logoختم نبوت

جزاء اللہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ۔۔۔از۔۔۔اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری

مسئلہ ۸۱: از شیخ خدا بخش اہلسنّت والجماعت محلہ سوئی گری کی پول، ۱۹، رجب ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ولید ساکن مشہد کہ اپنے آپ کو سید کہلواتا، اپنا عقیدہ بایں طور پر رکھتا ہے کہ حضرت علی وفاطمہ وحسنینsym-7 کو انبیاء ورسول کہنا ثابت ہے اور اپنے زعم میں اس کا ثبوت حدیثوں سے بتاتا ہے، ایسا عقیدہ رکھنے والا مسلمان سنت وجماعت اولیائے کاملین سے ہے یا غالی رافضی کافر اولیائے شیاطین سے؟ اور جو شخص عقیدہ کفریہ رکھے وہ سید ہوسکتا ہے، یا نہیں؟ اور اسے سید کہنا روا ہے یا نہیں؟بینوا توجروا (بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ ت)

الجواب

الحمد ﷲ رب العٰلمین وسلام علی المرسلین، ما كان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اﷲ و خاتم النبیین وكان اﷲ بکلّ شیئ علیما، یا من یصلی علیه ھو وملٰئکته صل علیه وعلٰی اله وصحبه وبارك وسلم تسلیما اٰمین، ربّ انّی اعوذبک من ھمزات الشیطٰین واعوذبک ربّ ان یحضرون وصلی اﷲ تعالیٰ علٰی خاتم المرسلین اول الانبیاء خلقًا واٰخرھم بعثًا واٰله وصحبه والتابعین ولعن وقتل واخزي وخذل مردة الجن وشیطین الانس واعاذنا ابدا من شرھم اجمعین اٰمین
تمام خوبیاں اﷲ تعالیٰ رب العالمین کو اور سلام تمام رسولوں پر، محمد ﷺ تم میں سے کسی ایک مرد کے باپ نہیں لیکن اﷲ کے رسول اور نبیوں کے پچھلے، اور اﷲ تعالیٰ ہر شئے کا عالم ہے اے وہ ذات جس پر اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے درود اور اس کے آل واصحاب پر اور سلام کامل۔ آمین۔ اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں شیاطین کے وسوسوں سے، اور اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں، اور صلوٰۃ اﷲ خاتم المرسلین پر جو تمام انبیاء سے پیدائش میں اول اور بعثت میں ان سے آخر اور اس کی آل واصحاب اور تابعین پر، اور لعنت اور ہلاکت، رسوائی اور ذلت ہو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے سرکش جنّوں اور انسانی شیطانوں پر، اور ان سب کے شر سے ہمیشہ ہمیں پناہ دے، آمین۔ ت)

اﷲ عزوجل سچا اور اس کا کلام سچا، مسلمان پر جس طرح لا الٰہ الا اﷲ ماننا اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کو احد صمد لا شریک لہ جاننا فرض اول ومناط ایمان ہے یونہی محمد رسول اﷲ ﷺ کو خاتم النبیین ماننا ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقیناً محال وباطل جاننا فرض اجل وجزء ایقان ہے ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النبیین (ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ ت) نص قطعی قرآن ہے، اس کا منکر نہ منکر بلکہ شبہ کرنے والا نہ شاک کہ ادنیٰ ضعیف احتمال خفیف سے توہّم خلاف رکھنے والا قطعاً اجماعاً کافر ملعون مخلد فی النیران ہے، نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر، جو اس کے کافر ہونے میں شک وتردّد کو راہ دے وہ بھی کافر بین الکافر جلی الکفران ہے، ولید پلید جس کا قول نجس تراز بول، سوال میں مذکور، ضرور ولی ہے بیشک ضرور مگر حاشا نہ ولی الرحمٰن بلکہ عدو الرحمن ولی الشیطان ہے، یہ جو میں کہہ رہا ہوں میرا فتویٰ نہیں اﷲ واحد قہار کا فتویٰ ہے، خاتم الانبیاء الاخیار کا فتویٰ ہے، علی مرتضیٰ وبتول زہرا وحسن مجتبیٰ وشہید کربلا تمام ائمہ اطہار کا فتویٰ ہے صلی اﷲ تعالیٰ علیٰ سیدہم ومولاہم وعلیہم وسلم

شفاء شریف و اعلام بقواطع الاسلام میں ہے:

یکفر ایضا من كذب بشیئ مما صرح فی القراٰن من حکم او خبر، او اثبت ما نفاه او نفی ما اثبته علٰی علم منه بذٰلک، او شک فی شیئ من ذٰلک 1
نیز تکفیر کی جائیگی جس نے قرآن کے صریح حکم یا خبر کی تکذیب کی، یا جس نے علم کے باوجود اس کی نفی کردہ کا اثبات کیا یا اس کے ثابت کردہ کی نفی کی، یا جس نے اس میں شک کیا۔ ت۔

فتاویٰ حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے:

التردد فی المعلوم من الدین بالضرورة كالانکار 2
بدیہی ضروری دینی معلوم چیز میں تردد کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کا انکار کرنا ہے۔ ت

شفاء میں ہے:

وقع الاجماع علیٰ تكفیر كل من دافع نص الکتاب او خص حدیثا مجمعا علیٰ نقله مقطوعا به مجمعا علیٰ حمله علیٰ ظاھرهولھذا نکفر من لم یکفر من دان بغیر ملة الاسلام او وقف فیھم او شک (فی كفرھم) او صحح مذھبھم، وان اظھر الاسلام واعتقدہ واعتقد ابطال كل مذھب سواہ فھو كافر باظهار ما اظھر من خلاف ذٰلک اھ مختصرا مزیدا من نسیم الریاض ما بین الھلالین3
ایسے شخص کے کفر پر امت مسلمہ کا اجماع ہے جو کتاب اﷲ کی نص کا انکار کرے یا ایسی حدیث جس کے نقل پر یقین ہے اس کی تخصیص کرے حالانکہ اجماع کے مطابق اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے۔ اسی لئے ہم ایسے شخص کی تکفیر کرتے ہیں جو اسلام کے غیر کسی دین والے کی تکفیر نہ کرے یا توقف یا شک کرے (ان کے کفر میں) یا ان کے مذہب کو صحیح سمجھے، اگر چہ ایسا شخص اسلام کا اظہار کرے اور عقیدہ رکھے اور اسلام کے سوا ہر مذہب کے بطلان کا عقیدہ رکھے اس سبب سے کہ وہ اپنے ظاہر کئے کا خلاف ظاہر کرتا ہے لہٰذا وہ کافر ہے اھ مختصراً، ہلالین کے درمیان نسیم الریاض کی طرف سے زائد ہے۔ (ت)

اسی میں ہے:

اجماع علیٰ كفر من لم یكفر كل من فارق دین المسلمین او وقف فی تكفیرھم او شك مختصرًا 4
اسلام سے علیحدگی اختیار کرنے والے کی تکفیر نہ کرنے والے یا ان کی تکفیر میں توقف یا شک کرنے والے کی تکفیر نہ کرنے والے کے کفر پر اجماع ہے، مختصراً۔ (ت)

بزازیہ ودر مختار وغیرہما میں ہے:

من شک فی كفره وعذابه فقد كفر 5
جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شک کیا وہ کافر ہے۔ (ت)

بلکہ شخص مذکور پر لازم وضرور ہے کہ اپنے آپ ہی اپنے کفر والحاد وزندقہ وارتداد کا فتویٰ لکھے، آخر یہ تو بداہۃً ضرورۃً موافقین ومخالفین حتیٰ کہ کفار ومشرکین سب کو معلوم ومسلم کہ حضرات حسنین اور ان کے والدین کریمین sym-7مسلمان تھے، قرآن عظیم پر ایمان رکھتے اور بلاشبہ اسے کلام اﷲ جانتے، اس کے ایک ایک حرف کو حق مانتے، اور اسی قرآن کا ارشاد ہے کہ محمد رسول اﷲ ﷺ خاتم النبیین ہیں تو قطعاً وہ بھی حضور اقدس ﷺ کو خاتم النبیین اعتقاد کرتے تو قطعاً یقیناً اپنے آپ کو نبی ورسول نہ جانتے اور اس ادعائے ملعون کو باطل وملعون ہی مانتے کہ قول بالمتنافیین کسی عاقل سے معقول نہیں، اب یہ شخص کہ انہیں نبی ورسول مانتا ہے خود اپنے ہی ساختہ رسولوں کو کاذب ومبطل جانتا ہے اور رسولوں کی تکذیب کفرِ ظاہر ہے تو خود ہی اپنے عقیدے کی رو سے کافر ہے، غرض انہیں رسول کہہ کر اعتقاد ختم نبوت میں سچا جانا تو اس ایمانی عقیدے کا منکر ہو کر کافر ہوا، اور جھوٹا مانا تو اپنے ہی رسولوں کی آپ تکذیب کر کے کافر ہوا مفر کدھر، ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العزیز الاکبر(ف)

حاشیہ

(ف) اہل بیت کرام خواہ کسی امتی کو نبی ماننے والا خود اپنے اقرار سے بھی کافر ہے۔

حاشیہ ختم شد

ولید کے مقابل ذکرِ احادیث ونصوص علمائے قدیم وحدیث کا کیا موقع کہ جو نص قطعی قرآن کو نہ مانے حدیث وعلماء کی کیا قدر جانے، مگر بحمد اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے متعدد منافع ظاہر وبین ہیں، قرآن وحدیث دونوں ایمانِ مومن ہیں، احادیث کا بار بار تکرار اظہار دلوں میں ایمان کی جڑ جمائے گا، آیہ کریمہ میں وساوسِ ملعونہ بعض شیاطین نجدیہ کا استیصال فرمائے گا، ختم نبوت وخاتم النّبیین کے صحیح ونجیح معنی بتائے گا، بعض قاسمان کفر ومجون کے اختراع جنون کو مردود وملعون بنائے گا۔

ولید پلید کے ادعائے خبیث ثبوت بالحدیث کا بطلان دکھائے گا، نصوصِ ائمہ سے اہلِ ایمان کو صحت فتویٰ پر زیادہ تر اعتبار واعتماد آئے گا معہذا ذکر محبوب راحتِ قلوب ہے، ان کی یاد سے مسلمانوں کا دل چین پائے گا۔

بریت آدم اور ختم نبوت:

فاقول وبحول اﷲ احول (ارشادات الٰہیہ)

طبرانی معجم کبیر میں اور حاکم بافادہ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں امیر المؤمنین عمر فاروق اعظمsym-5 سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں، جب آدم sym-9 سے لغزش واقع ہوئی عرض کی یا رب اسئلک بحق محمد ان غفرت لی (الٰہی! میں تجھے محمد ﷺ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما) ارشاد ہوا: اے آدم! تو نے محمد (ﷺ)کو کیونکر پہچانا حالانکہ میں نے ابھی اسے پیدا نہ کیا؟ عرض کی: الٰہی! جب تو نے مجھے اپنی قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایوں پر لکھا پایا لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ تو میں نے جانا تو نے اسی کا نام اپنے نامِ پاک کے ساتھ ملایا ہوگا جو تجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے۔ فرمایا: صدقت یا اٰدم انہ لاحب الخلق الیّ واذ سألتنی بحقہ فقد غفرت لک ولولا محمد ما خلقتک( زاد الطبرانی)وھو اٰخر الانبیاء من ذرّیتک6 اے آدم! تو نے سچ کہا بیشک وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے اور جب تو نے مجھے اس کا واسطہ دے کر سوال کیا تو میں نے تیرے لئے مغفرت فرمائی، اگر محمد نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتا۔ طبرانی نے یہ اضافہ کیا: وہ تیری اولاد میں سب سے پچھلا نبی ہے ﷺ۔

حضرت موسیٰ sym-9اور ختم نبوت:

ابو نعیم ابو ہریرہ sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

ان موسیٰ لما نزلت علیه التوراة وقرأھا وجد فیھا ذكر ھذہ الامة فقال یا رب انی اجد فی الالواح امة ھم الاٰخرون السابقون فاجعلھا امتی قال تلک امّة احمد7
(جب موسیٰsym-9پر توریت اتری اسے پڑھا تو اس میں اس امّت کا ذکر پایا عرض کی: اے رب میرے! میں ان لوحوں میں ایک امت پاتا ہوں کہ وہ زمانے میں سب سے پچھلی اور مرتبے میں سب سے اگلی، تو یہ میری امت کر، فرمایا: یہ امت احمد کی ہے ﷺ)

حضرت آدم sym-9اور سرکارِ دو عالم:

ابن عساکر حضرت ابو ہریرہ sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

لما خلق اﷲ اٰدم اخبرہ ببنیه فجعل یرٰي فضائل بعضھم علٰی بعض فراٰي نوراً ساطعا فی اسفلھم، فقال یا رب من ھذا قال ھذا ابنک احمد وھو الاول وھو الاٰخر وھو اول شافع واول مشفع8
جب اﷲ تعالیٰ نے آدم sym-9کو پیدا کیا انہیں ان کے بیٹوں پر مطلع فرمایا، وہ ان میں ایک کی دوسرے پر فضیلتیں دیکھا کئے تو ان سب کے آخر میں بلند وروشن نور دیکھا، عرض کی، الٰہی! یہ کون ہے؟ فرمایا: یہ تیرا بیٹا احمد ہے یہی اوّل ہے اور یہی آخر ہے اور یہی سب سے پہلا شفیع اور یہی سب سے پہلا شفاعت مانا گیا ﷺ۔

خاتم النبیین:

نیز بطریق ابی الزبیر حضرت جابر بن عبداﷲsym-8سے راوی، فرمایا:

بین كتفی اٰدم مکتوب، محمد رسول اﷲ خاتم النبیین، ﷺ 9
آدم sym-9کے دونوں شانوں کے وسط میں قلم قدرت سے لکھا ہوا ہے محمد رسول اﷲ خاتم النبیین ﷺ۔

محمد اور دروازہ جنت:

ابن ابی شیبہ مصنف میں بطریق مصعب بن سعد حضرت کعب احبار sym-8سے راوی:

انه قال اول من یاخذ بحلقة باب الجنة فیفتح له محمد ﷺ ثم قرأ اٰیة من التوراة اضرابا قدمایا نحن الاخرون الاولون10
یعنی انہوں نے کہا سب سے پہلے جو دروازہ جنت کی زنجیر پر ہاتھ رکھے گا پس اس کے لئے دروازہ کھولا جائے گا، وہ محمد ﷺ ہیں، پھر توریت مقدس کی آیت پڑھی کہ سب سے پہلے مرتبے میں سابق زمانے میں لاحق، یعنی امتِ محمد ﷺ۔

خاتم الانبیاء کی بشارت:

ابن سعد عامر شعبی سے راوی، سیدنا ابراہیم sym-9کے صحیفوں میں ارشاد ہوا:

انه كائن من ولدک شعوب وشعوب حتی یاتی النبی الامیّ الذي یکون خاتم الانبیاء 11
بیشک تیری اولاد میں قبائل در قبائل ہوں گے یہاں تک کہ نبی امّی خاتم الانبیاء جلوہ فرما ہو ﷺ۔

یعقوب sym-9وخاتم الانبیاء:

محمد بن کعب قرظی سے راوی:

اوحی اﷲ تعالیٰ الٰی یعقوب انی ابعث من ذریتک ملوكا وانبیاء حتی ابعث النبی الحرمی الذي تبنی امته ھیکل بیت المقدس، وھو خاتم الانبیاء، واسمه احمد 12
اﷲ عزوجل نے یعقوب sym-9کو وحی بھیجی میں تیری اولاد سے سلاطین وانبیاء بھیجتا رہا کروں گا یہاں تک کہ ارسال فرماؤں اس حرم محترم والے نبی کو جس کی امت بیت المقدس کی بلند تعمیر بنائے گی اور اس کا نام احمد ﷺ ہے۔

اشعیاء اور احمد مجتبیٰ:

ابن ابی حاتم وہب بن منبہ سے راوی:

قال اوحی اﷲ تعالیٰ الٰی اشعیاء انی باعث نبیا امیا افتح به آذانا صما وقلوبا غلفا واعینا عمیا، مولدہ بمکة ومھاجره بطیبة وملکه بالشام (وساق الحدیث فیه) الکثیر الطیب من فضائله وشمائله ﷺ الٰی ان قال ولا جعلن امته خیر امة اخرجت للناس (وذكر صفاتھم الٰی ان قال) اختم بکتابھم الکتب بشریعتھم الشرائع وبدینھم الادیان الحدیث الجلیل الجمیل13
اﷲ عزوجل نے اشعیاء sym-9پر وحی بھیجی میں نبی اُمی کو بھیجنے والا ہوں، اس کے سبب بہرے کان اور غافل دل اور اندھی آنکھیں کھول دوں گا، اس کی پیدائش مکّے میں ہے اور ہجرت گاہ مدینہ اور اس کا تخت گاہ ملک شام، میں ضرور اس کی امت کو سب امتوں سے جو لوگوں کے لئے ظاہر کی گئیں بہتر وافضل کروں گا، میں ان کی کتاب پر کتابوں کو ختم فرماؤں گا اور ان کی شریعت پر شریعتوں اور ان کے دین پر سب دینوں کو تمام کروں گا۔

کتبِ سماوی میں اسمِ محمد ﷺ:

ابن عساکر حضرت ابن عباسsym-8 سے راوی:

قال النبی ﷺ کان یسمّی فی الکتب القدیمة احمد ومحمد والماحی والمقفی ونبی الملاحم وحمطایا وفارقلیطا وما ذماذ14
نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگلی کتابوں میں میرے یہ نام تھے، احمد، محمد، ماحی (کفر وشرک کو مٹانے والے)، مقفی (سب پیغمبروں سے پیچھے تشریف لانے والے)، نبی الملاحم (جہادوں کے پیغمبر)، حمطایا (حرم الٰہی کے حمایتی)، فارقلیطا (حق کو باطل سے جدا کرنے والے)، ماذماذ (ستھرے، پاکیزہ) ﷺ۔

خاتم الانبیاء ﷺ:

سلمان فارسی sym-5سے راوی:

ھبط جبریل فقال ان ربک یقول قد ختمت بک الانبیاء وما خلقت خلقا اكرم علی منک وقرنت اسمک مع اسمی فلا اذكرنی موضع حتی تذكر معی، ولقد خلقت الدنیا واھلھا لا عرفھم كرامتک علی ومنزلتک عندي، ولولاک ما خلقت السٰموٰت والارض وما بینهما لولاک ما خلقت الدنیا ھذا مختصر15
جبریل امین sym-9نے حاضر ہو کر حضور اقدس ﷺ سے عرض کی حضور کا رب فرماتا ہے بیشک میں نے تم پر انبیاء کو ختم کیا اور کوئی ایسا نہ بنایا جو تم سے زیادہ میرے نزدیک عزت والا ہو، تمہارا نام میں نے اپنے نام سے ملایا کہ کہیں میرا ذکر نہ ہو جب تک میرے ساتھ یاد نہ کئے جاؤ، بیشک میں نے دنیا واہل دنیا سب کو اس لئے بنایا کہ تمہاری عزت اور اپنی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ ان پر ظاہر کروں، اور اگر تم نہ ہوتے تو میں آسمان وزمین اور جو کچھ ان میں ہے اصلاً نہ بناتا، ﷺ۔

آخر النبیین:

خطیب بغدادی حضرت انس بن مالک sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

لما اسري بی الی السماء قربنی حتی كان بینی وبینه كقاب قوسین او ادنیٰ، وقال لی یا محمد ھل غمک ان جعلتک اٰخر النبیین، قلت لا، قال فھل غم امتک ان جعلتهم اٰخر الامم قلت لا، قال اخبر امتک انی جعلتهم اٰخر الامم لافضح الامم عندہ ولا افضحھم عند الامم16
شب اسریٰ مجھے میرے رب عزوجل نے نزدیک کیا یہاں تک کہ مجھ میں اور اس میں دو کمان بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہا اور مجھ سے فرمایا: اے محمد! کیا تجھے اس کا غم ہوا کہ میں نے تجھے سب پیغمبروں کے پیچھے بھیجا، میں نے عرض کی نہ۔ فرمایا: کیا تیری امت کو اس کا رنج ہوا کہ میں نے انہیں سب امتوں کے پیچھے رکھا، میں نے عرض کی نہ۔ فرمایا: اپنی امت کو خبر دے دے کہ میں نے انہیں سب سے پیچھے اس لئے کیا کہ اور امتوں کو ان کے سامنے رسوا کروں اور انہیں اوروں کے سامنے رسوائی سے محفوظ رکھوں، والحمد ﷲ رب العالمین !

رحمۃً للعٰلمین:

ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وبزار وابو یعلیٰ وبیہقی بطریق ابو العالیہ حضرت ابو ہریرہ sym-5سے حدیث طویل اسرا میں راوی:

ثم لقی ارواح الانبیاء، فاثنوا علی ربھم فقال ابراھیم ثم موسی ثم داؤد ثم سلیمٰن ثم عیسی ثم ان محمدا ﷺ اثنٰی علی ربه فقال كلکم اثنی علی ربه وانی مُثن علی ربی الحمد ﷲ الذي ارسلنی رحمة للعٰلمین وكافة للناس بشیرا ونذیرا وانزل علی الفرقان فیه تبیان لکل شیئ وجعل امتی خیر امة اخرجت للناس وجعل امة وسطا وجعل امتی ھم الاولون وھم الاٰخرون ورفع لی ذکري وجعلنی فاتحا وخاتما فقال ابراھیم بھذا فضلکم محمد ﷺ ثم انتھٰی الی السدرة فکلمه تعالیٰ عند ذٰلک فقال له قد اتخذتک خلیلا وھو مکتوب فی التوراة حبیب الرحمن ورفعت لک ذكرک فلا اذكر الا ان ذكرت معی وجعلت امتک ھم الاولون والاٰخرون وجعلتک اوّل النبیین خلقا واٰخرھم بعثا وجعلتک فاتحا وخاتما، ھذا مختصر ملتقط 17
یعنی پھر حضور اقدس ﷺ ارواحِ انبیاء sym-3سے ملے، پیغمبروں نے اپنے رب عزوجل کی حمد کی، ابراہیم پھر موسیٰ پھر داؤد پھر سلیمان پھر عیسیٰ sym-3بترتیب حمد الٰہی بجا لائے اور اس کے ضمن میں اپنے فضائل وخصائص بیان فرمائے سب کے بعد محمد رسول اﷲ ﷺ نے اپنے رب جل جلالہ کی ثنا کی اور فرمایا تم سب اپنے رب کی تعریف کرچکے اور اب میں اپنے رب کی حمد کرتا ہوں سب خوبیاں اﷲ کو جس نے مجھے سارے جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور تمام آدمیوں کی طرف بشارت دیتا اور ڈر سناتا مبعوث کیا اور مجھ پر قرآن اتارا جس میں ہر شیئ کا روشن بیان ہے اور میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی اور انہیں عدل وعدالت واعتدال والی امت کیا اور انہیں کو اوّل اور انہیں کو آخر رکھا اور میرے واسطے میرا ذکر بلند فرمایا اور مجھے فاتحہ دیوان نبوت وخاتمہ دفتر رسالت بنایا،ابراہیم sym-9نے فرمایا ان وجوہ سے محمد ﷺ تم سے افضل ہوئے پھر حضور ﷺ سدرہ تک پہنچے، اس وقت رب عز جلالہ نے ان سے کلام کیا اور فرمایا میں نے تجھے اپنا خالص پیارا بنایا اور تیرا نام توریت میں حبیب الرحمن لکھا ہے، میں نے تیرے لئے تیرا ذکر اونچا کیا کہ میرا ذکر نہ ہو جب تک میرے ساتھ تیری یاد نہ آئے اور میں نے تیری امت کو یہ فضل دیا کہ وہی سب سے اگلے اور وہی سب سے پچھلے اور میں نے تجھے سب پیغمبروں سے پہلے پیدا کیا اور سب کے بعد بھیجا اور تجھے فاتح وخاتم کیا ﷺ۔

ارشاداتِ انبیاء وملائکہ واقوال علماءِ کتبِ سابقہ

حدیث شفاعت:

امام احمد وابو داؤد طیالسی مطولاً اور ابن ماجہ مختصراً اور ابو یعلیٰ حضرت عبداﷲ بن عباس sym-8سے راوی، رسول اﷲ ﷺ حدیث طویل شفاعتِ کبریٰ میں فرماتے ہیں:

فیاتون عیسٰی فیقولون اشفع لنا الٰی ربك فلیقض بیننا فیقول انی لست ھناكم انی اتخذت الٰھًا من دون اﷲ، وانه لا یھمنی الیوم الا نفسی ولكن ان كل متاع فی وعاء مختوم علیه أكان یقدر علی ما فی جوفه حتی یفض الخاتم، فیقولون لا فیقول ان محمدا ﷺ فیاتونی فاقول انا لھا فاذا اراد اﷲ ان یقضی بین خلقه نادي مناد این احمد وامته فنحن الاخرون الاولون نحن اٰخر الامم واول من یحاسب فتفرج لنا الامم عن طریقنا الحدیث ھذا مختصر18
یعنی جب لوگ اور انبیاء sym-3کے حضور سے مایوس ہو کر پھریں گے تو سیدنا عیسیٰ sym-9کے پاس حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے، مسیح فرمائیں گے میں اس منصب کا نہیں مجھے لوگوں نے اﷲ کے سوا خدا بنایا تھا مجھے آج اپنی ہی فکر ہے مگر ہے یہ کہ جو چیز کسی سر بمہر برتن میں رکھی ہو کیا بے مہر اٹھائے اسے پاسکتے ہیں، لوگ کہیں گے نہ، فرمائیں گے تو محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں اور یہاں تشریف فرما ہیں، لوگ میرے حضور حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے میں فرماؤں گا میں ہوں شفاعت کے لئے، پھر جب اﷲ عزوجل اپنی مخلوق میں فیصلہ کرنا چاہے گا ایک منادی پکارے گا کہاں ہیں احمد اور ان کی امت ﷺ، تو ہمیں پچھلے ہیں اور ہمیں اگلی سب امتوں سے پیچھے آئے اور سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور سب امتیں عرصاتِ محشر میں ہمارے لئے راستہ دیں گی۔

انبیاء کا التجائے شفاعت:

احمد وبخاری ومسلم وترمذی حدیث طویل شفاعت میں ابو ہریرہ sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

فیاتون محمدا فیقولون یا محمد انت رسول اﷲ وخاتم الانبیاء 19
اولین وآخرین حضور خاتم النبیین افضل المرسلین ﷺ کے حضور آکر عرض کرینگے حضور اﷲ تعالیٰ کے رسول اور تمام انبیاء کے خاتم ہیں ہماری شفاعت فرمائیں۔

حضرت آدم sym-9اور اذان اوّل:

ابو نعیم حلیۃ الاولیا اور ابن عساکر دونوں بطریق عطاء حضرت ابو ہریرہ sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

نزل اٰدم بالھند واستوحش فنزل جبریل فنادي بالاذان اﷲ اكبر اﷲ اكبر، اشہد ان لا الٰه الا اﷲ، اشھد ان لا الٰه الا اﷲ، اشھد ان محمدا رسول اﷲ، اشھد ان محمدا رسول اﷲ، قال اٰدم من محمد، قال اٰخر ولدک من الانبیاء 20
جب آدم sym-9بہشت سے ہند میں اترے تو گھبرائے، جبریل امین sym-9نے اتر کر اذان دی، جب نام پاک آیا، آدم sym-9نے پوچھا: محمد کون ہیں، کہا: آپ کی اولاد میں سب سے پچھلے نبی ﷺ۔

انشراحِ صدر:

ابو نعیم دلائل میں یونس بن میسرہ بن حلبَس سے مرسلاً اور دارمی وابن عساکر بطریق یونس ھذا عن ابی ادریس الخولانی عبدالرحمٰن بن غنم اشعری sym-5سے موصولاً راوی وھذا لفظ المرسل رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں: فرشتہ سونے کا طشت لے کر آیا اور میرا شکم مبارک چیر کر دل مقدس نکالا اور اسے دھو کر کچھ اس پر چھڑک دیا، پھر کہا: انت محمد رسول اﷲ المقفی الحاشر (الحدیث ھذا مختصر)21 حضور محمد رسول اﷲ ہیں سب انبیاء کے بعد تشریف لانے والے تمام عالم کو حشر دینے والے ﷺ۔

حدیث متصل میں یوں ہے: جبریل نے اتر کر حضور اقدس ﷺ کا شکم چاک کیا، پھر کہا:

قلب وكیع فیه اذنان سمیعتان وعینان بصیرتان محمد رسول اﷲ المقفی الحاشر، الحدیث22
مضبوط ومحکم دل ہے اس میں دو کان ہیں شنوا اور دو آنکھیں ہیں بینا، محمد اﷲ کے رسول ہیں۔ انبیاء کے خاتم اور خلائق کو حشر دینے والے ﷺ۔

بشارت میلاد الرسول:

ابو نعیم بطریق شہر بن حوشب اور ابن عساکر بطریق مسیب بن رافع وغیرہ حضرت کعب احبار سے راوی، انہوں نے فرمایا، میرے باپ اعلم علمائے توراۃ تھے، اﷲ عزوجل نے جو کچھ موسیٰ sym-9پر اتارا اس کا علم ان کے برابر کسی کو نہ تھا، وہ اپنے علم سے کوئی شے مجھ سے نہ چھپاتے، جب مرنے لگے مجھے بلا کر کہا: اے میرے بیٹے! تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنے علم سے کوئی چیز تجھ سے نہ چھپائی مگر ہاں دو ورق رکھے ہیں ان میں ایک نبی کا بیان ہے جس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا میں نے اس اندیشے سے تجھے ان دو ورقوں کی خبر نہ دی کہ شاید کوئی جھوٹا مُدعی نکل کھڑا ہو، تو اس کی پیروی کرلے یہ طاق تیرے سامنے ہے میں نے اس میں وہ اوراق رکھ کر اوپر سے مٹی لگا دی ہے ابھی ان سے تعرض نہ کرنا، نہ انہیں دیکھنا جب وہ نبی جلوہ فرما ہو اگر اﷲ تعالیٰ تیرا بھلا چاہے گا تو تو آپ ہی اس کا پیرو ہو جائے گا، یہ کہہ کر وہ مرگئے ہم ان کے دفن سے فارغ ہوئے مجھے ان دونوں ورقوں کے دیکھنے کا شوق ہر چیز سے زیادہ تھا، میں نے طاق کھولا ورق نکالے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان میں لکھا ہے: محمد رسول اﷲ خاتم النبیین لا نبی بعدہ مولدہ بمکۃ ومھاجرہ بطیبۃ، الحدیث محمد اﷲ کے رسول ہیں، سب انبیاء کے خاتم، ان کے بعد کوئی نبی نہیں، ان کی پیدائش مکے میں اور ہجرت مدینے کو ﷺ23

راہب کا استفسار:

بیہقی وطبرانی وابو نعیم اور خرائطی کتاب الہواتف میں خلیفہ بن عبدہ سے راوی، میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے پوچھا جاہلیت میں کہ ابھی اسلام نہ آیا تھا تمہارے باپ نے تمہارا نام محمد کیونکر رکھا، کہا میں نے اپنے باپ سے اس کا سبب پوچھا، جواب دیا کہ بنی تمیم سے ہم چار آدمی سفر کو گئے تھے، ایک میں اور سفیان بن مجاشع بن دارم اور عمر بن ربیعہ اور اسامہ بن مالک، جب ملک شام میں پہنچے ایک تالاب پر اترے جس کے کنارے پیڑ تھے، ایک راہب نے اپنے دَیر سے ہمیں جھانکا اور کہا تم کون ہو؟ ہم نے کہا اولادِ مضر سے کچھ لوگ ہیں۔ کہا:

اما انه سوف یبعث منکم وشیکا نبی فسارعوا الیه وخذوا بحظکم منه ترشدوا فانه خاتم النبیین24
سنتے ہو عنقریب بہت جلد تم میں سے ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے تم اس کی طرف دوڑنا اور اس کی خدمت واطاعت سے بہرہ یاب ہونا کہ وہ سب میں پچھلا نبی ہے۔

ہم نے کہا اس کا نام پاک کیا ہوگا؟ کہا محمد ﷺ جب ہم اپنے گھروں کو واپس آئے سب کے ایک ایک لڑکا ہوا اس کا نام محمد رکھا، انتہیٰ، واﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ

قبل از ولادت شہادت ایمان:

زید بن عمرو بن نفیل کہ احد العشرۃ المبشرۃ سیدنا سعید بن زید کے والد ماجد ہیں sym-7رضی اللہ تعالی عنہم وعنہ موحدان ومومنان عہد جاہلیت سے تھے طلوعِ آفتاب عالمتاب اسلام سے پہلے انتقال کیا مگر اسی زمانے میں توحید الہٰی ورسالت حضرت ختم پناہی ﷺ کی شہادت دیتے، ابن سعد وابو نعیم حضرت عامر بن ربیعہsym-5سے راوی، میں زید sym-5سے ملا، مکہ معظمہ سے کوہ حرا کو جاتے تھے، انہوں نے قریش کی مخالفت اور ان کے معبودانِ باطل سے جدائی کی تھی، اس پر آج ان سے اور قریش سے کچھ لڑائی رنجش ہوچکی تھی، مجھے دیکھ کر بولے اے عامر! میں اپنی قوم کا مخالف اور ملت ابراہیم کا پیرو ہوا اسی کو معبود مانتا ہوں جسے ابراہیم sym-9پوجتے تھے، میں ایک نبی کا منتظر ہوں جو بنی اسماعیل اور اولاد عبدالمطلب سے ہوں گے ان کا نام پاک احمد ہے میرے خیال میں میں ان کا زمانہ پاؤں گا میں ابھی ان پر ایمان لاتا اور ان کی تصدیق کرتا ان کی نبوت کی گواہی دیتا ہوں، تمہیں اگر اتنی عمر ملے کہ انہیں پاؤ تو میرا سلام انہیں پہنچانا، اے عامر! میں تم سے ان کی نعت وصفت بیان کئے دیتا ہوں کہ تم خوب پہچان لو، درمیانہ قد ہیں، سر کے بال کثرت وقلت میں معتدل، ان کی آنکھوں میں ہمیشہ سرخ ڈورے رہیں گے، ان کی شانوں کے بیچ میں مہر نبوت ہے، ان کا نام احمد، اور یہ شہر ان کا مولد ہے، یہیں ان کی رسالت ظاہر ہوگی، ان کی قوم انہیں مکے میں نہ رہنے دے گی کہ ان کا دین اسے ناگوار ہوگا، وہ ہجرت فرما کر مدینے جائیں گے، وہاں سے ان کا دین ظاہر وغالب ہوگا، دیکھو تم کسی دھوکے فریب میں آکر ان کی اطاعت سے محروم نہ رہنا۔ فانی بلغت البلاد کلھا اطلب دین ابراھیم، وکل من اسأل من الیہود والنصاریٰ والمجوس یقول ھذا الدین وراءک، وینعتونہ مثل ما نعتہ لک، ویقولون لم یبق نبی غیرہ کہ میں دین ابراہیمی کی تلاش میں شہروں شہروں پھرا یہود ونصاریٰ مجوس جس سے پوچھا سب نے یہی جواب دیا کہ یہ دین تمہارے پیچھے آتا ہے اور اس نبی کی وہی صفت بیان کی جو میں تم سے کہہ چکا اور سب کہتے تھے کہ ان کے سوا کوئی نبی باقی نہ رہا۔ عامرsym-5فرماتے ہیں جب حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت ظاہر ہوئی میں نے زید sym-5کی یہ باتیں حضور سے عرض کیں، حضور نے ان کے حق میں دعائے رحمت فرمائی اور ارشاد کیا قد رأیتہ فی الجنۃ یسحب ذیلہ25 میں نے اسے جنت میں دامن کشاں دیکھا۔

انکار ختم نبوت کی وجوہات:

اﷲ اﷲ اس زمانے کے یہود ونصاریٰ ومجوس نے تو بالاتفاق حضور اقدس ﷺ پر نبوت ختم ہو جانے کی شہادتیں دیں اور آج کل کے کذاب بد لگام مدعیان اسلام یہ شاخسانے نکالیں مگر ہے یہ کہ اس وقت تک ان فرقوں کو نہ حضور پر نور ﷺ سے بغض وحسد تھا، نہ اپنے کسی پیشوائے مردود کا سخن مطرود بنانا مراد ومقصد، نہ اپنے کسی سگے بھائی کی بات رکھنی نہ بعد ظہور نور خاتمیت اپنے باپ دادا کی نبوت گھڑنی، وہ کیوں جھوٹ بولتے جو کچھ علوم انبیاء واخبار احبار ورہبان وعلماء سے پہنچا تھا صاف کہتے تھے، بعد ظہور اسلام ان ملا عنہ کے دل میں حسد وعناد کا پھوڑا پھوٹا اور ان مدعیان اسلام پر قہر ٹوٹا کہ کسی خبیث کا پیشوا خبیث معاذ اﷲ آیہ کریمہ وخاتم النبیین میں خدا کا جھوٹ ممکن لکھ گیا، اب یہ جب تک اپنی سینہ زوری سے کچھ خاتم الانبیاء گھڑ کر نہ دکھائیں اگر چہ زمین کے اسفل السافلین طبقے میں تو گروجی پیشوا کی خدمت ہی کیا ہوئی، ہونہار سپوتوں کی سعادت ہی کیا ہوئی، کسی قاسم کفر وضلالت قسیم ومباین حق وہدایت کا کوئی بھائی لگتا ان نئے مرتدوں کے ہاتھ بک گیا۔ ساتھ خاتم النبیین کا فتویٰ لکھ گیا، اب یہ اگر تازی نبوتوں کا ٹھیکہ نہ لیں ختم نبوت کے معنی متواتر کو مہمل نہ کہیں تو اکلوتے بھیا کی حمایت ہی کیا ہوئی، اختراعی طبیعت کی جودت ہی کیا ہوئی، کسی مردک کو یہ دھن سمائی کہ سید بنے تو کیا بنے، کوئی گنے تو نبی کا نواسا ہی گنے، پائچے کا رشتہ کوئی بات نہیں، پیرجی پوتے نہ بن بیٹھے تو کچھ کرامات نہیں۔

وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَيَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ 26
اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم

مقوقس شاہ مصر کی تصدیق ولادت:

امام واقدی وابو نعیم حضرت مغیرہ بن شعبہ sym-5سے حدیث طویل ملاقات مقوقس بادشاہ مصر میں راوی، جب ہم نے اس نصرانی بادشاہ سے حضور اقدس ﷺ کی مدح وتصدیق سنی اس کے پاس سے وہ کلام سن کر اٹھے جس نے ہمیں محمد ﷺ کے لئے ذلیل وخاضع کردیا ہم نے کہا سلاطین عجم ان کی تصدیق کرتے اور ان سے ڈرتے ہیں حالانکہ ان سے کچھ رشتہ علاقہ نہیں اور ہم تو ان کے رشتہ دار ان کے ہمسائے ہیں وہ ہمارے گھر ہمیں دین کی طرف بلانے آئے اور ہم ابھی ان کے پیرو نہ ہوئے، پھر میں اسکندریہ میں ٹھہرا کوئی گرجا کوئی پادری قبطی خواہ رومی نہ چھوڑا جہاں جا کر محمد ﷺ کی صفت جو وہ اپنی کتاب میں پاتے ہیں نہ پوچھی ہو، ان میں ایک پادری قبطی سب سے بڑا مجتہد تھا اس سے پوچھا:

ھل بقی احد من الانبیاء
آیا پیغمبروں میں سے کوئی باقی رہا؟ وہ بولا:
نعم وھو اٰخر الانبیاء لیس بینه وبین عیسٰی نبی قد امر عیسٰی باتباعه وھو النبی الامی العربی اسمه احمد
ہاں ایک نبی باقی ہیں وہ سب انبیاء سے پچھلے ہیں ان کے اور عیسیٰ کے بیچ میں کوئی نبی نہیں، عیسیٰ sym-9کو ان کی پیروی کا حکم ہوا ہے وہ نبی امّی عربی ہیں ان کا نام پاک احمد ﷺ۔

پھر اس نے حلیہ شریفہ ودیگر فضائل لطیفہ ذکر کئے، مغیرہ نے فرمایا: اور بیان کر اس نے اور بتائے، ازانجملہ کہا:

یخص بما لم یخصّ به الانبیاء قبله كان النبی یبعث الی قومه وبعث الی الناس كافة
انہیں وہ خصائص عطا ہوں گے جو کسی نبی کو نہ ملے ہر نبی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا وہ تمام لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے۔

مغیرہ فرماتے ہیں میں نے یہ سب باتیں خوب یاد رکھیں اور وہاں سے واپس آکر اسلام لایا۔ 27

میلاد النبی پر خاص تارے کا طلوع:

ابو نعیم حضرت حسّان بن ثابت انصاری sym-5سے راوی، میں سات برس کا تھا ایک دن پچھلی رات کو وہ سخت آواز آئی کہ ایسی جلد پہنچتی آواز میں نے کبھی نہ سنی تھی کیا دیکھتا ہوں کہ مدینے کے ایک بلند ٹیلے پر ایک یہودی ہاتھ میں آگ کا شعلہ لئے چیخ رہا ہے لوگ اس کی آواز پر جمع ہوئے وہ بولا:

ھذا كوكب احمد قد طلع ھذا الكوكب لا یطلع الا بالنبوة ولم یبق من الانبیاء الاّ احمد 28
یہ احمد کے ستارے نے طلوع کیا، یہ ستارہ کسی نبی ہی کی پیدائش پر طلوع کرتا ہے اور اب انبیاء میں سوائے احمد کے کوئی باقی نہیں ﷺ۔

یہودی علماء کے ہاں ذکرِ ولادت:

امام واقدی وابو نعیم حضرت حویصر بن مسعود sym-5سے راوی:

قال کكا ویھود فینا كانوا یذكرون نبیا یبعث بمكة اسمه احمد ولم یبق من الانبیاء غیرہ وھو فی كتبنا 29الحدیث
یعنی میرے بچپن میں یہود ہم میں ایک نبی کا ذکر کرتے جو مکے میں مبعوث ہوں گے ان کا نام پاک احمد ہے اب ان کے سوا کوئی نبی باقی نہیں وہ ہماری کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔

احبار کی زبان پر نعتِ نبی:

ابو نعیم سعد بن ثابت سے راوی:

قال كان احبار یهود بنی قریظة والنضیر یذكرون صفة النبی ﷺ، فلما طلع الكوكب الاحمر اخبروا انه نبی وانه لا نبی بعده اسمه احمد ومھاجره الیٰ یثرب فلما قدم النبی ﷺ المدینة ونزلھا انکروا وحسدوا وبغوا30
یہود بنی قریظہ وبنی نضیر کے علماء حضور سید عالم ﷺ کی صفت بیان کرتے جب سرخ ستارہ چمکا تو انہوں نے خبر دی کہ وہ نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ان کا نام پاک احمد ہے، ان کی ہجرت گاہ مدینہ ﷺ، جب حضور اقدس ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لا کر رونق افروز ہوئے یہود براہِ حسد وبغاوت منکر ہوگئے۔
فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ 31
تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس کے منکر ہو بیٹھے تو اﷲ کی لعنت منکروں پر۔ (ت)

اہل یثرب کو بشارت میلاد النبی:

زیاد بن لبید سے راوی، میں مدینہ طیبہ میں ایک ٹیلے پر تھا ناگاہ ایک آواز سنی کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے:

یا اھل یثرب قد ذھبت واﷲ نبوة بنی اسرائیل، ھذا نجم قد طلع بمولد احمد وھو نبی اٰخر الانبیاء ومھاجرہ الٰی یثرب32
اے اہل مدینہ! خدا کی قسم بنی اسرائیل کی نبوت گئی، ولادتِ احمد کا تارا چمکا، وہ سب سے پچھلے نبی ہیں، مدینے کی طرف ہجرت فرمائیں گے ﷺ۔

یوشع کی زبان پر نعتِ رسول:

حضرت ابو سعید خدری sym-5سے راوی میں نے مالک بن سنان sym-5کو کہتے سنا کہ میں ایک روز بنی عبدالاشہل میں بات چیت کرنے گیا، یوشع یہودی بولا اب وقت آلگا ہے ایک نبی کے ظہور کا جس کا نام احمد، ﷺ حرم سے تشریف لائیں گے ان کا حلیہ ووصف یہ ہوگا، میں اس کی باتوں سے تعجب کرتا اپنی قوم میں آیا وہاں بھی ایک شخص کو ایسا ہی بیان کرتے پایا، میں بنی قریظہ میں گیا وہاں بھی ایک مجمع میں نبی ﷺ کا ذکر پاک ہو رہا تھا ان میں سے زبیر بن باطا نے کہا:

قد طلع الكوكب الاحمر الذي لم یطلع الا لخروج نبی وظهوره ولم یبق احد الا احمد وھذہ مھاجرہ33
بیشک سرخ ستارہ طلوع ہو کر آیا یہ تارا کسی نبی ہی کی ولادت وظہور پر چمکتا ہے اور اب میں کوئی نبی نہیں پاتا سوا احمد کے، اور یہ شہر ان کی ہجرت گاہ ہے ﷺ۔

تذییل:

ابن سعد وحاکم وبیہقی وابو نعیم حضرت ام المؤمنین صدیقہ sym-5سے راوی مکہ معظمہ میں ایک یہودی بغرض تجارت رہتا جس رات حضور پُر نور ﷺ پیدا ہوئے قریش کی مجلس میں گیا اور پوچھا کیا آج تم میں کوئی لڑکا پیدا ہوا انہوں نے کہا ہمیں نہیں معلوم، کہا:

احفظوا ما اقول لکم، ولد ھذہ اللیلة نبی ھذه الامة الاخیرة بین کتفیه علامة34 الحدیث
جو تم سے کہہ رہا ہوں اسے حفظ کر رکھو آج کی رات اس پچھلی امت کا نبی پیدا ہوا اس کے شانوں کے درمیان علامت ہے ﷺ۔

ارشادات حضور ختم الانبیاء علیہم افضل الصلوٰۃ والثناء

وفیھا انواع نوع فی اسماء النبی ﷺ

اسماء النبی:

اجلہ ائمہ بخاری ومسلم وترمذی ونسائی وامام مالک وامام احمد وابو داؤد طیالسی وابن سعد وطبرانی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وغیرہم حضرت جبیر بن مطعم sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذي یمحوا اﷲ بی الکفر وانا الحاشر الذي یحشر الناس علٰی قدمی وانا العاقب الذي لیس بعدہ نبی35
بیشک میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ اﷲ تعالیٰ میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں ﷺ۔

سبعہ اخیرہ الا الطبرانی کی روایت میں والخاتم زائد ہے یعنی اور میں خاتم ہوں ﷺ۔36

انا محمد واحمد:

امام احمد مسند اور مسلم صحیح اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت ابو موسیٰ اشعری sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

انا محمد واحمد والمقفی والحاشر ونبی التوبة ونبی الرحمة37
میں محمد ہوں اور احمد اور سب انبیاء کے بعد آنے والا اور خلائق کو حشر دینے والا اور رحمت کا نبی ﷺ۔

نام مبارک نبی التوبۃ عجب جامع و کثیر المنافع نام پاک ہے، اس کی تیرہ توجیہیں فقیر غفرلہ المولی القدیر نے شرح صحیح مسلم للامام النووی وشرح الشفا للقاری والخفاجی ومرقاۃ واشعۃ اللمعات شروح مشکوٰۃ وتیسیر وسراج المنیر وحنفی شروح جامع صغیر وجمع الوسائل شرح شمائل ومطالع المسرات ومواہب وشرح زرقانی و مجمع البحار سے التقاط کیں اور چار بتوفیق اﷲ تعالیٰ اپنی طرف سے بڑھائیں سب سترہ ہوئیں، بعضہا املح من بعض واحلی (ان میں ہر ایک دوسری سے لذیذ اور میٹھی ہے۔ ت)

خصائصِ مصطفیٰ ﷺ:

(۱) حضور اقدس ﷺ کی ہدایت سے عالم نے توبہ ورجوع الی اﷲ کی دولتیں پائیں حضور کی آواز پر متفرق جماعتیں، مختلف امتیں اﷲ عزوجل کی طرف پلٹ آئیں،

ذكرہ فی مطالع المسرات وقاري فی شرح الشفاء والشیخ المحقق فی اشعة اللمعات وعلیه اقتصر فی المواھب اللدنیة شرح الاسماء العلیة وقبله شارحھا الزرقانی عند سردھا38
(اس کو مطالع المسرات میں اور ملا علی قاری نے شرح شفاء میں، شیخ محقق نے اشعۃ اللمعات میں ذکر کیا۔ اور اسی پر مواہب لدنیہ کے شرح اسماء مبارکہ میں اور اس سے قبل اپنے بیان میں شارح زرقانی نے انحصار کیا۔ ت)

(۲) ان کی برکت سے خلائق کو توبہ نصیب ہوئی،

الشیخ فی اللمعات والاشعة اقول ولیس بالاول فان الھدایةدعوة وارائةوبالبركةتوفیق الوصول39
(اقول یہ چیز اول یعنی ہدایت سے حاصل نہیں ہوتی کیونکہ ہدایت دعوت، راستہ دکھانے اور برکت سے وصول مقصود کی توفیق کا نام ہے)

(۳) ان کے ہاتھ پر جس قدر بندوں نے توبہ کی اور انبیائے کرام کے ہاتھوں پر نہ ہوئی ،

الشیخ فی اللمعات واشار الیی فی الاشعم حیث قال بعد ذكر الاولین
(شیخ نے لمعات میں اسے ذکر کیا اور اشعہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا جہاں انہوں نے پہلے دونوں کا ذکر کیا وہاں یہ ہے۔ ت)

ایں صفت در جمیع انبیاء مشترک ست ودر ذات شریف آں حضرت ﷺ ازہمہ بیشتر ووافر وکامل ترست۔40
تمام انبیاء میں یہ صفت مشترک ہے اور آنحضرت ﷺ کی ذات میں یہ سب سے زیادہ اور وافر اور کامل تر ہے۔

صحیح حدیثوں سے ثابت کہ روز قیامت یہ امت سب امتوں سے شمار میں زیادہ ہوگی، نہ فقط ہر ایک امت جداگانہ بلکہ مجموع جمیع امم سے، اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں بحمداﷲ تعالیٰ اسی (۸۰) ہماری اور چالیس (۴۰) میں باقی سب امتیں، والحمد ﷲ رب العالمین

(۴) وہ توبہ کا حکم لے کر آئے۔

الامام النووي فی شرح صحیح مسلم والقاري فی جمع الوسائل والزرقانی فی شرح المواھب 41
(اسے امام نووی نے شرح مسلم، ملا علی قاری نے جمع الوسائل اور زرقانی نے شرح مواہب میں ذکر کیا۔ ت)

(۵) اﷲ عزوجل کے حضور سے قبول توبہ کی بشارت لائے۔ شرح المواہب والمناوی فی التیسیر42

(۶) اقول بلکہ وہ توبہ عام لائے ہر نبی صرف اپنی قوم کے لئے توبہ لاتا ہے وہ تمام جہان سے توبہ لینے آئے ﷺ۔

(۷) بلکہ توبہ کا حکم وہی لے کر آئے کہ انبیاء sym-3سب ان کے نائب ہیں تو روز اول سے آج تک اور آج سے قیامت تک جو توبہ خلق سے طلب کی گئی یا کی جائے گی، واقع ہوئی یا وقوع پائے گی۔ سب کے نبی، ہمارے نبی توبہ ہیں ﷺ،

الفاسی فی مطالع المسرات فجزاہ اﷲ معانی المبرات وعوالی المسرات 43
(یہ علامہ فاسی نے مطالع المسرات میں ذکر کیا، اﷲ تعالیٰ ان کو نیکیوں کا ذخیرہ اور بلند خوشیاں جزا میں عطا فرمائے۔ ت)

(۸) توبہ سے مراد اہل توبہ ہیں۔ 44

اي علی وزان قوله تعالیٰ واسئل القریة

(اﷲ تعالیٰ کے قول واسئل القریة کے انداز پر) یعنی توابین کے نبی، مطالع المسرات مع زیادۃ منی (مطالع المسرات مطالع المسرات اور جو کچھ زیادہ ہے وہ میری طرف سے(ت)

اقول اب اوفق یہ ہے کہ توبہ سے مراد ایمان لیں۔ 45کما سوغہ المناوی ثم العزیزی فی شروح الجامع الصغیر (جیسا کہ علامہ مناوی نے پھر عزیزی نے الجامع الصغیر کی شرحوں میں ذکر فرمایا) (ت) حاصل یہ کہ تمام اہل ایمان کے نبی۔

(۹) ان کی امت توابین ہیں، وصفِ توبہ میں سب امتوں سے ممتاز ہیں، قرآن ان کی صفت میں التائبون46 فرماتا ہے، جمع الوسائل، جب گناہ کرتے ہیں توبہ لاتے ہیں یہ امت کا فضل ہے اور امت کا ہر فضل اس کے نبی کی طرف راجع، 47 مطالع، اقول وبہ فارق ما قبلہ فلیس فیہ حذف ولا یجوز (میں کہتا ہوں، اس سبب سے وہ پہلے سے جدا ہوا تو اس میں نہ حذف ہے اور نہ یہ جائز ہے۔ ت)

(۱۰) ان کی امت کی توبہ سب امتوں سے زائد مقبول ہوئی، 48 حفنی علی الجامع الصغیر، کہ ان کی توبہ میں مجرد ندامت وترک فی الحال وعزم امتناع پر کفایت کی گئی، نبی الرحمۃ ﷺ نے ان کے بوجھ اتار لئے اگلی امتوں کے سخت وشدید باران پر نہ آنے دئیے، اگلوں کی توبہ سخت سخت شرائط سے مشروط کی جاتی تھی گؤسالہ پرستی سے بنی اسرائیل کی توبہ اپنی جانوں کے قتل سے رکھی گئی کما نطق بہ القراٰن العزیز (جیسا کہ قرآن نے اس کو بیان فرمایا) (ت) جب ستّر ہزار آپس میں کٹ چکے اس وقت توبہ قبول ہوئی، شرح الشفاء للقاری (عہ) والمرقاۃ ونسیم الریاض والفاسی ومجمع البحار برمز (ن) للامام النووی والذی رأیتہ فی منھاجہ ما قدمت فحسب۔ (ن کی رمز امام نووی کی طرف ہے) اور جو میں نے ان کی کتاب منہاج میں دیکھا وہ میں نے پہلے بیان کر دیا ہے اور بس۔ ت

حاشیہ
(عه) اقتصر الحنفی فی تقریر ھذا الوجه علی ذكر الاستغفار فقط فقال لانه قبل من امته التوبة بمجرد الاستغفار زاد میرک بخلاف الامم السابقة واستدل بقوله تعالیٰ فاستغفروا اﷲ واستغفر لھم الرسول الآیة49 وقد اقره العلامة القاري فی المرقاة وفی شرح الشفاء وشدد النكیر علیه فی جمع الوسائل شرح الشمائل فقال ھذا قول لم یقل به احد من العلماء فهو خلاف الامة وقد قال واركان التوبة علی ما قاله العلماء ثلثة الندم والقلع والعزم علی ان لا یعود ولا احد جعل الاستغفار اللسانی شرطا للتوبة الخ 50 اقول رحم اﷲ مولانا القاري این فی كلام الحنفي ومیرک ان التوبة لا تقبل الا بالاستغفار فضلا عن اشتراط الاستغفار باللسان، انما ذکر ان مجرد الاستغفار كاف فی توبة ھذہ الامة من دون الزام امور اخر شاقة جدا كقتل الانفس وغیرہ مما الزمت به الامم السابقة فلا تشم منه رائحة اشتراط الاستغفار لمطلق التوبة وان امعنت النظر لم تجد فیه خلافا لحدیث الارکان ایضا فان الاستغفار الصادق لا ینشؤا الا عن ندم صحیح والندم الصحیح یلزمه الاقلاع وعزم الترک، ولذا صح عنه ﷺ قوله الندم توبة علا ان المقصود الحصر بالنسبة الٰی ما كان علی الامم السابقة من الامر ثم ھذا كله لا مساغ له فی تقریرا لوجه بما قررنا كما تري فاعرف 12 منه۔
حنفی نے اپنی تقریر میں اس وجہ پر استغفار کے ذکر کا اقتصار کیا تو فرمایا آپ کی امت سے صرف استغفار پر توبہ قبول فرمائی، اس پر میرک نے ’’بخلاف الامم السابقہ‘‘ کا اضافہ کیا انہوں نے دلیل میں اﷲ تعالیٰ کا قول ’’اﷲ تعالیٰ سے استغفار کرو اور رسول ان کے لئے استغفار فرمائیں، الآیۃ‘‘ ذکر کیا، علامہ قاری نے مرقات اور شرح شفاء میں اس کو ثابت رکھا جبکہ جمع الوسائل میں اس پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ یہ بات علماء میں سے کسی نے نہ کی تو یہ امت کے خلاف ہے اور فرمایا کہ توبہ کے ارکان علماء کے بیان کے مطابق تین ہیں، ندامت اور چھوڑنا، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم، اور کسی نے بھی زبانی استغفار کو توبہ کی شرط نہ کہا الخ، اقول (میں کہتا ہوں) اﷲ تعالیٰ ملا علی قاری پر رحم فرمائے حنفی اور میرک کے کلام میں استغفار کے بغیر توبہ کا قبول نہ ہونا کہاں ہے چہ جائیکہ زبانی استغفار کی شرط ہو، انہوں نے تو یوں کہا ہے کہ اس امت کی توبہ میں صرف استغفار کافی ہے دوسرے شاق امور لازم نہیں مثلاً جانوروں کو قتل کرنا وغیرہ، جو کچھ پہلی امتوں پر لازم کیا گیا اس سے مطلق توبہ کے لئے استغفار کی شرط کی بو تک محسوس نہیں ہوتی، اگر آپ گہری نظر سے دیکھیں تو اس میں آپ کوئی خلاف نہ پائیں گے کہ سچی استغفار کا وجود سچی ندامت کے بغیر نہیں ہوسکتا کیونکہ صحیح ندامت کو گناہ کا ختم کرنا اور اس کے ترک کا عزم لازم ہے اسی معنی میں حضور ﷺ سے صحیح منقول ہے کہ ندامت توبہ ہے اس کے علاوہ ان کا مقصد پہلی امتوں پر لازم امور کی نسبت سے حصر کرنا ہے، پھر اس وجہ کی تقریر میں اس تمام بیان کا کوئی دخل نہیں ہے جس کی ہم نے تقریر کی جیسا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں، غور کرو ۱۲ منہ۔ (ت)
حاشیہ ختم شد

(۱۱) وہ خود کثیر التوبہ ہیں، صحیح بخاری میں ہے: میں روز اللہ سبحانہ سے سو بار استغفار کرتا ہوں۔ 51شرح الشفا والمرقاۃ واللمعات والمجمع برمز (ط) للطیبی والزرقانی ہر ایک کی توبہ اس کے لائق ہے۔ حسنات الابرار سیاٰت المقربین (نیکوں کی خوبیاں مقربین کے گناہ ہیں۔ (ت) حضور اقدس ﷺ ہر آن ترقی مقامات قرب ومشاہدہ میں ہیں۔وللاٰخرۃ خیر لک من الاولی52 (آپ کے لئے ہر پہلی ساعت سے دوسری افضل ہے۔ ت) جب ایک مقام اجل واعلیٰ پر ترقی فرماتے گزشتہ مقام کو بہ نسبت اس کے ایک نوع تقصیر تصوّر فرما کر اپنے رب کے حضور توبہ واستغفار لاتے تو وہ ہمیشہ ترقی اور ہمیشہ توبہ بے تقصیر میں ہیں ﷺمطالع مع بعض زیادات منی53

(۱۲) باب توبہ:

انہیں کے امت کے آخر عہد میں باب توبہ بند ہوگا ۔شرح الشفا للقاری54، اگلی نبوتوں میں اگر کوئی ایک نبی کے ہاتھ پر تائب نہ ہو تاکہ دوسرا نبی آئے اس کے ہاتھ پر توبہ لائے یہاں باب نبوت مسدود اور ختم ملّت پر توبہ مفقود، تو جو ان کے دستِ اقدس پر توبہ نہ لائے اس کے لئے کہیں توبہ نہیں۔55افادہ الفاسی وبہ استقام کونہ من وجود التسمی بھٰذا الاسم العلی السمی (یہ فائدہ علامہ فاسی نے بیان کیا اور اس معنی کی بناء پر آپ کی ذات مبارکہ کا اس نام سے مسمّٰی ہونا درست ہے۔ ت)

(۱۳) فاتح باب توبہ:

وہ فاتح باب توبہ ہیں سب میں پہلے سیدنا آدم sym-9نے توبہ کی وہ انہیں کے توسل سے تھی تو وہی اصل توبہ ہیں اور وہی وسیلہ توبہ، ﷺ، مطالع۔56

(۱۴) کعب کا خون:

وہ توبہ قبول کرنے والے ہیں ان کا دروازہ کرم توبہ ومعذرت کرنے والوں کے لئے ہمیشہ مفتوح ہے جب سید عالم ﷺ نے کعب بن زہیر sym-5کا خون ان کے زمانہ نصرانیت میں مباح فرما دیا ہے ان کے بھائی بجیر بن زہیر sym-5نے انہیں لکھا فطر الیہ فانہ لا یرد من جاء تائبا ان کے حضور اڑ کر آؤ جو ان کے سامنے توبہ کرتا حاضر ہو یہ اسے کبھی رد نہیں فرماتے۔ مطالع المسرات57 ، اسی بناء پر کعب sym-5جب حاضر ہوئے راہ میں قصیدہ نعتیہ بانت سعاد نظم کیا جس میں عرض رسا ہیں:

انبئت ان رسول اﷲ اوعدنی والعفو عند رسول اﷲ مامول
انی اتیت رسول اﷲ معتذرا والعذر عند رسول اﷲ مقبول58
مجھے خبر پہنچی کہ رسول اﷲ ﷺ نے میرے لئے سزا کا حکم فرمایا ہے اور رسول کے ہاں معافی کی امید کی جاتی ہے اور رسول اﷲ ﷺ کے حضور معذرت کرتا حاضر ہوا اور رسول اﷲ ﷺ کی بارگاہ میں عذر دولت قبول پاتا ہے۔

توراۃ مقدس میں ہے:لا یجزئ بالسیئۃ السیئۃ ولکن یعفو ویغفر59 احمد ﷺ بدی کا بدلہ بدی نہ دیں گے بلکہ بخش دیں گے اور مغفرت فرمائیں گے۔ رواہ البخاری عن عبداﷲ بن عمرو والدارمی وابن سعد وعساکر عن ابن عباس والاخیر عن عبداﷲ بن سلام، وابن ابی حاتم عن وھب بن منبہ وابو نعیم عن کعب الاحبار رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین(اس کو بخاری نے عبداﷲ بن عمرو اور دارمی، ابن سعد اور ابن عساکر نے ابن عباس سے اور آخری نے عبداﷲ بن سلام سے، ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ سے اور ابو نعیم نے کعب الاحبارsym-5سے روایت کیا۔ ت) ولہٰذا حضور اقدس ﷺ کے اسمائے طیبہ ہیں عفو غفور ﷺ۔

(۱۵) نبی توبہ:

اقول وہ نبی توبہ ہیں، بندوں کو حکم ہے کہ ان کی بارگاہ میں حاضر ہو کر توبہ واستغفار کریں اﷲ تو ہر جگہ سنتا ہے، اس کا علم اس کا سمع اس کا شہود سب جگہ ایک سا ہے مگر حکم یہی فرمایا کہ میری طرف توبہ چاہو تو میرے محبوب کے حضور حاضر ہو۔ قال تعالیٰ:

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا60
اگر وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کریں تیرے پاس حاضر ہو کر خدا سے بخشش چاہیں اور رسول ان کی مغفرت مانگے تو ضرور خدا کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔

حضور کے عالم حیات ظاہری میں حضور ظاہر تھا، اب حضور مزار پُر انوار ہے اور جہاں یہ بھی میسر نہ ہو تو دل سے حضور پر نور کی طرف توجہ حضور سے توسل فریاد، استغاثہ، طلب شفاعت کہ حضور اقدس ﷺ اب بھی ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں، مولانا علی قاری sym-4الباری شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں:

روح النبی ﷺ حاضرة فی بیوت اھل الاسلام61
نبی ﷺ ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں۔

(۱۶) وہ مفیض توبہ ہیں توبہ لیتے بھی یہی ہیں اور دیتے بھی یہی، یہ توبہ نہ دیں تو کوئی توبہ نہ کرسکے، توبہ ایک نعمتِ عظمیٰ بلکہ اجل نعم ہے، اور نصوص متواترہ اولیائے کرام وعلمائے اعلام سے مبرہن ہوچکا کہ ہر نعمت قلیل یا کثیر، صغیر یا کبیر، جسمانی یا روحانی، دینی یا دنیوی، ظاہری یا باطنی، روز اول سے اب تک، اب سے قیامت تک، قیامت سے آخرت، آخرت سے ابد تک، مومن یا کافر، مطیع یا فاجر، ملک یا انسان، جن یا حیوان بلکہ تمام ماسوا اﷲ میں جسے جو کچھ ملی یا ملتی ہے یا ملے گی اس کی کلی انہیں کے صبائے کرم سے کھلی اور کھلتی ہے اور کھلے گی، انہیں کے ہاتھوں پر بٹی اور بٹتی ہے یہ سر الوجود واصل الوجود وخلیفۃ اﷲ الاعظم وولی نعمت عالم ہیں ﷺ یہ خود فرماتے ہیں ﷺ:

انا ابو القاسم اﷲ یعطی وانا اقسم(ف)رواہ الحاكم فی المستدرک وصححه واقره الناقدون62
میں ابو القاسم ہوں اﷲ دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔ (اسے حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور اس کی تصحیح کی اور تحقیق کرنے والوں نے اسے ثابت رکھا ہے۔ ت)
حاشیہ

(ف): ہر نعمت ہر شخص کو نبی ﷺ سے ملی اور ملتی ہے اور ملے گی۔

حاشیہ ختم شد

ان کا رب اﷲ عزوجل فرماتا ہے:

وما ارسلنٰک الا رحمة للعٰلمین63
ہم نے نہ بھیجا تمہیں مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔

فقیر غفرلہ اﷲ تعالیٰ نے اس جانفزا وایمان افروز ودشمن گزا وشیطان سوز بحث کی تفصیل جلیل اور اس پر نصوص قاہرہ کثیرہ وافر کی تکثیر جمیل اپنے رسالہ مبارکہ سلطنت المصطفیٰ فی ملکوت الوریٰ میں ذکر کی والحمد ﷲ رب العٰلمین

(۱۷) اقول وہ نبی توبہ ہیں کہ گناہوں سے ان کی طرف توبہ کی جاتی ہے توبہ میں انکا نام نامِ پاک نام جلالت حضرت عزت جلالہ کے ساتھ لیا جاتا ہے کہ میں اﷲ ورسول کی طرف توبہ کرتا ہوں جل جلالہ وﷺصحیح بخاری وصحیح مسلم شریف میں ہے امّ المؤمنین صدیقہ sym-6نے عرض کی: یا رسول اﷲ اتوب الی اﷲ والی رسولہ ما ذا اذنبت64 یا رسول اﷲ! میں اﷲ اور اﷲ کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا خطا ہوئی؟

معجم کبیر میں حضرت ثوبان sym-5سے ہے ابوبکر صدیق وعمر فاروق وغیرہما چالیس اجلّہ صحابہ کرام حضور اقدس ﷺ کی طرف کھڑے ہو کر ہاتھ پھیلا کر لرزتے کانپتے حضور سے عرض کی:

تبنا الی اﷲ والٰی رسوله 65
ہم اﷲ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کرتے ہیں۔

فقیر نے یہ حدیثیں مع جلیل ونفیس بحثیں اپنے رسالہ مبارکہ الامن والعلٰی لناعتی المصطفیٰ بدافع البلاء میں ذکر کیں۔

اقول توبہ کے معنی ہیں نافرمانی سے باز آنا، جس کی معصیت کی ہے اس سے عہد اطاعت کی تجدید کر کے اسے راضی کرنا، اور نص قطعی قرآن سے ثابت کہ اﷲ عزوجل کا ہر گنہگار حضور سید عالم ﷺ کا گنہگار ہے۔ قال اﷲ تعالیٰ:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ 66
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی۔
ویلزمه عکس النقیض من لم یطع اﷲ لم یطع الرسول وھو معنی قولنا من عصی اﷲ فقد عصی الرسول

اس کو عکس نقیض، من لم یطع اﷲ لم یطع الرسول، لازم ہے اور ہمارے قول ’’من عصی اﷲ فقد عصی الرسول‘‘ کا یہی معنی ہے۔ (ت)

اور قرآن عظیم حکم دیتا ہے کہ اﷲ ورسول کو راضی کرو۔

قال اﷲ تعالیٰ:
وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ 67
سب سے زیادہ راضی کرنے کے مستحق اﷲ ورسول ہیں اگر یہ لوگ ایمان رکھتے ہیں۔
نسأل اﷲ الایمان والامن والامان ورضاہ ورضی رسوله الکریم علیه وعلیٰ اٰله الصلوٰة والتسلیم
ہم اﷲ تعالیٰ سے ایمان، امن وامان، اس کی رضا، اس کے رسول کریم کی رضا چاہتے ہیں، ﷺ۔ (ت)

یہ نفیس فوائد کہ استطراداً زبان پر آگئے قابل حفظ ہیں کہ اس رسالے کے غیر میں نہ ملیں گے یوں تو

ہر گُلے را رنگ وبوُئے دیگرست
(ہر پھول کا رنگ وخوشبو علیحدہ ہے۔ ت)

مگر میں امید کرتا ہوں کہ فقیر کی یہ تین توجہیں اخیر بحمد اﷲ تعالیٰ چیزے دیگر ہیں وباﷲ التوفیق

توبہ قبول کرنے والے نبی:

امام احمد وابن سعد وابن ابی شیبہ اور امام بخاری تاریخ اور ترمذی شمائل میں حضرت حذیفہ sym-5سے راوی، مدینہ طیبہ کے ایک راستے میں حضور سید عالم ﷺ مجھے ملے ارشاد فرمایا:

انا محمد وانا احمد وانا نبی الرحمة ونبی التوبة وانا المقفی وانا الحاشر ونبی الملاحم 68
میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں رحمت کا نبی ہوں، میں توبہ کا نبی ہوں، میں سب میں آخر نبی ہوں، میں حشر دینے والا ہوں، میں جہادوں کا نبی ہوں، ﷺ۔

مالکِ لوائے حمد:

طبرانی معجم کبیر اور سعید بن منصور سنن میں حضرت جابر بن عبداﷲ sym-8سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

انا محمد وانا احمد وانا الحاشر الذي احشر الناس علٰی قدمي، وانا ماحی الذي یمحوا اﷲ بی الکفر، فاذا کان یوم القیٰمةكان لواء الحمد معی، وكنت امام المرسلین وصاحب شفاعتھم69
میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو اپنے قدموں پر میں حشر دوں گا، میں ماحی ہوں کہ اﷲ تعالیٰ میرے سبب سے کفر کو محو فرماتا ہے، قیامت کے دن لواء الحمد میرے ہاتھ میں ہوگا، میں سب پیغمبروں کا امام اور ان کی شفاعتوں کا مالک ہوں گا ﷺ۔

اسمائے طیبہ خاتم وعاقب ومقفی تو معنی ختم نبوت میں نص صریح ہیں، علماء فرماتے ہیں اسم پاک حاشر بھی اسی طرف ناظر۔

امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:

قال العلماء معناھما (اي معنی روایتی قدمی بالتثنیة والافراد) یحشرون علٰی اثري وزمان نبوتی ورسالتی ولیس بعدي نبی70
علماء نے فرمایا ان دونوں یعنی قدمی مفرد اور قدمی تثنیہ کا معنی یہ ہے کہ لوگوں کا حشر میرے پیچھے میری رسالت ونبوت کے زمانہ میں ہوگا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

تیسیر میں ہے:

اي علی اثر نوبتی اي زمنھا اي لیس بعدہ نبی71
(یعنی میری نبوت کے زمانہ کے بعد یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ت)

جمع الوسائل میں ہے:

قال الجزري اي یحشر الناس علٰی اثر زمان نبوتی لیس بعدي نبی 72
جزری نے فرمایا یعنی لوگوں کا حشر میری نبوت کے زمانہ کے بعد ہوگا میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ (ت)

دس اسمائے مبارکہ:

ابن مردویہ تفسیر اور ابو نعیم دلائل میں اور ابن عدی وابن عساکر ودیلمی حضرت ابو الطفیل sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

ان لی عشرة اسماء عند ربی انا محمد واحمد والفاتح والخاتم وابو القاسم والحاشر والعاقب والماحي ویس وطٰه73
میرے رب کے یہاں میرے دس نام ہیں، محمد واحمد وفاتح عالم ایجاد وخاتم نبوت وابو القاسم وحاشر وآخر الانبیاء وماحی کفر ویس وطٰہٰ ﷺ۔

ابن عدی کامل میں حضرت جابر sym-5سے راوی:

ان لی عند ربي عشرة
اسماء میرے رب کے پاس میرے لیے دس نام ہیں ۔

ازانجملہ محمد واحمد وماحی وحاشر وعاقب یعنی خاتم الانبیاء ورسول الرحمۃ ورسول التوبہ ورسول الملاحم ذکر کر کے فرمایا:

وانا المقفی قفیت النبیین عامة وانا قثم74
میں مقفی ہوں کہ تمام پیغمبروں کے بعد آیا اور میں کامل جامع ہوں ﷺ۔

تنبیہ:

یہ حدیث ابن عدی نے مولیٰ علی وام المؤمنین صدیقہ واسامہ بن زید وعبداﷲ بن عباسsym-8سے بھی روایت کی، کما فی مطالع المسرات فان کان کلھا عاقب او مقف ونحوھما کانت خمسۃ احادیث(جیسا کہ مطالع المسرات میں ہے تو اگر تمام میں عاقب یا مقف وغیرہما ہوں تو پانچ احادیث ہوئیں۔ ت)

الحاشر والعاقب:

حاکم مستدرک میں بافادہ تصحیح حضرت عوف بن مالک sym-5سے راوی، سید المرسلین ﷺ کنیسہ یہود میں تشریف لے گئے، میں ہمرکاب تھا، فرمایا، اے گروہ یہود! مجھے بارہ آدمی دکھاؤ جو گواہی دینے والے ہوں کہلا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ ﷺ، اﷲ عزوجل سب یہود سے اپنا غضب (یعنی جس میں وہ زمانہ موسیٰ sym-9سے گرفتار ہیں کہ وباؤا بغضب من اﷲ فباؤا بغضب علی غضب75 (اور خدا کے غضب میں لوٹے تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے۔ ت) اٹھا لے گا، یہود سن کر چپ رہے کسی نے جواب نہ دیا۔ حضور نے فرمایا:ابیتم فو اﷲ لانا الحاشر وانا العاقب وانا النبی المصطفیٰ اٰمنتم او کذبتم76تم نے نہ مانا خدا کی قسم بیشک میں حاشر ہوں اور میں خاتم الانبیاء ہوں اور میں نبی مصطفیٰ ہوں خواہ تم مانو یا نہ مانو۔

رسول جہاد:

ابن سعد مجاہد مکی سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

انا محمد واحمد انا رسول الرحمة انا الملحمة انا المقفی والحاشر77
میں محمد واحمد ہوں میں رسول رحمت ہوں، میں رسول جہاد ہوں، میں خاتم الانبیا ہوں، میں لوگوں کو حشر دینے والا ہوں ﷺ۔

نوع اٰخر:

ھو الاوّل والاٰخر والظاھر والباطن78

وہی ہیں اوّل وہی ہیں آخر وہی ہیں باطن وہی ہیں ظاہر
انہیں سے عالم کی ابتدا ہے وہی رسولوں کی انتہا ہیں

صحیحین میں ابو ہریرہ sym-5سے ہے، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

نحن الاٰخرون السابقون یوم القیٰمة 79
ہم زمانے میں سب سے پچھلے اور قیامت میں سب سے اگلے ہیں۔

مسلم وابن ماجہ ابو ہریرہ وحذیفہ sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

نحن الاٰخرون من اھل الدنیا والاولون یوم القیٰمة المقضی لھم قبل الخلائق 80
ہم دنیا میں سب کے بعد اور آخرت میں سب پر سابق ہیں، تمام جہان سے پہلے ہمارے لئے حکم ہوگا۔

دارمی ابن مکتوم sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

ان اﷲ ادرک بی الاجل المرجو واختارنی اختیارا فنحن الاٰخرون ونحن السابقون یوم القیٰمة 81
بیشک اﷲ نے مجھے مدّت اخیر وزمانہ انتظار پر پہنچایا اور مجھے چن کر پسند فرمایا تو ہمیں سب سے پچھلے اور ہمیں روز قیامت سب سے اگلے ﷺ۔

اس حدیث میں نسخ مختلف ہیں بعض میں یوں ہے:

ان اﷲ ادرک بی الاجل المرحوم واختصر لی اختصارا 82
مجھے اﷲ عزوجل نے محض رحمت کے وقت پہنچایا اور میرے لئے کمال اختصار فرمایا۔

اس اختصار کی شرح وتفسیر پانچ وجہ منیر پر فقیر نے ۱۳۰۵ھ میں اپنے رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین میں بیان کی۔

آخر زمان اور اولین یوم قیامت:

اسحٰق بن راہویہ مسند اور ابوبکر ابن ابی شیبہ استاذ بخاری ومسلم مصنف میں مکحول سے راوی، امیر المؤمنین عمر sym-5 کا ایک یہودی پر کچھ آتا تھا لینے کے لئے تشریف لے گئے اور فرمایا:

لا والذي اصطفٰی محمدا علی البشر لا افارقک
قسم اس کی جس نے محمد ﷺ کو تمام آدمیوں سے برگزیدہ کیا میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔

یہودی بولا: واﷲ! خدا نے انہیں تمام بشر سے افضل نہ کیا، امیر المؤمنین نے اسے تمانچہ مارا، وہ بارگاہ رسالت میں نالشی آیا حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: عمر! تم اس تمانچہ کے بدلے اسے راضی کر دو (یعنی ذمی ہے) اور ہاں اے یہودی! آدم صفی اﷲ ، ابراہیم خلیل اﷲ ، نوح نجی اﷲ ، موسیٰ کلیم اﷲ ، عیسیٰ روح اﷲ ہیں وانا حبیب اﷲ اور میں اﷲ کا پیارا ہوں، ہاں اے یہودی! اﷲ نے اپنے دو ناموں پر میری امت کے نام رکھے اﷲ سلام ہے اور میری امت کا نام مسلمین رکھا اور اﷲ مومن ہے اور میری امت کو مومنین کا لقب دیا، ہاں اے یہودی! تم زمانہ میں پہلے ہوونحن الاٰخرون السابقون یوم القیٰمۃ اور ہم زمانے میں بعد اور روز قیامت میں سب سے پہلے ہیں، ہاں ہاں جنت حرام ہے انبیاء پر جب تک میں اس میں جلوہ افروز نہ ہوؤں اور حرام ہے امتوں پر جب تک میری امت نہ داخل ہو ﷺ۔83

دریائے رحمت:

بیہقی شعب الایمان میں ابو قلابہ سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

انما بعثت فاتحا وخاتما84
میں بھیجا گیا دریائے رحمت کھولتا اور نبوت ورسالت ختم کرتا ہوا۔

آخرین بعثت:

ابن ابی حاتم وبغوی وثعلبی تفاسیر اور ابو اسحٰق جوزجانی تاریخ اور ابو نعیم دلائل میں بطریق عدیدہ عن قتادۃ عن الحسن عن ابی ہریرہ sym-5مسنداً اور ابن سعد طبقات اور ابن لال مکارم الاخلاق میں قتادہ سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ ﷺ نے آیہ کریمہ واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح وابراھیم وموسٰی وعیسٰی بن مریم کی تفسیر میں فرمایا:

كنت اول النبیین فی الخلق واٰخرھم فی البعث85
میں سب نبیوں سے پہلے پیدا ہوا اور سب کے بعد بھیجا گیا۔

قتادہ نے کہا:

فبداء بی قبلھم
اسی لئے رب العزت تبارک وتعالیٰ نے آیہ کریمہ میں انبیائے سابقین سے پہلے حضور پر نور کا نام پاک لیا، ﷺ۔

تذییل:

ابو سہل قطان اپنے امالی میں سہل بن صالح ہمدانی سے راوی، میں نے حضرت سیدنا امام باقر sym-5سے پوچھا: نبی کریم ﷺ تو سب انبیاء کے بعد مبعوث ہوئے حضور کو سب پر تقدم کیونکر ہوا، فرمایا:

ان اﷲ تعالیٰ لما اخذ من بنی اٰدم من ظہورھم ذریاتھم واشہدھم علٰی انفسھم الست بربکم کان محمد ﷺ اول من قال بلٰی ولذٰلک صار یتقدم الانبیاء وھو اٰخر یبعث 86
جب اﷲ تعالیٰ نے آدمیوں کی پیٹھوں سے ان کی اولادیں روز میثاق نکالیں اور انہیں خود ان پر گواہ بنانے کو فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں، تو سب سے پہلے رسول اﷲ ﷺ نے کلمہ بلیٰ عرض کیا کہ ہاں کیوں نہیں، اس وجہ سے نبی ﷺ کو سب انبیاء پر تقدم ہوا حالانکہ حضور سب کے بعد مبعوث ہوئے ﷺ۔

حضرت فاروق کا طریق ندا وخطاب بعد از وصال:

شفا شریف امام قاضی عیاض واحیاء العلوم امام حجۃ الاسلام ومدخل امام ابن الحاج واقتباس الانوار علامہ ابو عبداﷲ محمد بن علی رشاطی وشرح البردہ ابو العباس قصار ومواہب لدنیہ امام قسطلانی وغیرہا کتب معتمدین میں ہے امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم sym-5 نے بعد وفات حضور سید الکائنات ﷺ جو فضائل عالیہ حضور پُر نور ﷺ حضور کو ندا وخطاب کر کے عرض کئے ہیں انہیں میں گزارش کرتے ہیں:

بابی انت وامّی یا رسول اﷲ لقد بلغ من فضیلتک عند اﷲ ان بعثک اٰخر الانبیاء وذكرک فی اولھم، فقال اﷲ تعالیٰ واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک و من نوح، الاٰیة 87
یا رسول اﷲ! میرے ماں باپ حضور پر قربان حضور کی فضیلت اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں اس حد کو پہنچی کہ حضور کو تمام انبیاء کے بعد بھیجا اور ان سب سے پہلے ذکر فرمایا کہ فرماتا ہے اور یاد کر جب ہم نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا اور تجھ سے اے محبوب اور نوح وابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ بن مریم سے ۔

حضرت جبرائیل سلام کہتے ہیں:

علامہ محمد بن احمد بن محمد بن محمد بن ابی بکر بن مرذوق تلمسانی شرح شفاء شریف میں سیدنا عبداﷲ بن عباس sym-8سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں: جبریل نے حاضر ہو کر مجھے یوں سلام کیا:

السلام علیک یا ظاھر، السلام علیک یا باطن
میں نے فرمایا: اے جبریل! یہ صفات تو اﷲ عزوجل کی ہیں کہ اسی کو لائق ہیں مجھ سی مخلوق کی کیونکر ہوسکتی ہیں، جبریل نے عرض کی، اﷲ تبارک وتعالیٰ نے حضور کو ان صفات سے فضیلت دی اور تمام انبیاء ومرسلین پر ان سے خصوصیت بخشی اپنے نام وصف سے حضور کے نام وصف مشتق فرمائے۔
وسماک بالاوّل لانک اول الانبیاء خلقا وسماک بالاٰخر لانک اٰخر الانبیاء فی العصور خاتم الانبیاء الٰی اٰخر الامم
حضور کا اول نام رکھا کہ حضور سب انبیاء سے آفرینش میں مقدم ہیں اور حضور کا آخر نام رکھا کہ حضور سب پیغمبروں سے زمانے میں مؤخر وخاتم الانبیاء ونبی امت آخرین ہیں۔ باطن نام رکھا کہ اس نے اپنے نام پاک کے ساتھ حضور کا نام نامی سنہرے نور سے ساقِ عرش پر آفرینش آدم sym-9سے دو ہزار برس پہلے ابد تک لکھا پھر مجھے حضور پر درود بھیجنے کا حکم دیا میں نے حضور پر ہزار سال درود بھیجا اور ہزار سال بھیجا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے حضور کو مبعوث کیا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور اﷲ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور جگمگاتا سورج۔ حضور کو ظاہر نام عطا فرمایا کہ اس نے حضور کو تمام دینوں پر ظہور وغلبہ دیا اور حضور کی شریعت وفضیلت کو تمام اہلِ سماوات وارض پر ظاہر وآشکارا کیا تو کوئی ایسا نہ رہا جس نے حضور پر نور پر درود نہ بھیجا ہو، اﷲ حضور پر درود بھیجے۔
فربک محمود وانت محمد وربک الاول والاٰخر والظاھر والباطن وانت الاول والاٰخر والظاھر والباطن
پس حضور کا رب محمود ہے اور حضور محمد، حضور کا رب اول وآخر وظاہر وباطن ہے اور حضور اول وآخر وظاہر وباطن ہیں۔

سید عالم ﷺ نے فرمایا:

الحمد ﷲ الذي فضلنی علٰی جمیع النبیین حتی فی اسمی وصفتی ذكرہ القاري فی شرح الشفاء فقال قد روي التلمسانی عن ابن عباس الخ88
سب خوبیاں اﷲ عزوجل کو جس نے مجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی یہاں تک کہ میرے نام وصفت میں،علی قاری نے شرح شفاء میں اس کا ذکر کیا اور فرمایا کہ تلمسانی نے ابن عباس سے روایت کیا الخ۔
اقول ظاھره انه اخرجه بسنده فان الاسناد ماخوذ فی مفھوم الروایة كما قاله الزرقانی فی شرح المواھب ولعل الظاھر ان فیه تجریدا والمراد اورد وذكر اﷲ تعالیٰ اعلم
اقول (میں کہتا ہوں) اس کا ظاہر یہ ہے کہ اس کو انہوں نے اپنی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے کہ اسناد روایت کے مفہوم میں ماخوذ ہے جیسا کہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا، ہو سکتا ہے کہ ظاہر اس میں تجرید ہو (اسناد ماخوذ نہ ہو) اور صرف وارد کرنا اور ذکر کرنا مراد ہو۔ (ت)

نوع آخر خصوص نصوص ختمِ نبوت:

صحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ sym-5سے ہے:

فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجدا وطھورا وارسلت الی الخلق کافة وختم بی النبیون89
میں تمام انبیاء پر چھ وجہ سے فضیلت دیا گیا، مجھے جامع باتیں عطا ہوئیں اور مخالفوں کے دل میں میرا رعب ڈالنے سے میری مدد کی گئی اور میرے لئے غنیمتیں حلال ہوئیں اور میرے لئے زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ قرار دی گئی اور میں تمام جہان سب ماسوی اﷲ کا رسول ہُوا اور مجھ سے انبیاء ختم کئے گئے ﷺ۔

خاتم النبیین:

دارمی اپنی سنن میں بسند صحیح اور بخاری تاریخ اور طبرانی اوسط اور بیہقی سنن میں اور ابو نعیم حضرت جابر بن عبداﷲ sym-8سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

انا قائد المرسلین ولا فخر، وانا خاتم النبیین ولا فخر، وانا شافع ومشفع ولا فخر90
میں تمام رسولوں کا پیش رو ہوں اور بطور فخر نہیں کہتا، میں تمام پیغمبروں کا خاتم ہوں اور بطور فخر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلی شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلا شفاعت قبول کیا گیا ہوں اور بروجہ فخر ارشاد نہیں کرتا ﷺ۔

احمد وحاکم وبیہقی وابن حبان عرباض بن ساریہ sym-5 سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

انی مکتوب عنداﷲ فی ام الکتاب لخاتم النبیین وان اٰدم لمنجدل فی طینته91
بیشک بالیقین میں اﷲ کے حضور لوح محفوظ میں خاتم النبیین لکھا تھا اور ہنوز آدم اپنی مٹی میں پڑے تھے۔


آدم سروتن بآب وگل داشت
کو حکم بملکِ جان ودل داشت
(حضرت آدم sym-9اپنے خمیر میں ہی تھے جبکہ حضور ﷺ بحکمِ خداوندی جان ودل سے سرفراز تھے۔ ت)

لوح محفوظ پر شہادت ختمِ نبوت:

مواہب لدنیہ ومطالع المسرات میں ہے:

اخرج مسلم فی صحیحه من حدیث عبداﷲ بن عمرو بن العاص عن النبی ﷺ انه قال ان اﷲ عزوجل كتب مقادیر الخلق قبل ان یخلق السمٰوٰت والارض بخمسین الف سنة فکان عرشه علی الماء، ومن جملة ما كتب فی الذكر وھو ام الکتاب ان محمدا خاتم النبیین
یعنی صحیح مسلم شریف میں حضرت عبداﷲ بن عمرو sym-8سے ہے رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں: اﷲ عزوجل نے زمین وآسمان کی آفرینش سے پچاس ہزار برس پہلے خلق کی تقدیر لکھی اور اس کا عرش پانی پر تھا منجملہ ان تحریرات کے لوح محفوظ میں لکھا بیشک محمد خاتم النبیین ہیں ﷺ۔
ثم قال بعد ھذا فی المواھب وعن العرباض بن ساریة، فذكر الحدیث المذكور اٰنفا وقال بعدہ فی المطالع وغیر ذٰلک من الاحادیث، اھ وقال الزرقانی بعد قوله ان محمدا خاتم النبیین فان قیل الحدیث یفید سبق العرش علی التقدیر وعلٰی كتابة محمد خاتم النبیین الخ فافادوا جمیعا انه بتمامه حدیث واحد مخرج ھٰکذا فی صحیح مسلم والعبد الضعیف راجع الصحیح من كتاب القدر فلم یجد فیه الا الٰی قوله وکان عرشه علی الماء وبھٰذا القدر عزاہ له فی المشکوٰةوالجامع الصغیر والکبیر وغیرھا فاﷲ اعلم92

پھر اس کے بعد مواہب میں فرمایا اور عرباض بن ساریہ sym-5سے مروی ہے ابھی مذکور حدیث کو ذکر کیا اور اس کے بعد مطالع المسرات میں فرمایا اس کے علاوہ احادیث میں ہے اھ، اور علامہ زرقانی نے اپنے قول ’’تحقیق محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں‘‘ کے بعد فرمایا اگر اعتراض ہو کہ حدیث سے عرش کی تخلیق، تقدیر اور محمد خاتم النبیین لکھنے سے قبل کا فائدہ دے رہی ہے الخ، تو ان سب نے افادہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب ایک حدیث ہے جس کو صحیح مسلم میں تخریج کیا ہے جبکہ اس عبد ضعیف نے صحیح مسلم کی کتاب القدر کو دیکھا تو اس میں صرف ان کا قول یہ پایا ’’وکان عرشہ علی الماء‘‘ اس کا عرش پانی پر تھا، اور اسی قدر کو مشکوٰۃ میں صحیح مسلم وجامع صغیر وکبیر وغیرہما کی طرف منسوب کیا ہے تو اﷲ تعالیٰ زیادہ علم والا ہے۔

عمارت نبوت کی آخری اینٹ:

احمد وبخاری ومسلم وترمذی حضرت جابر بن عبداﷲ اور احمد وشیخین حضرت ابو ہریرہ اور احمد ومسلم حضرت ابو سعید خدری اور احمد وترمذی حضرت ابی بن کعب sym-5سے بالفاظ متناسبہ ومعانی متقاربہ راوی حضور خاتم المرسلین ﷺ فرماتے ہیں:

مثلی ومثل الانبیاء كمثل قصرا حسن بنیانه ترک منه موضع لبنة فطاف به النظار یتعجبون من حسن بنیانه الا موضع تلک اللبنة فکنت انا سددت موضع اللبنة ختم بی البنیان وختم بی الرسل، وفی لفظ للشیخین فانا اللبنة وانا خاتم النبیین93
میری اور تمام انبیاء کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک محل نہایت عمدہ بنایا گیا اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہی، دیکھنے والے اس کے آس پاس پھرنے اور اس کی خوبی تعمیر سے تعجب کرتے مگر وہی ایک اینٹ کی جگہ کہ نگاہوں میں کھٹکتی، میں نے تشریف لا کر وہ جگہ بند کی، مجھ سے یہ عمارت پوری کی گئی، مجھ سے رسولوں کی انتہا ہوئی، میں عمارت نبوت کی وہ پچھلی اینٹ ہوں، میں تمام انبیاء کا خاتم ہوں ﷺ۔

امام ترمذی حکیم عارف باﷲ محمد بن علی نوادر الاصول میں سیدنا ابو ذرsym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

اول الرسل اٰدم و اٰخرھم محمد 18
سب رسولوں میں پہلے آدم sym-9 ہیں اور سب میں پچھلے محمد ﷺ۔

سوسمار کی گواہی:

طبرانی معجم اوسط ومعجم صغیر اور ابن عدی کامل اور حاکم کتاب المعجزات اور بیہقی وابو نعیم کتاب دلائل النبوۃ اور ابن عساکر تاریخ میں امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم sym-5سے راوی، حضور اقدس ﷺ مجمع اصحاب میں تشریف فرما تھے کہ ایک بادیہ نشین قبیلہ بنی سلیم کا آیا سو سمار شکار کر کے لایا تھا وہ حضور اقدس ﷺ کے سامنے ڈال دیا اور بولا قسم ہے لات وعزّی کی وہ شخص آپ پر ایمان نہ لائے گا جب تک یہ سو سمار ایمان نہ لائے، حضور پر نور ﷺ نے جانور کو پکارا وہ فصیح زبان روشن بیان عربی میں بولا جسے سب حاضرین نے خوب سنا اور سمجھا:

لبّیک وسعدیک یا زین من وافی یوم القیٰمة
میں خدمت وبندگی میں حاضر ہوں اے تمام حاضرین مجمع محشر کی زینت۔

حضور نے فرمایا:

من تعبد
تیرا معبود کون ہے؟ عرض کی:
الذي فی السماء عرشه وفی الارض سلطانه وفی البحر سبیله وفی الجنة رحمته وفی النار عذابه
وہ جس کا عرش آسمان میں اور سلطنت زمین میں اور راہ سمندر میں رحمت جنت میں اور عذاب نار میں۔ فرمایا:
من انا
بھلا میں کون ہوں؟ عرض کی:
انت رسول رب العٰلمین وخاتم النبیین قد افلح من صدقک وقد خاب من كذبک
حضور پروردگارِ عالم کے رسول ہیں اور رسولوں کے خاتم، جس نے حضور کی تصدیق کی وہ مراد کو پہنچا اور جس نے نہ مانا نامراد رہا۔

اعرابی نے کہا اب آنکھوں دیکھے کے بعد کیا شبہ ہے، خدا کی قسم میں جس وقت حاضر ہوا حضور سے زیادہ اس شخص کو دشمن کوئی نہ تھا اور اب حضور مجھے اپنے باپ اور اپنی جان سے زیادہ محبوب ہیں

اشھد ان لا الٰه الا اﷲ وانّک رسول اﷲ94
(میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اﷲ کے رسول ہیں۔ ت)

یہ مختصر ہے اور حدیث میں اس سے زیادہ کلام اطیب واکثر۔

یہ حدیث امیر المؤمنین مولیٰ علی وام المؤمنین عائشہ صدیقہ وحضرت ابو ہریرہ sym-5کی روایات سے بھی آئی۔

كما فی الجامع الکبیر والخصائص الکبري ولم اقف علی الفاظھم فان اشتملت جمیعا علی لفظ خاتم النبیین کانت اربعة احادیث
جیسا کہ جامع کبیر اور خصائص کبریٰ میں ہے میں نے ان کے الفاظ نہ پائے اگر ان سب کے الفاظ خاتم النبیین کے لفظ پر مشتمل ہوں تو یہ چار احادیث ہوئیں۔

تذییل:

ترمذی حدیث طویل حلیہ اقدس میں امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی کہ انہوں نے فرمایا:

بین كتفیه خاتم النبوة وھو خاتم النبیین95
حضور کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت ہے اور حضور خاتم النبیین ہیں ﷺ۔

تذییل:

طبرانی معجم اور ابو نعیم عوالی سعید بن منصور میں امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ سے درود شریف کا ایک صیغہ بلیغہ راوی جس میں فرماتے ہیں:

اجعل شرائف صلوٰتک ونوامی بركاتک و رأفة تحنّنک علٰی محمد عبدک ورسولک الخاتم لما سبق والفاتح لما اغلق96
الٰہی! اپنی بزرگ درودیں اور بڑھتی برکتیں اور رحمت کی مہر نازل کر محمد ﷺ پر کہ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، گزروں کے خاتم اور مشکلوں کے کھولنے والے ﷺ۔

نوع آخر(ف: نوع چہارم نبوت منقطع ہوئی اب کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔) نبوت گئی، نبوت منقطع ہوئی، جب سے نبی ﷺ کو نبوت ملی کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی۔

ولا نبی بعدی:

صحیح بخاری شریف میں مروی رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

كانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء كلما ھلک نبی خلفه نبی ولا نبی بعدي97
انبیاء بنی اسرائیل کی سیاست فرماتے، جب ایک نبی تشریف لے جاتا دوسرا اس کے بعد آتا، میرے بعد کوئی نبی نہیں ﷺ۔

احمد وترمذی وحاکم بسند صحیح بر شرط صحیح مسلم کما قالہ الحاکم واقرہ الناقدون

(جیسے حاکم نے کہا ہے اور محققین نے اسے ثابت رکھا ہے)

حضرت انس sym-5سے راوی رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدي ولا نبی98
بیشک رسالت ونبوت ختم ہوگئی اب میرے بعد نہ کوئی رسول نہ نبی ﷺ۔

صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ sym-5سے ہے رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

لم یبق من النبوة الا المبشرات الرّؤیا الصالحة
نبوت سے کچھ باقی نہ رہا صرف بشارتیں باقی ہیں اچھی خوابیں۔ طبرانی معجم کبیر میں حضرت حذیفہ بن اسید sym-8سے بسند صحیح راوی رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:
ذھبت النبوة فلا نبوة بعدي الا المبشرات الرؤیا الصالحةیراھا الرجل او تري له99
نبوت گئی اب میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں اچھا خواب کہ انسان آپ دیکھے یا اس کے لئے دیکھا جائے۔

احمد وابنائے ماجہ وخزیمہ وحبان حضرت ام کرز sym-6 سے بسند حسن راوی رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

ذھبت النبوة وبقیت المبشرات100
نبوت گئی اور بشارتیں باقی ہیں۔

صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن عباس sym-8 سے ہے رسول اﷲ ﷺ نے اپنے مرض مبارک میں جس میں وصال اقدس واقع ہوا پردہ اٹھایا سر انور پر پٹی بندھی تھی لوگ صدیق اکبر sym-5کے پیچھے صف بستہ تھے حضور نے ارشاد فرمایا:

یایھا الناس انه لم یبق من مبشرات النبوة الا الرؤیا الصالحة یراھا المسلم او تري له101
اے لوگو! نبوت کی بشارتوں سے کچھ نہ رہا مگر اچھا خواب کہ مسلمان دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔

اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمر ہوتے:

احمد وترمذی وحاکم بتصحیح ورؤیانی وطبرانی وابو یعلیٰ حضرت عقبہ بن عامر اور طبرانی وابن عساکر اور خطیب کتاب رواۃ مالک میں حضرت عبداﷲ بن عمر اور طبرانی حضرت عصمہ بن مالک وحضرت ابو سعید خدری sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

لو كان بعدي نبی لکان عمر بن الخطاب102
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔

تذییل:

صحیح بخاری شریف میں اسماعیل بن ابی خالد سے ہے:

قلت لعبداﷲ بن ابی اوفیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنهما أرأیت ابراھیم ابن النبی ﷺ قال مات صغیرا ولو قضی ان یکون بعد محمد ﷺ نبی عاش ابنه ولکن لا نبی بعدہ 103
میں نے حضرت عبداﷲ بن ابی اوفیٰ sym-8سے پوچھا آپ نے حضرت ابراہیم صاحبزادہ رسول ﷺ کو دیکھا تھا، فرمایا ان کا بچپن میں انتقال ہوا اور اگر مقدر ہوتا کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو تو حضور کے صاحبزادے ابراہیم زندہ رہتے، مگر حضور کے بعد نبی نہیں۔

امام احمد کی روایت انہیں سے یوں ہے میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ کو فرماتے سنا:

لو كان بعد النبی ﷺ نبی ما مات ابنه ابراھیم104
اگر حضور اقدس ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضور کے صاحبزادے انتقال نہ فرماتے۔

تذییل:

امام ابو عمر ابن عبدالبر بطریق اسماعیل بن عبدالرحمن سدی حضرت انس sym-5سے راوی انہوں نے فرمایا:

كان ابراھیم قد ملأ المھد ولو عاش لکان نبیا لکن لم یکن لیبقی فان نبیکم اٰخر الانبیاء105
حضرت ابراہیم اتنے ہوگئے تھے کہ ان کا جسم مبارک گہوارے کو بھر دیتا اگر زندہ رہتے نبی ہوتے مگر زندہ نہ رہ سکتے تھے کہ تمہارے نبی ﷺ آخر الانبیاء ہیں۔

فائدہ: (ف: حدیث ولو عاش ابراھیم لکان نبیا 106والبحث علیہ ،حدیث: ’’اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے‘‘ کی تحقیق اور اس پر بحث سے متعلق یہ فائدہ ہے۔ (ت)اس کی اصل متعدد احادیث مرفوعہ سے ہے، ماوردی حضرت انس اور ابن عساکر حضرات جابر بن عبداﷲ وعبداﷲ بن عباس وعبداﷲ بن ابی اوفیٰ sym-8 سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

لو عاش ابراھیم لکان صدیقا نبیا 107
(اگر ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق پیغمبر ہوتا)
وبه انجلي ما اشتبهعلی الامام النووي مع جلالة شانه، وسعة عرفانه، اما ما قال الامام ابو عمر بن عبدالبر لا ادري ما ھذا فقد كان ابن نوح غیر نبي ولو لم یلد النبي الا نبیا كان كل احد نبیا لانهم من ولد نوح قال اﷲ تعالي وجعلنا ذریته هم الباقین 108 فاجابوا عنه بان الشرطیة لا یلزمھا الوقوع اقول نعم لكنها لا شک تفید الملازمة فان كانت مبینةعلي ان ابن نبی لا یكون الا نبیا لزم ما الزم ابو عمر ولا مفر فالحق فی الجواب ما اقول من عدم صحة قیاس الانبیاء السابقین وبنیھم علٰی نبینا سید المرسلین وبنیه صلي اﷲ تعالیٰ علیه وعلیھم وسلم فلو استحق ابنه بعدہ النبوة لا یلزم منه استحقاق ابناء الانبیاء جمیعا ھکذا رأیتنی کتبت علی ھامش نسختی التیسیر ثم رأیت العلامةعلی القاري ذكر مثله فی الموضوعات الکبیر فللّٰه الحمد وقد اخرج الدیلمي عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنه قال قال رسول اﷲ ﷺ نحن اھل بیت لا یقاس بنا احد،109 علی انی اقول لا نسلم ان الحدیث یحکم بالنبوة بل انبأ عما تکامل فی جوھر ابراھیم من خصائل الانبیاء وخلال المرسلین بحیث لو لم ینسدَّ باب النبوة لنا لكان نبیا تفضلا من اﷲ لا استحقاقا منه فان النبوة لا یستحقها احد من قبل ذات لكن اﷲ تعالیٰ یصطفي من عباده من تم وکمل صورة ومعنی ونسبا وحسبا وبلغ الغایة القصوي من كل خیر، اﷲ اعلم حیث یجعل رسالته فاذن الحدیث علی وزان ما مر لو كان بعدي نبی لکان عمر110، واﷲ تعالی اعلم
اس سے امام نووی کو درپیش ہونے والا اشتباہ ختم ہوگیا، باوجودیکہ ان کی شان اجل ہے اور ان کا عرفان وسیع ہے لیکن امام ابو عمر بن عبدالبر نے جو یہ فرمایا کہ مجھے یہ معلوم نہ ہوسکا، حالانکہ نوح sym-9کے بیٹے نبی نہ ہوئے، اور اگر یہ ہوتا کہ نبی سے نبی ہی پیدا ہو تو ہر ایک نبی ہوتا کیونکہ وہ بھی تو نوح sym-9کی اولاد تھے، کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے اس کی ذریت کو ہی باقی رکھا، اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ کسی شرطیہ قضیہ کو وقوع لازم نہیں ہے اقول (میں کہتا ہوں) ہاں درست ہے لیکن بے شک شرطیہ، ملازمہ کا فائدہ ضرور دیتا ہے اگر یہ قضیہ شرطیہ اس معنی پر مبنی ہو کہ نبی کا بیٹا ضرور نبی ہی ہوتا ہے تو ابو عمر کا الزام لازم آئے گا جس سے مفر نہیں ہے تو جواب میں حق وہ ہے جو میں کہہ رہا ہوں کہ انبیاء سابقین اور ان کے بیٹوں کا قیاس ہمارے نبی سید المرسلین اور ان کے صاحبزادوں پر درست نہیں، اﷲ تعالیٰ ہمارے نبی اور سب انبیاء پر درود وسلام فرمائے پھر اگر آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کا بیٹا نبوت کا مستحق ٹھہرے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ باقی تمام انبیا کے بیٹے بھی نبوت کے مستحق ہوں، میں نے اپنی تیسیر کے نسخے پر یونہی حاشیہ لکھا بعد ازاں میں نے علامہ ملا قاری کو موضوعات کبیر میں اسی طرح ذکر کرتے ہوئے پایا، فللّٰہ الحمد دیلمی نے حضرت انس sym-5سے تخریج کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ہم اہل بیت پر کسی کو قیاس نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں میں کہتا ہوں کہ مذکورہ حدیث نبوت کا حکم بیان کر رہی ہے، یہ بات ہمیں تسلیم نہیں، بلکہ حدیث مذکور حضرت کے صاحبزادے ابراہیم ﷜ کے متعلق یہ خبر دے رہی ہے کہ ان میں انبیاء ﷨ جیسے خصائل واوصاف تھے کہ اگر ہمارے لئے نبوت ختم نہ ہوتی تو وہ اﷲ تعالیٰ کہ فضل محض سے نبی ہوتے نہ کہ بطور استحقاق نبی بنتے، کیونکہ کوئی بھی اپنی ذات میں نبوت کا استحقاق نہیں رکھتا لیکن اﷲ تعالیٰ نبوت کے لئے اپنے بندوں میں سے ایسے کو منتخب فرماتا ہے جو صورۃً، معنیً، نسبًا، حسبًا ہر اعتبار سے تام وکامل ہو اور ہر خیر میں انتہائی مرتبہ کو پہنچا ہو، اﷲ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کہاں رسالت بنائے تو حدیث مذکور کی دلالت وہی ہے جو ’’لو کان بعدی نبیا لکان عمر‘‘ الحدیث کی دلالت ہے، واﷲ تعالیٰ اعلم

نوع آخر (ف)( نوع پنجم حضور کے بعد جو کسی کو نبوت ملنی مانے، دجال کذاب ہے۔) بعد طلوع آفتاب عالمتاب خاتمیت صلوات اﷲ تعالیٰ وسلامہ علیہ وعلی آلہ الکرام جو کسی کے لئے ادعائے نبوت کرے دجّال کذّاب مستحقِ لعنت وعذاب ہے۔

امام بخاری حضرت ابو ہریرہ اور احمد ومسلم وابو داؤد وترمذی وابن ماجہ حضرت ثوبان sym-5سے راوی، وھذا حدیث ثوبان، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

انه سیکون فی امتي كذابون ثلثون كلھم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدي،111 ولفظ البخاري دجالون كذابون قریبا من ثلثین112
عنقریب اس امت میں قریب تیس کے دجال کذاب نکلیں گے ہر ایک ادعا کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ﷺ (اور بخاری کے الفاظ ہیں دجال کذاب تقریباً تیس ہوں گے۔ ت)

کذاب اور دجّال:

امام احمد وطبرانی وضیاء حضرت حذیفہ sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

فی امتی كذابون ودجالون سبعة وعشرون منھم اربع نسوة وانی خاتم النبیین لا نبی بعدي113
میری امتِ دعوت میں (کہ مومن وکافر سب کو شامل ہے) ستائیس کذاب دجال ہوں گے ان میں چار عورتیں ہیں حالانکہ میں خاتم الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ﷺ۔

جھوٹے مدعیان نبوت:

ابن عساکر علاء بن زیاد sym-4سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

لا تقوم الساعةحتی یخرج ثلٰثون دجّالون کذابون كلھم یزعم انه نبی (الحدیث)114
قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تیس دجال کذاب مدعی نبوت نکلیں گے۔

تذییل:

ابو یعلیٰ مسند میں بسند حسن حضرت عبداﷲ بن زبیر sym-8سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

لا تقوم الساعةحتی یخرج ثلثون كذابًا منھم مسیلمة والعنسی والمختار115
قیامت نہ آئے گی جب تک کہ تیس کذاب نکلیں ان میں سے مسیلمہ اور اسود عنسی ومختار ثقفی ہے، اخذہم اﷲ تعالیٰ۔

الحمد ﷲ بفضلہٖ تعالیٰ یہ تینوں خبیث کتے شیران اسلام کے ہاتھ سے مارے گئے، اسود مردود خود زمانہ اقدس اور مسیلمہ ملعون زمانہ خلافت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ومختار ثقفی ملعون زمانہ حضرت عبداﷲ بن زبیر sym-8میں، وﷲ الحمد (عہ)

حاشیہ

(عہ) مسیلمہ خبیث کے قاتل وحشی sym-5ہیں جنہوں نے زمانہ کفر میں سیدنا حمزہ sym-5کو شہید کیا وہ فرمایا کرتے قتلت خیر النّاس وشرّ النّاس116، میں نے بہتر شخص کو شہید کیا پھر سب سے بدتر کو مارا۔)

حاشیہ ختم شد

حضرت علی اور ختم نبوت:

نوع آخر (ف: نوع ششم خاص مولیٰ علی کے باب میں متواتر حدیثیں کہ نبوت ختم ہوگئی نبوت میں ان کا حصہ نہیں۔) خاص امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم کے بارے میں متواتر حدیثیں ہیں کہ نبوت ختم ہوئی نبوت میں ان کا کچھ حصہ نہیں۔

امام احمد مسند اور بخاری ومسلم وترمذی ونسائی وابن ماجہ صحاح، ابن ابی شیبہ سنن، ابن جریر تہذیب الآثار میں بطریق عدیدہ کثیرہ سیدنا سعد بن ابی وقاص، اور حاکم بتصحیح اسناد مستدرک، اور طبرانی معجم کبیر واوسط، اور ابوبکر عاقولی فوائد میں، اور ابن مردویہ مطولاً اور بزار بطریق عبداﷲ بن ابی بکر عن حکیم بن جبیر عن الحسن بن سعد مولیٰ علی، اور ابن عساکر بطریق عبداﷲ بن محمد بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل امیر المؤمنین مولیٰ علی اور احمد وحاکم وطبرانی وعقیلی حضرت عبداﷲ بن عباس، اور احمد حضرت امیر معاویہ، اور احمد وبزار وابو جعفر بن محمد طبری وابوبکر مطیری حضرت ابو سعید خدری، اور ترمذی بافادہ تحسین حضرت جابر بن عبداﷲ سے مسنداً اور حضرت ابو ہریرہ سے تعلیقاً، اور طبرانی کبیر اور خطیب کتاب المتفق والمتفرق میں حضرت عبداﷲ بن عمر، اور ابو نعیم فضائل الصحابہ میں حضرت سعید بن زید، اور طبرانی کبیر میں حضرات براء بن عازب وزید بن ارقم وجیش بن جنادہ وجابر بن سمرہ ومالک بن حویرث وحضرت ام المؤمنین ام سلمہ، زوجہ امیر المؤمنین علی حضرت اسماء بنت عمیس sym-8 سے راوی، حضور پر نور ﷺ نے غزوہ تبوک کو تشریف لیجاتے وقت امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کو مدینے میں چھوڑا امیر المؤمنین نے عرض کی یا رسول اﷲ! حضور مجھے عورتوں اور بچّوں میں چھوڑے جاتے ہیں، فرمایا: اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی غیر انہ لا نبی بعدی117 یعنی کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم یہاں میری نیابت میں ایسے رہو جیسے موسیٰsym-9 جب اپنے رب سے کلام کے لئے حاضر ہوئے ہارون sym-9کو اپنی نیابت میں چھوڑ گئے تھے ہاں یہ فرق ہے کہ ہارون نبی تھے میں جب سے نبی ہوا دوسرے کے لئے نبوت نہیں۔

مسند ومستدرک میں حدیث ابن عباس یوں ہے:

الا ترضي ان تکون بمنزلةھارون من موسی الا انک لست بنبی 118
کیا تم راضی نہیں کہ بمنزلہ ہارون کے ہو موسیٰ سے مگر یہ کہ تم نبی نہیں۔

حضرت اسماء کی حدیث اس طرح ہے:

قالت ھبط جبریل علی النبی ﷺ فقال یا محمد ان ربک یقرأک السلام ویقول لک علیّ منک بمنزلة ھارون من موسٰی لٰکن لا نبی بعدک119
جبریل امین sym-9 نے حاضر ہو کر حضور اقدس ﷺ سے عرض کی حضور کا رب حضور کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے علی sym-5 تمہاری نیابت میں ایسا ہے جیسا موسیٰ کے لئے ہارون، مگر تمہارے بعد کوئی نبی نہیں ﷺ۔

فضائل صحابہ امام احمد میں حدیث امیر معاویہ sym-5یوں ہے کسی نے ان سے ایک مسئلہ پوچھا فرمایا:

سل عنھا علی ابن ابی طالب فھو اعلم
مولا علی سے پوچھیو وہ اعلم ہیں، سائل نے کہا: یا امیر المؤمنین! مجھے آپ کا جواب ان کے جواب سے زیادہ محبوب ہے، فرمایا:
بئسما قلت لقد كرھت رجلا كان رسول اﷲ ﷺ یغرہ بالعلم غرا ولقد قال له انت منی بمنزلة ھارون من موسی الا انه لا نبی بعدي وكان عمر اذا اشکل علیه شیئ یاخذ منه 120
تو نے سخت بُری بات کہی ایسے کو ناپسند کیا جس کے علم کی نبی ﷺ عزت فرماتے تھے اور بیشک حضور نے ان سے کہا تجھے مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ ﷦ سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، امیر المؤمنین عمر sym-5کو جب کسی بات میں شبہ پڑتا ان سے حاصل کرتے ۔

ابو نعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت معاذ بن جبل sym-5سے راوی رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

یا علی أخصمک بالنبوة ولا نبوةبعدي121
اے علی! میں مناصب جلیلہ وخصائص کثیرہ جزیلہ نبوت میں تجھ پر غالب ہوں اور میرے بعد نبوّت اصلاً نہیں۔

حضرت علی کی عیادت:

ابن ابی عاصم اور ابن جریر بافادہ تصحیح اور طبرانی اوسط اور ابن شاہین کتاب السنہ میں امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی، میں بیمار تھا خدمت اقدس حضور سرور عالم ﷺ میں حاضر ہوا حضور نے مجھے اپنی جگہ کھڑا کیا اور خود نماز میں مشغول ہوئے، ردائے مبارک کا آنچل مجھ پر ڈال لیا، پھر بعد نماز فرمایا:

برئت یا ابن ابی طالب فلا بأس علیک ما سألت اﷲ لی شیئا الا سألت لک مثله ولا سألت اﷲ شیئا الا اعطانیه غیر انه قیل لی انه لا نبی بعدک122
اے ابن ابی طالب! تم اچھے ہوگئے تم پر کچھ تکلیف نہیں، میں نے اﷲ عزوجل سے جو کچھ اپنے لئے مانگا تمہارے لئے بھی اس کی مانند سوال کیا اور میں نے جو کچھ چاہا رب عزوجل نے مجھے عطا فرمایا مگر مجھ سے یہ فرمایا گیا کہ تمہارے بعد کوئی نبی نہیں۔ مولا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم فرماتے ہیں میں اسی وقت ایسا تندرست ہوگیا گویا بیمار ہی نہ تھا۔

تنبیہ:

اقول وباﷲ التوفیق (میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ تعالیٰ سے ہے۔ ت) یہ حدیث حضرت امیر المؤمنین کے لئے مرتبہ صدیقیت کا حصول بتاتی ہے، صدیقیت ایک مرتبہ تلو نبوت ہے کہ اس کے اور نبوت کے بیچ میں کوئی مرتبہ نہیں مگر ایک مقام ادق واخفی کہ نصیبہ حضرت صدیق اکبر اکرم واتقی sym-5 ہے تو اجناس وانواع واصناف فضائل وکمالات وبلندی درجات میں خصائص وملزومات نبوت کے سوا صدیقین ہر عطیہ بہیہ کے لائق واہل ہیں اگرچہ باہم ان میں تفاوت وتفاضل کثیر ووافر ہو۔

آخر نہ دیکھا کہ محمد رسول اﷲ ﷺ کے ابن جمیل ونائب جلیل حضور پر نور سید الاسیاد فرد الافراد غوث اعظم غیث اکرم غیاث عالم محبوب سبحانی مطلوب ربانی سیدنا ومولانا ابو محمد محی الدین عبدالقادر جیلانی sym-4 فرماتے ہیں:

كل ولی علٰی قدم نبی وانا علٰی قدم جدي ﷺ وما رفع المصطفٰی ﷺ قد ما الا وضعت انا قدمی فی الموضع الذي رفع قدمه منه، الا ان یکون قد ما من اقدام النبوة فانه لا سبیل ان یناله غیر نبی رواہ الامام الاجل ابو الحسن علی الشطنوفی قدس سره فی بهجة الاسرار فقال اخبرنا ابو محمد سالم بن علی بن عبداﷲ بن سنان الدمیاطی المصري المولد بالقاھرة 671 سنة احدي وسبعین وستمائة، قال اخبرنا الشیخ القدوة شهاب الدین ابو حفص عمر بن عبداﷲ السھروردي ببغداد 624 سنة اربع وعشرین وستمائةقال سمعت الشیخ محی الدین عبدالقادر رضي اﷲ تعالیٰ عنه یقول علی الکرسی بمدرسته (فذكره)123
ہر ولی ایک نبی کے قدم پر ہوتا ہے اور میں اپنے جد اکرم ﷺ کے قدم پاک پر ہوں مصطفیٰ ﷺ نے جہاں سے قدم اٹھایا میں نے اسی جگہ قدم رکھا مگر نبوت کے قدم کہ ان کی طرف غیر نبی کو اصلاً راہ نہیں (اس کو امام ابو الحسن علی شطنوفی قدس سرہ نے بہجۃ الاسرار میں روایت کیا، تو کہا ابو محمد سالم بن علی بن عبداﷲ بن سنان الدمیاطی المصری جو قاہرہ میں ۶۷۱ھ میں پیدا ہوئے، انہوں نے کہا مجھے شیخ شہاب الدین ابو حفص عمر بن عبداﷲ سہروردی نے ۶۲۴ھ کو بغداد میں بیان کیا کہ میں نے شیخ محی الدین عبدالقادر ﷜ کو مدرسہ میں کرسی پر تشریف فرما، کہتے ہوئے سنا تو وہ ذکر فرمایا جو گزرا۔ (ت)

بالجملہ ما دون نبوت پر فائز ہونا نہ تفرد کی دلیل نہ حجت تفضیل کہ وہ صدہا میں مشترک اور فی نفسہٖ مشکک، ہر غوث وصدیق اس میں شریک اور ان پر بشدّت مقول بالتشکیک، بلکہ خود حدیث میں ہے رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

من اتاه ملک الموت وھو یطلب العلم كان بینه وبین الانبیاء درجة واحدة درجة النبوة رواہ ابن النجار عن انس رضی اﷲ تعالیٰ عنه 124
جس کے پاس ملک الموت آئیں اور وہ طلب علم میں ہو اس میں اور انبیاء sym-3میں صرف ایک درجے کا فرق ہے کہ درجہ نبوت ہے (اسے ابن النجار نے حضرت انسsym-5سے روایت کیا۔ ت)

دوسری حدیث میں ہے:

كادحملة القراٰن ان یکونوا انبیاء الا انه لا یوحیٰ الیھم، رواہ الدیلمي فی حدیث عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما125
قریب ہے حاملان قرآن انبیاء ہوں مگر یہ کہ ان کی طرف وحی نہیں آتی (اسے دیلمی نے ایک حدیث میں عبداﷲ بن عمر sym-8سے روایت کیا)

تو اس کے امثال سے حضرات خلفائے ثلثہ sym-7 پر امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی تفضیل کا وہم نہیں ہوسکتا۔

ابوبکر صدیق صدیق اکبر ہیں:

علماء فرماتے ہیں، ابوبکر صدیق صدیق اکبر ہیں اور علی مرتضیٰ صدیق اصغر، صدیق اکبر کا مقام اعلیٰ صدیقیت سے بلند وبالا ہے، نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں ہے:

اما تخصیص ابی بکر رضی اﷲ تعالیٰ عنه فلانه الصدیق الاكبر الذي سبق الناس كلھم لتصدیقه ﷺ ولم یصدر منه غیرہ قط وكذا علی كرم اﷲ تعالیٰ وجھه فانه یسمی الصدیق الاصغر الذي لم یتلبس بکفر قط ولم یسجد لغیر اﷲ مع صغره وكون ابیه علٰی غیر الملة ولذا خصّ بقول علی كرم اﷲ تعالیٰ وجھه 126
لیکن ابوبکر sym-5کی تخصیص اس لئے کہ وہ صدیق اکبر ہیں جو تمام لوگوں میں آگے ہیں کیونکہ انہوں نے جو حضور ﷺ کی تصدیق کی وہ کسی کو حاصل نہیں اور یونہی علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ کا نام صدیق اصغر ہے جو ہرگز کفر سے ملتبس نہ ہوئے اور نہ ہی انہوں نے غیراﷲ کو سجدہ کیا باوجودیکہ وہ نابالغ تھے اور ان کے والد ملت اسلامیہ پر نہ تھے، اسی وجہ سے انہوں نے علی کرم اﷲ وجہہ کے قول کو خاص طور پر لیا۔

حضرت خاتم الولایۃ المحمدیۃ فی زمانہ، بحر الحقائق ولسان القوم بجنانہ وبیانہ سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نفعنا اﷲ فی الدارین بفیضانہ فتوحاتِ مکیہ شریفہ میں فرماتے ہیں:

فلو فقد النبی ﷺ فی ذٰلک الوطن وحضرہ ابوبکر لقام فی ذٰلک المقام الذي اقیم فیه رسول اﷲ ﷺ لانه لیس ثم اعلٰی منه یحجبه عن ذٰلک فھو صادق ذٰلک الوقت وحکمه وما سواہ تحت حکمه (ثم قال) وھذا المقام الذي اثبتناہ بین الصدیقیة ونبوة التشریع الذي ھو مقام القربة وھو للافراد ھو دون نبوة التشریع وفوق الصدیقیة فی المنزلة عند اﷲ والمشار الیه بالسر الذي وقر فی صدر ابی بکر ففضل به الصدیقین اذ حصل له ما لیس فی شرط الصدیقیة ولا من لوازمھا فلیس بین ابی بکر وبین رسول اﷲ ﷺ رجل لانه صاحب الصدیقیة وصاحب سر127
یعنی اگر حضور سید عالم ﷺ اس موطن میں تشریف نہ رکھتے ہوں اور صدیق اکبر حاضر ہوں تو حضور اقدس ﷺ کے مقام پر صدیق قیام کریں گے کہ وہاں صدیق سے اعلیٰ کوئی نہیں جو انہیں اس سے روکے وہ اس وقت کے صادق وحکیم ہیں، اور جو ان کے سوا ہیں سب ان کے زیر حکم، یہ مقام جو ہم نے ثابت کیا صدیقیت اور نبوت شریعت کے بیچ میں ہے، یہ مقام قربت فردوں کے لئے ہے، اﷲ کے نزدیک نبوت شریعت سے نیچا اور صدیقیت سے مرتبے میں بالا ہے اسی کی طرف اس راز سے اشارہ ہے جو سینہ صدیق میں متمکن ہوا جس کے باعث وہ تمام صدیقوں سے افضل قرار پائے کہ ان کے قلوب میں وہ رازِ الٰہی حاصل ہوا جو نہ صدیقیت کی شرط ہے نہ اس کے لوازم سے، تو ابوبکر صدیق اور رسول اﷲ ﷺ کے درمیان کوئی شخص نہیں کہ وہ تو صدیقیت والے بھی ہیں اور صاحبِ راز بھی ۔

تذییل:

بعض احادیث علویہ مبطلہ دعویٰ غلویہ

مولا علی کی نگاہ میں مقام صدیق اکبر:

صحیح بخاری شریف میں امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ہے:

قال قلت لابی اي الناس خیر بعد النبی ﷺ قال ابوبکر قال قلت ثم من، قال ثم عمر ثم خشیت ان اقول ثم من فیقول عثمان فقلت ثم انت یا ابت، فقال ما انا الا رجل من المسلمین، رواہ ایضا ابن ابی عاصم وخشیش وابو نعیم فی الحلیة الاولیاء128
میں نے اپنے والد ماجد مولیٰ علی sym-5سے عرض کی نبی ﷺ کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہے؟ فرمایا: ابوبکر۔ میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا: پھر عمر۔ پھر مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں کہوں پھر کون تو فرما دیں عثمان، اس لئے میں نے سبقت کر کے کہا اے باپ میرے! پھر آپ؟ فرمایا: میں تو نہیں مگر ایک مرد مسلمانوں میں سے (اسے ابن ابی عاصم اور خشیش اور ابو نعیم نے بھی حلیۃ الاولیاء میں بیان کیا ہے۔ ت)

طبرانی معجم اوسط میں صلہ بن زفر سے راوی، جب امیر المؤمنین مولیٰ علی کے سامنے لوگ ابوبکر صدیق کا ذکر کرتے، امیر المؤمنین فرماتے:

السباق یذكرون السابق یذكرون والذي نفسی بیدہ ما استبقنا الٰی خیر قط الاسبقنا الیه ابوبکر129
ابوبکر کا بڑی سبقت والے ذکر کر رہے ہیں کمال پیشی لے جانے والے کا تذکرہ کرتے ہیں قسم اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب ہم نے کسی خیر میں پیشی چاہی ہے ابوبکر ہم سب پر سبقت لے گئے ہیں۔

حضرت صدیق کے بارے میں حضرت علی کی رائے:

ابو القاسم طلحی وابن ابی عاصم وابن شاہین واللالکائی سب اپنی اپنی کتاب السنہ میں اور عشاری فضائل صدیق اور اصبہانی کتاب الحجہ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں راوی، امیر المؤمنین کو خبر پہنچی کچھ لوگ انہیں ابوبکر وعمر sym-8)سے افضل بتاتے ہیں منبر شریف پر تشریف لے گئے حمد وثنائے الٰہی کے بعد فرمایا:

ایھا الناس بلغنی ان اقواما یفضلونی علی ابی بکر وعمر ولو كنت تقدمت فیه لعاقبت فیه ، فمن سمعته بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر، علیه حد المفتري خیر الناس بعد رسول اﷲ ﷺ ابوبکر ثم عمر (زاد غیر الطلحی) ثم احدثنا بعضھم احداثا یقضی اﷲ فیھا ما یشاء130
اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر وعمر پر فضیلت دیتے ہیں اگر میں پہلے متنبہ کرچکا ہوتا تو اب سزا دیتا، آج کے بعد جسے ایسا کہتا سنوں گا وہ مفتری ہے، اس پر مفتری کی حد آئے گی، رسول اﷲ ﷺ کے بعد سب آدمیوں سے بہتر ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر ان کے بعد ہم سے کچھ نئے امور واقع ہوئے کہ خدا ان میں جو چاہے گا حکم فرمائے گا۔

امام ابو عمران عبدالبر استیعاب میں حکم بن حجل سے اور امام ابو الحسن دار قطنی سنن میں روایت کرتے ہیں امیر المؤمنین مولا علی فرماتے ہیں:

لا اجد احدا فضلنی علی ابی بکر وعمر الا جلدته حد المفتري 131
میں جسے پاؤں گا کہ ابوبکر وعمر پر مجھے تفضیل دیتا ہے اسے مفتری کی حد اسّی کوڑے لگاؤں گا۔

ابن عساکر بطریق الزہری عن عبداﷲ بن کثیر راوی، امیر المؤمنین فرماتے ہیں:

لا یفضلنی احد علی ابی بکر وعمر الا جلدته جلدا وجیعا 132
جو مجھے ابوبکر وعمر سے افضل کہے گا اسے دردناک کوڑے لگاؤں گا۔

امام احمد مسند اور عدنی مائتین اور ابو عبید کتاب الغریب اور نعیم بن حماد فتن اور خثیمہ بن سلیمان طرابلسی فضائل الصحابہ اور حاکم مستدرک اور خطیب تلخیص المتشابہ میں راوی، امیر المؤمنین فرماتے ہیں:

سبق رسول اﷲ ﷺ وصلی ابوبکر وثلث عمر ثم خطبتنا فتنة ویعفو اﷲ عمن یشاء133
وللخطیب وغیرہ فھو ما شاء اﷲ زاد ھو فمن فضلنی علی ابی بکر وعمر رضی اﷲ تعالیٰ عنهما فعلیه حد المفتري من الجلد واسقاط الشہادة134
رسول اﷲ ﷺ سبقت لے گئے اور ان کے دوسرے ابوبکر اور تیسرے عمر ہوئے، پھر ہمیں فتنے نے مضطرب کیا اور خدا جسے چاہے معاف فرمائے گا یا فرمایا جو خدا نے چاہا وہ ہوا تو جو مجھے ابوبکر وعمر sym-8 پر فضیلت دے اس پر مفتری کی حد واجب ہے اسّی کوڑے لگائے جائیں اور گواہی کبھی نہ سنی جائے۔

ابو طالب عشاری بطریق الحسن بن کثیر عن ابیہ راوی، ایک شخص نے امیر المؤمنین علی مرتضیٰ کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: آپ خیر الناس ہیں۔ فرمایا تو نے رسول اﷲ ﷺ کو دیکھا ہے؟ کہا نہ۔ فرمایا: ابوبکر کو دیکھا؟ کہا: نہ۔ فرمایا: عمر کو دیکھا؟ کہا: نہ، فرمایا: اما انک لو قلت انک رأیت النبی ﷺ لقتلتک ولو قلت رأیت ابا بکر وعمر لجلد[foot سن لے اگر تو نبی ﷺ کے دیکھنے کے بعد خیر الناس بعد رسول اﷲ ﷺ کا اقرار کرتا اور پھر مجھے خیر الناس کہتا تو میں تجھے قتل کرتا اور اگر تو ابوبکر وعمر کو دیکھے ہوتا اور مجھے افضل بتاتا تو تجھے حد لگاتا۔

ابن عساکر سیدنا عمار بن یاسر sym-8سے راوی، امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ نے فرمایا: لا یفضلنی احد علی ابی بکر وعمر الا وقد انکر حقی وحق اصحاب رسول اﷲ ﷺ18 جو مجھے ابوبکر وعمر پر تفضیل دے گا وہ میرے اور تمام اصحاب رسول اﷲ ﷺ کے حق کا منکر ہوگا۔

حضرات شیخین اوّلین جنتی ہیں:

ابو طالب عشاری اور اصبہانی کتاب الحجہ میں عبد خیر سے راوی، میں نے امیر المؤمنین مولیٰ علی سے عرض کی، رسول اﷲ ﷺ کے بعد سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا؟ فرمایا: ابوبکر وعمر۔ میں نے عرض کی: یا امیر المؤمنین! کیا وہ دونوں آپ سے پہلے جنت میں جائیں گے؟ فرمایا: ای والذی فلق الحبۃ وبرأ لنسمۃ انھما لیاکلان من ثمارھا ویرویان من مائھا ویتکئان علٰی فرشہا وانا موقوف بالحساب136ہاں قسم اس کی جس نے بیج کو چیر کر پیڑ اگایا اور آدمی کو اپنی قدرت سے تصویر فرمایا بیشک وہ دونوں جنت کے پھل کھائیں گے، اس کے پانی سے سیراب ہوں گے، اس کی مسندوں پر آرام کریں گے اور میں ابھی حساب میں کھڑا ہوں گا۔

خیرا لناس بعد رسول اﷲ:

ابو ذر ہروی ودار قطنی وغیرہما حضرت ابو جحیفہ sym-5سے راوی، میں نے امیر المؤمنین سے عرض کی: یا خیر الناس بعد رسول اﷲ ﷺ فقال مھلا یا ابا جحیفۃ الا اخبرک بخیر الناس بعد رسول اﷲ ﷺ ابوبکر وعمر137یا خیر الناس بعد رسول اﷲ ﷺ ، فرمایا: ٹھہرو اے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیں نہ بتا دوں کہ کون ہے؟ فرمایا اے ابو جحیفہ! خیر الناس بعد رسول اﷲ ﷺ ابوبکر وعمرsym-8 ہیں۔

افضل الناس بعد رسول اﷲ:

ابو نعیم حلیہ اور ابن شاہین کتاب السنہ اور ابن عساکر تاریخ میں عمرو بن حریث سے راوی، میں نے امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ کو منبر پر فرماتے سنا: ان افضل الناس بعد رسول اﷲ ﷺ ابوبکر وعمر وعثمان وفی لفظ ثم عمر ثم عثمان138۔ بیشک رسول اﷲ ﷺ کے بعد سب آدمیوں سے افضل ابوبکر وعمر وعثمان ہیں، اور بالفاظ دیگر پھر عمر پھر عثمان۔

مولود ازکی فی الاسلام:

ابن عساکر بطریق سعد ابن طریف اصبغ بن نباتہ سے راوی، فرمایا: قلت لعلی یا امیر المؤمنین من خیر الناس بعد رسول اﷲ ﷺ؟ قال ابوبکر، قلت ثم من؟ قال ثم عمر، قلت ثم من؟ قال ثم عثمان، قلت ثم من؟ قال انا رأیت رسول اﷲ ﷺ بعینی ھاتین والا فعمیتا، وباذنی ھاتین والا فصمتا، یقول ما ولد فی الاسلام مولود ازکی ولا اطھر ولا افضل من ابی بکر ثم عمر139 میں نے مولیٰ علی سے عرض کی یا امیر المؤمنین! رسول اﷲ ﷺ کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ فرمایا: ابوبکر۔ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: عمر، کہا پھر کون؟ فرمایا: عثمان، کہا: پھر کون؟ فرمایا: میں، میں نے ان آنکھوں سے نبی ﷺ کو دیکھا ورنہ یہ آنکھیں پھوٹ جائیں اور ان کانوں سے فرماتے سنا ورنہ بہرے ہو جائیں حضور فرماتے تھے اسلام میں کوئی شخص ایسا پیدا نہ ہوا جو ابوبکر پھر عمر سے زیادہ پاکیزہ زیادہ فضیلت والا ہو۔

ابو طالب عشاری فضائل الصدیق میں راوی، امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: وھل انا الا حسنۃ من حسنات ابی بکر140 کون ہوں مگر ابوبکر کی نیکیوں سے ایک نیکی۔

سیدنا صدیق کی سبقت کی چہار وجوہات:

خیثمہ طرابلسی وابن عساکر ابو الزناد سے راوی، ایک شخص نے مولیٰ علی سے عرض کی: یا امیر المؤمنین! کیا بات ہوئی کہ مہاجرین وانصار نے ابوبکر کو تقدیم دی حالانکہ آپ کے مناقب بیشتر اور اسلام وسوابق پیشتر، فرمایا: اگر مسلمان کے لئے خدا کی پناہ نہ ہوتی تو میں تجھے قتل کر دیتا، افسوس تجھ پر، ابوبکر چار وجہ سے مجھ پر سبقت لے گئے، افشائے اسلام میں مجھ سے پہلے، ہجرت میں مجھ سے سابق، صحبت غار میں انہیں کا حصہ، نبی ﷺ نے امامت کے لئے انہیں کو مقدم فرمایا ویحک ان اﷲ ذم الناس کلھم ومدح ابا بکر فقال الا تنصروہ فقد نصرہ اﷲ، (الاٰیۃ)141 افسوس تجھ پر بیشک اﷲ تعالیٰ نے سب کی مذمت کی اور ابوبکر کی مدح فرمائی کہ ارشاد فرماتا ہے اگر تم اس نبی کی مدد نہ کرو تو اﷲ تعالیٰ نے اس کی مدد فرمائی جب کافروں نے اسے مکے سے باہر کیا دوسرا ان دو کا جب وہ غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتا تھا غم نہ کھا اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔

حضرت صدیق کا تقدم:

خطیب بغدادی وابن عساکر اور دیلمی مسند الفردوس اور عشاری فضائل الصدیق میں امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں: سألت اﷲ ثلٰثا ان یقدمک فابی علی الا تقدیم ابی بکر142 اے علی! میں نے اﷲ عزوجل سے تین بار سوال کیا کہ تجھے تقدیم دے اﷲ تعالیٰ نے نہ مانا مگر ابوبکر کو مقدم رکھنا۔

حضرت علی کی مدح افراط وتفریط کا شکار:

عبداﷲ بن احمد زوائد مسند میں، اور ابو یعلیٰ ودورقی وحاکم وابن ابی عاصم وابن شاہین امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ سے راوی کہ انہوں نے فرمایا: دعانی رسول اﷲ ﷺ فقال یا علی ان فیک من عیسٰی مثلا ابغضتہ الیھود حتی بھتوا امہ واحبتہ النصاری حتی انزلوہ بالمنزلۃ التی لیس بھا وقال علی الا وانہ یھلک فی رجلان محب مطریئ یفرطنی بما لیس فی ومبغض مفتر یحملہ شناٰنی علی ان یبھتنی الا وانی لست بنبی ولا یوحی الیّ، ولٰکنی اعمل بکتاب اﷲ وسنۃ نبیہ ﷺ ما استطعت فما امرتکم بہ من طاعۃ اﷲ فحق علیکم طاعتی فیما احببتم او کرھتم وما امرتکم بمعصیۃ انا وغیری فلا طاعۃ لا حد فی معصیۃ اﷲ انما الطاعۃ فی المعروف143 مجھے رسول اﷲ ﷺ نے بلا کر ارشاد فرمایا: اے علی! تجھ میں ایک کہاوت عیسیٰ sym-9کی طرح ہے، یہود نے ان سے دشمنی کی یہاں تک کہ ان کی ماں پر بہتان باندھا اور نصاریٰ ان کے دوست بنے یہاں تک کہ جو مرتبہ ان کا نہ تھا وہاں جا اتارا، مولا علی فرماتے ہیں سن لو میرے معاملے میں دو شخص ہلاک ہوں گے ایک دوست میری تعریف میں حد سے بڑھنے والا جو میرا وہ مرتبہ بتائے گا جو مجھ میں نہیں، اور ایک دشمن مفتری جسے میری عداوت اس پر باعث ہوگی کہ مجھ پر تہمت اٹھائے، سن لو میں نہ تو نبی ہوں نہ مجھ پر وحی آتی ہے تو جہاں تک ہوسکے اﷲ عزوجل کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرتا ہوں تو میں جب تمہیں اطاعت الٰہی کا حکم دوں تو میری فرمانبرداری تم پر لازم ہے چاہے تمہیں پسند ہو خواہ ناگوار، اور اگر معصیت کا حکم دوں میں یا کوئی، تو اﷲ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو مشروع بات میں ہے۔

افضل الایمان:

ابن عساکر سالم بن ابی الجعد سے راوی، فرمایا: قلت لمحمد بن الحنفیۃ ھل کان ابوبکر اول القوم اسلاما قال لا قلت فیما علا ابوبکر وسبق حتی لا یذکر احد غیر ابی بکر قال لانہ کان افضلھم اسلاما حین اسلم حتی لحق بربہ144 میں نے امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ مولا علی sym-5سے دریافت کیا کہ ابوبکر صدیق sym-5سب سے پہلے اسلام لائے تھے، فرمایا: نہ۔ میں نے کہا پھر کس وجہ سے ابوبکر سب پر بلند وسابق ہوئے کہ ان کے سوا کوئی دوسرے کا ذکر ہی نہیں کرتا، فرمایا: اس لئے کہ وہ جب سے مسلمان ہوئے اور جب تک اپنے رب عزوجل کے پاس گئے ان کا ایمان سب سے افضل رہا۔

شیخین کی افضلیت:

امام دار قطنی جندب اسدی سے راوی: ان محمد بن عبداﷲ بن الحسن اتاہ قوم من اھل الکوفۃ والجزیرۃ فسألوہ عن ابی بکر وعمر فالتفت الیّ فقال انظر الی اھل بلادک یسألونی عن ابی بکر وعمر لھما افضل عندی من علی145 یعنی امام نفس زکیہ محمد بن عبداﷲ محض ابن امام حسن مثنیٰ ابن امام حسن مجتبیٰ ابن مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اﷲ تعالیٰ وجوھہم کے پاس اہل کوفہ وجزیرہ سے کچھ لوگوں نے حاضر ہو کر ابوبکر صدیق وعمر فاروق sym-3کے بارے میں سوال کیا، امام نے میری طرف التفات کر کے فرمایا اپنے وطن والوں کو دیکھو مجھ سے ابوبکر وعمر کے باب میں سوال کرتے ہیں بیشک وہ دونوں میرے نزدیک علی سے افضل ہیں ۔

رافضی اور خارجی نظریات:

حافظ عمر بن شبہ سیدنا امام زید شہید ابن امام زین العابدین ابن امام حسین شہید کربلا ابن مولا علی مرتضیٰ sym-5سے راوی، انہوں نے رافضیوں سے فرمایا: انطلقت الخوارج فبرئت ممن دون ابی بکر وعمر ولم یستطیعوا ان یقولوا فیھما شیا او انطلقتم انتم فطفرتم فوق ذٰلک فبرئتم منھا فمن بقی فو اﷲ ما بقی احدا لا برئتم منہ146 خارجیوں نے چل کر تو انہیں سے برأت کی جو ابوبکر وعمر سے نیچے ہیں یعنی عثمان وعلی sym-8مگر ابوبکر وعمر کی شان میں کچھ نہ کہہ سکے، اور اے رافضیو! تم نے ان سے اوپر جست کی کہ خود ابوبکر وعمر سے برأت کر بیٹھے تو اب کون رہ گیا خدا کی قسم کوئی باقی نہ رہا جس سے تم نے تبرا نہ کیا۔

رافضی کی سزا:

دار قطنی فضیل بن مرزوق سے راوی فرمایا: قلت لعمر بن علی بن الحسین بن علی رضی اﷲ تعالیٰ عنھم افیکم امام تفترض طاعتہ تعرفون ذٰلک لہ من لم یعرف ذٰلک لہ فمات مات میتۃ جاھلیۃ فقال لا واﷲ ما ذٰلک فینا من قال ھذا فھو کاذب فقلت انھم یقولون ان ھذہ المنزلۃ کانت لعلی ثم للحسن ثم للحسین قال قاتلھم اﷲ ویلھم ما ھذا من الدین واﷲ ما ھٰؤلاء الا متأکلین بنا ھذا مختصر147 میں نے امام زین العابدین کے صاحبزادے امام باقر کے بھائی امام عمر بن علی سے پوچھا آپ میں کوئی ایسا امام ہے جس کی طاعت فرض ہو آپ اس کا یہ حق پہنچانتے ہیں جو اسے بے پہچانے مر جائے جاہلیت کی موت مرے، فرمایا: خدا کی قسم ہم میں کوئی ایسا نہیں جو ایسا کہے جھوٹا ہے، میں نے کہا رافضی تو کہتے ہیں یہ مرتبہ مولا علی کا تھا، پھر امام حسن پھر امام حسین کو ملا۔ فرمایا: اﷲ رافضیوں کو قتل کرے خرابی ہو ان کے لئے کیا دین ہے خدا کی قسم یہ لوگ نہیں مگر ہمارا نام لے کر دنیا کمانے والے والعیاذ باﷲ عزوجل۔

نصوصِ ختم نبوت:

یہاں تک سو ۱۰۰ احادیث فقیر نے لکھیں اور چاہا کہ اسی پر بس کرے، پھر خیال آیا کہ ذکر پاک امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ ہے دس حدیثیں اور شامل ہوں کہ نام مبارک مولیٰ علی sym-5کے عدد حاصل ہوں، نظر کروں تو فیضان روح مبارک امیر المؤمنین سے تذییلات میں دس حدیثیں خود ہی گزر چکی ہیں تذییل بعد حدیث ۲۵ یک وبعد ۳۹ سہ وبعد ۴۲ یک وبعد ۴۸ و۵۸ دو دو وبعد ۶۲ یک یہ مقصود تو یوں حاصل تھا مگر از انجا کہ وضع رسالہ نصوص ختم نبوت میں ہے اور ۸ سے ۱۰۰ تک بیس حدیثیں اس مطلب کو دوسرے طرز سے ادا کرتی تھیں لہٰذا خاص مقصود کی بیس حدیثوں کا اضافہ ہی مناسب نظر آیا کہ خود اصل مرام پر سو حدیثوں کا عدد کامل اور اصل مرویات ایک سو ۱۲۰ ہو کر تین چہل حدیث کا فضل حاصل ہو۔

ارشاداتِ انبیاء وعلمائے کتب سابقہ:

حاکم صحیح مستدرک میں وہب بن منبہ سے وہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور سات دیگر صحابہ کرام سے کہ سب اہل بدر تھے روایت کرتے ہیں، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں بیشک اﷲ عزوجل روز قیامت اوروں سے پہلے نوح sym-9اور ان کی قوم کو بلا کر فرمائے گا تم نے نوح کو کیا جواب دیا وہ کہیں گے نوح نے نہ ہمیں تیری طرف بلایا، نہ تیرا کوئی حکم پہنچایا، نہ کچھ نصیحت کی، نہ ہاں یا نہ کا کوئی حکم سنایا، نوح sym-9عرض کریں گے: دعوتھم یا رب دعاء فاشیا فی الاولین والاٰخرین امۃ حتی انتھی الی خاتم النبیین احمد فانتسخہ وقرأہ وامن بہ وصدقہ الٰہی! میں نے انہیں ایسی دعوت کی جس کی خبر یکے بعد دیگرے سب اگلوں پچھلوں میں پھیل گئی، یہاں تک کہ سب سے پچھلے نبی احمد ﷺ تک پہنچی انہوں نے اسے لکھا اور پڑھا اور اس پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق فرمائی، حق سبحانہ وتعالیٰ فرمائے گا احمد وامتِ احمد ﷺ کو بلاؤ۔ فیاتی رسول اﷲ ﷺ وامتہ یسعی نورھم بین ایدیھم148 رسول اﷲ ﷺ اور حضور کی امت حاضر آئینگے یوں کہ ان کے نور ان کے آگے جولان کرتے ہوں گے۔

نوح sym-9کے لئے شہادت ادا کریں گے الحدیث وقد اختصرناہ (ہم نے حدیث کو اختصاراً نقل کیا ہے۔)

دار قطنی غرائب، امام مالک اور بیہقی دلائل اور خطیب رواۃ مالک میں بطریق عدیدہ عن مالک بن انس عن نافع عن ابن عمر ، اور ابن ابی الدنیا، اور بیہقی وابو نعیم دلائل میں بطریق ابن لہیعہ عن مالک بن الازہر عن نافع عن ابن عمر sym-8اور ابو نعیم دلائل میں من طریق یحییٰ بن ابراہیم بن ابی قتیلۃ عن بن اسلم عن ابیہ اسلم مولیٰ عمر sym-5، اور معاذ بن المثنیٰ زوائد مسند مسدد میں بطریق منتصر بن دینار عن عبداﷲ بن ابی الھذیل راوی ہیں اور بروجہ آخر واقدی مغازی میں عن عبدالعزیز بن عمر بن جعونۃ بن نضلۃ ، اور ابن جریر تاریخ اور باوردی کتاب الصحابہ میں بطریق ابی معروف عبداﷲ بن معروف عن ابی عبدالرحمن الانصاری عن محمد بن حسین بن علی بن ابی طالب، اور ابن ابی الدنیا امام محمد باقر سے راوی: وھذا حدیث معاذ وفیہ صریح النص علی مرادنا ومازدنا من الطریق الاول ادرنا حولہ ھلالین یہ حدیث معاذ کی ہے اور اس میں صریح نص ہے ہماری مراد پر، اور پہلے طریقہ سے ہم جو زیادتی کریں گے وہ ہلالین میں ہے۔

ذریب بن برثملا کی شہادت:

سعد بن ابی وقاص sym-8نے نضلہ بن عمرو انصاری کو تین سو مہاجرین وانصار کے ساتھ تاراج حلوان عراق کے لئے بھیجا، یہ قیدی اور غنیمتیں لے آتے تھے، ایک پہاڑ کے دامن میں شام ہوئی، نضلہ نے اذان کہی، جب کہا اﷲ اکبر اﷲ اکبر پہاڑ سے آواز آئی اور صورت نہ دکھائی دی کہ کوئی کہتا ہے کبرت کبیرا یا نضلۃ تم نے کبیر کی بڑائی کی اے نضلہ!، جب کہا! اشھد ان لا الٰہ الا اﷲ جواب آیا اخلصت یا نضلۃ اخلاصًا نضلہ تم نے خالص توحید کی، جب کہا اشھد ان محمدا رسول اﷲ آواز آئی نبی بعث لا نبی بعدہ ھو النذیر وھو الذی بشرنا بہ عیسٰی بن مریم وعلٰی راس امتہ تقوم الساعۃیہ نبی ہیں کہ مبعوث ہوئے ان کے بعد کوئی نبی نہیں یہی ڈر سنانے والے یہی ہیں جن کی بشارت ہمیں عیسیٰ بن مریم sym-5نے دی تھی انہیں کی امت کے سر پر قیامت قائم ہوگی۔ جب کہاحی علی الصلوٰۃ جواب آیا فریضۃ فرضت (1عہ) (طوبیٰ لمن مشی الیہا وواظب علیھا) نماز ایک فرض ہے کہ بندوں پر رکھا گیا خوبی وشادمانی اس کے لئے جو اس کی طرف چلے اور اس کی پابندی رکھے، جب کہا حی علی الفلاح آواز آئی افلح من اتاھا وواظب علیہا (افلح (2عہ)من اجاب محمد ﷺ) مراد کو پہنچا جو نماز کے لئے آیا اور اس پر مداومت کی، مراد کو پہنچا جس نے محمد ﷺ کی اطاعت کی، جب کہا قد قامت الصلوٰۃ جواب آیا الحدیث وقد اختصرناہبقا ہے امت محمد ﷺ کے لئے اور انہیں کے سروں پر قیامت ہوگی (جب کہا اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الٰہ الا اﷲ آواز آئی اخلصت الاخلاص کلہ یا نضلۃ فحرم اﷲ بھا جسدک علی النارالبقاء لامۃ محمد ﷺ وعلٰی رؤسھا تقوم الساعۃ اے نضلہ! تم نے پورا اخلاص کیا تو اﷲ تعالیٰ نے اس کے سبب تمہارا بدن دوزخ پر حرام فرما دیا) نماز کے بعد نضلہ کھڑے ہوئے اور کہا اے اچھے پاکیزہ خوب کلام والے! ہم نے تمہاری بات سنی تم فرشتے ہو یا کوئی سیاح یا جن، ظاہر ہو کر ہم سے بات کرو کہ ہم اﷲ عزوجل اور اس کے نبی ﷺ (اور امیر المؤمنین عمر) کے سفیر ہیں، اس کہنے پر پہاڑ سے ایک بوڑھے شخص نمودار ہوئے، سپید مُو، دراز ریش،سر ایک چکی کے برابر، سپید اُون کی ایک چادر اوڑھے ایک باندھے، اور کہا السلام علیکم ورحمۃ اﷲ ، حاضرین نے جواب دیا، اور نضلہ نے پوچھا اﷲ تم پر رحم کرے تم کون ہو؟ میں ذریب بن برثملا ہوں بندہ صالح عیسیٰ بن مریم sym-9کا وصی ہوں انہوں نے میرے لئے دعا فرمائی تھی کہ میں ان کے نزول تک باقی رہوں (زاد فی الطریق الثانی) (دوسرے طریقہ میں یہ زائد ہے۔ ت) پھر ان سے پوچھا رسول اﷲ ﷺ کہاں ہیں؟ کہا انتقال فرمایا۔ اس پر وہ بزرگ بشدت روئے، پھر کہا ان کے بعد کون ہوا؟ کہا ابوبکر۔ وہ کہاں ہیں؟ کہا انتقال ہوا۔ کہا پھر کون بیٹھا؟ کہا عمر۔ کہا امیر المؤمنین عمر سے میرا سلام کہو، اور کہا کہ ثبات وسدا دو آسانی پر عمل رکھئے کہ وقت قریب آلگا ہے، پھر علاماتِ قرب قیامت اور بہت کلماتِ وعظ وحکمت کہے اور غائب ہوگئے۔ جب امیر المؤمنین کو خبر پہنچی سعد بن ابی وقاص sym-8کے نام فرمان جاری فرمایا کہ خود اس پہاڑ کے نیچے جائیے (اور وہ ملیں تو انہیں میرا سلام کہئے رسول اﷲ ﷺ نے ہمیں خبر دی تھی کہ عیسیٰ sym-9کا ایک وصی عراق کے اس پہاڑ میں منزل گزین ہے) سعد sym-5(چار ہزار مہاجرین وانصار کے ساتھ) اس پہاڑ کو گئے چالیس دن ٹھہرے پنجگانہ اذانیں کہیں مگر جواب نہ ملا۔ آخر واپس آئے۔ 149

حاشیہ

(1عہ) ھکذا فی السابع وفی الطریق الثانی عند البیھقی فی الصلٰوۃ قال کلمۃ مقبولۃ وفی الفلاح قال البقاء لامۃ احمد ﷺ، وعکس ابن ابی الدنیا فذکر فی الصلوٰۃ البقاء لامۃ محمد ﷺ وفی الفلاح کلمۃ مقبولۃ 12 منہ۔ (م) ساتویں طریقہ میں یوں ہے اور دوسرے طریقہ میں بیہقی کے ہاں یوں ہے، حی علی الصلوٰۃ پر کہا، یہ مقبول کلمہ ہے، اور حی علی الفلاح پر کہا اس میں امت محمدیہ کے لئے بقاء ہے اور ابن ابی الدنیا نے اس کا عکس بیان کیا کہ پہلے میں امت محمدیہ کی بقاء اور دوسرے میں مقبول کلمہ کہا ۱۲ منہ)

(2عہ) زاد الخطیب وھو البقاء لامتہ ﷺ 12 منہ۔ (م) خطیب نے یوں زیادہ کہا، یہ امتِ محمدیہ کی بقا ہے، ﷺ ۱۲ منہ)

حاشیہ ختم شد

شام کے نصرانی ختم نبوت کی شہادت دیتے ہیں:

طبرانی معجم کبیر میں سیدنا جبیر بن مطعم sym-8سے راوی، میں زمانہ جاہلیت میں ملک شام کو تجارت کے لئے گیا تھا ملک کے اسی کنارے پر اہل کتاب سے ایک شخص مجھے ملا پوچھا کیا تمہارے یہاں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟ ہم نے کہا ہاں، کہا تم ان کی صورت دیکھو تو پہچان لو گے؟ میں نے کہا ہاں، وہ ہمیں ایک مکان میں لے گیا جس میں تصاویر تھیں، وہاں نبی ﷺ کی صورت کریمہ مجھے نظر نہ آئی، اتنے میں ایک اور کتابی آکر بولا: کس شغل میں ہو؟ ہم نے حال کہا، وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا وہاں جاتے ہی حضور پر نور ﷺ کی تصویر منیر مجھے نظر آئی اور دیکھا کہ ایک شخص حضور کے پیچھے حضور کے قدم مبارک کو پکڑے ہوئے ہے، میں نے کہا یہ دوسرا کون ہے، وہ کتابی بولا: انہ لم یکن نبی الا کان بعدہ نبی الا ھذا فانہ لا نبی بعدہ وھذا الخلیفۃ بعدہ بیشک کوئی نبی ایسا نہ ہوا جس کے بعد نبی نہ ہو سوا اس نبی ﷺ کے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ دوسرا ان کے بعد خلیفہ ہے۔ اسے جو میں دیکھوں تو ابوبکر صدیق کی تصویر تھی۔ 150

بادشاہ روم کے دربار میں ذکر مصطفیٰ:

تذییل اوّل:

ابن عساکر بطریق قاضی معافی بن زکریا حضرت عبادہ بن صامت، اور بیہقی وابو نعیم بطریق حضرت ابو امامہ باہلی حضرت ہشام بن عاص سے راوی ، جب صدیق اکبر sym-5نے ہمیں بادشاہ روم ہرقل کے پاس بھیجا اور ہم اس کے شہ نشین کے نزدیک پہنچے وہاں سواریاں بٹھائیں اور کہالا الٰہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ جانتا ہے یہ کہتے ہی اس کا شہ نشین ایسا ہلنے لگا جیسے ہوا کے جھونکے میں کھجور، اس نے کہلا بھیجا یہ تمہیں حق نہیں پہنچتا کہ شہروں میں اپنے دین کا اعلان کرو، پھر ہمیں بلایا ہم گئے وہ سرخ کپڑے پہنے سرخ مسند پر بیٹھا تھا آس پاس ہر چیز سرخ تھی اس کے اراکین دربار اس کے ساتھ تھے ہم نے سلام نہ کیا اور ایک گوشے میں بیٹھ گئے وہ ہنس کر بولا تم آپس میں جیسا ایک دوسرے کو سلام کرتے ہو مجھے کیوں نہ کیا؟ ہم نے کہا ہم تجھے اس سلام کے قابل نہیں سمجھتے اور جس مجرے پر تو راضی ہوتا ہے وہ ہمیں روا نہیں کہ کسی کے لئے بجا لائیں، پھر اس نے پوچھا سب سے بڑا کلمہ تمہارے یہاں کیا ہے؟ ہم نے کہا لا الٰہ الا اﷲ واﷲ اکبر ، خدا گواہ ہے یہ کہتے ہی بادشاہ کے بدن پر لرزہ پڑگیا پھر آنکھیں کھول کر غور سے ہمیں دیکھا اور کہا یہی وہ کلمہ ہے جو تم نے میرے شہ نشین کے نیچے اترتے وقت کہا تھا؟ ہم نے کہا ہاں، کہا جب اپنے گھروں میں اسے کہتے ہو تو کیا تمہاری چھتیں بھی اس طرح کانپنے لگتی ہیں؟ ہم نے کہا خدا کی قسم یہ تو ہم نے یہیں دیکھا اور اس میں خدا کی کوئی حکمت ہے، بولا سچی بات خوب ہوتی ہے سن لو خدا کی قسم مجھے آرزو تھی کہ کاش میرا آدھا ملک نکل جاتا اور تم یہ کلمہ جس چیز کے پاس کہتے وہ لرزنے لگتی۔ ہم نے کہا یہ کیوں؟ کہا یوں ہوتا تو کام آسان تھا اور اس وقت لائق تھا کہ یہ زلزلہ شان نبوت سے نہ ہو بلکہ کوئی انسانی شعبدہ ہو۔ 151 (یعنی اﷲ تعالیٰ ایسے معجزات ہر وقت ظاہر نہیں فرماتا بلکہ عالم اسباب میں شان نبوت کو بھی غالباً مجرائے عادت کے مطابق رکھتا ہے)

ولو جعلنٰه ملکا لجعلنه رجلا وللبسنا علیھم ما یلبسون 152
اگر ہم فرشتے کو نبی بناتے تو مرد ہی بناتے اور اس کو وہی لباس پہناتے جو مرد لوگ پہنتے ہیں

ولہٰذا انبیاء sym-3کے جہادوں میں بھی جنگ دو سرداروں کا مضمون رہتا ہے۔الحرب بیننا وبینہ سجال ینال منا وننال منہ153رواہ الشیخان عن ابی سفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ (ہمارے اور ان کے درمیان جنگ، کبھی وہ کامیاب اور کبھی ہم کامیاب ہوتے ہیں، اس کو شیخین نے ابو سفیان sym-5سے روایت کیا۔ ت)

لہٰذا جب ابو سفیان sym-5نے ہرقل کو خبر دی کہ لڑائی میں کبھی ہم بھی ان پر غالب آتے ہیں ہرقل نے کہا ھذہ اٰیۃ النبوۃ154یہ نبوت کی نشانی ہےرواہ البزار وابو نعیم عن دحیۃ الکلبی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ (اسے بزار اور ابو نعیم نے دحیہ کلبی sym-5سے روایت کیا۔ ت)

تصرفِ اولیا اور مظلومیت حسین:

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ بعض جہال ضعیف الایمان اس پر شک کرنے لگتے ہیں، اور اسی قبیل سے ہے جاہل وہابیوں کا اعتراض کہ اولیاء اگر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کچھ قدرت رکھتے تو امام حسین sym-5کیوں ایسی مظلومی کے ساتھ شہید ہو جاتے، ایک اشارے میں یزید پلید کے لشکر کو کیوں نہ غارت فرما دیا۔ مگر یہ سفہاء نہیں جانتے کہ ان کی قدرت جو انہیں ان کے رب نے عطا فرمائی رضا وتسلیم وعبدیت کے ساتھ ہے نہ کہ معاذ اﷲ جباری وسرکشی وخود سری کے ساتھ، مقوقس بادشاہ مصر نے حاطب بن ابی بلتعہ sym-5سے امتحاناً پوچھا کہ جب تم انہیں نبی کہتے ہو تو انہوں نے دعا کر کے اپنی قوم کو کیوں نہ ہلاک فرما دیا جب انہوں نے ان کا شہر مکہ چھڑایا تھا، حاطب ﷜ نے فرمایا: کیا تو عیسیٰ ﷤ کو رسول نہیں مانتا انہوں نے دعا کر کے اپنی قوم کو کیوں نہ ہلاک کر دیا جب انہوں نے انہیں پکڑا اور سولی دینے کا ارادہ کیا تھا؟ مقوقس بولا: انت حکیم جآء من عند حکیم155، تم حکیم ہو کہ حکیم کامل ﷺ کے پاس سے آئے، رواہ البیہقی عن حاطبم (اس کو بیہقی نے حاطب sym-5سے روایت کیا۔ ت)

خیر یہ تو فائدہ زائدہ تھا، حدیث سابق کی طرف عود کریں۔

ہرقل کے پاس انبیاء کی تصاویر:

پھر ہرقل نے ہمیں باعزاز واکرام ایک مکان میں اتارا، دونوں وقت عزت کی مہمانیاں بھیجتا، ایک رات ہمیں پھر بلا بھیجا، ہم گئے اس وقت اکیلا بالکل تنہا بیٹھا تھا، ایک بڑا صندوقچہ زرنگار منگا کر کھولا اس میں چھوٹے چھوٹے خانے تھے ہر خانے پر دروازہ لگا تھا، اس نے ایک خانہ کھول کر سیاہ ریشم کا کپڑا تہہ کیا ہوا نکالا اسے کھولا تو اس میں ایک سرخ تصویر تھی، مرد فراخ چشم بزرگ سرین کہ ایسے خوبصورت بدن میں ایسی لمبی گردن کبھی نہ دیکھی تھی سر کے بال نہایت کثیر (بے ریش دو گیسو غایت حسن وجمال میں) ہرقل بولا: انہیں پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہ، کہا: یہ آدم ہیں ﷺ پھر وہ تصویر رکھ کر دوسرا خانہ کھولا، اس میں سے ایک سیاہ ریشم کا کپڑا نکالا، اس میں خوب گورے رنگ کی تصویر تھی، مرد بسیار موئے سر مانند موئے قبطیاں، فراخ چشم، کشادہ سینہ، بزرگ سر (آنکھیں سرخ، داڑھی خوبصورت) پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہ، کہا یہ نوح ہیں ﷺ۔ پھر اسے رکھ کر اور خانہ کھولا، اس میں سے حریر سبز کا ٹکڑا نکالا اس میں نہایت گورے رنگ کی ایک تصویر تھی، مرد خوب چہرہ، خوش چشم، دراز بینی (کشادہ پیشانی)، رخسارے سُتے ہوئے، سر پر نشانِ پیری، ریش مبارک سپید نورانی، تصویر کی یہ حالت ہے کہ گویا جان رکھتی ہے، سانس لے رہی ہے (مسکرا رہی ہے) کہا: ان سے واقف ہو؟ ہم نے کہا: نہ، کہا: یہ ابراہیم ہیں ﷺ۔ پھر اسے رکھ کر ایک اور خانہ کھولا، اس میں سے سبز ریشم کا پارچہ نکالا، اسے جو ہم نظر کریں تو محمد ﷺ کی تصویر منیر تھی، بولا: انہیں پہچانتے ہو؟ ہم رونے لگے اور کہا: یہ محمد رسول اﷲ ﷺ ہیں، وہ بولا: تمہیں اپنے دین کی قسم یہ محمد ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں ہمیں اپنے دین کی قسم یہ حضور اکرم کی تصویر پاک ہے گویا ہم حضور کو حالتِ حیات دنیوی میں دیکھ رہے ہیں، اسے سنتے ہی وہ اچھل پڑا بے حواس ہوگیا سیدھا کھڑا ہوا پھر بیٹھ گیا دیر تک دم بخود رہا پھر ہماری طرف نظر اٹھا کر بولا: اما انہ اٰخر البیوت ولٰکنی عجلتہ لا نظر ما عندکم156، سنتے ہو یہ خانہ سب خانوں کے بعد تھا مگر میں نے جلدی کر کے دکھایا کہ دیکھوں تمہارے پاس اس باب میں کیا ہے، یعنی اگر ترتیب وار دکھاتا آتا تو احتمال تھا کہ تصویر حضرت مسیح کے بعد دکھانے پر تم خواہ مخواہ کہہ دو کہ یہ ہمارے نبی کی تصویر ہے اس لئے میں نے ترتیب قطع کر کے اسے پیش کیا کہ اگر یہ وہی نبی موعود ہیں تو ضرور پہچان لو گے،بحمداﷲ تعالیٰ ایسا ہی ہوا، اور یہی دیکھ کر اس حرماں نصیب کے دل میں درد اٹھا کہ حواس جاتے رہے اٹھا بیٹھا دم بخود رہا۔ واﷲ متم نورہ ولو کرہ الکٰفرون157والحمد ﷲ رب العٰلمین158 (اﷲ تعالیٰ اپنے نور کو تام فرمائیگا اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ والحمد ﷲ رب العٰلمین۔ ت)

ہمارا مطلب تو بحمداﷲ یہیں پورا ہوگیا کہ یہ خانہ سب خانوں کے بعد ہے، اس کے بعد حدیث میں اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلامکی تصاویر کریمہ کا ذکر ہے، حلیہ ہائے منورہ پر اطلاع مسلمین کے لئے اس کا خلاصہ بھی مناسب، یہاں تک کہ دونوں حدیثیں متفق تھیں، ترجمہ مختصراً حدیث عبادہ بن صامت sym-5کا تھا، جو لفظ حدیث ہشام sym-5سے بڑھائے خطوط ہلالی میں تھے، اب حدیث ہشام اتم وازید ہے کہ اس میں پانچ انبیاء لوط واسحق ویعقوب واسماعیل ویوسف علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر شریف زائد ہے لہٰذا اسی سے اخذ کریں، اور جو مضمون حدیث عبادہ sym-5میں زائد ہو اسے خطوط ہلالی میں بڑھائیں۔

فرماتے ہیں پھر اس نے ایک اور خانہ کھولا، حریر سیاہ پر ایک تصویر گندمی رنگ سانولی نکالی (مگر حدیث عبادہ میں گورا رنگ ہے) مرد مرغول(1عہ) مو سخت گھونگر والے بال، آنکھیں جانب باطن مائل، تیز نظر، ترش رو دانت، باہم چڑھے ہونٹ، سمٹا جیسے کوئی حالتِ غضب میں ہو۔ ہم سے کہا: انہیں پہچانتے ہو؟ یہ موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ہیں، اور ان کے پہلو میں ایک اور تصویر تھی، صورت ان سے ملتی مگر سر پر خوب تیل پڑا ہوا، پیشانی کشادہ، پتلیاں جانب بینی مائل (سر مبارک مدوّر گول)، کہا: انہیں جانتے ہو؟ یہ ہارون علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔

پھر اور خانہ کھول کر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، مرد گندم گوں، سر کے بال سیدھے، قد میانہ، چہرے سے آثار غضب نمایاں، کہا: یہ لوط علیہ الصلوۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، گورا رنگ جس میں سرخی جھلکتی، ناک اونچی، رخسارے ہلکے، چہرہ خوبصورت، کہا یہ اسحق علیہ الصلوۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، صورت صورتِ اسحق علیہ الصلوۃ والسلام کی مشابہ تھی مگر لب زیریں پر ایک تل تھا، کہا: یہ یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام ہیں، پھر حریر سیاہ پر ایک تصویر نکالی، رنگ گورا، چہرہ حسین، ناک بلند، قامت خوبصورت، چہرے پر نور درخشاں اور اس میں آثار خشوع نمایاں، رنگ میں سرخی کی جھلک تاباں، کہا: یہ تمہارے نبی ﷺ کے جد کریم اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی کہ صورت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے مشابہ تھی، چہرہ گویا آفتاب تھا، کہا یہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی سرخ رنگ، باریک ساقیں، آنکھیں کم کھلی ہوئی (2عہ) جیسے کسی کو روشنی میں چوندھ لگے، پیٹ ابھرا ہوا، قد میانہ، تلوار حمائل کئے، مگر حدیث عبادہ میں اس کے عوض یوں ہے حریر سبز پر گوری تصویر جس کے عضو عضو سے نزاکت ودلکشی ٹپکتی، ساق وسرین خوب گول، کہا: یہ داؤد علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، فربہ سرین، پاؤں میں طول، گھوڑے پر سوار (جس کے ہر طرف پر لگے تھے، گردن(3عہ)دبی ہوئی، پشت کوتاہ، گورا رنگ) کہا: یہ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام ہیں (اور یہ پردار گھوڑا جس کی ہر جانب پر ہیں ہوا ہے کہ انہیں اٹھائے ہوئے ہے) پھر حریر سیاہ پر ایک گوری تصویر نکالی، مرد جوان، داڑھی نہایت سیاہ، سر کے بال کثیر، چہرہ خوبصورت (آنکھیں حسین، اعضا متناسب (4عہ)کہا یہ عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام ہیں۔

ہم نے کہا: یہ تصویریں تیرے پاس کہاں سے آئیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ ضرور سچی تصاویر ہیں کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ کی تصویر کریم کے مطابق پائی۔ کہا: آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے رب عزوجل سے عرض کی تھی کہ میری اولاد کے انبیاء مجھے دکھا دے حق سبحانہ تعالیٰ نے ان پر تصاویر انبیاء اتاریں کہ مغرب شمس کے پاس خزانہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام میں تھیں، ذوالقرنین نے وہاں سے نکال کر دانیال علیہ الصلوۃ والسلام کو دیں (انہوں نے پارچہ ہائے حریر پر اتاریں کہ یہ بعینہا وہی چلی آتی ہیں) سن لو خدا کی قسم مجھے آرزو تھی کاش میرا نفس ترک سلطنت کو گوارا کرتا اور میں مرتے دم تک تم میں کسی ایسے کا بندہ بنتا جو غلاموں کے ساتھ نہایت سخت برتاؤ رکھتا (مگر کیا کروں نفس راضی نہیں ہوتا) پھر ہمیں عمدہ جائزے دے کر رخصت کیا (اور ہمارے ساتھ آدمی کر کے سرحدِ اسلام تک پہنچا دیا) ہم نے آکر صدیق sym-5سے حال عرض کیا، صدیق روئے اور فرمایا: مسکین اگر اﷲ اس کا بھلا چاہتا وہ ایسا ہی کرتا، ہمیں رسول اﷲ ﷺ نے خبر دی کہ یہ اور یہودی اپنے یہاں محمد ﷺ کی نعت پاتے ہیں۔ 159

حاشیہ

(1) الحمد ﷲ حدیثیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں ابو یعلیٰ وابن عساکر نے بطریق یحییٰ بن ابی عمرو الشیبانی عن ابی صالح عن ام ھانی sym-5نبی ﷺ سے حدیث معراج میں موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی حلیہ روایت کیا کہ سید عالم ﷺ نے فرمایا: واما موسٰی فضخم اٰدم طوال، کانہ من رجال شنوأۃ کثیر الشعر، غائر العینین، متراکب الاسنان مقلص الشفۃ خارج اللثۃ، عابس160لیکن موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام بھاری بدن، گندم گوں، طویل، گویا شنوہ قبیلہ کے لوگ، آنکھیں جانب باطن مائل، باہم چڑھے ہوئے دانت باہم ملے ہوئے ہونٹ، لٹکی داڑھی، سمٹا جیسے حالت غضب۔ (ت) اور یہیں سے ترجیح حدیث صحیح ہشام sym-5ظاہر ہوئی کہ گندمی رنگ بتایا تھا ۱۲ منہ۔

(2عہ) یہ اس سالہا سال کے گریہ خوف الٰہی کا اثر تھا جس کے باعث رخسارہ انور پر دو خط سیاہ بن گئے تھے۔)

(3عہ) حدیث مذکور ام ہانی sym-5میں حلیہ سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام میں ہے قد میانہ سے زائد دراز سے کم، سینہ چوڑا، خون کی سرخی بدن پر جھلکتی، بال عمدہ ان کی سیاہی سرخی مائل ۱۲ منہ۔)

(4عہ) فائدہ: یہ نفیس جلیل حدیث طویل جس کا خلاصہ اختصار کے ساتھ تین ورق میں بیان ہوا بحمداللہ صحیح ہے امام حافظ عماد الدین بن کثیر، امام خاتم الحفاظ سیوطی نے فرمایا ھذا حدیث جید الاسناد ورجالہ ثقات ۱۲ منہ)

حاشیہ ختم شد

مقوقس کے دربار میں فرمانِ نبوی:

تذییل دوم:

امام واقدی اور ابو القاسم بن عبد الحکم فتوح مصر میں بطریق ابان بن صالح راوی جب حاطب بن ابی بلتعہ sym-5فرمان اقدس ﷺ لے کر مقوقس نصرانی بادشاہ مصر واسکندریہ کے پاس تشریف لے گئے، اس نے ان سے دریافت کیا کہ محمد ﷺ کس بات کی طرف بلاتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: توحید ونماز پنجگانہ وروزہ رمضان وحج وفائے عہد۔ پھر اس نے حضور کا حلیہ پوچھا، انہوں نے باختصار بیان کیا، وہ بولا: قد بقیت اشیاء لم تذکرھا فی عینیہ حمرۃ قلت ما تفارقہ وبین کتفیہ خاتم النبوۃ الخ ابھی اور باتیں باقی رہیں کہ تم نے نہ بیان کیں ان کے آنکھوں میں سرخ ڈورے ہیں کہ کم کسی وقت جدا ہوتے ہوں اور ان کے دونوں شانوں کے بیچ مہر نبوت ہے۔

پھر حضور اقدس ﷺ کی اور صفات کریمہ بیان کر کے بولا:

قد كنت اعلم ان نبیا قد بقی وقد كنت اظن مخرجه بالشام، وھناک كانت تخریج الانبیاء قبله فاراہ قد خرج فی ارض العرب فی ارض جھد وبؤس والقبط لا تطاوعنی علی اتباعه وسیظھر علی البلاد161
مجھے یقیناً معلوم تھا کہ ایک نبی باقی ہے اور مجھے گمان تھا کہ وہ شام میں ظاہر ہوگا کہ اگلے انبیاء نے وہاں ظہور کیا اب میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے عرب میں ظہور فرمایا، محنت میں مشقت کی زمین میں، اور قبطی ان کی پیروی میں میری نہ مانیں گے عنقریب وہ ان شہروں پر غلبہ پائیں گے۔

تتمہ حدیث:

ابو القاسم نے بطریق ہشام بن اسحق وغیرہ اور ابن سعد نے طبقات میں بطریق محمد بن عمر بن واقد ان کے شیوخ سے روایت کیا کہ مقوقس نے حضور اقدس ﷺ کو اسی مضمون کی عرضی لکھی کہ: قد علمت ان نبیا بقی وکنت اظن انہ یخرج بالشام وقد اکرمتک رسولک وبعثت الیک بھدیۃ162مجھے یقین تھا کہ ایک نبی باقی ہے اور میرے گمان میں وہ شام سے ظہور کرتا اور میں نے حضور کے قاصد کا اعزاز کیا اور حضور کے لئے نذر حاضر کرتا ہوں۔

عبداﷲ بن سلام کا واقعہ ایمان:

تذییل سوم:

بیہقی دلائل میں حضرت عبداﷲ بن سلام sym-5سے راوی، جب میں نے رسول اﷲ ﷺ کا چرچا سنا اور حضور کے صفت ونام وہیات اور جن جن باتوں کی ہم حضور کے لئے۔ توقع کر رہے تھے سب پہچان لیں تو میں نے خاموشی کے ساتھ اسے دل میں رکھا یہاں تک کہ حضور اقدس ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے مجھے خبر رونق افروزی پہنچی میں نے تکبیر کہی میری پھوپھی بولی: اگر تم موسیٰ بن عمران علیہ الصلوۃ والسلام کا آنا سنتے تو اس سے زیادہ کیا کرتے؟ میں نے کہا: اے پھوپھی! خدا کی قسم وہ موسیٰ بن عمران کے بھائی ہیں جس بات پر موسیٰ بھیجے گئے تھے اسی پر یہ بھی مبعوث ہوئے ہیں، وہ بولی: یا ابن اخی اھو النبی الذی کنا نخبر بہ انہ یبعث مع بعث الساعۃ، قلت لھا نعم163 اے میرے بھتیجے! کیا یہ وہ نبی ہیں جن کی ہم خبر دئے جاتے تھے کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوں گے؟ میں نے کہا: نعم ہاں۔ (الحدیث) خطیب وابن عساکر حضرت عبداﷲ بن عباس sym-8سے راوی رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:انا احمد ومحمد والحاشر والمقفی والخاتم164 میں احمد ہوں اور محمد اور تمام جہان کو حشر دینے والا، اور سب انبیاء کے پیچھے آنے والا، اور نبوت ختم فرمانے والا ﷺ۔

ہجرت حضرت عباس:

ابو یعلیٰ وطبرانی وشاشی وابو نعیم فضائل الصحابہ میں اور ابن عساکر وابن النجار حضرت سہل بن سعد sym-5سے موصولاً اور رؤیانی وابن عساکر محمد بن شہاب زہری سے مرسلاً راوی حضرت عباس بن عبد المطلب sym-8عمِ نبی ﷺ نے حضور اقدس ﷺ کی بارگاہ میں (مکہ معظمہ سے) عرضی حاضر کی کہ مجھے اذن عطا ہو تو ہجرت کر کے (مدینہ طیبہ) حاضر ہوں۔ اس کے جواب میں حضور پر نور ﷺ نے یہ فرمان نافذ فرمایا:

یا عم اقم مکانک الذيانت فیه، فان اﷲ یختم بک الھجرة كما ختم بی النبوة 165
اے چچا! اطمینان سے رہو کہ تم ہجرت میں خاتم المہاجرین ہونے والے ہو، جس طرح میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں ﷺ۔

امام اجل فقیہ محدث ابو اللیث سمرقندی تنبیہہ الغافلین میں فرماتے ہیں:

حدثنا ابوبکر محمد بن احمد ثنا ابو عمران ثنا عبدالرحمن ثنا داؤد ثنا عباد بن الکثیر عن عبد خیر عن علی بن ابی طالب sym-5
ہمیں ابوبکر محمد بن احمد ان کو ابو عمران ان کو عبدالرحمٰن ان کو داؤد ان کو عباد بن کثیر ان کو عبد خیر سے انہوں نے حضرت علی مرتضیٰ sym-5سے بیان کیا۔

جب سورۃ اذا جاء نصر اﷲ حضور اقدس ﷺ کے مرض وصال شریف میں نازل ہوئی حضور فوراً برآمد ہوئے پنجشنبہ کا دن تھا، منبر پر جلوس فرمایا، بلال sym-5کو حکم دیا کہ مدینے میں ندا کر دو ’’لوگو! رسول اﷲ ﷺ کی وصیت سننے چلو‘‘ یہ آواز سنتے ہی سب چھوٹے بڑے جمع ہوئے، گھروں کے دروازے ویسے ہی کھلے چھوڑ دئیے یہاں تک کہ کنواریاں پردوں سے باہر نکل آئیں، حد یہ کہ مسجد شریف حاضرین پر تنگ ہوئی، اور حضور اقدس ﷺ فرما رہے ہیں اور اپنے پچھلوں کے لئے جگہ وسیع کرو، اپنے پچھلوں کے لئے جگہ وسیع کرو۔ پھر حضور ﷺ منبر پر قیام فرما کر حمد وثنائے الٰہی بجا لائے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر درود بھیجی، پھر ارشاد ہوا: انا محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ھاشم العربی الحرمی المکی لا نبی بعدی، الحدیث، ھذا مختصر میں محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم عربی صاحب حرم محترم ومکہ معظمہ ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں، الحدیث، ھذا مختصر166

مدینہ طیبہ میں حضور کی تشریف آوری:

اﷲ اﷲ ایک وہ دن تھا کہ مدینہ طیبہ میں حضور پر نور ﷺ کی تشریف آوری کی دھوم ہے، زمین وآسمان میں خیر مقدم کی صدائیں گونج رہی ہیں، خوشی وشادمانی ہے کہ در ودیوار سے ٹپکی پڑتی ہے، مدینے کے ایک ایک بچے کا دمکتا چہرہ انار دانہ ہو رہا ہے، باچھیں کھلی جاتی ہیں، دل ہیں کہ سینوں میں نہیں سماتے، سینوں پر جامے تنگ، جاموں میں قبائے گل کا رنگ، نور ہے کہ چھما چھم برس رہا ہے فرش سے عرش تک کا نور کا بقعہ بنا ہے، پردہ نشین کنواریاں شوق دیدارِ محبوبِ کردگار میں گاتی ہوئی باہر آئی ہیں کہ:

طلع البدر علینا من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا ما دعا ﷲ داع167

ہم پر چاند نکل آیا وداع کی گھاٹیوں سے، ہم پر خدا کا شکر واجب ہے جب تک دعا مانگنے والا دعا مانگے

بنی النجار کی لڑکیاں کوچے کوچے محوِ نغمہ سرائی ہیں کہ:

نحن جوارٍ من بنی النجار یا حبذا محمد من جارٖ168
ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں اے نجاریو! محمد ﷺ کیسا اچھا ہمسایہ ہے۔ ت

ایک دن آج ہے کہ اس محبوب کی رخصت ہے، مجلسِ آخری وصیت ہے، مجمع تو آج بھی وہی ہے، بچوں سے بوڑھوں تک، مردوں سے پردہ نشینوں تک سب کا ہجوم ہے، ندائے بلال سنتے ہی چھوٹے بڑے سینوں سے دل کی طرح بے تابانہ نکلے ہیں، شہر بھر نے مکانوں کے دروازے کھلے چھوڑ دئے ہیں، دل کمھلائے چہرے مرجھائے دن کی روشنی دھیمی پڑ گئی کہ آفتابِ جہاں تاب کی وداع نزدیک ہے، آسمان پژمردہ، زمین افسردہ، جدھر دیکھو سناٹے کا عالم اتنا اژدھام اور ہو کا مقام، آخری نگاہیں اس محبوب کے روئے حق نما تک کس حسرت ویاس کے ساتھ جاتی اور ضعفِ نو میدی سے ہلکان ہو کر بیخودانہ قدموں پر گر جاتی ہیں، فرطِ ادب سے لب بند مگر دل کے دھوئیں سے یہ صدا بلند۔

كنت السواد لناظري فعمی علیک الناظر
من شاء بعدک فلیمت فعلیک كنت احاذر 169
(میں اپنے دیکھنے والوں کے لئے سیاہ تھا پس اندھا کیا گیا آپکو دیکھنے والے کو، پس جو چاہے آپ کے بعد مار دے، پس آپ پر ہی بھروسا تھا کہ مجھے بچا لیں گے۔ ت)

اﷲ کا محبوب، امت کا داعی کس پیار کی نظر سے اپنی پالی ہوئی بکریوں کو دیکھتا اور محبت بھرے دل سے انہیں حافظ حقیقی کے سپرد کر رہا ہے، شان رحمت کو ان کی جدائی کا غم بھی ہے اور فوج فوج امنڈتے ہوئے آنے کی خوشی بھی کہ محنت ٹھکانے لگی، جس خدمت کو ملک العرش نے بھیجا تھا با حسن الوجوہ انجام کو پہنچی۔

نوح کی ساڑھے نو سو برس وہ سخت مشقت اور صرف پچاس شخصوں کو ہدایت، یہاں بیس (۲۰) تئیس (۲۳) ہی سال میں بحمداﷲ یہ روز افزوں کثرت، کنیز وغلام جوق جوق آرہے ہیں، جگہ بار بار تنگ ہو جاتی ہے دفعہ دفعہ ارشاد ہوتا ہے آنے والوں کو جگہ دو، آنے والوں کو جگہ دو، اس عام دعوت پر جب یہ مجمع ہو لیا ہے سلطان عالم نے منبر اکرم پر قیام کیا ہے، بعد حمد وصلوٰۃ اپنے نسب ونام وقوم ومقام وفضائل عظام کا بیان ارشاد ہوا ہے، مسلمانو! خدارا پھر مجلس میلاد اور کیا ہے، وہی دعوت عام، وہی مجمع تام، وہی منبر وقیام، وہی بیان فضائل سید الانام علیہ وآلہ الصلوٰۃ والسلام مجلس میلاد اور کس شئے کا نام، مگر نجدی صاحبوں کو ذکر محبوب مٹانے سے کام وربنا الرحمن المستعان وبہ الاعتصام وعلیہ التکلان (ہمارا رب رحمن مددگار ہے اور اسی ذات سے مضبوطی اور اسی پر اعتماد۔ ت)

چار پائے کلام کرتے ہیں:

ابن حبان وابن عساکر حضرت ابو منظور اور ابو نعیم بروجہ آخر حضرت معاذ بن جبل sym-8سے راوی، جب خیبر فتح ہوا رسول اﷲ ﷺ نے ایک دراز گوش سیاہ رنگ دیکھا اس سے کلام فرمایا، وہ جانور بھی تکلم میں آیا، ارشاد ہوا، تیرا کیا نام ہے؟ عرض کی: یزید بیٹا شہاب کا، اﷲ تعالیٰ نے میرے دادا کی نسل سے ساٹھ دراز گوش پیدا کئے کلھم لا یرکبہ الا نبی ان سب پر انبیاء سوار ہوا کئے وقد کنت اتوقعک ان ترکبنی، لم یبق من نسل جدی غیری ولا من الانبیاء غیرک مجھے یقینی توقع تھی کہ حضور مجھے اپنی سواری سے مشرف فرمائیں گے کہ اب اس نسل میں سوا میرے اور انبیاء میں سوا حضور کے کوئی باقی نہیں، میں ایک یہودی کے پاس تھا اسے قصداً گرا دیا کرتا وہ مجھے بھوکا رکھتا اور مارتا، حضور اقدس ﷺ نے اس کا نام یعفور رکھا، جسے بلانا چاہتے اسے بھیج دیتے چوکھٹ پر سر مارتا جب صاحب خانہ باہر آتا اسے اشارے سے بتاتا کہ حضور اقدس ﷺ یاد فرماتے ہیں، جب حضور پر نور ﷺ نے انتقال فرمایا وہ مفارقت کی تاب نہ لایا ابو الہیثم بن التیہان sym-5کے کنویں میں گر کر مر گیا۔ 170

ھذا حدیث ابی منظور ونحوہ عن معاذ باختصار غیر انه ذكر مكان الاباء ثلثة اخوة واسمه مكان یزید عمر وقال كلنا ركبنا الانبیاء انا اصغرھم وكنت لک، الحدیث 171

یہ ابو منظور کی حدیث ہے اور اسی کی مثل حضرت معاذ سے بطریق اختصار مروی ہے مگر انہوں نے آباء کی جگہ تین بھائیوں کا اور یزید کی جگہ نام عمر ذکر کیا اور اس نے کہا ہم سب پر انبیاء sym-3سوار ہوئے جبکہ میں سب سے چھوٹا ہوں اور میں آپ کے لئے ہوں، الحدیث۔

قلت ولا علیک من دندنةالعلامة ابن الجوزي كعادته علیه ولا من تحامل ابن دحیة علٰی حدیث الضب المارسابقا فلیس فیھما ما ینکر شرعا ولا فی سندھما كذاب ولا وضاع ولا متھم به فانی یاتھما الوضع وھذا امام الشان العسقلانی قد اقتصر فی حدیث ابی منظور علی تضعیفه وله شاھد من حدیث معاذ کما تري لا جرم ان قال الزرقانی نهایته الضعف لا الوضع172 ، وقال ھو والقسطلانی فی حدیث الضب (معجزاته ﷺ فیھا ما ھو ابلغ من ھذا ولیس فیه ما ینکر شرعا خصوصا وقد رواه الائمة) الحافظ الکبار كابن عدي وتلمیذہ الحاكم وتلمیذہ البیھقی وھو لا یروي موضوعا والدار قطنی وناھیک به(فنھایته الضعف لا الوضع) كما زعم كیف ولحدیث ابن عمر طریق اٰخر لیس فیه السلمی رواہ ابو نعیم وورد مثله من حدیث عائشة وابی ھریرة عند غیرھما اھ173
قلت (میں کہتا ہوں) علامہ ابن جوزی کا اعتراض جیسا کہ اس کی عادت ہے تجھے مضر نہیں، اور نہ ہی ابن دحیہ کی سو سمار سے متعلق گزشتہ حدیث پر جسارت تجھے مضر ہے، ان دونوں حدیثوں میں شرعی طور پر کوئی قابل انکار چیز نہیں اور نہ ہی ان کی سندوں میں کوئی کذاب اور وضاع اور متہم راوی ہے تو ان حدیثوں کا موضوع ہونا کہاں سے ہوا جبکہ امام عسقلانی نے ابو منظور کی حدیث کو ضعیف کہنے پر اقتصار کیا حالانکہ اس حدیث کا شاہد حضرت معاذ کی حدیث ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے اسی بنا پر علامہ زرقانی نے فرمایا زیادہ سے زیادہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں ہے، اور انہوں نے اور امام قسطلانی نے بھی سو سمار والی حدیث کے متعلق فرمایا کہ حضور ﷺ کے معجزات میں تو اس سے بڑھ کر واقعات ہیں جبکہ اس حدیث میں شرعی طور پر قابل انکار چیز بھی نہیں، خصوصاً جبکہ اس کو بڑے ائمہ حفاظ جیسے ابن عدی، ان کے شاگرد امام حاکم اور ان کے شاگرد امام بیہقی نے روایت کیا ہو، امام بیہقی تو موضوع روایت ذکر نہیں کرتے، اس کو دار قطنی نے روایت کیا ان کی سند تو تجھے کافی ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ حدیث ضعیف ہوسکتی ہے موضوع نہیں ہے جیسا کہ بعض نے خیال کیا، موضوع کیسے کہا جائے جبکہ ابن عمر کی حدیث دوسرے طریقہ سے بھی مروی ہے جس میں سلمیٰ مذکور نہیں اس طریق کو ابو نعیم نے روایت کیا اور حضرت عائشہ صدیقہ اور ابو ہریرہ sym-8سے اس کی مثل دونوں کے غیر سے وارد ہے اھ
قلت وقد اورد كلا الحدیثین الامام خاتم الحفاظ فی الخصائص الکبري وقد قال فی خطبتها نزھته عن الاخبار الموضوعة وما یرد اھ 174 ، قلت وعزو الزرقانی حدیث الضب لابن عمر تبع فیه الماتن اعنی الامام القسطلانی صاحب المواھب وسبقھما الدمیري فی حیٰوة الحیوان الکبري لکن الذي رأیت فی الخصائص الکبري والجامع الکبیر للامام الجلیل الجلال السیوطی ھو عزوہ لامیر المؤمنین عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنه كما قدمت وقد اوردہ فی الجامع فی مسند عمر فزیادةلفظ الابن اما وقع سھوا او یکون الحدیث من طریق ابن عمر عن عمر sym-8 فیصح العزو الی کل وان کان الاولی ذکر المنتھی ویحتمل علی بُعد عن کل منھما فاذن یکون مرویا عن ستةمن الصحابة sym-7، واﷲ تعالیٰ اعلم
قلت (میں کہتا ہوں) ان دونوں حدیثوں کو امام جلال الدین سیوطی نے خصائص الکبریٰ میں ذکر فرمایا حالانکہ انہوں نے اس کتاب کے خطبہ میں فرمایا ہے میں نے اس کتاب کو موضوع اور مردود روایات سے دور رکھا ہے اھ، قلت (میں کہتا ہوں) زرقانی کا سو سمار والی حدیث کو ابن عمر sym-8کی طرف منسوب کرنا ماتن یعنی مصنف مواہب امام قسطلانی کی پیروی ہے جبکہ ان دونوں سے قبل علامہ دمیری نے حیٰوۃ الحیوان میں اس کو ذکر کیا لیکن میں نے امام جلال الدین سیوطی کی خصائص الکبریٰ اور جامع کبیر میں دیکھا انہوں نے اس کو امیر المؤمنین عمر فاروق sym-5کی طرف منسوب کیا ہے جیسا کہ میں پہلے ذکر کرچکا ہوں، انہوں نے اسے اپنی جامع میں حضرت عمر sym-5کے مسند میں ذکر فرمایا، تو ’’ابن‘‘ کا لفظ سہواً لکھا گیا ہے یا پھر ابن عمر کے ذریعے حضرت عمر sym-5سے مروی ہے لہٰذا دونوں حضرات کی طرف نسبت درست ہے، اگر چہ منتہی راوی یعنی عمر sym-5کی طرف منسوب کرنا اولیٰ ہے اور بعید احتمال کے طور پر دونوں حضرات سے مستقل روایت بھی ہوسکتی ہے تو یوں چھ صحابہ سے یہ حدیث مروی ہوگی(واﷲ تعالیٰ اعلم)ت۔

میرے بعد کوئی نبی نہیں:

سعید بن ابی منصور وامام احمد وابن مردویہ حضرت ابو الطفیل sym-5سے راوی رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں: لا نبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ175 میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں اچھے خواب۔

احمد وخطیب اور بیہقی شعب الایمان میں اس کے قریب ام المؤمنین صدیقہ sym-6سے راوی رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:لا یبقی بعدی من النبوۃ شیئ الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ یراھا العبد او تری لہ176 میرے بعد نبوت سے کچھ باقی نہ رہے گا مگر بشارتیں، اچھا خواب کہ بندہ آپ دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔

تیس (30) کذّاب:

ابوبکر ابن ابی شیبہ مصنف میں عبید بن عمرو لیثی اور طبرانی کبیر میں نعیم بن مسعود sym-5سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

لا تقوم الساعة حتی یخرج ثلٰثون کذّابا کلھم یزعم انه نبی، زاد عبید قبل یوم القیٰمة 177
قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ اس سے پہلے تیس کذاب نکلیں ہر ایک اپنے آپ کو نبی کہتا ہو۔

عبید نے اس پر ’’قبل یوم القیٰمۃ‘‘ کو زائد کیا۔

اقول وانما اخرنا ھما الی التذییل بخلاف عین اللفظ المتقدم فی الحدیث الثانی والستین لان فی تتمته ان من قال فافعلوا به کذا وکذا وھٰذا العموم انما تم لاجل ختم النبوة اذ لو جاز ان یکون بعدہ ﷺ نبی صادق لما ساع الامر المذكور بالعموم وان كان یاتی ایضا ثلٰثون او الوف من الکذابین بل كان یجب اقسامة امارة تمیز الصادق من الكاذب والامر بالایقاع بمن ھو كاذب منھم لا غیر كما لا یخفی والی اﷲ المشتکٰی من ضعفنا فی ھٰذہ الزمان الکثیر فجارہ القلیل انصارہ الغالب كفارہ البین عوارہ وقد ظھر الاٰن بعض ھٰؤلاء الدجالین الکذابین فلو اراد اﷲ باحدھم شیئًا یطیروا بالمسلم والمسلم انما حدّث فانّا ﷲ واناّ الیه رٰجعون لکن الاحتراس کان اسلم للمسلم وانفی للفساد فاحببنا الاقتصار علی القدر المراد واﷲ المستعان وعلیه التکلان ولا حول ولا قوة الا باﷲ العلی العظیم
اقول (میں کہتا ہوں) ان دونوں حدیثوں کو ہم نے تذییل کے آخر میں ذکر کیا برخلاف اس کے جو باسٹھویں حدیث میں پہلے گزرا عین لفظ اس کے کیونکہ اس کے آخر میں یوں ہے کہ جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے اسے یہ یہ کرو۔ اور جو بھی ایسا دعویٰ کرے اس سے یوں کرو یہ عموم ختم نبوت کے لئے ہی تام ہوسکتا ہے کیونکہ اگر آپ ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا جائز ہوتا تو پھر یہ عام حکم ایسے لوگ تیس ہوں یا ہزاروں ہوں سب کو شامل نہ ہوتا بلکہ پھر سچے اور جھوٹے نبی کی تمیز میں کوئی امتیازی علامت بیان کر کے ’’یہ یہ کرنے‘‘ کا حکم ان میں سے صرف کاذبین کے لئے ہوتا ہر ایک کے لئے نہ ہوتا، جیسا کہ ظاہر ہے، اور اﷲ تعالیٰ سے ہی اس زمانہ میں ہمیں اپنے کمزور ہونے کی شکایت ہے یہ زمانہ جس میں فجار کی کثرت، مددگاروں کی قلت، کافروں کا غلبہ اور کج روی عام ہے جبکہ اب بعض ایسے کذاب دجّال لوگ ظاہر ہوئے ہیں، اگر ایسے دجالوں کو اﷲ تعالیٰ کے ارادہ سے کچھ ہوگیا تو اس کو مسلمانوں کی طرف منسوب کیا جائے گا کہ انہوں نے ایسی حدیث بیان کی جس پر یہ کچھ ہوا ہم اﷲ تعالیٰ کی ملک ہیں اور اس کی طرف ہمارا لوٹنا ہے تاہم مسلمانوں کو اپنی حفاظت مناسب ہے اور فساد کو دفع کرنا زیادہ بہتر ہے تو اس لئے صرف مراد کو بیان کرنا ہی پسند کیا ہے، اور اﷲ تعالیٰ ہی سے مدد اور اسی پر توکل ہےلا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم ۔ (ت)

علی بمنزلہ ہارون ہیں:

خطیب حضرت امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم sym-5سے راوی رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

انما علی مِنّی بمنزلة ھارون من موسٰی الا انه لا نبی بعدي 178
علی مجھ سے ایسا ہے جیسا موسیٰ سے ہارون (کہ بھائی بھی اور نائب بھی) مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

امام احمد مناقب امیر المؤمنین علی میں مختصراً، اور بغوی وطبرانی اپنی معاجیم، باوردی معرفت، ابن عدی کامل، ابو احمد حاکم کنیٰ میں بطریق امام بخاری، ابن عساکر تاریخ میں سب زید بن ابی اوفیٰ sym-8سے حدیث طویل میں راوی وھذا حدیث احمد (یہ حدیث احمد ہے۔ ت) جب حضور سید عالم ﷺ نے باہم صحابہ کرام sym-6میں بھائی چارہ کیا امیر المؤمنین مولیٰ علیکرم اﷲ تعالیٰ وجہہ نے عرض کی: میری جان نکل گئی اور پیٹھ ٹوٹ گئی، یہ دیکھ کر حضور ﷺ نے اصحاب کے ساتھ کیا جو میرے ساتھ نہ کیا یہ اگر مجھ سے کسی ناراضی کے سبب ہے تو حضور ہی کے لئے منانا اور عزت ہے۔

رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

والذي بعثنی بالحق ما اخرتک الا لنفسی وانت منّی بمنزلة ھارون من موسٰی غیر انه لا نبی بعدي 179
قسم اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا میں نے تمہیں خاص اپنے لئے رکھ چھوڑا ہے تم مجھ سے ایسے ہو جیسے ہارون موسیٰ سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں تم میرے بھائی اور وارث ہو۔

امیر المؤمنین نے عرض کی: مجھے حضور سے کیا میراث ملے گی؟ فرمایا: جو اگلے انبیاء کو ملی۔ عرض کی: انہیں کیا ملی تھی؟ فرمایا: خدا کی کتاب اور نبی کی سنت، اور تم میرے ساتھ جنت میں میری صاحبزادی کے ساتھ میرے محل میں ہو گے اور تم میرے بھائی اور رفیق ہو۔

ابن عساکر(عہ) بطریق عبداﷲ بن محمد بن عقیل عن ابیہ عن جدہٖ عقیل بن ابی طالب sym-5راوی، حضور اقدس ﷺ نے حضرت عقیل sym-5سے فرمایا: خدا کی قسم میں تمہیں دو جہت سے دوست رکھتا ہوں، ایک تو قرابت، دوسرے یہ کہ ابو طالب کو تم سے محبت تھی، اے جعفر! تمہارے اخلاق میرے اخلاق کریمہ سے مشابہ ہیں: واما انت یا علی فانت منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی غیر انہ لا نبی بعدی180تم اے علی! مجھ سے ایسے ہو جیسے موسیٰ سے ہارون مگر یہ کہ میرے بعد نبی نہیں ﷺ۔

حاشیہ

(عہ)فی نسخۃ کنز العمال المطبوعۃ عن عبداﷲ بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل وھو خطاء وصوابہ عبداﷲ بن محمد بن عقیل، عبداﷲ تابعی صدوق من رجال الاربعۃ ما خلا النسائی قال الذھبی حدیثہ فی مرتبۃ الحسن وابوہ تابعی مقبول رجال ابن ماجۃ12 منہ(م)کنز العمال کے مطبوعہ نسخہ میں عبداﷲ بن عقیل اپنے والد ماجد اور ان کے دادا عقیل سے راوی جبکہ یہ خطا ہے اور صحیح یہ ہے عبداﷲ بن محمد بن عقیل، یہ عبداﷲ تابعی ہیں نہایت صادق، نسائی کے ماسوا سنن صحاح کے راویوں میں شمار ہیں، امام ذہبی نے فرمایا ان کی روایت حسن کے مرتبہ میں ہے اور ان کے والد بھی تابعی اور مقبول، ابن ماجہ کے راویوں میں شمار ہیں۔ 12 منہ (ت)

حاشیہ ختم شد

الحمدﷲ تین چہل حدیث کا عدد تو کامل ہوا جن میں چوراسی ۸۴ حدیثیں مرفوع تھیں اور سترہ۱۷ تذییلات علاوہ، پہلے گزری تھیں سات اس تکمیل میں بڑھیں، ان سترہ میں بھی پانچ مرفوع تھیں تو جملہ مرفوعات یعنی وہ حدیثیں جو خود حضور پر نور خاتم النبیین ﷺ سے مروی حضور کے ارشاد وتقریر کی طرف منتہیٰ ہیں نواسی ۸۹ ہوئیں لہٰذا چاہا کہ ایک حدیث مرفوع اور شامل ہو کہ نوّے ۹۰ احادیث مرفوعہ کا عدد کامل ہو نیز ان اﷲ وتر یحب الوتر (اﷲ واحد ہے اور واحد کو پسند کرتا ہے۔ ت) کا فضل حاصل ہو۔

حاشیہ

(عہ)بعد حدیث ۱۱۰ تذییل اول دو حدیث عبادہ بن صامت وہشام بن عاص، وتذییل دوم دو حدیث حاطب وشیوخ واقدی، وتذییل سوم حدیث ابن سلام وبعد حدیث ۱۱۷ دو حدیث عبید ونعیم ﷢۱۲ منہ (م))

حاشیہ ختم شد

میں آخری نبی اور میری امت آخری امت ہے:

بیہقی سنن میں حضرت ابن زمل جُہنی sym-5سے حدیث طویل رؤیا میں راوی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اﷲ ﷺ بعد نماز صبح پاؤں بدلنے سے پہلے ستر بارسبحان اﷲ وبحمدہ واستغفر اﷲ ان اﷲ کان توّابا پڑھتے پھر فرماتے یہ ستر ۷۰ سات سو ۷۰۰ کے برابر ہیں نرا بے خیر ہے جو ایک دن میں سات سو ۷۰۰ سے زیادہ گناہ کرے (یعنی ہر نیکی کم از کم دس ہےمن جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا ، تو یہ ستر کلمے سات سو نیکیاں ہوئے اور ہر نیکی کم از کم ایک بدی کو محو کرتی ہے۔ان الحسنات یذھبن السیاٰت ، تو اس کے پڑھنے والے کے لئے نیکیاں ہی غالب رہیں گی مگر وہ کہ دن میں سات سو گناہ سے زیادہ کرے اور ایسا سخت ہی بے خیر ہوگاوحسبنا اﷲ ونعم الوکیل

پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے تشریف رکھتے اور اچھا خواب حضور کو خوش آتا دریافت فرماتے: کسی نے کچھ دیکھا ہے؟ ابن زمل نے عرض کی: یا رسول اﷲ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ فرمایا: بھلائی پاؤ اور برائی سے بچو ہمیں اچھا اور ہمارے دشمنوں پر بُرا، رب العالمین کے لئے ساری خوبیاں ہیں خواب بیان کرو۔ انہوں نے عرض کی: میں نے دیکھا کہ سب لوگ ایک وسیع نرم بے نہایت راستے پر بیچ شارع عام میں چل رہے ہیں ناگہاں اس راہ کے لبوں پر خوبصورت سبزہ زار نظر آیا کہ ایسا کبھی نہ دیکھا تھا اس کا لہلہاتا سبزہ چمک رہا ہے، شادابی کا پانی ٹپک رہا ہے، اس میں ہر قسم کی گھاس ہے، پہلا ہجوم آیا، جب اس سبزہ زار پر پہنچے تکبیر کہی اور سواریاں سیدھے راستے پر ڈالے چلے گئے ادھر ادھر اصلاً نہ پھرے، پھر اس مرغزار کی طرف کچھ التفات نہ کیا، پھر دوسرا ہلّہ آیا کہ پہلوں سے کئی گنا زائد تھا، سبزہ زار پر پہنچے تکبیر کہی راہ پر چلے مگر کوئی کوئی اس چراگاہ میں چرانے بھی لگا اور کسی نے چلتے میں ایک مُٹھّا لے لیا، پھر روانہ ہوئے، پھر عام اژدھام آیا، جب یہ سبزہ زار پر پہنچے تکبیر کہی اور بولے یہ منزل سب سے اچھی ہے یہ ادھر ادھر پڑگئے میں ماجرا دیکھ کر سیدھا راہ راہ پڑلیا، جب سبزہ زار سے گزر گیا تو دیکھا کہ سات زینے کا ایک منبر ہے اور حضور اس کے سب سے اونچے درجے پر جلوہ فرما ہیں، حضور کے آگے ایک سال خورد لاغر ناقہ ہے حضور اس کے پیچھے تشریف لے جاتے ہیں سید عالم ﷺ نے فرمایا وہ راہ نرم ووسیع وہ ہدایت ہے جس پر میں تمہیں لایا اور تم اس پر قائم ہو اور وہ سبزہ زار دنیا اور اس کے عیش کی تازگی ہے میں اور میرے صحابہ تو چلے گئے کہ دنیا سے اصلاً علاقہ نہ رکھا نہ اسے ہم سے تعلق ہوا نہ ہم نے اسے چاہا نہ اس نے ہمیں چاہا پھر دوسرا ہجوم ہمارے بعد آیا وہ ہم سے کئی گنا زیادہ ہے، ان میں سے کسی نے چرایا کسی نے گھاس کا مُٹّھا لیا اور نجات پا گئے، پھر بڑا ہجوم آیا وہ سبزہ زار میں دہنے بائیں پڑگئے تو انّا ﷲ وانّا الیہ رٰجعون اور اے ابن زمل! تم اچھی راہ پر چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے ملو اور وہ سات زینے کا منبر جس کے درجہ اعلیٰ پر مجھے دیکھا یہ جہان ہے اس کی عمر سات ہزار برس کی ہے اور میں اخیر ہزار میں ہوں وامّا ناقۃ التی رأیت ورأیتنی اتبعھا فھی الساعۃ علینا تقوم لا نبی بعدی ولا اُمۃ بعد اُمتی اور وہ ناقہ جس کے پیچھے مجھے جاتا دیکھا قیامت ہے ہمارے ہی زمانے میں آئے گی، نہ میرے بعد کوئی نبی نہ میری امت کے بعد کوئی امت، صلی اﷲ تعالیٰ علیک وعلیٰ امتک اجمعین وبارک وسلم واٰخردعوٰنا ان الحمد ﷲ رب العٰلمین181

تسجیل جمیل:

بحمداﷲ بیس ۲۰ احادیث علویہ کے علاوہ خاص مقصود محمود ختم نبوت پر یہ ایک سو ایک ۱۰۱ حدیثیں ہیں اور مع تذییلات ایک سو اٹھارہ ۱۱۸ جن میں نوے۹۰ مرفوع ہیں اور ان کے رواۃ واصحاب اکہتر۷۱۔

گیارہ تابعی:

صحابہ وتابعین جن میں صرف گیارہ تابعی:

۱۔ امام اجل محمد باقر

۲۔ سعد بن ثابت

۳۔ ابن شہاب زہری

۴۔ عامر شعبی

۵۔ عبداﷲ بن ابی الہذیل

۶۔ علاء بن زیاد

۷۔ ابو قلابہ

۸۔ کعب احبار

۹۔ مجاہد مکی

۱۰۔ محمد بن کعب قرظی

۱۱۔ وہب بن منبہ

اکاون صحابہ:

باقی ساٹھ صحابی ازاں جملہ اکاون صحابہ خاص اصول مرویات میں:

۱۲۔ ابی بن کعب

۱۳۔ ابو امامہ باہلی

۱۴۔ انس بن مالک

۱۵۔ اسماء بنت عمیس

۱۶۔ براء بن عازب

۱۷۔ بلال مؤذن

۱۸۔ ثوبان مولیٰ رسول اﷲﷺ

۱۹۔ جابر بن سمرہ

۲۰۔ جابر بن عبداﷲ

۲۱۔ جبیر بن مطعم

۲۲۔ حبیش بن جنادہ

۲۳۔ حذیفہ بن اسید

۲۴۔ حذیفہ بن الیمان

۲۵۔ حسان بن ثابت

۲۶۔ حویصہ بن مسعود

۲۷۔ ابو ذر

۲۸۔ ابن زمل

۲۹۔ زیاد بن لبید

۳۰۔ زید بن ارقم

۳۱۔ زید بن ابی اوفیٰ

۳۲۔ سعد بن ابی وقاص

۳۳۔ سعید بن زید

۳۴۔ ابو سعید خدری

۳۵۔ سلمان فارسی

۳۶۔ سہل بن سعد

۳۷۔ ام المؤمنین ام سلمہ

۳۸۔ ابو الطفیل عامر بن ربیعہ

۳۹۔ عامر بن ربیعہ

۴۰۔ عبداﷲ بن عباس

۴۱۔ عبداﷲ بن عمر

۴۲۔ عبدالرحمن بن غنم

۴۳۔ عدی بن ربیعہ

۴۴۔ عرباض بن ساریہ

۴۵۔ عصمہ بن مالک

۴۶۔ عقبہ بن عامر

۴۷۔ عقیل بن ابی طالب

۴۸۔ امیر المؤمنین علی

۴۹۔ امیر المؤمنین عمر

۵۰۔ عوف بن مالک اشجعی

۵۱۔ ام المؤمنین صدیقہ

۵۲۔ ام کرز

۵۳۔ مالک بن حویرث

۵۴۔ مالک بن سنان والد ابی سعید خدری

۵۵۔ محمد بن عدی بن ربیعہ

۵۶۔ معاذ بن جبل

۵۷۔ امیر معاویہ

۵۸۔ مغیرہ بن شعبہ

۵۹۔ ابن ام مکتوم

۶۰۔ ابو منظور

۶۱۔ ابو موسیٰ اشعری

۶۲۔ ابو ہریرہ

اور نو صحابی تذییلات میں:

۶۳۔ حاطب بن ابی بلتعہ

۶۴۔ عبداﷲ ابن ابی اوفیٰ

۶۵۔ عبداﷲ بن زبیر

۶۶۔ عبداﷲ بن سلام

۶۷۔ عبداﷲ بن عمرو بن عاص

۶۸۔ عبادہ بن صامت

۶۹۔ عبید بن عمرو لیثی

۷۰۔ نعیم بن مسعود

۷۱۔ ہشام بن عاص

ختم نبوت پر دیوبندی عقیدہ:

ان احادیث کثیرہ وافرہ شہیرہ متواترہ میں صرف گیارہ حدیثیں وہ ہیں جن میں فقط نبوت کا انہیں الفاظ موجودہ قرآن عظیم سے ذکر ہے جن میں آج کل کے بعض ضُلّال قاسمانِ کفر وضلال نے تحریف معنوی کی اور معاذاﷲ حضور کے بعد اور نبوتوں کی نیو جمانے کو خاتمیت بمعنی نبوت بالذّات یعنی معنی خاتم النبیین صرف اس قدر ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نبی بالذّات ہیں اور انبیاء نبی بالعرض، باقی زمانے میں تمام انبیاء کے بعد ہونا حضور کے بعد اور کسی کو نبوت ملنی ممتنع ہونا یہ معنی ختم نبوت نہیں اور صاف لکھ دیا کہ حضور کے بعد بھی کسی کو نبوت مل جائے تو ختم نبوت کے اصلاً منافی نہیں اس کے رسالہ ضلالت مقالہ کا خلاصہ عبارت یہ ہے:

قاسم نانوتوی کا عقیدہ:

عوام کے خیال میں تو رسول اﷲ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن کہ تقدّم یا تاخّر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولٰکن رسول اﷲ وخاتم النبیین فرمانا کیونکر صحیح ہوسکتا بلکہ موصوف بالعرض کا قصّہ موصوف بالذات پر ختم ہو جاتا ہے، اسی طور پر رسول اﷲ ﷺ کی خاتمیت کو تصور فرمائیے آپ موصوف بوصف نبوتبالذّات ہیں اور نبیموصوف بالعرض ایں معنی جو میں نے عرض کیا آپ کا خاتم ہونا انبیائے گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے اھ ملتقطاً 182

مسلمانو! دیکھا اس ملعون ناپاک شیطانی قول نے ختم نبوت کی کیسی جڑ کاٹ دی، خاتمیت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ کہ وہ تاویل گھڑی کہ خاتمیت خود ہی ختم کر دی صاف لکھ دیا کہ اگر حضور خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے میں بلکہ حضور کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہو تو ختم نبوت کے کچھ منافی نہیں اﷲ اﷲ جس کفر ملعون کے موجد کو خود قرآن عظیم کا وخاتم النبیین فرمانا نافع نہ ہوا کما قال تعالیٰ (جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:

وننزّل من القراٰن ما ھو شفاء ورحمة للمؤمنین ولا یزید الظّٰلمین الا خسارا 183
اتارتے ہیں ہم اس قرآن سے وہ چیز کہ مسلمانوں کیلئے شفاء ورحمت ہے اور ظالموں کو اس سے کچھ نہیں بڑھتا سوا زیاں کے.

اسے احادیث میں خاتم النبیین فرمانا کیا کام دے سکتا ہے فبای حدیث بعدہ یومنون184 قرآن کے بعد اور کون سی حدیث پر ایمان لائیں گے۔

صحابہ کرام اور ختم نبوت:

فقیر غفرلہ المولی القدیر نے ان احادیث کثیرہ میں صرف گیارہ حدیثیں ایسی لکھیں جن میں تنہا ختم نبوت کا ذکر ہے باقی نوے ۹۰ احادیث اور اکثر تذییلات، ان پر علاوہ سو ۱۰۰ سے زائد حدیثیں وہی جمع کیں کہ بالتصریح حضور کا اسی معنی پر خاتم ہونا بتا رہی ہیں جسے وہ گمراہ ضال عوام کا خیال جانتا ہے اور اس میں نبی ﷺ کے لئے کوئی تعریف نہیں مانتا، صحابہ کرام وتابعین عظّام کے ارشادات کہ تذییلوں میں گزرے، مثلاً:

۱۔ امیر المؤمنین عمر sym-5نے عرض کی کہ اﷲ تعالیٰ نے حضور کو سب انبیاء کے بعد بھیجا۔

۲۔ انس sym-5کا قول تمہارے نبی آخر الانبیاء ہیں۔

۳۔ عبداﷲ بن ابی اوفیٰ sym-8کا ارشاد کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔

۴۔ امام باقر sym-5کا قول کہ وہ سب انبیاء کے بعد بھیجے گئے۔

انہیں تو یہ گمراہ کب سنے گا کہ وہ اسی وسوسۃ الخناس میں صاف یہ خود بھی بتایا گیا ہے کہ وہ سلف صالح کے خلاف چلا ہے اور اسکا عذر یوں پیش کیا کہ: ’’اگر بوجہ کم التفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تک نہ پہنچا تو ان کی شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفل ناداں نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی تو کیا وہ عظیم الشان ہو گیا۔‘‘

مگر آنکھیں کھول کر خود محمد رسول اﷲ خاتم النبیین ﷺ کی متواتر حدیثیں دیکھئے کہ:

۱۔ میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔

۲۔ میں سب انبیاء میں آخر نبی ہوں۔

۳۔ میں تمام انبیاء کے بعد آیا۔

۴۔ ہمیں پچھلے ہیں۔

۵۔ میں سب پیغمبروں کے بعد بھیجا گیا۔

۶۔ قصر نبوت میں جو ایک اینٹ کی جگہ تھی مجھ سے کامل کی گئی۔

۷۔ میں آخر الانبیاء ہوں۔

۸۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

۹۔ رسالت ونبوت منقطع ہوگئی اب نہ کوئی رسول ہوگا نہ نبی۔

۱۰۔ نبوت میں سے اب کچھ نہ رہا سوا اچھے خواب کے۔

۱۱۔ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔

۱۲۔ میرے بعد دجّال کذّاب ادعائے نبوت کریں گے۔

۱۳۔ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

۱۴۔ نہ میری امت کے بعد کوئی امت۔

ادھر علمائے کتبِ سابقہ(عہ) اﷲ ورسل جل جلالہ وﷺ کے ارشادات سن سن کر شہادات ادا کریں گے کہ:

حاشیہ

(عہ) نیز تذییلات میں مقوقس کی دو حدیثیں گزریں کہ ایک نبی باقی تھے وہ عرب میں ظاہر ہوئے، ہرقل کی دو حدیثیں کہ یہ خانہ آخر البیوت تھا، عبداﷲ بن سلام کی حدیث کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوئے، ایک حبر کا قول کہ وہ امت آخرہ کے نبی ہیں بلکہ جبریل sym-9کی عرض کہ حضور سب پیغمبروں سے زمانے میں متاخر ہیں۔ (م)

حاشیہ ختم شد

۱۔ احمد ﷺ خاتم النبیین ہوں گے ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔

۲۔ انکے سوا کوئی نبی باقی نہیں۔

۳۔ وہ آخر الانبیاء ہیں۔

ادھر ملائکہ وانبیاء sym-3کی صدائیں آرہی ہیں کہ:

۴۔ وہ پسین پیغمبراں ہیں۔

۵۔ وہ آخر مرسلان ہیں۔

خود حضرت عزت عزت عزتہ سے ارشادات جانفزا ودلنواز آرہے ہیں کہ:

۶۔ محمد ہی اوّل وآخر ہے۔

۷۔ اس کی امت مرتبے میں سب سے اگلی اور زمانے میں سب سے پچھلی۔

۸۔ وہ سب انبیاء کے پیچھے آیا۔

۹۔ اے محبوب! میں نے تجھے آخر النبیین کیا۔

۱۰۔ اے محبوب! میں نے تجھے سب انبیاء سے پہلے بنایا اور سب کے بعد بھیجا۔

۱۱۔ محمد آخر الانبیاء ہے ﷺ۔

مگر یہ ضال مضل محرف قرآن مغیر ایمان ہے کہ نہ ملائکہ کی سنے نہ انبیاء کی نہ مصطفیٰ کی مانے نہ ان کے خدا کی۔ سب کی طرف سے ایک کان گونگا ایک بہرا، ایک دیدہ اندھا ایک پھوٹا، اپنی ہی ہانک لگائے جاتا ہے کہ یہ سب نافہمی کے اوہام، خیالاتِ عوام ہیں، آخر الانبیاء ہونے میں فضیلت ہی کیا ہے انا ﷲ وانا الیہ رجعون کذٰلک یطبع اﷲ علٰی کل قلب متکبر جبار[foot ربّنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انّک انت الوھاب186

اﷲ یونہی مہر کر دیتا ہے متکبر سرکش کے دل پر۔ اے ہمارے رب! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشک تو ہی بڑا دینے والا۔

ہاں ان نوے ۹۰ حدیثوں میں تین حدیثیں صرف بلفظ خاتمیت بھی ہیں، دو حدیث سید عالم ﷺ کہ اے چچا! جس طرح اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر نبوت ختم کی تم پر ہجرت کو ختم فرمائے گا، جیسے میں خاتم النبیین ہوں تم خاتم المہاجرین ہو گے۔ شاید وہ گمراہ یہاں بھی کہہ دے کہ تمام مہاجرین کرام مہاجر بالعرض تھے حضرت عباسمہاجر بالذات ہوئے۔ ایک اور حدیث الٰہی جل وعلا کہ میں ان کی کتاب پر کتابوں کو ختم کرونگا اور ان کے دین وشریعت پر ادیان شرائع کو۔

او گمراہ! اب یہاں بھی کہہ دے کہ اور دین دین بالعرضتھے یہ دین دین بالذات ہے توریت وانجیل وزبور اﷲ تعالیٰ کے کلام بالعرض تھے قرآن کلام بالذات ہے مگر ہے یہ کہ: من لم یجعل اﷲ لہ نورا فما لہ من نور[foot نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ونعوذ بہ من الحور بعد الکور والکفر بعد الایمان والضلال بعد الھدی ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالیٰ علی سیدنا ومولانا محمد اٰخر المرسلین وخاتم النبیین واٰلہ و صحبہ اجمعین، والحمد ﷲ رب العٰلمین] جس کے لئے اﷲ تعالیٰ نور نہ بنائے تو اس کے لئے کوئی نور نہیں، ہم اﷲ تعالیٰ سے معافی اور عافیت کے طلبگار ہیں، اور ہم سنورنے کے بعد بگڑنے اور ایمان کے بعد کفر اور ہدایت کے بعد گمراہی سے اس کی پناہ کے طالب ہیں، حرکت اور طاقت نہیں مگر صرف اﷲ تعالیٰ سے جو بلند وعظیم ہے، اﷲ تعالیٰ کی صلواتیں ہمارے آقا ومولیٰ محمد ﷺ پر جو رسولوں کے آخری اور نبیوں کے آخری ہیں اور آپ کی سب آل واصحاب پر، والحمد ﷲ رب العالمین ۔ (ت)

دیوبندی اور شیعہ عقائد میں مماثلت:

الحمدﷲ کہ بیان اپنے منتہیٰ کو پہنچا اور حق کا وضوح ذروہ اعلیٰ کو۔ احادیث متواترہ سے اصل مقصد یعنی حضور اقدس ﷺ کا خاتم النبیین اور اہلبیت کرام کا نبوت ورسالت سے بے علاقہ ہونا تو بروجہ تواتر قطعی خود ہی روشن وآشکارا ہوا اور اس کے ساتھ طائفہ تالفہ وہابیہ قاسمیہ کو خاتم النبیین کو بہ معنی آخر النبیین نہ ماننا، اور حضور اقدس ﷺ کے بعد اور نبی ہونے سے ختم نبوت میں نقصان نہ جاننا اس کے کفر خفی ونفاق جلی کا بھی بفضلہٖ تعالیٰ خوب اظہار ہوا اور ساتھ لگے رافضیوں کے چھوٹے بھائی حضرات تفضیلیہ کی بھی شامت آئی، اسد الغالب کی بارگاہ سے اسی ۸۰ کوڑوں کی سزا پائی، ان چھوٹے مبتدعوں کا رد یہاں محض تبعاً واستطراداً مذکور ورنہ ان کے ابطال مشرب ضلال سے قرآن عظیم واحادیث مرفوعہ واقوال اہلبیت وصحابہ وارشاداتِ امیر المؤمنین علی مرتضیٰ واولیائے کرام وعلمائے اعلام ودلائل شرعیہ اصلیہ وفرعیہ کے دفتر معمور جس کی تفصیل جلیل وتحقیق جزیل فقیر غفر اﷲ تعالیٰ لہ کی کتاب مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین ۱۲۹۷ھ میں مسطور ہے۔

منکرانِ ختم نبوت پر علمائے اسلام کی گرفت:

اب بتوفیقہ تعالیٰ تکفیر منکرانِ ختم نبوت میں بعض نصوص ائمہ کرام لکھ کر بقیہ سوال کی طرف عنان گردانی منظور۔

علامہ تورپشتی:

(نص ۱): امام علامہ شہاب الدین فضل اﷲ بن حسین تورپشتی حنفی معتمد فی المعتقد میں فرماتے ہیں:

بحمد اﷲ ایں مسئلہ در اسلامیان روشن ترازان ست کہ آنرا بکشف وبیان حاجت نہ افتداما ایں مقدار از قرآن از ترس آں یاد کردیم کہ مبادا زندیقے جاہلے را در شبہتے اندازد وبسیار باشد کہ ظاہر نیار ند کردن وبدیں طریقہا پائے درنہند کہ خدائے تعالیٰ برہمہ چیز قادرست کسے قدرت اورا منکر نیست اما چوں خدائے تعالیٰ از چیزے خبر دہد کہ چنیں خواہد بودن یا نخواہد بودن جزچناں نبا شد کہ خدائے تعالیٰ ازاں خبر دہد وخدائے تعالیٰ خبر داد کہ بعد از وے نبی دیگر نباشد ومنکر ایں مسئلہ کسے تواند بود کہ اصلا در نبوت او معتقد نبا شد کہ اگر برسالت او معترف بودے ویرا در ہرچہ ازاں خبر دادے صادق دانستے وبہماں حجت ہاکہ از طریق تواتر رسالت او پیش مابداں درست شدہ است ایں نیز درست شد کہ وے باز پسیں پیغمبران ست در زمان او وتاقیامت بعد ازوے ہیچ نبی نبا شد و ہر کہ دریں بہ شک ست درآں نیز بہ شک ست وآنکس کہ گوید کہ بعد از وے نبی دیگر بود یا ہست باخوامد بود وآنکس کہ گوید کہ امکان دارد کہ باشد کافر ست اینست شرط درستی ایمان بخاتم انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ۔ (معتمد فی المعتقد (فارسی))
بحمد اﷲ تعالیٰ یہ مسئلہ مسلمانوں میں روشن تر ہے کہ اسے بیان ووضاحت کی حاجت کیا ہے لیکن قرآن سے کچھ اس لئے بیان کر رہے ہیں کہ کسی زندیق کے لئے کسی جاہل کو شبہ میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ رہے بسا اوقات کھلی بات کے بجائے یوں فریب دیتے ہیں کہ اﷲ ہر چیز پر قادر ہے کوئی اس کی قدرت کا انکار نہیں کر سکتا لیکن جب اﷲ تعالیٰ کسی چیز کے متعلق خبر دے دے کہ ایسے ہوگی یا نہ ہوگی، تو اس کا خلاف نہیں ہوسکتا کیونکہ اﷲ تعالیٰ اسی سے خبر دیتا ہے اور اﷲ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کے بعد دوسرا نبی نہ ہوگا، اس بات کا منکر وہی ہوسکتا ہے جو سرے سے نبوت کا منکر ہوگا جو شخص آپ کی رسالت کا معترف ہوگا وہ آپ ﷺ کی بیان کردہ ہر خبر کو سچ جانے گا جن دلائل سے آپ کی رسالت کا ثبوت بطریق تواتر ہمارے لئے درست ہے اسی طرح یہ بھی درست ثابت ہے کہ تمام انبیاء sym-3کے بعد آپ کے زمانہ میں اور قیامت تک آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا جو آپ کی اس بات میں شک کرے گا وہ آپ کی رسالت میں شک کرے گا، جو شخص کہے آپ ﷺ کے بعد دوسرا نبی تھا یا ہے یا ہوگا اور جو شخص کہے کسی نبی کے آنے کا امکان ہے وہ کافر ہے یہی خاتم الانبیاء محمد ﷺ پر صحیح ایمان کی شرط ہے۔ (ت)

امام ابن حجر مکی:

(نص ۲، ۳): امام ابن حجر مکی شافعی خیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان میں فرماتے ہیں:

تنبأ فی زمنهsym-5 رجل قال امھلونی حتی اتٰی بعلامة فقال من طلب منه علامة کفر لانه بطلبه ذٰلک مکذب لقول النبی ﷺ لا نبی بعدي188
امام اعظم sym-4کے زمانے میں ایک مدعی نبوت نے کہا مجھے مہلت دو کہ کوئی نشانی دکھاؤں، امام ہمام نے فرمایا جو اس سے نشانی مانگے گا کافر ہو جائے گا کہ وہ اس مانگنے کے سبب مصطفیٰ ﷺ کے ارشاد قطعی ومتواتر ضرور دینی کی تکذیب کرتا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

فتاویٰ ہندیہ (فتاویٰ عالمگیریہ فقیر غفر لہ):

(نص ۴ تا ۷): فتاویٰ خلاصہ وفصول عمادیہ وجامع الفصولین وفتاویٰ ہندیہ وغیرہا میں ہیں:

واللفظ للعمادي قال قال انا رسول اﷲ او قال بالفارسیة من پیغمبرم یرید به من پیغام می برم یکفر ولو انه حین قال ھذہ المقالة طلب غیرہ منه المعجزة قیل یکفر الطالب والمتأخرون من المشائخ قالوا ان کان غرض الطالب تعجیزہ وافتضاحه لا یکفر189
یعنی اگر کوئی شخص کہے میں اﷲ کا رسول ہوں یا فارسی میں کہے میں پیغمبر ہوں کافر ہو جائے گا اگرچہ مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں، اور اگر اس کہنے والے سے کوئی معجزہ مانگے تو کہا گیا یہ بھی مطلقًا کافر ہے، اور مشائخ متأخرین نے فرمایا اگر اسے عاجز ورسوا کرنے کی غرض سے معجزہ طلب کیا تو کافر نہ ہوگا ورنہ ختم نبوت میں شک لانے کے سبب یہ بھی کافر ہو جائے گا۔

اعلام بقواطع الاسلام:

(نص ۸): اعلام بقواطع الاسلام میں ہے:

واضح تکفیر مدعی النبوة و یظھر كفر من طلب منه معجزة لانه بطلبه لھا منه مجوز لصدقه مع استحالته المعلومة من الدین بالضرورة نعم ان اراد بذٰلک تسفیھه وبیان كذبه فلا كفر190
مدعی نبوت کی تکفیر تو خود ہی روشن ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے اس کا بھی کفر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مانگنے میں اس مدعی کا صدق محتمل مان رہا ہے حالانکہ دین متین سے بالضرورۃ معلوم ہے کہ نبی ﷺ کے بعد دوسرا نبی ممکن نہیں، ہاں اگر اس طلب سے اسے احمق بنانا اس کا جھوٹ ظاہر کرنا مقصود ہو تو کفر نہیں۔

(نص ۹، ۱۰): اسی (اعلام بقواطع الاسلام) میں ہے:

ومن ذٰلک (اي المکفرات) ایضا تکذیب نبی او نسبة تعمد كذب الیه او محاربته اوسبه او الاستخفاف ومثل ذٰلک کما قال الحلیمی ما لو تمنی فی زمن نبینا او بعدہ ان لو كان نبیا فیکفر فی جمیع ذٰلک والظاھر انه لا فرق بین تمنی ذٰلک باللسان او القلب اھ مختصراً191
انہیں باتوں میں جو معاذاﷲ آدمی کو کافر کر دیتی ہیں کسی نبی کو جھٹلانا یا اس کی طرف قصداً جھوٹ بولنے کی نسبت کرنا یا نبی سے لڑنا یا اسے بُرا کہنا اس کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہونا اور بتصریح امام حلیمی انہیں کفریات کی مثل ہے ہمارے نبی ﷺ کے زمانے میں یا حضور کے بعد کسی شخص کا تمنا کرنا کہ کسی طرح سے نبی ہو جاتا، ان صورتوں میں کافر ہو جائے گا اور ظاہر یہ ہے کہ اس میں کچھ فرق نہیں وہ تمنا زبان سے یا صرف دل میں کرے اھ مختصراً۔

سبحان اﷲ ! جب مجرد تمنا پر کافر ہوتا ہے تو کسی کی نسبت ادعائے نبوت کس درجہ کا کفر خبیث ہوگا،والعیاذ باﷲ رب العٰلمین

(نص ۱۱ تا ۱۴):تیمیۃ الدہر پھر ہندیہ میں بعض ائمہ حنفیہ سے اور اشباہ والنظائر وغیرہا میں ہے:

واللفظ لھا اذا لم یعرف ان محمدا ﷺ اٰخر الانبیاء فلیس بمسلم لانه من الضروریات192
جب نہ پہچانے کہ نبی ﷺ تمام انبیاء sym-3سے پچھلے نبی ہیں تو مسلمان نہیں کہ یہ ضروریات دین سے ہے۔

طائفہ قاسمیہ:

مولیٰ سبحَانہ وتعالیٰ ہزاراں ہزار جزا ہائے خیر وکرم ورضوان اتم کرامت فرمائے ہمارے علمائے کرام کو ان سے کس نے کہہ دیا تھا کہ صدہا برس بعد وہابیہ میں ایک طائفہ حائفہ قاسمیہ ہونے والا ہے کہ اگرچہ براہ نفاق وفریب کہ عوام مسلمین بھڑک نہ جائیں بظاہر لفظ خاتم النبیین کا اقرار کرے گا مگر اس کے بہ معنی آخر الانبیاء ہونے سے صاف انکار کرے گا اس معنی کو خیال عوام وناقابل مدح قرار دے گا، اسی دن کے لئے ان اجلہ کرام نے لفظ اشہر واعرف ومکتوب فی المصحف اعنی خاتم النبیین کے عوض مسئلہ بلفظ آخر الانبیاء تحریر فرمایا کہ جو حضور کو سب سے پچھلا نبی نہ مانے مسلمان نہیں یعنی ختم نبوت اسی معنی پر داخل ضروریاتِ دین ہے یہی مراد رب العالمین ہے، اسی ضروری دین وارشاد الٰہ العالمین کو یہ گمراہمعاذ اﷲ عامی خیال بتاتے ہیں۔ مہمل ومختل ٹھہراتے ہیں ۔ قاتلھم اﷲ انّٰی یؤفکون18(اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ ت) بحمد اﷲ یہ کرامت علمائے کرام امت ہےفجزاھم اﷲ المثوبات الفاخرۃ ونفعنا ببرکاتھم فی الدنیا والاٰخرۃ اٰمین (اﷲ تعالیٰ ان کو قابل فخر ثواب کی جزا دے اور ہمیں ان کی برکات سے دنیا وآخرت میں نفع عطا فرمائے۔ آمین۔ ت)

فتاویٰ تاتارخانیہ:

تاتارخانیہ پھر عالمگیریہ میں ہے:

رجل قال لاخر من فرشته توام فی موضع كذا اعینک علی امرک فقد قیل انه لا یکفر وكذا اذا قال مطلقا انا ملک بخلاف ما اذا قال انا نبی193
یعنی ایک نے دوسرے سے کہا میں تیرا فرشتہ ہوں فلاں جگہ تیرے کام میں مدد کروں گا اس پر تو بعض نے بیشک کہا کافر نہ ہوگا یوں ہی اگر مطلقاً کہا میں فرشتہ ہوں بخلاف دعویٰ نبوت کہ بالاجماع کفر ہے۔ یہ حکم عام ہے کہ مدعی زمانہ اقدس میں ہو مثل ابن صیاد واسود خواہ بعد کما تقدم وسیاتی (جیسا کہ گزرا اور آگے آئے گا۔ ت)

شفاء قاضی عیاض:

شفاء شریف امام قاضی عیاض مالکی اور اس کی شرح نسیم الریاض للعلامۃ الشہاب الخفاجی میں ہے:

(وكذٰلک یکفر من ادعی نبوة احد مع نبینا ﷺ) اي فی زمنه كمسیلمة الکذاب والاسود العنسي (او) ادعی (نبوة احد بعدہ) فانه خاتم النبیین بنص القراٰن والحدیث فھذا تکذیب اﷲ ورسوله ﷺ (كالعیسویة) وھم طائفة(من الیھود) نسبوا لعیسٰی بن اسحٰق الیهودي ادعی النبوة فی زمن مروان الحمار وتبعه كثیر من الیهود وكان من مذھبه تجویز حدوث النبوة بعد نبینا ﷺ (وكاكثر الرافضة القائلین بمشاركة علی فی الرسالة للنبی ﷺ وبعدہ كالبزیغیةوالبیانیة منھم) وھم اكفر من النصاري واشد ضررا منھم لانھم بحسب الصورة مسلمون ویلتبس امرھم علی العوام (فھٰؤلاء) کلھم (كفار مکذبون للنبی ﷺ لانهﷺ اخبر انه خاتم النبیین وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة علٰی ان ھذا الکلام علی ظاھرہ وان مفھومه المراد منه دون تاویل ولا تخصیص فلا شک فی كفر ھٰؤلاء الطوائف كلھا قطعًا اجماعًا وسمعًا) اھ مختصراً194
یعنی اسی طرح وہ بھی کفر ہے جو ہمارے نبی ﷺ کے زمانے میں کسی کی نبوت کا ادعا کرے جیسے مسیلمہ کذاب واسود عنسی یا حضور کے بعد کسی کی نبوت مانے اس لئے کہ قرآن وحدیث میں حضور کے خاتم النبیین ہونے کی تصریح ہے تو یہ شحص اﷲ ورسول کو جھٹلاتا ہے جل جلالہ وﷺ، جیسے یہود کا ایک طائفہ عیسویہ کہ عیسیٰ بن اسحٰق یہودی کی طرف منسوب ہے، اس نے مروان الحمار کے زمانے میں ادعائے نبوت کیا تھا اور بہت یہود اس کے تابع ہوگئے، اس کا مذہب تھا کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد نئی نبوت ممکن ہے اور جیسے بہت رافضی کہ مولا علی کو رسالت میں نبی ﷺ کا شریک اور حضور کے بعد انہیں نبی کہتے ہیں اور جیسے رافضیوں کے دو فرقے بزیغیہ وبیانیہ، ان لوگوں کا کفر نصاریٰ سے بڑھ کر ہے اور ان سے زائد ان کا ضرر کہ یہ صورت میں مسلمان ہیں ان سے عوام دھوکے میں پڑ جاتے ہیں یہ سب کے سب کفار ہیں نبی ﷺ کی تکذیب کرنے والے اس لئے کہ حضور اقدس ﷺ نے خبر دی کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور خبر دی کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں اور اپنے رب عزوجل سے خبر دی کہ وہ حضور کو خاتم النبیین اور تمام جہان کی طرف رسول بتاتا ہے اور امت نے اجماع کیا کہ یہ آیات واحادیث اپنے معنی ظاہر پر ہیں جو کچھ ان سے مفہوم ہوتا ہے خدا اور رسول کی یہی مراد ہے نہ ان میں کچھ تاویل ہے نہ تخصیص، تو کچھ شک نہیں کہ یہ سب طائفے بحکم اجماع امت وبحکم حدیث وآیت بالیقین کافر ہیں۔

منکرانِ ختم نبوت کے فرقے:

الحمد ﷲ اس کلام رشید نے ولید پلید وروافض بلید وقاسمیہ جدید وامیریہ(عہ) طرید کسی مردود وعنید کا تسمہ نہ لگا وﷲ الحجۃ السامیہ ، یہ فقرے آب زر سے لکھنے کے ہیں کہ ان خبیثوں کا کفر یہود ونصاریٰ سے بدتر اور کھلے کافروں سے انکار زائد ضرر،والعیاذ باﷲ العزیز الاکبر

حاشیہ

(عہ) اسی طرح طائفہ مرزائیہ متبعان غلام احمد قادیانی کہ سب سے تازہ ہے یہ بھی مرزا کو مرسل من اﷲ کہتا ہے اور خود مرزا اپنے اوپر وحی اترنے کا مدعی ہے اپنے کلام کو کلام الٰہی ومنزل من اﷲبتاتا ہے اور اس کے رسالہ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ سے منقول کہ اس میں صراحۃً اپنے آپ کو نبی بلکہ بہت انبیاء سے افضل لکھا ہے اس بارے میں ابھی چند روز ہوئے امرتسر سے سوال آیا تھا جس پر حضرت مصنف علامہ مدظلہ نے مدلل ومفصل فتویٰ تحریر فرمایا جس کا حسن بیان دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے جس کا نامالسوء والعقاب ہے۔ (وﷲ الحمد، عفی عنہ مصحح)

حاشیہ ختم شد

مجمع الانہر:

وجیز امام کردری ومجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:

اما الایمان بسیدنا محمد ﷺ فیجب بانه رسولنا فی الحال وخاتم الانبیاء والرسل فاذا اٰمن بانه رسول ولم یؤمن بانه خاتم الانبیاء لا یکون مؤمنا195
ہمارے مولا ہمارے سردار محمد ﷺ پر یوں ایمان لانا فرض ہے کہ حضور اب بھی ہمارے رسول ہیں (نہ یہ کہ معاذ اﷲ بعد وصال شریف حضور رسول نہ رہے یا حضور کے بعد اب اور کوئی ہمارا رسول ہو گیا) اور ایمان لانا فرض ہے کہ حضور تمام انبیاء ومرسلین کے خاتم ہیں، اگر حضور کے رسول ہونے پر ایمان لایا اور خاتم الانبیاء ہونے پر ایمان نہ لایا تو مسلمان نہ ہوگا۔

یہاں رسالت پر ایمان مجازاً بنظر صورت بحسب ادعائے قائل بولا گیا ورنہ جو ختم نبوت پر ایمان نہ لایا قطعاً حضور کی رسالت ہی پر ایمان نہ لایا کہ رسول جانتا تو حضور جو کچھ اپنے رب جل جلالہ کے پاس سے لائے سب پر ایمان لاتا۔ کما تقدم فی کلام الامام التورپشتی رحمہ اﷲ تعالیٰ (جیسا کہ امام تورپشتی کے کلام میں پہلے گزر چکا ہے۔ ت)

علامہ یوسف اردبیلی:

امام علامہ یوسف اردبیلی شافعی کتاب الانوار میں فرماتے ہیں:

من ادعی النبوة فی زماننا او صدق مدعیا لھا او اعتقد نبیا فی زمانه ﷺ او قبله من لم یکن نبیا كفر اھ ملخصًا196
جو ہمارے زمانے میں نبوت کا مدعی ہو یا دوسرے کسی مدعی کی تصدیق کرے یا حضور کے زمانے میں کسی کو نبی مانے یا حضور سے پہلے کسی غیر کو نبی جانے کافر ہو جائے اھ ملخصاً۔

امام غزالی:

امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالیکتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں:

ان الامت فھمت من ھذا اللفظ انه افھم عدم نبی بعدہ ابدا وعدم رسول بعدہ ابدا وانه لیس فیه تاویل ولا تخصیص ومن اوله بتخصیص فکلامه من انواع الھذیان لا یمنع الحکم بتکفیرہ لانه مکذب لھذا النص الذي اجمعت الامة علی انه غیر مؤول ولا مخصوص197
یعنی تمام امت محمدیہ علی صاحبہا وعلیہا الصلوٰۃ والتحیۃ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ وہ بتاتا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہوگا حضور کے بعد کبھی کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا کہ اس لفظ میں نہ کوئی تاویل ہے کہ آخر النبیین کے سوا خاتم النبیین کے کچھ اور معنی گھڑئیے نہ اس عموم میں کچھ تخصیص ہے کہ حضور کے ختم نبوت کو کسی زمانے یا زمین کے کسی طبقے سے خاص کیجئے اور جو اس میں تاویل وتخصیص کو راہ دے اس کی بات جنون یا نشے یا سرسام میں بہکنے برّانے بکنے کے قبیل سے ہے اسے کافر کہنے سے کچھ ممانعت نہیں کہ وہ آیت قرآن کی تکذیب کر رہا ہے جس میں اصلاً تاویل وتخصیص نہ ہونے پر امتِ مرحومہ کا اجماع ہو چکا ہے۔

بحمد اﷲ یہ عبارت بھی مثل عبارت شفاء ونسیم تمام طوائف جدیدہ قاسمیہ وامیریہ خذلہم اﷲ تعالیٰ کے ہذیانات کا رد جلیل وجلی ہے آٹھ آٹھ سو برس بعد آنے والے کافروں کا رد فرما گئے، یہ ائمہ دین کی کرامت منجلی ہے۔

غنیۃ الطالبین:

غنیۃ الطالبین شریف میں عقائد ملعونہ غلاۃ روافض کے بیان میں فرمایا:

ادعت ایضا ان علیا نبی (الی قوله sym-5) لعنھم اﷲ وملٰئکته وسائر خلقه الٰی یوم الدین وقلع آثارھم واباد خضراءھم ولا جعل منھم فی الارض دیارا فانھم بالغوا فی غلوھم ومرضوا علی الکفر وترکوا الاسلام وفارقوا الایمان وجحدوا الا له والرسل والتنزیل فنعوذ باﷲ ممن ذھب الٰی ھٰذہ المقالة198
یعنی غالی رافضیوں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ مولا علی نبی ہیں اﷲ اور اس کے فرشتے اور تمام مخلوق قیامت تک ان رافضیوں پر لعنت کریں اﷲ ان کے درخت کی جڑ اکھاڑ کر پھینک دے تباہ کر دے زمین پر ان میں کوئی بسنے والا نہ رکھے کہ انہوں نے اپنا غلو حد سے گزار دیا کفر پر جم گئے اسلام چھوڑ بیٹھے ایمان سے جدا ہوئے اﷲ ورسول وقرآن سب کے منکر ہوگئے، ہم اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں اس سے جو ایسا مذہب رکھے۔

الحمد ﷲ ، اﷲ عزوجل نے یہ دعائے کریم مستجاب فرمائی غرابیہ وغیرہا ملعون طوائف کا نشان نہ رہا اب جو اس دار الفتن ہند پر محن کی زمین میں فتنوں کی بوچھاڑ کی گندہ بہار میں دو ایک حشرات الارض کہیں کہیں تازہ نکل پڑے وہ بھیبحمد اﷲ تعالیٰ جلد جلد اپنے مقر سقر کو پہنچ گئے ایک آدھ کہیں باقی ہو تو وہ بھی قہر الٰہی سےالم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاٰخرین کذٰلک نفعل بالمجرمین199 (کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہ فرمایا پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ ت) کا منتظر ہے۔

تحفہ شرح منہاج:

تحفہ شرح منہاج میں ہے:

او كذب رسولا او نبیا او نقصه باي منقص كان صغر اسمه مریدا تحقیرہ او جوز نبوة احد بعد وجود نبینا ﷺ وعیسٰی علیه الصلوٰة والسلام نبی قبل فلا یرد200
یعنی کافر ہے جو کسی نبی کی تکذیب کرے یا کسی طرح اس کی شان گھٹائے، مثلاً بہ نیت توہین اس کا نام چھوٹا کر کے لے یا ہمارے نبی ﷺ کی تشریف آوری کے بعد کسی کی نبوت ممکن مانے اور عیسیٰ sym-9تو حضور کی تشریف آوری سے پہلے نبی ہو چکے ان سے اعتراض وارد نہ ہوگا۔

شرح فرائد:

عارف باﷲ علامہ عبدالغنی نابلسی شرح الفرائد میں فرماتے ہیں:

فساد مذھبھم غنی عن البیان بشھادة العیان، کیف وھو یؤدي الٰی تجویز مع نبینا ﷺ او بعدہ وذٰلک یستلزم تکذیب القراٰن اذ قد نص علی انه خاتم النبیین واٰخر المرسلین، وفی السنة انا العاقب لا نبی بعدي، واجمعت الامة علی ابقاء ھذا الکلام علٰی ظاھرہ وھٰذا احدي المسائل المشھورة التی کفرنا بھا الفلاسفة لعنھم اﷲ تعالیٰ201
فلاسفہ نے کہا تھا کہ نبوت کسب سے مل سکتی ہے آدمی ریاضتیں مجاہدے کرنے سے پا سکتا ہے اس کے رد میں فرماتے ہیں کہ ان کے مذہب کا بطلان محتاجِ بیان نہیں آنکھوں دیکھا باطل ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس کے نتیجے میں ہمارے نبی ﷺ کے زمانے میں یا حضور کے بعد کسی نبی کا امکان نکلے گا اور یہ تکذیب قرآن کو مستلزم ہے قرآن عظیم نص فرما چکا کہ حضور خاتم النبیین وآخر المرسلین ہیں اور حدیث میں ہے میں پچھلا نبی ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اسی معنی پر ہے جو اس کے ظاہر سے سمجھ میں آتے ہیں، یہ ان مشہور مسئلوں میں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے فلاسفہ کو کافر کہا اﷲ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔
نقل ھذین خاتم المحققین معین الحق المبین السیف المسلول مولانا فضل الرسول قدس سرہ فی المعتقد المنتقد

یہ مذکورہ دونوں عبارتیں خاتم المحققین، حق مبین کے معاون ننگی تلوار مولانا فضل رسول قدس سرہ نے اپنی کتاب المعتقد المنتقد میں نقل کی ہیں۔

مواہب شریف:

مواہب شریف آخر نوع ثالث، مقصد سادس میں امام ابن حبان صاحب صحیح مسمی بالتقاسیم والانواع سے نقل فرمایا:

من ذھب الٰی ان النبوة مکتسبة لا تنقطع او الٰی ان الولی افضل من النبی فھو زندیق الٰی آخرہ202
جو اس طرف جائے کہ نبوت کسب سے مل سکتی ہے ختم نہ ہوگی، یا کسی ولی کو کسی نبی سے افضل بتائے وہ زندیق بے دین ملحد دہریہ ہے۔

علامہ زرقانی نے اس کی دلیل میں فرمایا:

لتکذیب القراٰن وخاتم النبیین203
یہ شخص اس وجہ سے کافر ہوا کہ قرآن عظیم وختم نبوت کی تکذیب کرتا ہے۔

امام نسفی:

بحر الکلام امام نسفی پھر تفسیر روح البیان میں ہے:

صنف من الروافض قالوا بان الارض لا تخلو عن النبی والنبوة صارت میراثا لعلی واولادہ وقال اھل السنة والجماعة لا نبی بعد نبینا ﷺ قال اﷲ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین وقال النبی ﷺ لا نبی بعدي ومن قال بعد نبینا نبی یکفر لانه انکر النص وكذٰلک لو شک فیه، ببعض اختصار204
رافضیوں کا ایک طائفہ کہتا ہے زمین نبی سے خالی نہیں ہوتی اور نبوت مولا علی اور ان کی اولاد کے لئے میراث ہوگئی ہے اور اہلسنّت وجماعت نے فرمایا ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ہاں خدا کے رسول ہیں اور سب انبیاء میں پچھلے، اور حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں میرے بعد کوئی نبی نہیں، تو جو حضور کے بعد کسی کو نبی مانے کافر ہے کہ قرآن عظیم ونص صریح کا منکر ہے یوں ہی جسے ختم نبوت میں کچھ شک ہو وہ بھی کافر ہے۔

تمہید ابو شکور سالمی:

تمہید ابو شکور سالمی میں ہے:

قالت الروافض ان العالم لا یکون خالیا عن النبی قط وھذا كفر لان اﷲ تعالیٰ قال وخاتم النبیین ومن ادعی النبوة فی زماننا فانه یصیر کافرا ومن طلب منه المعجزات فانه یصیر کافرا لانه شک فی النص ویجب الاعتقاد بانه ما کان لاحد شرکة فی النبوة لمحمد ﷺ بخلاف ما قالت الروافض ان علیا كان شریکا لمحمد ﷺ فی النبوة وھذا منھم كفر205
رافضی کہتے ہیں دنیا نبی سے خالی نہ ہوگی اور یہ کفر ہے کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے وخاتم النبیین اب جو دعویٰ نبوت کرے کافر ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے وہ بھی کافر کہ اسے ارشاد الٰہی میں شک پیدا ہوا جب تو معجزہ مانگا اور اس کا اعتقاد فرض ہے کہ کوئی شخص نبوت محمد ﷺ کا شریک نہ تھا بخلاف روافض کے کہ مولیٰ علی کو حضور اقدس ﷺ کے شریک نبوت مانتے ہیں اور یہ ان کا کفر ہے۔

مولانا عبدالعلی:

بحر العلوم ملک العلماء مولانا عبدالعلی محمد شرح سلم میں فرماتے ہیں:

محمد رسول اﷲ ﷺ خاتم النبیین وابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنه افضل الاصحاب والاولیاء وھاتان القضیتان مما یطلب بالبرھان فی علم الکلام والیقین المتعلق بھما یقین ثابت ضروري باق الی الابد ولیس الحکم فیھما علی امر کلی یجوز العقل تناول ھذا الحکم لغیر ھٰذین الشخصین وانکار ھذا مکابرة وکفر206
محمد رسول اﷲ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ابوبکر sym-5تمام اولیاء سے افضل ہیں اور ان دونوں باتوں پر دلیل قطعی علم عقائد میں مذکور ہے اور ان پر یقین وہ جما ہوا ضروری یقین ہے جو ابد الآباد تک باقی رہے گا اور یہ خاتم النبیین اور افضل الانبیاء ہونا کسی امر کلی کے لئے ثابت نہیں کیا ہے کہ عقل ان دونوں ذات پاک کے سوا کسی اور کے لئے اس کا ثبوت ممکن مانے اور اس کا انکار ہٹ دھرمی اور کفر ہے۔ فیہ لف ونشر بالقلب یعنی صدیق اکبر sym-5کے افضل الاولیاء ہونے سے انکار قرآن وسنت واجماع امت کے ساتھ مکابرہ ہے اور سید عالم ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے سے انکار کفر، والعیاذ باﷲ رب العالمین۔

امام احمد قسطلانی:

امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ مقصد سابع فصل اول، پھر علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ باب اول فصل ثانی میں فرماتے ہیں:

العلم اللدنی نوعان لدنی رحمانی ولدنی شیطانی والمحک ھو الوحی ولا وحی بعد رسول اﷲ ﷺ، وامّا قصة موسٰی مع الخضر علیھما الصلٰوة والسلام فالتعلق بھا فی تجویز الاستغناء عن الوحی بالعلم اللدنی الحاد وكفر یخرج عن الاسلام موجب لا راقة الدم والفرق ان موسٰی علیه الصلوٰة والسلام لم یکن مبعوثا الی الخضر،ولم یکن الخضر مامورا بمتابعته ومحمد ﷺ الٰی جمیع الثقلین فرسالته عامةللجن والانس فی كل زمان، فمن ادعی انه مع محمد ﷺ كالخضر مع موسٰی علیھما الصلوٰةوالسلام او جوز ذٰلک لاحد من الامةفلیجدد اسلامه (لكفرہ بھٰذہ الدعوي) ولیشھد شھادة الحق (لیعود الی الاسلام) فانه مفارق لدین الاسلام بالکلیة فضلا عن ان یکون من خاصة اولیاء اﷲ تعالیٰ وانما ھو من اولیاء الشیطٰن وخلفائه ونوابه (فی الضلال والاضلال) والعلم اللدنی الرحمانی ھو ثمرة العبودیة والمتابعة لھٰذا النبی الکریم علیه ازكی الصلوٰة واتم التسلیم وبه یحصل الفھم فی الکتاب والسنة بامر یختص به صاحبه كما قال علی (امیر المؤمنین) وقد سئل (كما فی الصحیح وسنن النسائی) ھل خصکم رسول اﷲ ﷺ بشیئ دون الناس (كما تزعم الشیعة) فقال لا الا فھما یؤتیه اﷲ عبدا فی کتابه اھ مختصراً مزیدا ما بین الھلالین من شرح العلامةالزرقانی رزقنا اﷲ تعالیٰ بمنّه واٰلائه بفضل رحمته باولیائه وصل وسلم علٰی خاتم انبیائه محمد واٰله وصحبه واحبائه اٰمین207
یعنی علم لدنی دو قسم ہے رحمانی اور شیطانی، اور ان کے پہچاننے کا معیار وحی ہے کہ جو اس کے مطابق ہے رحمانی ہے اور جو اس کے خلاف ہے شیطانی ہے اور رسول اﷲ ﷺ کے بعد وحی نہیں کہ کوئی کہے میرا یہ علم وحی جدید کے مطابق ہے، رہا خضر وموسیٰ ﷦ کا قصہ (کہ خضر کے پاس وہ علم لدنی تھا جو موسیٰ sym-9کو معلوم نہ تھا، اسے یہاں دستاویز بنا کر علم لدنی کے سبب وحی کی پروا نہ رکھنا نری بے دینی وکفر ہے، اسلام سے نکال دینے والی بات ہے جس کے قائل کا قتل واجب، اور فرق یہ ہے کہ موسیٰ sym-9حضرت خضر کی طرف مبعوث نہ تھے نہ خضر کو ان کی پیروی کا حکم (کہ وہ تو خاص بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے کان النبی یبعث الٰی قومہ خاصۃ) اور محمد ﷺ تمام جن وانس (بلکہ تمام ماسوائے اﷲ) کی طرف مبعوث ہیں (وارسلت الی الخلق کافّۃ) تو حضور کی رسالت ہر زمانے میں سب جن وانس کو شامل ہے تو جو مدعی ہو کہ وہ محمد ﷺ کے ساتھ ایسے تھے جیسے موسیٰ کے ساتھ خضر، امت میں کسی کے لئے یہ مرتبہ ممکن مانے وہ نئے سرے سے مسلمان ہو کہ اس قول کے باعث کافر ہوگیا مسلمان ہونے کے لئے کلمہ شہادت پڑھے کہ وہ دین اسلام سے یک لخت جدا ہوگیا چہ جائیکہ اﷲ عزوجل کے خاص اولیاء سے ہو وہ تو شیطان کا ولی اور گمراہی وگمراہ گری میں ابلیس کا خلیفہ ونائب ہے علم لدنی رحمانی بندگی خدا وپیروی محمد ﷺ کا پھل ہے جس سے قرآن وحدیث میں ایک خاص سمجھ حاصل ہو جاتی ہے جس طرح صحیح بخاری وسنن نسائی میں ہے کہ امیر المومنین مولا علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ سے سوال ہوا کہ تم اہل بیت کو نبی ﷺ نے کوئی خاص شئے ایسی عطا فرمائی ہے جو اور لوگوں کو نہ دی جیسا کہ رافضی گمان کرتے ہیں؟ فرمایا: نہ مگر وہ سمجھو جو اﷲ عزوجل نے اپنے بندوں کو قرآن عزیز میں عطا فرمائی اھ، مختصراً ہلالین میں شرح زرقانی کی عبارت زائد لائی گئی ہے۔ اﷲ تعالیٰ اپنی رحمت وفضل، احسان ونعمت ہمیں عطا فرمائے بوسیلہ اولیاء اﷲ صلوٰۃ وسلام نازل فرمائے خاتم الانبیاء محمد ﷺ پر اور ان کی آل واصحاب سب پر۔ آمین۔ ت

سید کفریہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا:

ولید بلید خواہ کوئی پلید ختم نبوت کا ہر منکر عنید صراحۃً جاحد ہو یا تاویل کا مرید مطلقاً نفی کرے یا تخصیص بعید امیری، قاسمی، مشہدی مرید، رافضی غالی وہابی شدید، سب صریح کافر مرتد طرید علیھم لعنۃ العزیز الحمید (ان پر اﷲ عزوجل کی لعنت ہو) اور جو کافر ہو وہ قطعاً سید نہیں، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح208وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔ (ت) نہ اسے سید کہنا جائز۔

منافق کو سید نہ کہو:

رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

لا تقولوا للمنافق سید فانهان یکن سیدا فقد استخطتم ربکم عزوجل، رواہ ابو داؤد والنسائی بسند صحیح عن بریدة رضی اﷲ تعالیٰ عنه209
منافق کو سید نہ کہو کہ اگر وہ تمہارا سید ہو تو بیشک تم پر تمہارے رب عزوجل کا غضب ہو (اس کو ابو داؤد اور نسائی نے بسند صحیح حضرت بریدہ sym-5سے روایت کیا)

روایت حاکم کے لفظ یہ ہیں رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

اذا قال الرجل للمنافق یا سید فقد اغضب ربه عزوجل210
جو کسی منافق کو ’’اے سید‘‘ کہے اس نے اپنے رب کا غضب اپنے اوپر لیا۔ والعیاذ باﷲ رب العٰلمین

پھر یہی نہیں کہ یہاں صرف اطلاق لفظ سے ممانعت شرعی اور نسب سیادت کا انتقائے حکمی ہو حاشا بلکہ واقع میں کافر اس نسل طیب وطاہر سے تھا ہی نہیں اگرچہ سید بنتا اور لوگوں میں براہ غلط سید کہلاتا ہو ائمہ دین اولیائے کاملین علمائے عالمین تصریح فرماتے ہیں کہ ساداتِ کرام بحمد اﷲ تعالیٰ خباثت کفر سے محفوظ ومصئون ہیں جو واقعی سید ہے اس سے کبھی کفر واقع نہ ہوگا، قال اﷲ تعالیٰ: انّما یرید اﷲ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا211 اﷲ یہی چاہتا ہے کہ تم سے نجاست دور رکھے اے نبی کے گھر والو! اور تمہیں خوب پاک کر دے ستھرا کر کے۔

تمام فوائد اور بزار وابو یعلیٰ مسند اور طبرانی کبیر اور حاکم بافادہ تصحیح مستدرک میں حضرت عبداﷲ بن مسعود sym-8سے راوی رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

ان فاطمة احصنت فرجھا فحرمھا اﷲ وذریتھا علی النّار212
بیشک فاطمہ نے اپنی حرمت پر نگاہ رکھی تو اﷲ عزوجل نے اسے اور اس کی ساری نسل کو آگ پر حرام کر دیا۔

اہل بیت سے کوئی بھی جہنمی نہیں:

ابو القاسم بن بشران اپنے امالی میں حضرت عمران بن حصین sym-8سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

سالت ربی ان لا یدخل احدا من اھل بیتی النار فاعطانیھا213
میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میرے اہلبیت سے کسی کو دوزخ میں نہ ڈالے اس نے میری یہ مراد عطا فرمائی۔

اہل بیت عذاب سے بری ہیں:

طبرانی بسند صحیح(عہ) ہیثمی نے صواعق میں اس کا افادہ کیا جہاں انہوں نے کہا سند کے ساتھ مروی جس کے تمام راوی ثقہ ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت فاطمہ sym-7کو فرمایا تو پھر اس حدیث کا ذکر کیا۔ ۱۲ منہ (ت)) حضرت عبداﷲ بن عباس sym-8سے راوی، رسول اﷲ ﷺ نے حضرت بتول sym-7سے فرمایا: ان اﷲ تعالیٰ غیر معذبک ولا ولدک214 بیشک اﷲ تعالیٰ نہ تجھے عذاب فرمائے گا نہ تیری اولاد کو۔

حاشیہ

(عہ) افادہ الھیثمی فی الصواعق حیث قال جاء بسند رواتہ ثقات انہ ﷺ قال لفاطمۃ فذکرہ ۔ 12 منہ (م)

حاشیہ ختم شد

حضرت فاطمہ کی وجہ تسمیہ:

ابن عساکر حضرت عبداﷲ بن مسعود sym-8سے راوی، رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:

انما سمیت فاطمة لان اﷲ فطمها وذریتها عن النار یوم القیٰمة215
فاطمہ اس لئے نام ہوا کہ اﷲ عزوجل نے اسے اور اس کی نسل کو روز قیامت آگ سے محفوظ فرما دیا۔

اہل بیت آگ میں نہیں جا سکتے:

قرطبی آیہ کریمہ ولسوف یعطیک ربّک فترضٰی کی تفسیر میں حضرت ترجمان القرآن sym-8سے ناقل کہ انہوں نے فرمایا:

رضا محمد ﷺ ان لا یدخل احد من اھل بیتہ النّار216
یعنی اﷲ عزوجل نے حضور اقدس ﷺ سے راضی کر دینے کا وعدہ فرمایا اور محمد ﷺ کی رضا اس میں ہے کہ ان کے اہل بیت سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔

نار دو قسم کی ہے، نارِ تطہیر کہ مومن عاصی جس کا مستحق ہو، اور نارِ خلود کافر کے لئے ہے، اہل بیت کرام میں حضرت امیر المؤمنین مرتضیٰ وحضرت بتول زہرا وحضرت سید مجتبیٰ وحضرت شہید کربلا صلی اﷲ تعالیٰ علیٰ سیدہم وعلیہم وبارک وسلم تو بالقطع والیقین ہر قسم سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ ہیں اس پر تو اجماع قائم اور نصوص متواترہ حاکم باقی نسل کریم تا قیام قیامت کے حق میں اگر بفضلہٖ تعالیٰ مطلق دخول سے محفوظی لیجئے اور یہی ظاہر لفظ سے متبادر، اور اسی طرف کلماتِ اہل تحقیق ناظر، جب تو مراد بہت ظاہر، اور منع خلود مقصود جب بھی نفی کفر پر دلالت موجود۔

شرح المواهب للعلامة الزرقانی میں زیر حدیث مذکور: انما سمیت فاطمة ھی فاما ھی وابناھا فالمنع مطلق واما من عداھم فالممنوع عنھم نار الخلود، واما ما رواہ ابو نعیم والخطیب ان علیا الرضا بن موسٰی الکاظم ابن جعفر الصادق سئل عن حدیث ان فاطمة احصنت فقال خاص بالحسن والحسین وما نقله الاخباریون عنه من توبیخه لاخیه زید حین خرج علی المامون وقوله اغرک قولهﷺ ان فاطمة احصنت الحدیث ان ھذا لمن خرج من بطنها لا لی ولا لک فھذا من باب التواضع وعدم الاغترار بالمناقب وان کثرت كما كان الصحابة المقطوع لھم بالجنّةعلی غایة من الخوف والمراقبة والا فلفظ ذریة لا یخص بمن خرج من بطنھا فی لسان العرب ومن ذریته داؤد وسلیمٰن الاٰیةوبینھم وبینه قرون کثیرة فلا یرید ذٰلک مثل علی الرضا مع فصاحته ومعرفته لغة العرب علی ان التقلید بالطائع یبطل خصوصیة ذریتھا ومحبیھا الا ان یقال ﷲ تعذیب الطائع فالخصوصیة ان لا یعذبه اکراما لھا واﷲ اعلم، اھ مختصرا217
بیشک فاطمہ sym-8کا یہ نام ہے لیکن فاطمہ اور ان کے بیٹے تو ان پر مطلقاً جہنم کی آگ ممنوع ہے لیکن ان کے ماسوا کے لئے جہنم کا خلود ممنوع ہے۔ آپ پر اور ان پر اﷲ تعالیٰ کا سلام ہو۔ اور لیکن جو ابو نعیم اور خطیب نے روایت کیا ہے کہ علی رضا بن موسیٰ کاظم ابن جعفر الصادق سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا کہ فاطمہ نے اپنے حرم گاہ کو محفوظ رکھا تو انہوں نے جواب میں فرمایا یہ حسن اور حسین کے لئے خاص ہے اور وہ جو مورخین نے ان سے یہ نقل کیا کہ انہوں نے اپنے بھائی زید کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا جب اس نے مامون پر خروج کیا اور کہا کیا تجھے حضور ﷺ کے اس فرمان نے غرور میں مبتلا کیا ہے کہ فاطمہ نے اپنی حرم گاہ کو محفوظ رکھا ہے۔ (الحدیث) اس پر انہوں نے فرمایا یہ میرے اور تیرے لئے خاص نہیں بلکہ جو آپ sym-7 کے بطن سے پیدا ہوا ہے ان سب کے لئے ہے، تو یہ تواضع اور مناقب کثیرہ کے باوجود غرور نہ کرنے کے باب سے ہے جیسے صحابہ کرام sym-3کے لئے جنت قطعی ہے اس کے باوجود وہ خوف ومراقبہ میں مبتلا تھے، ورنہ تو ذریت کا لفظ عربی زبان میں ایک پیٹ کی اولاد کے لئے خاص نہیں، جیسے آیہ کریمہ ومن ذریتہ داؤد سلیمٰن ہے، حالانکہ ابراہیم sym-9اور داؤد وسلیمٰن sym-9کے درمیان کئی قرون کا فاصلہ ہے، لہٰذا علی رضا اپنی فصاحت اور عربی لغت کی معرفت کے باوجود یہ خاص مراد نہیں لے سکتے، علاوہ ازیں نافرمان کی تقلید حضرت زہرا sym-7کی اولاد کی خصوصیت کو باطل کر دیتی ہے، مگر یوں کہا جاسکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو نافرمان کی تعذیب کا اختیار ہے لیکن حضرت زہرا sym-8کے اکرام کے لئے اُسے عذاب نہیں دیتا، واﷲ تعالیٰ اعلم اھ مختصراً۔
ورأیتنی كتبت علی ھامش قوله الا ان یقال ما نصه اقول ولا یجدي فان الوقوع ممنوع باجماع اھل السنة واما الامکان فثابت عند من یقول به الی خلاف ائمتنا الماتریدۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم فانھم یحیلونه وقد تکلمت فی مسئلةعلی ھامش فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت لبحر العلوم بما یکفی ویشفی فانی اجدنی فیھا ارکن وامیل الی قول ساداتنا الاشعریة رحمھم اﷲ تعالیٰ ورحمنا بھم جمیعا واﷲ اعلم بالصواب فی کل باب
میں نے زرقانی کے قول ’’الا ان یقال‘‘ پر حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول (میں کہتا ہوں) ان کا یہ بیان مفید نہیں ہے عذاب کا وقوع تو باجماع اہلسنّت ممنوع ہے، باقی رہا امکان تو یہ اس قائل کے ہاں ثابت ہے جو ہمارے ائمہ ماتریدیہ کے خلاف ہے کیونکہ یہ ائمہ محال سمجھتے ہیں، میں نے اس مسئلہ پر کتاب مسلم الثبوت کی شرح بحر العلوم فواتح الرحموتپر حاشیہ میں کافی اور شافی بحث کی ہے میں نے وہاں اپنے کو سادات اشعریہ کے قول کی طرف مائل پایا، اﷲ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔ (واﷲ تعالیٰ اعلم)
فتاویٰ حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے:}}
اذا تقرر ذٰلک فمن علمت نسبته الٰی اٰل البیت النبوي والسر العلوي لا یخرجه عن ذٰلک عظیم جنایته ولا عدم دیانته وصیانته ومن ثم قال بعض المحققین ما مثال الشریف الزانی او الشارب او السارق مثلاً اذا اقمنا علیه الحد الا کامیر او سلطان تلطخت رجلاہ بقذر فغسله عنھما بعض خدمه ولقد بر فی ھذا المثال وحقق ولیتأمل قول الناس فی امثالھم الولد العاق لا یحرم المیراث نعم الکفران فرض وقوعه لاحد من اھل البیت والعیاذ باﷲ تعالیٰ ھو الذي یقطع النسبة بین من وقع منه وبین شرفه ﷺ انما قلت ان فرض لاننی اکاد ان اجزم ان حقیقة الکفر لا تقع ممن علم اتصال نسبه الصحیح بتلک البضغة الکریمة حاشا ھم اﷲ من ذٰلک و قد احال بعضھم وقوع نحو الزنا واللواط ممن علم شرفه فما ظنک بالکفر218
تو جب یہ ثابت ہوا تو جس کی نسبت اہلبیت نبی اور علوی حضرات کی طرف معلوم ہے تو اس کی بڑی جنایت اور عدم دیانت وصیانت اس کو اس نسبت سے خارج نہ کرے گی، اس بات کی بناء پر بعض محققین نے فرمایا زانی یا شرابی یا چور سید پر حد قائم کرنے کی مثال صرف یہی ہے جیسے امیر یا سلطان کا کوئی خادم اس کے پاؤں پر لگی نجاست کو صاف کرے، اس مثال کو غور سے سمجھا جائے اور لوگوں کی اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ نافرمان اولاد وراثت سے محروم نہیں ہوتی، ہاں اگر ان حضرات سے کفر کا وقوع فرض کیا جائے، والعیاذ باﷲ، تو اس سے وہ نسبت منقطع ہو جائے گی، میں نے صرف فرض کرنے کی بات اس لئے کی ہے کیونکہ مجھے جزم کی حد تک یقین ہے کہ جو صحیح النسب سید ہو اس سے حقیقی کفر کا وقوع نہیں ہو سکتا اﷲ تعالیٰ ان کو اس سے بلند رکھے، بعض نے ان سے زنا اور لواطت جیسے افعال کو بھی محال کہا ہے بشرطیکہ ان کی نسبی شرافت یقینی ہو تو پھر کفر کے متعلق تیرا کیا خیال ہے۔ (ت)

شیخ اکبر اور اہلبیت:

امام الطریقۃ لسان الحقیقۃ شیخ اکبر sym-4فتوحات مکیہ باب ۲۹ میں فرماتے ہیں:

لما کان رسول اﷲ ﷺ عبدا مخصا قد طھرہ اﷲ واھل بیتہ تطھیرا واذھب عنهم الرجس وھو کل ما یشینھم فھم المطھرون بل ھم عین الطھارۃ فھذہ الاٰیةتدل علی ان اﷲ تعالیٰ قد شرک اھل البیت مع رسول اﷲ ﷺ فی قوله تعالیٰ لیغفر لک اﷲ ما تقدم من ذنبک وما تأخر، واي وسخ وقذر من الذنوب فطھر اﷲ سبحانه نبیه ﷺ بالمغفرۃ ممّا ھو ذنب بالنسبةالینا فدخل الشرفاء اولاد فاطمة کلھم رضی اﷲ تعالیٰ عنهم الی یوم القیٰمۃ فی حکم ھذہ الاٰیة من الغفران الی اٰخر ما افادوا جادو ثمه کلام طویل نفیس جلیل فعلیک به رزقنا اﷲ العمل بما یحبه ویرضاه اٰمین!219
جب حضور ﷺ اﷲ تعالیٰ کے خاص عبد ہیں کہ ان کو اور ان کے اہل بیت کو کامل طور پر پاک کر دیا ہے اور ناپاکی کو ان سے دور کر دیا ہے اور رجس ہر ایسی چیز ہے جو ان حضرات کو داغدار کرے تو وہ پاکیزہ لوگ بلکہ وہ عین طہارت ہیں، تو اﷲ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے ساتھ اہل بیت کو طہارت میں شریک فرمایا ہے جس پر آیہ کریمہ ہے ’’لیغفر لک اﷲ‘‘ اﷲ تعالیٰ نے آپ کے لئے پہلے اور پچھلے آپ کے خطایا معاف کردئے یعنی گناہوں کی میل وقذر سے آپ کو پاک رکھا ہے جو ہماری نسبت سے گناہ ہوسکتے ہیں تو تمام سادات حضرت فاطمہ sym-7کی اولاد اس حکم میں داخل ہے الخ، تک جو حضرت شیخ نے بہترین فائدہ مند کلام فرمایا یہاں آپ کا جلیل نفیس طویل کلام ہے تو آپ پر لازم ہے کہ اس کی طرف راجع ہوں اﷲ تعالیٰ ہمیں اپنے پسندیدہ عمل کا حصّہ عطا فرمائے، آمین! ت

بد عقیدہ سید:

اگر کہے بعض کٹر نیچری بیشمار اشد غالی رافضی بہت سچّے ملحد جھوٹے صوفی کچھ ہفت خاتم شش مثل والے وہابی غرض بکثرت کفار کہ صراحۃً منکرین ضروریات دین ہیں سید کہلاتے میر فلاں لکھے جاتے ہیں۔

اقول کہلانے سے واقعیت تک ہزاروں منزل ہیں نسب میں اگرچہ شہرت پر قناعتوالناس امناء علٰی انسابھم (لوگ اپنے نسبوں میں امین ہیں۔ ت) مگر جب خلاف پر دلیل قائم ہو تو شہرت بے دلیل نامقبول وعلیل اور خود اس کے کفر سے بڑھ کر نفی سیادت پر اور کیا دلیل درکار، کافر نجس ہے ۔ قال تعالیٰ انما المشرکون نجس(اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک مشرک نرے ناپاک ہیں) (القرآن الکریم: 9/ 28) اور ساداتِ کرام طیب وطاہر قال اﷲ تعالیٰ ویطھرکم تطھیرا220(اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے) اور نجس وطاہر باہم متبائن ہیں کہ ایک شیئ پر معاً ان کا صدق محال، جب علمائے کرام تصریح فرما چکے کہ سید صحیح النسب سے کفر واقع نہ ہوگا اور یہ شخص صراحۃً کافر تو اس کا سید صحیح النسب نہ ہونا ضرورۃً ظاہر، اب اگر اس نسب کریم سے انتساب پر کوئی سند معتمد نہ رکھتا ہو تو امر آسان ہے ہزاروں اپنی اغراضِ فاسدہ سے براہِ دعویٰ سید بن بیٹھے۔

غلّہ تا ارزاں شود امسال سید می شوم
(اس سال سید بنوں گا تاکہ خوراک میں آسانی ہو)

رافضی سید:

رافضی صاحبوں کے یہاں تو یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، آج ایک رذیل سا رذیل دوسرے شہر میں جاکر رفض اختیار کرے کل میر صاحب کا تمغا پائے تو فلاں کافر سے کیا دور ہے کہ خود بن بیٹھا ہو یا اس کے باپ دادا میں کسی نے ادعائے سیادت کیا اور جب سے یونہی مشہور چلا آتا ہو، اور اگر بالفرض کوئی سند بھی ہو تو اس پر کیا دلیل ہے کہ یہ اسی خاندان کا ہے جس کی نسبت یہ شہادت تامہ ہے،

علامہ محمد بن علی صبان مصری اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفیٰ وفضائل اہل بیت الطاہرینمعتمد فی المعتقد میں فرماتے ہیں:

ومن این تحقق ذٰلک لقیام احتمال زوال بعض النساء وکذب بعض الاصول فی الانتساب221
یہ کیسے ثابت ہوا جبکہ بعض عورتوں کی غلط کاری اور نسب بنانے میں بعض مردوں کے جھوٹ کا احتمال ہے۔ ت

یہ وجوہ ہیں ورنہ حاشا ﷲ ہزار ہزار حاشا ﷲ نہ بطن پاک حضرت بتول زہرا میں معاذ اﷲ کفر وکافری کی گنجائش، نہ جسم اطہر سید عالم ﷺ کا کوئی پارہ کتنے ہی بُعد پر عیاذاً باﷲ دخولِ نار کے لائق، الحمد ﷲ یہ دو دلیل جلیل واجب التعویل ہیں کہ کوئی عقیدہ کفریہ رکھنے والا رافضی وہابی متصوف نیچری ہر گز سید صحیح النسب نہیں۔

دلیل اوّل:

تین قیاس پر مشتمل۔

۱۔ یہ شخص کافر ہے اور ہر کافر نجس۔ نتیجہ: یہ شخص نجس ہے۔

۲۔ ہر سید صحیح النسب طاہر ہے اور کوئی طاہر نجس نہیں، نتیجہ: کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔

۳۔ اب یہ دونوں نتیجے ضم کیجئے یہی شخص نجس ہے اور کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔ نتیجہ: یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔

قیاس اول کا صغریٰ مفروض اور کبریٰ منصوص اور دوم کا صغریٰ منصوص اور کبریٰ بدیہی تو نتیجہ قطعی۔

دلیل دوم:

قیاس مرکب، یہ بھی تین قیاسوں کو متضمن، یہ شخص کافر ہے اور ہر کافر مستحقِ نار۔

نتیجہ: یہ شخص مستحقِ نار ہے اور نبی ﷺ کے جسم اقدس کا کوئی پارہ مستحقِ نار نہیں۔

نتیجہ:

یہ شخص نبی ﷺ کے جسمِ اقدس کا پارہ نہیں اور ہر سید صحیح النسب نبی ﷺ کے جسم اقدس کا پارہ ہے۔

نتیجہ:

یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔

پہلا کبریٰ منصوص قرآن، اور دوسرے کا شاہد ہر مومن کا ایمان، اور تیسرا عقلاً وفقہاً واضح البیان

والحمد ﷲ الکریم المنان والصلوٰة والسلام الاتمان الاکملان علٰی سیدنا ومولانا سید الانس والجان خاتم النبیین بنص الفرقان وعلٰی اٰله وصحبه وتابعیھم باحسان وعلینا معھم یا اﷲ یا رحمن اٰمین اٰمین یا رؤف یا حنان سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الٰه الا انت استغفرک واتوب الیک واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمه جل مجدہ اتم واحکم
تمام تعریفیں احسان فرمانے والے اﷲ کریم کے لئے تام وکامل صلوٰۃ وسلام ہمارے آقا ومولیٰ انسان وجن کے سردار، قرآنی نص سے خاتم النبیین اور آپ کی آل واصحاب اور تابعین اور ان کے ساتھ ہم پر، یا اﷲ یا رحمان، آمین آمین، اے شفقت ومہربانی فرمانے والے! تو پاک ہے اے اﷲ! اور تیری ہی تعریفیں، گواہی دیتا ہوں کہ تیرے بغیر کوئی معبود برحق نہیں، تجھ سے بخشش کا طالب ہوں اور تیری طرف ہی رجوع، اﷲ سبحانہ وتعالیٰ بڑے علم والا اور اسی جل مجدہ کا علم نہایت تام اور نہایت قطعی ہے۔ ت
كتبه عبدہ المذنب احمد رضا البریلوي عفی عنه محمد المصطفیٰ النبی الامی ﷺ


  • 1 اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ، فصل آخر فی الخطاء مکتبۃ الحقیقیۃ استنبول، ص :۳۸۱
  • 2 فتاویٰ حدیثیہ، باب اصول الدین، مطبعہ جمالیہ مصر، ص: ۱۴۶
  • 3 الشفاء للقاضی عیاض فصل فی بیان ما ھو من المقالات، مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ فی البلاد العثمانیۃ 2/ 271،نسیم الریاض شرح الشفاء فصل فی بیان ما ھو من المقالات، دار الفکر بیروت، 4/ 509، 510
  • 4 الشفاء للقاضی فصل فی تحقیق القول فی اکفار المتاؤلین، مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ فی البلاد العثمانیۃ 2/ 267
  • 5 در مختار، باب المرتد، مطبع مجتبائی دہلی، 1/ 356
  • 6 المستدرک للحاکم کتاب التاریخ، استغفار آدم علیہ السلام بحق محمد ﷺ دار الفکر بیروت، 2/ 615،دلائل النبوۃ للبیہقی باب ما جاء فی تحدّث رسول اﷲ ﷺ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 5/ 489،المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث ۶۴۹۸، مکتبۃ المعارف ریاض، 7/ 259
  • 7 دلائل النبوۃ لابی نعیم ذکر الفضیلۃ الرابعۃ، عالم الکتب بیروت 1/ 14
  • 8 مختصر تاریخ دمشق لابن عَساکر باب ما ورد فی اصطفائہٖ علی العالمین الخ دار الفکر بیروت، 2/ 111،کنز العمال حدیث ۳۲۰۵۲، موسسۃ الرسالۃ بیروت 11/ 437
  • 9 مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر باب ذکر ما خص بہ وشرف بہ الخ عالم الکتب بیروت 2/ 137
  • 10 مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الفضائل، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی، 11/ 434
  • 11 الطبقات الکبریٰ لابن سعد ذکر من تسمی فی الجاہلیہ بمحمد ﷺ دار صادر بیروت، 1/ 163
  • 12 الطبقات الکبریٰ لابن سعد ذکر من تسمی فی الجاہلیہ بمحمد ﷺ دار صادر بیروت، 1/ 163
  • 13 الخصائص الکبریٰ، بحوالہ ابن ابی حاتم وابو نعیم باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل الخ دار الکتب الحدیثیہ، 1/ 33، 34،الدر المنثور، بحوالہ ابن ابی حاتم وابو نعیم آیۃ الذی یجدونہ مکتوبا فی التوراۃ الخ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمیٰ قم ایران، 3/ 134
  • 14 الخصائص الکبریٰ، بحوالہ ابی نعیم عن ابن عباس باب اختصاصہ ﷺ الخ دار الکتب الحدیثیہ شارع الجمہوریہ، بعابدین 1/ 192
  • 15 مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر ذکر ما خصّ بہ وشرف بہ من بین الانبیاء دار الفکر بیروت، 2/ 136، 137
  • 16 تاریخ البغداد ترجمہ، ۲۵۵۷، ابو عبداللہ احمد بن محمد النزلی، دار الکتاب العربی، بیروت، 5/ 130
  • 17 جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ سبحان الذی اسریٰ الخ، المطبعۃ المیمنۃ مصر، 15/ 7 تا 9
  • 18 مسند ابو یعلیٰ حدیث ۲۳۲۴ عبداﷲ ابن عباس، مؤسسۃ علوم القرآن بیروت، 3/6
  • 18 نوادر الاصول حکیم ترمذی
  • 18 جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر، حدیث 7733، دار الفکر بیروت، 16/ 221، 222
  • 18 المنافقون ،3/63
  • 19 صحیح البخاری کتاب التفسیر، سورہ بنی اسرائیل، قدیمی کتب خانہ، کراچی 2/ 685
  • 20 حلیۃ الاولیاء ترجمہ عمرو بن قیس الملائی، دار الکتاب العربی بیروت، 5/ 107
  • 21 الخصائص الکبریٰ بحوالہ ابی نعیم عن یونس باب ما جاء فی قلبہ الشریف دار الکتب الحدیثۃ، 1/ 162
  • 22 الخصائص الکبریٰ باب ما جاء فی قلبہ الشریف ﷺ دار الحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین، 1/ 162
  • 23 الخصائص الکبریٰ باب ما جاء فی قلبہ الشریف ﷺ دار الحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین، 1/ 162،تہذیب تاریخ دمشق، باب تطہیر قلبہ من انعل الخ، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1/ 379،الخصائص الکبریٰ بحوالہ ابی نعیم باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل، دار الحدیثہ شارع الجمہوریہ بعابدین، 1/ 36
  • 24 فتاویٰ حدیثیہ، باب اصول الدین، مطبعہ جمالیہ مصر، ص: ۱۴۶
  • 25 الخصائص الکبریٰ بحوالہ ابن سعد وابی نعیم عن عامر بن ربیعہ، باب اخبار الاحبار الخ، دار الکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین، 1/ 61، 62
  • 26 الشعراء : 26/ 227
  • 27 دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الخامس عالم الکتب بیروت، ص ۲۱ و۲۲
  • 28 دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الخامس، عالم الکتب بیروت، ص ۱۷،الخصائص الکبریٰ بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاخیار الخ دار الکتب الحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین، 1/ 64
  • 29 الخصائص الکبریٰ بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاحبار الخ دار الکتب الحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین، 1/ 64،دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الخامس، عالم الکتب بیروت، ص :۱۷
  • 30 الخصائص الکبریٰ بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاحبار الخ دار الکتب الحدیثہ شارع الجمہوریہ بعابدین، 1/ 67
  • 31 البقرۃ،89/2
  • 32 الخصائص الکبریٰ باب اخبار الاحبار بحوالہ ابی نعیم دار الکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین، 1/ 68
  • 33 الخصائص الکبریٰ باب اخبار الاحبار بحوالہ ابی نعیم دار اکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین، 1/ 65، 66،دلائل النبوۃ، الفصل الخامس، عالم الکتب بیروت، ص 8البقرۃ،89/2
  • 34 الخصائص الکبریٰ بحوالہ ابن سعد والحاکم والبیہقی وابی نعیم، باب ما ظھر فی لیلۃ مولدہ الخ، دار الکتب الحدیثہ، بعابدین، 1/ 123
  • 35 صحیح مسلم کتاب الفضائل، باب فی اسمائہ ﷺ قدیمی کتب خانہ، کراچی 2/ 261،شعب الایمان للبیہقی، فصل فی اسماء رسول اﷲ ﷺ حدیث ۱۳۹۷، دار الکتب العلمیہ، بیروت 2/ 141
  • 36 شعب الایمان للبیہقی فصل فی اسماء رسول ﷺ حدیث ۱۳۹۸، دار الکتب العلمیہ بیروت، 2/ 141،الطبقات الکبریٰ ذکر اسماء رسول ﷺ دار صادر بیروت، 2/ 104
  • 37 صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائہ ﷺ قدیمی کتب خانہ، کراچی، 2/ 261
  • 38 مطالع المسرات ذکر اسماء النبی ﷺ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، ص 101،شرح الشفا لعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی اسمائہ ﷺ دار الفکر بیروت، 2/ 393،شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الثانی، الفصل الاول حرف ن، دار المعرفۃ، بیروت، 3/ 149
  • 39 اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب اسماء النبی وصفاتہ الخ فصل نمبر 1، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر، 4/ 482
  • 40 اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب اسماء النبی وصفاتہ الخ فصل نمبر 1، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر، 4/ 482
  • 41 شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الفضائل باب فی اسمائہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی، 2/ 261
  • 42 التیسیر شرح الجامع الصغیر، تحت حدیث انا محمد واحمد الخ مکتبہ امام الشافعی ریاض، 1/ 376
  • 43 مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی ﷺ مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص 101، 102
  • 44 مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی ﷺ مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد ص 101 و102
  • 45 التیسیر شرح الجامع الصغیر، تحت حدیث انا محمد واحمد، مکتبہ امام الشافعی، ریاض، 1/ 376
  • 46 جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ما جاء فی اسماء رسول اﷲ الخ، دار المعرفۃ، بیروت، 2/ 183
  • 47 مطالع المسرات ذکر اسماء النبی ﷺ مکتبہ نوریہ رضویہ، سکھر، ص 101
  • 48 حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علیٰ ہامش السراج المنیر المطبعۃ الازہریۃ المصریۃ، مصر، 2/ 63
  • 49 مرقات المفاتیح کتاب الفضائل باب اسماء النبی وصفاتہ الخ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ، 10/ 50،جمع الوسائل فی شرح الشمائل، باب ما جاء اسماء رسول ﷺ دار المعرفۃ، بیروت، 2/ 183
  • 50 جمع الوسائل فی شرح الشمائل، باب ما جاء اسماء رسول ﷺ دار المعرفۃ، بیروت، 2/ 183
  • 51 شرح الشفاء لعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض، فصل فی اسمائہ ﷺ دار الفکر بیروت، 2/ 393،مرقات المفاتیح کتاب الفضائل باب اسماء النبی ﷺ وصفاتہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ، 10/ 49، 50
  • 52 الضحی ،4/93
  • 53 مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی ﷺ، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص 102
  • 54 شرح الشفاء للعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی اسمائہ ﷺ، دار الفکر بیروت، 2/ 393
  • 55 مطالع المسرات ذکر اسماء النبی ﷺ، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، 101
  • 56 مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی ﷺ، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص 101
  • 57 مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی ﷺ، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص 102
  • 58 المجموعۃ النبہانیۃ فی المدائح النبویۃ قصیدہ بانت سعاد لکعب بن زہیر، دار المعرفۃ، بیروت، 3/6
  • 59 صحیح البخاری کتاب البیوع باب کراہیۃ الصخب فی السوق، قدیمی کتب خانہ کراچی 1/ 285،سنن الدارمی باب صفۃ النبی ﷺ، دار المحاسن بیروت 1/ 15
  • 60 النساء ،64/4
  • 61 شرح شفاء للقاری علی ہامش نسیم الریاض، الباب الرابع من القسم الثانی، مطبعۃ الازہریۃ المصریۃ، مصر، 3/ 464
  • 62 المستدرک للحاکم، کتاب التاریخ ذکر اسماء النبی ﷺ، دار الفکر بیروت، 2/ 604
  • 63 الانبیاء ،107/21
  • 64 صحیح البخاری، کتاب النکاح باب ھل یرجع اذا راٰی منکراً فی الدعوۃ، قدیمی کتب خانہ، کراچی، 2/ 778
  • 65 المعجم الکبیر، حدیث ۱۴۲۳، المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت، 2/ 95 و96
  • 66 النساء ،80/4
  • 67 الاعراف ،62/9
  • 68 شمائل الترمذی مع جامع الترمذی باب ما جاء فی اسماء رسول اﷲ الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی، 2/ 597،مسند احمد بن حنبل، حدیث حضرت حذیفہ بن یمان ، دار الفکر بیروت، 5/ 405
  • 69 المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث ۱۷۵۰، باب من اسمہ جابر بن عبداﷲ، المکتبۃ الفیصلیہ بیروت، 2/ 184
  • 70 شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم، باب فی اسمائہ ﷺ، قدیمی کتب خانہ کراچی، 2/ 261
  • 71 التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ان لی اسماء، مکتبہ امام شافعی الریاض، 1/ 343
  • 72 جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ما جاء فی اسماء رسول اﷲ ﷺ دار المعرفۃ بیروت، 2/ 182
  • 73 الکامل فی ضعفاء، ترجمہ سیف بن وہب، دار الفکر بیروت، 3/ 1273،دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الثالث، عالم الکتب بیروت، ص 12،تہذیب تاریخ ابن عساکر، باب معرفۃ اسمائہ الخ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1/ 275
  • 74 الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ وہب بن وہب بن خیر بن عبداﷲ بن زہیر، دار الفکر بیروت، 7/ 2527
  • 75 البقرۃ ،61،90/2
  • 76 المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، مطبع دار الفکر بیروت، 3/ 415
  • 77 الطبقات الکبریٰ لابن سعد ذکر اسماء الرسول ﷺ دار صادر بیروت، 1/ 105
  • 78 الحدید ،3/57
  • 79 صحیح البخاری، کتاب الجمعہ، باب فرض الجمعہ، قدیمی کتب خانہ، کراچی، 1/ 120،صحیح مسلم، کتاب الجمعہ، باب فضیلۃ یوم الجمعۃ، قدیمی کتب خانہ، کراچی، 1/ 282
  • 80 صحیح مسلم، کتاب الجمعہ، باب فضیلۃ یوم الجمعۃ، قدیمی کتب خانہ، کراچی، 1/ 282
  • 81 کنز العمال بحوالہ الدارمی، حدیث ۳۲۰۸۰، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، 11/ 442)
  • 82 سنن الدارمی باب 8، ما اعطی النبی ﷺ من الفضل، دار المحاسن، للطباعۃ مصر، 1/ 32
  • 83 المصنف لابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، حدیث ۱۱۸۵۱، ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ، کراچی، 11/ 511
  • 84 بیہقی شعب الایمان، حدیث ۵۲۰۲،دار الکتب العلمیہ، بیروت، 4/ 308
  • 85 تفسیر ابن ابی حاتم تحت آیۃ واذ اخذنا من النبیین الخ حدیث ۱۷۵۹۴، مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ المکرمۃ، 9/ 3116،تفسیر نبوی المعروف معالم التنزیل علی ہامش الخازن، تحت آیۃ واذ اخذنا من النبیین الخ مصطفیٰ البابی الحلبی مصر، 5/ 232
  • 86 الخصائص الکبریٰ بحوالہ ابی سہل باب خصوصیۃ النبی ﷺ بکونہ اول النبیین فی الخلق، دار الکتب الحدیثہ بعابدین، 1/ 9
  • 87 المواہب اللدنیہ، باب وفاتہ ﷺ، مکتب الاسلامی، بیروت، 4/ 555
  • 88 شرح الشفاء لعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی اسماء رسول اﷲ الخ دار الفکر بیروت، 2/ 425
  • 89 صحیح مسلم کتاب المساجد باب مواضع الصلوٰۃ، قدیمی کتب خانہ، کراچی، 1/ 199
  • 90 سنن الدارمی، حدیث 50، باب ما اعطی النبی ﷺ من الفضل دار المحاسن قاہرہ مصر، 1/ 31
  • 91 المستدرک کتاب التاریخ، ذکر اخبار سید المرسلین ﷺ دار الفکر بیروت، 2/ 600،کنز العمال حدیث 32114، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، 11/ 449
  • 92 المواہب اللدنیۃ، باب سبق نبوتہ، المکتب الاسلامی، بیروت، 1/ 57،مطالع المسرات، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص 98،مطالع المسرات، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص: 98،شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ، المقصد الاول، دار المعرفۃ، بیروت، 1/ 31
  • 93 مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ متفق علیہ باب فضائل سید المرسلین ﷺ مطبع مجتبائی دہلی، ص 511،صحیح البخاری، باب خاتم النبیین، قدیمی کتب، کراچی، 1/ 501،صحیح مسلم، باب ذکر کونہ ﷺ خاتم النبیین، قدیمی کتب خانہ، کراچی، 2/ 248)
  • 94 دلائل النبوۃ لابی نعیم، ذکر الظبی والضّب، عالم الکتب، بیروت، 2/ 134)
  • 95 جامع ترمذی ابواب المناقب، باب ما جاء فی صفۃ النبی ﷺ، امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ، دہلی، 2/ 205
  • 96 المعجم الاوسط، حدیث 9085، مکتبۃ المعارف الریاض، 10/ 36
  • 97 صحیح بخاری کتاب الانبیاء، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل، قدیمی کتب خانہ، کراچی، 1/ 491
  • 98 جامع الترمذی، ابواب الرؤیا، باب ذھبت النبوۃ الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی، 2/ 51
  • 99 صحیح البخاری، کتاب التعبیر، باب مبشرات، قدیمی کتب خانہ، کراچی۔ 2/ 1035،المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث 3051، مکتبۃ الفیصلیہ، بیروت، 3/ 179
  • 100 سنن ابن ماجہ، ابواب تعبیر الرؤیا، باب الرؤیا الصالحۃ، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی، ص 286
  • 101 سنن ابن ماجہ، ابواب تعبیر الرؤیا، باب الرؤیا الصالحۃ، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی، ص 286، 287
  • 102 جامع الترمذی، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ، دہلی، 2/ 209
  • 103 صحیح البخاری، کتاب الآداب، باب من سمی باسماء الانبیاء، قدیمی کتب خانہ، کراچی، 2/ 914
  • 104 مسند امام احمد بن حنبل، بقیہ حدیث حضرت عبداﷲ ابن اوفیٰ، دار الفکر بیروت، 4/ 353
  • 105 شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ، بحوالہ اسماعیل بن عبدالرحمن عن انس، المقصد الثانی، دار المعرفۃ بیروت، 3/ 215، 216
  • 106 تہذیب تاریخ ابن عساکر، باب ذکر بنیہ وبناتہ، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1/ 295
  • 107 کنز العمال بحوالہ الماوردی عن انس وابن عساکر، حدیث 33204، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، 11/ 469
  • 108 الاسرار المرفوعہ بحوالہ ابن عبدالبر فی التمہید، حدیث 743، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ص 191
  • 109 الفردوس بمأثور الخطاب، حدیث 6838، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، 4/ 283
  • 110 جامع الترمذی، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، امین کمپنی خانہ رشیدیہ، دہلی، 2/ 209
  • 111 سنن ابی داؤد، کتاب الفتن، ذکر الفتن ودلائلھا، آفتاب عالم پریس، لاہور، 2/ 228
  • 112 صحیح البخاری، کتاب الفتن، قدیمی کتب خانہ، کراچی، 2/ 1054
  • 113 مسند امام احمد، حدیث حضرت حذیفہ ، دار الفکر بیروت، 5/ 396
  • 114 تہذیب تاریخ ابن عساکر، ترجمہ الحارث بن سعید الکذاب، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 3/ 445
  • 115 مسند ابو یعلیٰ، مروی از عبداﷲ بن زبیر، حدیث 6786، موسسۃ علوم القرآن، بیروت، 6/ 199
  • 116 الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب علی ہامش الاصابۃ باب الافراد فی الواو، دار صادر، بیروت، 3/ 645
  • 117 صحیح البخاری، مناقب علی بن ابی طالب ، قدیمی کتب خانہ، کراچی، 1/ 526،جامع الترمذی، مناقب علی بن ابی طالب ، امین کمپنی کتب خانہ، رشیدیہ، دہلی، 2/ 114،صحیح مسلم کتاب الفضائل، مناقب علی بن ابی طالب ، قدیمی کتب خانہ، کراچی۔ 2/ 278،مسند احمد بن حنبل، حدیث حضرت سعد ابن وقاص، دار الفکر بیروت، 1/ 182
  • 118 المجمع الزوائد بحوالہ احمد وغیرہ عن ابن عباس باب جامع مناقب علی ، دار الکتاب بیروت، 9/ 120،المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابہ، دار الفکر، بیروت، 3/ 109
  • 119 المعجم الکبیر، حدیث 384 تا 389، المکتبۃ الفیصلیۃ، بیروت، 24، 146 و147
  • 120 فضائل الصحابۃ لامام احمد بن حنبل، حدیث 1153، فضائل علی ، موسسۃ الرسالہ، بیروت، 675
  • 121 حلیۃ الاولیاء، المسندۃ فی مناقبہم وفضائلہم نمبر4 علی ابن ابی طالب ، دار الکتاب العربی، بیروت، 1/ 65
  • 122 کنز العمال بحوالہ ابن ابی عاصم وابن جریر وطس وابن شاہین فی السنۃ حدیث 36513، موسسۃ الرسالۃ بیروت 13/ 170
  • 123 بہجۃ الاسرار، ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ الخ، مطبع مصطفی البابی، الحلبی، مصر ص 22
  • 124 کنز العمال، بحوالہ ابن النجار عن انس حدیث 28829، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، 10/ 160
  • 125 الفردوس بمأثور الخطاب، حدیث 221، دار الکتب العلمیہ بیروت، 1/ 75
  • 126 نسیم الریاض شرح شفاء امام عیاض، الباب الاول، الفصل الاول، دار الفکر بیروت، 1/ 142
  • 127 الفتوحات المکیۃ، الباب الثالث والسبعون، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 2/ 25
  • 128 صحیح بخاری، کتاب المناقب، فضائل ابی بکر ، قدیمی کتب خانہ کراچی، 1/ 518،جامع الاحادیث بحوالہ خ ود وابن ابی عاصم وخشیش وغیرہ، حدیث 7714، دار الفکر بیروت، 16/ 217،کنز العمال، بحوالہ خ ود وابن ابی عاصم وخشیش وغیرہ، 36094، موسسۃ الرسالہ، بیروت، 7/ 13
  • 129 المعجم الاوسط، حدیث 7164، مکتبۃ المعارف الریاض، 8/ 82،جامع الاحادیث بحوالہ طس، حدیث 7688، دار الفکر بیروت، 16/ 209
  • 130 کنز العمال بحوالہ ابن ابی عاصم وابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث 36143، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، 13/ 21،جامع الاحادیث ابن ابی عاصم وابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث 7735، دار الفکر بیروت، 16/ 222
  • 131 جامع الاحادیث عن الحکم بن حجل عن علی، حدیث 7747، دار الفکر بیروت، 16/ 225،مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر، ترجمہ 22، عبداﷲ ابن ابی قحافہ، دار الفکر بیروت، 13/ 110
  • 132 جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث 7723، دار الفکر بیروت، 16/ 219،کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث 36103، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، 13/ 9
  • 133 المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ ، مناقب ابی بکر، دار الفکر بیروت، 3/ 67، 68
  • 134 کنز العمال بحوالہ خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث 36102، موسسۃ الرسالہ، بیروت، 13/ 9،جامع الاحادیث خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث 7722، دار الفکر بیروت، 16/ 219
  • 136 جامع الاحادیث بحوالہ ابو طالب العشاری والاصفہانی الخ حدیث 7720، دار الفکر بیروت، 16/ 219
  • 137 جامع الاحادیث بحوالہ الصابونی فی المائتین، حدیث 7734، دار الفکر بیروت، 16/ 222،کنز العمال بحوالہ الصابونی فی المائتین، وطس وکر حدیث 36141، موسسۃ الرسالہ، بیروت، 13/ 21
  • 138 کنز العمال، بحوالہ ابن عساکر وحل ابن شاہین فی السنہ، حدیث 8006، دار الفکر بیروت، 16/ 290
  • 139 جامع احادیث ابن عساکر حدیث 8023، دار الفکر بیروت، 16/ 294
  • 140 جامع الاحادیث بحوالہ ابی طالب العشاری، حدیث 7684، دار الفکر بیروت، 16/ 208
  • 141 جامع الاحادیث بحوالہ خیثمہ وابن عساکر حدیث 7689، دار الفکر بیروت، 16/ 209
  • 142 تاریخ بغداد، حدیث 5921، دار الکتاب العربی، بیروت، 11/ 213،کنز العمال بحوالہ ابی طالب العشاری وغیرہ حدیث 35680، موسسۃ الرسالہ، بیروت، 12/ 515
  • 143 المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابہ، دار الفکر بیروت، 3/ 123،مسند احمد بن حنبل مروی از علی ، دار الفکر بیروت، 1/ 160
  • 144 الصواعق المحرقۃ بحوالہ ابن عساکر، الباب الثانی، مکتبہ مجیدیہ، ملتان، ص 53
  • 145 الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدار قطنی عن جندب الاسدی، مکتبہ مجیدیہ، ملتان، ص 55
  • 146 الصواعق المحرقۃ بحوالہ الحافظ عمر بن شعبہ، مکتبہ مجیدیہ، ملتان، ص 53
  • 147 الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدار قطنی عن فضیل بن مرزوق، الباب الثالث، مکتبہ مجیدیہ، ملتان، ص 56
  • 148 المستدرک للحاکم، کتاب التواریخ المتقدمین من الانبیائ، دار الفکر بیروت، 2/ 547، 548
  • 149 دلائل النبوۃ ابو نعیم، عالم الکتب بیروت، الجزء الاول ص 25- 28،دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ما جاء فی قصہ وصئ عیسیٰ ابن مریم ﷦، المکتبۃ الاثریہ، لاہور، 5/ 425 تا 427
  • 150 المعجم الکبیر، حدیث 1537، المکتبۃ الفیصلیۃ، بیروت، 2/ 125،دلائل النبوۃ ابو نعیم، عالم الکتب، بیروت، 1/ 9
  • 151 دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ما وجد من صورۃ نبینا محمد، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1/ 386، 387،جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن المعافی عن عبادۃ بن الصامت، حدیث 15641، دار الفکر، بیروت، 20/ 62
  • 152 الاعراف ،6/9
  • 153 صحیح البخاری، باب کیف کان بدء الوحی، قدیمی کتب خانہ، کراچی، 1/ 4
  • 154 کشف الاستار عن زوائد البزار باب فیما کان عند اہل الکتاب من علامات نبوتہ، موسسۃ الرسالہ، بیروت، 3/ 117
  • 155 دلائل النبوۃ للبیہقی باب ما جاء الی کتاب النبی ﷺ المقوقس دار الکتب العلمیہ بیروت، 4/ 396
  • 156 جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن معافی عن عبادۃ بن الصامت حدیث 15641، دار الفکر بیروت 20/ 63،دلائل النبوۃ للبیہقی باب ما وجد فی صورۃ النبی ﷺ، دار الکتب العلمیہ، بیروت 1/ 387، 388
  • 157 الصف ،8/61
  • 158 الفاتحۃ ،1/1
  • 159 دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ما وجد من صورۃ نبینا محمد ﷺ مکتبہ الاثریہ، لاہور 1/ 388 تا 390،جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن المعافی عن عبادہ بن الصامت، حدیث 15641، دار الفکر بیروت، 20/ 63 و64
  • 160 در منثور بحوالہ ابی یعلیٰ وابن عساکر، تحت آیہ سبحٰن الذی، منشورات مکتبۃ آیۃ اﷲ العظمیٰ، قم ایران، 4/ 148،المطالب العالیۃ بحوالہ ابی یعلیٰ، حدیث 4287، دار الباز مکۃ المکرمۃ، 4/ 202
  • 161 شرح الزرقانی علی المواہب بحوالہ واقدی وابن عبد الحکیم، المقصد الثانی، الفصل الثالث، دار المعرفۃ، بیروت، 3/ 350
  • 162 الطبقات الکبریٰ، ذکر بعثۃ رسول اﷲ ﷺ الخ، دار صادر، بیروت، 1/ 260
  • 163 دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ما جاء فی دخول عبداﷲ بن سلام علیٰ رسول اﷲ ﷺ دار الکتاب العلمیہ، بیروت، 2/ 530
  • 164 تاریخ بغداد للخطیب، ترجمہ 2501 احمد بن محمد السوطی، دار الکتاب العربی، بیروت، 5/ 99
  • 165 تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، ذکر من اسمہ عباس، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 7/ 235
  • 166 تنبیہ الغافلین، باب الرفق، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ص: 437
  • 167 المواہب اللدنیۃ، الہجرۃ الی المدینۃ متی انشد طلع البدر، المکتب الاسلامی، بیروت، 1/ 313
  • 168 المواہب اللدنیۃ، الہجرۃ الی المدینۃ متی انشد طلع البدر، المکتب الاسلامی، بیروت، 1/ 314
  • 169 المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر، الفصل الاول (وثائ) المکتب الاسلامی، بیروت، 4/ 554
  • 170 المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن عساکر عن ابی منظور، مقصد رابع، فصل اول، المکتب الاسلامی بیروت، 2/ 554
  • 171 دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الثانی والعشرون، عالم الکتب، بیروت، ص 138
  • 172 شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ مقصد رابع، فصل اول، حدیث الضب، دار المعرفۃ بیروت، 5/ 148
  • 173 المواہب اللدنیہ مقصد رابع، فصل اول، حدیث الضب، المکتب الاسلامی، بیروت، 2/ 555،شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ مقصد رابع، فصل اول، حدیث الضب، دار المعرفۃ بیروت، 5/ 149، 150
  • 174 الخصائص الکبریٰ، مقدمۃ المؤلف، دار الکتب الحدیثیہ، بیروت، 1/ 8
  • 175 مسند امام احمد بن حنبل، حدیث ابی الطفیل ، دار الفکر بیروت، 5/ 454،مجمع الزوائد، کتاب التعبیر، دار الکتاب، بیروت، 7/ 173
  • 176 مسند امام احمد بن حنبل، حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ ، دار الفکر بیروت، 6/ 129،تاریخ بغداد للخطیب، ترجمہ 5836، عبدالغالب بن جعفر، دار الکتاب، العربی، بیروت، 11/ 140
  • 177 مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفتن حدیث 19411، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ، کراچی 15/ 170
  • 178 تاریخ بغداد للخطیب، ترجمہ 4023، الحسن بن یزید، دار الکتاب العربی، بیروت، 7/ 453
  • 179 تاریخ دمشق لابن عساکر، ذکر من اسمہ سلمان، ترجمہ سلمان بن الاسلام الفارسی، دار احیاء التراث، العربی بیروت، 6/ 203،فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل، حدیث 1085، موسسۃ الرسالہ، بیروت، 2/ 638، 639
  • 180 کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن عبداﷲ بن عقیل حدیث 33616، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، 11/ 739
  • 181 کنز العمال بحوالہ البیہقی، حدیث 42018، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، 15/ 518 تا 521،المعجم الکبیر حدیث 8146، عن ابن زمل الجہنی، المکتبۃ الفیصلیۃ، بیروت، 8/ 362 و367
  • 182 تحذیر الناس، مطبوعہ دار الاشاعت کراچی، ص :18 و24
  • 183 بنی اسرائیل،17/82
  • 184 الاعراف ،185/7
  • 186 ال عمران ،8/3
  • 188 خیرات الحسان فی مناقب الامام، الفصل الحادی والعشرون فی فراستہ، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی، ص 119
  • 189 فتاویٰ ہندیۃ بحوالہ الفصول العمادیۃ، الباب التاسع، نورانی کتب خانہ، پشاور، 2/ 263
  • 190 اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ، مکتبۃ الحقیقۃ استنبول، ترکی، ص 376
  • 191 الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ، مکتبۃ الحقیقۃ استنبول ترکی، ص 352
  • 192 الاشباہ والنظائر، کتاب السیر باب الردۃ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ، کراچی، 1/ 296
  • 193 فتاویٰ ہندیہ، الباب التاسع فی احکام المرتدین، نورانی کتب خانہ، پشاور، 4/ 266
  • 194 کتاب الشفاء للقاضی عیاض، فصل فی بیان ما ھو من المقالات، مطبعۃ شرکۃ صحافیہ، 2/ 270، 271،نسیم الریاض شرح شفاء للقاضی عیاض فصل فی بیان ما ھو من المقالات دار الفکر بیروت، 4/ 506 تا 509
  • 195 مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد، ثم ان الفاظ الکفر انواع دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1/ 691
  • 196 الانوار لاعمال الابرار
  • 197 الاقتصاد فی الاعتقاد
  • 198 غنیۃ الطالبین فصل علامات اہل بدعت کے بیان میں، مصطفیٰ البابی مصر، 1/ 88
  • 199 المرسلات،16/77۔18
  • 200 المعتقد المنتقد بحوالہ التحفہ شرح المنہاج مع المستند المعتمد، مکتبہ حامدیہ، لاہور، ص 127، 128
  • 201 المعتقد المنتقد بحوالہ شرح الفرائد للنابلسی مع المستند المعتمد، مکتبہ حامدیہ، لاہور، ص 114، 115
  • 202 المواہب اللدنیہ، المقصد السادس، النوع الثالث، المکتب الاسلامی، بیروت، 3/ 183
  • 203 شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ، المقصد السادس النوع الثالث، دار المعرفۃ بیروت، 6/ 188
  • 204 روح البیان، آیہ ما کان محمد ابا احد من رجالکم الخ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض الشیخ، 7/ 188
  • 205 التمہید فی بیان التوحید، الباب السابع فی المعرفۃ والایمان دار العلوم حزب الاحناف لاہور، ص 113، 114
  • 206 شرح سلم لعبدالعلی، بحث التصدیقات آخر کتاب، مطبع مجتبائی، دہلی، ص 260
  • 207 المواہب اللدنیۃ المقصد السابع، الفصل الاول علامات محبۃ الرسول، المکتب الاسلامی، بیروت، 3/ 296، 297،شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ، الفصل الاول علامات محبۃ الرسول، دار الفکر بیروت، 6/ 310، 311
  • 208 ھود ،46/11
  • 209 سنن ابی داؤد، کتاب الادب باب لا یقول المملوک ربی وربتی، آفتاب عالم پریس، لاہور، 2/ 324
  • 210 المستدرک للحاکم، کتاب الرقاق، دار الفکر بیروت، 4/ 311
  • 211 الاحزاب،33/33
  • 212 المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، دار الفکر بیروت، 3/ 152
  • 213 کنز العمال بحوالہ ابن بشران فی امالیہ عن عمران بن حصین، حدیث 34149، موسسۃ الرسالہ، بیروت، 12/ 95
  • 214 المعجم الکبیر عن ابن عباس حدیث 11685، المکتبۃ الفیصلیۃ، بیروت، 11/ 263
  • 215 المواہب اللدنیہ، بحوالہ ابن عساکر، المقصد الثانی، الفصل الثانی، المکتب الاسلامی، بیروت، 2/ 64،تنزیہ الشریعۃ بحوالہ ابن عساکر باب مناقب السبطین الخ الفصل الاول، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1/ 413
  • 216 الجامع لاحکام القرآن (تفسیر القرطبی) تحت اٰیۃ ولسوف یعطیک ربک، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 20/ 95
  • 217 شرح الزرقانی المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی، الفصل الثانی، دار المعرفۃ، بیروت، 3/ 203
  • 218 فتاویٰ حدیثیہ، طلب ما الحکمۃ فی خصوص اولاد فاطمہ بالمشرف، المطبعۃ الجمالیہ، مصر، ص 122
  • 219 الفتوحات المکیۃ، الباب التاسع والعشرون، دار احیاء التراث العربی بیروت، 1/ 196
  • 220 الاحزاب ،33/33
  • 221 اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفیٰ وفضائل اہل البیت الطاہرین، محمد بن علی صبان مصری

Netsol OnlinePowered by