلی کی تقسیم باطل ہے:

اب دوبارہ اس بات کو سمجھ لو ۔ کہ [font" href="#foot-الشمس ،91/8، ہمیں اس کو اس کے فسق اور تقویٰ کا الہام کر دیا۔ جب الہام میں تقویٰ لازم نہیں ہے تو نبوت الہام سے کیسے لازم آسکتی ہے۔

نبوت جزئی و کلی کی تقسیم باطل ہے:

اب دوبارہ اس بات کو سمجھ لو ۔ کہ [font">الشمس ،91/8، ہمیں اس کو اس کے فسق اور تقویٰ کا الہام کر دیا۔ جب الہام میں تقویٰ لازم نہیں ہے تو نبوت الہام سے کیسے لازم آسکتی ہے۔

نبوت جزئی و کلی کی تقسیم باطل ہے:

اب دوبارہ اس بات کو سمجھ لو ۔ کہ [font

میں شئی منفیہ ہے جو عام ہوتا ہے یعنی اس پر کوئی وحی نہ ہو۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ ایک وحی بھی نبوت کے لئے کافی ہے اور نبوت تام ہے اور نبوت ناقص یہ اختراع محض ہے باطل ہے غلط ہے کفر ہے۔ لہذا جو شخص یہ کہے کہ ایک وجی مجھ پر آئی وہ قطعا نہی ہے اور وہ پورا نبی ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ جس پر ایک وحی آئے یا کم وحی آئے وہ ناقص جزئی ظلی نبی ہے ۔ اور جس پر ایک سے زائد یا بکثرت وحی آئے وہ نبی نام کا مل نہیں ہے اور پر یا تقسیم ہی غلط ہے۔ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ جب نبوت ختم ہو چکی ہے تو نبوت کا دعوی کرنا کفر ہے ۔

حاصل:

حاصل یہ ہے کہ جس انسان پر وحی نازل ہو، خواہ ایک مرتبہ خواہ ایک مرتبہ سے زیادہ ، ہر صورت میں وہ نبی ہے۔ نبوت کی تقسیم نہیں ہے۔ کہ کم مرتبہ وحی آئے تو وہ جزئی نبی زیادہ مرتبہ وحی آئے تو وہ نام اور کامل نبی ہو۔ بلکہ ہر صورت میں صاحب وحی نبی ہی ہے۔ ظلی اور جزئی کوئی چیز نہیں۔ یہ بٹن لو اور سمجھ لو کہ تمام عالموں کے لئے اور تمام انسانوں کے لئے اور تمام جنوں کے لئے جب محمدﷺ نبی ہو کر آئے تو اب مزید نبی کی کسی عالم کو اور کسی انسان اور کسی جن کو ضرورت باقی نہیں رہی۔

تبلیغ کا فریضہ امت کے سپرد:

اب اگر کوئی کہتا ہے کہ ظلی اور جزئی نبی کے یعنی نہیں کہ صاحب شریعت نبی کی شریعت کی تبلیغ کرنے کے لئے نبی کی ضرورت ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ فرمایاليَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيداً عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ25یعنی رسولی تم پر شہادت دے اور تم لوگوں پر شہادت دو۔ اور فرمایا جَعَلْنَكُمُ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شهیدا26، ہم نے تم کو بہترین امت اس لئے بنایا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ۔ اور رسول تم پر گواہ ہو جائے ۔

حاصل ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ رسول تم کو تبلیغ کرے گا اور تم باقی تمام لوگوں کو تبلیغ کرتے رہنا کیسی مزید نبی کی ضرورت نہیں ہے نبی یا اپنی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے ۔ یا دوسرے نبی کی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے ۔ اور قادیانی نہ اپنی شریعیت لایا اور نہ محمدﷺ کی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے، کیوں کہ محمد ﷺ کی شریعت کی تبلیغ کے لئے امت وسط یعنی بہترین امت مقرر کر دی گئی ۔ اب کسی نبی کی ضرورت باقی نہ رہی ۔

خلاصہ:

اس تمام تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ نبوت بغیر معجزہ کے نہیں ہو سکتی ۔ اور معجزہ وہ خرق عادت اور خلاف عادت فعل ہے جس کا تعارض اور جواب نہ ہو سکتا ہو۔ اور قادیانی کے ہاتھ پر کوئی معجزہ ظاہر نہیں ہوا ۔ اگر کہیں کوئی معمولی سی بات بھی عادت کے خلاف ظاہر ہوتی ہے تو سارے عالم میں اس کی شہرت ہو جاتی ہے چرچے ہونے لگتے ہیں۔ جیسا کہ موجودہ دور میں آپ نے دیکھا کہ ایٹم بم کی ایجاد کتنی مشہور ہو گئی۔ اسی طرح ہر نئی اور انوکھی بات کا حال ہے۔ میگر اس مدعی نبوت سے کوئی ایسی خلاف عادت اور خرق عادت بات ظاہر نہیں ہوئی۔ لہذا یہ مدعی نبوت قطعاً جھوٹا اور کا ذب ہے۔

نبی تبلیغ کا پابند ہے:

نیز نبی اگر آتا ہے تو یا اپنی شریعت لے کر آتا ہے اور اپنی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے۔ مگر قادیانی کوئی شریعت لے کر نہیں آیا، اور نہ کوئی اور نئی شریعت لا سکتا ہے، کیونکہ فرمایا الْيَوْمَ الْحَمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم زيارة سورۃ المائدہ، تمہارے لئے آج میں نے تمہاری شریعت مکمل کر دی ، اب کسی اور شریعت کی ضرورت نہیں رہی ۔ یا وہ نبی کسی پہلے نبی کی شریعت کی تبلیغ کرنے کی غرض سے آتا ہے۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کی تبلیغ کرنے کے لئے کسی نبی کی ضرورت نہیں ہے ۔

اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالی نے امت وسط یعنی بہترین امت کو مقرر کیا ہے ۔ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمُ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شهیدا27 اور اسی طرح ہم نے تم کو بہترین امت قرار دیا تاکہ تم تمام لوگوں کو تبلیغ کرد۔ اور ان کے دین پر گواہ بن جاؤ۔ اور رسول تم کو تبلیغ کرے اور تم پر گواہ ہو جائے۔ لہذا تبلیغ دین اور شریعیت کے لئے کسی نبی کی ضرورت نہیں ، صرف اُمت کانی اور اُمت کے لئے وحی نہیں ہے۔ لہذا امت میں سے کوئی نبی نہیں ہے۔ اس کے باوجود کوئی نبوت کا دعوی کرے ۔ وہ بڑے سے بڑا ظالم اور کذاب و دجال ہے ۔

نزولِ عیسیٰ sym-9 اور خیرِ اُمت کا مفہوم:

سوال : یہ امت بہترین امت ہے اور یہ بہتری اسی اُمت کا خاصہ ہے ۔ اگر حضرت عیسی بن مریم sym-9 دوبارہ اس جہاں میں تشریف لا کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں گے۔ تو یہ امت بہتری اور خیر سے خارج ہو جائے گی اور محروم ہو جائے گی ۔ لہذا حضرت عیسی sym-9 دوبارہ اس دنیا میں آکر یہ شرف اور بہتری حاصل نہیں کریں گے بلکہ اس امت میں کا کوئی فرد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کے لئے مقرر ہوگا اور وہ یہی قادیانی ہے۔

جواب :۔ اگر اس کے تمام بیانات صحیح ہوں تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قادیانی کی حیثیت امتی کی ہے۔ اور امت میں سے کوئی بھی نبی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس کے لئے نبوت حیت اسی کا ثابت ہونا ہی محال ہے۔ دوسرے یہ کہ حضرت عیسی sym-9 کا دوبارہ آنا یہود کی تنبیہ اور ڈانٹ کے لئے ہوگا۔ اور بطور معجزہ کے ہوگا۔ جس طرح آپ کی پیدائش بطور معجزہ کے ہوئی تھی۔ آپ نازل ہو کر شریعت محمدیہ قدریہ کی تبلیغ کریں گے۔ جس طرح شروع سے اُمت تبلیغ کرتی چلی آئی ہے۔

آیتِ “كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا” کا صحیح مفہوم اور قادیانی تحریف کا ردّ

سوال : جب محمدﷺ مثیل موسیٰ ہیں، تو ضروری ہے کہ آپ کی امت بھی موسوی امت کی مثیل قرار پائے جیسا کہ فرمایا :اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا ارْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً28 ، ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا جو تم پر شاہد ہے ۔ جس طرح موسیٰsym-9 کو فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمدﷺ مثیل موسیٰ تھے ۔ اور جب نبی نبی کی مثل ہے تو اس نبی کی اُمت بھی اس نبی کی امت کی مثل ہوگی۔ پس امت محمدیہ امیت موسویہ کی مثل ہوئی ۔ اور امت موسویہ میں چودہ سو برس بعد مسیحsym-9 پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے ضروری ہے کہ امت محمدیہ میں چودہ سو برس بعد ایک مسیح پیدا ہوں، اور وہ یہ غلام احمد قادیانی ہے۔

جواب :۔ آیت میں نبی کو نبی سے تشبیہ نہیں دی گئی ہے، بلکہ صرف ارسال یعنی بھیجے جانے میں مثل قرار دیا گیا ہے جس طرح موسیٰsym-9 کو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اسی طرح محمد ﷺ کو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ۔ اس لئے نہ نبی نبی کی مثل ہے اور نہ امت امت کی مانند یعنی نہ تو محمد ﷺ موسیٰ sym-9کی مثل ہیں اور نہ اُمتِ محمد یہ است موسویہ کی مثل ہے ۔ بلکہ نبی نبی سے افضل اور امت امت سے افضل ہے۔ کوئی کسی کے مثل نہیں ، جیسےإِنَّا أَوحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلى نُوح29 اے پیغمبر ! ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی جس طرح نوح sym-9 کی طرف کی ۔

اس سے صرف وحی کرنے میں مماثلت ثابت ہوتی ہے۔ جس کی طرف وحی کی گئی ان کی باہمی مماثلت ثابت نہیں ہوتی ۔ ورنہ تمام انبیار ایک دوسرے کے مثیل ہو جائیں گے۔ اور یہ صحیح نہیں ہے ، کیونکہ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ30 ان رسولوں میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت ہے ۔ اسی طرح ایک اُمت کو دوسری است پر فضیلت ہے۔ اور اگر ایک اُمت دوسری امت کی مثل ہو جائے تو یہ ضروری نہیں ہے ۔ کہ جتنے افراد اس میں ہوئی اتنے ہی افراد اس امت میں بھی ہوں بنی اسرائیل کی قوم میں بے شمار انبیاء اور رسول ہوتے ہیں تو چاہیے کہ امت محمدیہ میں بھی مثل ہارون اور مثل داود وسلیمان اور مثل ذکر یا وی sym-3ہوں اور پھر یہ کیا ضروری ہے کہ صرف مماثلت مسیح sym-9ہی کے ساتھ ہو، دوسروں کے ساتھ نہ ہو جب امت محمدیہ مثل امت موسو یہ ہو کر میٹی پیدا کر سکتی ہے تو ہارون، داور، سلیمان ، زکریا اور یحییٰ کیوں نہیں پیدا کرتی ۔ اس کے علاوہ امت سے مراد قوم نسبی ہے یعنی اس خاندان سے در حقیقت حضرت علیسی ہیں جس خاندان سے حضرت موسیٰ ہیں اور امت سے مراد مخاطب بنی ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے حضرت عیسیٰ حضرت موسی کے امتی نہیں ہیں بلکہ خود رسول اور نبی ہیں الغرض یہ قادیانیوں کی انتہائی جہالت ہے۔

أمواتٌ غير أحياء اور حضرت عیسیٰsym-9 کی حیات:

سوال : وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ خَلَقُونَهُ أَمْوَاتُ غیر احیاء31 ، اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی پوجا ہو رہی ہے وہ کسی شے کے خالق نہیں ہیں ، بلکہ وہ خود مخلوق ہیں ، مردے ہیں، زندے نہیں ہیں اور عیسیٰ sym-9 کی پوجا ہوتی ہے لہذا وہ بھی مردے ہیں زندہ نہیں ہیں۔

جواب : خدا کے سوا جن کی پرستش اور پوجا کی جاتی ہے ان سے یہاں بہت مراد ہیں۔ عیسٰیsym-9 مراد نہیں ہیں دوسری جگہ ارشاد ہے إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ الله32، یعنی تم خدا کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو، وہ تمہاری طرح بندے ہیں۔ یہاں فرمایا گیا ہے امثالُكُمْ تمہاری طرح خدا کو ط چھوڑ کر جن کی پوجا کی جاتی ہے۔ اگر وہ زردہ تسلیم کرلئے جائیں تو چوں کہ وہ تمہاری طرحقرار دیئے گئے ہیں۔ اس لئے تم بھی مردہ مجھے جاؤ یا پھر وہ تمہاری طرح زندہ ہو جائیں گے اس کے علاوہ یہ بھی فرمایا گیا ہےاِنكُمْ وَمَا تَعْبُدُ دُنَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبْ جَهَنَّمَ33 بے شک تم اور جن کی خدا کو چھوڑ کر تم پرستش کرتے ہو وہ سب جہنم کا ایندھن ہیں تو کیا نعوذ باللہ حضرت مسیح sym-9 بھی جہنم کا ایندھن بننے والوں میں شامل سمجھے جائیں گے۔ نیز فرشتوں جنوں اور شیطانوں کی بھی پرستش کی جاتی ہے تو کیا یہ سب مردہ ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہانک ميتُ وَإِنَّهُمُ میتون34 اور بے شک تو مردہ ہے اور وہ سب مردے ہیں جس طرح اس آیت میں فی الحال مردہ ہونا مراد نہیں ہے اُسی طرح خدا کے سوا جن کی پرستش کی جاتی ہے ان کافی الحال مردہ ہونا مراد نہیں ہے۔

فَادْخُلِي فِي عِبَادِي” سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا دعویٰ

سوال :-فَادْخُلِي فِي عِبْدِى وادخلی جنتی35میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ۔ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ میں داخلہ مرنے کے بعد ہے۔ اور حضور اکرم ﷺنے حضرت عیسیٰsym-9 کو فوت شدہ انبیاء میں داخل دیکھا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح sym-9 بھی دوسرے تھا۔ انبیاء کی طرح فوت ہو کر انہی کی جماعت میں داخل ہو گئے۔

جواب : محض شامل ہونے سے مردہ ہونا لازم آجائے تو چاہیے کہ رسول اللہ ﷺبھی اس وقت فوت ہو چکے ہوں اور فوت ہو کر ان میں شامل ہو گئے ہوں ۔

انبیاء کو بھی اجل آنی ہے:}}

سوال : كُلِّ مَنْ عَلَيْهَا فان36، جو زمین پر ہے وہ فانی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح sym-9 بھی فالی ہیں ۔

جواب : اگر اس آیت کا یہی مطلب ہو تو اس وقت کروڑ وی آدمی زمین پر موجود ہیں تو چاہیے کہ یہ سب میت اور فانی ہوں ۔ حالانکہ سب زندہ ہیں ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو زمین پر ہے وہ فنا ہونے والا ہے جیسےکل نفسٍ ذَائِقَةُ الموتِ37، ہر شخص موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ یعنی نہیں کہ موت کا مزہ چکھ لیا ۔ اسی طرح ایک روز حضرت مسیح sym-9بھی موت کا مزہ چکھیں گے، فنا ہوں گے ۔ اس کے یہ معنی قطعاً نہیں ہو سکتے کہ فنا ہو گئے۔

رفع الی السماء محال نہیں :

سوال: او ترقى في السماء38، کفار نے یہ تجزہ طلب کیا تھا کہ تو آسمان پر چڑھ جا۔ اور ہم تیرے آسمان پر چڑھنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ جب تک تو ہم پر کتاب نہ نازل کر دیے تا کہ ہم اس کو پڑھیں۔ اللہ تعالی نے جواب دیا کہ دے میرا رب پاک ہے۔ اور میں تو ایک بشر اور رسول ہوں ۔قُلْ سُحْنَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ الأَبشرا رسولا39 ، خدا تعالیٰ کے اس جواب سے معلوم ہو گیا کہ آسمان پر چڑھنا محال ہے اور اللہ تعالیٰ کی عادت کے خلاف ہے لہذا عیسیٰ sym-9آسمان پر نہیں چڑھے ۔

جواب : اگر آسمان پر چڑھنا محال ہے تو رسول اللہ ﷺ کی معراج بھی محال ہو گئی۔ اگر تمہارے نزدیک معراج بھی محال ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر معجزات ہوئے وہ عادت کے خلاف ہی ہوئے ہیں۔ اس لئے تمام معجزات کو محال قرار دے کر انبیاء اور رسولوں ، نبوت لئے کو محال کر اور ، اور رسالت کو بھی محال قرار دے دیا جائے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمام آسمانی مذاہب باطل ہو کر رہ جائیں گے۔

رفع فضیلت یا افضلیت:

سوال: آسمان پر زندہ جانا بڑی افضلیت اور شرف و کرامت کی بات ہے۔ جب یہ مقام رسول اکرم ﷺ کو حاصل نہ ہوا تو حضرت مسیح sym-9 کے لئے اس کا کیسے تصور کیا جا سکتا ہے ؟

جواب :۔ اول تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام معراج میں آسمانوں پر تشریف لے گئے جو عقل اور نقل سے ثابت ہو چکا ہے، دوسرے یہ کہ یہ افضلیت نہیں ہے جس کی وجہ سے اور محمد رسول اللہﷺ پر برتری تسلیم کی جائے۔ بلکہ فضیلت ہے ۔ جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے لئے آگ کا گلزار ہو نا۔ حضرت موسیٰsym-9کے لئے لکڑی کا اثر رہا ہونا حضرت داؤد sym-9کے لئے لوہے کا نرم ہونا حضرت سلیمان sym-9 کے لئے پرندوں کی بولی پہچاننا اور حضرت عیسی sym-9کے لئے اول روز سے آخر تک معجزانہ افعال کا صادر ہونا۔ مردہ کو زندہ کرنا۔ پرندہ کی شکل کا پرندہ جانور پیدا کرنا بے باپ کے پیدا ہونا۔ اسی طرح آخر میں زندہ آسمان پر اٹھا لیا جانا یہ سب معجزات ہیں ۔ اور معجزات افضلیت کا معیار نہیں ہوتے ۔ بلکہ نبی کی صداقت اور سچائی کا معیار ہوتے ہیں حضرت عیسی sym-9کو جس نوعیت کے اور جس کثرت کے ساتھ معجزے دیئے گئے وہ ان کے حالات کی بنا پر تھے۔ یہودیوں نے آپ کی ذات پر بہت سی بہتان تراشیاں کی تھیں ۔ اس لئے حق تعالیٰ نے ان معجزات کے ذریعہ آپ کی تائید فرمائی ۔ اس سے آپ کے دوسرے نبیوں سے افضل ہونے کا ثبوت نہیں نکلتا۔ جس زمانہ میں صبیبی ضرورت ہوئی ۔ قدرت نے اسی کے مطابق پیغمبر کی تائید و نصرت کے لئے اسباب فراہم کر دیئے۔

وقت نزول حضرت عیسی sym-9 کی حیثیت :

سوال : - جب عیسیٰ sym-9 تشریف لائیں گے ۔ تو امتی بن کر تشریف لائیں گے یا نبی بن کر ؟

جواب :- وہ نبی ہی کی حیثیت میں آئیں گے۔ جس طرح اگلے انبیار اپنے سابق نبی کے دین و شریعت کی تبلیغ کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰsym-9 بھی رسول اللہ ﷺکی شریعت کی تبلیغ کریں گے۔

سوال :۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ نبوت ختم نہ ہوئی ؟

جواب : نبوت ختم ہو چکی ۔ حضرت مسیح sym-9 نئی نبوت کے ساتھ نہیں آئیں گے۔ اپنی قدیمی حیثیت میں آئیں گے ۔ اور رسول اللہ ﷺ ہی کی شریعت کا اتباع کریں گے۔

لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُکی صحیح تفسیر:

سوال : کیا اس سوال کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ عیسیٰ sym-9 امتی بن کر آئیں گے جب کہ یوم میثاق میں تمام انبیا عہد لیا تھا کہ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُ نه40 یعنی روز میثاق اللہ تعالیٰ نے تمام انبیار سے یہ عہد لیا تھا۔ کہ تم خاتم النبیین پر ایمان لانا ۔ اور سب نے اقرار کر لیا تھا۔ اس اقرار کے ماتحت حضرت عیسی sym-9بھی حضرت محمد ﷺ پر ایمان لا کر اُمتی ہو گئے۔

جواب : یہ استدلال صحیح نہیں ہے ۔ ایمان لانے سے اُمتی نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم تمام انبسیار پر اور ملائکہ پر ایمان لا چکے، لیکن ہم اُن کے اُمتی نہیں ہیں ۔ ہمارے نبیﷺ بھی تمام انبیاء پر ایمان لاچکے لیکن ہمارے نبی تمام انبیار کے اُمتی نہیں ہیں جس نے ایسی بات کہی ، اس نے غلطی کی ۔ حاصل یہ ہے ۔ کہ حضرت محمد رسول اللہﷺ کے بعد اس دنیا میں کوئی نبی نہیں آئے گا سوائے حضرت عیسیsym-9 کے ۔

خاتم النبیین کا وصف ایک فرد میں منحصر:

سوال :۔ اس سے یہ وہم ہوتا ہے ۔ کہ پھر تو حضرت عیسیٰsym-9 خاتم النبین ہوئے۔}}

جواب : نہیں، خاتم النبین اور خاتم الشرائع صرف محمد رسول الله ﷺ ہی ہیں ۔ اور حضرت عیسٰی sym-9 نہ اپنی شریعیت نہ قدیم شریعت نہ جدید شریعت، کوئی شریعت لے کر نہیں آئیں گے ۔ صرف شریعت مصطفوی کی تبلیغ کریں گے۔ اور یہ بات ان کی نبوت کے منافی نہیں ہے۔ کیونکہ توریت کی تبلیغ جس طرح مبلغین توریت کی نبوت کے منافی نہیں تھی ۔ اور جس طرح توریت کی تبلیغ عیسیsym-9 کی نبوت کے منافی نہیں تھی ، بالکل اسی طرح قرآن کی تبلیغ بھی عیسیٰ sym-9 کی نبوت کے منافی نہیں ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ نبی کا اس جہاں میں آنا یہ نہیں چاہتا کہ اس کے ساتھ اس کی شریعت بھی آئے۔ ہاں اس کے آنے میں کیا مصلحت ہے اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ یہودی کہتے تھے کہ قتل کر دیا ۔ صلیب دے دی یعنی سولی پر چڑھا دیا ۔ انہیں آگاہ کرنے اور ڈانٹے کے لئے بھیجا جائے ۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی اور مصلحت ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محض مشیت ہو ۔

امت اور زبانِ امت میں یکسانیت:

سوال : جس قوم میں نبی آیا ہے اُس قوم کی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں اُس نبی پر رہی ہوتی ہے؟

جواب : ہرگز نہیں ۔وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ41ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو ، مگر اس کی قوم کی زبان میں۔ لہذا ت دیانی نے جو عربی میں وحی کا دعویٰ کیا ہے۔ بالکل جھوٹ اور غلط ہے۔

غیب کی خبر دلیل ِصداقت :

سوال : کیا غیب کی خبر صداقت کی دلیل ہے ؟

جواب : اس وقت جب کہ خبر دینے والے کے لئے غیب ہو اور خیبر پانے والے کے لئے حضور ہو، مثلاً کسی سے گھر میں خفیہ کوئی ذخیرہ یا چیز رکھی ہوئی ہے۔ یا ہوئی ہے۔ جس کا علم سوائے اس سے کسی کو نہیں ہے ، اب اگر کوئی خبر دے دے تو یہ خبر غیب کی خبر اور خرق عادت ہوگی۔ جب تک کہ خیبر خرق عادت کو نہ پہنچے ۔ اس وقت تک معیار داقت نہیں ہے۔ لہذا کوئی پیش گوئی حجت نہیں ہے۔ اکثر منجمین بلکہ عوام کی پیش گوئیاں صادق نکل آتی ہیں۔ نبوت کے لئے ایسا خرق عادت فعل ہونا چاہیے ۔ کہ جس کا جواب نہ ہو سکے۔

آیتِ اہلِ ذکر سے وفاتِ مسیح نہیں بلکہ حیاتِ مسیح ثابت ہے:}}

سوال :۔ قادیانی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہفَسْئَلُوا أَهْلَ الذكر إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ42، اگر تم کو علم نہ ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو اور قادیانی نے اہلِ ذکر سے پوچھا تو اہلِ ذکر نے وفات مسیح کی کی خبر دی ۔ ۔ لہذا مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس آیت سے وفات ثابت ہوتی ہے۔

جواب: ہرگز نہیں، بلکہ حیات ثابت ہوتی ہے، اس لئے کہ اہل ذکر یا یہود ہیں یا نصاری یا مسلمین، تو یہود بھی موت طبعی اور وفا تو طبعی کے منکر ہیں کیونکہ وہ قتل و صلیب کے قائل ہیں۔ اور نصاری اور مسلمین سرے سے وفات کے منکر ہیں۔ پس جب اہل ذکر سے پوچھا گیا ۔ تو سب ہی نے موت طبعی اور وفات طبعی کا انکار کیا ۔ لہذا حیات ثابت ہے۔

خلاصہ کلام:

خلاصہ اس تمام بیان کا یہ ہے کہ نبوت بغیر اعجاز یعنی نا قابل جواب خرق عادت سے ثابت نہیں ہوسکتی اور نبوت نا قابل تقسیم ہے، یعنی نبوت کی تقسیم تامہ اور غیر تامہ اصلی اور فرعی حقیقی اور بروزی کی طرح نہیں ہو سکتی ۔ یہ سب الفاظ جعلی ہیں۔ نبوت صرف ایک ہی شے ہے اور وہ دلی ہے اور وحی اللہ تعالیٰ کا بشر سے کلام کرنا ہے اور اس نبوت و وحی کے دعوے کا ثبوت انسان کے قول سے نہیں ہو سکتا ، کیونکہ انسان کو صدق و کذب دونوں پر اختیار حاصل ان ہے بلکہ ایسی چیز جو صدی پر مجبور ہو اور صرف صدق ہی اس کو لازم ہو وہ مدعی نبوت کی تصدیق کرے گی۔ لہذا کوئی خرق عادت فعل قادیانی سے صادر نہیں ہوا ۔ اس لئے وہ صاحب نبوت اور صاحب وحی ہرگز نہیں۔}}

خوب سمجھ لیجئے، خرق عادت فعل وہ ہے جس کا جواب ساری قوم نہ دے سکے ۔ وہی مدعی نبوت کی صداقت پر دلیل ہو گا ۔ لہذا نبوت صداقت پر دلیل ہو بغیر معجزہ کے ثابت نہیں ہو سکتی۔ اور نبوت سے واحد ہے۔ اس میں ادنی اور اعلیٰ کا فرق نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے ظلی نبوت اور حقیقی نبوت کا فرق کرنا سرے سے غلط ہے۔ صرف ایک ہی شے ہے نبوت حقیقت تامہ اصلیہ ۔

اور یہ بھی خوب سمجھ لیجئے ، نبی یا اپنی شریعت لے کر آتا ہے یا پہلے نبی کی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے۔ قادیانی نہ اپنی شریعت لے کر آیا ہے نہ شریعت مصطفوی کی تبلیغ کر سکتا ہے، کیونکہ شریعت مصطفوی کی تبلیغ کے لئے نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لئے امتہ وسطاً کافی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اس شریعت کی تبلیغ کے لئے نبوت کا دروازہ بند کر دیا ۔ اور صرف امت کو تبلیغ کے لئے مقرر کر دیا ، اسی لئے اس امت کو استہ وسطا اور خیر امتہ ٹھہرایا گیا۔ اور حضرت عیسی sym-9 حیات ہیں ۔ ان کی وفات نہ حس سے معلوم ہے نہ عقل سے نہ مخبر صادق ہے۔ مخیر صادق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور رسول اللہ ﷺہیں یعنی نہ اللہ کے کلام کی کسی آیت سے درفات مسیحsym-9 ثابت ہے نہ رسول اللہ ﷺکی کسی حدیث اور کسی قول سے ثابت ہے جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا۔

خلاصہ دلیل:

دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی اپنی نبوت کے دعوے نہیں اور وفات مسیح sym-9کے دعوے میں اگر سچا ہے تو تمام قوم جھوٹی ہو جائے گی ۔ اور جب تیرہ سو سال کی پوری قوم اور پوری جماعت مومنین کی، محدثین کی ، فقہا ر کی ، علماء کی ، جہلاً کی ، سب کے سب جھوٹے ہو جائیں گے۔ تو اس وقت قرآن کی نقل کرنا غیر معتبر اور غلط ہو جائے گا ۔ اور اصلی مذہب اصلی دین اصلی نبی اصلی کتاب، اصلی شریعت اصلی نبوت سب باطل ہو جائیں گے پھر یہ ظلی نبوت کسی کام آئے گی مگر حقیقت یہ ہے کہ قرآن ، اسلام دین بنی اور تمام قوم کی تصدیق حق ہے۔ اس لئے یہی نتیجہ نکلے گا کہ قادیانی کا ذب ہے۔ جس جماعت نے خاتم النبین کا لفظ نقل کیا ہے اُسی کی صداقت پر اس لفظ کے معنی تسلیم کئے جائیں گے جس جماعت نے متوفیات کا لفظ نقل کیا ہے اس کی صداقت پر اس سے معنی مراد لئے جائیں گے ۔

خلاصہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ تبلیغ کی کہ آئندہ نہی نہیں ہو گا اور مسیح sym-9حیات ہیں ۔ یا یہ تبلیغ نہیں کی ؟ اگر یہ تبلیغ کی کہ آئندہ ہرگز کوئی نبی نہیں ہو گا۔ اورمسیحsym-9حیات ہیں اور پھر وہ اس عالم میں آئیں گئے ، تو ہمارا مدعا ثابت ہو گیا اور قادیانی جھوٹ واضح ہو گیا۔ اور اگر رسول اللہ ﷺنے تبلیغ نہیں کی کہ آئندہ کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ اور مسیح sym-9حیات ہیں یعنی ان دونوں باتوں کی تبلیغ نہیں کی لیکن صحابہ، تابعین اور تبع تابعین اور مجتہدین اور محدثین اور علماء و محققین اور غیر متقین اور اولیاء کرام اور تمام عام مسلمانوں نے یہ تبلیغ کی کہ آئندہ نبی نہیں آئے گا اور مسیحsym-9حیات ہیں، تو یہ سب کے سب جھوٹے ہو گئے اور ان ہی سب نے مل کر قرآن نقل کیا ہے ۔ لہذا قرآن ان تمام جھوٹوں کی نقل پر موقوف ہو کر غیر معتبر ہو گیا ۔ اسی طرح اصلی بنی اصلی مسیح اور اصلی نبوت سب ہی غیر معتبر ہوگئی۔ پس اگر قبادیانی سچا ہو گا تو ساری قوم ، قرآن اور پورا دین چھوٹا ہو جائے گا لیکن یہ ساری قوم قرآن اور دین سب سچا ہے۔ لہذا قادیانی قطعا جھوٹا ہے۔ اس بیان سے قادیانی مذہب کی اسامی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے۔ کوئی سہارا باقی نہیں رہتا۔}}

لا نبی بعدی کی تفسیر:

سوال : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اس کے کیا منی ہیں۔

جواب : میرے بعد کوئی انسان پیدا ہو کر نبوت کا سچا دھولے نہیں کرے گا۔ نبی نہیں آئے گا ۔ اور نبی نہیں ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی نبی پیدا ہو کر دعوی نبوت کو معجزے سے ثابت کر کے قوم سے نہیں منوائے گا یعنی کوئی سچا نبی پیدا ہی نہیں ہوگا۔ الہذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ مومنین کی پیروی کرے جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ دینی غیر سبیل المومنين نوله ما تولى ونقله جهنم43 جو مومنوں کے راستہ کے خلاف چلے گا۔ ہم اس کا منہ ادھر ہی کر دیں گے اور اس کو جہنم میں داخل کر دیں گے۔ اور تمام مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسی sym-9 حیات ہیں اور کوئی نبی خاتم النبین کے بعد نہیں آ آئے گا۔ اور مذہب کی تبلیغ کے لئے صرف اُمت کافی ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الكتب هُوَ الْحَقُّ مُصَدٍ قَا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَ إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ الْخَبِيرُ بِجَيْرُهُ تَمَّارُ ثُنَا الكَتَبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا نَنْهُمْ ظَالِمُ لَنَفْسِهِ ۚ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدُ رَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللهِ44 ، اور جو کتاب ہم نے تیری طرف وحی کی ہے وہ حق ہے اگلی کتاب کی مصدق ہے۔ بے شک اللہ اپنے بندوں سے باخبر ہے دیکھ رہا ہے۔ پھر ہم نے کتاب کی وراثت کے لئے چند بند وں کو منتخب کر لیا۔ بعض ان میں اپنی جان پر ظلم کرنے والے تھے۔ بعض درمیانہ رو تھے۔ بعض بھلائیوں میں آگے نکل گئے ، یعنی سبقت لے گئے ۔ الغرض کتاب اُمت ہی کے ورثہ میں آئی ، نبی کے ورثہ میں نہیں آتی ۔ اس لئے تبلیغ کے لئے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔

عیسی sym-9خاتم النبیین نہیں ہوسکتے :

سوال : حضرت عیسی sym-9جب اس زمین پر تشریف لائیں گے تو اس وقت وہ یا صرف نبی ہوں گے یا صرف امتی ہوں گے ۔ یا نبی اور امتی دونوں ہوں گے ۔ یا نہ نبی ہوں گے نہ امتی ۔ تو چوتھی صورت کہ نہ نبی ہوں گے نہ امتی بالکل باطل ہے ۔ کیونکہ نبی کا نبی نہ ہونا محال ہے۔ دوسری اور تیسری صورت کہ صرف امتی ہوں گے۔ یا امتی اور نبی دونوں ہوں گے، یہ بھی باطل ہے کیونکہ اوپر گذر چکا ہے ۔ کہ وہ امتی نہیں ہوں گے۔ اب صرف پہلی صورت باقی رہ گئی کہ وہ صرف نبی ہوں گے تو اس صورت میں خاتم النبین ، خاتم النبین نہیں رہ سکتے ۔ بلکہ خاتم النبین حضرت عیسی sym-9 ہو گئے۔

جواب : حضرت عیسی sym-9کی ولادت اور پیدائش خاتم النبین سے ر پہلے ہو چکی ۔ اور وہ اب تک زندہ ہیں ۔ لہذا پہلے پیدا شدہ نبی کا اشدہ نبی کا زندہ رہنا خاتم النبین کی وفات کے بعد تک اس بات کو نہیں چاہتا کہ وہ خاتم ہو جائے۔ کی و بلکہ خاتم النبیین رہی ہے جس سے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو اور جو پہلے پیدا ہو چکا اور زندہ رہ جائے وہ خاتم نہیں ہو سکتا۔}}

نوٹ:

حضرت مسیح دنیا میں آنے کے بعد جو تبلیغ کریں گے وہ تبلیغ در حقیقت ان کا عمل ہوگا۔ جس طرح نماز پڑھنا روزہ رکھنا انکا عمل ہوگا ۔ اسی طرح تبلیغ کا بھی ان کا عمل ہوگا ۔ یہ نہیں ہے کہ وہ تبلیغ کے مقصد کے لئے بھیجے جائیں گے اور ایک نبی کا دوسرے نبی کی شریعت پر عمل کرنا اس بات کو نہیں چاہتا۔ کہ وہ نبی اس نبی کا امتی ہو جائے ۔ جیسے فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِه ْ45، اے نبی تو ان کی ہدایت کی پیروی اور اقتدا کر ۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺان انبیائے سابقین کے امتی تھے یا اِن ِاتَّبِعُ مِلَّةَ ابْرًا هِيمَ حَنِيفاً46 ابراہیم sym-9 کی شریعت کی پیروی کر۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت محمد ﷺ ابراہیم sym-9کے امتی تھے۔

بالکل اسی طرح حضرت عیسیsym-9 کا شریعت مصطفوی پر عمل کرنا یہ نہیں است . کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے امتی ہو جائیں ۔ حاصل یہ ہے کہ یہ تبلیغ بحیثیت عمل کے ہے مستقل نہیں ہے ۔ بلکہ یہ اقتدار ہے اور اقتدار ایک نبی کی دوسرا نبی کر سکتا ہے کیسی انسان کے لئے دوسرے کا اُمتی ہونا اس وقت ثابت ہو گا۔ جب کہ اس کی تبلیغ اس تک پہنچے، لیکن محمد رسول اللہﷺ عیسی sym-9 کی تبلیغ کے لئے مبعوث نہیں ہوئے اس کے باوجود حضرت عیسیٰ sym-9 محمد رسول اللہ ﷺکی اقتدار کر سکتے ہیں ۔ اور یہ نہ ان کے نبی ہونے کے منافی ہے اور نہ اُن کے اتنی ہونے کو چاہتا ہے۔ یعنی حضرت عیسی علیہ السلام نہ امتی اس وقت ہوتے جب نبی اکرمﷺ ان کی طرف مبعوث ہوتے۔ اور یہ خاتم النبین اس وقت ہوتے جب اس زمانہ کی امت کی تبلیغ کے لئے اللہ تعالیٰ ان کو اس زمانہ میں پیدا کرتا ۔ یہاں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں۔ اور ان کے زمین پر آنے کے بعد نبی ﷺ کی اقتداءکرنی ان کی نبوت کے منافی ہے ۔اور ان کے زمین پر آنے کی مصلحت اللہ کو معلوم ہے کیونکہ ان کی پیدائش خرق عادت،تمام زندگی خرق ِعادت ،ان کا آسمان میں زندہ اٹھایا جانا خرق ِعادت آسمان سے زمین پر واپس آنا خرق ِسادت ،پھر آنے کے بعد سرور عالم ﷺ کی اقتداء کرنا ، ان ساری باتوں کی حکمت و مصلحت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔

اجرائے نبوت کا مغالطہ:

سوال :۔ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ نبوت جاری ہے۔ وہ اس عقیدے کے دلائل میں سب سے بڑی دلیل ایک حدیث علماء امتي كَانْبِيَاءِ بَنِي اسرائيل پیش کرتے ہیں۔ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ میری اُمت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کے مثل ہوں گے۔

جواب : ہمارے بعض علماء نے اس حدیث کو ضعیف قرار دے کر مسترد کر دیا۔ حالانکہ ان کو ایسا جواب دینا چاہیے تھا جو قادیانیوں کے لئے قابل قبول ہوتا۔ حدیث مترد کر دینے سے محدث کی عزت اور حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی ہے. جواب اس کا یہ ہے کہ اس حدیث میں جو لفظ مثل ہے وہ نوعی یا جنسی نہیں ہے بلکہ تعددی اور تکثری ہے ۔ اب اس کے معنی یہ ہو گئے کہ میری امت میں اتنی کثرت سے علماء ہوں گے جتنی کثرت سے قوم نبی اسرائیل میں انبیاء sym-3 ہوئے ہیں اور یہ بات قطعی حق ہے کہ ہمارے نبی ﷺکی امت میں کثیر علماء آج بھی موجود ہیں ۔ لہذا اجرائے نبوت بالکل باطل ہے اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں ہوگا ۔


Netsol OnlinePowered by