logoختم نبوت

عقیدہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت ۔۔۔از۔۔۔ محمد دانش احمد اختر القادری

اعوذ بالله من الشیطن الرجیم۔ بسم الله الرحمن الرحیم۔ الحمد لله رب العالمین
الصلاة و السلام علیک یا سید الانبیاء و المرسلین و علی اٰلک و اصحابک اجمعین النبیین

ختمِ نبوت پر بے حد درود و سلام

(از: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری sym-4)

ایمان نام ہے رسولِ خدا ﷺ کے بتائے ہوئے بنیادی عقائد و نظریات کو دل سے ماننے اور کسی بھی ایسی چیز کا انکار نہ کرنے کا جو قطعی اور متواتر طور پر ثابت ہو۔ عوام و خواص سب جانتے ہوں کہ ’’یہ بنیادی جزوِ دین‘‘ کہا جاتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، نبوتِ رسول ﷺ، جنت و دوزخ وغیرہ۔ صدر الافاضل علامہ مفتی نعیم الدین مرادآبادی sym-4 فرماتے ہیں: ’’کسی ایک ضرورتِ دین میں انکار کفر کر دیتے ہیں، اگرچہ وہ تمام ضرورتوں کی تصدیق کرتا ہو۔‘‘ عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو عقلیہ، علمیہ، یا شرعیہ میں ماہر نہ ہوں، علمائے حق سے شرف یاب ہوں اور مسائلِ علیہ سے ذوق رکھتے ہوں۔ (بہارِ شریعت حصہ اوّل)

ان ہی ضروریاتِ دین میں سے ایک رسولِ کریم ﷺ کا انبیاء و مرسلین، بنیِ آدم، اور تمام مخلوقات پر خاتم ہونا ہے۔ یعنی ربِ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کی بعثت کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم فرما دیا۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا رسول نہیں ہو سکتا۔

قرآن و حدیث میں بے شمار نصوص رسولِ اللہ ﷺ کی ختمِ نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔ عقیدہ ختمِ نبوت کی ضرورت، اہمیت اور مختصر تاریخ ملاحظہ فرمائیں۔

قرآنِ عظیم کی بیشمار آیات رسولِ خدا ﷺ کی ختم پر بطورِ دلیل پیش کی جا سکتی ہیں۔ یہاں صرف وہ مشھور آیت مبارکہ پیش خدمت ہے جس میں رب کریم نے صراحت کے ساتھ سرکار ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا تذکرہ آپ ﷺ کے اسم گرامی کی وضاحت ساتھ فرمایا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہوتا ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّیْنَ 1
محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہاں وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے (آخری نبی) ہیں۔ (کنزالایمان)

احادیثِ کریمہ میں بھی خاتمیتِ محمدی ﷺ کا مضمون کثرت سے بیان ہوا ہے، ملاحظہ فرمائیں چند احادیث کا صرف ترجمہ بطورِ مثال:

حضرت ابوہریرہ sym-5 سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک آدمی نے گھر بنایا اور اس کے سجا نے اور سنوارنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد پھرنے اور تعجب سے کہنے لگے: بھلا اینٹ کیوں نہ رکھی؟‘‘ فرمایا: ’’وہ اینٹ میں ہوں اور میں آخری نبی ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری و مسلم)

حضرت ابوہریرہ sym-5 سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کیا گیا۔‘‘ (جامع ترمذی)

حضرت انس بن مالک sym-5 سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’بے شک رسالت و نبوت ختم ہو چکی، میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ ہی نبی۔‘‘ (جامع ترمذی)

حضرت ابراہیم بن ابی ہاشم sym-5 فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمیل خطیبہ اور ارشاد فرمایا:

’’میں تمام انبیاء میں آخری ہوں اور تم بھی آخری امت ہو۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

نبیِ خاتم الانبیاء ﷺ نے انبیاء و مرسلین sym-7 کے بعد سب سے افضل ترین انسانوں یعنی اپنے اصحاب، اہلِ بیت اور آل کے بارے میں نام بہ نام فرما دیا کہ ان میں سے بھی کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

حضرت عقبہ بن عامر sym-5 سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

حضرت سعد بن ابی وقاص sym-5 سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی sym-5 سے فرمایا:

’’تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (صحیح مسلم، جامع ترمذی)

حضرت ابن ابی اوفیٰ sym-5 سے روایت ہے کہ:

’’اگر مقدر ہوتا کہ میرے بعد کوئی نبی ہو تو حضور ﷺ کے صاحبزادہ ابراہیم زندہ رہتے، مگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)

انہی سے روایت ہے:

’’اگر حضور اقدس ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضور ﷺ کے صاحبزادہ ابراہیم بقاء پاتے۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق)

حضرت انس بن مالک، حضرت عبد اللہ بن عباس، ابن ابی اوفیٰ sym-7 سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’اگر ابراہیم زندہ رہتے تو صدیق نبی بنتے۔‘‘ (تفسیر بغوی)

رحمتِ عالم ﷺ کا تمام حضراتِ انبیاء sym-3کی نبوت کی نفی فرمانا اس لئے ہے کہ امت کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ جب یہ افضل ترین ہستیاں نبی نہیں ہو سکتیں تو پھر دیگر انسان تو بدرجہ اولیٰ نبی نہیں ہو سکتے۔

لیکن مکذّبین ازلی، جن کا مقصد فتنہ گری، انہوں نے تو نبوت کے جھوٹے دعوے کرنے ہی تھے اور اسی لئے غیب جاننے والے آقا ﷺ نے پہلے ہی فرما دیا تھا:

حضرت ثوبان sym-5 سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’تقریباً تیس میری امت میں (۳۰) کذاب ہوں گے، ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں سب سے آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد)

حضرت ابوہریرہ sym-5سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال نکل آئیں گے، وہ تقریباً تیس ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ رسول اللہ ہے۔‘‘ (صحیح بخاری و مسلم)

عقیدہ ختمِ نبوت اس طرح اجماعی عقیدہ ہے، پروردگار عالم حق نے اس عقیدہ کے منکر کے قتل کا فتوی دیا ، صرف دو مشہور کتب کے حوالے ملاحظہ کیجئے ، قاضی عیاض مالکی sym-4 فرماتے ہیں: ” وہ شخص بھی کافر ہے جو کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی اور شخص کی نبوت کا اقرار کرے (خواہ آپ ﷺ کے زمانہ حیات ظاہری میں یا آپ کے بعد مانے “ نیز فرماتے ہیں: اس لئے کہ بلاشبہ نبی کریم ﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ ایسے خاتم النبیین ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت ملنا ہی نہیں اور یہ کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالی کی جانب سے خبر دی کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں ۔ 2 فتاوی ہندیہ میں ہے کہ: ” جو شخص یہ نہ جانے کہ محمد ﷺ تمام انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں وہ مسلمان نہیں ۔ 3

تاریخ کے سینے میں ایسی بے شمار مثالیں محفوظ ہیں کہ بندہ مومن کو گھر بار، عزت و آبرو، اہل و عیال ، جان و مال سب کچھ قربان کرنا پڑے وہ دریغ نہیں کرتا مگر اپنے ایمان و عقیدہ پر آنچ برداشت نہیں کر سکتا۔ عقیدہ ختم نبوت بھی ان بنیادی عقائد میں سے ایک ہے جن پر ہمارے ایمان کا مدار ہے اور اس عقیدہ کی خاطر شمع رسالت کے پروانوں اور ختم نبوت کے فدائیوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔

ہمارا اصل موضوع دور حاضر کے کھلے منکرین ختم نبوت مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار ہیں ، ضمنا اُن پردہ نشینوں کا بھی تذکرہ آئیگا جنہوں نے اس آشیانے کے لئے شاخ نازک فراہم کی ۔ اس سے پہلے انتہائی مختصر امرزا قادیانی سے قبل کے جھوٹے دعویدارانِ نبوت کی ایک فہرست (نام، ادوار اور انجام کی ملاحظہ کریں تا کہ اس فتنہ کی تاریخ سے تھوڑی سی آگاہی ہو جائے۔

اسود نسی: (11ہجری)

حضرت فیروز دیلمی نے اس کے محل میں گھس کر گردن توڑ کر جہنم واصل کیا۔

مسیلمہ کذاب (12 ہجری) :

سیدنا صدیق اکبر کے دور خلافت میں جنگ یمامہ میں حضرت وحشی جے نے نیزہ مار کر جہنم واصل کیا۔

مختار ثقفی : ( 67 ہجری)

اس نے امام حسین کے قاتلوں کو چن چن کر قتل کیا اور یوں جاہ و مرتبہ حاصل کیا لیکن بعد میں نبوت کا دعویدار بن بیٹھا۔ حضرت مصعب بن زبیر ﷺ سے جنگ میں مارا گیا۔

حارث دمشقی :(69 هجری )

خلیفہ عبد الملک بن مروان کے حکم پر واصل جہنم کیا گیا۔

مغیرہ مجلی اور بیان بن سمعان تمیمی : ( 119 ہجری)

اس وقت کے امیر عراق خالد بن عبداللہ قسری نے دونوں کو زندہ جلا کر راکھ کر دیا۔

بها فرید نیشا پوری:

ابو مسلم خراسانی کے دربار میں اس کا سر قلم کیا گیا۔

اسحاق اخرس مغربی اور استاد سیس خراسانی:

دونوں خلیفہ ابو جعفر منصور کے دور میں ہوئے اور اس کے حکم پر واصل جہنم کئے گئے ۔

علی بن محمد خارجی: (207 ہجری)

خلیفہ معتمد کے دور میں جنگ میں شکست کے بعد سر قلم کیا گیا۔

با بک بن عبدالله : (222 ہجری)

خلیفہ معتصم کے حکم پر اس کا ایک ایک عضو کاٹ کر الگ کر دیا گیا۔

علی بن فضل یمنی : (303 ہجری)

اہل بغداد نے اسے زہر دے کر ہلاک کر دیا۔

عبدالعزیز باسندی: (322 ہجری)

اسلامی لشکر نے اس کا محاصرہ کر کے شکست دی اور سر کاٹ کر خلیفہ کو بھیج دیا۔

حامیم مجلسی: (329 ہجری)

قبیلہ محمودہ سے احواز کے مقام پر جنگ میں مارا گیا۔

ابو منصور عسبی برغواطی : (369 ہجری):

بلکین بن زہری سے جنگ میں شکست کھا کر واصل جہنم ہوا۔

اصغر تغلبی : (439 ہجری)

حاکم وقت نصر الدولہ نے گرفتار کروا کر جیل میں ڈال دیا وہیں مرا ۔

احمد بن قسی : (560 ہجری) حاکم وقت عبد المومن نے قید خانے کی نظر کر دیا وہیں ہلاک ہوا

عبد الحق مرسی : (667 ہجری)

اس نے ایک روز فسد کھلوایا ، قہر الہی سے خون بہتا رہا یہاں تک کہ ہلاک ہو گیا۔

عبدالعزیز طرابلسی: (717 ہجری)

حاکم طرابلس کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔

بعد کے ادوار میں مسلمانوں کی مجموعی تنزلی ، حکمرانوں کا باہمی انتشار ، آپس کی دشمنیاں اور دین سے دوری نے دشمنان اسلام کو اسلامی ممالک میں طاقتور بنا دیا جس کے سبب با یزید روشن (990 ہجری) بہا اللہ نوری (1308 ہجری) اور مرزا غلام احمد قادیانی (1326 ہجری) اپنے شرعی اور منطقی انجام کو نہ پہنچ سکے بلکہ اسلام اور اہل اسلام کے لئے ناسور بن گئے ۔ ( ملخص از عقیدہ ختم النبوة )

انگریز کے ہندوستان (غیر مقسم برصغیر میں وارد ہونے سے قبل اسلامیانِ ہند متفقہ عقائد کے حامل تھے ، سوائے بعض مغل بادشاہوں کے دور میں ہندوستان میں بس جانے والے اہل تشیع کے، جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی۔ انگریزوں نے ہندوستان پر مکمل قابض ہو جانے کے بعد اقتدار سے محروم کئے گئے مسلمانان ہند پر نہ صرف سیاسی ، سماجی ، معاشی اور معاشرتی مظالم کی انتہاء کی بلکہ انہیں ان کے دین سے پھیر دینے کی بھی بھر پور کوشش کی ۔

پورے ملک میں برطانیہ سے بلائے گئے پادریوں کا جال بچھا دیا گیا جو اسلامی عقائد و نظریات اور بانی اسلام پر اعترضات کر کے عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کے ساتھ ساتھ علماء اسلام کو دعوت مناظرہ بھی دیتے پھرتے ۔ 1854 ء میں برطانیہ کے مایہ ناز اور قابل ترین پادری فنڈر نے جابجا اسلام کی حقانیت کو چیلنج کرنا اور علماء اسلام کو للکارنا شروع کر دیا۔ اسی فتنہ پرور دور کا مشہور مناظرہ جو مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے بانی ، جنگ آزادی 1857ء کے مرد مجاہد حضرت علامہ رحمت اللہ کیرانوی علیہ الرحمہ نے اپنے بعض دیگر رفقاء کی معیت میں پادری فنڈ رسے کیا تھا اور ایسی عبرتناک شکست سے دو چار کیا کہ اسے ہندوستان سے منہ چھپا کے بھاگنا پڑا۔ اس دور کے علمائے حق نے مناظروں اور تصانیف کے ذریعہ عیسائیت کو ہندوستان میں قدم جمانے نہ دیئے اور انہی کی کاوشوں کے سبب ہندوستان میں ” عیسائیت کو اپنی ابتداء میں وہ ذلت نصیب ہوئی کہ دنیائے عیسائیت آج بھی اس پر نوحہ کناں ہے۔“

انگریزوں کے ظلم و ستم اور مکاریوں و عیاریوں کے خلاف 1857ء کی جنگ برپا ہوئی ۔ قطع نظر اس سے کہ وجوہات کیا تھیں یہ جنگ اسلامیان ہند کے لئے صد فی صد نقصان کا باعث بنی اور انگریز بھی چوکنا ہو گئے ، انہوں نے اپنا طریقہ واردات تبدیل کر لیا۔ انگریز شاطر نے جس طرح غداروں اور لالچیوں کے ذریعہ جنگ کا میدان جیتا تھا ، اسی طرح اس نے مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کا منصوبہ بنایا۔ ہندوستان بھر میں انہوں نے ایسے افراد کی تلاش شروع کر دی کہ جو ہوں تو مسلمانوں ہی میں سے ، عالم، مولوی کہلاتے ہوں ، صوفی یا ولی کا لبادے میں ہوں ، جبہ و دستار کے پردہ میں ہوں لیکن ان کے منہ میں زبان انگریز کی ہو، اور وہ اپنی اس چال میں انتہائی کامیاب رہے۔ یہ سازش چونکہ حکومتی تھی اس لئے انتہائی وسیع پیمانے پر کی گئی اور اس کی منصوبہ بندی دیر پا اور دور رس نتائج کو مد نظر رکھ کر کی گئی۔ مختصراً یہ سازش مسلمانوں کو فرقوں میں تقسیم کرنا تھی اور اس ساری جد و جہد کا مقصد اہل ایمان کے دلوں سے محبت مصطفی ﷺ اور جذبہ جہاد ختم کرنا تھا۔ حصول مقصد کیلئے انگریز شاطروں نے ”نیا نبی تجویز کیا جو اہل اسلام کو رسول خدا محمد مصطفیٰ ﷺ کے بجائے اپنا اسیر بنائے اور جہاد کو منسوخ کر دے۔“

ہندوستان میں انگریز کا پہلا شکار اور امت میں افتراق کا بیج بونے والا تھا رئیس المبتدعین اسماعیل دہلوی، جس کے ذریعہ محمد بن عبد الوہاب نجدی کے افکار تقویۃ الایمان کی شکل میں شائع کئے گئے ۔ یاد رہے کہ محمد بن عبدالوہاب نجدی بھی انگریز کا کاشت کردہ پودا ہے ، علمائے اسلام میں حضرت علامہ حیدر اللہ خان نقشبندی ، حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی مفتی حرم مکہ علامہ احمد بن زینی دحلان مکی علیہم الرحمہ صراحۃ اس کے دعوی نبوت کے قائل ہیں۔ (درۃ الدیانی علی المرتد القادیانی ، سیف چشتیائی، الدرر السنيه)

علامہ عبدالحکیم اختر شاہجہان پوری sym-4اسماعیل دہلوی کی کارستانیوں کے بارے میں رقم طراز ہیں:

موصوف نے اپنی رسوائے زمانہ اور ایمان سوز کتاب تقویۃ الایمان کے ذریعہ خارجیت کی تبلیغ کی اس کے ساتھ ہی ” داؤد ظاہری“ کے انکار تقلید اور ”معتزلہ“ کے” مزاداریہ “ فرقہ سے ”امکان کذب“ (یعنی اللہ تعالیٰ کا جھوٹ بولنا ممکن ہے ) کا عقیدہ لے کر سب کو تقویۃ الایمان میں اکھٹا کیا، گویا تقویۃ الایمان کی اصل بنیاد تو محمد بن عبد الوہاب نجدی کی” کتاب التوحید“ پر رکھی گئی لیکن اس میں ”ظاہری المذہب“ اور ” اعتزال“ کی قباحتوں کے لئے بھی پوری پوری گنجائش رکھی گئی ۔ دوسری طرف ”صراط المستقیم“ کتاب کے ذریعہ رفض کی بھی کھل کر اشاعت کی ۔ شیعہ حضرات جو اپنے ائمہ کی شان بیان کیا کرتے ہیں، انہیں صاحب وحی و عصمت اور انبیاء کرام سے بھی افضل بتاتے ہیں موصوف نے یہ تمام صفات اپنے پیر جی (سید احمد رائے بریلوی) میں بتادیں بلکہ انہیں اتنا بڑھایا چڑھایا کہ اگر چہ دعوی نہیں کیا (یا شاید کر نہ سکے مگر ہر قدم پر سید المرسلین ﷺ سے بھی افضل واعلیٰ ہی منوانے کی کوشش کی ۔ “ تفصیل کیلئے ملاحظہ کیجئے: (برطانوی مظالم کی کہانی)

موصوف نے جہاں شعائر اسلامی کو شرک و بدعت سے تعبیر کرنے ، عامۃ المسلمین کو مشرک قرار دینے اور خصائص مصطفیٰ ﷺ کے انکار کی روایت کا اجراء کیا وہیں عقیدہ ختم نبوت پر پہلی ضرب یہ لگائی کہ ساری امت سے علیحدہ ایک نیا عقیدہ امکان نظیر یعنی صاحب لولاک، رحمۃ اللعالمین ﷺ کی مثل اور بھی نبی پیدا ہو سکتے ہیں، گھڑا ، موصوف کی عبارت ملاحظہ ہو: اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ، ایک حکم کن سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی جن اور فرشتے ، جبرائیل اور محمد ﷺ کے برابر پیدا کر ڈالے “ 4جس پر اس دور کے علماء حق اہل سنت و جماعت نے تقویۃ الایمان کا بھر پور رد کیا ۔ امام الحکمت والكلام ، قائد جنگ آزادی 1857ء ، علامہ فضل حق خیر آبادی نے ” دہلوی کو دہلی کی جامع مسجد میں مسئلہ امکان نظیر“پر مناظرہ میں تاریخی شکست دی اور اس کے رد میں امتناع نظیر اور ابطال الطغویٰ وغیرہ کتب تصنیف فرمائیں۔

اس شخص (اسماعیل دہلوی) نے اپنے نظیریات کو انگریزی سایہ عاطفت میں بھر پور طور پر پروان چڑھایا ۔ ہندوستان میں وہابی (اسماعیل دہلوی کے پیروکار ) دو فرقوں میں بٹ گئے۔

1....غیر مقلد (نام نہاد اہل حدیث ) ، منکرین تقلید و طریقت

2....دیوبندی، قائلین تقلید و طریقت

ان فرقوں کے تعارف وغیرہ سے اعراض کرتے ہوئے صرف ان کے بعض پیشواؤں کی عقیدہ ختم نبوت و جہاد مخالفت ، خصائص مصطفیٰ ﷺ کے انکار اور انگریز وفاداری کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

قاسم نانوتوی دیو بندی:

موصوف زبر دستی کے بانی دارلعلوم دیو بند ہیں، اپنے طائفہ میں قاسم العلوم والخیرات مشہور ہیں، عقیدہ ختم نبوت سے متعلق موصوف کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں:

سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانے کے بعد اور آپ سب سے آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔5 تحذیر الناس ، ص (3) مزید لکھتا ہے :
” اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی ﷺ کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ 6

یادر ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں جب قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی بحث جاری تھی اس وقت قادیانی خلیفہ مرزا ناصر نے یہی کتاب اپنے حق میں پیش کی تھی۔

رشید احمد گنگوہی دیو بندی:

یہ دیابنہ کے” قطب عالم “ہیں۔ نص قرآنی کے مطابق ” رحمۃ اللعالمین“ رسول خدا ﷺ ہی کی ذات والا ہے اور اس پر اجماع امت ہے مگر یہ صاحب ایک نئی گمراہی لائے ، لکھتے ہیں:

”لفظ ” رحمۃ اللعالمین“ صفت خاصہ رسول ﷺ نہیں ہے بلکہ دیگر اولیاء و انبیاء اور علماءر با نین بھی موجب رحمت عالم ہوتے ہیں ۔ جناب خود کو علماء ربا نین میں داخل مانتے ہیں اور اسی لئے ان کے چہیتے شاگرد خلیل احمد انبیٹھوی دیو بندی نے موصوف کیلئے ” میزاب رحمۃ اللہ تعالی علی العالمین“ لکھا ہے ۔ (دیکھئے تذکرۃ الرشید ) نیز جناب کی انگریز وفاداری خود انہی کی زبانی ملاحظہ ہو جسے ان کے سوانح نگار مولوی عاشق الہی میرٹھی نے نقل کیا ہے:
” میں (رشید احمد گنگوہی) جب حقیقت میں سرکار (برٹش گورنمنٹ) کا فرماں بردار ہوں تو جھوٹے الزام سے میرا بال بھی بیکا نہیں ہوگا اور اگر مارا بھی گیا تو سرکار (برٹش گورنمنٹ) مالک ہے، اسے اختیار ہے جو چاہے کرے ۔“ 7

اشر فعلی تھانوی دیوبندی:

یہ صاحب دیو بندی طبقہ فکر کے ”حکیم الامت“ اور ”مجد دملت“ کہلاتے ہیں ، یہ کب پیچھے رہنے والے تھے ، ان کی کارستانی ملاحظہ ہو، انہوں نے اپنے ایک مرید کو جو خواب اور بیداری میں ان کے نام کا کلمہ اور ان پر درود پڑھتا رہا، اس یقینی کفر پر جناب نے جو جواب دیا ملاحظہ ہو :

” اس واقعہ میں تسلی کہ جس کی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ بعونہ تعالی متبع سنت ہے۔“ (رسالہ الامداد صفر 1336ھ)

میں پوچھتا ہوں، کیا ہر وہ شخص جس کا پیر سنت کی اتباع کرنے والا ہو وہ اپنے پیر کے نام کا کلمہ اور اس پر دورد پڑھا کرے؟

نذیر احمد دہلوی غیر مقلد :

جناب فرقہ غیر مقلدین کے شیخ الکل ہیں۔ ان کی انگریز دوستی ان ہی کے سوانح نگار فضل حسین بہاری سے سنئے : یہ بھی بتا دینا ضروری ہے کہ میاں صاحب (نذیر احمد دہلوی) بھی گورنمنٹ انگلشیہ کے کیسے وفادار تھے۔ زمانہ غدر 1857ء میں جب کہ دہلی کے بعض مقتدر اور بیشتر معمولی مولویوں نے انگریز پر جہاد کا فتوی دیا تو میاں صاحب نے نہ اس پر دستخط کیا نہ مہر ، وہ خود فرماتے تھے کہ:

”میاں وہ ہلڑ تھا، بہادر شاہی نہیں تھی ، وہ بے چارہ بوڑھا بادشاہ کیا کرتا؟ حشرات الارض خانہ براندازوں نے تمام دہلی کو خراب ، ویران ، تباہ اور برباد کر دیا ۔ شرائط امارت و جہاد بالکل مفقود تھے ہم نے تو اس پر دستخط نہیں کیا ، مہر کیا کرتے اور کیا لکھتے ؟ مفتی صدر الدین خاں صاحب چکر میں آگئے ۔ بہادر شاہ (آخری مغل بادشاہ) کو بھی سمجھایا کہ انگریزوں سے لڑنا مناسب نہیں ہے مگر وہ باغیوں کے ہاتھ کٹھ پتلی ہو رہے تھے، کرتے تو کیا کرتے؟“ (الحياة بعد الحماة)

ان لوگوں کے نزدیک جنگ آزادی 1857ء ”غدر اور مجاہدین باغی“ تھے۔

محمد حسین بٹالوی غیر مقلد :

یہ فرقہ غیر مقلدین کی وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے انگریز حکومت سے اپنے فرقہ کیلئے اہل حدیث نام الاٹ کرایا تھا۔ موصوف نے ایک کتاب الاقتصاد فی مسائل الجہاؤ لکھی ، جس کے بارے میں خود اپنے ہی رسالے ” اشاعۃ السنہ میں اپنی کتاب کا تعارف اور عوام غیر مقلدین کی برٹش حکومت کی اطاعت گزاری کا حال یوں شائع کیا : 1876ء میں ایڈیٹر ” اشاعۃ السنہ“ ”رسالہ “ اقتصاد فی مسائل الجهاد تالیف کر چکا ہے جس میں قرآن وحدیث اور فقہی دلائل سے ثابت و مدلل ہے کہ اس (برطانوی) گورنمنٹ سے مسلمانوں کا ، ہند کے ہوں خواہ روم یا عرب کے مذہبی جہاد جائز نہیں اور اسی سال پنجاب کے عام اہل حدیث نے بذریعہ ایک عرض داشت اپنی عقیدت و اطاعت گورنمنٹ کا اظہار کیا تھا جس پر گورنمنٹ کی طرف سے اس کی تائید و تصدیق میں ایک سرکلر جاری ہوا تھا جو اشاعۃ السنہ نمبر 9 جلد 8 میں منقول ہو چکا ہے ۔ 8

عبد اللہ غزنوی غیر مقلد :

موصوف نے بھی دعوی نبوت کی پوری تیاری کر لی تھی اور الہام و القاء کا ورود کثرت سے ہو رہا تھا لیکن جانے وہ کیا ناگزیر وجوہات تھیں جو اعلان نبوت نہ ہو سکا ۔ موصوف کے الہامات سے متعلق ان کے سوانح نگار عبد الجبار غزنوی کا بیان ملاحظہ ہو :

” جو الہام اور خواہیں آپ کو کتاب وسنت پر ثابت رہنے اور خلق اللہ کو کتاب وسنت کی طرف بلانے اور تقویٰ اور تو کل اور صبر اور خشیت اور زہد و قناعت و ترک ماسوی الله اور انابت اور آپ کے مقام امانت میں پہنچنے اور آپ کی حفظ اور نصرت اور مغفرت کے وعدہ پر ہوئے وہ سیکڑوں بلکہ ہزاروں تک پہنچتے ہیں۔ ان کو جمع کرنے کیلئے ایک بڑی کتاب چاہئے۔“

الہامات کی صرف دو (2) مثالیں ملاحظہ ہوں:

” ولسوف يعطيك ربك فترضی “ یعنی اور البتہ جلدی دے گا تجھ کو تیر ارب پھر تو خوش ہو جاوے گا۔ اور فرماتے تھے،
الہام ہوا: ”الم نشرح لك صدرك“ ، یعنی کیا نہیں کھولا ہم نے تیرا سینہ بلا کسی تبصرہ کے صرف ایک سوال ختم نبوت پر ایمان رکھنے والوں سے، کہ حبیب خدا کی شان میں نازل قرآنی آیات کو اپنا الہام قرار دینا کیا معنی رکھتا ہے؟

نیز نیچریت، چکڑالویت (فتنہ انکار حدیث) اور قادیانیت نامی فتنوں نے بھی وہابیت (غیر مقلدیت) کی کوکھ سے جنم لیا ہے، گھر کی گواہیاں ملاحظہ ہوں:

معلوم محمد حسین بٹالوی غیر مقلد کے بقول :

” سرسید (بانی نیچریت) کا مذہب اسلامی دنیا کو ہے کہ عقلی تاویلات او علی تاویلات اور ملاحدہ یورپ کے خیالات تھے ، چند روز انہوں نے (خود کو) اہل حدیث کہلایا۔ 9

نواب صدیق حسن بھوپالی غیر مقلد کے بقول :

” سید احمد خان سی ایس آئی (یہ خطاب سرسید کو برٹش گورنمنٹ کی طرف سے ملا تھا) دعویٰ وہابیت کا کرتے تھے۔“ (ترجمان وہابیہ )

محمد حسین بٹالوی کے بقول :

”قادیان میں مرزا پیدا ہوا تو اس کو بھی اہل حدیث کے مولوی حکیم نورالدین بھیروی، جموٹی اور مولوی احسن امروہوی بھوپالی نے ویلکم یا لبیک کہا، فتنہ انکار حدیث ( چکڑالوی مذہب) نے مسجد چینیا نوالی میں جو اہلحدیث کی مسجد ہے جنم لیا چٹو و محکم الدین وغیرہ (جواہل حدیث کہلاتے تھے ) کی گود میں نشو نما پایا اور یہی مسجد بانی مذہب چکڑالوی کا ہیڈ کوارٹر بنایا گیا۔ 10

نیز مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

” عقائد و عمل کے لحاظ سے دیکھیں تو آپ (مرزا قادیانی) کا طریق حنفیوں کی نسبت اہل حدیث سے زیادہ ملتا جلتا ہے ۔ (سیرت المهدی ، حصہ دوئم )

سید احمد رائے بریلوی سے مرزا قادیانی تک نبوت کے شوقین، انگریز کے نمک خواروں اور امت کے غداروں کی تفصیلات جمع کی جائیں تو اس موضوع پر ضخیم کتب کا انبار لگ سکتا ہے۔ یہ تفصیل بھی ضروری تھی اس لئے ضمنا مختصرا اس کو ذکر کر دیا اب اصل موضوع یعنی مرزاغلام احمد قادیانی دجال سے متعلق تفصیل ، جس نے باقاعدہ اپنی نبوت کا اعلان کیا اور آج تک اس کے پیرو کا رامت کیلئے ناسور بنے ہوئے ہیں۔

تعارف :

اس کذاب کا انتہائی مختصر تعارف علامہ عبدالحکیم اختر شاہجہان پوری sym-4کے قلم سے ملاحظہ فرمائیں :

مرزا غلام احمد قادیانی کی حتمی تاریخ پیدائش تو کسی کو معلوم نہیں ، ہاں مرزا صاحب نے کتاب البریہ میں 1839ء اور 1840 ء بتائی ہے لیکن تریاق القلوب میں 1845 لکھی ہے۔ اردو اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی، عربی اور انگریزی میں ابجد خواں تھے ۔ سیالکوٹ کچہری میں بمشاہرہ پندرہ (15) روپے ماہوار چار سال تک محرر بھی رہے، آبائی پیشہ زمینداری تھا ۔ آباء واجداد سکھوں اور انگریزوں کے وفادار اور ملازم رہتے آئے تھے۔ والد کا نام ہے۔ والد کا نام مرزا غلام مرتضی تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ” قانونی مختار کاری کا امتحان بھی دیا لیکن فیل ہونے پر تعلیم سے دل اچاٹ ہو گیا ، ضعف دل و دماغ تمام عمر جولانی پر رہا، قوت مردمی سے اکثر اوقات محروم رہے ، پنج قلب ، اسہال، دردسر، دوران سر، مالیخولیا اور ذیابطیس وغیرہ امراض موصوف کی زندگی کے ساتھی تھے ۔ 26 مئی 1908 ء کو لاہور میں موصوف کا شدت اسہال یا ہیضہ سے انتقال ہوا (برطانوی مظالم کی کہانی) تعمیر نبوت: مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کی بنیاد 1886ء میں رکھنی شروع کی ، ابتدا کشف والہام کے دعوے پھر مصلح، محدث، مجدد، مہدی، مسیح موعود ظلی نبی، بروزی نبی وغیرہ ہونے کے دعوے بتدریج کرتا رہا اور 1901ء میں حقیقی نبوت کا دعوی کیا، ملاحظہ کیجئے:

یہ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ 11
جید ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ ، خدا کا مامور، خدا کا امین ، خدا کی طرف سے آیا ہے، جو کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ ، اس کا دشمن جہنمی ہے۔ 12

ہفوات مرزا:

مرزا کے واہیات دعوے اور بیہودہ پیشن گوئیاں بے شمار ہیں اختصار کے ساتھ چند قارئین کے سامنے پیش ہیں جو مرزا کے دماغی خلل کھلی گمراہی اور قطعی کفر کا بین ثبوت ہیں۔

وانت من ماء نا اور تو ہمارے پانی سے ہے ۔ 13
انت منى بمنزلة ولدی تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔ 14

قادیانی کی بکواسات قرآن کریم کے صریح خلاف ہیں ، فرمان باری تعالی ہے :

لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَد 15 {{quote
حمد خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے ۔ 16
پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (قادیانی) اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔ 17
حق بات یہ ہے کہ آپ (حضرت مسیح sym-9 ) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ) آپ (حضرت عیسی sym-9) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مظہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسی عورتیں تھیں۔ 18

آپ (حضرت عیسی sym-9 ) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ 18 عیسی شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے ۔19
حضرت رسول خدا کے الہام وحی غلط لگی تھیں ۔ 20

قادیانی کی کفریات کے برعکس مسلمانوں کے عقائد انبیاء کرام سے متعلق یہ ہیں: انبیاء معصوم ہوتے ہیں یعنی اللہ تعالی نے انبیاء کو گناہوں سے محفوظ رکھا ہے ان سے گناہ سرزد ہو ہی نہیں سکتا ، انبیاء کرام شرک، کفر اور ہر اخلاقی برائی سے پاک پیدا کئے گئے ہیں، اپنے نسب و جسم ، قول و فعل ، حرکات و سکنات وغیرہ میں تمام ایسی باتوں سے منزہ ہوتے ہیں جو باعث نفرت ہوں، نیز انبیاء سے احکام تبلیغیہ میں سہو ونسیان ، غلطی و کوتاہی ناممکن ہے۔ ( ملخص از بہار شریعت )

مسیح ( حضرت عیسی sym-9 ) کا بے باپ پیدا ہونا میری نگاہ میں کوئی عجوبہ بات نہیں ، حضرت آدم ماں ، باپ دونوں نہیں رکھتے تھے ، اب برسات قریب آئی ہے باہر جا کر دیکھئے کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے پیدا ہو جاتے ہیں۔ (معاذ اللہ )21
حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس (22) برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے تھے۔ 22

عیسی sym-9سے متعلق مردود نے قرآن کریم کی کئی صریح آیات کا انکار کیا ہے، سیدنا عیسی sym-9کا رب فرماتا ہے :

وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا 23
اور اس لئے کہ ہم اسے ( مینی کو لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت ۔ (کنز الایمان )

قادیانی کذاب نے بیشمار جگہ خود کو انبیاء کرم sym-3سے افضل بتایا ہے ، ملاحظہ ہو:

اے عزیز و اتم نے وہ وقت پالیا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود (مرزا قادریانی) کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کیلئے بہت پیغمبروں نے بھی خواہش کی ہے۔24
خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا ۔ (دافع البلاء )
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے ۔25

اعجاز کلام الہی بین حقیقت ہے جس کا انکار آج تک کوئی نہ کر سکا لیکن مرزا کذاب اس کلام عظیم کو سخت زبانی اور گندی گالیاں قرار دیتا ہے، ملاحظہ کیجئے:

قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا، مثلا زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے۔26

جد ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں۔27شاید اس دجال نے بھی اپنی زبان پر غور نہیں کیا ! مرزا کی اخلاقیات کے نمونے ملاحظہ ہوں:

حمید کنجریوں کے بچوں کے بغیر جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے باقی سب میری نبوت پر ایمان لا چکے ہیں ۔28 لا دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔ 29

یہ تو رہی عام مسلمانوں کی بات ، قادیانیت کے پرخچے اڑا دینے والی شخصیت حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی علیہ الرحمہsym-4 کے متعلق مرزا کذاب کے الفاظ سنئے:

کذاب ، خبیث ، بچھو کی طرح نیش زن، اے گولڑہ کی سرزمین ! تجھ پر خدا کی لعنت ہو، تو ملعون کے سبب ملعون ہو گئی ۔ 30

قرآن پر سخت زبانی کا اعتراض بھی ہے اور پھر اسی قرآن کریم کی بے شمار آیات کو قادیانی نے اپنا الہام بھی قرار دیا ہے، مثالیں ملاحظہ ہوں:

انا اعطینک الکوثر ترجمہ: ہم نے کثرت سے تجھے دیا ہے۔ 31
سبحان الذی اسرى بعبده ليلا ترجمہ: وہ پاک ذات وہی خدا ہے جس نے ایک رات تجھے (مرزا کو) سیر کرا دیا ۔ 32

مرزا کذاب کو انگریز وفاداری ورثہ میں ملی تھی ، خود اپنے باپ اور بھائی کی کار گزاریوں کا حال اپنی کتابوں میں لکھا ہے ، اس کی اپنی خدمات بھی کچھ کم نہیں صرف ایک حوالہ اس کی زبانی ملاحظہ کیجئے:

ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ (60) برس کی عمر تک پہنچا ہوں ، اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں تا کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں {{p

لیجئے قصہ ہی ختم ، خود ہی اگل دیا کہ فتنوں کی یہ بساط بچھائی کیوں۔

مرزا کذاب خود اپنی ہی باتوں کی تکذیب کیا کرتا تھا ، مناظروں اور مباہلوں کا چیلنج دینا اور پھر خود ہی منہ چھپاتے پھرنا اس کی عادت ثانیہ تھی ، اس خبیث کی بیشمار پیشن گوئیاں آج تک پوری نہ ہوئیں اور نہ قیامت تک ہوں گی ، علماء حق نے اس کے ہر فتنہ کا منہ توڑ جواب دیا اور اس جھوٹے نبی کی حالت ہمیشہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی مصداق رہی۔ جھوٹے نبی مرزا قادیانی کی بیشمار پیشنگوئیاں جن میں محمدی بیگم سے نکاح ، بیٹے کی پیدائش، اپنی عمر طویل، دشمنوں کی ہلاکت وغیرہ جھوٹی ثابت ہو چکی ہیں لیکن سچے نبی کے سچے غلام کی کچی پیشن گوئی اور قادیانی کذاب کی بدترین اور عبرت ناک موت کا حال بھی سنیئے :

مئی 1908ء میں قادیانی دجال مع اپنے چیلے چپاٹوں کے لاہور تبلیغی دورے پر آیا ہوا تھا اور یہیں اس نے اعلان کیا کہ دورہ سیالکوٹ تک کیا جائے گا۔ احمد یہ بلڈنکس (جہاں مرزا شہر ہوا تھا) سے کچھ فاصلے پر آل رسول حضرت پیرسید جماعت علی شاہ علیہ الرحمہ محدث علی پوری تردید قادیانیت کیلئے ختم نبوت کے بے شمار پر دانوں سمیت خیمہ زن تھے ، وہاں قادیانیت کی تبلیغ کیلئے تقاریر ہوتیں اور یہاں حضرت محدث علی پوری sym-4 مرزائیت کے بخیہ ادھیڑتے رہے، مسلمان قادیانی کی موت اور اسلام پر نازل اس مصیبت سے چھٹکارے کی دعائیں مانگتے رہے، 22 مئی 1908ء کو شاہی مسجد میں محدث علی پوری sym-4 نے دوران وعظ فرمایا: ” میری عادت پیشین گوئی کرنے کی نہیں مگر مجبوراً کہتا ہوں کہ اگر مرزا کو سیالکوٹ جانے کی طاقت ہے تو وہاں جا کر دکھلائے میں کہتا ہوں کہ وہ وہاں بھی نہیں جا سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ اس کو توفیق ہی نہیں دے گا کہ سیالکوٹ جاسکے ۔“ حضرت محدث علی پوری sym-4 تین (3) دن تک یہ اعلان کرتے رہے بالآخر 25 مئی 1908ء کو کھڑے ہو کر فرمایا: ” ہم کئی روز سے مرزا کے مقابلہ میں آئے ہوئے ہیں، پانچ (5) ہزار روپے کا انعام بھی مقرر کیا ہوا ہے کہ جس طرح چاہے وہ ہم سے مناظرہ کرے یا مباہلہ کرے اور اپنی کرامتیں اور معجزے دکھائے لیکن اب وہ مقابلہ میں نہیں آتا لیکن آج میں مجبوراً کہتا ہوں کہ آپ صاحبان سب دیکھ لیں کہ کل 24 گھنٹے میں کیا ہوتا ہے قادیانی کذاب اسی رات اسہال کا شکار ہوا اور دو پہر ہونے تک شدت مرض سے مر گیا یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی پیٹ کی نجاست اس کے منہ سے نکلتی رہی ، جو دیکھنے والوں کیلئے باعث عبرت بنی ، مگر قادیانی کے پیروکار اس ذلت آمیز موت کو ماننے کے روادار نہیں لیکن قادیانی کے بیٹے مرزا

بشیر کے الفاظ قادیانی کی بدترین موت کا اندازہ لگانے کیلئے کافی ہیں:

25 مئی 1908ء یعنی پیر کی شام کو بالکل اچھے تھے تو میں نے دیکھا کہ:

آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے، میں اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا اور پھر مجھے نیند آ گئی۔ رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب مجھے جگایا گیا یا شاید لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سے میں خود ہی بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح(کذاب قادیانی) اسہال کی بیماری سے سخت بیمار ہیں اور حالت نازک ہے اور ادھر ادھر معالج اور دوسرے لوگ کام میں لگے ہوئے ہیں، جب میں نے پہلی نظر حضرت مسیح موعود (کذاب قادیانی) کے اوپر ڈالی تو میرا دل بیٹھ گیا کیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے نہ دیکھی تھی اور میرے دل پر یہی اثر پڑا کہ یہ مرض الموت ہے۔ (سیرت المہدی، حصہ اول )

پھر آگے اپنی ماں کا بیان لکھتا ہے:

حضرت مسیح موعود ( کذاب قادیانی) کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے تھے اس لئے میں نے چار پائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی مگر ضعف بہت ہو گیا تھا اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چار پائی پر گر گئے اور آپ کا سر چار پائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی ... حضرت صاحب ( قادیانی کذاب ) کو اسہال کی شکایت اکثر ہو جایا کرتی تھی جس سے بعض اوقات بہت کمزوری ہو جاتی تھی اور آپ اس بیماری میں فوت ہوئے۔ (سیرت المہدی ، حصہ اول)

فتنہ قادیانیت کے خلاف علماء اہلسنت نے سخت جدوجہد کی اور عامۃ المسلمین کے ایمان و عقائد کی حفاظت کیلئے ہر قربانی دی ، قادیانی کذاب کی ایک نہ چلنے دی تحریرو تقریر، مناظرہ و مباہلہ ، عدالتی مقدمات ہر سطح پر اس کو منہ توڑ جواب دیا۔ چند جید علماء اہلسنت کے اسماء گرامی یہ ہیں:

حضرت مفتی غلام دستگیر قصوری، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان ، حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی، حضرت پیرسید جماعت علی شاہ محدث علی پوری ، حجتہ الاسلام مفتی حامد رضا خان ، مفتی اعظم ہند مفتی مصطفیٰ رضا خان ، علامہ غلام قادر بھیروی، پیر غلامرسول امرتسری، قاضی فضل احمد لودھیانوی، شیخ الاسلام مولانا انوار اللہ فاروقی ، حضرت خواجہ ضیاء الدین سیالوی، علامہ محمد عالم آسی امرتسری، علامہ حیدر اللہ نقشبندی، علامہ کرم الدین دبیر، علامہ محمد حسن فیضی، حضرت شاہ سراج الحق گورداسپوری، مولانا نواب الدین مدراسی، علامہ سید دیدار علی شاہ الوری، صدر الافاضل مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی، حضرت سید علی حسین اشرفی میاں ، محدث اعظم ہند کچھو چھوی وغیر ہم علیہم الرحمہ اس فتنہ کی بیخ کنی کیلئے قربانیاں دینے والے تو بے شمار سعادت مند ہیں سب کا تذکرہ یہاں ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ بہتر جزا دینے والا ہے۔

اکثر مسلم ممالک میں قادیانیت پر پابندی عائد ہے۔ سب سے پہلے افغانستان میں سرکاری سطح پر اس فرقہ پر پابندی عائد کی گئی ۔ موریشس، مصر، سعودی عرب ، شام، لبنان، عراق، انڈو نیشیا ، آزاد کشمیر، بنگلہ دیش ، مراکش وغیرہ ممالک میں اس فرقہ باطلہ کی تبلیغ و تشہیر پر مکمل پابندی عائد ہے، نیز رابطہ عالم اسلامی نے اپریل 1973 ء میں متفقہ طور پر قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی قرار داد منظور کی ۔ اس اجلاس میں اسلامی ممالک کی سو 100 سے زیادہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ 1953ء میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلی، علماء اہلسنت نے مسئلہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کو طشت از بام کیا جبکہ دوسری دفعہ 1974ء میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلی اور کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔ قومی اسمبلی میں موجود علماء اہلسنت (بریلوی) نے آئینی وقانونی طور پر قادیانیوں (احمد یوں لاہوریوں) کو کافر قرار دلوانے کی قرارداد پیش کی اور انہیں کا فرقرار دلوایا ۔ یادر ہے دیوبندی مکتبہ فکر کے مولوی غلام غوث ہزاروی اور مولوی عبدالحکیم نے باوجود مفتی محمود دیو بندی کے اصرار کے اس قرارداد پر دستخط نہ کئے۔

طوالت کے پیش نظر ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ورنہ پاکستان میں اس تحریک کی تاریخ بہت خونیں ہے ۔ اللہ کریم ہم مسلمانوں کے ایمان و عقائد کی حفاظت فرمائے اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر اپنی جان و مال نچھاور کرنے والے جانثاران خاتم النبیین پر کروڑوں رحمت و رضوان کی بارشیں برسائے ۔ آمین

ان فتنوں خصوصاً فتنہ قادیانیت سے متعلق تفصیلی معلومات کیلئے مطالعہ کیجئے۔

برطانوی مظالم کی کہانی عبد الحکیم اختر شاہجہان پوری کی زبانی مطبوعہ فرید بک سٹال، لاہور نجد سے قادیان براستہ دیو بند مطبوعہ: مکتبہ قادریہ، سیالکوٹ

عقيدة ختم النبوة مطبوعه الادارة التحفظ العقائد الاسلامیہ ، کراچی


  • 1 سورۃ الاحزاب، آیت نمبر ۴۰
  • 2 الشفاء بتعريف حقوق المصطفى ، ج2
  • 3 فتاوی ہندیہ، ج 2
  • 4 تقویۃ الایمان، ص :۱۱۳
  • 5 دافع البلاء،ص :20
  • 6 تحذیر الناس ،ص :25
  • 7 تذکرۃ الرشید ،ج:1،ص :80
  • 8 اشاعۃ السنۃ ، جلد 9 شمارہ 1ص:26
  • 9 اشاعۃ السنۃ، جلد 19 شماره 8
  • 10 (اشاعۃ السنہ ، جلد 19 شمارہ 8)( بحوالہ شیشے کے گھر ،ص: 24)
  • 11 دافع البلاء، ص: 11
  • 12 انجام آتھم ،ص: 62
  • 13 اربعین نمبر 2، ص :43
  • 14 حقیقت الوحی، ص :86
  • 15 سورہ اخلاص : 3
  • 16 حقیقت الوحی، ص :137
  • 17 براہین احمدیہ حصہ دوم ،ص: 99
  • 18 حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم، ص: 7
  • 18 انجام آتھم حاشیہ، ص :5
  • 19 کشتی نوح حاشیہ ،ص :73
  • 20 ازالہ اوہام،ص: 28
  • 21 جنگ مقدس ،ص:7
  • 22 دافع البلاء،ص :33
  • 23 سورة مريم: 21
  • 24 اربعین نمبر 4، ص: 100
  • 25 دافع البلاء،ص :20
  • 26 ازالہ اوہام، ص: 26،25
  • 27 ازالہ اوہام، ص: 27
  • 28 آئینہ کمالات ، ص: 547
  • 29 نجم الہدی ، ص: 10
  • 30 نزول المسیح ،ص:75
  • 31 حقیقت الوحی ،ص: 102
  • 32 حقیقت الوحی ،ص: 78
  • 33 (تبلیغ رسالت ، ج :7 ص: 10

Netsol OnlinePowered by