بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله وكفى والصلاة و السلام من لا نبي بعده
اما بعد !
اہل اسلام کا عقیدہ: اللہ عز وجل سچا اور اس کا کلام سچا مسلمان پر جس طرح لا إِلهَ إِلَّا الله ماننا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو أَحَدٌ وَ صَمَدٌ ، لَا شَرِيكَ لَهُ جاننا فرض اول و مناط ایمان ہے۔ یو نہی محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین ماننا اُن کے زمانے میں خواہ اُن کے بعد کسی جدید نبی کی بعثت یقیناً قطعا محال و باطل جاننا فرض اجل و جزئی ایقان ہے: وَلَكِن رَّسُولُ اللَّهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ نص قطعی قرآن ہے۔ اس کا منکر، نہ منکر بلکہ شبہ کرنے والا نہ شاک ( شک کرنے والا ) کہ ادنی ضعیف احتمال خفیف سے تو ہم خلاف رکھنے والا قطعاً اجماعا کافر ملعون مخلد فی النیران ( ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والا) ہے۔ نہ ایسا کہ وہی کافر ہے بلکہ جو اس عقیدہ معلونہ پر مطلع ( اطلاع پاکر ) ہو کر اُسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر اور جو اس کے کافر ہونے میں شک وترد و کو راہ دے وہ بھی کافر الخ1
بحر الکلام الخمیں ارشاد فرمایا:
اہلِ سنت و جماعت کا اس پر اتفاق ہے کہ ہمارے نبی کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ اس پر ارشادربانی ’’وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ“ ناطق ہے اور ارشاد رسول ’’لا نَبِيَّ بَعْدِی“ شاہد ہے۔ الغرض قرآن وسنت دونوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی آخری نبی ہیں، لہذا جو ہمارے نبی کے بعد کسی کو نبی کہے یا ہمارے نبی کے آخری نبی ہونے میں شک کرے وہ کافر ہے، اس لئے کہ حجت نے حق و باطل کو واضح کر دیا ہے، پس حضور کے بعد جو نبوت کا دعوی کرے تو اس کا دعوی بلا شبہ باطل ہے۔
امام اعظم کے عہد میں ایک شخص نے نبوت کا دعوی کیا اور کہا کہ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی نشانیاں پیش کروں ، تو حضرت امام نے فرمایا : جس نے بھی اس سے اس کی نبوت الله کی علامت طلب کی وہ کافر ہو گیا اس لئے کہ حضور فرما چکے ہیں کہ ’’لا نبی بعدی“ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ یہ واقعہ ’’مناقب الامام “ اور ’’ الفتوحات المکیہ “ دونوں میں مذکور ہے۔ ’’ہدیۃ المہد یین“ میں فرمایا ہے کہ حضور ﷺ پر جو ایمان واجب ہے اس کی صورت یہ ہے کہ ہم آپ کو فی الحال اپنا رسول بھی مانیں اور آخری ر آخری نبی نبی اور اور آخر آخری رسول بھی تشہ تسلیم کریں ۔ پس اگر کسی نے آپ کو رسول مان لیا لیکن یہ نہیں تسلیم کیا کہ آپ آخری رسول ہیں، قیامت تک جس کا دین منسوخ نہ ہوگا ، تو وہ مومن نہیں ۔ اور ’’ الاشباہ “ میں ’’ کتاب السیر “ میں فرمایا کہ جس نے حضور ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ، اس لئے کہ آپ کو آخری نبی ماننا ضروریات دین میں سے ہے ۔ 2
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَ لَكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِينَ
محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے ۔
اب سوال یہ ہے کہ خاتم النبیین کا معنی کیا ہے، خاتم میں تاؤ کے نیچے زیر بھی آتا ہے اور زبر بھی ۔ اس طرح زیر اور زبر کے فرق سے عربی میں یہ دو لفظ ہیں لیکن باوجود دو لفظ ہونے کے معنی دونوں کا ایک ہے۔ اور قادیانی اہل اسلام کو خاتم کے معنی میں دھوکہ دیتے ہیں،
چنانچہ پیر محمد کرم شاہ از ہری فرماتے ہیں:
لفظ خاتم کے معنی کرتے وقت ان کی طرف سے جو دھو کہ کیا جاتا ہے وہ آپ غور سے سنیں تا کہ اگر کوئی آپ کے سامنے شک و شبہ پیدا کرنے کی کوشش کرے تو آپ کے پاس ایسا ہتھیار ہو جس سے آپ اس کے شکوک و شبہات کو دور کر سکیں اور اپنے ایمان کی شمع کو ان طوفانوں کی زد سے بچا سکیں۔
لوگوں کے ذہنوں میں شبہ پیدا کرنے کے لئے وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی یہ مانتے ہیں کہ حضور خاتم النبین ہیں لیکن قرآن میں ”خاتِم“ کا لفظ نہیں بلکہ” خاتَم“ کا لفظ ہے، اگر خاتم ہوتا تو ہم بھی مانتے کہ آپ اس سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں لیکن ” خاتم“ کہتے ہیں ” مہر “ کو اور ہم تو حضور ﷺ کی شان کو بلند کرتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی اتنی شان ہے کہ جس پر وہ ٹھپہ لگا دیں وہ نبی بن جاتا ہے، تم کہتے ہو کہ حضور کی آمد سے نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا تم نے حضور ﷺ کی شان بلند کی یا ہم نے ؟ یہ اعتراض ہے جو ان کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ ” خاتَم “ کہتے ہیں مہر کو، کہ حضور ہے جس پر مہر لگا دیں وہ نبی بن گیا، تو ہمارے مرزا صاحب پر بھی حضور ﷺنے مہر لگا دی ، اس لئے وہ بھی حضور کے صدقہ سے نبی بن گئے ۔3
پہلی بات یہ ہے کہ ” خاتم“ اور خاتم کا یہ من گھڑت فرق جو انہوں نے انگریز کے اشارے پر کیا ہے، کیا لغت عرب میں بھی اس کا کوئی وجود ہے؟ دو تین کتابوں کے حوالے پیش کرتا ہوں ، ورنہ پچاسوں کتا بیں ہیں جو اس معنی کی تائید میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ ایک علامہ جو ہری ہیں جو لغت عرب کے امام ہیں ان کی کتاب ہے الصحاح ، جن کی ولادت 332 ھ میں ہوئی ، اور وفات 398ھ کے قریب ہوئی ، یعنی چوتھی صدی کے آدمی ہیں ، مرزا صاحب کے آنے سے صدیوں پہلے آئے اور اپنا کام کر کے اللہ کو پیارے ہو گئے ۔
دوسرے صاحب لسان العرب علامہ ابن منظور ہیں، وہ ساتویں صدی کے بہترین عالم گزرے ہیں انہوں نے اپنی کتاب میں یہ تشریح کی ہے :
والختم، الخاتم، الخاتَمُ ، وَ الخَيْتَامُ كُلَّها بمعنى واحد و معناها اخيرها 4
ان تمام کا معنی ایک ہی ہے اور وہ کیا ہے کسی چیز کا اخیر ختم کرنے والا ۔
کہتے ہیں :
خــام الــوادى، خـاتـم الوادي، خاتم الوادي، أخير الوادي 5
وادی کا آخری کنارہ ، جہاں وادی ختم ہو جاتی ہے، اسے ان الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
اور لکھتے ہیں:
ختَمامُ القوم و خَاتِمُهُمْ وَ خَاتَمُهُمْ آخرهم 6
ختمام القوم اور خاتم القوم اور خاتم القوم سب کا معنی ہے آخر القوم
و الخاتم والخاتم من أسماء النبي ، معناه: آخر الأنبياء، وقال الله تعالى: وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ 7
( تاء کے زیر سے ) خاتم اور ( تاء کے زبر سے ) خاتم دونوں نبی ﷺ کے اسماء ہیں ان دونوں کا معنی ہے آخر الانبیاء اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ
معلوم ہوا ”خاتِم“ ہو یا ” خاتَم“ ان کا معنی ایک ہی ہے، کسی چیز کا آخری کنارہ کسی چیز کی انتہاء، جہاں پر جب کوئی چیز ختم ہو جاتی ہے اس کو عربی میں خاتم بھی کہتے ہیں، خاتم بھی کہتے ہیں ، تمام اور ختم بھی کہا جاتا ہے، کہ تمام کے تمام الفاظ ہم معنی ہیں ، مترادف ہیں ۔
یہ معنی آج کے علماء نے نہیں لکھا کہ مرزا صاحب کے تعصب میں مولویوں نے اپنی کتابوں میں بڑھا دیا ہو بلکہ یہ معنی ان علماء نے لکھا ہے جو مرزا صاحب کے آنے سے ہزاروں سال پہلے گزر چکے ہیں اور جن کی کتابیں لغت عرب میں سند کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کی زبان میں قرآن نازل ہوا، ان علماء کی تحقیق ہے کہ ” خاتِم“ ہو یا ” خاتَم “ ہو، ان کا معنی ایک ہی ہے: آخیر الشئی اور پھر اس کی مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : خاتم النبیین ”آخرالنبیین “ ، سب نبیوں میں آخر میں آنے والا ۔
اس تحقیق کے بعد بات واضح ہوگئی کہ ” خاتم “کا معنی آخری ہی ہے، اس کے بعد یہ محض دھوکہ فریب اور دجل و تلیس ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ ” خاتِم“ کا معنی اور ہے اور خاتَم کا معنی اور ہمارے نزدیک علماء حق اور آئمہ لغت کی تحقیق کے مطابق ” خاتِم “ہو یا ”خاتَم“، اللہ کے محبوب کے بعد اب کوئی اور نبی نہیں آسکتا ۔8
اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ قرآن کریم کو جس طرح اللہ تعالی کے محبوب (ﷺ) نے سمجھا ، اس طرح کوئی اور سمجھ سکتا ہے؟ (نہیں) قرآن حکیم کی آیات و کلمات کا جو مفہوم سرکار دو عالم ﷺ نے سمجھا ہے وہ سچا ہے یا چودھویں صدی کا کوئی آدمی جو مفہوم بیان کرے وہ ۔ سچا وہی مفہوم ہے جو مصطفی کریم ( علیہ الصلوۃ والسلام ) نے بیان کیا کیونکہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ9
اور اے محبوب! ہم نے تمہاری طرف یہ یاد گار اُتاری کہ لوگوں سے بیان کر دو۔
اے محبوب! اس کتاب کو ہم نے تیرے قلب منور پر نازل فرمایا، کیوں؟’’ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ “ تاکہ آپ بیان فرمائیں جو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے۔ اس کا مطلب ، مفہوم اور مد عا لوگوں کو بتائیں ، اس کے بیان کرنے کا فرض ہم نے آپ کے ذمہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ کو قرآن سکھایا ، اس کا مفہوم بتایا اور پھر منصب تفسیر پر اللہ تعالیٰ نے خود اپنے مصطفیٰ کو متعین فرمایا کہ اس کا بیان کرنا اے مصطفیٰ تیرا کام ہے، اگر حضور ﷺ نے خاتم کا معنی یہ کیا ہے کہ مہر لگانے والا توآمَنَّا وصَدَّقْنَا ایک جوہری نہیں، ایک علامہ ابن منظور نہیں ، لاکھوں جو ہری جیسے عالم بھی ہو جائیں ، ہم ان کو قول مصطفیٰ( علیہ التحیة و الثناء) پر قربان کر دیں گے، اگر مصطفیٰ ( علیہ الصلوٰۃ والسلام ) یہ کہیں کہ ” خاتم النبین“ کا معنی ” آخر النبیین “ نہیں ہے بلکہ مہر لگانے والا ہے۔ تو جو بات میرا محبوب کہے وہ بچی ہو گی ، دنیا بھر کے عالم بھی اگر ایک بات پر اکٹھے ہو جائیں اور وہ قول مصطفیٰ ( علیہ التحیة و الثناء) کے خلاف ہو تو ہم ان کو پر کاہ کی بھی وقعت نہیں دیں گے۔
لیکن اگر علماء لغت بھی یہ کہیں اور جس پر قرآن نازل ہوا جس کو قرآن نازل کرنے والے نے قرآن سمجھایا وہ بھی یہ کہے کہ ”خاتم النبین “ کا معنی ہے ” آخیر النبیین “ تو پھر ہم مصطفی ( علیہ الصلوٰۃ والسلام ) کی بات مانیں یا ان کھپروں کی بات مانیں ، اگر ہم مصطفیٰ( علیہ الصلوٰۃ والسلام ) کی بات چھوڑ کر کسی اور کی بات مانیں گے تو پھر ہم خدا کا انکار کر رہے ہیں ، خدا کے کلام کا انکار کر رہے ہیں اور جو قرآن کی کسی آیت یا مصطفیٰ( علیہ الصلوٰۃ والسلام ) کی کسی حدیث کا انکار کرتا ہے اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔
لغت عرب اور تشریح مصطفی (ﷺ) کے مطابق ”خاتَم“ اور ” خاتِم“ کے معنی میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کا معنی ہے آخری ۔ اور جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کو تعلیم کتاب کی ذمہ داری سونپی گئی:
يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيهِمْ10
ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فرمادے۔
اس آیت میں تین مقصد بیان کئے گئے ہیں، نبی کی بعثت کے ۔ ایک تو قرآن کی آیات کی تلاوت یعنی وہ اپنی طرف سے آیتیں گھڑ کر پیش نہیں کرتا اور اپنی طرف سے قصیدے، غزلیں اور شعر لکھ کر نہ اپنا وقت ضائع ضائع کرتا کرتا ہے ہے اور نہ میرے بندوں کا وقت ضائع ض کرتا ہے بلکہ وہ کیا کرتا ہے : يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ، آیتیں تیری ہوتی ہیں ، کلام تیرا ہوتا ہے، زبان تیرے محبوب محمد مصطفی (ﷺ) کی ہوتی ہے، صرف آیت پڑھ کر سنا دینے سے کیا منصب کی ذمہ داری ختم ہوگئی، فرمایا نہیں صرف پڑھ کر ہی نہیں سناتا بلکہ ’’ يُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ “ اس کتاب کے جو معنی ہیں ، اس میں جو راز اور اسرار ہیں ، قرآن کریم کے جو حقائق و معارف ہیں ان کی بھی نقاب کشائی کر کے اپنے امتیوں کو اور اپنے غلاموں کو آگاہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس منصب پر کسی زید بکر کو متعین نہیں کیا ، قرآن کریم کی تشریح وتفسیر کرنے کا ، قرآنی الفاظ کا معنی و مفہوم متعین کرنے کا اگر کسی کو حق دیا ہے تو وہ کون؟ وہ ذات پاک محمد مصطفیٰ (ﷺ) ہے ، تو پھر اگر حضور بھی ” خاتم النبیین“ کا معنی یہ فرمائیں کہ اس کا معنی ” آخیر النبی“ ہے تو پھر ہم حضور ﷺ کی بات مانیں یا ان کی بات مانیں ۔ دنیا بھر کے مولوی ، دنیا بھر کے عالم ، دنیا بھر کے لغت کے امام بھی اگر ایک طرف ہوں اور سرکار کا ارشاد ایک طرف ہو جائے ہم ان سب کو نظر آتش کر دیں گے اور اس بات کو اپنے لئے باعث ہدایت سمجھیں گے جو سرکار کی زبان حق ترجمان سے صادر ہوئی ہوگی ۔
جب علماء کرام کا بھی یہی قول ہے اور علماء لغت کا بھی اور جس پر قرآن نازل ہوا، اس نے بھی اپنے امتیوں کو اس آیت کا یہی معنی سمجھایا ہو تو پھر اور کون ہے جو ہمیں یہ کہے کہ اس آیت کے یہ معنی نہیں ، جو ایسا کہے گا ہم اسے کہیں گے تم جھوٹ کہتے ہو ، ہم وہی بات ما نہیں گے جو مصطفی کریم ﷺ نے فرمائی اور جو لغت کے آئمہ کرام نے سمجھائی ۔11
صحیح احادیث کہ جن کی صحت میں کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں ، اُن میں حضور سرور کا ئنات ﷺ نے” خاتم النبین “ کی تفسیر فرمائی ہے اور اس معنی کی احادیث ایک دو نہیں بلکہ بے شمار ہیں ، ان میں سے صرف چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں :
1 امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256ھ نے اپنی ”صحیح“ کے کتاب المناقب باب خاتم النبین میں روایت کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ:
إِنَّ مَثَلِى وَ مَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا، فَأَحْسَنَهُ وَ أَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَ يَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ : هَلَّا وُضِعَتُ هَذِهِ اللَّبِنَةُ؟ قَالَ : فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ 11
میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء گزرے ہیں اُن کی مثال یہ ہے کہ کسی نے بڑا بہترین خوبصورت محل تعمیر کیا ہو سوائے ایک اینٹ کے (یعنی اس میں دروازے کھڑکیاں غرض یہ کہ ہر طرح سے اس کی تکمیل کی گئی ہو مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی ہو ) لوگ اس کے ارد گرد گھوم کر اُسے دیکھتے ہوں اس کو دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ( کہ کتنا خوبصورت مکان ہے دیکھتے دیکھتے انہیں ایک اینٹ کی خالی جگہ نظر آئے تو اُسے دیکھ کر ) کہتے ہوں کہ کاش اس جگہ اینٹ رکھ دی جاتی ( پھر حضور نے فرمایا ) پس نبوت کے محل کی وہ اینٹ میں ہوں ( کہ میرے آنے سے اس محل میں جو خلا تھا وہ پر ہو گیا اور میرے آنے سے وہ محل مکمل ہو گیا ) اور میں ” خاتم النبین “ہوں ۔
اس کے تحت پیر صاحب فرماتے ہیں : اب آپ بتائیے کہ جب ایک مکان مکمل ہو جاتا ہے تو کیا اس میں کوئی بڑے سے بڑا ماہر انجینئر کوئی نئی اینٹ داخل کر سکتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں الا یہ کہ پہلے اس میں سے کوئی اینٹ نکالے، جگہ خالی کرے اور پھر نئی اینٹ وہاں رکھی جائے۔
تو جب حضور ﷺ کی آمد سے نبوت کا محل مکمل ہو گیا اب مرزا صاحب کی اینٹ تب ہی داخل ہو سکتی ہے جب پہلے انبیاء میں سے کسی اینٹ کو نکال کر جگہ خالی کی جائے تو کیا اس مرزا قادیانی کے لئے ہم ابراہیم علیہ السلام کی اینٹ نکالیں گے، اسحاق علیہ السلام کی اینٹ نکالیں گے ، نوح علیہ السلام ، موسیٰ علیہ السلام ، کسی نبی کی اینٹ نکال کر اس کی جگہ بنائیں گے تو اس محل میں نہ اور کسی کی جگہ ہے اور نہ کوئی اینٹ وہاں لگائی جاسکتی ہے ، مرزا صاحب ہزار سرخاب کے پر لگا کے آئیں ان کی اس میں کوئی گنجائش نہیں ، جلیل القدر انبیاء کی اینٹوں سے نبوت کا محل مکمل ہو گیا ، وہ جلیل القدر انبیاء جن کے نام لینے سے آج بھی وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کیا ان کی اینٹوں کو نکال کر اس کی اینٹ وہاں لگا کر محل کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کریں؟ یہ نہیں ہو سکتا۔
مصطفی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ أَنَا ذَالِكَ اللبنة‘ “میرے آنے سے نبوت کا حل مکمل ہو گیا ، ’’ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّين “ اور میرے آنے سے نبوت کا دروازہ بند ہو گیا، تو خاتم النبیین کے معنی کیا ہیں ؟ آخر النبین جس کے بعد نبوت کا دروازہ بند کر دیا گیا، قربان جائے انسان اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ پر کہ ایسا سبق سکھاتے ہیں، حقیقت کو ایسا دل میں جماتے ہیں کہ شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہتی ۔ 13
-2 امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261ھ اور امام احمد بن حنبل متوفی 241ھ روایت کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ:
فَضَّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِبِّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعُ الْكَلِمِ، وَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَ أُحِلَّتُ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَ جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَ طَهُورًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَةٍ، وَ خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ14
اللہ تعالیٰ نے چھ چیزوں کے ساتھ انبیاء علیہم السلام پر مجھے فضیلت دی: (1) مجھے جوامع الکلم کے ساتھ سرفراز کیا گیا ، (۲) رُعب سے فادیا بیوں کا میری مدد کی گئی ، (۳) میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنایا گیا ، اور پاک کرنے والی بنایا گیا، (۴) میرے لئے لیموں کو حلال فرمایا گیا ، (۵) مجھے ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ، (۶) اور مجھے بھیج کر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے بھیجنے کا سلسلہ ختم فرما دیا۔
اس حدیث شریف کو پڑھنے کے بعد بتائیے کہ خاتم جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ نے بیان فرمایا، یا وہ مفہوم جو انگریز کے ایجنٹوں نے تجویز کیا ہے ، یقیناً وہی مفہوم مراد لیں گے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اس کے محبوب پیارے نین کا وہ مفہوم مراد لیا مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے ہمیں سمجھایا ہے۔
3-امام ابو عیسی محمد بن عیسی ترمذی متوفی 279ھ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺنے ارشاد فرمایا:
لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ 15
میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے ۔
یعنی اگر میرے بعد سلسلۂ نبوت جاری رہتا اور کسی نے نبی بن کر آنا ہوتا کسی کو یہ مقام عطا کیا جاتا تو عمر بن خطاب کو عطا کیا جاتا ، وہ عمر جس کے آنے سے ، جن کے مسلمان مل ہونے سے، جن کے کلمہ پڑھنے سے، اہل اسلام کی قسمت بدل گئی ، کفر کا غرور خاک میں لا گیا کہ علی الاعلان صدائے حق بلند کرنا مسلمانوں پر دشوار تھا ، اب اعلانیہ صدائے دلنواز بلند کی جانے لگی۔
تو جب عمرجیسی عظیم شخصیت کو نبوت کا مقام نہیں مل سکا تو یہ ھیٹی کے بیٹے کو کہے لا سکتا ہے، جب عمر جیسے شخص کے لئے یہ مقام نہیں تو پھر اور کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ نبوت ؟
دعوی کرتا پھرے، یہ کوئی مذاق ہے کہ جس کا جی چاہے اس مقام پر آکر بیٹھ جائے ۔ 16
-4 امام ابوداؤ د سلیمان بن اشعث متوفی 275ھ نے اپنی سنن کے کتاب الفتن میں حدیث شریف روایت کی :
عن ثوبان فقال : قال رَسُولُ الله .. وَ إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَ أَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي 17
حضرت ثوبانسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اُمت میں تمیں جھوٹے دجال ہوں گے اُن میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
یعنی ان جھوٹوں میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے اس پر وحی نازل ہوتی الله ہے اسے شریعت دی گئی ہے، آپ نے فرمایا کہ اے میرے غلامو ! غور سے سُن لو میں خاتم النبین ہوں میرے ! میرے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ تو خاتم النبیین کا معنی رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا کہ لا نَبِيَّ بَعْدِی میرے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔
پیر کرم شاہ صاحب اس کے تحت فرماتے ہیں: جب حضور اللہ فرمائیں میرے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو پھر کسی کا کیا مجال ہے کہ وہ نبی ہونے کا دعویٰ کرے یا کسی کے لئے نبوت کا راستہ ہموار کرے، حضور ﷺ نے فرمایا : كَذَّابُونَ ثَلاثُون وہ سب جھوٹے ہوں گے، بکو اس کریں گے، خاتم النبین کا معنی خود حضور اللہ نے کر دیا: لا نبی بعدی تو ہم صرف حضور ﷺ کی بات مانیں گے ہم کسی اور کی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں ۔ ہمارا ایمان ہے حضور ﷺ آخری نبی ہیں ، حضور ا کے بعد جو بھی نبوت کا دیا ہوں دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہے ۔ 18
اور پیر مہر علی شاہ
لکھتے ہیں: قادیانی اور اس کے تابعین کے بارے میں عمر
نے بھی پیشن گوئی فرمائی ہے جو تر جمان غیب تھے:
عن ابن عباس قال: خطبنا عمر ، فقال : يا أيها الناس سيكون قوم من هذه الأمة يكذبون بالرجم و يكذبون بالدجال، و يكذبون بطلوع الشمس من مغربها الخ
کہا ابن عباسنے عمر
اپنے خطبہ میں پیشن گوئی فرمائی کہ اے لوگو اس اُمت میں سے ایک قوم پیدا ہونے والی ہے جو رجم کی تکذیب کرے گی اور دجال معہود کا انکار کرے گی اور مغرب کی طرف سے آفتاب کے طلوع ہونے کو باطل کے گی الخ 19
حضور پر نور نور علی نور محمد مصطفی ﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والے کے متعلق مرزا قادیانی خود فتوی دیتے ہیں کہ میں نبوت کا مدعی نہیں ہوں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔ 20
اس کے تحت مولا نا محمد ضیاء اللہ قادری اشرفی نے لکھا کہ :
پس مرزا قادیانی اپنی عبارات ، تحریرات اور فتاوی سے دائرہ اسلام سے خارج ، کافر ، شرارتی، گستاخ اور بیباک ثابت ہوا، ہم اہلسنت و جماعت بریلوی کا بھی یہی کفر کا فتویٰ ہے اس لئے لاہوری اور قادیانی مرزائیوں کو ہلسنت و جماعت سے نالاں اور ناراض نہیں ہونا چاہے کہ وہ ان کو کا فرو غیر مسلم قرار دیتے ہیں۔ بلکہ مرزائیوں کو ان کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ وہ ان کو غور دیگر کی دعوت دیتے ہوئے ایسے کافر، شرارتی، گستاخ اور بیباک کی عقیدت سے باز رکھنے ہیں ، اور مسلک حق اہلسنت و جماعت میں داخل ہونے کی تلقین کرتے ہیں۔
پھر اہل اسلام کا اس گروہ کے ساتھ یہ سلوک کہ انہیں کا فرو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا ، مرتد سمجھنا امتیازی نہیں بلکہ بعثت نبوی ﷺ سے لے کر آج تک جس کسی نے بھی جھوٹی نبوت کا دعوی کیا ، اہل اسلام نے اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کہ علماء کرام نے انہیں کافر مرتد قرار دیا اور رجوع نہ کرنے کی صورت میں اکثر کے خلاف حکام وقت نے جنگ کی اور انہیں جہنم رسید کیا چنانچہ ان میں سے چند مشہور جھوٹے مدعیان نبوت کے نام بمعہ مختصر تعارف مندرجہ ذیل ہیں :
یہ شخص عہد نبوی میں” یمامہ“ سے ظاہر ہوا، حضور حضور ﷺ علی کی بارگاہ میں آیا ، آدھی نبوت میں شرکت یا جانشینی کا طالب ہوا ، خائب و خاسر واپس گیا اور نبوت کا دعوی کیا اور چالیس ہزار افراد کو جمع کر لیا اور سید نا ابو بکر صدیق
کے دور خلافت میں حضرت خالد بن ولید
کی سربراہی میں لشکر کشی کا حکم ہوا اور آپ نے اسے واصل بہ جہنم کیا، اور اس جنگ میں مسیلمہ کا لشکر چالیس ہزار افراد پر مشتمل تھا جب کہ اہل اسلام کے لشکر میں تقریبا تیرہ ہزار مجاہد شامل تھے ، جن میں بدری صحابہ بھی تھے اور دیگر جلیل القدر صحابہ بھی، اور حق و باطل کی اس جنگ میں مسیلمہ کے چالیس ہزار سپاہیوں میں سے تقریبا اکیس ہزار جہنم رسید ہوئے جب کہ مسلمانوں کے صرف چھ سو ساٹھ افراد شہادت کے انعام سے سرفراز ہوئے جن میں حضرت عمر بن خطاب
کے بھائی حضرت زید بن خطاب
اور حضرت ثابت بن قیس
بھی شامل تھے۔
اے مسلمانو! کیا اب بھی جھوٹے مدعی نبوت اور اس کی جھوٹی نبوت کو ماننے والوں کے کفر وارتداد میں کوئی تردد یا شک باقی رہ سکتا ہے، ہرگز نہیں، کیونکہ خلفاء راشدین اور جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بالاتفاق ان مرتدین کے اسلام کی جانب رجوع نہ کرنے کی صورت میں ان سے جہاد کو لازم و فرض جانا اور بالفعل جہاد بھی کیا ، کاش ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں بھی اسلام کا درد ہوتا تو آج ہمارے وطن عزیز میں ان مرتدوں کا نام ونشان بھی باقی نہ رہتا۔ کیونکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب سے معاملہ نے ہمیں بتا دیا کہ صرف ان کو کافر قرار دینا کافی نہیں بلکہ اسلامی حکومت پر لازم ہے کہ ان کو اسلام کی جانب بلائے نہ آنے پر ان سے قتال کرے۔
مسیلمہ کذاب کے دور میں ہی سجاح نامی خاتون نے نبوت کا دعوی کیا ، اس کے دعوے سے مسیلمہ کی شہرت ماند پڑی ، ادھر حضرت ابو بکر صدیق
نے حضرت خالد بن ولید
کی سربراہی میں لشکر اسلام سجاح کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا لشکر آگے بڑھا تو معلوم ہوا کہ اسلام کے دو مشتر کہ دشمنوں سے تصادم ہونے والا ہے تو حضرت خالد
وہیں رک گئے ، اور مسیلمہ بڑا عیار شخص تھا وہ سجاح اور اس کی طاقت سے با خبر تھا اس نے سجاح کو زیر کرنے کے لئے دوسرا طریقہ اختیار کیا بالآخر دونوں نے آپس میں نکاح کر لیا ، اس واقعے سے اس کے لشکر کے کافی لوگ بد دل ہو گئے اور اس کا ساتھ چھوڑ نے لگے سجاح بھی سمجھ گئی کہ اس کا جھوٹ زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے، تو اس نے خموشی کی زندگی بسر کرنے میں ہی اپنی عافیت جانی، لہذا وہ قبیلہ بنو تعلب میں آگئی اور حضرت امیر معاویہ
کے زمانے میں قحط سالی کے سبب اپنے قبیلے کے ساتھ بصرہ آگئی اور سب کے ساتھ اس نے بھی اسلام قبول کیا اور پر ہیز گاری زندگی گزارنے لگی ، بصرہ میں ہی ان کا انتقال ہوا اور صحابی رسول حضرت سمرہ بن جندب
نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
صنعاء یمن کا رہنے والا یہ شخص بہت بڑا شعبدہ باز تھا ، دعوی نبوت کیا بالآخران فیروز دیلمی کے ہاتھوں اپنے گھر میں موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔
نبی ﷺ نے یمن کے بعض سرداروں اور اہلِ نجران کو اسود کے خلاف جہاد کے لئے لکھا چنانچہ یہ لوگ آپس میں مشورہ کر کے اسود کے خلاف متحد ہو گئے تھے اور فیروز دیلمی نے جس رات اس جھوٹے مدعی نبوت کو قتل کیا ، نبی ﷺ نے علی الصبح صحابہ کرام سے فرمایا کہ آج رات اسود مارا گیا۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی یہ جھوٹے مدعی نبوت کو اسلام سے خارج شمار فرماتے اور آپ کا سرداروں کو جھوٹے مدعی نبوت کے خلاف جہاد کا حکم فرمانا، ہمارے حکمران طبقے کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتا ہے کہ تم جس نبی کا کلمہ پڑھتے ہو اس نبی کا حکم یہ ہے کہ اگر حکومت تمہارے ہاتھ میں ہے تو تم پر فرض ہے کہ ہر جھوٹے نبی کا نام ونشان مٹا دو۔
شخص بنو اسد کی طرف منسوب ہے جو خیبر کے آس پاس آباد تھا یہ بھی نبی اے کے ظاہری زمانہ مبارکہ میں مرتد ہوا اور نبوت کا دعوی کر کے خلق کو گمراہ کرنے میں مشغول ہوا ، اس نے ہادی اعظم سرور دو عالم کو بھی اپنی خود ساختہ نبوت پر ایمان لانے کی دعوت اپنے بھائی خیال کے ہاتھ بھیجی۔ اور حضور ﷺ نے حضرت ضرار بن از ور
کو ان سردارانِ قبائل کو طرف تحریک جہاد کے لئے روانہ فرمایا، جو طلیحہ کے آس پاس رہتے تھے ، ان سب نے آپ کے ارشاد پر لبیک کہا اور حضرت ضرار کی سربراہی میں ایک بڑی جماعت کو جہاد کے لئے روانہ کر دیا اور اس لشکر نے طلیحہ کی فوج کے ساتھ جنگ کی اور بڑی بے جگری سے لڑے، اس طرح طلیحہ کی فوج فرار ہوئی ۔
اور پھر حضور اللہ کے وصال با کمال کے بعد مانعین زکوۃ بھی اس سے مل گئے ، تو حضرت ابو بکر صدیق
نے ان پر دوسری بار فاتحانہ لشکر کشی فرمائی اور طلیحہ حضرت خالد بن ولید
کے مقابلے میں آیا اور شکست کو یقینی دیکھ کر شام کی طرف فرار ہوا پھر کچھ عرصہ بعد اللہ تعالی نے اسے تو بہ کی توفیق بخشی اور وہ مشرف بہ اسلام ہو گیا اور حضرت عمر
کے دور خلافت میں شام سے حج کے لئے آیا اور حضرت عمر
کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسلام کے لئے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیئے ، خصوصا جنگ قادسیہ میں طلیحہ نے بڑی بہادری اور جوانمردی کے ساتھ لشکر اسلام کا دفاع کیا۔
اس نے استدراج اور شعبدوں سے شہرت حاصل کی جب لوگ زیادہ گمراہ ہونے لگے تو اس نے نبوت کا دعوی کر دیا ، اس کی خبر خلیفہ عبد الملک بن مروان کو ہوئی ، گرفتاری کا حکم دیا تو سپاہیوں کے پہنچنے سے قبل فرار ہو گیا اور بیت المقدس جا کر لوگوں کو گمراہ کرنے لگا اور وہیں سے گرفتار ہوا اور خلیفہ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور خلیفہ نے اس جھوٹے مدعی نبوت کو قتل کروادیا۔
یہ جلیل القدر صحابی حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی
کا نا خلف بیٹا تھا، گو کہ یہ اہل علم میں سے تھا مگر اس کا ظاہر اس کے باطن کے خلاف اور اس کے افعال و اعمال تقوی سے عاری تھے۔ ابتداء خارجی مذہب رکھتا تھا اور اسے اہل بیت نبوت سے عنا د تھا اور شہادت امام حسین
کے بعد حصول اقتدار کے لئے ایک منصوبے کے تحت اس نے اہل بیت کی محبت کا دم بھرنا شروع کر دیا کہ میرا مقصد قاتلان حسین سے انتقام لینا ہے، تھوڑے ہی عرصے میں اس کی تحریک کو اتنا فروغ ملا کہ اس کے گرد بڑا لشکر جمع ہو گیا اور اس نے سوائے حجاز مقدس اور بصرہ کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا جو حضرت عبداللہ بن الزبیر
کے زیرنگیں تھے۔
پھر جس زمانے میں اس نے قاتلین امام حسین
کو برباد کرنے اور ان کے قتل کا بازار گرم کیا تو لوگوں میں یہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا اور اسی دوران پیروانِ ابن سباد غیر ہم سمٹ کر اس کے پاس آنے لگے، بات بات پر اس کی مدح کرنا اور اس کی چاپلوسی کرنا ان کا وطیرہ تھا اور اس کے اندر بھی انانیت اور خود پسندی بڑھتی چلی گئی، یہاں تک کہ اس نے نبوت کا دعوی کر دیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے تمام خطوط و مکاتیب میں اپنے نام کے آگے رسول اللہ بھی لکھنا شروع کر دیا ، حضرت مصعب بن الزبیر سے حروراء کے مقام پر جنگ ہوئی اور کافی نقصان برداشت کرنے کے بعد بالآخر حضرت مصعب کو فتححاصل ہوئی اور مختار بھاگ کر قصر امارت میں محصور ہو گیا اور اس کا لشکر بھی میں ہزار میں سے آٹھ ہزار رہ گیا تھا وہ بھی قصر امارت میں اس کے ساتھ محصور تھا اور حضرت مصعب کا یہ محاصرہ چار ماہ جاری رہا ، جب محاصرے کی سختی نا قابل برداشت ہوئی تو اس نے لشکر کو باہر نکل کر لڑنے کی ترغیب دی مگر اٹھارہ آدمیوں کے سوا کوئی باہر نکلنے کے لئے تیار نہ ہوا، بالآخر مختار نار ان اٹھارہ افراد کے ساتھ قصر امارت سے باہر نکل کر حضرت مصعب کے لشکر پر حملہ آور ہوا اور 14 رمضان 67ھ کو اپنے اٹھارہ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوا۔
یہ شخص والی کوفہ خالد بن عبداللہ کا آزاد کردہ غلام تھا جس نے حضرت امام جعفر صادق
کے وصال سے قبل امامت اور پھر نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کو جادو اور سحر میں کامل دستگاہ حاصل تھی جس سے کام لے کر اس نے لوگوں پر اپنی بزرگی اور عقیدت کا سکہ جمایا تھا ، جب خالد بن عبداللہ خلیفہ ہشام بن عبد الملک کی طرف سے عراق کا حاکم تھا تو اسے معلوم ہوا کہ مغیرہ اپنے آپ کو نبی کہتا ہے اور اس نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے تو اس نے اس کی گرفتاری کا حکم دیا اور یہ اپنے چھ حواریوں کے ساتھ گرفتار ہوا اور اس سے دعوی نبوت کی تصدیق حاصل کرنے کے بعد اُسے سرکنڈے کے ایک گٹھے کے ساتھ باندھ کر زندہ جلا دیا ۔ ((حاشیہ )اگر چہ شرعا سزا کے طور پر کسی شخص کو زندہ جلانا ممنوع ہے۔ مؤلف )
یہ شخص نبوت کا دعویدار تھا اور اہل ہنود کی طرح تنائخ اور حلول کا قائل تھا، خالد بن عبد اللہ حاکم کوفہ نے مغیرہ بن سعید کے ساتھ اسے بھی گرفتار کر کے دربار میں بلایا تھا، جب مغیرہ ہلاک ہو گیا تو خالد نے اسے کہا کہ تیرا دعوی ہے کہ تو اسم اعظم جانتا ہے اس کے ذریعے فوجوں کو شکست دے سکتا ہے لہذا تو اب یہ کر کہ مجھے اور میرے عملے کو جو تیری ہلاکت کے درپے ہیں ہلاک کر مگر وہ جھوٹا تھا اس لئے نہ کچھ بولا اور نہ ہی کچھ کر سکا تو خالد نے اسے بھی زندہ جلا دیا ۔ ((حاشیہ )اگر چہ شرعا سزا کے طور پر کسی شخص کو زندہ جلا ناممنوع ہے۔ مؤلف )
یہ شخص اصل میں یہودی تھا، اندلس میں نشو و نما پائی وہاں سے مغرب اقصی کے بر بری قبائل میں جو بالکل جاہل اور وحشی تھے بود باش اختیار کی اور انہیں شعبد بے دکھا کر اپنا مطیع کر لیا اور ان پر حکومت کرنے لگا۔
ہشام بن عبد الملک جب خلافت پر متمکن ہوا تو صالح نے نبوت کا دعویٰ کیا اور شمالی افریقہ میں اس کی حکومت مستحکم ہوئی، یہ شخص سینتالیس سال تک نبوت کے جھوٹے دعوے کے ساتھ اپنی قوم کے سفید و سیاہ کا مالک رہا ، 174 ھ میں تخت و تاراج سے دستبردار ہو کر گوشہ نشین ہو گیا ، اور اس کے تمام جانشین پانچویں صدی ہجری کے وسط تک تخت و تاج اور اس کی گمراہی اور خانہ ساز نبوت کے وارث رہے۔
اس نے ہرات، بحستان کے علاقوں میں اپنی نبوت کا دعوی کیا اور لوگ اس کثرت سے اس کے متعقد ہوئے کہ تھوڑے ہی عرصے میں تین لاکھ آدمیوں کی ایک جماعت بن گئی، خلیفہ منصور نے اس کی سرکوبی کے لئے ایک لشکر روانہ کیا جسے اس نے شکست دے دی، پھر خلیفہ نے ایک تجربہ کارسپہ سالار کی سربراہی میں چالیس ہزار کی فوج اس پر لشکرکشی کے لئے روانہ کی جس میں جھوٹے مدعی نبوت استاد سیس خراسانی کو شکست فاش ہوئی اور اس کے سترہ ہزار آدمی مارے گئے ، چودہ ہزار قید ہو گئے اور سیس باقی تمیں ہزار فوج لے کر پہاڑوں میں جا چھپا ، سپہ سالار نے اس کا محاصرہ کر لیا اور محاصرے سے تنگ آکر اپنے آپ کو سپہ سالار کے سپر دکیا ،اب یہ معلوم نہیں کہ اسے قتل کر دیا گیا یا نہیں ، غالب یہی ہے کہ خلیفہ ابوجعفر منصور نے اس کے ساتھ بھی دیگر جھوٹے مدعیان نبوت کا سا معاملہ کیا ہوگا یعنی اس کو قتل کروادیا ہوگا۔
شخص شمالی افریقہ کا رہنے والا تھا، اس نے اپنی جھوٹی نبوت کی دوکان چمکانے سے قبل کتبہائے آسمانی کے علوم حاصل کئے اور مختلف زبانیں سیکھیں، شعبدہ بازیوں میں مہارت حاصل کی اور خلق خدا کو گمراہ کرنے کے لئے اصفہان آکر ایک مدرسہ قائم کیا ، دس سال تک ایک تنگ و تاریک حجرے میں خلوت نشین رہا اور دس سال کے عرصے تک گوئی ہونا ظاہر کرتا رہا ، دس سال کے بعد گویا ہوا اور مشہور کیا کہ خدا نے گویائی کے ساتھ نبوت بھی عطا کی ہے اور بے شمار لوگ اس کے دام فریب میں پھنس گئے
اس طرح اس نے اچھی خاصی قوت حاصل کر لی اور اس نے اپنے عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد لے کر بصرہ، عمان اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں دھاوا بول دیا۔
خلیفہ جعفر منصور کے لشکر سے اسحاق کے بڑے بڑے معرکے ہوئے ، آخر کار خلیفہ کے لشکر فتحیاب ہوئے اور وہ مارا گیا۔
شخص کو فہ کا رہنے والا تھا، ابتداء زہد و تقویٰ کی طرف مائل تھا، پھر فرقہ باطنیہ کے ایک فرد سے ملنے کے بعد نعمت ایمان سے محروم ہوا، اور الحاد و زندقہ کا سرغنہ بنا اور اس کے مانے والے قرامطی یا قرامطہ کہلاتے ہیں۔ پہلے اس نے اپنے ماننے والوں پر پچاس نماز میں فرض کیں پھر ان کی شکایت پر اس نے کم کر کے چار کر دیں ۔ نئی اذان ایجاد کی ، وحی کے نزول کا دعوی کیا اور اس نے روزے کم کر کے صرف دو کر دیئے ۔ شراب حلال کر دی ، غسل جنابت کا حکم ختم کر دیا ، قبلہ کعبۃ اللہ کی بجائے بیت المقدس کو قرار دیا۔
ابتدائی صدیوں میں اسلام کو جن فتنوں کا سامنا کرنا پڑا اُن میں قرامطہ ایک بڑافتنہ تھا ، اس گروہ نے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا ، یہ لوگ کعبۃ اللہ کے انہدام کے درپے بھی ہوئے اور ابو طاہر قرمطی حجر اسود اُٹھا کر یمن لے گیا ۔ بالآخر حمد ان کو دین اسلام کے مقابلے میں نیادین جاری کرنے اور شریعت محمدیہ علی میں ترمیم و تنسیخ کرنے کے جرم میں حاکم کوفہ نے گرفتار کیا اور حاکم کی کنیز کے ذریعے فرار ہوا جسے اس کے ماننے والے معجزہ سمجھنے لگ گئے ۔
حمد ان کو گرفتاری کا خوف لاحق رہتا تھا اسی لئے شام کی طرف بھاگ گیا ، کہا جاتا ہے کہ وہ علی بن محمد خارجی سے بھی ملا مگر ان میں اتفاق نہ ہو سکا ، اور حمد ان کا کیا ہوا اور کدھر گیا کچھ معلوم نہیں ۔ بہر حال اس کے ماننے والوں نے مسلمانوں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا اور اہلِ اسلام کو بے حداز بیتیں پہنچائیں۔
یہ رے کے شہر کے مضافات میں پیدا ہوا ، اس کا تعلق خوارج کے فرقہ از راقہ سے تھا، اور شروع میں خلیفہ کے حاشیہ نشینوں کی توصیف میں قصیدے لکھ کر انعام حاصل کرتا، اس طرح امراء سے اس کا تعلق اور اثر و رسوخ بڑھنے لگا ، پھر بغداد سے بحرین چلا گیا، حالات سازگار دیکھ کر نبوت کا دعوی کر دیا اور کئی قبائل اس کے مطیع ہو گئے ، پانچ سال بحرین میں قیام کے بعد کہنے لگا کہ مجھے خدا کا حکم ہوا ہے کہ میں بصرہ جا کر لوگوں کو اللہ کا راستہ دکھاؤں، چنانچہ اپنے چند معتقدین کے ساتھ بصرہ گیا، حاکم بصرہ نے اس کی سرگرمیاں دیکھ کر اسے گرفتار کرنا چاہا تو وہاں سے فرار ہو کر بغداد آ گیا اور اس کی بیوی، بیٹا اور کچھ ساتھی گرفتار ہو گئے ۔ بغداد میں رہ کر اس نے اپنے مشن کو جاری رکھا۔ بصرہ میں ایک بغاوت ہوئی جس میں قید خانہ کا دروازہ توڑ کر قیدیوں کا رہا کر دیا گیا تھا اور حاکم بصرہ کو لوگوں نے بصرہ سے نکال دیا تھا، یہ خبر پا کر علی بن محمد خارجی نے بصرہ کا رُخ کیا ، وہاں ایک سازش کے تحت بڑی مکاری سے زنگی غلاموں کی ہمدردیاں حاصل کر کے ایک لشکر تیار کر لیا اور دجلہ، ایلہ اور قادسیہ وغیرہ میں لوٹ مار شروع کر دی، پھر خلیفہ نے اس جھوٹے مدعی نبوت کی سرکوبی کے لئے نو سال تک مسلسل متعدد لشکر بھیجے جو سب کے سب ناکام ہوئے ، آخر کار ایک فیصلہ کن جنگ کا منصوبہ تیار کیا گیا اور خلیفہ نے اپنے بھتیجے ابو العباس کو زنگیوں کے مقابلے میں ایک عظیم لشکر دے کر روانہ کیا اور ابو العباس اور اس کے والد موفق نے علی بن محمد خارجی کے لشکر کو متعدد معرکوں میں شکست دی اور آخر میں ایک طویل محاصرے کے بعد 27 محرم الحرام 270ھ کو اُسے شکست فاش ہوئی ، اس کے بڑے بڑے سردار گرفتار ہوئے ، اور وہ خود اپنے چند افسروں کے ساتھ شہر سیستان کی طرف بھاگا، اسلامی لشکر نے اس کا تعاقب کیا اور معمولی سی جھڑپ کے بعد جھوٹا مدعی نبوت علی بن محمد خارجی قتل ہوا ، اس طرح زنگیوں کا یہ خانہ ساز نبی چودہ برس چار ماہ برسر پیکار رہ کر یکم صفر 270ھ کو اپنے انجام کو پہنچا۔
اس نے سرزمین ریف ( واقع ملک مغرب ) میں نبوت کا دعویٰ کیا اور فریب کا ایسا جال بچھایا کہ ہزاروں سیدھے سادھے بربری اس کے دام میں آگئے ۔ شریعت محمد یہ علیہ التحية والثناء کے مقابلے میں اس نے خانہ ساز شریعت گھڑی جیسے صرف دو نمازیں پڑھنے کا حکم ، رمضان کی روزوں کی جگہ آخری عشرہ کے تین ، شوال کے دو اور ہر بدھ اور جمعرات کو دو پہر بارہ بجے تک کا روزہ ، حج و زکوۃ کا حکم ساقط ، نماز سے قبل وضو کی شرط کا سقوط اور خنزیر کو حلال کرنا وغیرہ اور یہ 319ھ میں ایک جنگ میں واصل جہنم ہوا۔
شخص یمن کے علاقے صنعاء کار رہنے والا تھا اور اس کا تعلق اسماعیلیہ فرقے سے تھا، پھر اس نے دعوی کیا کہ وہ اللہ کا نبی ہے، ایک عرصے تک اپنی جھوٹی نبوت کی دعوت دینے میں مشغول رہا، جب کسی نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو شعبدے بازی کا سہارا لیا، اور اس نے متعدد حرام چیزوں کو حلال کر دیا ، جیسے شراب اور سگی بیٹیوں سے نکاح کرنا وغیرہ ۔ اور اسے ناموس رسالت کے پاسبانوں نے 303ھ میں زہر دے کر ہلاک کیا اور اس کا فتنہ اُنیس سال تک جاری رہا۔
اس نے 332ھ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ شخص انتہائی مکار اور شعبدے باز تھا اور اس سے اس نے ہزاروں مسلمانوں کو کفر والحاد کی راہ پر لگا دیا اور علمائے حقہ نے اپنے وعظ و نصیحت سے سینکڑوں کے ایمانوں کو بچایا اور شقاوت جن کا مقدر تھی وہ نہ مانے ، قادیانیوں کی طرح علماء اسلام کو گالیاں دینے اور ان کو ایذاء پہنچانے کے درپے ہوئے ، اور ہزاروں مسلمان اس کے ظلم کا شکار ہوئے کہ جن کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔
یہ چونکہ ایک بلند پہاڑ پر ایک قلعہ میں رہتا تھا ، لشکر اسلام نے اس کا محاصرہ کیا، کچھ وقت کے بعد جب اشیاء خور و نوش ختم ہونے لگیں اس کے فوجیوں کی حالت خراب ہونے لگی تو اسلامی سپاہیوں نے پہاڑ پر چڑھ کر حملہ کر دیا ، جس میں اس کے اکثر فوجی مارے گئے اور خود بھی جہنم واصل ہوا ۔
شخص شروع میں جمہور مسلمین کے طریقے پر تھا پھر اغوائے شیطان سے نام نہاد خود ساختہ مفکرین کی طرح آیات قرآنی میں عجیب عجیب تاویلات کرنے لگا پھر ملحدین کی طرحخصوص قرآنی کو اپنی نفسانی و شیطانی خواہشات کی برآری کے لئے غلط و فاسد مفہوم کا جامہ پہنانا شروع کر دیا، ایسا کرتے کرتے اس نے نبوت کا دعوی کر دیا اور اسے بھی عقیدت مندی کے لئے ہزاروں احمق مل گئے ، شاہ مراکش علی بن یوسف تاشفین کو اس دعوے کا علم ہوا تو اسے بلا کر پوچھا اور اس نے جھوٹ بول کر بادشاہ کر مطمئن کر دیا ، پھر شیلہ کے ایک گاؤں کی مسجد میں بیٹھ گیا اور اپنے خود ساختہ دین کا پرچار کرنے میں لگ گیا ، جب ماننے والوں کی تعداد بڑھی تو ارد گرد کے کئی علاقوں پر قابض ہو گیا ، اسی اثناء میں وزیر نامی ایک فوجی سردار اس سے باغی ہو گیا ، اس کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی اس کو چھوڑ نے لگے، اور اس کے قتل کے درپے ہو گئے ، انہی ایام میں مراکش کی حکومت عبد المؤمن کے ہاتھ آئی تو یہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ سُنا ہے کہ تو نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ، تو اس نے جواب دیا کہ جس طرح ایک صبح صادق ہوتی ہے اور کا ذب ہوتی ہے، اسی طرح نبوت بھی دو طرح کی ہوئی ہے یعنی صادق اور کاذب، میں نبی ہوں مگر کا ذب ( جھوٹا ) ہوں ۔ امام ذہبی کے مطابق عبد المؤمن نے اُسے قید کر دیا اور اس کی موت 550 ھ کے بعد کسی وقت واقع ہوئی۔
متنبی کی پیدائش چوتھی صدی ہجری کے اوائل میں کوفہ کے محلہ کندہ میں ہوئی ، آغاز جوانی میں شام کا سفر اختیار کیا ، فنون ادب میں مشغول رہ کر کمال حاصل کیا ، لغات عرب میں غیر معمولی عبور حاصل کیا، یہ شخص شعر وسخن میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا چنانچہ اس کی فصاحت و بلاغت اور اس پر لوگوں کی تعریف نے اسے دعوی نبوت کے لئے اکسایا اور اس نے نبوت کا دعوی کر دیا۔
نبوت کے جھوٹے دعویداروں میں بہت کم ایسے گزرے ہیں کہ جنہیں مرنے سے قبل تو بہ کی توفیق نصیب ہوئی ہو ، ملک شام میں جب منبتی نے نبوت کا دعوی کیا تو کثیر لوگ اس کا کلمہ پڑھنے لگے ، اسے دیکھ کر حاکم حمص نے اسے بڑی راز داری اور عقلمندی کے ساتھ گرفتار کر لیا اور قید خانہ میں ڈال دیا۔ ایک عرصے تک قید و بند کی صعوبتیں جھیلتا رہا، ایک بار حاکم نے اسے کہا کہ تو اگر اپنے دعوے سے تو بہ کر لے تو میں تجھے رہا کر دوں گا، تو یہ نادم ہوا اور تو بہ ورجوع کے لئے ایک دستاویز تحریر کی جس میں اپنی تو بہ کا اعلان کیا اور از سر نو اسلام لایا، تو بہ کے بعد اس نے اقرار کیا کہ وحی کا ایک لفظ بھی مجھ پر نازل نہیں ہوا تھا، لوگوں کو گرویدہ بنانے کے لئے خود ہی کلام گھڑتا تھا ، چنانچہ اس نے اپنے بنائے ہوئے کلام کو جسے وحی بتا تا تھا خود ہی تلف کر دیا۔
اس کا پورا نام قطب الدین ابو محمد عبد الحق بن ابراہیم بن محمد بن نصر بن محمد سبعین تھا اور مراکش کے شہر مرسیہ میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ، اس کا کہنا تھا امر نبوت میں بڑی وسعت اور گنجائش تھی اور حضور ﷺ کے لئے کہتا کہ انہوں نے لا نَبِيَّ بَعْدِی ( میرے بعد کوئی نبی نہیں ) کہہ کر اس میں تنگی پیدا کر دی ۔ اس کلمہ کی بنا پر وہ مغرب سے نکالا گیا ، یہ اس ایک کلمہ کی وجہ سے ملت اسلام سے خارج ہو گیا حالانکہ رب العالمین کی ذات کے متعلق اس کے جو خیالات و نظریات تھے وہ کفر میں اس سے بھی بڑھے ہوئے تھے۔ اس نے فصد کھلوائی ، خون بند نہ ہو سکا، اسی میں مر گیا۔
یہ شخص بایزید ابن عبداللہ انصاری 931ھ کو جالندھر مشرقی پنجاب میں پیدا ہوا، عالم تھا حقائق و معارف بیان کر کے لوگوں کے دلوں پر اپنے علم و کمال کا سکہ جماتا تھا۔ ابتداء میں ذکر و فکر میں مشغول رہتا، تقویٰ و پرہیز گاری کی زندگی گزارتا ، اس کے رشتہ داروں میں خواجہ اسماعیل نامی بزرگ تھے، بایزید ان کے حلقہ ارادت میں دخل ہونا چاہا اور کسی کے روکنے ٹوکنے پر ( کہ تم اپنے عزیزوں میں ہی ایک غیر معروف شخص کے ہاتھ بیعت کرتے ہو ) اس نے بیعت نہ کی ، اور جب کوئی شخص طاعت و عبادت ، زہد و تقوی کی راہ اختیار کرتا ہے تو ابلیس اس کی طرف سے خاصا فکر مند ہو جاتا ہے اور اُسے گمراہ کرنے اور راہِ راست سے بنانے کے لئے اپنی بھی تیز کر دیتا ہے، اس کے بے شمار مکر و فریب ہیں، اہل علم اور اہلِ زہد پر ان کے من بھائے طریقے سے وار کرتا ہے، ایسی حالت میں کسی مُرشد کامل کا سایہ سر پر نہ ہو تو وہ عابد کو اغوا کر کے اسفل السافلین میں جا کراتا ہے۔
بایزید پر بھی شیطان کا ایسا وار ہوا کہ یہ بری طرح بہک گیا اور آخر کار اپنے آپ کو نبی کہنے لگا، اس نے ایک کتاب خیر البیان کے نام سے چار زبانوں (عربی ، فارسی، ہندی اور پشتو ) میں لکھی اور اُسے یہ کلام الہی کہ کر لوگوں کے سامنے پیش کرتا۔ اس کا باپ راسخ العقید ، سلمان تھا ، بیٹے کی گمراہی پر غصہ باک ہوا، غیرت وحمیت دینی سے مجبور ہو کر قتل کے ارادے سے بایزید پر چھڑی کے کئی وار کئے جس سے یہ بری طرح زخمی ہوا، اپنا علاقہ چھوڑ کر نگر ہار گیا وہاں علماء کو اس کا حال معلوم ہوا تو وہ اس کی مخالفت میں اُٹھ کھڑے ہوئے ، وہاں سے پشاور چلا گیا وہاں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا، اس لئے اسے گمراہی پھیلانے کا بھر پور موقع میسر آیا اور اس نے اپنا تسلط بھی جمالیا، وہاں سے ہشت نگر آیا، وہاں بھی اس کی اطاعت ہونے لگی ، ایک عالم دین اخوند درویزہ سے بایزید کا مناظرہ ہوا اور یہ مغلوب بھی ہوا مگر اس کے عقیدت مند اتنے خوش اعتقاد اور طاقتور تھے کہ اس عالم دین کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہوسکی ۔
اس کا حال جب کابل کے گورنر محسن خان نے سنا تو وہ بنفس نفیس ہشت نگر آیا اور اسے گرفتار کر کے لے گیا، ایک عرصہ تک قید میں رکھا پھر رہا کر دیا، یہ پھر ہشت نگر آیا اور . اپنے لوگوں کو جمع کرنے لگا۔
سرحد کے عقیدت مندوں سے طاقت حاصل کر کے مغلیہ بادشاہ اکبر کا علی الاعلان حریف بن گیا اور لوگوں میں مغلیہ سلطنت کے خلاف اشتعال پیدا کرنے لگا، جب اس کی بغاوت حد سے بڑھی تو اکبر نے اس کی سرکوبی کے لئے لشکر روانہ کیا جو اس کے ہاتھوں شکست کھا کر واپس ہوا۔ اس سے اس کے عقیدت مندوں کے حوصلے اور بلند ہو گئے اور آخر کار اکبر نے اس کے خلاف فیصلہ کن حملے کا ارادہ کیا جس کے لئے دو طرف سے حلالی منصوبہ تیار ہوا ، اکبر کا لشکر ایک طرف سے ، دوسری طرف سے کابل کے صوبہ دار حسن کا شکر حملہ آور ہوا تو اسے شکست فاش ہوئی ، اس کے بہت سے فوجی مارے گئے اور خود فرار ہونے میں کامیاب ہوا، اور ہشت نگر کے دشوار گزار پہاڑوں پر اپنے کچھ لشکر سمیت پناہ گزیں ہوا اور از سر نو شکر ترتیب دینے میں مصروف ہوا مگر اب موت نے اُسے اس کی فرصت نہ دی اور افغانستان کے سلسلہ کوہ بھیتر پو کی پہاڑیوں میں مرا اور وہیں دفن ہوا۔
اس کے مرنے کے بعد اس کی اولاد نے ایک عرصے تک مسلمانوں پر لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم رکھا ، جہانگیر کے لشکروں سے اس کا ٹکراؤ ہوتا رہا، آخر کار شاہجہاں کے دور میں اس کی اولاد مغلیہ سلطنت کی مطرح ہوگئی اور اس جھوٹی نبوت کے پیروگار بھی ختم ہو گئے۔
یہ ایران کے شہر مشہد کا رہنے والا تھا، یہ علوم پر دسترس رکھتا تھا اور اسے کابل میں بڑی پذیرائی ملی ، میر محمد خان نے اپنے لڑکوں کی تعلیم و تربیت اس کے سپرد کر دی اور اپنی نے پالک سے اس کا نکاح کر دیا ، اس طرح امیر خان کے دربار میں اسے مزید تقرب حاصل ہو گیا ، امیر خان کا لڑکا ہادی علی خان تو اس کا اتنا مطیع تھا کہ جیسے اس کا زرخرید غلام ہو۔
اور دونوں نے مل کر طے کا وہ ایک نیا مذہب جدید قواعد پر ایجاد کریں گے اور نزول وحی کا دعوی کریں گے اور اپنے لئے ایسے مرتبے کو تجویز کیا جو نبوت اور امامت کے درمیان ہو۔ طے شدہ منصوبے کے تحت میر محمد حسین نے فارسی میں ایک کتاب لکھی جسے الہامی کتاب کا درجہ دیا ، اور اپنے ماننے والوں کا نام ’’فربودی“ رکھا۔ نماز کی جگہ ہر روز تین بار اپنی زیارت کو فرض قرار دے دیا ، لاہور میں اس کی تحریک کو پذیرائی نہ ملی تو دہلی آ گیا اور بڑی راز داری سے اپنا خود ساختہ دین پھیلانا شروع کیا اور اس کے عقیدت مندوں میں تقریبا ہر طبقہ کے لوگ شامل ہونے لگے اور اس کی جماعت کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہونے لگا۔
سلطان محمد شاہ کے وزیر محمد امین نے جب اس کے اقوال سنے اور حرکتیں دیکھیں اور ایمان و اسلام کی سربلندی کے لئے تڑپ رکھنے والے ہزاروں لاکھوں دلوں کا خون ہوتے دیکھا تو اسے گرفتار کر کے اس فتنے کو ختم کرنے کا ارادہ کیا، ادھر گرفتاری کا حکم دیا یہ محمد امین خود بیمار ہو گیا اور اسی مرض میں اس کا انتقال ہو گیا ، اندھے عقیدت مندوں نے اسے اپنے جھوٹے نبی کی بددعا کا اثر سمجھ کر اپنی عقیدت کو مزید مضبوط کر لیا، محمد امین کے انتقال کے بعد تقریباً تین سال بعد یہ مرد بھی طبعی موت مر گیا ، اس کے بعد اس کے بیٹا جانشین ہوا، اس کے اور میر ہادی علی خان جو اس سازش کی ابتداء سے شریک کار اور دولت کا حصہ دار تھا کے . ما بین دولت کی تقسیم پر اختلاف ہو گیا ، اس نے دھمکی دے دی کہ مجھے اتنا ہی حصہ دیا جائے جتنا ۔ جتنا شروع سے طے تھا ورنہ میں تمہارے مذہب کی کتابوں اور تمہاری تحریک کا بھانڈا پھوڑ دوں گا۔
بالآخر جب اُسے دولت کا مطلوبہ حصہ نہ ملا تو اسے نے جشن کی تقریب کے موقع پر جب فربودی بکثرت جمع تھے، ایک تقریر کی جس میں میر محمد حسین مشہدی المعروف نمود کے دعوی نبوت کی سازش کو لوگوں کے سامنے ظاہر کر دیا اور اپنی شرکت کا ماجرا اول تا آخرا نہیں سنا کر حیران کر دیا ، اور اپنے موقف پر ثبوت دکھا کر دلائل دے کر اس فتنے کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا۔
غلامی ایک لعنت ہے، جس میں انگریز کے ہندوستان آکر بڑی عیاری ومکاری سے تسلط حاصل کرنے لینے کے بعد سے ہندوستان کے مسلمان گرفتار تھے، پھر 1857ء سے لے کر 1947 ء تک جس قسم کے کر بناک حالات سے مسلمانوں کو دو چار ہونا پڑا اور جس قادیانیوں کا قسم کی ذلت کی زندگی مسلمانوں نے بسر کی، اس کی کیا کیفیت تھی ، یہ کوئی کی چیز ہیں ۔ اس دوران سب سے بڑی مصیبت جو ہمیں پیش آئی وہ یہ کی کہ ہمارے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے اور اس کی بنیاد کو متزلزل کرنے کے لئے فرنگی سامراج نے کئی چالیں چلیں ، اس نے ہمارے ایمان کی اساس کو کھوکھلا کر کے اس کا خاتمہ کرنا چاہا ، اللہ تعالیٰ نے علماء و مشائخ ملت کے ذریعے اس دشمن کی ہر سازش کا پردہ چاک کیا، ہمارے محسنین نے ہر وقت اہل اسلام کو آگاہ کیا اور باطل کے ہر فتنے کا ہر میدان میں مقابلہ کیا اور مسلمانوں کے ایمان کو بچایا، ملت کے ان خیر خواہوں کی کاوشوں سے ہمیں غلامی کی ذات سے نجات بھی ملی اور ہمارے ایمان بھی محفوظ رہے۔
ان فتنوں میں ایک بڑا فتنہ قادیانیت کے نام سے رونما ہوا جس کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی ( متوفی 1908 ء ) تھا جو 1839 ء میں مشرقی پنجاب کے ضلع گوادر سپور، قصبہ قادیان میں پیدا ہوا ، شروع شروع میں اس نے ایک مناظر اور مبلغ اسلام کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ، تقابل ادیان کا خوب مطالعہ کیا، خصوصا عیسائیت، ساتن دھرم اور آریہ سماج کی کتب پر دسترس حاصل کی ، اور یہ وہ دور تھا کہ جس میں مناظروں کا بہت رواج تھا، عیسائی پادری عیسائیت کی تبلیغ کرتے اور دین اسلام کی تردید کرتے ۔ دوسری طرف آریہ سماج کے مبلغ بھی اسلام کے خلاف سرگرم تھے اور جنگ آزادی (1857ء) کے بعد انگریزوں نے ہندوستانی عوام پر حکومت کرنے کے لئے جو پالیسی وضع کی اس کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ لڑاؤ اور حکومت کرو۔ 21
تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ انگریز جب ہندوستان آیا تو اس نے اپنے اقتدار کے حصول اور اس کے طول کی غرض سے مختلف اوقات میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو خریدا جیسے بنگال میں حصول اقتدار کے لئے میر جعفر کو اور میسور کے شیر ( ٹیپو سلطان) کی جدو جہد کو نا کام بنانے کے لئے میر صادق کو خریدا اور مسلمانوں کے عقائد کو برباد کرنے اور قتل و غارت کے ذریعے طاقت کو کمزور کرنے کے لئے اسماعیل دہلوی اور سید احمد رائے بریلی کو چنا ، اور مسلمانان ہند کے دلوں سے انبیاء و اولیاء کی عقیدت اور محبت نکالنے کے لئے رشید احمد گنگوہی خلیل احمد انبیٹھوی و غیر ہم پر ہاتھ رکھا، اور اہل اسلام کے قلوب سے عقیدہ آخرت کو نکالنے اور اُن کی زندگی کو بے مقصد ثابت کرنے کے لئے سرسید احمد خان سے کام لیا، اور مسلمانان ہند کے جذبہ جہاد سے تنگ آکر اس کی منسوخی کو ثابت کرنے کے لئے غیر مقلد مولوی محمد حسین بٹالوی نام نہاد اہلحدیث کو منتخب کیا۔ ((حاشیہ )جیسا کہ موصوف نے جہاد کی منسوخی پر الاقتصاد فی مسائل الجہاد کے نام سے کتاب لکھی پھر اس کے ترجمے اردو، انگریزی میں ہوئے اور انگریز حکومت کی طرف سے اسے جاگیر میں ملیں۔22
غرض یہ کہ مسلمانوں کو ٹکڑوں ، حصوں ، جماعتوں میں تقسیم کرنا ، اُن کے عقائد بر باد کرنا، ان کی طاقت ختم کرنا ، انگریز کا اولین مقصد رہا، اس مقصد کے لئے جہاں اس نے دیگر افراد کو منتخب کیا ، مرزا غلام احمد قادیانی سے بھی معاہدہ کیا چنانچہ محمد سلطان شاہ لکھتے ہیں : 1880ء سے قبل مرزا صاحب اور انگریزوں کا معاہدہ ہو چکا تھا اور ان سے حواری نبی کا دعوی کرانے کے معاملات طے ہو چکے تھے ، مرزا صاحب نے نبوت تک پہنچنے کے لئے جو سیڑھی استعمال کی ’’ مامور من اللہ “ ہونا اس کا پہلا زینہ تھا ۔ 23
اور مرزا نے اپنی کتاب ” تبلیغ رسالت“ (جلد ہفتم ص 19) میں اس کا خود اقرار کیا کہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں اور اس نے یہ بھی لکھا کہ ” میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ ایران میں، نہ کابل میں مگر اس (انگریزی) گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے دعا کرتا ہوں ۔24
اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس گروہ کو انگریز نے مسلمانوں میں افتراق و انتشار پیدا کرنے کے لئے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے پیدا کیا، یدانگریز کی پیدوار ہے۔
ایسے ماحول میں مرزا نے ایک کتاب دوسرے مذاہب کی تردید میں لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا چنانچہ اس نے 1879 ء میں ’’براہین احمدیہ “ لکھنا شروع کی ، اور اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ اس نے ایک اعلان بڑی تعداد میں اردو اور انگریزی میں شائع کر کے سلاطین وزراء، پادری اور پنڈتوں کے پاس بھیجا جس میں اس نے اپنے ’’ مامور من اللہ “ ہونے کا دعویٰ کیا ، حالانکہ وہ ’’ مامور من اللہ “ نہیں تھا بلکہ ’’ مامور من الشیطان “اور مامور من الفرنگ تھا۔ اس کتاب نے ایک طرف دوراندیش علماء کے اذہان میں شکوک پیدا کر دیئے ، دوسری طرف اس کتاب کو شہرت ملی چنانچہ اس کے اپنے بیٹے مرزا بشیر احمد کا بیان ہے : ” براہین کی تصنیف سے پہلے حضرت مسیح موعود ایک گمنامی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ در اصل براہین احمدیہ کے اشتہار سے ہی سب سے پہلے آپ کو ملک کے سامنے کھڑا کیا اور اس طرح علم دوست اور مذہبی امور سے لگاؤ رکھنے والے طبقہ میں آپ کا انٹروڈکشن ہوا ۔ “25
مرزاغلام احمد قادیانی خود اپنے اقوال اور فتاوی کی زد سے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ، اس کے لئے ہم پہلے اس کے دعوی نبوت و رسالت کا ذکر کریں گے پھر ایسا دعوی کرنے والے کے لئے مرزا کا اپنا فیصلہ اور فتوی ذکر کریں گے تاکہ کسی کو حق ماننے اور تسلیم کرنے میں ذرا برابر بھی تامل نہ رہے۔
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:
سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔26
اس کتاب میں دوسرے مقام پر لکھتا ہے کہ:
خُدا تعالیٰ جب تک طاعون دنیا میں رہے گوستر برس رہے قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے ۔ 27
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:
میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے ۔ 28مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:
خُدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت کے اضافہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا ۔ 29
اب جب کہ آپ نے پڑھ لیا کہ اُس نے نبوت و رسالت کا دعوی کیا اور صراحة اپنے آپ کو نبی و رسول بتایا ہے تو دیکھئے کہ نبوت و رسالت کا دعوی کرنے والے کے لئے مرزا قادیانی خود کیا فیصلہ دیتا ہے گویا اپنے بارے میں اس کے اپنے فتاوی پڑھئے :
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے ، نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث ’’لا نَبِيَّ بَعْدِی “ میں نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرات اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً ( جان بوجھ کر ) چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی پھر سلسلہ وحی نبوت کو جاری کر دیا جائے۔ 30
لہٰذا اس کے ساتھ یہ سلوک امتیازی نہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا اور اس پر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی شخص نے جھوٹی نبوت کا دعوی کیا تو امت مسلمہ نے اس کے ساتھ یہی سلوک کیا کہ انہیں کافر جانا اور وہ لوگ جنہیں اللہ تعالٰی نے اقتدار بخشا ہے، انہوں نے ان سے جنگ کی اور اس فتنے کے خاتمے کے لئے بھر پور کوشش کی ، خود نبی اکرم ﷺ کی ظاہری حیات میں بھی جن کی طرف سے یہ دعوئی ہوا ان کو اس ملت سے شمار نہیں کیا گیا بلکہ اُن کے خلاف جہاد کا حکم ہوا اسی طرح دور صحا بہ خصوصاً خلافت را شده على التخصیص حضرت سید نا ابو بکر صدیق
کے دور کو ملاحظہ کیجئے کہ ایسوں کے بارے میں اُن کی رائے کیا تھی اور اُن کے خلاف کیا کیا عملی اقدام اٹھائے گئے اور بعد میں رونما ہونے والے ایسے فتنوں کو نابود کرنے کے لئے حکام اسلامی نے کیا کچھ کیا۔ کوئی دوسروں کو تو یہ الزام دے سکتا ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کے خلاف عملی قدم اپنے اقتدار کو بچانے کے اُٹھایا ہو گا مگر حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان ، پھر ان میں سید الصحابہ سیدنا صدیق
کے بارے میں یہ کہنا تو دور کی بات ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور پھر نبی ﷺ کے اقدامات کے بارے میں کیا کہیں گے ، کیا کوئی مسلمان آپ ﷺ کے بارے میں اپنے دل میں اس کا ادنیٰ سے ادنی ، خفیف سے خفیف تر شبہ بھی لاسکتا ہے ہر گز نہیں۔ جب یہ بات ہے تو ماننا پڑے گا کہ اسلام کا اپنے پیرو کاروں کو یہی حکم ہے کہ جب بھی کوئی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرے تو اُسے اسلام سے خارج سمجھیں ، مرتد جانیں اور اہل اقتدار پر فرض ہے کہ انہیں بزور طاقت نیست و نابود کر دیں ، ہمارے علماء نے یہی کیا ، ہمارے مشائخ نے وہی کیا جو حکم تھا، ہماری سمجھ دار عوام نے وہی کیا جو ان کے دین کی ہدایات تھیں تو کیا غلط کیا ہر گز نہیں، باقی رہا بزور طاقت ان کو صفحہ ہستی سے مٹادینا وہ نہ ہو سکا ، اس لئے کہ اقتدار ان کے ہاتھ میں نہیں تھا اس معاملے میں اگر کوتاہی کی یا کرے رہے ہیں وہ ہمارا حکمران طبقہ ہے، اُن پر جو فرض تھا وہ اُن سے ادا نہ ہوا، اس کی بھی وجوہات تھیں اور ہیں، وقت اور حالات اجازت نہیں دیتے کہ اس مقام پر اُن پر کلام ہو۔ یہاں تو صرف بتانا یہ تھا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دینا مسلمان نہ سمجھنا، ملتِ اسلامیہ سے خارج جاننا صرف ان کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر جھوٹے مدعی نبوت اور اس کے پیرو کاروں کے لئے اسلام کا یہی حکم ہے، ان کے لئے علماء و مشائخ اسلام کا یہی فیصلہ ہے ، فقہاء کرام کا یہی فتویٰ ہے، اہلِ اسلام کا یہی طرز عمل ہے ، ہاں جن کے ایمان ضعیف ہو گئے یا جو لوگ غیر کے ہاتھ پاک کر اسلام سے غداری کے مرتکب ہوئے وہ ان جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے پیروکاروں کے بارے میں ضرور نرم گوشہ رکھتے ہوں گے۔
یہ تو وہ لوگ تھے جن کا دعوی نبوت شہرت کی حد کو پہنچا اس کے علاوہ بعض ایسے بھی ہوئے جن سے یہ جھوٹا دعوی صادر ہوا مگر وہ دوام شہرت حاصل نہ کر سکا پھر اس کی کئی وجوہات تھیں کہ ان کو اہلِ اسلام کی طرف سے عدم قبولیت کا ڈر تھا یا حکام وقت کا خوف دامن گیر ہوا تو انہوں نے دعوئی تو کیا مگر اس کے لئے بہت زیادہ کوشش نہ کی اور اس دعوئی پر زور دینے کی بجائے خلاف اسلام دیگر اعتقادات و معمولات کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو گمراہ کرنے کے درپے ہوئے ان میں سے ایک ابن عبد الوہاب نجدی بانی فرقہ وہابیہ بھی ہے۔ چنانچہ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑ وی
جن کی بزرگی اور علم کے غیر بھی معترف ہیں جو اسلام کے ایک جانباز سپاہی ، ناموس رسالت ﷺ کے پاسبان اور صاحب کرامات تھے، آپ نے اپنی مشہور تصنیف ” سیف چشتیائی“ میں ”سنن ابی داؤد“ ، ” ترمذی“ کی حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث لکھی کہ جس میں تمہیں جھوٹے مدعیان نبوت کا تذکرہ ہے، پھر اثر عمر
کہ جس میں قادیانی اور ان کے متبعین کی طرف اشارہ ہے، ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: پس اگر ان پیشین گویوں کو بھی خارج میں مطابق کر کے دیکھا جاوے۔ تو مسیلمہ کذاب، اسود عنسی اور حمدان بن قرمط اور (بانی وہابیت ) محمد بن عبدالوہاب کے بعد یہی قادیانی صاحب ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نبی سمجھا۔ 30
اور پیر مہر علی شاہ
نے محمد بن عبدالوہاب نجدی کو جھوٹے مدعیان نبوت میں ا شمار کیا جیسا کہ آپ کی عبارت سے واضح ہے ، اور سیف چشتیائی کی مذکورہ بالا عبارت کے تحت صمد غازی لکھتے ہیں: اس میں فرقہ باغیہ کے حالات پر روشنی ڈالی گئی اور اس سرش جماعت کے سرکردہ محمد بن عبد الوہاب نجدی کے مسلم آزار کارنامے درج ہیں اور بتایا گیا ہے کہ اس باغی فرقہ نے حرمین شریفین ، ان کے زائرین اور روضہ ہائے مقدسہ پر کیا کیا ستم ڈھائے ہیں مولوی محمد حیدر اللہ خان صاحب درانی المجد دی انقشبندی اپنی کتاب ” درۃ الدرانی“ میں لکھتے ہیں: مورخ ملطبرون جغرافیہ عمومیہ مطبوعہ مصر کی تیسری جلد معربہ رفاعہ ایک ناظر مدرسة الاسن میں لکھتا ہے کہ محمد بن عبد الوہاب کے متعلق تمام عرب میں اور علی الخصوص یمن میں یہ قصہ مشہور ہے کہ ایک شخص غریب الحال سلیمان نامی جو چرواہا تھا، اُس نے خواب میں دیکھا کہ آگ کا ایک شعلہ اُس کے بدن سے جدا ہو کر زمین میں پھیل گیا ہے اور جو اُس کے سامنے آتا ہے اُس کو جلا دیتا ہے، یہ خواب اس نے معتبرین کے سامنے بیان کیا جو ایسے خوابوں کی تعبیر جانتے تھے ، انہوں نے اس خواب کی یہ تعبیر دی کہ اُس کا ایک لڑکا ایسا پیدا ہو گا جو بڑی طاقت اور دولت پاوے گا ، آخر اس خواب کا تحقق سلیمان کے پوتے محمد بن عبد الوہاب کے وجود سے ہو گیا ، جو 1111ھ میں متولد ہوا اور بعد از هزار خرابی 1207ھ میں فوت ہو گیا یعنی اس نے چھیانوے سال کی عمر پائی ، اور ابتداء اُس نے شیخ محمد سلیمان گردی شافعی اور شیخ محمد حیات سندھی حنفی رحمۃ اللہ علیہما سے علم حاصل کیا ، لیکن یہ ہر دو بزرگ اپنے نور فراست سے کہا کرتے تھے کہ یہ (محمد بن عبدالوہاب ) ملحد ہوگا اور بظاہر اس کا شغل بھی اسی قسم کا تھا کہ اکثر ( جھوٹے مدعیانِ نبوت مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی اور طلیحہ اسدی وغیرہ کے حالات کا مطالعہ کیا کرتا جنہوں نے اُس سے قبل نبوت کے دعوے کیے، اور خدا کی قدرت ہے کہ اُس کو پورے طور سے کسی علم وفن میں دستگاہی نہ ہوئی اور اسی واسطے علماء وقت کی رد و قدح نے اس کو جواب دینے کی قدرت نہ دی، جب کہ 1143ھ میں اس نے علماء مدینہ طیبہ سے مقابلہ کرنا چاہا۔ ملطر ون لکھتا ہے کہ یہ حص بوجہ اپنے دادا کے خواب کے لوگوں کی نظروں میں محترمرہے اور اپنے عقائد . نے عقائد کے ظاہر کرنے سے اوّل اُس نے اپنے کو قریش اور نبی ﷺ کی نسل سے ہونا ظاہر کیا اور کہا کہ اُس کا نام بھی رسول اللہ اللہ کے اسم مبارک کی متل ”محمد“ہے، گویا آنحضرت ﷺ کے ہم نام ہونے کا شرف رکھتا ہے پھر اس نے چند اصولی عقائد مرتب کئے کہ فقط قرآن کریم کی اتباع واجب ہے۔ نہ ان فروعات کی جو اس سے مستنبط ہیں اور محمد اگر چہ اللہ کا رسول اور دوست ہے لیکن اُن کی مدح اور تعظیم کر نالائق نہیں ، کیونکہ مرح وتعظیم صرف خدائے قدیم کے لئے شایان ہے لہذا کسی غیر کی مدح اور تعظیم من قبیل شرک ہے، اور چونکہ لوگوں کا ایسا شرک کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا، لہذا اُس نے مجھے اپنی طرف سے بھیجا ہے تا کہ میں اُن کو سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کروں، پس جو کوئی مجھے قبول کرے گا وہ دوستوں میں سے ہے اور جو کوئی میرا حکم نہ مانے گا وہ عذاب کا مستحق ہے اور اس کا قتل بلا شبہ واجب ہے۔
پھر مورخ ملطبرون لکھتا ہے :کہ یہ عقیدہ محمد بن عبد الوہاب نے پہلے پہل پوشیدہ ظاہر کیا، اور چند لوگ اس کے مقلد ہو گئے اور پھر ملک شام کی طرف چلا گیا لیکن وہاں اُس کی کچھ نہ بن آئی، اور آخر کار تین برس کے بعد بلاد عرب کی طرف واپس آیا، اور مدینہ منورہ میں 1143ھ میں گیا لیکن وہاں کے علماء نے اُس وقت اُس کی خبر لی، بالآخر 1150ھ میں نجد کے اطراف بدوی لوگوں میں اس کا فسون اثر کر گیا، اور اس اثناء میں ایک شخص ابن سعود مسمی بہ مد جو قبیلہ نجد کا ایک مشہور پیر زادہ تھا اور جس کے عرب کے کئی قبائل اُس کے خاندانی مرید اسم محمد اور مطیع تھے، اُس نے اپنی ایک مخفی آرزو کے لالچ سے کہ اس کی حکومت عاملا بہ بصورت ریاست کسی طرح سے بڑھے اور اُس نے اُس مشہور خواب کے لحاظ سے غالباً محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان کا جادو چل جائے گا اور اس کے مذہب کی تائید سے اس کا دلی ارادہ پورا ہو نکلے گا۔ اُس نے محمد بن عبد الوہاب کا مذہب قبول کر لیا اور اس کے سارے مرید آبائی بھی اس کے ساتھ ہو لئے اور اُس نے مذہب وہابیہ کو اس قدر تقویت دی کہ اطراف واکناف کے اعراب اور بدوی سب کے سب اس کے مطیع ہو گئے ، حتی کہ ایک ریاست کی صورت نمایاں ہو گئی، اور محمد بن عبد الوہاب ان کا امام قرار پایا اور ابن سعود اس کے شکر کا سپہ سالار مقرر ہوا ، اور مدینہ و رعیہ انہوں نے اپنا دار السلطنت معین کیا اور رفتہ رفتہ ایک لاکھ بیس ہزار کی فوج با قاعدہ مرتب کر کے اپنے ملک و دولت کی توسیع میں ساعی ہوا، مگر حیات نے وفا نہ کی اور وہ اپنے ارادوں میں کامیاب کامل نہ ہوا حتی کہ ابن سعود کا بیٹا عبدالعزیز اُس کا جانشین ہوا، جو کہ شجاعت اور ہمت میں اپنے باپ سے بڑھ کر نکلا ، اور محمد بن عبدالوہاب کے اعتقاد و قواعد کے مطابق دعوت دین و با بیه بز در شمشیر شروع کر دی ۔ الخ 31
اور بعض نے ایسی باتیں ان کے اپنوں کی زبانی منقول ہیں جو دعوی نبوت کے مترادف نہیں تو اس دعوی کی تمنا کا اظہار تو بہر صورت ہیں جیسے دیو بند کے مشہور عالم مولوی اشرف علی تھانوی کے ایک مرید کا خواب اور بیداری میں موصوف پر کلمہ پڑھنا یعنی ”لا إله إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ “ کی جگہ ”لا إِلهُ إِلَّا الله “”اشرف على رسول الله“ کہنا اور مولوی صااب کی طرف سے اُسے تو بہ واستغفار کی تلقین کرنے کی بجائے ایسی بات کہنا جس سے ہزار تاویل سے بھی تو بہ کا مفہوم اخذ کرنا ممکن نہیں ۔ تو یہ اپنے مرید کی طرف سے اپنے کلمہ پڑھنے پر رضا کے سوا کچھ نہیں اور بعض کی طرف سے ایسی عبادات منقول ہیں جو انکار ختم نبوت کے لئے دروازہ کھولنے کے مترادف ہیں جیسے مولوی محمد قاسم نانوتوی کی تخدیر الناس کی عبارت کہ مرزا بشیر قادیانی نے بھی جس کا حوالہ دیا اور جس کے بارے میں مولوی محمد قاسم نانوتوی کے بہی خواہ نے کہا کہ بیج بویا علماء نے جب تنا آور درخت ہو گیا تو اس کا پھل کھا یا مرزا غلام احمد قادیانی نے“۔
اس کے دعوئی نبوت کے بہت سے عوامل ہوں گے بہت سی وجوہات ہوں گی لیکن تاریخ کا مطالعہ کرنے سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے اس دعوٹی کے لئے تیار کرنے والی قوتوں میں سرفہرست انگریز ہے، پھر مولوی اسماعیل دہلوی ، مولوی حیدر علی رامپوری ، بانی دارالعلوم دیو بند مولوی قاسم نانوتوی وغیر ہم ہیں اور وہابیہ کا وہ گروہ جسے غیر مقلد کہا جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اہلحدیث کے نام سے موسوم کرتے ہیں وہ ہے ۔
1- تاریخ بتاتی ہے کہ غلام احمد قادیانی کو مالیخولیا کا عارضہ لاحق تھا ، جس کی وجہ سے اس کا دماغی توازن درست نہ تھا، غربت کی زندگی بھی تھی ، اس لئے انگریزوں نے آسمانی کے ساتھ اسے نبی بنا کر ملت اسلامیہ کے سامنے پیش کیا تا کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف کام لیا جا سکے اور 1857ء کی جنگ آزادی کو ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ جہاد کو بھی منسوخ کیا جا سکے، چنانچہ انگریز کو اس میں کافی کامیابی ہوئی ۔
ایک انگریز Dr-Gabencalin اپنی کتاب ” انڈیا “(India) میں لکھتا ہے کہ ہم نے جھوٹے نبی کی تلاش میں ہندوستان کی گلی گلی ، گاؤں گاؤں اور شہر شہر چھان بین کی لیکن کسی کو اس پر آمادہ نہیں پایا ، البتہ ملت فروش، وطن کے غدار اور ضمیر فروش لوگ بہت ملے، بالآخر مرزا غلام احمد قادیانی اس کام کے لئے تیار ہو گیا ، جب یہ اول مرتبہ ہمارے بڑے کمانڈر کے سامنے حاضر ہوا تو اس کی مگر وہ شکل دیکھ کر ہمارے کمانڈر نے منہ پھیر لیا، کیونکہ اس کی شکل بگڑی ہوئی تھی ، بال بکھرے ہوئے تھے، ناخن لمبے لمبے تھے، گردن ٹیڑھی تھی، گال پچکا ہوا تھا ، پاؤں پھٹے ہوئے تھے اور بدصورتی اس پر ختم ہوگئی تھی ، کمانڈ ر صاحب کہنے لگے اسے کون نبی تسلیم کرے گا، نبی تو حسین و جمیل ہوتے ہیں، چہرہ چمکتا ہوا ہوتا ہے، جنہیں دیکھ کر لوگ خوشی خوشی ایمان لے آتے ہیں، تاہم انگریزوں نے اسے (جھوٹی) نبوت کا تاج پہنا دیا۔
اس کے بعد مرزا نے انگریزوں اور برطانوی افسروں سے خفیہ ملاقاتیں شروع کیں سیرت مسیح موعود ، ص 15 کے مطابق برطانوی انٹیلی جنس سیالکوٹ کے مشن انچارج نے مرزا سے کئی دفعہ ملاقاتیں کیں، اس کے بعد مرزا نے انگریزی ایماء پر 1880ء میں براہین احمدیہ نامی کتاب لکنے کی ابتدا کی اور سیالکوٹ کچہری میں ملازمت ترک کر کے کتابیں لکھنے اور الہامات بتانے میں مصروف ہو گیا ۔ 32
2 ۔ اسماعیل دہلوی کا اپنی کتاب ” تقویۃ الایمان“ میں امکان نظیر نبی ﷺ کوتسلیم اور امتناع نظیر النبی ﷺ سے انکار کرنا پھر اس پر مولوی حیدر علی رامپوری کی تائیدات اور آخر میں سب سے بڑھ کر مولوی محمد قاسم نانوتوی کا اپنی کتاب ” تحذیر الناس“ میں قرآن کریم کی آیت وَ لكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ کی ایسی تشریح کرنا جو کسی جھوٹے نبی کے دعوی نبوت کے لئے دروازہ کھولنے کے مترادف تھی کہ جس کا ذکر مرزا بشیر احمد قادیانی نے بھی کیا بہر حال ان سب نے مرزائے قادیان کے جھوٹے دعوے کے لئے تعاون فراہم کیا اور راہ ہموار کی ۔
چنانچہ حکیم محمود احمد برکاتی نے جعفر تھانیسری کی درجہ ذیل عبارت نقل کی : ” مولوی فضل حق معقولی خیر آبادی جو اس زمانے میں حاکم اعلیٰ شہر کے سرشتہ دار اور علم منطق کے پہلے اور افلاطون و بقراط کی غلطیوں کی تصحیح کرنے والے تھے ، مولانا شہید (یعنی اسماعیل دہلوی) کے سخت مخالف ہو گئے ، چنانچہ کتاب تقویۃ الایمان کے مسئلہ پر کہ اللہ رب العزت حضرت محمد ا سا دوسرا پیدا کرنے پر ہرگز قادر نہیں ، اس کے جواب میں مولانا ، (اسماعیل) نے ایک فتوی بدلائل عقلی ونقلی مدلل لکھا ہے۔ اس کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کسی خوبی سے اُن مخالفوں کا منہ بند کیا ہے ۔ 33
حکیم صاحب نے اس کے تحت لکھا کہ مخالفین کا منہ تو بند نہیں ہوا، دین میں جو فتنہ پیدا ہو گیا اور قلب امت میں قادیانیت کا جو ناسور پیدا ہو گیا اس کا علاج نظر نہیں آتا۔
شاہ اسماعیل کی اس تحریر پر مولانا فضل حق نے اعتراض کیا تھا کہ نظیر نبی ﷺکا امکان تسلیم کر لینے سے ختم نبوت کا انکار لازم آتا ہے، مگر شاہ صاحب کو اپنی بات پر اصرار رہا، پھر ان کی حمایت میں مولوی حیدر علی رامپوری نے اُن سے بھی بڑھ کر بات کہی کہ حضور اکرم ﷺممکن ہے ان ( ہمارے) ارض و سماء کے خاتم النبین ہوں اور وہ مفروض مثل ” خاتم النبین“ کسی دوسرے ارض و سما کا ” خاتم النبین“ ہو۔ 34
ان حضرات نے اثر ابن عباس سے استدلال کیا جو ایک موضوع روایت اور از قبیل اسرائیلیات ہے، اس روایت میں سات زمینوں کے وجود اور ان ساتوں زمینوں میں ہماری زمین کے انبیاء اور خاتم النبین ( علیہم الصلاۃ والسلام ) کا طرف الگ الگ ہر زمین میں دوسرے انبیاء اور خاتم النبیین کا ذکر ہے، گویا اس طرح یہ حضرات امکان نظیر کے اثبات کی دُھن میں سات زمینوں کے سات خاتم النبیین ثابت کرنے پر تل گئے اور اس طرح نادانستہ ہی انکار ختم نبوت کی راہ ہموار ہوئی ، اور مرزاغلام نہ احمد قادیانی کو یہ جرات ہوئی کہ وہ نبوت کا (1) ادعا کرے (بانی دارالعلوم دیو بند مولانا محمد قاسم نانوتوی نے 1873 ء میں رسالہ ” تخدیر الناس“ لکھا اور 1880 ء میں مرزا نے کا دعویٰ کیا ہے ) چنانچہ مرزا کے خلیفہ مرزا بشیر احمد نے مولانا محمد اپنے ملہم اور مجدد دہونے کا د قاسم نانوتوی کے رسالہ ” تخدیر الناس “ کی ( جو اثر ابن عباس کی صحت کے حق میں ہے ) ایک عبارت نقل کر کے لکھا ہے : اہل بصیرت کے نزدیک اس شہادت کو خاص وزن حاصل ہونا چاہئے ، یہ شہادت مدرسۃ العلوم دیو بند کے نامور بانی مولوی محمد قاسم نانوتوی (ف 1889ء) ہے ۔ 35
حاشیہ
(1)حکیم صاحب کا یہ کہنا کہ نا دانستہ انکار ختم کا ادعا ہو گیا یہ بالکل غلط ہے کیونکہ نا دانستہ تو تب کیا جائے گا کہ بولنے والا بھول جائے ، لکھنے والا لکھ دے اور اُسے خبر ہی نہ ہو کہ جو میں نے کہا یا لکھا اس سے یہ مفسد لازم آتا ہے کہ انکار ختم نبوت کا دروازہ کھل رہا ہے اور اس مسلمہ قطعی اسلامی عقیدے سے سے انکار کی راہ پیدا ہو رہی ہے لیکن یہاں تو معاملہ کچھ اور ہی تھا، اسماعیل دہلوی اگر ” تقویۃ الایمان “ کی رسوائے زمانہ عبارت لکھی تو اُسے اس پر متنبہ کیا گیا، علامہ فضل حق خیر آبادی نے رہنمائی فرمائی تو اسے قبول نہ کیا بلکہ نزاع کی کیفیت پیدا کر دی یہاں تک کہ علامہ موصوف کو اس کے رد میں ایک مستقل رسالہ تحریر کرنا پڑا، پھر بھی نہ مانے اور ان کے بعد ان کے حواری اور متبعین جیسے مولوی حیدر علی رامپوری اور مولوی محمد قاسم نانوتوی تو اپنے خود ساختہ شہید کی حمایت میں اُن سے آگے بڑھ گئے کہ ایسی بات کہہ دی جسے قادیانی بھی بطور دلیل مسلمانوں کے سامنے پیش کرنے لگ گئے ، اب بتائیے کہ ایسے نا دانستہ کیا جاتا ہے یا دانستہ ، اسے بے ارادہ و بے قصد کہا جائے یا ارادہ اور قصدا کہا جائے گا یقینا یقیناً یہی کہا جائے گا کہ اسماعیل دہلوی اور اس کے متبعین نے قصد ادوار ادہ اور دانستہ طور پر ایسا کیا۔ المؤلف
حاشیہ ختم شد
مختصر یہ کہ شاہ اسماعیل کے غیر محتاط انداز بیان اور ایک خاص گروہ (یعنی علماء دیو بند ) کی طرف سے ان کی بے جا اور ناحق حمایت نے ایک ایسے فتنے کو سر اُٹھانے اور پینے کا موقع دیا جو 95 سال سے اُمت کے لئے در دسر بلکہ در وجگر بنا ہوا ہے، مولانا فضل حق کی فراست نے برمحل اس فتنے کا سد باب کرنا چاہا اور شاہ اسماعیل کی کتاب ” تقویۃ الایمان “ پر تنقید کی ۔36
علامہ سید محمد مدنی میاں جیلانی لکھتے ہیں : ” قرآن وحدیث میں آپ (ﷺ) کو جو خَاتَمَ النَّبِيِّنَ کا کہا گیا ہے ، اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ زمانہ کے لحاظ سے آخری نبی ہیں ۔ اب آپ کے عہد میں یا آپ کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی نہیں پیدا کیا جائے گا ، یہ وہ اسلامی عقیدہ ہے جو کتاب وسنت اور اجماع امت سب ہی سے ثابت ہے۔
ان حقائق کو ذہن نشین فرما کر آئے اور عہد جدید کے ” قاسم العلوم والخیرات “ کی بھی مزاج پرسی کرتے چلئے ، آپ بانی دارالعلوم دیو بند ہیں ، آپ نے اپنی کتاب ” تخدیر الناس “ میں لفظ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ میں تاویل فاسد کا سہارا لے کر غلام احمد قادیانی کے لئے دعوی نبوت کی راہ ہموار کرنے میں جو شاندار رول ادا کیا ہے، اس کے لئے امت قادیان آپ کی بجا طور پر شکر گزار ہے، بعض قادیانیوں کی تحریریں نظر سے گزری ہیں،
جس سے پتہ چلتا ہے کہ” ختم نبوت“ کے باب میں قادیانیوں کا موقف بالکل وہی ہے، جو” صاحب تخدیر الناس“، مولوی قاسم نانوتوی کا ہے ... اس کا اعتراف خود مولوی قاسم نانوتوی کے بعض بہی خواہوں نے بھی کیا ہے۔ یقین نہ ہو تو اُٹھا لیجئے شبستان اردو ڈائجسٹ، نئی دہلی ، نومبر 1974 ء کو مولوی فارقلیط صاحب کے قلم سے نکلے ہوئے یہ فقرے ملیں گے: بیج بویا علماء نے اور جب وہ تناور درخت ہو گیا تو اس کا پھل کھایا مرزا غلام احمد قادیانی نے ۔ (1) اپنے قلم سے اپنے قاسم العلوم کا یہ عقیدہ بتایا کہ اگر حضرت ے کے بعد کوئی نبی آجائے تو پھر بھی ختم نبوت نہیں ٹوٹے گی۔ علمائے دیو بند کو علمائے اہلسنت کا نام دے کر یہ کہا ہے : ” علمائے اہلسنت اور قادیانی ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں۔ چلتے چلتے بارگاہ خداوندی میں ان لفظوں میں دعا کی ہے کہ : ” جوفتنہ علماء دیو بند اور قادیانیوں نے برپا کیا ہے اس کا خاتمہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہو جائے۔
حاشیہ
(1)خطیب مشرق علامہ مشتاق احمد نظام الہ آبادی کھتے ہیں: موجودہ دور میں فتنوں نے جنم لیا ہے ان میں عظیم فتنہ نئی نبوت کا ہے، جس کا دروازہ دیو بند میں گھلا اور ڈرامہ قادیان میں اسٹیج کیا گیا۔37 المؤلف
حاشیہ ختم شد
فارقلیط صاحب نے ان باتوں کو اپنے گمنام دانشوروں کے طرف منسوب کیا ۔ ۔۔۔ہے خیر ۔۔۔۔یہ فارقلیط صاحب کی بولی ہو یا ان کے دانشوروں کی ، مگر بات تو سچی ہی ہے۔ ہاں پہلے فقرے میں جس بیچ کا ذکر ہے، فارقلیط صاحب کے دانشوروں کے خیال میں وہ ” نزول مسیح“ کا عقیدہ ہے۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ پیج ” تخدیر الناس“ کی عبارت ہے۔ جس کی روشنی میں مولوی قاسم نانوتوی کا یہ عقیدہ سامنے آتا ہے کہ اگر انحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی آجائے تو پھر بھی ختم نبوت نہیں ٹوٹے گی۔38
3 - مرزا غلام احمد قادیانی کو دعوی نبوت کے لئے تیار کرنے والوں میں حکیم نور الدین بھیروی ( جو شاہ عبدالغنی کا شاگردہ تھا بعد میں مرزا کا پہلا خلیفہ بنا) بھی تھا جو غیر مُقلّد (اہلحدیث ) تھا ، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ حلیم نورالدین غیر مقلد تھا اور معیوں اور غیر مقلدوں ( الحد بیٹوں ) میں لڑائی چلتی رہتی تھی اس نے کہا میں حنفیوں کو ایسا مزہ چکھاؤں گا کہ ساری عمر روتے رہیں گے، چنانچہ اس نے مرزا غلام احمد کو ابھارا کہ آپ میں نبی بننے کی صفات پائی جاتی ہیں اس لئے نبی بن جاؤ، چنانچہ انگریز کی مد اور نور الدین کی تائیدے ( جھوٹا ) نبی بن گیا، پھر مرزا ( غلام احمد قادیانی ) کو اسلم بے راج پوری غیر مقلد ( نام نہاد الحدیث ) کی شاگردی کرنے کا موقع ملا۔ اسلم بے راج پوری بھو پال کا رہنے والا تھا اور جامعہ ملیہ قرولی باغ میں اسلامیات کا پروفیسر تھا ، اس کی تربیت سے مرزا کے اندر انکار حدیث کا مادہ علی وجہ الائتم پیدا ہوا، مرزا ویسے تو ان پڑھ تھے لیکن انہیں اپنے مقصد کی اشاعت کے لئے ایسا بندہ مل گیا جو حد درجہ عیار اور پڑھتے لکھتے تھے ، اُن کا نام عامر احمد عثمانی ہے جس نے مرزا کے کفریہ عقائد ونظریات پر مشتل فقہ القرآن‘ نامی کتاب لکھی اور پرویز کی خوب خوب تر جمانی کی۔ 39
جس طرح ابن عبدالوہاب نجدی کے پیروکاروں (یعنی وہابیہ ) نے تقریر و تحریراً ، قولاً و فعلاً ہر طرح انگریز کے خلاف جہاد کی مخالفت کی چنانچہ رئیس المبتدعین اسماعیل دہلوی اور اس کے پیر سید احمد رائے بریلی نے متعدد بار یہ فتوی دیا کہ سرکار انگریزی پر کسی طرح بھی جہاد کرنا درست نہیں بلکہ اگر اُن پر کوئی حملہ آور ہو تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں ، اس کی تفصیل کے لئے تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار کا حاشیہ نمبر 14 ملاحظہ ہو۔ اور اس پر انہوں نے عمل بھی کر کے دکھایا کہ انگریزی سامراج سے نفرت اور اسلام سے محبت رکھنے والے غیور مسلمانوں کو صرف اس لئے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر ان کے جان و مال کو مباح سمجھا ، کہ وہ ان کی طرح انگریز کے وفادار اور اہل اسلام کے مدار نہ تھے با غیرت نہ تھے بے غیرت نہ تھے، ئے مسلمان تھے منافق نہ تھے دین کے لئے کٹنا مرنا جانتے تھے، چند رویوں کی خاطر بکنا نہیں جانتے تھے ، ان انگریز کے ایجنٹوں نے مسلمانوں کا جس قدر خون بہایا ، ان کے مال و اسباب لائے ، ان کی عزتوں کے ساتھ کھیلے، کتب تواریخ کے صفحات ان کے کالے کرتوتوں سے سیاہ ہیں، یہ لوگ جنگیں تو صرف سرحد کے مسلمانوں کے خلاف لڑے، تفصیل کے لئے تحریک حقائق بالا کوٹ کا مطالعہ کیجئے ۔ خدا برا کرے ان مورخوں کا جنہوں نے حقیقت کے خلاف لکھنا شروع کر دیا کہ ان لوگوں کا اصل مقصد انگریز کے خلاف جہا تھا لیکن ظاہر ہے کہ ایسے حضرات کا یہ بیان واقعات کے مطابق نہیں، نہ اس دعوے کا کوئی واضح ثبوت موجود ہے، ان کے ان تین جھوٹ کی تردید مقالات سرسید (حصہ نہم، ص 207 ) میں بھی مذکور ہے۔
1857 ء کے اس نازک دور میں جب نوابوں اور جاگیرداروں کی ایک بڑی تعداد اپنے مفاد کی خاطر انگریز کے خلاف کسی کاروائی کا حصہ بنے کو تیار ہ تھی بعض تو انگریز کے مفاد کے لئے کام کر رہے تھے، قوم و ملت کا درد رکھنے والے عالم اسلام کے رہنما علماء و مشائخ اور ان کے ساتھیوں نے انگریزی جبر واستبداد سے نجات حاصل کرنے ، قوم کو ان کے ظلم وستم سے بچانے ، دین متین کی حمایت کے لئے قوم کو جمع کرنا اور اُن کے جذبہ جہاد کو بیدار کرنا شروع کیا تو ان کے متبعین نے تقریر تحریر انگریز کے مفادات کو تقویت دینے کے لئے کام شروع کیا اور وقت آنے پر مسلمانوں کے خلاف انگریز کے ساتھ میدانِ عمل میں بھی کود پڑے۔ جیسے نام نہاد جماعت اہلحدیث کے سرغنہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے آقا کو خوش کرنے اور تحریک آزادی کو کمزور و نا کام بنانے کے لئے جہاد کی منسوخی پر الاقتصاد فی مسائل الجہاد کے نام سے ایک کتاب لکھ کر انعام و اکرام حاصل کیا، چنانچہ مورخ پروفیسر محمد ایوب قادری ” تواریخ عجیب“ یعنی ” کالا پانی“ از منشی محمد جعفر تھانیسری (ص 85-86) کے حواشی میں لکھتے ہیں: ”جماعت اہل حدیث کے سرکردہ مولوی محمد حسین بٹالوی (1256ھ 1328ھ) نے سرکار انگریزی سے موافقت اور وفاداری کا ثبوت اس طرح دیا کہ جہاد کی منسوخی پر ایک رسالہ ”الاقتصاد فی مسائل الجہاد“ تصنیف کیا ۔ مولوی مسعود عالم ندوی لکھتے ہیں : ” اس کتاب پر مولوی محمد حسین بٹالوی انعام سے سرفراز ہوئے ۔“ اور دوسری جگہ لکھا کہ: ”معتبر ثقہ راویوں کا بیان ہے کہ اس کے معاوضے میں سرکار انگریزی سے انہیں جا گیر لی۔“40
اور کسی نے مسلمانوں کے ہمدردوں ، اور قوم وملت کے لئے سرفروشی کا جذبہ رکھنے والوں کی مخبری کر کے انہیں گرفتار یا شہید کروا کے قوم سے غداری اور انگریز سے وفاداری کے ثبوت پیش کئے ، اور کوئی انگریز کو طاقت وقوت بہم پہنچانے کے لئے اس کی صفوں میں کھڑا ہوا، تو کوئی اُن کی طرفداری میں میدانِ جنگ میں اترا۔ غرض یہ کہ کسی نے میر جعفر کا کردار ادا کیا تو کسی نے میر صادق کا کوئی کھل کر سامنے آیا تو کوئی در پردہ اور ان غداروں اور ضمیر فروشوں، دین و قوم کے دشمنوں میں سر فہرست مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کا نام ہے چنانچہ ڈاکٹر اسعد گیلانی نے انگریزوں کا وفادار خاندان کے عنوان تحت لکھا کہ مرزا صاحب کا خاندان انگریزی حکومت سے جو پنجاب میں نئی نئی قائم ہوئی بھی شروع سے وفادارانہ و مخلصانہ تعلق رکھتا تھا، اس خاندان کے متعدد افراد نے اس نئی حکومت کی ترقی اور استحکام میں جانبازی و جانشیاری سے کام لیا تھا اور بعض نازک موقعوں پر اس کی مدد کی تھی۔41
محمد دین کلیم قادری جنگ آزادی 1857ء میں لاہور کا کردار کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ کتاب مرزائیت کا سیاسی محاسبہ میں لکھتے ہیں: 1857ء کے وسط میں بغاوت کے شعلے بھڑک اُٹھے ، قریب تھا کہ انگریزی راج اس بھٹی میں جل کر راکھ ہو جاتا، اندرونِ ملک کے بعض عناصر نے اس جلتی ہوئی آگ اپنے خون سے ٹھنڈا کرنے میں تمر بر قوم کا ساتھ دیا، ان میں پنجاب کا سکھ اور ضلع گورداس پور قصبہ قادیان کا ایک رئیس مرزا غلام مرتضی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ 42
یہ تو محمد دین صاحب کی بات ہے آئیے اب مرزائے قادیان کی بھی سنتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے بارے میں کیا بتاتے ہیں، اپنے باپ، دادا کے کونسے کارنامے سُناتے ہیں، چنانچہ مرزا صاحب کتاب البریہ کے شروع میں اشتہار واجب الاظہار“ میں لکھتے ہیں: ” میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے، میرا دادا دادا کی جگہ ترجمان اہلسنت میں والد ہے ) غلام مرتضی گورنمنٹ کی نظر میں وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی ، جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ اشیان پنجاب میں ہے اور 1857 ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے ، ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیات خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں، مجھے افسوس ہے کہ بہت سی اُن میں سے گم ہوگئیں، مگر تین چٹھیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں ، اُن کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں، پھر میرے دادا صاحب( ترجمان اہلسنت میں ہے کہ میرے والد ) کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تموں کے گزر پر (ترجمانِ اہلسنت میں ہے ترموں کے پین پر ) مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فو نے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔ 43
مرزا صاحب اگر خود ہی کہہ دیتے کہ میرا خاندان انگریزوں کا وفادار، اُن کا معاون و مددگار رہا، انگریزی استعمار کو مضبوط کرنے کے لئے اس خاندان نے یہ یہ کارنا ہے سرانجام دیئے تو اہل اسلام نے پھر بھی مان لیتا تھا کیونکہ مسلمان تو پہلے سے ہی یہ شور مچا رہے ہیں کہ یہ انگریز کے پھوا اور مسلمانوں کے غدار ہیں۔ مگر مرزا نے ایسا نہیں کیا بلکہ اپنے خاندان کی انگریز وفاداری اور باپ دادا کی جانثاری کو بیان کرنے کے لئے وہ ایک انگریز کو بطور گواہ لے کر آگئے تا کہ ان کی اسلام دشمنی میں کسی کو کوئی تر زد باقی نہ ر ہے، اور انگریز کو تو ان سے ضمیر فروشوں کی ضرورت تھی وہ ان کی تعریف اور ان کی خدمات کا اعتراف کیوں نہ کرے گا کیونکہ اس نے ان سے اور ان جیسوں سے اور بھی بہت سے کام لینے تھے، اسے ہند میں اپنے قدم جمانے ، اقتدار کو طول دینے کے لئے ان کا حاجت تھی ۔
کیونکہ انگریز جانتا تھا کہ مسلمانوں میں فتح و نصرت اور ان کی اسلامی زندگی اور ماتی خدمات کا سب سے بڑا ذریعہ ہمیشہ سے ان کا جذبہ جہاد رہا ہے، اور مسلمانوں کی ہزار سالہ تاریخ اس کے سامنے تھی کہ جب بھی اور جہاں بھی غیر مسلم قوم نے مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کی کوشش کی ، ان کو اُن کی زمین اور آزادی سے محروم کرنے کی سعی کی ، ان کے دینی تشخص کو مٹانا اور ملی اقداروں کو بدلنا چاہا اس وقت وہاں مسلمانوں نے جہادی تحریکیں چلا کر جابرانہ و ظالمانہ کاروائیوں کا سختی سے مقابلہ کیا اور اس نے دنیا کے مختلف خطوں میں دیکھ لیا تھا کہ مسلمانوں کے جن علاقوں میں بھی فرنگی سامراج نے اپنے قدم جمانے چاہے، مسلمانوں کی جہادی تحریکوں نے اس کے قدم اکھاڑ دیئے ، جہاں جانا چاہا تو مسلمانوں کے جذبہ جہاز نے ان کا راستہ روک لیا، اور پھر ہند میں انہوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی ، مزاحمت کا سب سے بڑا خطرہ اُسے مسلمان قوم سے ہی تھا ، صرف خطرہ ہی نہیں تھا بلکہ اسے یقین تھا کیونکہ وہ تجربہ بھی کر چکا تھا، اس لئے اس استعماری قوم کو اس کی اشد ضرورت تھی کہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد کا توڑ تلاش کیا جائے تا کہ وہ بآسانی استعمار کی غلامی پر راضی ہو سکیں لیکن ظاہر ہے کہ اہلِ اسلام میں جو جذ بہ قرآن وسنت کی تعلیمات کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو اُسے ختم کر دینا آسان کام نہیں ہے، اور ایسی تعلیمات جو مقدس کتب پر مشتمل ہوں اور وہ کسی قوم کی روایات کا حصہ ہوں انہیں چند تقاریر یا ایک آدھ مضمون سے زائل نہیں کیا جا سکتا تھا ۔
اور مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے انگریزوں کی پریشانی کا اندازہ ڈبلیوڈ بلیو ہنٹر کی کتاب ہمارے ہندوستانی مسلمان (Our Indian Muslims) سے بھی ہوسکتا ہے اس نے واضح طور پر لکھا ہے کہ مسلمانوں میں جہاد کے تصور ان کی سلطنت کے لئے ایک مستقل خطرہ ہے، انگریزوں نے ایک طویل استبداد کے بعد یہ محسوس کیا کہ بہیمانہ نید و اجتماعی ہو یا انفرادی مسلمانوں سے اس جذبہ کو محو نہیں کر سکتا ، تو انہوں نے جہاد کے خلاف مباحث پیدا کر کے علماء سے فتوے حاصل کرنے شروع کئے ، اور کلام اللہ کی تفسیروں کا مزاج بدلوانا چاہا۔ ڈاکٹر ہنٹر کی محولہ کتاب سے اُن علماء و فضلاء کا پتہ چلتا ہے جو اس وقت تنیخ جہاد کا فتوی دے رہے تھے ۔ 44
غرض یہ کہ انگریز کی اشد ضرورت تھی کہ وہ جہاد کے خلاف فتوے حاصل کرے، کتب در سائل لکھوائے اور انہیں شائع کروائے تاکہ مسلمانوں میں جذبہ جہاد کا تدارک ہو سکے اور ان کا استعمار محفوظ ہو جائے اور پھر وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت پڑھی لکھی نہیں ہے اور یہ لوگ اپنے روحانی رہنماؤں علماء و مشائخ کے پیروکار ہیں اور جو پڑھا لکھا طبقہ ہے وہ بھی ان سے بے پناہ عقیدت رکھتا ہے اور انہیں اپنارہبر و رہنما مانتا ہے، اس لئے اس نے اس کام کے لئے ایسے لوگ تلاش کرنے شروع کر دیئے جو پیری مریدی سے وابستہ ہوں یا علوم دینیہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ اور پھر بکنے والے، اپنی قوم وملت کے غدار، ہر قوم کے ہر طبقے میں پائے جاتے ہیں، اور منافق جب خیر القرون میں موجود تھے تو اس کے ہزار سال بعد کتنے ہوں گے، لہذا تلاش کرنے پر اسے ایسے لوگ مل گئے جو یہ کام بر انجام دینے کے لئے تیار تھے، غیر مقلدین یعنی نام نہاد اہلحدیث کے سرغنہ مولوی محمد مین بٹالوی ملے جنہوں نے تنسیخ جہاد پر الاقتصاد فی مسائل الجہاد نامی کتاب لکھ دی اور دوسرے اُن کو مرزا موصوف ملے جنہوں نے انگریز کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم اور جہاد کو منسوخ قرار دیا، چنانچہ مرزا غلام احمد نے برطانیہ (حکومت) کے نام اپنے ایک مکتوب میں اس کا اقرار فخریہ انداز میں اس طرح کیا کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب رسائل وکتا ہیں چھپوا کر مختلف ممالک میں پھیلا دی ہیں کہ انگریز گورنمنٹ ہماری محسن ہے، اس کا اطاعت ہر مسلمان پر فرض ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے ان غلط خیالات سے تو بہ کر لی جو نا ہم ملاؤں کی تعلیم سے اُن کے دلوں میں پیدا ہو گئے تھے، یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی ہے جس پر مجھے فخر ہے۔
اور مرزا نے دوسرے مقام پر لکھا: ”سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی کہ اسلام کے دو حصے ہیں، ایک خدا کی اطاعت کریں ، دوسرا یہ کہ جس نے امن قائم کیا ہو جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں پناہ دی ہو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے ۔ 45
اب اس نے یہ فتوی کسی دور میں دیا ، آیا جنگ آزادی 1857ء کے وقت دیا یا اس کے بعد مرزا کی تحریریں تاریخ بیان کرنے سے بالکل خاموش ہیں، اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس نے یہ کام 1857ء میں نہیں کیا تو اس کے بعد جلد ہی کیا تھا، جب کہ صدیق ارکانی صاحب نے صراحت لکھا کہ مرزا نے حرمت جہاد کا فتوئی 1857ء میں دیا، چنانچہ موصوف نے ایک عنوان مرزا نے انگریز کے ایماء پر حرمت جہاد کا فتوی دیا کے تحت لکھا کہ 1857ء میں مرزا نے انگریزی اطاعت کو واجب قرار دیا اور جہاد کو منسوخ قرار دیا الخ ۔
اور لکھا کہ مرزا نے جہاد کی حرمت و منسوخی کا اعلان 1857 ء میں کا کیا یہ اعلان و بیان اس وقت جاری کیا جب انگریز ہند پر قابض ہو چکا تھا۔ مسلمانانِ عالم پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے تھے اور علماء و مجاہدین انگریز کے خلاف گوریلا جہاد کر رہے تھے ۔ 46
بہر حال یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مرزا قادیانی کے خاندان نے جنگ آزادی 1857 ء میں انگریز کا بھر پور ساتھ دے کر مسلمانان ہند کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا، مرزا غلام احمد خود اور اس کے باپ دادا اور بھائی وغیرہ مسلمانوں کے دشمن تھے۔
1857 ء کا زمانہ مسلمانان ہند کے لئے ابتلاء و آزمائش کا زمانہ تھا، وہ دور بڑا کٹھن دور تھا ، تو ایسے مشکل وقت میں جو دشمن کا ساتھ دے اس کے ساتھ تعاون کرے، اس کا مددگار بنے تو وہ بھی دشمن ہی ہوتا ہے جب کہ دشمن سے بھی ہزار ہا درجہ زیادہ خطر ناک ہوتا ہے۔
جس طرح جنگ آزادی 1857 ء میں مرزا قادیانی کے خاندان نے اور اس کے بعد خود مرزا اور اس کے حواریوں نے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ لڑی اور انگریز کے مفادات کے لئے بھر پور کام کیا اسی طرح تحریک پاکستان میں اس تحریک کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع انہوں نے ضائع نہیں کیا تحریک سے باہر رہ کر اور اس میں شامل ہو کر ہر طرح سے اسے ناکام بنانے کی سعی کرتے رہے، اور ان کی پاکستان دشمن اور اسلام دشمن سرگرمیوں نے ہمیں نا قابل تلافی نقصان بھی پہنچایا کہ ایسے خطے پاکستان کے نقشہ میں شامل ہونے سے رہ گئے جو کئی اعتبارات سے ہمارے لئے بہت اہم تھے ، لہذا اس سلسلہ میں صادق علی زاہد کی ایک تحریر پیش کی جاتی ہے جو ماہنامہ ضیائے حرم لاہور کے اگست 1997ء کے شمارے میں شائع ہو چکی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
قادیانیت ایک سیاسی تحریک بھی ہے جسے برصغیر میں انگریزی استعمار کو طول دینے کے لئے تخلیق کیا گیا تھا لیکن اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اس پر مذہب کا لبادہ اوڑھا گیا، قادیانی اکابرین اپنے جنم دن سے ہی برطانوی استعمار کی بلا چوں و چرا اطاعت و وفاداری کا درس دیتے آئے ہیں ، اس گروہ کے اولین سیاسی و مذہبی پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی نے برملا اعتراف حقیقت کرتے ہوئے اپنی کتاب ” تبلیغ رسالت“ جلد 7 صفحہ 19 پر تحریر کیا:
قادیانیوں کا ہمارا جانثار خاندان سرکار دولت مدار و سلطنت العش کا خود کاشتہ پودا ہے، ہم نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے بھی بھی دریغ نہیں کیا۔ سے برطانوی استعمار کوطول دینے کے لئے عالم اسلام کے خلاف اس انگریز کے خود کاشتہ پودے نے جو خدمات سرانجام دی ہیں اگر ان کی تفصیل جمع کی جائے تو بقول مرزا غلام احمد قادیانی اس سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں ں الماریاں بھر سکتی ہیں، مگر اس وقت ہم زیادہ تفصیل میں جانے کی بجائے اجمالی طور پر صرف اس پہلو کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ اس نازک ترین دور میں جب عالم اسلام میں ایک انتہائی اہم اور عظیم تر ریاست ( پاکستان ) معرض وجود میں آرہی تھی تو قادیانی گروہ نے اس کی تشکیل میں کیا اہم خدمت سر انجام دیں۔
وائسرے ہند نے 12 نومبر 1930 ء کو انگلستان میں برصغیر کے اہم سیاسی لیڈروں نے کانفرنس طلب کی تاکہ ہندوستان کے داخلی امن و امان کا کوئی حل ڈھونڈا جا سکے کانگریسی لیڈروں نے اولا کا نفرنس کا بائیکاٹ کر دیا تھا ، اس کا نفرنس میں مسلم لیگی اکابرین نے مسلمانوں کو الگ قوم کی حیثیت سے دیئے جانے اور ان کے حق نمائندگی کو تسلیم کر لئے جانے کی وضاحت کی ، قائد اعظم محمد علی جو ہر اور سر محمد شفیع کے علاوہ اس کا نفرنس میں میر ظفر اللہ قادیانی نے بھی شرکت کی ، مگر اس کی شرکت کا مقصد کیا تھا اس حقیقت سے پردہ اقبال کے آخری دو سال کے مصنف ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی نے اٹھایا ہے ، آپ تحریر فرماتے ہیں: سر فضل حسین ممبر وائسر نے کونسل نے یوپی کے گورنر سر میلکم ہیلی کو 10 مئی 1930ء کو ایک خط کے ذریعے اپنی کار کردگی سے ان الفاظ سے آگاہ کیا: میں نہیں چاہتا کہ کانفرنس میں صرف جناح تقریریں کرے اور اسے کوئی ٹوکنے والا نہ ہو، ایسا نڈر آدمی کا نفرنس میں ضرور موجود ہو جو جناح کو دو بدو جواب دے اور یہ کہہ سکے کہ جناح کے خیالات ہندوستانی مسلمانوں کے خیالات نہیں ہیں بلا شبہ یہ کام مشکل بھی ہے اور ناگوار بھی بالخصوص ایسی حالت میں جب کہ اس نمائندے کی جس کے خیالات کی تردید منظور ہے حیثیت بہت بلند ہے مجھے یقین ہے شفاعت احمد اور ظفر اللہ اس فرض کی بجا آوری میں قطعاً دریغ نہیں کریں گے ، شفیع کے متعلق مجھے اندیشہ ہے کہ اگر اس نے جناح کی مخالفت میں کچھ کہا تو مبادا اسے ذاتی رقابت پر محمول نہ کیا جائے۔47
جناب جی الانا ( غلام علی الانا سابق وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی کراچی ) صاحب نے قائد اعظم محمد علی جناح اور پاکستان کے حوالے سے کئی ایک نہایت اہم اور تحقیقی تحریریں لکھی ہیں اور قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کے حوالے سے آپ کی تحریروں کو نہایت ہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے، آپ اپنی کتاب قائد اعظم میں تحریر فرماتے ہیں: تیسری گول میز کانفرنس منعقدہ 17 نومبر 1932 ء تا 24 دسمبر 1932ء کے موقع پر جب چوہدری رحمت علی کے پمفلٹ ، اب یا کبھی نہیں (Now or Never) پر بحث ہو رہی تھی تو ظفر اللہ خان قادیانی نے لفظ پاکستان اور اس اسکیم کو طلبہ کی اسکیم اور ایک نا قابل عمل اور باطل خیال قرار دیا ہے ۔48
23 مارچ 1940 ء کو منٹو پارک لاہور ( موجودہ اقبال پارک) میں منعقدہ مسلم قادیانیوں کا مسلمانوں سے لیا لیگ کے سالانہ جلسہ میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کے حصول کی قرارداد با قاعدہ منظور کر لی گئی اور علیحدہ ملک کے حصول کے لئے کوششیں تیز کر دی کہیں تو قادیانی اکابر بھی. تقسیم ہند کی مخالفت کے لئے جوتے اتار کر میدان میں آگئے ۔
13 اپریل 1947ء کو ظفر اللہ قادیانی کے بھیجے کا نکاح تھا، قادیانی خلیفہ ثانی مرزا محمود احمد نکاح کی تقریب میں شریک ہوا، اور اپنا ایک خواب سنایا جو قادیانیوں کے آرگن’’ الفضل“ میں شائع ہوا ، اخبار لکھتا ہے :
حضور نے اپنی رو یا بیان فرمایا جس میں ذکر تھا کہ گاندھی جی آئے ہیں اور حضور کے ساتھ ایک ہی چار پائی پر لیٹنا چاہتے ہیں اور ذراسی دیر لیٹنے پر فورا اُٹھ بیٹھے اور گفتگو شروع کر دی ، دوران گفتگو حضور نے گاندھی جی کو مخاطب کر کے فرمایا سب سے اچھی زبان اُردو ہے، گاندھی جی نے بھی اس کی تصدیق کی ، اس کے بعد حضور نے فرمایا دوسرے نمبر پر پنجاب ہے ، گاندھی جی نے اس پر تعجب کیا مگر آخر مان گئے ، اس کے بعد رویا میں نظارہ بدل گیا۔
اس خواب کی تعبیر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: یہ موجودہ فسادات سے متعلق ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہندو مسلم تعلقات ابھی اس حد تک نہیں پہنچے کہ صلح نہ ہو سکتی ہو، ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد کوئی بہتر صورت پیدا ہو جائے پھر حضور نے فرمایا: اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندوستان میں ہمیں دوسری اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے ساتھ مشارکت رکھنی چاہئے ۔49
5 اپریل 1947ء کو قادیانیوں کے ترجمان’’ الفضل“ نے ایک بار پھر اپنا موقف ان الفاظ میں دہرایا: ” بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری تو میں باہم شیر وشکر ہوکر رہیں ۔“
1944 ء میں ظفر اللہ خان قادیانی نے ایک پمفلٹ ہیڈ آف دی احمد یہ موومنٹ کے نام سے مرتب کیا ، اس پمفلٹ میں ہندوستان کی سیاسی صورت حال کے بارے میں قادیانی سربراہ مرزا محمود احمد کے خیالات و نظریات اور اس کی شخصیت کا تعارف کرایا گیا تھا، اس میں سر ظفر اللہ خان نے تحریر کیا کہ وہ مرزا محمود احمد اکھنڈ بھارت کے موید اور پاکستان جیسی علاقائی تحریک کے مخالف ہیں ۔ 50 قادیانیوں کی لندن مشن نے اس پمفلٹ کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی ۔
1945-46 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ کی شاندار کامیابی نے جب یہ ثابت کر دیا کہ اب مسلم لیگ کا مطالبہ (تقسیم ہند ) ماننا ہی پڑے گا تو قادیانی سربراہ مرزا محمود احمد قادیان سے دلی روانہ ہوا تا کہ برطانوی عہدہ داروں اور بر صغیر کے سیاسی قائدین سے گفت و شنید کر سکے۔
مرزا محمود احمد 26 ستمبر 1946 ء وتی روانہ ہوا اور اس کے ہمراہ دیگر قادیانیوں میں اس کے بھائی مرزا شریف احمد ، مرزا بشیر احمد ، ظفر اللہ خان کا بھائی اسد اللہ خان اور مولوی عبد الرحیم درد وغیرہ شامل تھے ۔ 51 قیام دہلی کے دوران برطانوی انٹیلی جینس کے افسران سے تبادلہ خیال کیا اور وائسرائے لارڈ ویول سے خط و کتابت کی ، مولوی عبدالرحیم درد کو خصوصی پیغام دے کر وائسرائے کے پرائیویٹ سیکریٹری کے پاس بھیجا، برطانوی دفتر خارجہ سے بھی رابطہ کیا اور طویل مذاکرات کے بعد برطانوی انٹیلی جنس کے تعاون سے ایک سازش تیار کی ، اس سازش سے پردہ اٹھانے کے لئے مندرجہ ذیل واقعہ بہت مدد دے سکتا ہے، سنئے :
غیر منقسم پنجاب کے سی آئی ڈی سب انسپکٹر پیر حسین رضوی تحریر فرماتے ہیں کہ 8 جولائی 1947ء کو پٹی اسپکٹر جنرل سی آئی ڈی مسٹر جنکسن نے آپ ( و بیر حسین رضوی ) کو ایک اہم لفافہ وائسرائے لیگل لاج تک پہنچانے تک کے لئے دیا، آپ پنجاب سیکریٹریٹ سے باہر آئے تو آپ کی ملاقات میاں ممتاز شاہنواز سے ہوگئی ، انہوں نے یہ لفافہ دیکھ لیا جس پر جارج ایبل پرائیویٹ سیکریٹری کا پتہ درج تھا ، قومی جذبے سے مغلوب ہو کر آپ نے یہ لفافہ کھولا تو اندر سے ایک اور لفافہ برآمد ہوا جس پر مسٹر لڈل چیف آف برنش سیکریٹ سروس کا پتہ درج تھا، اس لفافہ کو کھول کر اس کی نقل قائد اعظم کو پہنچا دی گئی ، 4 ستمبر 1947 ء کو قیام پاکستان کے بعد روزنامہ پاکستان ٹائمز نے اسے شائع کر دیا ، 25 دسمبر 1976ء کو قائد اعظم کی صد سالہ تقریب پیدائش کے موقع پر پاکستان ٹائمنز نے قائد اعظم نمبر شائع کیا تو مذکورہ خط پھر شائع کر دیا گیا ، خط کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے :
خفیہ اور ذاتی
پنجاب کلب لاہور
8جولائی .....1947 میرے پیارے لڈل
آپ کا خط نمبر 5 ایف 205 انڈیا 15 ڈی او جی محررہ 18 جون 1947 ء موصول ہوا، پاکستان کے بارے میں سب کچھ طے پا چکا ہے تاہم دیگر حالات انتہائی مبہم ہیں، پاکستان کی حتمی شکل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا، اور یہ بھی علم نہیں ہوا کہ اس میں حکومت کی ہیئت کیا ہو گی ، یہ تو بدیہی امر ہے کہ مسٹر جناح آمر کی حیثیت اختیار کر جائیں گے اور پوری قوت ایک منتخب ٹولے کے پاس ہو گی لیکن ان میں سے ہر ایک کا منصب کیا ہو گا اس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ۔ حالات کے پیش نظر ایسا موزوں وقت نہیں آیا جب ان! فراد کی نشاندہی کی جاسکے یا ان سے روابط استوار کئے جاسکیں کیونکہ کچھ پتہ نہیں کہ کون لوگ سامنے آنے والے ہیں۔
میرے خیال میں رابطہ افسر کا لائن پر کام کرنا درست رہے گا میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بہترین راستہ ہے لیکن احمد کو علم ہے کہ دہلی میں متعلقہ امور پر بحث کے دوران اس انتظام کے بارے میں اتفاق رائے پا گیا تھا، امید ہے احمد کو پاکستان کی بڑی اہمیت حاصل ہو گی ، چنانچه وه گذشته تصورات و نظریات سے پسپائی کو پسند کرے گا۔
آپ کا مخلص
ڈبلیواین پی هنکس
قرآئن سے واضح ہوتا کہ احمد سے مرزا محمود قادیانی مراد ہے اور دلّی میں اس کے ساتھ طے پائے جانے والے اُمور کا ذکر کیا گیا ہے، انگریز کو امید تھی کہ پاکستان کو میں جلد احمد کو اہم مقام حاصل ہو جائے گا اور قادیان کو آزاد ریاست بنانے کے نظریے سے پسپائی کے بعد پاکستان کے کسی حصے میں یہ کھیل کھیلیں گے ، اور بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ مرز امحمود احمد قادیانی نے بلوچستان اور کشمیر کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کی بھر پور کوشش کی ۔ (منیر انکوائری رپورٹ ، 1953 ء ) بلوچستان میں فل اور کشمیر میں پاکستان کے سی این سی مسٹر گلانی نے قادیانیوں کی بھر پور پشت پناہی کی ۔52
قادیانیوں کی بھر پور مخالفت کے باوجود جب تقسیم ہند ناگزیر ہو گئی اور پاکستان کا قیام ممکن نظر آنے لگا تو قادیانیوں نے پاکستان کی جغرافیائی صورت کو نقصان پہنچانے کی بھیانک کوشش کی ، حد بندی کمیشن جن دنوں پاک بھارت حد بندی کی تفصیلات طے کر رہا تھا، اور مسلم لیگی و کانگریسی نمائندے اپنا اپنا موقف پیش کر رہے تھے، تو باؤنڈری کمیشن اس وقت ورطہ حیرت میں پڑ گیا جب قادیانی گروہ نے اپنے بانی کے مولد و مرکز قادیان کو ویٹی گن سٹی قرار دینے کا مطالبہ کر دیا، قبل ازیں مرز امحمود احمد سر براہ قادیانی گروہ نے لندن مشن کے مبلغ مشتاق احمد باجوہ کی معرفت لیبر حکومت کو ایک میمورنڈم روانہ کیا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ قادیانی کو رومن کیتھولک یوپ کے شہر و ٹیکن کی طرح آز اور ریاست کا درجہ دیا جائے لیکن لیبر حکومت کے سیاسی مدبر ہیرلٹ بے لاسکی نے اس تجویز کو مستر و کر دیا کیونکہ متوقع قادیانی ریاست کی حیثیت ایک محصور علاقے کی سی بنتی تھی جس کا آزاد وجود تسلیم نہیں کیا جاسکتا تھا۔ مرزا بشیر احمد قادیانی نے سکھ لیڈ رور یام سنگھ سے آزاد پنجاب کے سوال پر گفت وشنید کی اور پنجاب کو تقسیم ہونے سے بچانے اور قادیان کے تحفظ کے لئے کافی تگ و دو کی جو کامیاب نہ ہوسکی ۔ 53
لیبر حکومت کی طرف سے قادیان کو آزار ریاست تسلیم نہ کئے جانے کے بعد قادیانیوں نے حد بندی کمیشن کو غلط اعداد و شمار پیش کر کے آزاد قادیان حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی ، حد بندی کمیشن کو پیش کئے جانے والے میمورنڈم میں قادیانیوں کے علیحدہ مذہب سول و فوجی ملازمین کی مبالغہ آمیز تعداد کیفیت اور آبادی کی تفصیلات درج ہیں، چند برس قبل حکومت پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والی انگریزی کتاب پنجاب کی تقسیم کی جلد اول ص 428 تا 469 میں قادیانی عرضداشت اور اس کی جملہ تفصیلات درج ہیں ۔ 54
قادیانیوں کے الگ محضر نامہ پیش کرنے کی نتیجہ میں قادیانیوں کا الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کو تسلیم نہ کیا گیا البتہ باؤنڈری کمیشن نے اس محضر نامہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ شمار کر دیا ، اس طرح گورداس پور کا ضلع جس کی ہندو مسلم آبادی کا تناسب 49 اور 51 فیصد تھا غیر مسلم 49 فیصد اور مسلمان بشمول قادیانی گرده 51 فیصد ) قادیانیوں کے علیحدہ شمار ہونے پر الٹ ہو گیا یعنی مسلمان 49 فیصد رہ گئے اور غیر مسلم 51 فیصد ہو گئے اس طرح گورداس پور کو مسلم اقلیت کا ضلع قرار دے کر اس اہم ترین علاقہ کو بھارت کے حوالہ کر دیا گیا ، اور نہ صرف یہ کہ گورداس پور پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا بلکہ بھارت کو کشمیر تک پہنچنے کا آسان راستہ میسر آ گیا جب کہ یا ہٹ گیا۔ میرے ہفت روزہ چٹان کو انٹرویو دیتے ہوئے معروف مسلم لیگی راہنما جناب میاں امیر الدین نے فرمایا: باؤنڈری کمیشن کے مرحلہ پر میر ظفر اللہ خان قادیان کو مسلم لیگ کا وکیل بانا مسلم لیگ کی سب سے بڑی غلطی تھی جس ۔ جس کے ذمہ دار خان لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی تھے۔
نیز آگے چل کر آپ فرماتے ہیں: اس ظفر اللہ خان نے پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ پٹھانکوٹ کا علاقہ اس کی سازش کی بنا پر پاکستان کی بجائے ہندوستان میں شامل ہوا ۔ 1
1۔ ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی ہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک پاکستان کا بننا اصولاً غلط ہے۔ 55
2 ۔ میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضا مندے ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور ہم کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائیں ۔ 1
3۔ ممکن ہے کہ عارضی طور پر کچھ افتراق ہوا اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں (مسلم اور ہندو ) الگ الگ رہیں مگر یہ حالت عارضی ہو گی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان ہے ۔ 56
قادیانیوں کی طرف سے ہر طرح کی رکاوٹیں اور مشکلیں پیدا کرنے کے باوجود اللہ کے فضل و کرم سے جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آیا تو اب قادیانیوں نے نئے انداز ہے اس ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور بدنام کرنے کے منصوبے بنائے ، اس سلسلہ میں چند ایک حقائق کو تحریر کرنے کے بعد میں اپنے مضمون کو ختم کر دوں گا۔
پاکستان کی پہلی کا بینہ اور پاکستان کیوں ٹوٹا کے حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انگریز وائسرائے کے دباؤ کے تحت عظیم قائد محمدعلی جناح کو بادل نخواستہ بعض غلط فیصلے کرنے پڑے، جن میں قادیانی وزیر خارجہ کا تقرر ، جو گندرناتھ منڈل کو وزیر قانون بنانا اور آزاد پاکستان کی افواج کا کمانڈر انچیف ایک انگریز ( ڈگلس گریسی) کو بنانا شامل ہیں، تاریخ بتاتی ہے کہ ظفر اللہ خان قادیانی کی باؤنڈری کمیشن میں پاکستان موقف سے دلبرداشتہ ہو کر قائد اعظم انہیں کسی طرح بھی وزیر نہیں بنارہے تھے مگر انگریز وائسرائے نے اس کی تقرری پر بہت اصرار کیا، یہاں تک کہ دھمکی دی کہ اگر ظفر اللہ خان قادیانی کو وزیر نہ بنایا گیا تو اختیارات کا منتقلی کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔ 57
قائد اعظم نے ظفر اللہ خان قادیانی کو وزیر خارجہ تو بنا لیا مگر اس کی کارکردگی سے آپ مطمئن نہیں ہوئے ، 1948 ء میں راجہ صاحب محمود آباد کی کراچی آمد کے موقع پر آپ نے اپنے خدشات کا برملا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
قادیانی وزیر خارجہ کی وفاداریاں مشکوک ہیں ، میں ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوں اور عملی اقدامات اٹھانے کے لئے مجھے مناسب وقت کا انتظار ہے۔58
افسوس کہ اس مناسب و سب وقت سے قبل جس کا قائد اعظم کو انتظار تھا آپ کی موت ہو گئی ، قادیانی وزیر خارجہ کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کی تفصیل قادیانیت کا سیاسی تجزیہ جلد اول بس 473 تا 587 پر مفصل درج ہے۔
گاندھی کے قتل پر قادیانی سربراہ نے پنڈت نہرو کے نام تعزیت نامہ عالیہ پیغام کے ساتھ ان الفاظ میں بھیجا : جانتا ہے کہ باوجود اس کے کہ نہیں ہمارے مقدس مرکز ( قادیان ) سے زبردستی نکالا گیا ہے مگر ہم آپ کے اور آپ کی حکومت کے خیر خواہ ہیں ۔ 59
صوبہ بلو چستان کو قادیانی اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کی تجویز 1948 ء میں مرز امحمود قادیانی نے ان الفاظ میں دی : بلوچستان کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا تو کوئی مشکل نہیں پس جماعت اگر اس طرف پوری توجہ دے تو اس صوبہ کو بہت جلد احمدی بنایا جا سکتا ہے، اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو گا جس کو ہم اپنا صو بہ کہ سکیں ۔
پس میں جماعت کی توجہ اس بات کی طرف دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کے لئے یہ عمدہ موقع ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں، پس تبلیغ کے ذریعے بلوچستان کو اپنا صوبہ بنا لو تا کہ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔ 60
محسن پاکستان قائد اعظم کی وفات کے صرف تین دن بعد یعنی 14 ستمبر 1948ء کو انگریز گورنر فرانس موڈی کی خاص دی پی سے چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے کنارے 11033 ایکڑ سات کینال آٹھ مرلے اراضی انجمن احمد یہ " کو ایک آنہ فی مرلہ کے حساب سے فروخت کر دی گئی۔ 1 قادیانیوں نے اپنا مرکز قادیان اور حکومت پاکستان کے مقابلے میں ایک متوازی حکومت قائم کر لی ، جماعت کا لیڈرا میر المومنین بن بیٹھا، وزارتوں کے مقابلہ میں نظارتیں قائم ہوگئیں ، فوج پاکستان کے مقابلہ میں خدام الاحمدیہ کا ظہور ہوا اور بوہ میں کسی غیر احمدی کا داخلہ قانو نا بند کر دیا گیا۔ 61
جنوری 1952ء کو قادیا نیت کا سال قرار دیتے ہوئے قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے یہ اعلان مشتہر کرایا: ” یہ ہمت کریں اور تنظیم کے ساتھ کام اور محنت کریں تو 1952ء میں ایک انقلاب بر پا کر سکتے ہیں ۔ 1952 ء گزرنے نہ دیجئے کہ احمد کا رعب دشمن ( مسلمان ) اس رنگ کی بو محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جا سکتی اور وہ مجور ہو کر احمدیت کی گود میں آگرے۔ 62
دوسرا قادیانی سربراہ مرزا بشیر الدین محمود احمد پاکستان کے ختم ہو جانے کی حسرت دل میں لئے جب مرنے لگا تو وصیت کر دی کہ مجھے عارضی طور پر ربوہ میں دفن کیا جائے بعد میں قادیان کے بہشتی مقبرہ میں میری قبر بنائی جائے اس کی جماعت نے اس وصیت قبر پر ان الفاظ کے ساتھ کندہ کروادی : جب حالات سازگار ہو جائیں تو میری میت کو یہاں سے نکال کر قادیان میں دفن کیا جائے ، جماعت پر فرض ہے کہ وہ میری وصیت پر ہر حافظ سے پورا پورا عمل کریں ۔63
ابھی چند برس قبل قادیانیوں نے مذکورہ کنندہ شدہ الفاظ مرزا محمود کی قبر سے مٹانے میں بقول شورش کا شمیری مرحوم ۔
اواخر دسمبر میں پاکستان فوج کے ایک لفٹنٹ کرنل نے معروف احراری لیڈ رسید عطاء اللہ شاہ بخاری سے ملاقات کی اور بیان کیا کہ ہم قیام پاکستان سے قبل قادیانیت کے متعلق علماء کرام کے تعاقب کو ایک فضول مذہبی جھگڑا سمجھتے تھے لیکن پاکستان بن جانے کے بعد جو حقائق ہمارے مشاہدے میں آئے ہیں، اور جن تجربوں سے ہم گزرے ہیں وہ اتنے سمین ہیں کہ پاکستان کی درجہ اول کی لیڈرشپ کے بعد
1 - پاکستان اپنی موجودہ ہیئت کھو بیٹھے گا اور اس کا کوئی دوسرا نقشہ نہ ہوگا۔
2 ۔ یا کسی نہ کسی طرح ہندوستان کی طرف پلٹ جائے گا۔
3 - یا اس کی حیثیت ایک مرزائی ریاست کی سی ہوگی ۔
ان تینوں میں جو شکل جس طرح قائم ہوگی اس کے پس منظر میں مرزائی ہوں گے، اس غرض سے اندرونِ خانہ وہ اپنے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ 64
تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے ابتدائی ایام میں قادیانیوں کے کردار کی ایک جھلک میں نے دکھائی ہے، قیام پاکستان سے لے کر اب تک یہ کتنے گھناؤنے کردار کے حامل رہے ہیں ، اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، البتہ تحریک ختم نبوت 1953 ء جنگ ستمبر 1965ء، جنگ دسمبر 1971 ء سقوط ڈھا کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کا قتل ، ضیاء الحق کے طیارے کا حادثہ جیسے اہم قومی سانحات کے پیچھے قادیانی سازشوں کے بین اور ناقابل تردید ثبوت راقم کے پاس محفوظ ہیں ، اگر کبھی مناسب وقت ملا تو انشاء اللہ ضرور آپ تک پہنچا دوں گا۔ 65
قوم و ملت کے ان غداروں کا تذکرہ عنوان جنگ آزادی 1857ء اور عنوان ان کی تحریک پاکستان کے تحت ہوا ، ان کی ملک دشمنی مضبوط اور ٹھوس دلائل کی روشنی میں سابقہ صفحات میں بیان ہوئی ، اب پیر کرم شاہ صاحب ازہری کی زبانی بھی ان کی غداریاں اور کارگزاریاں سنئے، چنانچہ پیر محمد کرم شاہ ازہری نے ایک تحریر کے دوران فرمایا: غداریوں کا کونسا واقعہ پیش کروں جس وقت پاکستان بنا اور ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم ہوئی ، تو باؤنڈری کمیشن کے سامنے تمام قوموں نے اپنی اپنی نمائندگی کی تو گورداسپور کا ضلع پاکستان کے حصے میں آنے والا تھا کیونکہ وہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن قادیانیوں نے کہا کہ جی ہماری تعداد مسلمانوں سے الگ کریں، چنانچہ ان کی تعداد الگ کرنے سے مسلمانوں کی تعداد کم ہوگئی ، ہندوؤں کی تعداد زیادہ ہوگئی اور نتیجہ گورداسپور کا ضلع ہندوؤں کو مل گیا ، جو کشمیر کے نقطہ نظر سے بھی ہمارے لئے انتہائی اہم ہے۔
کشمیر ہمارے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، ہماری شہ رگ ہندو کے قبضہ میں گئی تو ( قادیانیوں ) ان کی خباثت کی وجہ سے ، ان کی غداری اور بغاوت کی وجہ سے، کیا ایسے غداروں کو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کی اُمت میں داخل ہونے کی اجازت دے سکتا ہے۔
پھر آپ غور فرمائیں، یہ اسرائیل جس کو آپ اچھی طرح جانتے ہیں، جس نے عالم اسلام میں وہ کہرام مچایا کہ ہزاروں لوگ کو قتل کر دیا گیا ، ان کو اپنے گھروں سے جلا وطن کر دیا گیا، مسجد اقصیٰ پر قبضہ کیا ، ان کے ساتھ کسی کا یارا نہ ہے تو اسی قادیانی قوم کا یارا نہ ہے، ان کا مشن آج بھی تل ابیب میں کام کر رہا ہے، تو وہ انہیں لوگوں کے ساتھ کام کر سکتے ہیں جو اسلام کے دشمن ہیں ، جو اسلام کے حق میں ہوں، جو مسلمانوں کے خیر خواہ ہوں ، ان کو تل ابیب میں یہ سرفرازی نہیں دی جاتی ، جو مرزائی ملت کو دی گئی ہے تو ان کی ، غداریوں کا کونسا قصہ سناؤں ، ان کی تو فطرت ہی یہی ہے جس نے خدا کے ساتھ غداری کی مصطفی ﷺ کے ساتھ غداری کی جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ غداری کی ، کیا وہ اس قابل ہو سکتے ہیں کہ وہ خدا کے بندوں میں شامل کئے جائیں۔
ننانوے کروڑ پچانوے لاکھ امتیوں کی قربانی دینا کوئی خالہ جی کا گھر ہے، پانچ لاکھ مسٹنڈے جن کا کام ہی وطن سے غداری کرنا ہے جن کا کام ہی دولت بٹورتا ہے، جنہوں نے یہ مذہب ہی اس لئے اپنایا ہے کہ نہیں نوکری مل جائے ، نہیں ویزہ مل جائے ، ایسے خود سر جو ہوا کرتے ہیں ، خدا کو ان کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب کی امت میں رہنے کی توفیق عطا فرمائے ، یہ دجال صفت لوگ وہ ہیں جو طرحطرح کے خواب رکھاتے ہیں، طرح طرح کے سینے دکھاتے ہیں ، طرح طرح کے لالچ دیتے ہیں ، ان کے غرب میں آنے کی کوشش نہ کریں، بچتے رہیں، بھوکے رہ لیں، پیٹ پر پتھر باندھ لیں، رکھی روٹی کھالیں، کوئی ضرورت نہیں ایمان بیچ کر دنیا کی دولت اکٹھی کرنے کی ۔
ان لوگوں سے بڑھ کر بد بخت اور کوئی نہیں جو دنیا کے عوض میں اپنے خدا کی رضا کو فروخت کر دیتے ہیں: مَا كَانَ مُحَمَّد أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمُ جس رب نے اے محبوب تیرے سر پرختم نبوت کا تاج سجایا ہے، اُس نے تجھے سرا جا منیر بھی بنایا ہے، اس نے تجھے رحمۃ للعالمین بھی بنا کے بھیجا ہے، جب تک اس کی یہ دنیا آبادر ہے گی ، تیرا مہر منیر چمکتا ہی رہے گا۔
تیری روشنی سے دل کی دنیا منور اور روشن ہوتی رہے گی ، انسانی زندگی کا ہر گوشہ اس حاب کرم سے فیضیاب ہوتا رہے گا۔
وَ كَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْء عَلِيمًا اُس سب کچھ جاننے والے نے تجھے یہ منصب رفع عطا فر مایا ہے، جس کے علم کے سامنے کوئی چیز مخفی اور پوشیدہ نہیں، یہ سارے انقلابات یہ ساری تبدیلیاں وہ سب کو جانتا ہے وہی چیز جس کو ساٹھ ستر سال پہلے کمیونزم نے بڑے جاہ و حشمت سے قبول کیا تھا کہ لوگوں کی جائیدادیں چھینو، ان کو دکانوں سے نکالو ، آج پھر و رو پہلی بات کی طرف آرہے ہیں۔
وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْء عَلِيمًا قیامت تک رو پذیر ہونے والے تمام حالات کو وہ جانتا ہے، اے محبوب اس نے تجھے سراج منیر بنایا ہے، جب تک اس کی خدائی قائم ہے اس وقت تک مصطفیٰ کریم ﷺ کی رفعت کا پرچم لہراتا رہے گا ، ہم تو خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی غلامی کا طوق ہمارے گلے میں ڈالا ، اس سے بڑا شرف اور کوئی نہیں ہے، تو اس نبی سے تعلق توڑ کر کیا ہم ان نبیوں کے ساتھ تعلق قائم کریں، دنیا میں کوئی ایسا نی نہیں آیا جس نے باطل کے جبروت کا مقابلہ نہ کیا ہو ، ابراہیم علیہ السلام آئے کیا انہوں نے غرور کے سامنے گھٹنے ٹیکے ، انہوں نے آتشکدہ نمرود کے سامنے جھکنا، اپنے لئے وجہ تو ہین سمجھتا ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں فرعون بر سر اقتدارتھا۔
اس کے جبر وظلم کے سارے واقعات آپ نے سنے ہیں، تو کیا موسیٰ علیہ السلام نے اس کے سامنے کبھی تعظیم بجائی ، اور اس کو کبھی اپنا حاکم اور مربی تسلیم کیا ، ہمیشہ اس کوللکارا اور اس کا مقابلہ کیا اور اس کو ہمیشہ حقارت کا نظروں سے دیکھا۔ تو جو شخص انگریز جیسی قوم کی خوشامد کرتے ہوئے اپنی قوم کی تقدیر کو اس کے ہاتھ فروخت کرنے کو تیار ہو ، وہ شانِ نبوت کے قابل نہیں ہے۔ بلکہ نبیوں کی جوتیوں میں بیٹھنے والے بھی ایسے فرعونوں کی پرواہ نہیں کیا کرتے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَ انْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اگر تمہارا نور ایمان سلامت ہے، تو دنیا کا کوئی نمرو دو کوئی فرعون تمہارے جھنڈے کو سرنگوں نہیں کر سکتا ، بشرطیکہ تمہارے دل میں ایمان پختہ ہو یقین کی شمع روشن ہو، اس میں شک اور بے یقینی کا دھواں نہ اٹھ رہا ہو ، شک اور بے یقینی کا دھواں اٹھنے لگے تو پھر وہ نو رختم ہو جاتا ہے ۔ 65
مرزا اور اس کے گروہ کا مسلمانوں کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ یہ ایک سوال ہے اس کے جواب کے لئے کہیں جانے کی ضرورت نہیں کسی عالم کی تحقیق نقل کرنے کی حاجت نہیں اس کا جواب ہم خود قادیانیوں سے ہی لیتے ہیں کہ تم بتاؤ کہ تم مسلمان ہو یا کچھ اور ، اور مسلمانوں سے تمہارا کیا تعلق یا واسطہ ہے؟ چنانچہ مرزا قادیانی کا خلیفہ کہتا ہے یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا چند مسائل میں ہے ، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ، رسول کریم ، قرآن ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ غرض آپ نے بتایا کہ ایک ایک چیز میں اُن سے اختلاف ہے۔66
اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ خود ہی اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ تصور کرتے ہیں کہ ان کو ہم مسلمانوں سے ایک ایک چیز میں اختلاف ہے، یعنی خدا اور سول کی ذات کے بارے میں ، اُن کے نظریات و اعتقادات ، قرآن کے بارے میں اُن کا ایمان و عقیدہ اور نماز و روزہ ، حج وزکوٰۃ کے بارے میں ان کے تصورات و خیالات اور ان کی سوچ ہم مسلمانوں سے جدا ہے اور اس کا اعتراف ان کے غیر مسلم ہونے کا صراحت اعتراف ہے، پھر ایک شخص خود کہے کہ میں مسلمان نہیں ہوں تو اہل اسلام بھلا اُسے زبردستی کیوں مسلمان قرار دینے لگے، اور کہے کہ مسلمانوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں تو مسلمان بھلا اُن سے کیوں کوئی تعلق جوڑنے لگے ۔
یہی تو ہم کہتے ہیں کہ قادیانی کافر و مرتد ہیں، یہی بات ہمارے علماء نے عوام المسلمین کو سمجھائی کہ ان سے بچو، ان سے دُور ہو کہ یہ لوگ صرف ہم مسلمانوں کے دشمن اور کا فر ہی نہیں بلکہ خطر ناک ترین دشمن اور بدترین کافر ہیں ، خود جہنم کا ایندھن ہیں اور تمہیں جہنمی بنانے میں سرگرداں ہیں ۔
یہ لوگ عوام المسلمین کو بہکانے کے لئے کہتے ہیں کہ ہم حضرت محمد ﷺ کو نبی اور رسول مانتے ہیں لہذا ہم میں اور تم لوگوں میں کوئی فرق نہیں ہے، ہم بھی تمہاری طرح مسلمان ہیں ، مولوی لوگ خوامخواہ ہمیں کافر کہہ کر تم لوگوں کو ہم سے متنفر کرتے ہیں اور اس طرح ہمارے بعض سیدھے سادھے، بھولے بھالے عوام ان کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں، ہم انہیں کہتے ہیں کہ اس طرح نہیں ہے جس طرح انہوں نے کہا، بات یہ ہے کہ کوئی شخص کسی نبی پر ایمان لانے کے بعد اس کا کلمہ پڑھنے کے بعد ، اس نبی کی شریعت کو مانے کے بعد ، دوسرے نبی پر ایمان لے آئے تو وہ اول کا امتی نہیں کہلا تا بلکہ دوسرے کا امتی ہو جاتا ہے، اس پر ایمان لانے والا کہلاتا ہے، باقی رہا ان کا ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبی ﷺ کو نبی و رسول مانا وہ کچھ مفید نہیں کیونکہ ہم بھی حضرت موسیٰ اور عیسی علیہا السلام کو نبی اور رسول مانتے ہیں مگر ہم ان انبیاء علیہما السلام کے امتی نہیں کہلاتے تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ جب سرور عالم ﷺ کے بعد کسی دوسرے نبی پر ایمان لے آئے تو یہ حضور کی اُمت سے خارج ہو گئے جب اُمت سے خارج ہوئے تو مسلمان نہ رہے چنانچہ اسے پیر محمد کرم شاہ ازہری نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: ” بعض ملک ایسے ہیں جن کی قومیت کا دارو مدار ملک کی سرحدوں پر ہوتا ہے، بعض ملک ایسے ہیں کہ ان کی قومیت کا دارو مدار زبان پر ہوتا ہے ، بعض ملک ایسے ہیں جن کی قومیت کا دار و مدار رنگ اور نسل پر ہوتا ہے، لیکن مذہبی دنیا میں قومیت کا مدار اس خاص نبی کے ساتھ ہوا کرتا ہے جس کے ساتھ اس کا خصوصاً تعلق ہوتا ہے مثلاً ہم مسلمان ہیں، ہم مانتے ہیں کہ ( حضرت ) موسیٰ
اللہ تعالیٰ کے رسول، نبی اور کلیم تھے ، ہم مانتے ہیں کہ حضرت عیسی
اللہ تعالی کے رسول اور کلمۃ اللہ تھے لیکن اس کے باوجود ہم یہودی کہلاتے ہیں نہ عیسائی، کیوں نہیں کہلاتے؟ اس لئے کہ اگر چہ ہم ان کو نبی مانتے ہیں لیکن ہم ان کے بعد اپنے آقا ( حضرت محمد ﷺ کو نبی مانتے ہیں۔ تو جب ہمارا خصوصی تعلق حضور ﷺ کی ذات کے ساتھ ہو گیا تو پھر ہم نہ یہودی بنے ، نہ عیسائی بلکہ محمدی اور مسلمان بنے ۔ اسی طرح عیسائی جو ہیں وہ موسی علیہ السلام کو مانتے ہیں لیکن کبھی انہوں نے اپنے آپ کو یہودی کو کہا نہیں،وہ اپنے آپ کو عیسائی کہتے ہیں حالانکہ وہ موسیٰ
کو مانتے ہیں ۔
ہم مسلمان حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی
کو مانتے ہیں لیکن ہم نے یہودی ہیں نہ ہم عیسائی ہیں بلکہ ہم مسلمان ہیں کیونکہ ہمارا نبی جو ہے وہ خاص ہے جس کا نام پاک ( حضرت محمد مصطفی ( ﷺ) ہے، تو معلوم ہوا کہ جب کسی خاص نبی کے ساتھ کسی قوم کی نسبت ہو جاتی ہے اس کا نیا شخص ہوتا ہے ہو جاتی ہے اس کا نیا قص ہوتا ہے اس کا پہلے کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں رہتا۔ اس طرح عیسائی اگر چہ ( حضرت ) موسی
کو مانتے ہیں لیکن وہ ( حضرت ) موسیٰ
کی امت نہیں ۔ بلکہ ان کی اپنی الگ قوم ہے کیونکہ ان کا نبی الگ ہے ۔ اس طرح ہم مسلمانوں کا ، اسی طرح جو حضور ا کے بعد کسی اور کو نبی مانے گا وہ کہتا ر ہے کہ میرا حضرت محمد ﷺ پر ایمان ہے میں ان کو نبی مانتا ہوں لیکن جب اس نے حضور ﷺکے بعد کسی اور کو نبی مان لیا تو اس امت کے ساتھ اس کا تعلق نہ ہوا، بلکہ نئی اُمت آگئی اور اس نئے نبی کی وجہ سے اس کا نیا تشکل آ گیا اور پہلی اُمت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہ رہا ۔ 67
مزید لکھتے ہیں: ” تو مذہب کی دنیا میں قوموں کا اختلاف ملک کی وجہ سے نہیں ، زبان کی وجہ سے نہیں ، رنگ کی وجہ سے نہیں ، بلکہ اُن میں اختلاف ہوا کرتا ہے تو اس وقت جب کسی نئے نبی کے ساتھ ان کا خصوصی تعلق قائم ہوتا ہے اور اس بنیاد پر ایک نئی قوم معرض وجود پر آجاتی ہے۔
تو ( کوئی شخص ) جب بھی کسی قوم اور نبی کو مانے گا ، اس کی نبوت پر ایمان لے آئے گا اور بیعت کرے گا تو پہلی اُمت کے ساتھ اس کا تعلق قائم نہیں رہے گا ، (اگر چہ ) وہ لاکھ بار ) کہتا رہے کہ میں محمد مصطفی ملالہ کو رسول مانتا ہوں . اس کا غلامان مصطفی ہے کے ساتھ اس دن سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے جب محمد عربی ( ﷺ) کو چھوڑ کر کسی اور نبی کی نبوت پر ایمان لاتے ہیں ، اس لئے سرکار دو عالم ﷺ کے بعد جو کسی اور نبی کو مانتے ہیں، ان کا محمد عربی ﷺ کی امت کے ساتھ واسطہ اور کوئی تعلق باقی نہیں رہا، وہ مانتے ہوئے بھی اس امت سے خارج ہو جاتے ہیں ۔68
اس طرح وہ لوگ مسلمان ندر ہے اور ابتداء میں اہلسنت و جماعت کا اس بارے میں جو عقیدہ بیان کیا اس کی روشنی میں یہ خود تو کافر و جہنمی ہوئے اور ان کو مسلمان سمجھنے والا اور ان کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
اور آئیے اب یہ بھی دیکھیں کہ عالم اسلام میں ان کے بارے میں کیا رائے پائی جاتی ہے، اہل اسلام کا پڑھا لکھا طبقہ جن میں دینی تعلیم رکھنے والے اور مغربی تعلیم یافتہ بھی شامل ہیں، ان کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے چنانچہ ہم اسے ” عالم اسلام اور قادیانیت کے عنوان سے بیان کرتے ہیں :
قادیانیت و مرزائیت کے یوم پیدائش سے لے کر عالم اسلام میں اس کی مخالفت کا آغاز ہو گیا جیسے جیسے اُن کے افکار و خیالات عام ہوتے گئے ، اہل اسلام کو ان کے عقائدو نظریات کی اطلاع ملتی گئی، مسلمانوں میں ان کی مخالفت زور پکڑتی گئی ، عوام الناس کو ان کے کفر وارتداد سے بچانے کے لئے علماء کرام و مشائخ عظام کی کوششیں تیز تر ہوتی گئیں، اخبارات و رسائل ، کتب و جرائد، غرض یہ کہ ہر طرح سے ان کی تردید ہونے لگی جب حکومت کا ان سے تعاون یا ان کے بارے میں خاموشی بڑھی تو احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ، یہاں پر صرف چند مشہور فیصلے نقل کئے جاتے ہیں ، ان میں سے بعض فیصلے علماء ومشائخ کی کثیر تعداد نے کئے اور بعض اسمبلیوں میں ہوئے اور بعض آزاد عدالتوں میں ہوئے ، کچھ تو تقسیم ہند سے قبل ہوئے کچھ بعد میں اور پھر کچھ مسلم ممالک کی عدالتوں نے دیئے تو کچھ غیر مسلم کی عدالتوں نے ، بہر حال سب نے اس کو اسلام سے خارج قرار دیا، غیر مسلم سمجھا ، چنانچہ ان میں سے چند درج ذیل ہیں :
جس زمانے میں افغانستان میں قانون شرع کی رُو سے قادیانیوں کو مرتد قرار دے کر قتل کیا گیا اور اس کے خلاف مختلف گروہوں تنظیموں اور اخبارت و رسائل نے صدائے احتجاج بلند کی تو آل انڈیا سنی کانفرنس جو مشائخ و علماء اہلسنت کی ایک بڑی دینی و سیاسی جماعت تھی اور سات کروڑ مسلمانان ہند کی نمائندہ تھی ، یہی وہ جماعت تھی جو دو قومی نظریہ کی داعی اور مطالبہ پاکستان میں آل انڈیا مسلم لیگ کی محمد و معاون تھی ، اس کا تعاون اگر حاصل نہ ہوتا تو کانگریس کے مقابلے میں لیگ کی کوئی حیثیت نہ ہوتی ، لیگی رہنماؤں کی بات سننے بھی کوئی تیار نہ ہوتا ، انگریز حکمران بھی مطالبہ تقسیم ماننے کے ہرگز تیار نہ ہوتے ، لیگ میں جان اس کے دم سے تھی ، اس کے بغیر وہ بے جان تھی ، اور یہ حقیقت ہے جس کا اعتراف لیگی رہنماؤں نے کیا ، اس کا نفرنس نے 1925ء میں قادیانیوں کو مرتد قرار دیتے ہوئے ان سے بھر پور نفرت و بیزاری کا اعلان کیا اور حکومت افغانستان کو اجرائے حدود شرعیہ پر مبارک باد دی۔
چنانچہ 16 تا 19 مارچ 1925ء کو مراد آباد میں منعقد ہونے والے آل انڈیا سنی کا نفرنس کے اجلاس کے اعلامیہ میں حکومت افغانستان کے اس جرات مندانہ اور راست اقدام کی تائید ان کلمات کے ساتھ کی گئی ، علامہ نسیم احمد صدیقی نقل کرتے ہیں :
5 ۔ یہ اجلاس عام بادشاہ دولت خدا داد افغانستان حضرت امیر امان اللہ خان خلد اللہ ملکہ کے قتل مرتدین کو عین مطابق شرع پاتا ہے اور اجرائے حدود شرعیہ پر ہدیہ مبارکباد پیش کرتا ہے، جن اخباروں نے اس کے خلاف آواز بلند کی وہ بالیقین دین متین سے جاہل و بے خبر ہیں ۔ اجلاس ان کی اس خلاف شرع آواز پر سخت نفرت و حقارت کا اظہار کرتا ہے۔
6۔ یہ اجلاس عام : جو سات کروڑ مسلمانانِ ہند کا قائم مقام ہے اور ہر حصہ ملک کے علماء اہلسنت و جماعت پر مشتمل ہے مرزائیوں کی صدائے احتجاج کی بنا پر لیگ آف نیشنز اور گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلانا چاہتا ہے کہ حکومت افغانستان کا ہلاکت قادیان مذہبی مسئلہ ہے اس میں کسی حکومت کی مخالفانہ آواز صریح مذہبی مداخلت ہو گی جس کو مسلمان کسی طرح گوارا نہیں کر سکتے ، اس اعلامیہ کی روشنی میں مسلمانان ہند نے بھی قادیانیت سے نفرت و بیزاری اظہار کیا ۔ 69
مرزا غلام احمد اور ان کو مقتداء ماننے والوں کو خارج از اسلام سمجھنے میں دنیا بھر کے مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں جس کی توثیق مؤتمر المنظمات الاسلاميه في العالم (عالم کی تمام اسلامی تنظیموں ) نے کر دی ہے، دنیا بھر کی 108 اسلامی تنظیموں کی ایک کا ا نفرنس رابطہ عالم اسلام کے زیر اہتمام مکۃ المکرمہ میں 14 تا 18 ربیع الاول 1394ھ مطابق اپریل 1974 ء منعقد ہوئی، جس میں 140 نمائندے شریک ہوئے ، کانفرنس میں قادیانیوں سے متعلق جو قرارداد اور سفارشات متفقہ طور پر منظور ہوئیں ( وہ ) درج ذیل ہیں:
-1تمام اسلامی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ قادیانی معابد، مدارس، یتیم خانوں اور دوسرے مقامات میں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں ان کا محاسبہ کریں اور ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لئے عالم اسلام کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب کریں ۔
-2 اس گروہ کے کافر اور خارج از اسلام ہونے کا اعلان کریں اور ان کے جرم کی وجہ سے مقامات مقدسہ میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے ۔
-3 قادیانیوں سے عدم تعاون اور اقتصادی ، معاشرتی اور ثقافتی ہر میدان میں مکمل بائیکاٹ کیا جائے ، ان کے کفر کے پیش نظر ان سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے ، اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے اور ان سے ہر طرح کا فر جیسا سلوک کیا جائے ۔
-4 تمام اسلامی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کے ہر قسم کے ذرائع ورسائل پر پابندی عائد کی جائے ، ان کے لئے کلیدی آسامیوں پر ملازمتوں کا دروازہ بند رکھا جائے اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی فراخدلی سے کام نہ لیا جائے ۔
-5 قرآن مجید میں قادیانیوں کی تحریفات کی تصاویر شائع کی جائیں اور ان کے تراجم قرآن کا شمار کر کے لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے اور ان تراجم کی ترویج کا سید باب کیا جائے ۔ 70
قادیانیت ایک تخریب پسند فرقہ ہے، یہ اسلام دشمن طاقتوں کا معاون ہے، یہ کافر اور اسلام کا باغی ہے، مرزاغلام احمد قادیانی کے متبعین کی ہر سرگرمی پر پابندی لگانے کے لئے اسلامی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا دیا جائے ۔ 71
بر صغیر ہند و پاک کے تمام فرقوں کے علماء:}}رجب 1322ھ میں برصغیر ہندو پاک کے اندر پائے جانے والے تمام فرقوں کے کے علماء کے نام قادیانی کے بارے میں سوال بھیجے گئے تو بالا تفاق سب نے کافر ہونے کا فتوی دیا ۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو فتویٰ تکفیر قادیانی ، کتب خانہ اعزاز یه ، دیو بند )
علماء حرمین شریفین کے نزدیک یہ لوگ کافر و مرتد ہیں اور ان علماء کرام کے یہ فتاوی اعلیٰ حضرت نے 1324ھ میں جمع کر کے حسام الحرمین میں چھاپے۔
ان علماء نے لکھا کہ مرزا قادیانی کے پیرو کار کافر ہیں، یہ فتاوى مؤسسة مكة للطباعة و الاعلام نے شائع کئے ۔ 72
ڈاکٹر اقبال کے فرمان کے مطابق مرزائیوں کے فساد کا علاج یہ ہے کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے ۔ 73
قادیانی اسلام سے خارج ہیں: آئینی و قانونی طور پر با قاعدہ قادیانیت کو کفر قرار دینے میں پہل آزاد کشمیر اسمبلی نے کی ، چنانچہ مصباح الدین لکھتے ہیں : آزاد کشمیر کے زعماء پر جب قادیانیوں کی سازشوں کا انکشاف ہوا تو الحاج میجر محمد ایوب نے 28 اپریل 1973ء کو اسمبلی میں ان کے خلاف ایک قرارداد پیش کی کہ جس میں ان کو اقلیت قرار دینے اور ریاست میں ان کی تبلیغ کو ممنوع قرار دینے وغیر ہا کا ذکر تھا۔
اور قراردار متفقہ طور پر منظور کر لی گئی اور 24 مئی 1973 ء کو جناب سردار عبد القیوم خان صاحب صدر اسلامی جمہوریہ حکومت آزاد کشمیر نے توثیق فرمائی ۔
قادیانی خلیفہ ثالث مرزا ناصر احمد قرار داد پر چراغ پا ہو گئے اور ایک کتابچہ بعنوان ’’امام جماعت احمدیہ کا آزاد کشمیر کی ایک قرارداد پر تبصرہ “ شائع کر کے اپنا غیظ و غصہ اتارا، آزاد کشمیر پر ہی غصہ نہیں اُترا بلکہ پاکستانیوں کو بھی دھمکیوں سے نوازا، ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس قسم کے فساد ( قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جانا ) کے نتیجے میں پاکستان قائم نہیں رہے گا ۔ (ص 4) مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تعارف قادیانیت اور مسئلہ ختم نبوت مصنفہ مصباح الدین کا ص:113-112-1111
مصباح الدین لکھتے ہیں: (ہوا یہ کہ ) 29 مئی 1974ء کو قادیانیوں نے ایک سوچے مجھے منصوبے کے تحت ”ربوہ“ کے ریلوے اسٹیشن پر چناب ایکسپریس کو اس وقت تک رو کے رکھا جب تک اس پر سوار نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء کو بڑی بے دردی سے دل کھول کر زدو کوب نہ کر لیا اور اس بات کا ثبوت بہم پہنچادیا کہ ربوہ قادیانی ریاست ہے۔
قادیانی ٹولہ کی یہ حرکت ایک ایسا فتیلہ تھی جس سے فساد کی ملک گیر آگ بھڑک اٹھی، حکومت نے صمدانی ٹریونل مقرر کر کے مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کیا۔ ارباب اقتدار کو بھی احساس ہو گیا کہ قادیانی مسئلہ کا تصفیہ جس کو اب تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ملک کی سلامتی کے لئے ناگزیر ہے اور عوام کی طرف سے مطالبہ کی تکمیل کے لئے ایک مجلس معرض وجود میں آئی ۔ (اور ) وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس قضیہ کے لئے ایک مناسب صورت اختیار کی کہ معاملہ قومی اسمبلی میں پیش ہو اور وہ غور و خوض کے بعد فیصلہ دے کہ قادیانی مسلمان ہیں یا غیر مسلم ، اس مسئلہ کی چھان بین کے لئے ممبران قومی پر مشتمل ایک خصوصی کمیشن کی تشکیل ہوئی ۔
7 ستمبر 1974 ء کو وہ مبارک شام آئی جب جناب وزیر اعظم ( ذوالفقار علی بھٹو ) نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے فیصلے سنائے کہ مرزا غلام احمد کے ماننے والی دونوں جماعتیں (یعنی مرزا ناصر قادیانی کی جماعت اور لاہوری جماعت ) غیر مسلم قرار دے دی گئیں ۔
فیصلہ سناتے ہوئے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا کہ منکرین ختم ات کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ پوری قوم کی خواہشات کا آئینہ دار ہے، اس مسئلہ کو رہانے کے لئے 1953 ء میں ظالمانہ طور پر طاقت استعمال کی گئی تھی۔ 75}}یہ ایک سوال کہ آپ نے پڑھا کہ آزاد کشمیر اسمبلی اور پاکستان اسمبلی کے فیصلے پڑھے کہ جن میں ان کے اقلیت ہونے کا ذکر ہے مگر اصول شرعیہ کی رُو سے دیکھا جائے تو ان کی سزا وہ نہیں جو انہیں دی گئی ، اگر یہ سزا نہیں ہے تو پھر ان کی سزا کیا ہے اس کا جواب ہم آزادی ہند کے ہیر و تحریک پاکستان کے عظیم رہنما شیخ الاسلام رہنما شیخ الاسلام و المسلمین حضرات خو خواجہ محمد قمر الدین سیالوی
کی زبانی دیتے ہیں، چنانچہ آپ نے راولپنڈی میں منعقدہ مشائخ کانفرنس کے موقع پر فرمایا: کہا جاتا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دو، اقلیت تو ذمیوں کو کہا جاتا ہے جو شخص اسلام کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرے وہ (صرف) کا فرنہیں، ( بلکہ ) وہ مرتد ہے اور مرتد کی سزا شریعت (اسلامیہ ) میں قتل ہے، اگر میرے ہاتھ میں حکومت ہوتی تو میں قادیانیوں کا فیصلہ شریعت کے مطابق کرتا جس کی نظیر سید ناصدیق اکبر
نے قائم کی تھی۔76
اور پہلی سالانہ عظمت تاجدار ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر فرمایا: قادیا نیت عالم اسلام کے اتحاد میں زبردست رکاوٹ ہے، اس کا قلع قمع کئے بغیر ملتِ اسلامیہ کا وجود خطرے میں ہے، قادیانیت اسلام دشمن طاقتوں کی گہری سازش ہے، اس بدترین باسور کے خلاف جہاد مسلمانوں کا اہم ترین فریضہ ہے ۔77
جب یہ لوگ مرتد ہیں اور مرتد کی سزا اسلام میں قتل ہے جس کی بے شمار مثالیں تاریخ میں موجود ہیں اور اس سزا پر عالم اسلام کا اجماع بھی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ ان مرتدین کو صرف اقلیت قرار دے دینا کافی نہیں ، اس سے قبل مدعیان نبوت کو دیکھا جائے تو اس دور کے حکام نے ان کو مرتد سمجھ کر قتل کر دیا اور قوت طاقت ہونے کی صورت میں ان سے جہاد کیا۔ بعض کے ساتھ اسلامی لشکروں کا جہاد ایک طویل عرصے تک جاری رہا، غرض یہ کہ انہوں نے اس فتنے کو جڑ سے اکھیڑنے کی ہر ممکن کوشش کی اور اس میں بڑے بڑے نقصانات بھی برداشت گئے ، بے شمار مسلم مجاہد بھی شہید کروا دیئے مگر اس فتنے کو بڑھنے نہ دیا۔
حسب دستور آ ئین اور آرڈنینس 1984 ء کی پابندی کرنے کی بجائے شرعی عدالت سے خود کو مسلمان اور (اپنے ) عقیدہ کو اسلام کی توثیق کرانے کے لئے قادیانی اور لاہوری دونوں گروہوں نے الگ الگ درخواستیں داخل کیں ۔ فاضل جوں نے بحث و تمحیص کے بعد دونوں پیشنز خارج کر کے (ان کے) غیر مسلم ہونے پر تصدیق ثبت کر دی ۔ 78
اکتوبر 1975 ء میں فیڈرل اسمبلی نے قادیانی مسئلہ کی چھان بین کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ قادیانی خارج از اسلام ہیں ۔ 79
جلال الدین احمد نوری نے اسے ان الفاظ میں تحریر کیا: عدالت عالیہ اس نتیجہ پر پہنچی۔ ہے کہ مدعا علیہ قادیانیوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کا حق نہیں ہے، لہذا مسجد میں صرف مسلمان نماز پڑھیں گئے ۔ 80
حکومت ابوظہبی کا فیصلہ ہے کہ اس نے قاضی القضاۃ ( عدالت عالیہ ) کی سفارشات که قادیانی غیر مسلم ہیں ، ان کو بے نقاب کیا جائے اور ان کا داخلہ یہاں بند کیا جائے وغیرہ کو قبول کر لیا ہے ۔81
بھاگلپور عدالت 1923 ء کے فیصلے کے بموجب قادیانی مسلمان نہیں ، بورڈ میں ان کو نمائندگی حاصل نہیں تقسیم ہند سے پہلے ہی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کر دیا تھا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں ۔82
فریقین کے علماء جمع ہوئے ، دلائل نقلیہ و عقلیہ زیر بحث آئے، بیج محمد اکبر نے قادیانیوں کے ارتداد کی توثیق فرمائی، مسماۃ غلام عائشہ (مسلمان) کا عبدالرزاق ( قادیانی ) سے فتح نکاح کا فیصلہ صادر فرمایا۔ 83
ایڈیشنل سج راولپنڈی مؤرخہ 3 جون 1955 ء مسماة امة الكريم قادیانیہ بنام لیفٹیننٹ نذیر الدین مسلم ۔
حج صاحب نے فیصلہ سنایا کہ عدالت سماعت نے جو نتائج ( قادیانیہ مسلمان نہیں) اخذ کئے ہیں وہ درست ہیں، مسماۃ امتہ الکریم کی اپیل میں کوئی جان نہیں، لہذا اسے خارج کرتا ہوں ۔ 84
مدعيه مسماة امۃ الہادی ۔ مد عاعلیہ نذیر احمد برق قادیانی
جناب شیخ محمد رفیق گریجہ حج جیمس آباد نے فیصلہ صادر فرمایا کہ : مدعیہ ایک مسلمان عورت ہے، مدعا علیہ نے اپنا قادیانی ہونا تسلیم کیا ہے، غیر مسلم ہے لہٰذا مدعیہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مدعا علیہ کی بیوی نہیں ۔ تنسیخ نکاح کے بارے میں مدعیہ کی درخواست کا فیصلہ اس کے حق میں دیا جاتا ہے۔
یہ فیصلہ 13 جولائی 1969ء کو جناب قیصر احمد حمیدی جانشین جناب شیخ محمد رفیق گریجہ نے کھلی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ 85
جناب جسٹس افضل لون ( حج ہائی کورٹ ، راولپنڈی برانچ ) کا تاریخی فیصلہ : حسب شریعت محمدیہ علیہ التحیۃ والثناء قادیانی غیر مسلم کسی مسلمان کی میراث کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ مسلمان کسی غیر مسلم کا وارث بن سکتا ہے ۔ 86
ماریشس سپریم کورٹ ( ایک غیر جانبدار ، غیر مسلم عدالت ) کا مسجد روز بل کے متعلق بعد سب سے پہلا معاملہ (جو ہماری نظر سے گزرا ) ۔ دو سال کی طویل جرح و قدح کے بے 19 نومبر 1920 ء کو عدالت عالیہ نے یہ فیصلہ سنایا: ” مسلمان اور قادیانی ہم مذہب نہیں ، مسجد مسلمانوں کی ہے، امامت اور نماز کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے۔ 87
امیر امان اللہ خان کے دور حکومت میں حکومت کو کچھ قادیانیوں کے بارے میں اطلاع ہوئی کہ وہ اپنے جھوٹے نبی کے جھوٹے دین کی تبلیغ میں مصروف عمل ہیں، لہذا ان کو پکڑا گیا اور مرتد قرار دے کر قتل کر دیا گیا۔
اور حکومت افغانستان کے اس فیصلے اور جرات کو آل انڈیا سنی کانفرنس کے 16 تا 19 مارچ 1929 ء / شعبان 1343ھ مراد آباد میں منعقد ہونے والے چار روزہ اجلاس میں سراہا گیا اور حکومت افغانستان کے اس راست اقدام کی بھر پور تائید کی گئی اور اس کی کچھ تفصیل دستی کا نفرنس کا تاریخ تسلسل (مصنفہ مولانا نسیم احمد صدیقی ص 19) میں ہے۔
قادیانیوں کے خلاف علماء اسلام کے فتاوئی اور قراردادوں کی تفصیل علامہ فروغ احمد اعظمی مصباحی کی کتاب " تحریک ختم نبوت اور قادیانیت کا مطالعہ کیجئے ۔
لہٰذا قارئین کرام سے گزارش ہے کہ ان لوگوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور اگر کی طرح سے اُن کو اسلام دشمن یا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث پائیں تو حکومت یا عدالت سے رجوع کریں کیونکہ ہمارے ملک ( پاکستان ) کے آئین میں بھی انہیں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے اور عدالتی نظام میں بھی انہیں غیر مسلم قرار دے کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔
تحریک ختم نبوت میں علماء اہلسنت کی مسلسل تاریخی خدمات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ص کے باغی ، امت کے غدار مرزا غلام احمد قادیانی کی باطل تعلیمات کا علماء حقہ کو جیسے ہی اطلاع ہوئی ویسے ہی ان کی طرف سے اس فتنے کی مخالفت شروع ہو گئی ، انہوں نے اس سے اس فتنے سے باز رکھنے کی کوشش شروع کر دی، اُن کے لئے سب سے اہم عوام المسلمین کے ایمانوں کی حفاظت کرنا اور انہیں اس عظیم فتنے سے بچانا تھا ، اس عظیم فریضہ کے ادا کرنے ، بڑی ذمہ داری کو نبھانے کے لئے علماء و مشائخ کی طرف سے انفرادی اور اجتماعی کوششیں شروع ہوگئیں ، ان کے خلاف صدائے احتجاج بھی بلند کی گئی مگر انگریز اپنے خود کاشتہ پودے کے خلاف بھلا کسی کے احتجاج اور کسی بھی آواز پر کان دھرنے والا کہاں تھا ، یہاں تک کہ پاکستان معرض وجود میں آ گیا ، اس اسلامی ریاست اور مسلمانوں کے اپنے وطن میں ان کی سرگرمیاں جاری رہیں، باطل کی تبلیغ کرنا، مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ، عزیز وطن جس کے قیام کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دی تھیں اس کے وجود کو ختم کرنے کا پروگرام بنانا اور انہیں عملی جامہ پہنانا ان کا شیوہ تھا، عوام کو قادیانیت میں داخل ہونے کے لئے طرح طرح کے لالچ دینا اور ان کو ڈرانا دھمکانا ان کا کام تھا ، بڑے بڑے عہدوں پر یہ لوگ متمکن تھے، جو جس جگہ تھا اپنے خود ساختہ دین کی تبلیغ میں مصروف تھا، مسلمانوں کے ساتھ ظلم و نا انصافی کا بازار گرم کر کے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا تھا ، چند روز قبل حاجی محمد صادق صاحب سے ملاقات ہوئی کہ جن کا تعلق ضلع لدھیانہ مشرقی پنجاب سے تھا، وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان آنے کے بعد ہمارے تا بالا ہور سے ہم سب کے لئے چار مربع زمین الاٹ کروا کر لائے ، ساہیوال کے قادیانی A.D.C کو دیئے تو اس نے باوجود نگام بالا کی منظوری سے زمین دینے سے انکار کر دیا اور کہا زمین ملنے کی ایک ہی صورت ہے وہ یہ کہ تم قادیانی ہو جاؤ ، اگر تم نے ہماری یہ بات مان لی تو زمین بھی ملے گی اور لڑکی کا رشتہ بھی ۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ یہ لوگ کس طرح عہدوں اور منصبوں کو قادیا نیت کی تبلیغ کے لئے استعمال کرتے اور کس طرح مسلم عوام کو تنگ کرتے تھے ۔ اور ان کے خلاف علماء و مشائخ اہلسنت کی طرف سے تحریک کا آغاز تو قیام پاکستان سے بہت پہلے سے ہی ہو گیا ، مرزا اور اس کے حامیوں سے بحث مباحثہ اور مناظرے ہوتے اور اس میں سنی مشائخ اور علماء میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہا، جہاں اور جس علاقے میں اس فتنے نے قدم رکھا ہمارے عظماء کی طرف سے بھر پور مزاحمت ہوئی ، حاجی صاحب مذکور ہی نے بتایا کہ ہمارے والد و غیرہ حضرت میاں مکھن شاہ نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ سے بیعت تھے، حضرت سے وابستگی اور تعلق کی برکت سے اور ان کی مساعی سے ہم نے جیسے ہوش سنبھالا ہمیں یہ علم تھا کہ قادیانی کافر ہیں اور حضرت میاں مکھن شاہ علیہ الرحمہ ان لوگوں کے ساتھ ہونے والے علماء و مشائخ کے مباحث وغیرہ میں خود تشریف لے جاتے تھے اور اپنے پورے حلقہ میں ان کے خلاف بھر پور کام کرتے ۔ غرض یہ کہ سنی شیخ یا عالم جہاں بھی تھا ان کے خلاف سرگرم تھا، ان میں سے چند تو اس تحریک میں سب سے پیش پیش تھے گویا کہ تحریک کے غیر اعلانیہ قائد تھے جیسے ہمارے امام امام اہلسنت امام احمد رضا، حضرت پیر مہر علی شاہ و غیر ہم تقسیم ہند کے بعد جب ان موذیوں کی سازشیں اور ان کے مظالم بڑھے اور حکومت کی اس پر خاموشی نے طول پکڑا تو پاکستان میں با قاعدہ ایک تحریک تحریک ختم نبوت کے نام سے شروع ہوئی ، بہر حال علماء و مشائخ اور اہلسنت نے رد قادیانیت میں تقریرا تحریرا ، قولا عملاً غرض یہ کہ ہر طرح سے بھر پور کردار ادا کیا ، ہم علماء و مشائخ اہلسنت کی اس سلسلہ میں خدمات کے بارے علامہ محمد حنیف اختر کی ایک تحریر جو ماہ شعبان 1427 ھ کو ماہنامہ رضائے مصطفی، گوجرانوالہ میں شائع ہوئی من و عن پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے :
آج کل کچھ مخالفین زبانی تحریری طور پر یہ پروپیگنڈہ کرنے میں مشغول ہیں کہ سنی بریلوی علماء کی خدمات اس سلسلہ میں کچھ نہیں۔ یہ بات دو پہر کے وقت سورج کا انکار کرنے کے مترادف ہے، چنانچہ ذیل میں اس سلسلے میں چند تاریخی حقائق قلمبند کئے جار ہے ہیں تا کہ عوام الناس حقیقت حال سے روشناس ہو سکیں اور کسی غلط پروپیگنڈا کا شکار نہ ہوں۔
:ہندوستان کے شہر بریلی میں رہتے تھے اور مرزا قادیانی نے عقیدہ ختم نبوت کے خلاف تحریک ہندوستان کے ایک شہر قادیان سے شروع کی ۔
امام احمد رضا بریلوی
نے اس تحریک اور جھوٹی نبوت کے خلاف بھر پور قلمی جہاد کیا اور اعلیٰ حضرت کے بڑے صاحبزادے حجۃ الاسلام حضرت مولانا مفتی حامد رضا خان صاحب قادری بریلوی نے اس کا جورد کیا وہ بعنوان الصارم الربانی علی اسراف القادیانی شائع ہوا۔
اعلیٰ حضرت
کے علاوہ دیگر مشائخ و علماء اہلسنت کی رو قادیانیت میں مساعی بڑی وسیع ہیں ، قادیانیت کی تردید میں بریلوی علماء و مشائخ نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین سے مناظرے کئے ، ان کے خلاف کتابیں لکھیں، فتاویٰ جاری کئے ، اشتہارات شائع کئے ، اور مرزا او مرزائیوں پر دعوے کئے ، جن میں اُن کو ذلت اٹھانی پڑی ، ذیل میں ان میں سے چاند علماء و مشائخ کے اسمائے گرامی درج کئے جاتے ہیں :
امام احمد رضا محدث بریلوی ، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑ وی ، حضرت پیر جماعت علی شاہ علی پوری، پیر خواجہ اللہ بخش تونسوی، مولانا غلام دائگیر قصوری ، مولا نا کرم الدین صاحب، مولانا غلام قادر بھیروی ، مولانا سید دیدار علی الوری، پیر سراج الحق کرنالوی، مولانا نواب الدین شکوہی رحمۃ اللہ علیہم ۔ ان تمام علماء و مشائخ عظام نے تردید قادیانیت میں زبردست کارنامے سر انجام دیئے اور مرزا قادیانی نے 20 جولائی 1900ء کو اپنے مخالف 86 علماء کی جو ہرست شائع کی ان میں اکثر نام کئی بریلوی حضرات کے تھے، یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ 88
20 شعبان المعظم بمطابق 16 تا 19 مارچ 1925 ء کو تیسری سنی کا نفرنس کے چار روزه تاسیسی اجلاس کے موقع پر جو جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں منعقد ہوا، جس میں کثیر تعداد میں علماء و مشائخ نے شرکت فرمائی ، خصوصا صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ، پیر سید جماعت علی شاہ صاحب، حجت الاسلام علامہ حامد رضا خاں ، سید احمد اشرفی کچھو چھوی ، حضرت علامہ سید غلام قطب الدین برہمچاری، پروفیسر علی گڑھ یو نیورسٹی علامہ سید محمد سلیمان اشرفی ، حضرت علامہ شاہ احمد مختار میرٹھی ، علامہ عبد المجید آنولوی ، علامہ عبدالحفیظ آنولوی ، علامہ سید محمد محدث کچھو چھوی ، حضرت علامہ مولانا محمد یعقوب خان بلاسپوری ، علامہ سید محمد فاضل کچھوچھوی ، علامہ معون حسین رامپوری اور علامہ محمد یاسین چڑیا کوئی وغیر ہم، اس کا نفرنس میں پیش کی گئی تجاویز کی روشنی میں اعلامیہ اعلحضرت
کے خلیفہ علامہ شاہ احمد نورانی کے تایا مبلغ اسلام حضرت علامہ احمد مختار میرٹھی نے پڑھ کر سنایا، یاد رہے ان دنوں افغانستان کے فرمانروا امیر امان اللہ خان مرتدین اسلام قادیانیوں کو ارتداد جرم میں قتل کر دیا تھا، جو اس اعلامیہ میں کہا گیا کہ ” یہ اجلاس عام، بادشاہ دولت خداداد افغانستان کے امیر امان اللہ خان خلد اللہ ملکہ کے قتل مرتدین کو عین مطابق شرع مبین پاتا ہے اور اجرائے حدود شرعیہ پر ہدیہ مبارکباد پیش کرتا ہے، جن اخباروں نے اس کے خلاف آواز بلند کی ہے وہ بالیقین دین متین سے جاہل و بے خبر ہیں، اجلاس ان کی اس خلاف شرع آواز پر سخت نفرت و حقارت کا اظہار کرتا ہے ۔ یہ اجلاس عام ، جو سات کروڑ مسلمانان ہند کا قائم مقام ہے اور ہر حصہ ملک کے علماء اہلسنت و جماعت پر مشتمل ہے مرزائیوں کی صدائے احتجاج کی بنا پر لیگ آف نیشنز اور گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلانا چاہتا ہے کہ حکومت افغانستان کا ہلاکت قادیان مذہبی مسئلہ ہے اس میں کسی حکومت کی مخالفانه آواز صریح مذہبی مداخلت ہوگی جس کو مسلمان کسی طرح گوارا نہیں کر سکتے ، اس اعلامیہ کی روشنی میں مسلمانان ہند نے بھی قادیانیت سے نفرت و بیزاری اظہار کیا۔ 89
نیز علماء و مشائخ اہلسنت بریلوی نے قادیانیت کے رد میں تحریری طور پر بھی بڑا کام کیا، چنانچہ اس سلسلہ میں چند کتابوں اور ان کے مصنفین کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں: (1)المقالة المسفرة عن احكام البدعة الكفرة ، مصنف اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ( مطبوعه : 1884 ء ) - (2)السوء العقاب على المسيح الكذاب ، مصنف اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی (مطبوعہ: 1901 ) - (3)المستند المعتمد بناء نجاة الابد ، مولا نا فضل رسول بدایونی کی کتاب پر عربی میں حاشیہ، از اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی (مطبوعہ: 1902 ء ) ۔ (4) قهر الديان على مرتد بقادیان ، مصنف اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ( مطبوعه : 1899 ء ) - (5)جزاء الله عدوه بابائه ختم النبوة ، مصنف اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ( مطبوع : 1899 ء ) - (6)حسام الحرمين على منحر الكفر المين ، مصنف اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ( مطبوعہ : 1906 ء ) ۔ (7 ) رسالہ باب العقائد و الكلام ، در فتاوی رضویہ جلد اول ، مصنف اعلی حضرت فاضل بریلوی ( مطبوع 1917 ء ) ۔ (8)المبين ختم البنيين ، مصنف اعلی حضرت فاضل بریلوی ( مطبوعہ 1908 ء ) - (9) الجراز الدياني على مرتد قادیانی، مصنف اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ( مطبور : 1921 ء ) - (10) الصارم الرباني على اسراف القادياني، مصنف حجة الاسلام مولانا حامد رضا خان صاحب بریلوی ( مطبوع : 1897 ء ) - (11)رحم الشياطين على اغلوطات البراهين، مصنف غلام دستگیر قصوری صاحب ( مطبوعه : 1885 ء ) - (12) شمس الهدايه فى اثبات الحيات المسيح، مصنف حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی ( مطبوعہ : 1900 ) ۔ (13) سیف چشتیائی ، مصنف پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی ( مطبوعہ 1902 ء ) - ( 14 ) الالهام الصحيح في اثبات حيات المسيح، مصنف مولانا غلام رسول شهید امرتسری ( مطبوع : 1893 ء ) - (15) فوائد فرید یہ مصنف خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف ( مطبوعہ : 1900 ء ) ۔ ( 16 ) بے نقطہ قصیدہ عربیہ ( چالیس اشعار ) ، مصنف مولانا ابوالفیض محمد حسن فیضی صاحب ( مطبوعہ 1899 ء ) ۔ (17) کلمہ فضل ربانی بجواب اوهام غلام احمد قادیانی ، مصنف مولانا قاضی احمد او دھیانوی صاحب (مطبوعہ: 1898 ) ۔ (18) ہفت روزہ سراج الاسلام جہلم ، زیر ادارت مولانا ابو الفضل صاحب ۔ اس اخبار نے دیگر باطل فرقوں کے ساتھ ساتھ قادیانی فرقہ کی تردید میں بے مثال خدمات سر انجام دیں ۔
اور اس کے بعد بھی علمائے اہلسنت بریلوی نے مرزائیت کے رد میں بہت سی کتابیں لکھیں ، لہذا یہ کہنا کہ بریلوی حضرات کی اس سلسلے میں خدمات صفر ہیں ، سورج کو جھٹلانے کے مترادف ہے ۔ ماہ جولائی 1900 ء میں مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں 86 علماء کو مناظرے کی دعوت دی ، ان میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی کا نام بھی شامل ہے۔ چنانچہ 25 اگست 1900 ، و لا ہور کی بادشاہی مسجد میں یہ مناظرہ طے پایا۔ پیر مہر علی شاہصاحب اور علمائے اہلسنت اور دیگر فرقوں کے اکابر مذکورہ تاریخ کو مقررہ جگہ پہنچ گئے مگر بار بار تقاضے کے باوجود مرزا قادیانی نہ آیا اور اس نے راہ فرار اختیار کی ۔ اس موقع پر 58 علمائے کرام اور 128 کا بر ملت کی طرف سے اہلسنت کی فتح کا اشتہار شائع ہوا۔
22 مئی 1908ء کو امیر ملت حضرت پیرسید جماعت علی شاہ صاحب نے بادشاہی مسجد لاہور میں جمعۃ المبارک کے خطبہ میں مرزا قادیانی کو مباہلہ کا چیلنج کیا ، مرزا اس وقت لاہور میں تھا مگر پھر بھی سامنے آنے کی جرات نہ کر سکا ، حضرت امیر ملت نے اس موقع پر پیشین گوئی کی کہ مرزا بہت جلد عبرتناک موت سے دوچار ہونے والا ہے، آپ کی پیشین گوئی کے عین مطابق مرزا قادیانی 26 مئی 1908 قبل دو پہر عبرتناک موت کا شکار ہو کر جہنم رسید ہو گیا۔
، جب وطن عزیز پاکستان میں مرزائیوں کی پر اسرار سرگرمیاں حد سے بڑھ گئیں، تو تمام مکاتب فکر کے علماء وزعماء نے 13 فروری 1953ء کو تحریک تحفظ ختم نبوت شروع کی اور تمام فرقوں کے علماء نے اہلسنت کے ممتاز عالم دین مولانا سید ابو الحسنات محمد احمد قادری کو اپنا متفقہ قائد تسلیم کیا ۔ 24 فروری کو علمائے کرام کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ (1)مولانا ابوالحسنات قادری کی کراچی میں گرفتاری کے بعد مولا نا عبدالستار نیازی نے تحریک کی قیادت سنبھال لی ۔ چنانچہ 6 مارچ 1953ء کو مارشل لاء لگا دیا گیا اور مولانا نیازی و دیگر علماء کو گرفتار کر لیا گیا ، ان کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے گئے ، مولا نا عبدالستار خاں نیازی ( 2 ) اور مولا نا خلیل احمد قادری کو پھانسی کی سزاسنائی گئی جو بعد میں عمر قید میں تبدیل ہو گئی اور بعد میں واپس لے لی گئی۔ 1974 ء میں ایک بار پھر مرزائیوں کے خلاف تحریک تحفظ ختم نبوت چلائی گئی ، اس عظیم الشان تحریک نے مرزائیت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ادھر قومی اسمبلی میں مرزائیوں کے خلاف جن سنی علماء نے بھر پور کردار ادا کیا اُن میں مولانا شاہ احمد نورانی ، علامہ عبد المصطفی از هری ، مولانا محمد علی رضوی، مولانا محمد ذاکر صاحب اور مفتی ظفر علی نعمانی شامل ہیں ۔ اس موقع پر اہلسنت کے متعدد علماء و مشائخ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور چالیس افراد نے جام شہادت نوش کیا، چنانچہ قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا اور یہ قرارداد 7 ستمبر 1974ء کو مولانا شاہ احمد نورانی نے پیش کی اور اس طرح مسلمانوں کا ایک اہم مطالبہ منظور کر لیا گیا اور مرزائیوں کو سرکاری طور پر کافر قرار دے دیا گیا۔ الحمد للہ
حاشیہ
(1)ابھی چند دنوں قبل جب میں اپنے سلسلۂ طریقت کے بزرگوں کے عرس کے سلسلہ میں اپنے پیر خانہ ساہیوال (چک -99/6) حاضر ہوا تو میں نے اپنے پیر بھائی اور پیر طریقت حضرت میاں غلام رسول نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ کے معمر مرید حاجی محمد صادق سے تحریک ختم نبوت کے حوالے سے حضرت علیہ الرحمہ کی خدمات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جب یہ تحریک چلی تو حضرت علیہ الرحمہ نے اس میں اپنے علاقے میں بھر پور کردار ادا کیا، لوگوں کو اس مسئلہ سے آگاہ کیا اور علاقے میں موجود قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کروایا اور شہر ساہیوال سے نکلنے والے ہر جلوس میں دیگر قائدین کے ساتھ خود بھی تشریف لے جاتے اور شرکت کرتے اور کئی ماہ تک جیل میں بھی رہے، اس ضمن میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عوام اہلسنت کے اندر علماء و مشائخ کی تبلیغ سے ایسا جوش پیدا ہو گیا تھا کہ لوگ خود ہی جا کر گرفتاریاں پیش کرتے ، یہاں تک کہ جیلیں بھر گئیں اور پولیس والے گرفتار شدگان کو ٹرک میں بٹھا کر جنگل میں چھوڑ آتے ، وہ لوگ پھر آ کر اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کرتے ، جب ان کو جیل سے گاڑی سے سوار کرنے کے لئے لایا جاتا تو وہ لوگ جیل سے باہر آنے سے انکار کرتے تو پولیس والے انہیں کہتے ہم تمہیں رہا نہیں کر رہے بلکہ دوسری جیل منتقل کر رہے ہیں، جب وہ گاڑی میں بیٹھ جاتے تو دور دراز جنگل میں جاکر ان کو اُتار کر آ جاتے ، اس سے اندازہ لگائیے کہ عوام میں قادیانیت کے خلاف کسی قدر نفرت تھی اور مسلمانوں کا جذبہ سرفروشی بھی قابل دید تھا اور ہر قربانی کے لئے تیار رہنے کا جذبہ ان کے اندر پیدا ہونے کے دو اسباب تھے ایک تو وہ مسلمان تھے خود غرض اور مفاد پرست نہ تھے اور دوسرا یہ کہ وہ علماء و مشائخ سے عقیدت رکھنے والے لوگ تھے کہ ان کی بات کو دھیان سے سنتے تھے اور اس پر عمل پیرا ہو جاتے اور پھر علماء و سے تھے اس پرعمل مشائخ نے بھی اس میں بڑا کردار ادا کیا تھا کہ عوام اہلسنت کی بر وقت رہنمائی کی تھی اور خود بھی اس جدو جہد میں شریک رہے جو کہتے اس پر خود بھی عمل کرتے ۔ فقط مؤلف
( 2 )جو کہ اس وقت پنجاب اسمبلی کے ممبر تھے اور پنجاب اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف قرار داد پیش کرنے کے ارادے سے جا رہے تھے کہ اجلاس مارشل لاء لگ جانے کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا اور آپ لاہور آنے کی بجائے پاکپتن سے قصور تشریف لے گئے، وہاں نماز فجر کی تیاری میں تھے کہ آپ کو مارچ 1953 ء کو قصور سے گرفتار کر کے لاہور شاہی قلعہ میں بند کیا گیا ، 16 اپریل آپ کو جیل منتقل کر دیا گیا اور 17 اپریل آپ پر کیس چلایا گیا اور مئی تک کیس چلا اور آپ کو بغاوت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ، سات دن آٹھ راتیں کال کوٹھڑی میں رہے، پھر عوام احتجاج پر سزا عمر قید میں تبدیل کر دی گئی ، پھر 1955 ء میں آپ نے اپنی سزا کو عدالت میں چیلنج کیا اور مئی 1955ء کو ہائیکورٹ نے آپ کو باعزت بری کر دیا ۔ فقط مؤلف
حاشیہ ختم شد
مقام افسوس ہے کہ تحریک پاکستان کے مخالف لوگوں کو یہ واضح تاریخی حقائق نظر نہیں آتے سنی بریلوی علماء کا تاریخی و لازوال کردار اظہر من الشمس ہے اور ان کا یہ خدمات ہمیشہ تاریخ کے صفحات پر چمکتی رہیں گی ۔ خداوند قدوس علماء و مشائخ اہلسنت کی عمروں کو دراز فرمائے اور انہیں مزید دینی و مذہبی خدمات سر انجام دینے کی توفیق دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ و ما علینا الا البلاغ المبین
تحریر کننده : ( مولانا ) محمد حنیف اختر صدر بزم سعید خانیوال ۔ 90