تقریبا ڈھائی ہزار برس پہلے ملک یمن میں ملک تبع حمیری نامی بادشاہ بڑی شان و شوکت سے حکومت کیا کرتا تھا۔ اس کا شمار دنیا کے ان پانچ بادشاہوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ساری دنیا پر اپنا قبضہ کیا۔ اس زمانے میں اس کی فوجی قوت کا یہ عالم تھا کہ اس کے لشکر میں ایک لاکھ ۲۳ ہزار سوار اور ایک لاکھ تیرہ ہزار پیدل سپاہی موجود رہے۔
ایک مرتبہ یہ بادشاہ اپنے اسی لشکر کے ہمراہ یمن کے ارد گرد کے علاقوں کو فتحکرنے نکلا اور فتوحات کے جھنڈے گاڑھتا ہوا جب مکہ معظمہ کے پاس پہنچا تو مکہ کے لوگوں نے نہ تو اسکا استقبال کیا اور نہ اس کے لشکر کی قوت سے خوفزدہ ہوئے ۔ بادشاہ اس بات سے بڑا غضبناک ہو گیا اور غصہ میں آکر شہر مکہ کو تباہ کرنے اور شہریوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔
جیسے ہی اس نے یہ حکم دیا شان قدرت دیکھئے کہ بادشاہ ایک پر اسرار بیماری کا شکار ہو گیا اور اسکے منہ ، ناک، اور کان سے خون بہنے لگا اور سر کے درد سے اس کا برا حال ہو گیا ۔ اس نے اس بیماری کا کئی ماہ تک علاج کرایا مگر مرض دن بدن بڑھتا ہی چلا گیا ۔ حتی کہ وہ موت کے قریب پہنچ گیا۔
بادشاہ کی بیماری کو دیکھ کر ایک صاحب نظر بزرگ قریب آئے اور بادشاہ سے کیا ’’ اے بادشاہ میں تمہارا علاج کر سکتا ہوں بشر طیکہ کہ تم میرا حکم مانو “ ۔ بادشاہ نے کہا کہ تمہاری ہر بات مانوں گا ۔ صاحب نظر بزرگ نے فرمایا ۔
اے بادشاہ تم اہلی ملہ کو مکمل کرنے کا ارادہ ترک کر دو ۔ جب تک تم اپنا ارادہ نہیں بدلو گے تم اس ماری سے نجات نہیں پا سکو گے ۔ کیونکہ جو کوئی بھی شہر مکہ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کرتا ہے وہ جلائے عذاب ہو جاتا ہے۔
یہ وہ شہر ہے کہ جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ بادشاہ نے جب یہ بات سنی تو خوشی اور شہر کو نقصان پہنچانے کا ارادہ ترک کردیا۔ کہتے ہیں کہ اُس بزرگ نے بادشاہ کے سر سے ہاتھ اُٹھایا، اتنے میں بادشاہ کی بیمار ی بالکل ختم ہو گئی۔
اس خوشی میں بادشاہ نے ایک پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا اور ایک ماہ تک دعوت میں مدد کرتا رہا۔ پھر بادشاہ نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور بارگاہِ الٰہی سے کہا: ’’اے اللہ! تیری خلاف تیاری والا کب ہے؟“
پھر تمام ہمنواؤں کو لے کر وہ مختلف علاقوں کی فوجی مہم کے لیے آگے چلا گیا۔
کئی علاقوں کو فتح کرنے کے بعد جب وہ یثرب (اہلِ عرب) پہنچا، تو جب اس لشکر جرار کو آتے دیکھا، تو شہر کے دروازے بند کر کے قلعہ بند ہو گئے۔ کئی ماہ گزر گئے مگر بادشاہ شہر میں داخل نہ ہو سکا۔
ایک روز صبح ہی صبح اپنے لشکر کے صفوں کے باہر کھجوروں کی کھجلیاں نظر آئیں۔ وہ کھجلیاں دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ اس کے لشکر میں کھجوروں کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
جب بادشاہ نے اپنے جاسوسوں سے کھجوروں کے بارے میں پوچھا تو جاسوسوں نے بتایا کہ یہ بادشاہ ہے، رات کا آخری حصہ ہوتا ہے، جب یثرب کے لوگ کھجوروں سے بھری ہوئی یہ ٹوکریاں فصیل کے اوپر چڑھا کر ہماری طرف پھینک دیتے ہیں جنہیں ہم کھا لیتے ہیں۔
بادشاہِ حِمیر یثرب کے لوگوں کے اس حسنِ سلوک سے حیران و پریشان رہ گیا اور کہنے لگا: ’’میں نے ساری عمر کا عالم و حکمران دیکھا ہے، مگر یثرب کے باشندے عجیب لوگ ہیں۔ ہم اُنہیں گھیرے میں ڈالے ہوئے ہیں، مگر وہ ہم سے جنگ میں بھی اپنے دشمنوں کے ساتھ دوستانہ برتاؤ کر رہے ہیں۔“
آخرکار، بادشاہ نے فوراً اپنی فوج کے علماء و اہلِ علم سے رابطہ کرنے کا حکم دیا۔
جب یہ بات یثرب کے علماء تک پہنچی تو اُنہوں نے کہا:
ہم دور دراز کے علاقوں سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں ہم میں سے کسی کا تعلق خیبر سے ہے کسی کا شام سے ، کوئی مصر سے آیا ہے تو کوئی کسی دوسرے علاقے سے آکر آباد ہوا ہے ۔ ہم سب کے سب یہودی ہیں۔
ہم نے تورات اور زیور جیسی آسمانی کتابوں میں پڑھا ہے کہ اس سر زمین میرب پر نبی آخر الزماں حضرت محمد سے آنے والے ہیں اور ہم یہاں رہ کر انہی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہماری کتابوں اور آسمانی صحیفوں میں لکھا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں ﷺ حلیم و کریم اور شفیق و انیس ہونے کے ساتھ ساتھ مہمان نواز بھی ہوں گے ۔ اسی لئے ہم بھی اپنے آپ میں ان جیسی عادات کریمہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بادشاہ تبع حمیری اہل یثرب کی ان باتوں اور حسن سلوک سے بہت متاثر ہوا اور بے اختیار رونے لگا کہ وہ مقدس اور آخری نبی ابھی تشریف بھی نہیں لائے ۔ لیکن ان کے اوصاف حمیدہ پر لوگوں نے ابھی سے عمل شروع کر دیا۔ وہ رو رو کر کہنے لگا اے کاش میں بھی نبی آخر الزماںﷺ کے دور میں ہو تا ان پر ایمان لاتا اور ان کی خدمت کرتا۔
سرکار دو عالم حضرت محمد ﷺ کا ذکر پاک سن کر اس کے سینے میں سوز و گداز سے معمور دل پگھل گیا اور شوق دیدار بڑھ گیا۔ اس نے یثرب پر حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور اہل مشرب سے اجازت طلب کی کہ وہ اس مقدس شہر کی مقدس گلیوں کی زیارت کی اجازت دیں۔ اجازت ملنے پر وہ شہر میں داخل ہوا پورا اشکر اس کے ساتھ تھا آج وہ ایک بادشاہ کی حیثیت سے نہیں ایک عاجز غلام کی حیثیت سے شہر کی گلیوں میں گھومتا رہا۔ اس کے شوق دیدار کا یہ عالم تھا کہ عشق و محبت میں ڈوبے ہوئے اشعار پڑھنے لگا۔ مؤرخین اور تذکرہ نگار سیرت کی کتابوں میں بتاتے ہیں کہ تبع حمیری اور اس کے لشکریوں نے اس موقع پر یا محمد یا محمد کے نعرے بلند کئے اور حضور سرور کو تین صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں بے حد آنسو بہائے۔
تبع حمیری نے سارے شہر کو صاف کرایا۔ عالی شان اور خوبصورت عمار میں تعمیر کرائیں۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ بھی نہیں آباد ہو جائے۔ تاکہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺکی زیارت کر سکے ۔ لیکن اس کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ کیونکہ بادشاہ کی غیر موجودگی میں یمن میں بغاوت ہو گئی۔ لہٰذا اسے مجبورا یمن واپس جانا پڑا۔ مگر جانے سے پہلے اس نے اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے چار سو علماء کو خوبصورت مکانات ہوا کر دیئے ۔ ان علماء میں شامول نامی عالم کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط دیا جس پر اپنی مہر لگا کر مندونے میں مقفل کر دیا۔ چالی شامول کے حوالے کر دی اور اسے تاکید کر دی کہ اگر اسے نبی آخر الزماں ﷺکا زمانہ اور دیدار نصیب ہو جائے تو یہ خط بصد احترام ان کی خدمت میں پیش کر دیتا اور اگر تمہیں یہ سعادت نہ مل سکے تو اپنی اولاد کو تاکید کر دیتا کہ نسل در نسل یہ سلسلہ جاری رہے حتی کہ وہ مبارک گھڑی آجائے کہ وہ پیغمبر و رہنما اور رہبر کامل اس عالم جہاں میں تشریف لے آئیں۔ شاہ یمن تبع حمیری نے جو مضمون خط میں لکھا اس کا متن حسب ذیل ہے۔
یہ خط حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکی جانب ہے جو حضرت عبداللہ کے بیٹے خاتم النبین اور رسول رب العالمین ہیں۔ تبع حمیری کی طرف سے اما بعد اے محمد ﷺمیں آپ پر اور آپ کی کتاب پر ایمان لایا جو اللہ نے آپ پر نازل کی آپ کے دین پر اور آپ کی سنت پر بھی ایمان لایا۔ آپ کے رب پر ایمان لایا۔ جو تمام جہانوں اور تمام چیزوں کا رب اور مالک ہے۔ میں ایمان لایا آپ کے رب کی طرف سے ایمان اور اسلام کی جو فضیلتیں نازل ہوئیں۔ میں نے انہیں قبول کیا۔ اگر میں نے آپ کو پایا تو میں نے نعمت حاصل کر لی اور اگر نہ پاسکا تو آپ میرے لئے قیامت کے دن شفاعت فرمادیجئے اس لئے کہ میں آپ کی اولین امت میں سے ہوں
اللہ اس دن مجھے فراموش نہ کیجئے گا میں نے آپ کی اتباع آپ کی تشریف آوری اور آپ کی بعثت سے پہلے کی ہے۔ میں آپ کی طمت اور آپ کے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر قائم ہوں۔
حضور سرور کونین ﷺ کی ولادت با سعادت سے ایک ہزار سال پہلے رونما ہونے والے اس واقعہ کے بعد یہ خط نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا شامول کی اکیسویں پشت میں پہنچا ہی تھا کہ حضور سرور کونین ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر یثرب کی جانب تشریف لائے ۔
لیکن اب اس شہر کا نام یثرب نہیں بلکہ مدینہ ہے۔ حضورﷺ اونٹنی پر سوار ہیں۔ لوگ جوش و خروش سے پیغمبر آخر الزماں کا استقبال کر رہے ہیں۔ مدینے کا ہر شخص اونٹنی کی باگ پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شہنشاہ یمن تبع حمیری کے آباد کردہ چار سو علماء اور حکماء سے جنم لینے والی نسل جو ایک ہزار برس سے نسل در نسل حضور ﷺکی منتظر چلی آرہی تھی جو آپ کی حمایت و مدد کے لئے بے چین و بے قرار تھی جو بعد میں انصاری صحافی کہلائے۔
یہی وہ انصاری ہیں جو آپ کے استقبال اور عالم وارفتگی میں آپ کے آگے مجھے جا رہے ہیں۔ درد کے مارے لوگوں کا عجیب عالم ہے ۔ آج وداع کی گھاٹیوں میں چودھویں کا چاند طلوع ہو رہا ہے ۔ شہر مدینہ کا عجیب کمال ہے۔ پورا شہر بقعہ نور بنا ہوا ہے۔ ہر انصاری کی یہ خواہش ہے کہ پیغمبر آخر الزماںﷺ میرے گھر رونق افروز ہوں اور حضور کو مہمان بنانے کی سعادت حاصل ہو۔
لیکن حضور سرور کونینﷺ ارشاد فرماتے ہیں اس اونٹنی کو چھوڑ دو یہ اللہ کی جانب سے مامور ہے۔ یہ لفظ سنتے ہی اہل مدینہ بے قرار ہو گئے اور پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اونٹنی مدینے کی گلیوں میں گھومتی ہے ۔ کبھی ادھر تو کبھی اُدھر حتی کہ ایک مقام پر آکر رک جاتی ہے اور بیٹھ جاتی ہے اور اپنی گردن زمین پر ڈال دیتی ہے ۔ حضور ﷺاونٹنی سے اترتے ہیں اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر کے سامنے بیٹھتی ہے ہر شخص حیران ہے کہ اونٹنی ایک غریب تجار کے گھر جا کر کیوں بیٹھی اونٹنی بڑے بڑے امراء کے دروازوں کے سامنے سے گزری مگر نہیں بیٹھی۔ باگ پکڑنے والوں کے اشاروں پر نہیں رکی اور جب بیٹھی تو ابو ایوب انصاری کے دروازے کے سامنے بیٹھی آخر کیوں ؟
کتب سیر اور تاریخ کی کتابوں میں یہ درج ہے کہ تبع حمیری نے جو خط شامول کو دیا تھا وہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ تک پہنچا تھا اور حضرت ابو ایوب انصاری
شاموں کی اکیسویں پشت میں سے تھے ۔ حضرت ابو ایوب انصاری نے ابو یعلی نامی ایک معتبر شخص کے ذریعے وہ خط حضور ﷺکی خدمت میں بھیجا۔ حضور ﷺ نے ابو یعلی کو دیکھتے ہیں فرمایا کیا تو ابو یعلی ہے اور کیا تبع کا خط تیرے ہی پاس ہے ۔ یہ الفاظ سن کر وہ شخص بڑا حیران ہوا کیونکہ وہ حضور ﷺکو جانتا بھی نہیں تھا۔ اس نے حیران ہو کر دریافت کیا آپ کون ہیں ؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :
میں محمد بن عبد اللہ ہوں اور صاحب کتاب ہوں اللہ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے ۔
ابو یعلی نے وہ خط جیب سے نکالا اور سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت بار کت میں پیش کر دیا۔ حضورﷺنے خط سے مطلع ہو کر تین بار ارشاد فرمایا :
يا اخي الصالح
اے صالح بھائی مرحبا۔
(اس تاریخ ساز واقعہ کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں کتب سیر و تاریخ ، کتاب مغازی ، ہزار سال قبل از نبوی صفحه ۳-۴-۵)
اس ایمان افروز واقعہ کو سننے کے بعد یہ کہنا پڑے گا کہ شہنشاہ یمن تبع حمیری اور اس کے چار سو سا تھی اور ان سے جنم لینے والے انصاری کس قدر خوش نصیب اور سعادت مند تھے کہ تقریبا ایک ہزار سال نبی آخر الزماںﷺ کی آمد کے انتظار میں گزار دئیے ۔
سرزمین مدینہ پر اس ایک ہزار برس میں کیا کیا واقعات گزرے ۔ کیسے کیسے قافلے اور کارواں آئے اور چلے گئے ۔ لیکن اہل مدینہ کا انتظار ختم نہ ہوا۔ وہ انتظار کرتے رہے انتظار ہی انکا مقصود اور نصب العین تھا۔ آخر وہ اپنی مراد کو پاگئے ۔ تبع حمیری اپنی مراد کو ایسا پہنچا کہ ” صالح بھائی کا لقب پایا۔ یہ کوئی معمولی اعزاز نہ تھا۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سرکارِ دو عالم ﷺ کی تشریف آوری سے قبل ہی آپ کی شہرت کاڈ نکاج چکا تھا اور پچھلی تو میں آپ کی آمد کی منتظر تھیں اور انکا یہ بھی عقیدہ تھا کہ حضور سرورِ کونین ﷺ آخری نبی ہوں گے اور آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں ہو گا ۔ نبوت آپ پر ختم ہو چکی ہو گی یہی وجہ تھی کہ وہ پیغمبر آخر الزماں کا شدت سے انتظار کرتے رہے۔
حضور سرور کونین ہے کے آخری نبی ہونے پر نہ صرف پچھلی امتوں کا ایمان تھا بلکہ دورِ صحابہ سے قیامت تک اہل ایمان حضور ﷺ کو آخری نبی اور رسول مانتے آئے ہیں اور مانتے رہیں گے ۔
دور رسالت میں یہود و نصاری اگر چہ آپ ﷺ کے سخت مخالفین میں سے تھے۔ مگر اس کے باوجود وہ اس حقیقت کو مانتے تھے کہ حضور سرور کو تین پاتے ہی اللہ تعالٰی کے آخری نبی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کے اعلان نبوت کے بعد کسی نے بھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ۔ حضور سرورِ کونین ﷺ کے آخری نبی اور رسول ہونے کا عقیدہ کوئی معمولی معاملہ نہیں جسے نظر انداز کر دیا جائے ۔ بلکہ یہ ایسا بنیادی عقیدہ ہے کہ جس طرح کوئی نماز ، روزہ ، حج یا اسلام کے کسی بنیادی رکن کا انکار کر۔ کا فر ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح نبوت کا انکار کرنا بھی کفر ہے ۔
آج امت ِ رسول اگر چہ کئی گروہوں اور فرقوں میں مٹ چکی ہے اور ہر گروہ کا اپنا ایک جدا گانہ انداز ہے ۔ آپس کے اختلافات نے ملت اسلامیہ کے سکون کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے آج بڑے بڑے فتنے المناک حادثات آپس کے اختلافات کی وجہ سے ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ مگر اتنے شدید اختلافات کے با وجود تمام کے تمام گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ حضور اے اللہ تعالیٰ کے آخری رسول اور نبی ہیں۔
ہر گروہ کا یہ ایمان کامل ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی دوسرانہی نہیں آئے گا۔ دورِ صحابہ سے لیکر آج تک ہر مسلمان کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ حضور ہے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اعلانِ نبوت ﷺ سے لے کر اب تک جس کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مسلمانوں نے اس کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔ اس کی جھوٹی عظمت کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔ نبوت کا سب سے پہلاد عوئی مسلیمہ کذاب نے حضرت ابو بکر صدیق
کے زمانے میں کیا تو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق
نے نتائج کی پرواہ کئے بغیر مسلیمہ کذاب کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا ۔ بظاہر وہ اللہ تعالٰی پر ایمان کام ھی تھا لیکن اصل اختلاف حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے عقیدہ میں ہو گیا تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے جب مسیلمہ کذاب کی فوج سے مقابلہ کیا تو اس وقت صحابہ کی زبانوں پر صرف ایک نعرہ تھایا محمد اہ، یا محمد اہ یعنی وہ عین حالت جنگ میں حضور اکرم بچے کو مددکے لئے پکارتے رہے ، اگرچہ اس جہاد میں ہزاروں مسلمان شہید بھی ہوئے ۔ مگر مسلمانوں نے اس وقت تک چین کا سانس نہیں لیا جب تک کذاب مسلیمہ کو موت کے گھاٹ نہ اتار کر رکھ دیا۔
ملاحظہ کیجئے البدایہ والنھا یہ ،ج: 6 ص: 324 ، طبری ج: 3 ص:250)
اگر حضرت ابو بکر صدیق
، مسلیمہ کذاب کو قتل نہ کراتے اور اس سے رعایت کر دیتے تو آج یہ امت کئی فرقوں میں نہیں بلکہ کئی امتوں میں بٹ چکی ہوتی ۔ ہر دور میں ایک نہ ایک نبی پیدا ہو تا رہتا ۔ سید نا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مسلمہ کذاب کو قتل کر کے رہتی دنیا تک یہ مثال قائم کر دی کہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبوت کا دعوئی کرے تو وہ واجب القتل ہے۔ ایسے کاذب کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے خواہ خون کے دریا عبور کرنے پڑیں یا بلند و بالا پہاڑی سلسلے سر کرنے پڑیں ہر صورت میں اس جھوٹے مدعی کو قتل کیا جائے۔
مسلمان، حضور سرورِ کونین ﷺ کے بعد کسی دوسرے کو نبی ماننے کا تصور بھی بھی نہیں کر سکتے۔ آپ پر نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ۔ آپ خاتم النبین ہیں۔ لہٰذا جو کوئی بھی نبی ہونے کا دعوی کرتا ہے یا جو بدخت اس کے دعوئی کو سچا تسلیم کرتا ہے وہ دونوں دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہیں۔ اور وہ اسی سزا کے مستحق ہیں جو اسلام نے ان کیلئے مقرر فرمائیں۔ یعنی واجب القتل - حضور سرور کونین حضرت محمد ﷺ کا خاتم النبیین ہونا محض ہمارے زبانی دعوٹی کی بناء پر نہیں بلکہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے
اليوم اكملت لكم دينكم(مائدہ 3) :
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا۔
اس آیت مقدسہ میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اسلام مکمل اور کامل دین ہے جو ہر لحاظ سے پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے ۔ جس کی تعلیمات رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کے لئے مینارہ نور ہیں، وہ عقائکہ جن پر انسان کی نجات کا انحصار ہے وہ مکمل طور پر اس دین میں موجود ہیں اب قیامت تک اس دین میں تبدیلی کی گنجائش نہیں جب دین مکمل ہو چکا تو پھر کسی دوسرے نبی کے آنے کی ضرورت بھی نہیں۔ ایک اور جگہ اللہ تعالی نے دوٹوک انداز میں قرآن مجید میں ارشاد فرمایا۔
ما كان محمد ابا احد من رجا لكم و لكن رسول الله و خاتم النبین(سوره احزاب (۴۰)
محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پیچھے۔
قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالٰی نے حضور سرور کو تین سے کا نام مبارک لے کر فرمایا کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔ یعنی انبیاء کرام کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں۔ لہٰذا اس آیت کریمہ کی روشنی میں اب اگر کسی نے حضور سرورِ کونین ﷺ کے بعد دوسرا نبی مانتا تو گویا اس نے اللہ تعالٰی کے ارشاد کو جھٹلایا اور قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیت کا انکار کیا لہذا قرآنی آیتوں کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔
حضور سرورِ کونین ﷺ کے آخری نبی ہونے پر دلائل کا ذخیرہ بے شمار حدیثوں کی کتابوں میں موجود ہے ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ لہ چھوٹی ہوئی ہے۔ لوگ اس عمارت کے ارد گرد پھرنے اور اس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے اور ساتھ یہ بھی کہتے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبین ہوں۔ (دیکھئے بخاری شریف کتاب المناقب باب خاتم النبین)
مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ جب کوئی عمارت مکمل طور پر تعمیر ہو جائے اور اس میں کوئی جگہ ایسی خالی نہ ہو کہ جہاں کوئی اینٹ لگائی جاسکے تو کوئی ماہر انجینئر بھی اس عمارت میں ایک اینٹ کا اضافہ نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح حضور سرور کونین ﷺ کی تشریف آوری سے نبوت کی عالی شان عمارت مکمل ہو چکی۔ اب اس عمارت میں کسی اور نبی کی گنجائش نہیں۔ کسی نئے نبی کو اس عمارت میں تو اسی صورت میں جگہ مل سکتی ہے جب کہ سابقہ انبیاء میں سے کسی نبی کو عمارت سے نکال دیا جائے اور کسی نئے نبی کے لئے جگہ منائی جائے۔
مسلمانو! ذرا سوچئے جو عمارت اللہ تعالٰی نے اپنے مقدس نبیوں کی تعمیر فرمائی اور ایسی عالی شان تعمیر فرمائی کہ کہیں نقص کی گنجائش نہ رکھی اب اگر کوئی اس کی توڑ پھوڑ کر کے نئی اینٹ لگانا چاہے تو کیا اس کی توڑ پھوڑ کو اللہ تعالٰی کی غیرت بر داشت کرے گی۔ ہرگز نہیں۔ ختم نبوت کے لئے میں ایک حدیث مبارکہ اتنی جامع اور بصیرت افروز ہے کہ اس کے بعد مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔ مگر پھر بھی اپنے مسلمان بھائیوں کی معلومات کے لئے چند احادیث مبارکہ پیش کرتا ہوں جو که منکر ختم نبوت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی۔ حضور سرور کو تین پینے نے ارشاد فرمایا مجھے تمام مخلوق کے لئے رسول بنایا گیا اور میری ذات سے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ (ملاحظہ کیجئے مسلم شریف ، ترندی شریف ، انان ماجه شریف)
ایک اور جگہ حضور سر در کو نین حضرت محمد ﷺنے ارشاد فرمایا۔
اللہ تعالی نے کوئی نبی نہیں بھیجا جس نے اپنی امت کو دجال کے خروج سے نہ ڈرایا جواب میں آخری نبی ہوں اور تم آخری است بوده ضرور تمہارے اندر ہی نکلے گا۔
( دیکھئے لیکن ماجہ شریف)
اس حدیث مبارکہ میں جہاں حضور سرور کونینﷺکا آخری نبی ہونا ثابت ہوا وہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کا آخری امت ہونا بھی ثابت ہوا۔ حضور پرور کونین ﷺنے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی تو آپ نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور بارگاہ خداوندی میں عرض کی اے پروردگار محمد ﷺ کے وسیلے سے مجھے معاف کر دے ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا محمد ﷺ کون ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی اے پروردگار جب تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں نے اپنا سر اٹھا کر تیرے معرش کو دیکھا تو اس میں لکھا ہوا نظر آیا :
لا اله الا الله محمد رسول الله
تو میں نے یقین کر لیا کہ محمد ﷺکوئی تیری بڑی معظم اور محبوب ہستی ہیں جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ حرش پر لکھ رکھا ہے۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا اے آدم علیہ السلام وہ تیری اولاد میں سے سب نبیوں میں سے آخری نبی ہیں اور اس کی امت تیری اولاد میں سے سب امتوں سے آخری امت ہے اور اگر وہ نہ ہوتے تو اے آدم تو بھی نہ ہوتا۔
(دیکھئے طبرانی شریف جلد دوئم صفحہ ۸۲-۸۳ ، مستدرک جلد دوئم ص:۲۱۵)
مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے بھی اس حقیقت کا پتہ چلا کہ حضور سرور کونین ﷺ آخری نبی اور آپ کی امت آخری امت ہے ۔ آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ ہی کوئی امت۔ قیامت تک سوائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے کسی اور کی نبوت نہیں اور نہ ہی کوئی دوسری امت ہو سکتی ہے۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ :
میری امت میں تمہیں کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعوی کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں خاتم النین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں “۔
دیکھئے ابو داود شریف کتاب الفتن)ایک مرتبہ حضور ﷺغزوہ تبوک پر روانہ ہوئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مدینہ منورہ میں ٹھرنے کا حکم دیا۔ آپ کچھ پریشان ہوئے تو حضورﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔ میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہے جو موسیٰ کو ہارون کے ساتھ تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
(دیکھئے جاری شریف، مسلم شریف)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا اور میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نہیں ۔
آپ ﷺکا ایک ارشاد اور سنیئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا۔
اگر میرے بعد کسی کا نہی ہونا ممکن ہوتا تو عمر بن الخطاب نہیں ہوتے ۔ (تر مذی شریف کتاب المناقب)
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی کہ حضور سرور کونین ﷺ اللہ تعالی کے آخری نبی اور رسول ہیں آپ پر نبوت و رسالت کا درواز ہند ہو چکا آپ خاتم النبیین ہیں۔ اب قیامت تک کوئی نبی و رسول نہیں آسکتا۔ اس حقیقت کے باوجود اب کسی کا نبوت کا دعوی کرنا اور کسی کا اس دعوٹی کو تسلیم کر ناسراسر کفر اور الحاد ہے۔ علامہ ابن حیان ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شخص کا یہ نظریہ ہو کہ نبوت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا اسے اب بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ وہ زندیق ہے اور واجب القتل ہے۔
مذکورہ بالا عبارت سے یہ بھی واضح ہوا کہ علماء حق نے ہر زمانے میں نبوت کا دعوتی کرنے والے کو قتل کر دینے کا حکم دیا۔
مسلمانو! اس حقیقیت کو جان لینے کے بعد آئے تاریخ کی ایک ایسی تلخ حقیقت کا مشاہدہ اپنے سر کی آنکھوں سے کرتے ہیں۔ جس سے آج دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان بالعموم اور دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے سے مسلمان بالخصوص جواقف ہیں۔
مسلمانو! پاکستان میں سر زمین پنجاب وہ خطہ ہے جہاں بے شمار اولیاء اللہ نے اپنے مقدس قدموں سے اس کو منور فرمایا اور اسلام کی تورانی کرنوں سے اس خطہ کو روشن کیا یہی وجہ ہے کہ اس سر زمین پر آج بھی بے شمار اولیاء کرام کی مزارات مرجع خاص و عام ہیں اور یہاں کے لوگوں کو بالخصوص اولیاء کرام سے والہانہ لگاؤ ہے۔ چنانچہ جب انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے ناپاک قدم جما لئے تو انہوں نے اپنے عیسائی پادریوں کو اکٹھا کیا اور انہیں اس بات کی دعوت دی کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں داخلی انتشار پیدا کیا جائے ۔ چنانچہ عیسائی پادریوں نے جائزہ لینے کے بعد ایک مکمل رپورٹ حکومت برطانیہ کو پیش کر دی جو حسب ذیل ہے۔
یہاں کے باشندوں کی ایک بہت بڑی اکثریت پیری مریدی کے رجحانات کی حامل ہے ۔ اگر اس وقت ہم کسی ایسے غدار کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں جو ظلی نبوت کا دعوی کرنے کو تیار ہو جائے تو اس کے حلقے نبوت میں ہزاروں لوگ جوق در جوق شامل ہو جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں میں اس قوم کے دعوی کے لئے کسی کو تیار کرنا ہی بنیادی کام ہے۔ اگر یہ مشکل حل ہو جائے تو اس کی نبوت کو حکومت کے زیر سایہ پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔
اب چونکہ ہم پر صغیر کے چپہ چپہ پر حکمران ہو چکے ہیں اور ہر طرف امن و امان بھی قائم ہو گیا ہے تو ان حالات میں ہمیں کسی ایسے منصوبے پر عمل کرنا چاہئیے جو یہاں کے باشندوں کے داخلی انتشار کا باعث ہو۔
اس تاریخ ساز حقیقت کو دیکھئے کتاب میں بڑے مسلمان صفحه ۶ از عبدالرشیدار شد) اس رپورٹ کے بعد انگریز حکومت نے تمام تر زور اس بات پر لگا دیا کہ اولیاء اللہ کے مرکز سر زمین پنجاب سے کوئی ایسا نبی کھڑا کیا جائے جو لوگوں کو دام نبوت میں پھنسا کر گمراہ کرے اور مسلمانوں کی قوت واحدہ کو پارہ پارہ کر کے رکھ دے۔ ان کا شیرازہ بکھر جائے یہ باہم دست گریبان ہو جائیں۔ پروفیسر ابو زہرہ مصری فرماتے ہیں۔
انگریز جو مغربی تہذیب و ثقافت کو دیارِ ہند میں لائے تھے مغربی تہذیب کے دلدادہ مسلمانوں سے بڑا لگاؤ رکھتے تھے۔ انہیں اپنی تقریبات میں بلاتے اور بڑے بڑے عہدوں سے نوازتے اس قسم کے مسلمان حاکم مسلمانوں کی نمائندگی کرتے یہی وجہ ہے کہ سر زمین ہند گمراہ فرقوں کی آماجگاہ بن گئی ان فرقوں میں زیادہ نمایاں قوی تر اور ترقی یافتہ قادیانی گروہ تھا۔ قادیان ایک قصبہ ہے جو لاہور سے ساٹھ میل فاصلے پر ہے۔ قادیانی فرقہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ۔ اس کے بانی مرزا غلام کے احمد قادیانی تھے۔ جن کی وفات ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء میں ہوئی۔
(دیکھئے کتاب اسلامی مذاہب صفحہ ۳۰۵ پروفیسر ابو زہرہ مصری )
مسلمانو ! مذکورہ بالا انکشاف سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کا وہ وفادار غلام تھا جو ہندوستان میں انگریزوں کے اقتدار کو مستحکم کرنے اور مسلمانوں کے باہمی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ظاہر ہوا اور انگریز حکومت کی خواہش پر نبوت کا دعویٰ کیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی حتمی تاریخ پیدائش تو کسی کو معلوم نہیں البتہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کتاب الربہ میں اپنی تاریخ پیدائش ۱۸۴۰ء بتائی ہے ۔ مرزا غلام احمد کے والد کا نام مرزا غلام مرتضی تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ابتدائی طور پر اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی مگر بعد میں عربی اور انگریزی کے بھی ماہر ہو گئے ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے مختار کاری کا امتحان دیا مگر فیل ہو گئے ۔ جس سے تعلیم سے دل اچاٹ ہوا، در دسر ، پیچش، ذیا بیطس جیسے مرض غلام احمد قادیانی کی زندگی کے ساتھ رہے۔
مرزاغلام احمد قادیانی انگریز حکومت کا وہ آلہ کار تھا کہ جس کا مد مقابل سر زمین ہند میں کوئی دوسرا نہ تھا۔ انگریزوں سے اسے یہ منصب وراثت میں ملا تھا۔ کیونکہ اس کے والد بھی انگریزوں کے خیر خواہ تھے ۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس حقیقت کا اس طرح اعتراف کرتا ہے۔
میرے والد مرحوم کی سوانح میں سے وہ خدمات کسی طرح الگ ہو نہیں سکتیں جو وہ خلوص دل سے اس گورنمنٹ کی خیر خواہی میں جا لائے۔ انہوں نے اپنی حیثیت اور مقدرت کے موافق ہمیشہ گورنمنٹ کی خدمت گزاری میں اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے وقت صدق اور وفاداری دکھائی۔
دیکھئے کتاب شہادت القرآن صفحه ۸۴ از مرزاغلام احمد قادیانی)
ایک اور جگہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے والد کے بارے میں لکھتا ہے۔
والد صاحب مرحوم اس ملک کے ممتاز زمینداروں میں شمار کئے جاتے تھے۔
گورنری دربار میں ان کو کرسی ملتی تھی اور گورنمنٹ برطانیہ کے بچے شکر گزار اور خیر خواہ تھے ۔
(دیکھئے کتاب ازالہ اوہام صفحه ۵۰ از مرزا غلام احمد قادیانی)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے بڑے بھائی مرزا غلام قادر کے بارے میں تحریر کرتا ہے۔
اس عاجز کا یہ ابھائی مرزا غلام قادر جس قدر مدت تک زندہ رہا اس نے بھی اپنے والد مرحوم کے قدم پر قدم مارا اور گورنمنٹ کی مخلصانہ خدمت میں یہ دل جان سے مصروف رہا۔
( دیکھئے کتاب شہادت القرآن صفحه ۸۴ مرزا غلام احمد قادیانی)
مرزاغلام احمد قادیانی انگریزوں سے اپنی عقیدت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں۔
میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گور نمنٹ انگلشیہ کی بچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیر دوں“۔
دیکھئے کتاب تریاق القلوب صفحه ۲۵ مرزا غلام احمد قادیانی)
مذکورہ بالا عبارت میں حقیقت بالکل واضح ہے کہ مرزا صاحب ساٹھ سال کی عمر تک مسلمانوں کو انگریزوں کی طرف مائل کرنے کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ انہوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انگریز حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے ان کی .
اسلام حمایت میں جہاد کی ممانعت پر بے شمار کتابیں بھی لکھیں۔ جس سے ان کی اسلا دشمنی اور انگریز دوستی کا بر ملا اظہار ہوتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی فخریہ طور پر اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ :
” میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھیں ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکھٹی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔
دیکھئے کتاب تریاق القلوب صفحه ۲۵، مرزا غلام احمد قادیانی)
مسلمانو ! یہاں میں حضور اکرم ﷺ کی ایک حدیث بیان کرتا چلوں ، حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے عنقریب مشرق کی (یاد رہے کہ مدینہ کے مشرق کی طرف ہندوستان ہے) جانب سے ایک گروہ پیدا ہو گا جو کہے گا۔ کہ نہ جہاد کرنا جائز ہے، اور نہ سرحدوں پر حفاظتی چوکیاں اور نگر ان دستے متعین کرنا جائز ہے۔ وہ لوگ آگ کے ایند جن ہیں۔
(ملاحظہ کیجئے کنز العمال كتاب الجهاد جلد دوئم ص:۲۶۳)
حضور اکرم ﷺ کے ارشاد گرامی سے صاف واضح ہے کہ ہندوستان کی دھرتی پر ایک ایسے گروہ کا ہونا یقینی ہے جو اسلام دشمن قوتوں کا پابند ہو گا جو جہاد کو نا جائز قرار دے کر یہودیوں اور عیسائیوں سے اپنی عقیدت کا اظہار کرے گا اسی گروہ کو آگ کا ایندھن کہا گیا ہے اور وہ جہنمی گروہ یقینا مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے جس نے جہاد کی مخالفت میں اس قدر کتابیں اور اشتہار شائع کئے کہ بقول مرزا غلام قادیانی کے کہ پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی جہاد سے مخالفت کا اندازہ اس کے شعر سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ مرزا کہتا ہے ۔ احمد
دوستو! چھوڑ دو اب جہاد کا خیال
حرام ہے دین کے لئے لڑنا و قتال
مرزا غلام احمد قادیانی نے تحریری طور پر انگریزوں کے لئے جو خدمات انجام دیں ان کی مزید تفصیل مرزا سے سنیئے وہ لکھتا ہے :
مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہار چھپوا کر اس ملک اور دوسرے بلاد اسلام میں اس مضمون کو شائع کئے کہ گور نمنٹ انگریز ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ گورنمنٹ کی کچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو ر ہے ۔ یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی ، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں ۔ یہاں تک کہ اس کے دو مقدس شہر مکہ اور مدینہ میں بھی خولی شائع کر دیں۔ اور روم کے پایه تخت قسطنطنیہ شام، مصر ، کابل اور افغانستان کے مختلف شہروں میں جہاں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی۔ دیکھئے کتاب ستارہ قیصرہ صفحہ ۷ ، مرزا غلام احمد قادیانی) انگریز حکومت کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں پرورش پانے والے اور نبوت کا دعوی کرنے والے مرزا غلام احمد قادیانی نے تخریب دین اور انتشار دین کا جو سازشی منصوبہ اپنے ذمہ لیا تھا اسے انتہائی راز داری اور پر اسرار طریقے سے عام کرنا شروع کیا۔
ابتداء میں مرزا غلام احمد قادیانی مسلمانوں کے سامنے ایک مخلص امتی کی حیثیت سے ظاہر ہوا اور یہ کہیں نہیں کہا کہ میں ایک نیا دین لے کر آیا ہوں بلکہ اس طرح اعلان کیا۔
میرا اعتقاد یہ ہے کہ میرا دین بجز اسلام کے اور کچھ نہیں اور میں کوئی کتاب بجز قرآن کے نہیں رکھتا اور میرا کوئی پیغمبر بجز محمد مصطفیٰ ﷺکے نہیں جو کہ خاتم النبین ہیں جس پر خدا نے بے شمار برکتیں اور رحمتیں نازل کی ہیں۔}}( دیکھئے کتاب انجام آتم ص:۱۴۳
مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک مرتبہ یہ اعلان کیا :مہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت محمد ﷺ اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ ہم اپنی ت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ بچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیں ۔ ۔ لا جماعت ۔ اله الا الله محمد رسول الله پر مریں اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن سے ثابت ہے ان سب پر ایمان لائیں۔
دیکھئے کتاب ایام الصلح صفحہ ۸۶-۸۷ تواله تبلیغ اسلام شائع شده قادیان)
عقیدہ ختم نبوت پر مرزا انتظام احمد قادیانی کا ایک اعلان اور سنئے۔
میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو عقائد اسلام میں داخل ہیں۔ جیسا کہ الجمعت جماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا مولانا حضرت محمد مصطفی ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وہی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہﷺ پر ختم ہو گئی۔ میری اس تحریر پر ہر شخص گواہ ر ہے۔
دیکھئے مندرجہ تبلیغ رسالت صفحہ ۲۰، جلد دوم اعلان مورخه ۲ اکتوبر ۱۸۹۱)
آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک بیان اور سن لیجئے۔
ہمارے رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے پس اب کسی کو یہ حق نہیں کہ ان کے بعد نبوت کا دھوٹی کرے ۔۔
( ضمیمہ حقیقت گوئی ص:3)
مسلمانو! مذکورہ بالا عبارات کا بغور مطالعہ کیجئے ، آپ پر یہ حقیقت بالکل واضحہو جائے گی کہ ابتداء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے آپ کو مسلمانوں کے سامنے پیش کیا تاکہ علم سے آشنا مسلمانوں کو قریب کیا جا سکے۔
عقیدہ کے معاملے میں اس ظالم نے کہیں بھی انگلی اٹھانے کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ جہاں حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت کا اعتراف ہے ۔
وہاں یہ بھی اعتراف ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی نبوت اور رسالت کا دعویدار ہو گا وہ جھوٹا اور کافر ہے ۔ ذرا بتائیے اس سے زیادہ کوئی سچا مسلمان نظر آسکتا ہے ہر گز نہیں۔}}مسلمانوں جیسا کہ آپ شروع میں پڑھ چکے ہیں کہ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں تمہیں کذاب ہوں گے جن میں ہر ایک یہ دعوی کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ چنانچہ حضور ﷺکا یہ ارشاد وقت بوقت سچ ثابت ہوتا رہا اور مختلف زبانوں میں جھوٹے مدعی پیدا ہوتے رہے۔ اور قہر الہی کا شکار ہوئے ۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والے تمیں کذابوں میں سے ایک کاذب مرزا غلام احمد تاریانی بھی ہے۔ جس نے علم سے نا آشنا مسلمانوں کو اپنے ارد گرد جمع کر کے نبوت کا دعوئی کر دیا اور اس طرح میں دجالوں کی صف میں شمار ہوا۔ اپنی دنیا کو حسین بنانے کی خاطر لاکھوں مسلمانوں کی عاقبت برباد کر گیا۔ اور دو ٹوک لفظوں میں اعلان نبوت کر دیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی جھوٹی نبوت کا معیار حضرت عیسی علیہ السلام کی اس بشارت عظمی کو ٹھرایا جس میں حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے بعد کے آنے والے نبی حضرت محمد ﷺکی بشارت دی اور ارشاد فرمایا :مبشرا برسول پانی من بعدی اسمه احمد
کہ خوشخبری ہے ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہو گا
حضرت عیسی علیہ السلام کے مذکورہ بالا ارشاد کی تصدیق خود حضور سرور کو نین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمائی کہ جس آخری نبی احمد کی خوشخبری حضرت عیسی علیہ السلام نے دی تھی وہ میں ہوں۔ ایک جگہ اور ارشاد فرمایا کہ : حضرت عیسی علیہ السلام نے جس نہی کے لئے دعا فرمائی تھی اور حضرت عیسی علیہ السلام نے جس احمد کی خوشخبری دی تھی وہ احمد میں ہی ہوں۔
( ملا حظہ ہو مشکوة ص:۵۱۳)
ایک اور جگہ اس طرح ارشاد فرمایا انا محمد وانا احمد “ میرا نام محمد بھی ہے اور احمد بھی۔
(مشكوة صفحه ۵۱۵)
حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے بعد اب کوئی بھی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ کوئی دوسرا انسان حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت کو اپنے سے منسوب کرے ورنہ یہ لازم آئے گا کہ نعوذ بااللہ سرکار دو عالم حضرت محمد ﷺ نے جھوٹ ارشاد فرمایا۔ معاذ اللہ ۔ مگر انگریزی ٹکڑوں پر پلنے والے مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت عظمی کو اپنے سے منسوب کرتے ہوئے کہا :
وہ احمد میں ہی ہوں “
(ملاحظہ ہو نزول المسح صفحہ ۹۹)
اپنی نبوت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ اس طرح اعلان کیا :
مجھے روزی صورت نے نبی اور رسول بتایا ہے اور اسی بناء پر خدا۔ نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا ہے مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان میں نہیں ہے۔ بلکہ محمد ﷺ کا ہے اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا ہے پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔
(دیکھئے کتاب ایک غلطی کا ازالہ مصنف مرزا غلام محمد قادیانی)
مرزاغلام احمد قادیانی نے ایک جگہ اس طرح اعلان کیا :
میں آدم ہوں ، میں شیث ہوں ، میں نوح ہوں ، میں ابراہیم ہوں ، میں اسحاق ہوں ، میں اسمعیل ہوں ، میں یعقوب ہوں ، میں موئی ہوں ، میں عیسی ہوں اور آنحضرت محمد ﷺ کے نام کا میں مظہر ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں"۔
(دیکھئے کتاب حقیقت الوحی ، صفحہ ۲۲ مرزا غلام احمد قادیانی)
نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی اپنی حقیقت منوانے کے لئے مسلمانوں کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں ” جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے"۔
(دیکھئے کتاب تبلیغ رسالت جلد در تم، صفحه ۳۴ مرز انتظام احمد قادیانی)
غلام احمد قادیانی اس معاملے کو دو ٹوک لفظوں میں اور وسیع کرتے ہوئے لکھتے ہیں جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔
دیکھئے کتاب حقیقت الوحی ، صفحه ۲۳ مرزا غلام احمد قادیانی)
مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی پر بس نہیں کیا۔ بلکہ انبیاء کرام کی شان میں بے شمار گستاخیاں کیں۔ وہ حضور ﷺ کی شان میں ایک جگہ گستاخی کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
میں حضور ے سے افضل ہوں ، کیونکہ حضور علیہ السلام کے معجزات تین ہزار تھے اور میرے دس لاکھ ہیں۔
(دیکھئے کتاب گولڑویہ ، صفحہ ۴۰)
مذکورہ عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے خود کو افضل اور سرکار دو عالم ﷺ کو اپنے سے کم تر ثابت کرنے کی جسارت کی ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی تحریر کرتا ہے۔
ہم ایسے ناپاک اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے چہ جائیکہ اسے نبی مان لیں۔
(دیکھئے ضمیمہ انجام آتھم صفحہ (۷)
مذکورہ بالا عبارت کو پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نظروں میں عیسی علیہ السلام ناپاک، تکبر کرنے والے اور نیکوکاروں کے دشمن تھے ۔ ذرا سوچئے اللہ تعالٰی نے جس نبی کو روح اللہ کے مقدس لقب سے نوازا ہو اس مقدس نبی کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی کس بد زبانی اور دریدہ دہنی سے گستاخانہ الفاظ تحریر کر رہا ہے اس سے شانِ نبوت میں گستاخی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
پیارے مسلمانو! انگریز حکومت نے جھوٹا نبی بنانے کا جو سرکاری منصوبہ بنایا تھا بالآخر وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے گرج آنتوں کو خوش کرنے اور امت مسلمہ کو اور چارہ کرنے کے لئے اپنے خود ساختہ من گھڑت اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ یہودی اور عیسائی مشینری کی سرپرستی میں چلنے والی یہ جماعت اپنی دنیا میں قادیانیوں کو مسلمان ظاہر کرتی ہے۔ آجا جب امریکی آخر بایاں فریق جر میں کینیڈا اور ایشیاء کے کئی ممالک میں قاریانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے اپنا پیام بنجارہے ہیں۔ خاندے کاتالوگ قادیانیوں کو مسلمان سمجھ کر ان کی جماعت میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں۔
تقادیانی جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں کا اندازہ آپ اس بات سے فرق لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کی چودہ زبانوں میں قرآن مجید کے نیچے سے توقف زبانوں میں تبلیغی اختبار ا ر اوج شب روز شائع ہو رہے ہیں۔ کئی ممالک میں سینکڑوں عبادت گاہیں مسجدوں کے ہم پر قائم کی ہیں۔
تحصیل کیئے۔ سالہ تاریخ اسلام زمین کے کناروں تک ) جہاں یہ بھی وضاحت کرتا چلوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار یدی بوری ڈینگیں مارتے ہوئے نظر آئیں گے کہ ہم دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام بچارہے ہیں۔ ہماری کوششوں سے یورپ میں اتنی مسجد میں خبر ہو ہیں۔ اسےمرد انتقام احمد قادیانی کے پیروکار پر یہودیوں کو قادیانی پا کر خوش تھی کا شکار میں اور اسے حق پرستی کی دلیل سمجھ رہے ہیں ذرا بتائیے کہ اولیاء اللہ کے بارے میں ان کا کیا عقیدہ ہے کہ جنہوں نے لاکھوں کفار مشرکین کو کفر کی ظلمتوں سے نکال کر ہدایت کی راہ پر گامزن کر دیا۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی، حضرت داتا گنچ بخش علی ہجویری اور بے شهر اولیاء کرام نے لاکھوں مشرکوں کے کفر کو پاش پاش کر دیا اور ان کی پیشانیوں کو بارگاه خداوندی میں ہر محمود کر دیا۔ آج ہند وپاک میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان آباد ہیں یہ سب کے سب بزرگانِ دین کی تبلیغ کے سبب مسلمان ہوئے ان کے مقابلے میں ساری است مرزائیہ سمندر کے مقابلے میں قطرے کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔
اتنے زیر دست کار نامے انجام دینے کے باوجود بزرگانِ دین نے نہ نبوت کا دعوی کیا، نہ مہدیت کا اور نہ ہی مسیحت کا بلکہ اپنے آپ کو غلامان مصطفیٰ ہی کہا اور اس کو اپنے لئے باعث صد افتخار سمجھا۔ وہ حضرات جو اسلام کو چھوڑ کر قادیانیت اختیار کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا نبی ماننے کو تیار ہو چکے ہیں
ان کی خدمت میں مخلصانہ مشورہ ہے کہ اگر آپ کا ضمیر ذاتی غرض یا مالی مفادات سے بالا تر ہے تو خدار اذرا سوچیئے کہ جس مرزا غلام احمد قادیانی نے ساری عمر عیسائی حکومت کی وفاداری کی اور جن کے کمروں پر وہ پلٹتے رہے اور جن عیسائیوں کی تعریف میں قصیدے لکھتے رہے وہ آپ کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔
اتنا کچھ جاننے کے باوجود بھی اگر آپ اس کو نبی مانتے ہو تو سوائے بد نصیبی کے اور کچھ نہیں۔ اسلام کی اصل راہ کو چھوڑ کر گمراہی کی راہ اختیار کرنا دانشمندی نہیں کھی جاسکتی۔
اللہ تعالی ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے ۔ دنیا کے حالات ہزاروں پلٹے کھائیں۔ معاشی اور سیاسی میدانوں میں کتنے ہی انقلاب کیوں نہ کر پا ہوں ۔ ہر قوم کے لئے ہر زمانے میں فلاح دارین کا راستہ دکھانے کے لئے اب کسی دوسرے نبی کی ضرورت نہیں۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ سلسلہ نبوت بند کرنے کا فیصلہ کسی ایسی ہستی نے کیا جو آنے والے حالات سے بے خبر ہے۔ یا جو مختلف قوموں اور ملکوں کی ضرورتوں سے ناواقف ہے۔ بلکہ یہ فیصلہ اس ذات والا صفات کا ہے جو کا ئنات کی ہر چیز سے واقف ہے اور ان تمام امور سے بھی باخبر ہے جن پر عالم انسانیت کی فلاح و بقاء کا انحصار ہے۔ اللہ تعالی نے حضور اکرم ﷺ کو اپنا آخری رسول بنایا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا۔ لہذا اس نعمت عظمی پر اللہ تعالٰی کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔
حضور سرور کونین ﷺکی ختم نبوت کا اظہار دنیا ہی میں نہیں بلکہ قیامت کے دن بھی بانگ دہل ہو گا۔ آپ ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔
مروز حشر تمام گناہگار حضرت آدم
سے لے کر عیسی
تک تمام انبیاء کے در پر فریاد رس ہوں گے اور اپنی شفاعت کے طلب گار ہوں گے۔ مگر ہر دروازے سے میں آواز آئے گی :}} نفسی نفسى اذهبوا الى غيري کسی اور کے پاس جاؤ آخر میں حضور سرور کونین ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے۔
یا محمد انت رسول الله و خاتم الانبياء ----
اے محمد ﷺآپ اللہ کے رسول اور نبیوں کا ختم کرنے والے ہیں ۔ یعنی آپ پر نبوت ختم ہو گئی ہماری شفاعت فرمائیے۔
مسلما نو ! یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ حضرت آدم
سے لے کر حضرت عیسٰی
تک ہر نبی نے یہی کہا کہ تم میرے بعد والے نبی کے پاس جاؤ شاید وہ شفاعت کر دیں اگر حضور ﷺکے بعد بھی کوئی نبی ہوتا تو یقینا آپ ﷺمیں ارشاد فرماتے۔
کسی اور کے پاس جاؤ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کے پاس جاؤ نعوذ باللہ ۔ مگر یہاں تو رنگ ہی نرالا ہے ارشاد نبویﷺ ہوتا ہے ۔۔۔
ہاں ہاں میں اس کا اہل ہوں پھر آپ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ اور اللہ تعالی کی ایسی محمد فرمائیں گے جیسی آج تک کسی نے بیان نہ کی۔ باب شفاعت آپ کے لئے کھول دیا جائے گا۔}}(دیکھئے جاری شریف ، شرح اسماء النبی ،ص:24)
مسلمانو! ان تلخ حقائق کو جان لینے کے بعد ہر مسلمان کی یہ مذہبی اور دینی ذمہ داری ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کو متکلم اور پائیدار ہائے۔ عقیدہ ختم نبوت کے سلسلے میں کسی مصلحت یا ذاتی غرض کی بھیٹ ہر گز نہ چڑھے بلکہ ناموس رسالت اور تھے ختم رسالت کے لئے ایک امتی کی حیثیت سے ہر محاز پر قادیانی فرقے کی سر کوئی کے لئے تیار رہے۔
مسلمانو! ذرا سوچو جب حضور سرور کونین ﷺکی نبوت تمام جہانوں کے لئے قائم ہو چکی ، جب حضور ختم المرسلین پر نازل ہونے والے کتاب قرآن مجید بغیر کسی تحریف کے ہماری رہنمائی کے لئے اب بھی موجود ہے جب حضور تاجدار رسالت ﷺ کی سنت مبارکہ تمام تفصیلات کے ساتھ موجود ہے ، جب خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کا مکمل دین روز اول کی طرح آج بھی بھی ہوئی انسانیت کی رہنمائی کے لئے ہمارے درمیان موجود ہے۔ ذرا بتائیے ان سب کے ہوتے ہوئے کسی نئے نبی کی ضرورت ہو سکتی ہے ؟ ہرگز نہیں۔ جب حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا آفتاب طلوع ہو چکا اور اس آفتاب کی کرنوں سے سارا جہاں روشن ہو چکا ہے تو اب دن کے اجالے میں کسی نئے چراغ جلانے کی کوشش کی تو اسے تھا دیا جائے گا۔
جب قصر نبوت کا محل مکمل ہو چکا اور خود اللہ تعالیٰ نے اس محل کو اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کی آخری اینٹ لگا کر مکمل اور خوبصورت بنا دیا۔ اب اگر کسی نے قدرت کے بنائے ہوئے اس محل کو توڑ کر فالتو اینٹ لگانے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ توڑ دیئے جائیں گے۔
جب آپﷺ کی نبوت کا تناور درخت ساری انسانیت کے لئے سایہ لگن ہو چکا ہے تو اب اس شامیانہ رحمت کے ہوتے ہوئے کسی نے پودا لگانے کی کوشش کی تو وہ پودا جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔
یہی جذبہ ہر مسلمان کا ہونا چاہیئے اور اسی جذبے اور عقیدے کے تحت دنیا بھر کے مسلمانوں کو قادیانی دھرم کے خلاف متحد ہو جانا چاہیے۔ ان کی سرگرمیوں پر بھر پور نظر رکھی جانی چاہیئے ۔ تمام سرکاری اور نیم سرکاری اداروں سے انہیں ی طرف کیا جائے ان سے مراسم استوار کرنا یا ان کی تعظیم کرنا ایک مسلمان کے لئے کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔
مسلمانو! اس کتاب کے لکھنے کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہیں کہ علم سے نا آشنا مسلمانوں کو مرزائیوں کے مکر و فریب سے محفوظ کیا جائے اور دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمان آباد ہیں انہیں قادیانیوں کی پر فریب سازشوں سے آگاہ کیا جائے۔
لہذا ضروت اس بات کی ہے کہ اس کتاب کو دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع کر کے دنیا کے کونے کونے میں بھیجا جائے اس کے لئے تمام مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق کتاب کی اشاعت کا اہتمام کریں۔
اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں عاجزانہ دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو پھٹی ہوئی انسانیت کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔ اور امت مسلمہ کو در پیش فتنوں سے امان نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
جاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
آپ کا بھائی
گرائے ور رسول
محمد نجم مصطفائی
۲۴ اپریل ۱۹۹۶ء